- 19 hours ago
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00نوری میں حفل پہ چادر تنی نور کی نوری میں حفل پہ چادر تنی نور کی نور
00:22ناظرین آپ کا خیر مقدم ہے شان لیلت القدر میں اور جیسا کہ محفل کی ابتداز سے
00:30محفل کی ابتداز سے الحمدللہ اعلان ہو رہا ہے اور آپ کو اگاہ کیا جا رہا ہے
00:35کہ عالمی مبلغ اسلام حضرت صاحب زادہ والا شان حضرت صاحب زادہ محمد حسان حسیب الرحمن
00:43سجاد نشین دربار علیہ محمدیہ عیدگا شریف اور نور نظر لخت جگر قیب ملت اسلامیہ
00:51حضور قبلہ پیر رقیب الرحمن صاحب دعوت برکاتم قدسیہ یہاں تشریف فرما ہوں گے
00:56اور الحمدللہ ہماری خوش وقتی ہے کہ آپ تشریف لا چکے ہیں
00:59پاکستان کیا پاکستان سے باہر بھی دنیا بھر میں جہاں جہاں آپ کے خطابات سنے جاتے ہیں
01:06یقین جانئے کہ ان ممالک میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ جوک در جوک لوگ آتے ہیں
01:11اور حضرت کے خطابات سن کر اپنے قلوب و اوزہان کو نہ صرف منور کرتے ہیں
01:16بلکہ ایک ینگ جنریشن جو ہے وہ بہت زیادہ نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد آپ سے وابستہ ہے
01:24اور وہ اپنی اصلاح کے لیے تربیت کے لیے آپ کے ساتھ ہونا اپنے لیے فخر کا باعث سمجھتی ہے
01:29تو ہماری خوش بقتی ہے کہ حضرت تشریف فرما ہے انشاءاللہ وقت مناسب پر بہت جلد انشاءاللہ آپ کے خطاب
01:36سے ہم فیضیاب ہوں گے
01:37اس سے قبل میں چاہوں گا ہمارے علی شبیر جو ہیں وہ ایک نات پیش کریں اور اس کے بعد
01:42جیسے حکم ہوگا انشاءاللہ اس محفل کو آگے بڑھائیں گے
01:45آپ سے گزارش ہے یہ کہ آج کی مقدس رات ہے ممکنہ تاقرات ہے اور اس ماہ رمضان مبارک کی
01:52آخری تاقرات ہے
01:53تو اس کو غنیمت جانی ہے کسرت کے ساتھ آقا علیہ السلام پر ہدایہ درود پیش کریں اور اپنی بخشش
01:59و نجات کے لیے دعائیں کریں
02:00علی شبیر
02:01سلی علی نبینا
02:17سلی علی محمد
02:33سلی علی محمد
02:46سلی علی محمد
02:59سلی علی محمد
03:16سلی علی محمد
03:18سلی علی محمد
03:19سلی علی محمد
03:23سلی علی محمد
03:23سلی علی محمد
03:23سلی علی محمد
03:24سلی علی محمد
03:25سلی علی محمد
03:25سلی علی محمد
03:25سلی علی محمد
03:32سلی علی محمد
03:36Sabae Khe Lieva Bera Hamad
03:45Vaha Koi Rutbhe May Adna Na Ali
03:57मुरादों से दामन नहीं कोई खाली
04:06खतारे लगाए ठड़े ने सहाली
04:19मैं पहले पहले जब मदीने गया था
04:31तो थी दिल की वाला खड़ जाने वाली
04:42वो दर बार सच मुझ मेरे सामने था
04:53अभी तक तक सामन था जिसका ख्याली
05:05मुरादों से दामन नहीं कोई खाली
05:14कतारे लगाए ठड़े थे सामने थी
05:26माशा आल्ला खुझ में गरा हूं
05:51हुझ में ख्याले रखी ये
06:03मैं दर दर पे कब से पड़ा खुआ हूं
06:20हुझ मेरा ख्याल रखी ये
06:34हुझ में गमें
06:45उदास लमगां में जी रहा हूं
06:56मैं तल्क मौसम को पी रहा हूं
07:08हुझ में गमें जी रहा हूं
07:18मैं तल्क मौसम को पी रहा हूं
07:31मैं आंसों से बुना गुआ हूं
07:42हुझ मेरा ख्याल रखी ये
07:56हुझ में गम में
08:04मुझे सताया
08:12है आस्माने
08:19मुझे रुलाया
08:24है इस जहाने
08:33मुझे सताया
08:36है आस्माने
08:45मुझे रुलाया
08:47है इस जहाने
08:53मैं दस्ते शब पर
08:59दरा हुआ हुझ
09:07हुझ मेरा
09:14ख्याल रखी ये
09:19हुझ में गम में
09:28रियाज शाय
09:33हुझ आपका
09:39मैं
09:41अदब सिदर
09:43पर
09:47पड़ा हुझ
09:49कब से
09:53मैं बे
09:56सारा
09:57पड़ा
09:59पड़ा
10:04हुझ
10:06हुझ मेरा
10:12क्या
10:13ख्याल
10:14रखी ये
10:20हुझ में
10:22गम
10:27में
10:28माशा आल्ला
10:30माशा आल्ला
10:30माशा आल्ला
10:31बार गाय रिसालत भाप
10:32सल्ल्लाहु अलेह वालियु सल्म में
10:35अदाय अकीदत
10:37पेश कर रहे थे जनाब
10:39जनाब
10:40अदिव अलीश अभीर बहुत खुबसूरत अंदाज बें ये वो कलाम है
10:43कि जिसमें सरकार की बारगा में
10:45एक उमती ने अपना रिज़ा
10:47पेश किया है
10:48और कहने वालों ने यू भी कहा कि कितना
10:50मर्बूत है
10:54कितना मर्बूत है
10:56आका का हिसार रहमत
10:58आज तक हम को तबाही से बचा रखा है
11:02ये ख्याल ही तो रखा हुआ है
11:04हुदूर ने
11:05ये निमतें
11:06ये फजा ये हवा
11:08ये हमारे लिए लिए ल्लह ने जितनी निमतیں अता फर्माई है
11:12ये सरकार की नजरे इनायत ही तो है
11:14इसलिए कहा शायर ने
11:16कितना मर्बूत है
11:17आका का हिसार रहमत
11:20कितना मर्बूत है
11:21आका का हिसार रहमत
11:23आज तक हम को तबाही से बचा रखा है
11:27नाजरी मुटरम शान ले लिलतु अल्गदर में
11:30जैसे कि आप जानते हैं कि मैफिल का आगास
11:32अलावत कलाम الرह्मान से हुआ
11:33मुनाजातें पेश की गई दौाएं की गई
11:36और आज बहुत ही खुबसूरत अंदाज में सनाखानी पेश की गई
11:41और अब्तदा से हमें इंतजार था उस हस्ती का
11:44कि जिनकी तर्बियत एक ऐसे वली कामिल के
11:47दामन में हुई है
11:48एक ऐसे वली एक कामिल ने की है
11:50कि जिनको बड़े-बड़े मशाइख ने माना है
11:54तसलीम किया है
11:55कि अल्लह ने उन पर बड़ा फजल फरमाया है
11:58और उनका एक ऐसा एक मिजाज है
12:02कि जो उनके पास आता है
12:03उनके दामन से वाबस्ता हो जाता है
12:05मेरी मुराद हुदूर नकीब मिल्लत इसलामिया
12:08हुदूर कि बला पीर नकीब ररह्मान साहब
12:12मदजल्लहुलाली दामद बरकातम
12:14कुद्सिया से है
12:15कि उनके फैज़ाने नजर से
12:17जो शहकार बना
12:18और पूरी दुनिया में
12:20ये तर्बियत का एक आला मिसाल काइम की
12:23हुदूर कि बला पीर साहब ने
12:24कि अगर आप अपनी उलाद की तर्बियत
12:27उन खुदूद पर कर दें
12:28कि जिन खुदूद पर उलिया है
12:30और जामने अपनी जिन्दगी गुजारी
12:32तो फिर उलाद जो है
12:34ऐसे शहजादे बनते हैं
12:35कि ये फैजाने नजर था
12:38या के मकतब की करामत थी
12:40ये फैजाने नजर था
12:42या के मकतब की करामत थी
12:44सिखाए किसने इसमाईल को आदाब फर्जन दी
12:47सिखाए किसने इसमाईल को आदाब फर्जन दी
12:51دربارِ عالیہ محمد یعیدگا شریف
12:53وہ مرکز ہے محبتوں کا
12:55وہ ایک ایسا منبع انوار ہے
12:58کہ جہاں علماء حضرات کو عزتیں دی جاتی ہیں
13:01جہاں سناخہ حضرات سے ناتیں پڑھائی جاتی ہیں
13:04جہاں علمِ دین کی ترویج اور ترسیل ہو رہی ہے
13:07اور پوری دنیا میں ماشاءاللہ
13:09اس بات کا شہرہ ہے
13:11کہ دربارِ عالیہ محمد یعیدگا شریف
13:13جس انداز میں محبتِ تقسیم کر رہا ہے
13:16وہ اپنی مثال آپ ہے
13:17اسی دربار کے سجادہ نشین
13:19اور مبلغِ عالمِ اسلام
13:21حضرتِ قبلہ صاحب زادہ والا شان
13:23حضرتِ حسان حسیب الرحمن صاحب سے
13:26التماس گزار ہوں
13:28ملتمس ہوں
13:28کہ وہ اپنے فرامین سے
13:30اپنے خطاب سے
13:32ہمارے قلوب و ازہان کو منور فرمائے
13:40الحمدللہ رب العالمین
13:45والصلاة والسلام على سید الانبیاء والمرسلین
13:51اما بعد فقط قال اللہ تبارک و تعالیٰ في القرآن الكریم
13:58اوز باللہ من الشیطان الرجیم
14:01بسم اللہ الرحمن الرحیم
14:03يَا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا
14:07تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةٌ نَسُوْهَا
14:10حضرتِ اللَّهُ لَذِيمٌ
14:13وَصَدَكَ رَسُولُهُن نَبِيُّ الْكَرِيمِ
14:19الحمدللہ
14:21اللہ رب العالمین
14:24اور حضور خاتم النبیین
14:28رحمت للعالمین
14:30سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ
14:34صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:36کا شکر ادا کرتے ہیں
14:40کہ اس مبارک مہینے کی
14:44انتیسویں شب
14:45جو پاکستان میں آج انتیسویں شب ہے
14:50ممکنہ طور پر شب قدر ہے
14:53اللہ تعالیٰ نے ہمیں آج
14:55اس محفلِ ذکر میں اکٹھا ہو کر
14:58اپنا اور اپنے حبیبِ مکرم
15:01صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
15:03ذکر کرنے کا شرف عطا فرمایا
15:09الحمدللہ
15:10ایہا ویکیو ٹی وی کے ناظرین
15:13جیسے سال بھر
15:15سال کی
15:16ہر صبح و
15:18ہر دوپہر
15:19ہر شام ہر رات
15:21ایہا ویکیو ٹی وی کے ذریعے
15:23اللہ اور اس کے رسول
15:25صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
15:26ذکر سے جڑے رہتے ہیں
15:28آج کی اس مبارک شب میں بھی
15:31الحمدللہ
15:31اس محفلِ ذکر میں جمع ہیں
15:34اپنے اپنے گھروں سے
15:36اپنے اپنے
15:38ممالک سے
15:39اس محفل میں شریک ہیں
15:40اللہ تعالیٰ
15:42اس ذکرِ مصطفیٰ
15:43صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت
15:45آپ تمام کو
15:46آپ کے گھروں میں نصیب فرمائے
15:48رمضان مبارک کا مہینہ
15:50ہم سے جدہ ہو رہا ہے
15:53ممکنہ طور پہ
15:54یہ رمضان کی آخری رات
15:56بھی ہو سکتی ہے
15:58اس مہینے کے جدہ ہونے پر
16:00آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:04ارشاد فرماتے ہیں
16:05کہ جب
16:06رمضان مبارک کا مہینہ
16:07جا رہا ہوتا ہے
16:09تو سمین و آسمان
16:10میری امت کے غم میں رو رہے ہوتے ہیں
16:12عرض کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:13دعاوں کو قبول کیا جاتا ہے
16:15جن میں جب
16:16وہ اللہ تعالیٰ کے حضور طبعہ
16:18استغفار کرتے ہیں
16:19اس کو قبول کیا جاتا ہے
16:21دعاوں کو قبول کیا جاتا ہے
16:22دعا تو سارا سال
16:23اللہ قبول فرماتا ہے
16:24طبعہ کا دروازہ بھی کھلا ہوتا ہے
16:26لیکن اس پہ
16:27دریہ رحمت جوش پہ ہوتا ہے
16:29وہ مہینہ
16:30ان سے جدہ ہو رہا ہوتا ہے
16:32پھر آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:33کی بارگاہ میں جب
16:34جبرائیل امین کا عرض کرنا
16:36کہ خالو دوست کی نا
16:38کتنا بدنصیب ہے وہ
16:39جو رمضان کا مہینہ پا کر بھی
16:41اللہ کو راضی نہ کر سکا
16:42حضور علیہ وآلہ وسلم کو فرمانا آمین
16:44یہ باتیں کرنے کا مقصد
16:46آج کی رات
16:47ہم نے خاص اس چیز پر دعا کرنی ہے
16:50اس پر توجہ کرنی ہے
16:51سجدہ ریز ہو
16:52کہ اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرنا ہے
16:54اللہ تعالیٰ کے حضور
16:55ہاتھ باندھ کر یہ دعائیں کرنی ہے
16:57کہ یا اللہ یا کریم
16:58ہم ان بدنصیبوں میں نہ رہیں
17:00کہ جو رمضان مبارک میں بھی
17:02تجھے راضی نہ کر پائے
17:03ہم ان بدقسمتوں میں نہ رہیں
17:05جو رمضان مبارک کو پانے کے باوجود
17:08اپنے گناہوں کی معافی طرح سے طلب نہ کر سکے
17:10اور تجھے یاد نہ کر سکے
17:12اور تجھے اپنی معافی نہ لے سکے
17:14تجھے تری رضا نہ لے سکے
17:15بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنی ہے
17:17کہ یا اللہ یا کریم
17:19ہمارے پاس عمل تو کچھ بھی نہیں ہے
17:21تو اپنے حبیب مقرنم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
17:24کا صدقہ
17:24ہمارا نام آج کی رات
17:26ان خوش نصیبوں میں فرما دے
17:28جن کی تو مغفرت فرما چکا ہے
17:30جن کی توبہ قبول ہو چکی ہے
17:32اور ہم رمضان مبارک سے نکلیں
17:34تو اس حال میں نکلیں کہ
17:36یا اللہ یا کریم توی رضا ہم نے پا لی ہو
17:38یا اللہ یا کریم تو ہم سے راضی ہو چکا ہو
17:41لیکن ناظرین اور حاضرین
17:43اس کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے
17:45وہ کریم ہے وہ معاف فرمانے والا ہے
17:47وہ اپنے دروازے پہ آنے والے کو خالی نہیں پھیرتا
17:50میرے آقا علیہ السلام کی کیا خوب حدیث ہے
17:53ہر فرمان ہی میرے آقا علیہ السلام کا
17:55وَمَا يَنْتِقُنِ الْحَوَا
17:57اِنْ هُوَا اِلَّا وَحْيُّ اُیُوْحَا
17:59اپنی مثال آپ ہے
18:00لیکن میرے آقا علیہ السلام کے
18:03بہترین فرمان ہیں سارے
18:04ان میں سے کیا خوبصورت حدیث ہے
18:06آقا علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں
18:08کہ تمہارا رب حیاء کرنے والا ہے
18:10اللہ اکبر
18:11حضور فرماتے ہیں
18:12تمہارا رب حیاء کرنے والا ہے
18:14اور اللہ کوئی اس بات سے حیاء آتی ہے
18:16کہ کوئی میرے دروازے پہ آئے
18:17اور میں اسے خالی بھیج دوں
18:18اللہ تعالیٰ اس بات سے حیاء فرماتا ہے
18:21کہ کوئی اس پہ آگے ہاتھ پھیلائے
18:23اور وہ اسے خالی پھیر دیں
18:24جب اللہ تعالیٰ کے آگے کوئی ہاتھ پھیلاتا ہے
18:26اللہ اس کو ضرور عطا فرماتا ہے
18:28رمضان میں جو آپ نے دعائیں کی
18:30اس کی ذات پر یقین کر
18:31اس کی ذات پر یقین
18:32and they were going to say,
18:33yes,
18:33I have to say that.
18:35Allah told us to say,
18:37Allah told us that
18:37he said,
18:41we cannot believe that
18:48but it is for Allah told us,
18:54but it is not for Allah
19:00for us to say,
19:02جب اس دعا کا اثر اور عجر
19:04انسان کو آخرت میں دکھایا جائے گا
19:06وہ کہے گا کاش دنیا میں میری دعا قبول
19:08کوئی بھی نہ ہوتی سارا عجر مجھے آج ملتا
19:10اللہ کا دروازہ کبھی چھوڑنا نہیں ہے
19:12اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنی ہے
19:14وہ قریم ہے وہ توبہ کو قبول فرماتا ہے
19:16معاف فرمانے والا ہے
19:18لیکن ناظرین سب سے پہ زیادہ ضروری یہ ہے
19:20ناظرین و ناظرین اگر توبہ کرنا چاہتے ہیں
19:23تو اس کے کوئی تقاضے ہوتے ہیں
19:32اس کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے
19:34اس کے لئے مشقت کرنی پڑتی ہے
19:35اس کے لئے کچھ کرنا پڑتا ہے
19:37بیٹھے بیٹھے کچھ نہیں ملتا
19:38اسی طرح اگر توبہ کوئی کرنا چاہتا ہے
19:41اللہ کو راضی کرنا چاہتا ہے
19:42اللہ سے رشتہ بنانا چاہتا ہے
19:44یعنی ایسا رشتہ
19:46اللہ تعالیٰ سے رضا کا رستہ نکالنا چاہتا ہے
19:49اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے
19:50یہ صلح کا رستہ اس کے ساتھ نکالنا چاہتا ہے
19:53erstmal so Гдеان دنیا میں
19:55سارے الٹے سیدھے کام کرتا رہے
19:56من مرضیاں کرتا رہے
19:59نفس کی پہروی کرتا رہے
20:00ذو خواہش میں آئے وہ کرتا رہے
20:04اور چند الفاظ ادا کرparagus
20:06اللہ کا راضی کرلوں گا
20:09انسان에 تیم Пр ai اللہ کرلوں گا
20:11توبہ کہتے کس دھتے کس و ہیں
20:12اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں
20:14ارشاد فرمائی
20:19ایمان والو اللہ
20:20تیمان بارگاہ میں تیم انسک بارگاہ
20:22And we have to be a dependent under the witness.
20:25And we have to be interested in the Lamb of to be a witness in the Lord.
20:29glorious.
20:30He has to be a repente on the witness.
20:31He has to be a representative of Allah.
20:32God bless you so much.
20:34He has to be a servant that has to be a servant of Allah.
20:35If you are a servant, we have to be be a servant of Allah' for that.
20:38This is a servant of Allah.
20:46That we have to be able to have this part of Allah.
20:49We have to be a servant of Allah.
20:51Allah te'allah se'idkidil se'e
20:52Apenne gunae'un ki maafi mangge
20:53Allah Kyrm Qura'an-e'i Kyrmhe'in in Eresad vormata
20:55Jisne'e Tawbah ki
20:57Orpher Amal-e-Salih ki ee
20:58Pahle Tawbah ki
20:59Aparus Tawbah ke sa'at
21:00Tawbah ki
21:01Aparus Tawbah ke sa'at Amal-e-Salih ki ee
21:03Agar Gunaha ka liya
21:04Aus Gunaha se'idkidil se'i Tawbah ki
21:06Aparus Tawbah ke
21:07Aparus Gunaha ke mokabule minnekiyau ki
21:09Amal-e-Salih ki ee
21:10اللہ خریم ارشاد فرماتا ہے
21:12یہ وہ ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف
21:14ایسے رجوع کیا جیسے رجوع کرنے کا حق ہے
21:17اب توبہ کسے کہتے ہیں
21:19توبہ کیسے ہوتی ہے
21:20توبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول کیسے ہوتی ہے
21:23کون سی ایسی توبہ ہے جو ایسی ہے
21:25جس کو کہا جائے کہ ہاں یہ ایسے توبہ کر رہا ہے
21:28جیسے رجوع کرنے کا حق ہے
21:30کہ جو پہلے گناہوں کو چھوڑے
21:31گناہوں سے توبہ کرے
21:33اور پھر گناہوں کے مقابلے میں نیکیاں کرے
21:35جیسے مولا کائنات نے فرما ہیا
21:37کہ اگر توبہ کرنا چاہتا ہے
21:38تو اس کی ایک شرط یہ ہے
21:40کہ جیسے تو نے پہلے اپنے نفس کو
21:42اللہ کی نافرểmہ فرمانی کرتے ہوئے دیکھا تھا
21:44اب تو دیکھ کہ تو اللہ تعالیٰ کی فرما برداری کر رہا ہے
21:47جیسے تو نے اپنے آپ کو گناہوں میں مسروف دیکھا تھا
21:50اب تو دیکھے کہ تو نیکی کے کاموں میں مسروف ہے
21:52اب تو دیکھے کہ تو مسجد کے طرف جا رہا ہے
21:55Now you see, that you are getting to this
21:57Now you see, that you are getting to this
21:59Oh out of that
22:00Which is his All-ow-Time
22:02Lord beams
22:02here
22:02He is
22:03This
22:04When you have seen here
22:04Sub Coast
22:05Toole those
22:06All-May Allah
22:07Kick God
22:09My PR
22:20Means read
22:22What's the name of the Prophet?
22:50is
23:21اور اس کا فرما بردار ہوں
23:22جس طرح دنیا میں انسان اگر کسی کو ملانا چاہے
23:25تو صرف معافی نہیں مانگتا
23:26بلکہ اس کو اچھے جو کام لگتے ہیں وہ کرتا ہے
23:29اس کو راضی کرنے کے عملا کوشش کرتا ہے
23:32اگر دنیا کا یہ معاملہ ہے
23:33تو آپ اس رب العالمین سے اگر معافی مانگنا چاہتے ہیں
23:36اس رب العالمین کی بارگاہ میں اگر توبہ کرنا چاہتے ہیں
23:39تو خالی یہ نہیں کہ دو الفاظ کہہ دی
23:41اور آگے پلٹ آگے چل دیئے
23:43بلکہ اپنے آپ کو اسی طرح جس طرح گناہوں میں
23:45مصروف کر رہا تھا
23:46نیکی میں مصروف کرنا ہوگا
23:48اللہ تعالیٰ کی رضا کے کاموں میں مصروف کرنا ہوگا
23:50یہ وہ بندہ ہے جو ایسے رجوع
23:52اللہ کر رہا ہے
23:53اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے جیسے رجوع کرنے کا حق ہے
23:57جیسا میں نے بتایا کہ یہ تو ایک تیش ادامر ہے
23:59کہ انسان کو کسی بھی بڑے مقصد
24:00کو اچیف کرنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے
24:02کوئی بھی مقصد انسان کو
24:04کوئی بھی کامیابی انسان کو محنت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی
24:07اگر انسان سفر کرتا ہے
24:08بولتا ہے میں نے یہاں سے کسی دور ملک میں جانا ہے
24:11لیکن نہ گاڑی کا استعمال کرنا ہے
24:13نہ ذرائع کا استعمال کرنا ہے
24:14نہ جہاز میں بیٹنا ہے
24:15نہ کوئی ویزا لگانا ہے
24:16کچھ نہیں کرنا زادہ سفر کے لیے
24:18بس آنکھیں بند کر کے پہنچ جانا ہے
24:20تو یہ ممکن نہیں ہے
24:21اگر انسان کوئی ڈگری حاصل کرنا چاہتا ہے
24:32انسان کو محنت کرنی ہوتی ہے
24:34اگر اللہ کی رضا کا حصول انسان کو مقصود ہے
24:37تو اس کے لیے توبہ بھی کرنی ہوگی
24:39اور خالی نوک زبان پر اس توبہ رکھ
24:40کچھ اند الفاظ کہہ کے آگے نہیں گزر جانا
24:43توبہ الفاظ کے ذریعے کرنے کی بھی
24:45بہت مرقت ہے اور بہت حیثیت ہے
24:47لیکن اس کے ساتھ اللہ فرما رہا ہے
24:49کہ عمالِ صالح کرنا ضروری ہوگا
24:50جیسے پہلے انسان اپنے آپ کو گناہوں میں
24:53مصروف کر کے رکھتا تھا
24:54اب ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالی سے معافی طلب
24:57ایسے کرے کہ اس کے رضا کی کام کرے
24:59اور عمالِ صالح کرنا شروع کر دے
25:01آج لوگوں نے توبہ جو ہے وہ تو نوک زبان پر ہوتی ہے
25:03بڑے سے بڑا گناہ کر دیا
25:05بڑے سے بڑا کام کر دیا
25:06ہستے ہستے گالوں پہ ہاتھ ماریں گے اور بولیں گے
25:08توبہ توبہ اللہ معاف کرے اور سمجھیں گے
25:11توبہ کا حق ادا ہو گیا
25:12توبہ یہ نہیں ہے توبہ ندامت کا تقاضی ہے
25:15توبہ یہ ہے کہ انسان اللہ کے حضور گر کے
25:17اللہ کا فقیر بن کے
25:19توبہ کسے کہتے ہیں
25:20انسان اللہ کا فقیر بن جائے
25:21انسان اللہ تعالی کے حضور ہاتھ پھیلائے
25:24اللہ کے در کا منگتار فقیر بن کے
25:26اس سے معافی طلب کرتا ہے
25:27اللہ تعالی سے معافی طلب کرتا ہے
25:29اور یہ ایسا مبارک عمل ہے
25:31کہ جب انسان اللہ کی بارگاہ میں معافی طلب کرتا ہے
25:34اپنی خطاؤں پہ شرمندہ ہوتا ہے
25:35ہستے ہستے نہیں
25:36ندامت کے ساتھ
25:37اللہ کی بارگاہ میں شرمندگی سے
25:39پورے دل سے معافی مانگتا ہے
25:41اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتا ہے
25:43کوئی عذر نہیں رکھتا کہ یہ خطاقہ تو یہ وجہ ہے
25:46چلو یہ گناہ کرنا ہوتا ہے یہ وجہ ہے
25:48اپنے آپ سے لینے کر دیتا ہے اللہ کی بارگاہ میں
25:50اپنے با اللہ تعالیٰ کے حضور
25:52ہاتھ پھیلا کے معافی طلب کرتا ہے
25:54اپنی گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے
25:56اور دوبارہ نہ گناہ کرنے کا ارادہ کر کے
25:58تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو
26:08ناظرین اکرام
26:09سوپیہ نے اور محدثین نے
26:11اپنے اپنے طریقے سے طوبہ کی شرائط بیان کی ہیں
26:14کہ جن شرائط پر انسان
26:15ان شرائط پر پورا اترے گا
26:17تو طوبہ اس کے لئے دنیا و آخرت میں پائدہ مند
26:20ہو سکتی ہے وہ طوبہ اس کے لئے
26:21قبولیت کا درجہ انشاءاللہ رکھے گی
26:23جو علماء نے محدثین نے مفسرین
26:26نے سوپیہ نے قرآن و حدیث سے ہی
26:27معاملات اخذ کی ہے باتیں اخذ کی
26:29وہ سوپیہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں
26:31کہ شرائط طوبہ میں یہ ضروری ہے
26:33سب سے پہلے اگر انسان چاہتا ہے
26:35کہ دنیا و آخرت میں طوبہ اس کے لئے پائدہ مند ہو سکے
26:37یہ ضروری ہے کہ انسان حقیقی طوبہ
26:40ایسے کرے کہ طوبہ کے الفاظ
26:41صرف ناقل زبان پہ ہی نہ ہو
26:43بلکہ دل دماغ روح اس کی تصدیق کر رہے ہوں
26:46ایسے کہ دل کو پتہ ہو
26:47کہ میں طوبہ کر رہا ہوں اب یہ گناہ دوبارہ نہیں کرنا
26:50عقل کو پتہ ہو
26:51کہ اس گناہ سے میں طوبہ کر رہا ہوں
26:52اب دوبارہ ہزار موقع مل جائیں اس گناہ کے
26:55میں نے دوبارہ یہ گناہ نہیں کرنا
26:56جب انسان کا دل انسان کی روح اس کی تصدیق کر رہی ہوگی
27:00عملا تصدیق کر رہی ہوگی
27:02اس ارادے سے تصدیق کر رہی ہوگی
27:04کہ اب میں نے دوبارہ گناہ کی طرح پلٹ کے نہیں جانا
27:06تو یہ وہ طوبہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درجہ قبولیت پر پہنچتی ہے
27:10جیسے میں نے کہا کہ ہستے ہستے چند نلپاز ادا کر دینا
27:13حرام بھی کما رہے ہیں
27:14دنیا میں حرام بھی کما رہے ہیں
27:18بدنگاہی بھی کر رہے ہیں
27:19نماز کے بھی قریب نہیں جا رہے
27:20فرائض کی بھی پوندی نہیں کر رہے
27:22سارے کام کر رہے ہیں لیکن ہاتھ سے طوبہ
27:25طوبہ استغبراللہ کی تصویر بھی چل رہی ہے
27:26ہاتھ سے دروت و سلام کی تصویر بھی چل رہی ہے
27:29ہاتھ پہ لا الہ الا اللہ کا ذکر بھی چل رہا ہے
27:31اور حرام کما رہے ہیں
27:33سمجھ رہے ہیں کہ بس ذکر کر رہے ہیں
27:35اس سے سب کو دلتا چلا جائے گا
27:37جو دل آئے کرتے چلے جائیں
27:38یہ توبہ نہیں ہے
27:39توبہ یہ ہے
27:40کہ انسان صدقہ دل سے توبہ کرے
27:42توبہ یہ ہے
27:43کہ انسان کے دل میں شرمندگی ہو
27:45انبیابیوہ توبہ کا
27:48قرآن میں توبا
27:51pengورت
27:52اس کو توبہ کہتے ہیں
27:56ورنہ مولا قائنات شیر خدا
27:58زوج بطول شم شبستان
28:00مارفت فاصح
28:02وفات سلاسل طریقت
28:04اول عمت الطاہرین
28:06اللہ اکبر امام الواصلین
28:08سیدنا و مولانا
28:10حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ انہوں نے ارشاد فرماتے ہیں
28:12مولا قائنات سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ انہوں نے ارشاد فرمایا
28:15کہ اگر کوئی ایک گناہ کرتا ہے
28:17پھر اس گناہ سے توبہ کر لیتا ہے
28:19پھر جان بوجھ کے وہ گناہ کرتا ہے
28:21پھر اس سے توبہ کر لیتا ہے
28:23ارام کمایا توبہ کی
28:24پھر موقع ملا تو چونہ لگا دیا اگلے کو
28:26پھر ارام کما لیا
28:27پھر کہا توبہ توبہ اللہ معاف فرما دے
28:29پھر موقع ملا پھر گناہ کر لیا
28:31پھر اسی گناہ سے توبہ کر لی
28:32حضرت مولا قائنات فرماتے ہیں
28:34جو گناہ چھوڑتا نہیں ہے
28:35جو عبا کرتا رہتا ہے اسی گناہ سے
28:38اور پھر موقع ملے تو پوراً اس گناہ کی طرف واپس شلا جاتا ہے
28:41یہ توبہ نہیں کر رہا
28:42در حقیقت یا اللہ کے ساتھ
28:43معاذ اللہ مزاق کر رہا ہے
28:45یا اللہ کے ساتھ مزاق کر رہا ہے
28:47بندہ تو یہ عمل کر رہا ہے
28:48توبہ یہ ہے رمضان میں
28:50اللہ سے معافی مانگنے والوں
28:51کہ صدق دل سے توبہ کرو
28:53کہ یا اللہ
28:53اب پلٹ کے اس گناہ کی طرف نہیں جائیں گے
28:55حقیقی توبہ کے باعت
28:57جب انسان اپنی خطاؤں کو چھوڑنے کا ارادہ کرتا ہے
29:00اپنے گناہوں کو چھوڑنے کا ارادہ کرتا ہے
29:02تو میرے آقا کریم
29:03رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
29:06ارشاد فرماتے ہیں
29:11حضور علیہ السلام فرماتے ہیں
29:13کہ جس نے گناہ سے توبہ کر لی
29:15حضور علیہ السلام فرماتے ہیں
29:16جس نے گناہ سے سجد توبہ کر لی
29:31توبہ انسان سے بہت طقادہ کرتی ہے
29:33کہ انسان صدقہ دل سے طابع کرے
29:35اس انداز میں طابع کرے
29:36کہ تو طابع کرنے کا حق ہے
29:38وہ قریم ہے
29:39وہ فرماتا ہے
29:39حضور علیہ السلام فرماتے ہیں
29:41کہ اللہ فرماتا ہے
29:42تو میرے آگے ایک بار ہاتھ تو پھیلا
29:44تو میرے آگے ایک بار آنسو بہا تو سہی
29:46تو ایک بار ذرا میرا منتہ بن
29:48کہ میرے دروار میں آ تو سہی
29:49پھر میں یہ نہیں دیکھوں گا
29:50تیرے گناہ آسمانوں کی بلندیوں کے برابر ہے
29:53یا زمینوں کی وسط کے برابر ہے
29:55یا سمندر کی گہرائیوں کے برابر ہیں
29:58جب تو میرا فقیر بن کے
29:59میرے آگے ہاتھ پھیلائے گا
30:01تو حضور فرماتے ہیں
30:02اللہ فرماتے ہیں
30:02مانگنا تیرا کام ہوگا
30:04عطا کرنا میرا کام ہوگا
30:05ایک بار بندہ اس کا فقیر بن کے تو دیکھیں
30:08ایک بار بندہ اس کے آگے ہاتھ پھیلا کے تو دیکھیں
30:10جو بندہ گناہوں کے سبب
30:12اللہ کو نراز کر بیٹا ہوتا ہے
30:14جب نرازگی ہوتی ہے
30:15اللہ اس سے نراز ہوتا ہے
30:17وہ ان مبارک راتوں میں آنسو بہا کے
30:19اللہ سے ماں بھی طلب کرتا ہے
30:21تو وہ نرازگی دوستی میں بدل جاتی ہے
30:23وہی جس کا رستہ جہنم کی طرف جا رہا تھا
30:26اللہ کے حکم سے اس کا رستہ خلد برین کی طرف مور دیا جاتا ہے
30:29حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں
30:31بارش نہیں ہو رہی تھی
30:33قید سالی ہو گئی
30:34لوگ پریشان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے
30:37حضرت دعا فرمائیں کہ بارش نازل ہو
30:39حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا فرمائی
30:41اللہ تعالی نے اپنے نبی کو فرمائی
30:43اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ
30:45تمہارے علاقے میں
30:45ایک ایسا آپ کے علاقے میں ایک ایسا گناہگار انسان ہے
30:49جو اتنا گناہگار ہے
30:51کہ اس کے گناہوں کی سبب بارش نہیں ہو رہی
30:53ہم بارش نہیں برتائیں گے جب تک وہ اس وادی میں رہے گا
30:55اللہ اس سے اتنا نراز ہے
30:57کہ اس کی وجہ سے پورا علاقہ بارش کا برسنے سے محروم ہے
30:59اللہ اکبر
31:00حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے فرمایا
31:02کہ اس کو بولو کہ بستی چھوڑ کے نکل جائے بارش ہو جائے گی
31:05حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ساری بستی کو ایک جگہ جمع کیا
31:08اور حکم فرمایا کہ
31:09اللہ فرماتا ہے گناہگار ہے جس کی بائز بارش نہیں ہو رہی
31:11جس کی وجہ سے بارش نہیں ہو رہی
31:13اور وہ جانتا ہے کہ وہ ہے جس کی وجہ سے بارش نہیں ہو رہی
31:16اس کے لئے حکم ہے کہ وہ بستی سے نکل جائے
31:18تاکہ اس کے گناہوں کی
31:19جو نحوست ہے جو گناہ کی جس کی وجہ سے
31:22جو گناہ کی نحوست ہوتی ہے گناہگار پر
31:24جس کی وجہ سے بارش نہیں ہو رہی
31:25وہ نکلے تاکہ یہاں پر رحمت کا نزول ہو
31:28اللہ اکبر
31:29اس نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی اسی وقت
31:31کہ یا اللہ یا کری
31:32ساری زندگی تیری نا فرمانی کی
31:34آج تو اس ذلت سے بچا لے
31:36جب میں یہاں سے نکلوں گا
31:37لوگوں کو پتا چل جائے گا
31:38کہ میں اتنا گناہگار ہوں
31:40کہ میری وجہ سے بارش نہیں برس رہی تھی
31:41یا اللہ آج اگر تو مجھے معاف فرما دے
31:44اور یہاں بچا لے تو میں تیرے سے وعدہ کرتا ہوں
31:46توبتاً نسوہا کرتا ہوں
31:48کہ دوبارہ کبھی گناہ کی طرف نہیں جاؤں گا
31:49فوراً بارش برسنا شروع ہو گئی
31:51حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی
31:53کہ یا اللہ ابھی تو
31:55کوئی یہاں سے نکلا ہی نہیں
31:56ابھی تو یہاں سے بندہ نکلا ہی نہیں
31:58تو نے فرمایا تھا بندہ ہے وہ نکلے گا
32:01تو اس کے نکلنے کی وجہ سے بارش ہوگی
32:03وہ ابھی تو کوئی نکلا ہی نہیں
32:04اور بارش برسنا شروع ہو گی
32:05اللہ قریم نے فرمایا
32:07اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے
32:09کہ اے موسیٰ کے پہلے جس کی وجہ سے بارش نہیں ہو رہی تھی
32:12اب اسی کی وجہ سے بارش ہو رہی ہے
32:14اب وہ نرازگی ہم نے دوستی میں بدل دی ہے
32:17اب اس نے تعبہ کر لی ہے
32:18اب اس نے تعبہ تن نسوہہ کر لی ہے
32:20اب میں اسی کی وجہ سے بارش برسا رہا ہوں
32:23پوچھا یا اللہ وہ ہے کون
32:24کہا جب وہ نافرمان تھا
32:26تو ہم نے اس کا پردہ نہیں اٹھایا
32:27اب تو اس سے دوستی ہو گئی ہے
32:29اب تو وہ ہمارا مقرب بنیا ہے
32:31سچی تعبہ میں اتنی طاقت ہے
32:33کہ سچی تعبہ ایک لمحے میں انسان کا رستہ بدل دیتی ہے
32:36جب کوئی حقیقی تعبہ کرتا ہے
32:38زندگی میں حقیقتن تعبہ کرتا ہے
32:40اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس سے معافی طلب کرتا ہے
32:43اللہ تعالیٰ اس سے ایسے راضی ہوتا ہے
32:45کہ لمحوں میں اس کا رستہ بدل جاتا ہے
32:47حضرت بشرحافی کا معاملہ کس سے چھپا ہوا ہے
32:50بشرحافی
32:51جو ایک گناہوں کی زندگی گزار رہے ہیں پہلے
32:55شراب کے نشے میں کہیں پڑے ہیں
32:57اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے ولی حضرت زنون مصری کو الہام فرمایا
33:01شراب کے نشے میں ایک جگہ پڑے ہیں
33:03فرمایا کہ جاؤس کو بتاؤ کہ اللہ تم سے محبت کرتا ہے
33:06کہا اللہ وہ بشرحافی
33:07جو کبھی ادھر کبھی ادھر کبھی شراب کے نشے میں
33:10کبھی کیسے گناہوں میں زندگی گزار رہا ہے
33:12اس سے تو محبت فرماتا ہے
33:14اللہ تعالیٰ نے فرمایا بات یہ ہے
33:15بشرحافی ایک جگہ سے گزر رہا تھا
33:17اس نے دیکھا کہ میرا نام زمین پہ پڑا ہے
33:19اس نے اٹھایا اور کہاں میرے رب کا نام زمین پہ پڑا ہے
33:23اس نے میرے نام کو زمین سے اٹھایا
33:24اس نے میرے نام کو محبت سے صاف کرنا شروع کر دیا
33:27دیکھو اس کی بخشی جوہانے کیسے ڈھونڈتی ہے
33:29کہاں اس نے اپنی طاقت کے مطابق اس کاغذ کو صاف کیا
33:33اس ٹکڑے کو جس چیز پر بھی نام لکھا تھا
33:35اس چمڑے کو صاف کیا
33:36جس میں میرا نام لکھا ہے
33:38یہاں وہ میرا نام صاف کر رہا تھا
33:40وہاں میں نے اس کے گناہوں کو صاف کر دیا
33:42پھر اس نے اپنی حیثیت کے مطابق
33:44میرا نام ایک اونچ ہے
33:47مقام کا اعرقہ
33:48میں نے اپنی شانوں کے مطابق اس کو زمین سے آسمان پہ رکھ دیا
33:51میں نے اس کو گناہ گاروں میں سے نکال
33:54کے اپنے مقربیل میں شامل کر دیا
33:55جاؤ بشرحافی کو بولو کہ
33:57تمہارا رب تم سے پیار کرتا ہے
33:59حضرت الزنون مصری جاتے ہیں
34:00اس کو کہتے ہیں
34:01اللہ نے تمہارے لئے پیغام بھیجا ہے
34:03کہ اللہ تم سے پیار کرتا ہے
34:06بشرحافی تڑپ کے اٹھے کہا
34:08میرے رب نے بوجھے پیغام بھیجا
34:10میرا رب مجھ سے پیار کرتا ہے
34:12حضرت نے کہا
34:13تیرے رب کو تیری عدا پسند آگئی ہے
34:15اور تیرا رب تجھ سے پیار کرتا ہے
34:17اس سے وقت توبت النسوحہ کی
34:18زندگی ایسے بدلی
34:21ایسے زندگی بدلی
34:22کہ اللہ اکبر
34:23اس دور کے مفتی آزم
34:25ان کی بارگاہ میں بیٹھ رہے ہیں
34:26امام اس کی بارگاہ
34:27خدمت میں جا کے بیٹھ رہے ہیں
34:29اور لوگ کہہ رہے ہیں
34:30حضرت آپ خود اتنے بڑے امام ہیں
34:32اور آپ بشرحافی کے پاس جا کے بیٹھے ہیں
34:34اس سے باتیں پوچھ رہے ہیں
34:35وہ فرماتے ہیں
34:36کہ میں کتاب اللہ کے ذریعے جانتا ہوں
34:38اور وہ براہ راست اللہ کو جانتا ہے
34:40اللہ اکبر
34:41یہ مقام مرتبہ ہوتا ہے
34:43اس انسان کا جو سچی تابہ کر لیتا ہے
34:45جو اللہ تعالی کی بارگاہ میں
34:46صدق دل سے تابہ کرتا ہے
34:48اللہ تعالی کی بارگاہ میں
34:49سچی تابہ کرتا ہے
34:50تو گناہ نیکیوں میں تبدیل کر دیا جاتے ہیں
34:52صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے
34:54آقا علیہ السلام کے صحابی
34:56حیرت عمران بن حسین
34:58رضی اللہ تعالیٰ عنہ
34:58حدیث کے راوی ہیں
34:59حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں
35:01خاتون حاضر ہوں
35:02ارز کی گئے
35:03یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
35:05میرے پیٹ میں جو حمل ہے وہ
35:06زنا سے ہے
35:07مجھے سزا دی جائے
35:09مجھے پر حد لگائی جائے
35:10رجم کی آجائے
35:11جو شریعت نے بیان کی ہے
35:12رجم کی آجائے
35:13آقا علیہ السلام نے
35:14اس کے وارث کو بلائے
35:15اور فرمایا کہ
35:16اس کا قیال کرو
35:17بچہ ہو جائے
35:18تو پھر میری بارگاہ میں لے کے آنا
35:19اس کا بچہ ہو گیا
35:21وہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئی
35:22پہلے شادی شدہ تھی
35:23تو اس کی یہ صدا تھی رجم
35:24آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئی
35:27یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
35:28مجھ پہ حد لگائی جائے
35:29اس میں رجم ہوا
35:30جب اس کا وصال ہو گیا
35:32آقا علیہ السلام نے
35:33اس کا جنازہ پڑھایا
35:34حلیت سیدنا پاروک عاظم
35:36رضی اللہ تعالیٰ نے
35:36نے عرض کیا
35:37یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
35:39یہ تو ایک زانی عورت
35:40آپ نے اس کا نقاہ پڑھایا
35:41آقا علیہ السلام نے فرمایا
35:43کہ اس نے اللہ کی بارگاہ میں
35:44ایسے طوبہ کی ہے
35:45آپ نے آپ کو سزا کے لیے
35:46خود نہ کر پیش کیا
35:47اس نے اللہ کے خوف سے یہ کام کیا
35:49اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے
35:51یہ کام کیا
35:52اللہ کی رضا کی طلب میں یہ کام کیا
35:54آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا
35:56کہ اس نے اتنے صدق دل سے طوبہ کی
35:58اور اس طرح اللہ کی بارگاہ میں
36:00معافی مانگی
36:01کہ اس کی طوبہ تو
36:02اس حد درجہ پر
36:03اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
36:04قبول ہوئی ہے
36:05کہ اگر ستر لوگوں میں بھی اس کی توبہ کو تقسیم کیا جائے
36:08تو ان کے لئے وہ کافی ہوگی
36:10ایسے توبہ کبھی دیکھی
36:11ایسے توبہ کبھی سنی فرمایا
36:13کہ اس نے اللہ کو راضی کرنے کے لئے
36:14اپنی جان پیش کر دی
36:16اللہ اکبر
36:17آج ہم اپنی گریبان میں اگر جھانکے
36:19آج میں اپنی گفتگو کو اختتام پہ لے کے جا رہا ہوں
36:21اگر ہم اپنی گریبان میں جھانکے
36:23اپنے حالات کو دیکھیں
36:24ہستے ہستے گناہ
36:25بڑے سے بڑا گناہ کیا
36:27اور ہستے ہستے توبہ کر لی
36:28بڑے سے بڑا گناہ کیا
36:30اللہ کو نراز کیا
36:31اللہ کو نراز کرنے والا کام کیا
36:33اور توبہ کی بات آئی
36:34تو ہستے ہستے توبہ توبہ
36:35اور سمجھے کہ توبہ کر لی
36:37اور دوبارہ کبھی سوچا بھی نہیں
36:38یاد بھی نہیں کیا
36:39کہ میں نے وہ گناہ کیا تھا
36:40توبہ اس سے نہیں کہتے
36:42توبہ تو نسوہ یہ ہے
36:43کہ انسان کو ہر وقت یہ خیال ہو
36:45کہ میں نے اللہ سے جس گناہ سے
36:46نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے
36:48اس گناہ کی طرف نہیں جانا
36:50ناظرین ان آخری پانچ منٹ میں
36:51مجھے آپ کی بھرپور توجہ درقار ہے
36:53طوبہ کے عنوان پر
36:55حضرت عبداللہ بن مبارک
36:58شیخ فرید عطار نے اس کو نقل کیا
37:00خادر نظام الدین اولیاء
37:02رحمت اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا
37:04صوفیاء نے اس واقعہ کو نقل کیا
37:06حضرت عبداللہ بن مبارک
37:09رحمت اللہ علیہ جن کا بہت بڑا نام ہے
37:11صوفیاء میں بھی
37:12اور علماء میں بھی
37:13وہ اپنی طوبہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں
37:18میں رستے سے گزر رہا تھا تو مجھے ایک عورت اچھی لگتی تھی
37:21میں نے دیکھا اس کی کھڑکی کھلی ہے
37:22میں نے اس سے باتیں کرنا شروع کر دی
37:24ساری رات اس کی ساتھ باتیں کرتے ہوئے ضائع ہوئی
37:26اتنے میں میرے کانوں میں آزان کی آواز پہنچی
37:29حضرت فرماتے ہیں کہ میں نے سمجھا کہ
37:31یہ شاہ کی آزان ہے
37:32ابھی کچھ ہی وقت گزرا ہے
37:33اشاہ کی آزان ہو رہی ہوگی
37:34کہا میں نے آسمان پہ غور کیا
37:36تو مجھے اس سے قلام کرتے ہیں
37:37اتنی دیر ہو گئی تھی
37:38کہ وہ پجر کی آزان تھی
37:40کہا کہ میں اس وقت میں نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا
37:42کہ اس عورت کے لیے
37:44تو جس طرح ساری رات اس کی کھڑکی پہ کھڑا رہا
37:46کبھی اللہ کی بارگاہ میں بھی ایسے کھڑے ہو کے رات گزاری
37:49کبھی اللہ کی محبت میں بھی ایسی رات گزاری
37:51کہا وہ میرا لائف چینجنگ مومنٹ تھا
37:53میں نے اس وقت صدقہ دل سے
37:55اللہ کی بارگاہ میں توبتا نسوحہ کی
38:07اور اگلی زندگی اللہ کے دین کی خاطر وقت کرنی ہے
38:10کہا میں نے علم دین حاصل کرنا شروع کر دیا
38:13پھر وہ عالم دین بنے
38:14عالم دین بنے تو ایک دبا
38:16حلیفہ حارون رشید اپنی فیملی کے ساتھ
38:18ایک مقام سے گزر رہا تھا
38:19دیکھا کہ ہزاروں کا مجمع ہے
38:21حارون رشید کی والدہ نے پوچھا کہ
38:23یہ مجمع تمہارے استقبال کے لیے کھڑا ہے
38:25کہا نہیں اتنا بڑا مجمع میرے استقبال کے لیے تو نہیں کھڑا
38:28کہا پتا کراؤ یہ لوگ اتنی عقیدت سے
38:30اتنی وارفتگی سے
38:31کس کا استقبال کرنے کے لیے کڑے ہیں
38:33پتا چلا کہ یہاں عبداللہ بن مبارک
38:35نامی ایک عالم دین نے آنا ہے
38:37اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کرنی ہے
38:40اس کے اعترام میں یہاں یہ لوگ جمع ہیں
38:42حارون رشید کی والدہ نے کہا
38:44حارون رشید میں بادشاہ تم تو نہ ہوئے نہ
38:47بادشاہ تو یہ ہوا
38:48کہ کسی خوف سے نہیں
38:50کسی دنیا کی لالچ سے نہیں
38:52کسی دنیاوی اغراض کی وجہ سے نہیں
38:54لوگوں کے دلوں میں اس کی حکومت ہے
38:56جس محبت کا اظہار
38:58لوگ یہاں رستے میں آ کے کر رہے ہیں
38:59یہ سچی طعبہ میں طاقت ہے
39:01کہ جب کچھ سچی طعبہ کر کے
39:03اللہ کے رستے میں آتا ہے
39:05اللہ تعالیٰ اس کو معاف بھی فرماتا ہے
39:07اور اس کو اپنی بارگاہ میں اپنا بھی لیتا ہے
39:09اللہ تعالیٰ اس کو اپنا بھی لیتا ہے
39:10اللہ اکبر امام کو شہری طعبہ کا
39:12مطلب بیان کرتا ہوئے کہتے ہیں
39:15طعبہ کا معنی بیان کرتا ہوئے کہتے ہیں
39:17کہ طعبہ رجوع کرنے کو کہتے ہیں
39:19کسی بھی بات رجوع کرنا
39:20اور کہا شریعت شریعت عریف یہ ہوگی طعبہ کی
39:23کہ جو برے عمل شریعت جن کا برا کہتی ہے
39:26جو شریعت کے نزدیک برے عمل ہیں
39:28ان سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں طعبہ کرنا
39:30اور اس انداز میں طعبہ کرنا
39:32کہ دوبارہ وہ نہ کرنے کا پکا ارادہ ہو
39:34اس کو طعبہ کہا جاتا ہے
39:36اگر طعبہ کرنی ہے
39:37تو پھر پکی طعبہ کرنی ہے
39:39سچی طعبہ کرنی ہے
39:40طعبہ کرنی ہے تو اگر کوئی بے نمازی ہے
39:42آج طعبہ کرنا چاہتا ہے
39:44تو یہ دیکھے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا
39:46بے نمازی کا انجام جو ہے
39:48وہ پیرون و نمرود کے ساتھ ہوگا
39:50وہ یہ دیکھے کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا
39:53بے نمازی کے ماتھے میں قیامت کے دن لکھا ہوگا
39:56کہ یہ آج اللہ کی رحمت سے محروم رہے گا
39:58وہ یہ دیکھے کہ اللہ فرماتا ہے
40:00کہ بے نمازی جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن
40:09do
40:09do
40:09do
40:12do
40:20do
40:20तम्हारी कमर पे डाला जाएगा
40:22और वो कहेगा
40:23कि मैं तुम्हारा वो माल हूँ
40:24जिसकी तुम जखात नहीं देते थे
40:25वो गंजे साम के सूरत में
40:27अथुर्ण परमाते हैं
40:28तुम्हारे गले में आएगा
40:29जखात ना देने वाला
40:30आज अमलां टॉबा करे
40:31زنا کرنے والا آدم لن توبہ کرے
40:34آقا علیہ السلام برماتے ہیں
40:35کہ میں نے میراج کی رات دیکھا
40:37حضور علیہ السلام نے
40:38before time بھی سب کچھ
40:39اپنے علم غیب سے دیکھا
40:41لوگوں کا انجام
40:41حضور برماتے ہیں
40:42کہ میں نے دیکھا
40:43کہ ایک تندور ہے
40:44اس میں لوگ جل رہے ہیں
40:46اور ان کو عذاب ہو رہا ہے
40:47میں نے جمرائیل سے پوچھا
40:48یہ کون لوگ ہیں
40:49کہا یہ زنا کرنے والے ہیں
40:51زنا کرنے والے سے
40:52حضور برماتے ہیں
40:53جتنی دیر وہ زنا کر رہا ہوتا ہے
40:55اس کا ایمان
40:56اس سے نکل جاتا ہے
40:57اور پرندے کی طرح
40:58اس کے اوپر پھر رہا ہوتا ہے
40:59زنا کرنے والا
41:00اللہ کی بارگاہ میں
41:01آج ست کے دل سے
41:02توبہ کرے
41:03کہ آئندہ یہ کام نہیں کروں گا
41:04حضور برماتے ہیں
41:05کہ جس جوان کو
41:06جس انسان کو
41:07بدکاری کی دعوت دی گئی
41:09اور اس کے بعد
41:09موقع تھا کہ وہ کر سکتا تھا
41:11لیکن وہ
41:12اللہ کی رخواب سے رک گیا
41:13اللہ تعالیٰ قیامت کے دل
41:14اس کو اپنے عرش کے
41:15سائے میں جگہ عطا فرمائے گا
41:17شرابی گناہ سے
41:18آج تچی توبہ کرے
41:19سود کھانے والا
41:20آج توبہ کرے
41:21عاملا توبہ کرے
41:22اور رشوت لینے والا
41:24توبہ کرے
41:24بدنگاہی لینے والا
41:26توبہ کرنے والا
41:26توبہ کرے
41:27آج ست کے دل سے
41:28اللہ تعالیٰ کی طرح پلٹو
41:29اس رات کو
41:30اپنے لئے
41:31لائف چینجنگ مومنٹ
41:32بنا لو
41:32اللہ کے حضور ہاتھ باندھ
41:34کہ اللہ تعالیٰ سے
41:44کہ برے کام بھی جاری ہیں
41:46چند چیزوں کا نام
41:47اسلام رکھ کے اٹھا لیا
41:48کہ ہم نے بنا نماز پڑھنی ہے
41:49چند عمال کو اٹھا
41:51کہ کہا کہ بس یہی
41:52ہمارا اسلام ہے
41:52ہم نے داڑی رکھ لی
41:54پگڑی پین لی
41:54نماز پڑھ رہے ہیں
41:55روزہ رکھ رہے ہیں
41:56ترابی بھی پڑھ لی
41:57اور سارا سال
41:58نمازیں پڑھتے رہیں گے
41:59یہ ہمارے دینی معاملات ہیں
42:01کاروبار ہم اپنے حساب سے کریں گے
42:02دنیا میں ہم اپنے حساب سے رہیں گے
42:04باقی اب اس سے علاوہ
42:05ہم سارے گناہ بھی کریں گے
42:07سب کچھ کریں گے
42:08ان چیزوں پر قائم رہیں گے
42:09چند عمال ہم نے چن لیا
42:10ان کا نام اسلام ہے
42:11ایسا نہیں ہے
42:12اسلام کمپلیٹ سبمیشن مانگتا ہے
42:14کمپلیٹ کورڈ آف لائف ہے
42:16اپنی پوری زندگی کو
42:17حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے
42:19تابع کرنا ہوگا
42:20اللہ تعالیٰ ہم سب کو گناہوں سے
42:22توبہ کے توفیق عطا فرمائے
42:23اور ہماری توبہ
42:24اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے
42:26دوران گفتگو مجھ سے کوئی غلطی ہوئی
42:27تو صدقے دل سے
42:28اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں
42:30توبہ کرتا
42:33نوری مہفل پہ چادر
42:40تنی نور کی
42:44نوری مہفل پہ چادر
42:48تنی نوری مہفل پہ چادر
Comments