00:00خاضی کا انصاف
00:03کوئی بھی ماں کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتی
00:07کہ اس کے لخت جگر کو اس کی نظروں کے سامنے مار دیا جائے
00:14خاضی سفیان اپنے عدل و انصاف کی وجہ سے مشہور تھے
00:21ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا کرتے ہیں
00:29ایک عجیب و غریب مقدمہ ایک روز قاضی سفیانتی عدالت میں پیش ہوا
00:36اس مقدمے کی وجہ ایک بچہ تھا
00:41دو عورتیں اس بات پر لڑ رہی تھی کہ وہ ان کا بچہ ہے
00:47ہر عورت اپنے آپ کو اس بچے کی ماں ثابت کرنے پر تلی ہوئی تھی
00:52دونوں عورتیں بہت شور کر رہی تھی
00:57قاضی سے انصاف کی طالب تھی
00:59وہ خاموشی کے ساتھ دونوں کی لڑائی دیکھ رہے تھے
01:04ان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا
01:07کہ اس بچے کی اصلی ماں کون سی ہے
01:10اور دونوں عورتوں میں سے بچہ کس کے حوالے کرے
01:14آخر انہوں نے فیصلہ دوسرے روز پر منتوی کر دیا
01:20دوسرے دن عدالت میں دونوں عورتیں پیش ہوئی
01:24اور اپنی بات پر اڑی رہی
01:27اچانک قاضی نے ایک خطرناک فیصلہ کیا
01:31انہوں نے جلاد کو بلا کر حکم دیا
01:34کہ تلوار سے بچے کے دو ٹکڑے کر کے
01:38دونوں کو ایک ایک ٹکڑا دے دو
01:40حکم کی تعمیل کے لیے جلاد جیسے ہی آگے بڑھا
01:45عورت نے جلدی سے بچے کو گود میں لیا
01:49اور بولی نہیں اسے قتل مت کرنا
01:53چاہے اس کو اس عورت کے حوالے کر دو
01:57لیکن قتل مت کرو
01:59قاضی بڑے اتمنان سے یہ سب دیکھ رہا تھا
02:03ان کے انداز سے ایسا ظاہر ہو رہا تھا
02:07جیسے سب کچھ ان کی مرضی کے مطابق ہو رہا ہے
02:11پھر وہ اپنی جگہ سے اٹھے
02:14اور بچہ اس کی اصل ماں کے حوالے کرتے ہوئے بولے
02:19اس قدر علشا ہوا مقدمہ
02:22میرے سامنے آج تک پیش نہیں ہوا
02:25پاغل سیدھی سی بات ہے
02:27کہ کوئی بھی ماں کبھی یہ برداشت نہیں کر سکتی
02:32کہ اس کے لختے جگر کو
02:34اس کی نظروں کے سامنے مار دیا جائے
02:38جس وقت میں نے اس کے قتل کا حکم دیا
02:41اس وقت دوسری عورت نے
02:44بڑے سکون سے
02:45میرا فیصلہ سنا
02:48اور وہ مطمئن بھی نظر آئی
02:51جبکہ بچے کی اصلی ماں
02:54یہ سنتے ہی طرپ اٹھی
02:56اور مجھے امید بھی یہی تھی
03:00لہذا بچہ اس کی اصل ماں کے حوالے کیا جاتا ہے
03:04مجھے امید بھی
Comments