- 6 hours ago
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00Allahatah kalamu padha ya Rasul ne
00:04Asham be bar safha ko likha ya Rasul ne
00:09Nakhmeduhu wa nusalli ala Rasulhi al-Karim
00:12Amma abad
00:14Bismillahirrahmanirrahim
00:14Allahumma salli ala Muhammadin
00:16Wa ala ala ala Muhammadin
00:18Wabarik wa sallim
00:19Rabbish rahli sadri
00:20Wa yasir li amri
00:21Wachlul qudata min li sani
00:23Yafqahun qawli
00:23Wajعل li wazirah min ahli
00:25Amin
00:26Ya Rabbil alameen
00:27Nazir kira amasalaikum warahmatullahi wabarakatuhu
00:30Umbi da ab khair afiyet se hungge
00:32Or Allah ta'ala se hemari dhua hai
00:33Que aap jahhaan kahi bhi hou
00:34Allah ta'ala abh sab ko
00:35Aap sab ko aapne hifaz raman me rakhye
00:37Afiyet aur slamethi se nawaze
00:39Qurani hakim se mazid mahabbat ataa firmaye
00:42Or dilu jahan se
00:43Is par iman ki tafeeq ataa kare
00:44Or is ke hukuk ko ada kerne ki Allah
00:47Hum sab ko tafeeq ataa firmaye
00:49Allah ta'ala hii ki tafeeq se
00:50Khulaasai mzameen قرآنi hakim
00:52Ke biyan ka sislah jari hai
00:53Aaj inshallah wa ta'ala
00:54Qurani hakim ke 21 wye paare ka
00:56Mitalahe aap ke saman ne rakhye
00:57Yakinaan mختصر andaz me
00:59Ab suratou ki tahdaat
01:01Bڑھti chari jayegi
01:02Qurani paak ke 21 wye paare
01:03Aagaz me
01:04Suratul anqabhut hai
01:05Iske baad mziziz surathe bhi
01:07Hemare saman ne aigin ghi inshallah
01:08Or aap ko yaad hooga
01:09Suratul anqabhut ka
01:1020 wye paare me
01:11Aagaz ho jata hai
01:12Suratul anqabhut
01:13Mekمل hotei hai
01:1421 wye paare me
01:15Iske baad mziziz surathe bhi
01:17Hemare saman ne aati hai
01:19Suratul rome bhi hai
01:20Suratul lukman bhi hai
01:21Suratul sajida bhi hai
01:22Aagis suratul anqabhut bhi
01:23Shuru ho tia hai
01:2421 wye paare me
01:2521 wye paare me
01:26Suratul anqabhut ki
01:27Aayat nr. 45 wye paare me
01:28Suratul anqabhut ki
01:29Aayat nr. 30 wye paare me
01:31Aayat shamil hai
01:32Ab aayi aagir bharitai
01:33Aayatul anqabhut ka
01:34Mختصر تعرف
01:35Aayatul anqabhut
01:36Aayatul anqabhut
01:38Aayatul anqabhut
01:44Aayatul anqabhut
01:46Aayatul anqabhut
01:48Aayatul an eu
01:51Aayatul anu
01:56Aayatul an aalud
02:09Aayatul ana abhut
02:12And that's what we have done.
02:42such a be your decision
02:59ڈوڑے گئے مشرقین مکہ کے طرف سے
03:01ایسے مشکل حالات میں کیا کرنا ہے
03:03یہ رہنمائی عطا ہو رہے ہیں
03:05سرعان کبوت کی آیت نمبر 45 میں
03:07اشاد ہوا
03:09اتلو ما اوحی علیہ کمیل کتابی
03:12اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
03:13آپ پر جو کتاب میں سے
03:15وحی کی گئی اس کی تلاوت کیجئے
03:17واقعی میں صلاح اور نماز قائم کیجئے
03:19خطاب اللہ کے رسول علیہ السلام سے
03:21اور ایمان والوں کو رہنمائی عطا
03:23کی جا رہی ہے تو جو کچھ قرآن پاک
03:25میں سے نازل ہوا اس کی تلاوت جاری
03:27رہے اور نماز کو قائم کیا جائے
03:29نماز کا ایک اہم مقصد اور فائدہ
03:31بیان ہو رہا ہے
03:32اِمْنَ الصَّلَاةَ تَنْهَا عَنِ الْفَحْشَاءِ
03:35وَالْمُنْكَرِ بِشَكْ نَمَاز بِحِيَائِ
03:37اور بُرے کام اسے روکتی ہے
03:38وَلَا ذِكْرُ اللَّهِ اَكْبَرِ اور اللَّهِ
03:41یہ سب سے بڑی بات ہے جو کہ مطلوب ہے
03:43وَاللَّهُ يَا عَلَمُ مَا تَسْنَعُونَ
03:45اور تم جو کچھ بناتے ہو جو کچھ رم کرتے ہو
03:47اللہ تعالی جانتا ہے اسے
03:49تین ہدایات تلاوت قرآن
03:51نماز کا قیام اور ذِكْرِ الٰہی
03:54اور یہ ذِكْرِ الٰہی سب سے بڑھ کر ہے
03:56اس پر ابھی ہم بات کریں گے انشاءاللہ تعالی
03:58قرآن کریم کے ذریعے ایمان کی آبیاری بھی ہوتی ہے
04:00سورہ عنقبور کے ساتھ ساتھ آپ ذہن میں رکھئے
04:03سورہ کحف کو وہ بھی پانچ نبوی میں نازل ہوئی
04:06اور وہاں بھی اللہ تعالی نے ایمان والوں کو
04:08آیت مستعیس میں تلاوت قرآن حکیم کی تلقین فرمائی
04:11مشکلات کے دور میں قرآن پاک کی تلاوت
04:13اس سے ایمان کی آبیاری ملتی ہے
04:15سبر کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے
04:17ماضی کے حالات اور قوموں کے واقعات جب سامنے رہتے ہیں
04:22تو ایمان والوں کا ایمان بڑھتا ہے
04:23کہ اللہ تعالی ایمان والوں کے نصرت فرماتا ہے
04:25تو ایک اہم ہدایت مشکلات کے دور میں
04:27تلاوت قرآن پاک کے تعلق سے
04:29نمبر دو نماز قائم کرنا
04:30نماز سے اللہ تعالی کی مدد حاصل ہوتی
04:33یہ بات ہم نے پڑھی تھی
04:34سورہ البقرہ آیت نمبر 153 میں
04:37سورہ البقرہ آیت نمبر 153 میں ذکر آتا ہے
04:40استعین بسبری والسلا
04:42سبر اور نماز کے ذریعے
04:44اللہ تعالی سے مدد حاصل کرو
04:45تو بارحال نماز قائم کرنے کا حکم
04:50آداب کے ساتھ ہو
04:51ظاہری آداب
04:52باطنی آداب
04:53تحارت کا لحاظ رکھنا
04:54اسی طرح رکو سجود کو اتمنان سے ادا کرنا
04:57توجہ سے ادا کرنا
04:58عاجزی سے ادا کرنا
04:59جو تلاوت کر رہے ہیں وہ معلوم ہونا چاہیے
05:01جو دعائیں مانگ رہے ہیں
05:02اس کا مفہوم ذہن میں ہونا چاہیے
05:04بارحال باجمات نماز کا اتمام ہو
05:06جب نماز پورے آداب کے ساتھ ادا کی جاتی
05:08تو پھر کیا ہوتا ہے
05:09امن الصلاة تنہا عن الفحشاء والمنکر
05:12بے شک نماز بے ہیں
05:13اور بری بات اسے رکتی ہے
05:15بعض لوگ کہتے ہیں نماز بھی پڑھڑا
05:16برائی بھی کر رہا ہے
05:17جی ہاں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
05:18کہ نماز کو اس کے آداب کے ساتھ
05:20ادا نہ کیا جائے
05:21تو برائی ہوتی بھی نظر آتی
05:22لیکن غور کیجئے
05:23ایک بندہ چوبیس گھنٹے برائی کر رہا ہوں
05:25چوبیس گھنٹے
05:26نماز ادا کرنا شروع کر دے
05:27تو ایک ڈیڑھ گھنٹہ تو برائی کم ہو جائے
05:29یہ نقد ہے
05:30آگے نماز کے آداب کا لہاد رکھے گا
05:32خشیت الائی اس کے دل میں پیدا ہوگی
05:34نماز کی طرح بہر بھی
05:36اللہ کو بڑا مانے گا
05:37تو انشاءاللہ اور برائی اسے وہ بچے گا
05:38اگلی بات فرمایا
05:39کہ اولا ذکر اللہ اکبر
05:41اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی شئے ہے
05:42نماز معین وقت میں معین آداب کے ساتھ
05:46تلابت قرآن کے بھی پروٹوکولز اور آداب ہیں
05:48ذکر کا معاملہ کیا ہے
05:49چلتے پھرتے کھڑے بیٹھے لیٹھے
05:51اللہ کا ذکر ہو سکتا ہے
05:52سورہ عمران آیت نمبر 191 میں ہم پڑھتے ہیں
05:55ایمان والوں کی شان
05:56اللہ تعالیٰ کا ذکر یہ سب سے بڑی شئے ہے
06:13اللہ تعالیٰ کسر سے ذکر الہی کی توفیق عطا فرمائے
06:16اس میں نماز بھی شامل
06:17تلاوت قرآن بھی شامل
06:18اذکار بھی شامل
06:20استغفار کے کلمات بھی شامل
06:21دلو شریف کا اتمام بھی شامل
06:23نبی علیہ السلام کی بتائی و مسئون دعائیں بھی شامل
06:25اور پھر اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پاسداری
06:29کرنے والے کاموں کو انجام دینا
06:30اور جن کاموں سے روک دیا گیا جو حرام ان سے بچنا
06:33یہ بھی اللہ ہی کا ذکر ہے
06:34فرمایا کہ
06:35واللہ یعلم ما تسنعون
06:37اور تم جو کچھ کرتے ہو
06:38اللہ تعالیٰ جانتا ہے
06:39اگلی آیت اس کا ہم نے انتخاب کیا ہے
06:45بڑا پیارا مقام
06:46ہدایت جد و جہد کرنے والوں کے لئے
06:48سبحان اللہ
06:49مستقل جہاد کرتے رہو گے
06:50ہدایت پاتے رہو گے
06:51اور ہدایت کے راستے اللہ تعالیٰ کھول دے گا
06:53سورہ انکبوت کی آخری آیت
06:55آیت 69
06:56اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے
06:57واللذین جاہدو فینہ
07:00اور جو لوگ ہمارے رحمی جہاد کریں گے
07:02محنت کریں گے
07:02جہاد وسی معنی میں
07:04بارہ ہم نے ذکر کیا
07:05قتال کی معنی ہمیشہ جنگ کے ہوتے ہیں
07:07جہاد میں کبھی کبھی جنگ کا معنی بھی ہوتا ہے
07:09لیکن جہاد جہد سے ہے
07:11کوشش
07:11اسٹرگل
07:12محنت
07:13تو مستقل محنت ہے
07:14اللہ کے دین پر قائم رہنے کے لئے
07:16ایمان لاکر ایمان پر قائم رہنے کے لئے
07:18نیک عمال انجام دینے کے لئے
07:19برائیوں سے بچنے کے لئے
07:21دین کی دعوت دینے کے لئے
07:22ان سارے کاموں کے لئے
07:24مستقل جو محنت ہے
07:25اس کا نام جہاد ہے
07:26وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَ لَنَا حَدِيَنَّهُمْ سُبُولَنَا
07:29اور جو لوگ ہمارے دینا ہمیں جہاد کرتے
07:31مستقل محنت کرتے
07:32ہم اپنے راستوں کی ہدایت ان کو عطا فرماتے
07:35سبحان اللہ
07:36اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والا راستہ یہ کہ
07:38کونسا
07:38سرات مستقیم
07:40مگر اللہ کہاں کہاں سے بندے کی مدد فرمائے
07:42کہاں کہاں سے کھیش کر
07:43اسے لے آئے سیدھے راستے پر
07:45کہاں کہاں سے بندہ اللہ تعالیٰ اس کی نصرت فرمائے
07:47کہاں کہاں سے اللہ تعالیٰ راستے کھولتا چلا جائے
07:49یہ ذرائع راستے بے شمار
07:51راستہ ایک ہے اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والا
07:53مگر اللہ مختلف پیرائیوں میں
07:55مختلف انداز سے مختلف ریسورسز سے
07:57مختلف ذرائع سے بندے کی مدد فرمانے پر قادر ہے
08:00بڑی پیاری حدیث مبارک ہے
08:02جو کہ بخاری شریف مہد دل کے کانوں سے سننا چاہیے
08:04اور حدیث قدسی ہے
08:07اللہ تعالیٰ کا کلام ہے
08:08رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نقل فرماتے ہیں
08:10اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
08:11میرا بندہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے
08:13میں اسے دل میں یاد رکھتا ہوں
08:14میرا بندہ کسی محفل مجھے یاد کریں
08:16میں اسے بہتر محفل
08:17گویا فرشتوں میں یاد رکھتا ہوں
08:18میرا بندہ ایک بالشت میں میری طرف آئے
08:20میں ایک ہاتھ بھر اس کی طرف آتا ہوں
08:22وہ ایک ہاتھ بھر میری طرف آئے
08:23دو ہاتھ بھر اس کے طرف آتا ہوں وہ چل کر میری طرف آئے
08:26اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں دور کر اس کے طرف آتا ہوں
08:28آگے تو بڑھو اللہ تھام لے گا سیدھے راستے پر چلا دے گا
08:31فرمایا
08:32والذین جاہدو فینا لنہدینہم سبولنا
08:35اور جو لوگ ہماری راہ میں جہاد انہیں مستقل محنت کرتے ہیں
08:38ہم اپنے راستوں کی ہدایت ان کو عطا فرما دیتے ہیں
08:41وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ
08:43اللہ یقیناً محسنین کے ساتھ ہے
08:45احسان کیا ہے حسن سے
08:47امدگی سے عمل کرنا وحسن عبادتک
08:49نماز کے بعد کی دعا میں ذکر آتے ہیں
08:52اللہم اعین علی ذکری کا وشکری کا وحسن عبادتک
08:56اللہ میری مدد فرمائے
08:58اپنے ذکر کے لئے اور اپنے شکر کے لئے
08:59اور اپنے عبادت کے لئے
09:00تو امدگی کے ساتھ عمل کرنے والے
09:02اللہ تعالیٰ کی نصرت اور معیت
09:05اور اللہ کا ساتھ
09:06اللہ کی کمبیننشپ ان کے لئے ہیں
09:08اللہ ہم سب کو عطا فرمائے
09:09یہ دو آیات کا مزید ہم نے انتخاب کی ہے
09:11سورہ انقبوت سے جن کا مطالعہ مکمل ہوا
09:14اکیس سے پارے میں سورہ انقبوت کے بعد
09:16سورت الروم کا آغاز ہوتا ہے
09:18روم کے لفظیں لگ رہے ہیں
09:20کہ روم کے بارے میں کوئی ذکر آ رہا ہے
09:21آئیے تعرف کا جائزہ لیتے ہیں
09:24وہاں پہ روم کا ذکر بھی آ جائے گئے
09:25انشاءاللہ تعالیٰ
09:26سورت الروم کے نکات آپ کے سامنے رکھتے ہیں
09:28تعرف کے اعتبار سے
09:29سورت الروم مکی دور کے وسط میں
09:32نازل وسط درمیان کو کہا جاتا ہے
09:34تیرہ برس کا مکی دور ہے
09:35پانچ میں چھٹے برس کا مبیش
09:37اس کا نزول ہے
09:37سورت الروم کے حوالے سے
09:39مزید چند باتیں
09:40اس سورت کی اعتداء میں
09:42اللہ تعالیٰ نے دو پیشنگوئیاں فرمائی
09:44جو چند ہی سالوں میں پوری ہو گئی
09:46پیشنگوئیاں
09:47پروفیسیس کو کہا جاتا ہے انگلیش میں
09:48قرآن پاک نے دو پیشنگوئیاں فرمائی
09:50اور جو نزول قرآن کے دوران میں
09:53ہی پوری ہو گئی
09:54یہ گویا ان پیشنگوئیوں کا پورا ہونا
09:56قرآن کریم کی حقانیت
09:58یہ ایک دلیل بھی ہے جو سامنے آگئی
09:59اب وہ کیا پیشنگوئیاں ہیں
10:01آئیے اگلا نقطہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں
10:03ایک پیشنگوئی رومی عیسائیوں کے
10:05ایرانی مشرقین
10:07اور دوسری مسلمانوں کے بدر میں
10:09مشرقین مکہ پر غالب آنے کے بارے میں تھے
10:12ایک طرف اس زمانے کی دو مشہور سپر پاورس تھی
10:14روم اور ایران
10:15روم میں عیسائی تھے
10:16جن کا گویا کہ
10:17ایک انداز سے مشابہت کا معاملہ مسلمانوں کے ساتھ ہے
10:20عیسائی اللہ تعالیٰ کو تمانتے ہیں
10:22اور دوسری طرف ایران میں
10:23مشرقین آبات آگ کی پوجہ پارٹ بھی کرتے تھے
10:26ان کی گویا کہ مشابہتی
10:28مشرقین مکہ کے ساتھ جبوتو کی پوجہ پارٹ کرتے تھے
10:30ایرانی اس زمانے میں غالب آگئے تھے رومی اوپر
10:33تو مشرقین مکہ نے بڑا شور مچایا
10:35کہ دیکھو وہ رومی اللہ کا ذکر کرتے ہیں فقط
10:38اور دیکھو ان پر تو یہ ایرانی غالب آگئے
10:40مسلمان ہم بھی تم پر غالب
10:41ایسے میں اللہ تعالیٰ نے پیشن کو یہ بھی فرمائی
10:43کہ ادھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے
10:46رومی جو کہ عیسائی ہیں
10:48وہ ایرانی مشرقوں پر غالب آئیں گے
10:49اور دوسری طرف وہی بدر کا دن تھا
10:51اور مسلمان غالب آئیں گے
10:53مشرقین مکہ پر
10:54تو یہ پیشن گوئیاں
10:56نزول قرآن کے دوران میں ہی پوری ہو گئی
10:58یہ پروفیسی
10:58اس نزول قرآن کے دوران میں ہی پوری ہو گئی
11:00گویا کہ یہ قرآن پاک کی حقانیت کے دلیل بھی سامنے آگئی
11:03اگلا نکتہ ہے سورہ روم کے تعلق سے
11:05قیامت اور توحید باری تعالیٰ کے لیے دلائل دیئے گئے ہیں
11:09جبکہ شرق کی مضمت کی گئی ہے
11:11یہ مستقل موضوعات ہیں
11:12شرق کی مضمت
11:13توحید کے دلائل
11:14اور آخرت کا تذکرہ
11:15یہ مکی صورتوں کے مدامین
11:17صورت الروم میں بھی ہمارے سامنے آتے ہیں
11:21ایک اور اہم نکتہ
11:22جو تعرف کے ذریعے میں
11:23صورت الروم کے تعلق سے
11:24انسانی زندگی کے مختلف مراہر
11:26اور دین فطرت
11:27یعنی اسلام کا تذکرہ کیا گیا ہے
11:29جیسے بچہ کمزور ہوتا ہے
11:30پختگی پاتا ہے
11:31اسی طرح اللہ تعالیٰ
11:33کمزوروں کو عروج بھی عطا کرنے پر قادر ہیں
11:35اسی طرح اللہ آج مسلمان جو کہ کمزور ہیں
11:37انہیں کل عروج عطا کرنے پر قادر ہیں
11:39یہ مباحث بھی بیان کیے گئے
11:41صورت الروم میں
11:42اور آخر میں
11:43مجرموں کی حد دھرمی
11:44اور ان کے برے انجام کا بھی ذکر کیا گیا
11:46یہ مستقل موضوعات ہیں
11:47مکی صورتوں کے جس صورت الروم میں بھی
11:49ہمیں دکھائی دیتے ہیں
11:51یہ تعرف مکمل ہوا
11:52صورت الروم کے تعلق سے
11:53اب چلتے ہیں
11:54صورت الروم کی چند
11:55منتخب آیات کے متعلق کی طرف
11:57سب سے پہلے جس آیت کا ہمیں انتخاب کیا
11:59وہ صورت الروم کی آیت نبر اکیس ہے
12:01بہت مشہور مقام قرآن پاک
12:03اور ہمارے ہاں
12:04شاربیہ کے کارڈ میں
12:05انگریزی میں
12:05اردو میں
12:06اس کا ترجمہ بھی کبھی کبھی شائع کیا جاتا ہے
12:09تعلق زوجین کا ایک مقصد
12:11حصول سکون
12:12اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے لیے
12:14نکاح کا پاکی ذرا سعطہ کیا
12:16فطری خواہش کی تکمیل کے لیے
12:17اور اس نکاح کے ایک بڑا مقصد کیا ہے
12:19حصول سکون
12:20سورہ روم آیت نبر اکیس
12:22اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
12:24وَمِنْ آَيَاتِهِ
12:26اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے
12:28اچھا ایک بات نوٹ کیجئے گا
12:29سورہ روم میں جا بجا
12:30اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل کا تذکرہ ہے
12:32اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو بیان کیا گیا
12:34کم و بیش
12:35چھے مرتبہ یہ انداز آیا ہے
12:37سورہ روم میں
12:38وَمِنْ آَيَاتِهِ
12:39وَمِنْ آَيَاتِهِ
12:40اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے
12:41یہ بھی ہے یہ بھی ہے
12:42انہی میں سے یہ ایک آیت سورہ
12:44روم کی آیت اکیس بھی اشاد ہو رہا ہے
12:47وَمِنْ آَيَاتِهِ
12:48اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے
12:51اَنْخَلَقَ لَكُمْ مِنْ آَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا
12:53کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے تمہیں میں سے تمہارے جوڑے بنائے
12:58لِتَسْقُنُوا إِلَيْهَا
12:59تاکہ تم اپنے جوڑے کے پاس جا کر سکون تلاش کرو
13:01مرد عورت ایک ہی جنس سے انسان ہیں
13:04پہلا جوڑا آدم علیہ السلام و بی بی حووہ کا آدم علیہ السلام ہی سے
13:08ان کے زوجہ امہ حووہ کو اللہ تعالی نے بنایا
13:10یہ بات سوری نساء کی پہلی آیت میں آتی ہے
13:13اور اب مجموعی اعتمار سے کیا ہے
13:15مرد ہو یا عورت ہیں دونوں بھاران انسان
13:17تو تمہیں سے تمہارے جوڑے بنائے
13:19لِتَسْقُنُوا إِلَيْهَا
13:20تاکہ تم اس کے پاس جا کر سکون تلاش کرو
13:23وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّتٌ وَرَحْمَةٌ
13:25اور اللہ تعالی نے تمہارے درمیان
13:27مَوَدَّتٌ وَرَحْمَتٌ
13:29کو پیدا فرما دی ہے
13:30دو بڑی اہم باتیں آئیں
13:31نمبر ایک سکون تلاش کرو
13:33آج دنیا سکون تلاش کر رہی کہاں
13:34نشے میں معاذ اللہ
13:36اور نشہ کرتے کرتے پھر خودکشی کر لیتے ہیں
13:40ایسے ہے کہ نہیں
13:41نا نا نا
13:41اللہ نے دور اسٹیپ پر سکون عطا کر دیا
13:44زرا کا گندہ راستہ وہ معاشی کے لیے
13:46گندگی کا ڈھیر بنتا ہے
13:47اور نفسیاتی امراض پیدا ہوتے ہیں
13:49اور خودکشیہ تک ہو جائے کرتے ہیں
13:51اور قتل تک کر دیا جاتا ہے
13:52اور ٹیشو کی پیپر کی طرح استعمال کر کے
13:54جذبن میں پھیک دیا جاتا ہے
13:55استغفراللہ
13:56نا
13:57اللہ نے پاکی ذراستہ نکاح کے بندن کا عطا فرمائے
13:59کیوں سکون تلاش کرو
14:01دور اسٹیپ پر اللہ نے سکون عطا کیا
14:03اور
14:04وَجْعَالَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّتَ وَرَحْمَةٌ
14:06اور اللہ نے تمہاری درمیان مودت اور رحمت کو پیدا کیا
14:09یہ مودت اور رحمت کیا یہ فتری جذبات ہیں
14:11ایک دوسرے کی کیر کرنا
14:12ایک دوسرے کیلئے حمدردی کا جذبہ
14:14ایک دوسرے کی مشکل کو سمجھنا
14:15اور مشکلات میں سحارہ بننا
14:17اچھا ایک اور نوٹ کیجئے کا بات
14:18ایک عمر ہوتی ہے نو جوانی کی
14:20اس زمانے میں جذبات مختلف ہوتے ہیں
14:22ایک جوانی کی پختہ عمر ہو جاتی
14:24جذبات تھوڑے بدل جاتے ہیں
14:25پھر ادھر عمر کا معاملہ آتا ہے
14:27ذرا کیفیات بدل جاتی
14:28اور بڑھاپے کا معاملہ جوانی جیسا نہیں رہتا
14:30جی نو جوانی عمر میں جذبات مختلف
14:33تو کیفیات مختلف
14:34تو ضروریات مختلف
14:35اور ادھر عمر اور بڑھاپے کا معاملہ جائے
14:38جذبات مختلف
14:39احساسات مختلف
14:40ایسے میں
14:44So that's what we have to say, that's what we have to say.
15:11بیوی کے بارے میں اس بیوی نے ماں باپ کو چھوڑا
15:13بہن بھائیوں کو چھوڑا گھر کے آرام کو چھوڑا
15:15ناخروں میں وہ پلی وہ سب کو چھوڑ کر
15:17دو بول کہہ کہ یہ مجھے قبول ہے
15:19ایک مرد حوالت نے آپ کو کر دیا
15:22یہ جذبہ کون ڈال رہا ہے
15:23اللہ اکبر
15:24یہ دوسرے کے لئے کیرنگ کے جذبات
15:26سمپیتی کے جذبات
15:27حمدردی کے جذبات کون ڈال رہا ہے
15:29یہ مبدت رحمت کون پیدا کر رہا ہے
15:31اور اللہ تعالیٰ
15:33یہ زندگی برکہ سکون کون اتا کر رہا ہے
15:36اللہ تعالیٰ اتا فرما رہا ہے
15:37انہیں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں
15:38کون اتا کر رہا ہے
15:39وہ اللہ تعالیٰ اتا فرما رہا ہے
15:41ذرا غور کریں
15:41کس قدر اللہ تعالیٰ کے خدرت کی نشانیاں
15:44یہ زوجین کے تعلقات میں ہمیں دکھائی دیتی ہیں
15:47اسی لئے اللہ تعالیٰ کے اس آیت کے آخر میں فرما رہا ہے
15:52بے شک ان نشانیوں میں
15:54ان آیات میں غور فکر کرنے والوں کے لئے
15:56سامان موجود ہے
15:57کیا کہ وہ غور فکر کرے
15:58اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کو پہچانے
16:00اللہ یہ قرب چاہتا ہے
16:02سکون چاہتا ہے زوجین میں
16:03اسی لئے زوجین کے تعلق کے لئے
16:06لباس کا لرزہ ہے
16:07سورة البقرہ آیت 187 میں
16:10شہر بیوی دوسرے کے لئے لباس
16:11اللہ اتنا قرب چاہتا ہے
16:12ہاں شیطان کیا چاہتا ہے
16:14توڑنا چاہتا ہے
16:15لڑوانا چاہتا ہے
16:16گھروں کو برباد کرنا چاہتا ہے
16:18طلاق کروانا چاہتا ہے
16:19گھروں میں بربادی کرنا چاہتا ہے
16:21معاشرے کو تباہ کرنا چاہتا ہے
16:22یہ تو شیطان کا ایجنڈا ہے نا
16:24رحمان کیا چاہتا ہے
16:25لباس
16:26قرب چاہتا ہے
16:27سکون چاہتا ہے
16:28مبدت اور رحمت
16:29اس نے پیدا کی ہے
16:30اِنَّ فِي ذَلِكَ
16:31لَآَيَاتِ لِقَوْمِيَتَ فَكَّرُوا
16:33بے شک اس میں
16:33یقینا نشانی ہے
16:35غور فکر کرنے والوں کے لئے
16:36اگلا مقام جس کا ہم نے انتخاب کیا
16:38وہ سورہ روم کی دو آیاتیں
16:40اٹھس اور انتالیس
16:42انفاق بمقابلہ سود
16:43سود حرام ہے
16:44ہم سب جانتے ہیں
16:45کوئی نہیں مانتا تو
16:46اپنے ایمان کی خیر منائے
16:47سود اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے
16:49یہ بات
16:50سورة البقرہ آیت ٹو سیونٹی ایٹ میں ہے
16:53ایمان والوں سے کہا گیا
16:56اتقو اللہ
17:00یہ سود میں سے جو کچھ رہ گیا
17:02چھوڑ دو
17:02انکن تم مؤمنین
17:03اگر تم ایمان والے ہو
17:04البقرہ آیت ٹو سیونٹی ایٹ میں
17:06شروع میں بھی ایمان والوں کہا
17:08اور آخر میں
17:09اگر تم ایمان والے ہو کہا
17:10بیش میں کہا
17:11کہ اللہ سے درو سود چھوڑ دو
17:12سود اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے
17:14یہاں ذکر کیا ہے
17:16انفاق بمقابلہ سود بیان ہو رہا ہے
17:18قرآن پاک میں جہاں جہاں
17:19سود کی شناعت کو بیان کیا گیا
17:21اس کی حرمت کو بیان کیا گیا
17:23اس کی مضمت کی گئی ہے
17:24اس کی ممانین تو پروہیمیشن بیان کی گئی ہے
17:26اللہ نے انفاق کا ذکر کیا ہے
17:28سود مال کو چند لوگوں کے درمیان میں روکتا ہے
17:31اور انفاق سے مال پورے معاشے میں سرکولیٹ ہوتا ہے
17:34بارحال انفاق ورسس سود کا ذکر یہاں پہ
17:36سور روم آیت 38 اور 39
17:39اشاد ہوا
17:40فَآَتِذَا الْقُرْبَ حَقَّهُ الْمِسْكِينَ وَبْنَ السَّبِينَ
17:43پس رشدار کو اس کا حق ادا کر
17:45مسکین کو اور مسافر کو
17:46اللہ خرش کرنے کی ترغیب دلا رہا ہے
17:49ذَلِقَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُلِيدُونَ وَجْهَ اللَّهُ
17:52یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالی کی رضا چاہتے ہیں
17:54تو یہ مال جو تم خرش کرو گے رشداروں پر
17:57اور ہاں حدیث مبارک میں آتے ہیں
17:59ایک رشدار کو دینے کا دوہرہ سواب ہے
18:00ایک دینے کا سواب اور ایک رشداری کا حق ادا کرنا
18:03صلح رحمی کا حق ادا کرنا
18:04اس کا سواب سبحان اللہ
18:06تو رشدار کو دینا مسکین کو دینا
18:08مسافر پر خرش کرنا یہ اللہ تعالی کی رضا کے حصول کا باعث ہے
18:12وَأُلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
18:13اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
18:15سبحان اللہ انفاق پر
18:16اللہ کی رضا اور فلاح کی
18:18جو ہے وہ نوید یعنی خوش قبلی سنائی گئی
18:20سود کے بارے میں کیا ہے آگے فرمایا
18:23وَمَا آتَيْتُمِ رِبَلْ لِيَرْبُوا فِي أَمْوَالِمْ نَاس
18:26اور جو تم ربا میں سے دیتے ہو سود دیتے ہو
18:29تاکہ لوگوں کے مالوں میں اضافہ ہو جائے
18:31فَلَا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهُ
18:33تو وہ اللہ کی ہاں بڑھتا نہیں ہے
18:35اللہ اکبر
18:36عقل کیا کہتی ہے
18:37کسی سے ہم نے سو روپے لیے ادھار
18:39اور واپس یہ سود کے ساتھ ملا کر
18:41ایک سو دس سو مال بڑھ گیا کم ہو گیا
18:44عقل کیا رہی بڑھ گیا
18:45ڈجٹ کہہ رہے بڑھ گیا
18:46ایکاؤنٹس کہہ رہے بڑھ گیا
18:50اللہ کے نہیں بڑھتا
18:52اللہ اکبر
18:52اللہ تو یہ فرما رہے
18:54آگے سنیئے
18:55وَمَا آتَيْتُ مِنْ زَكَاةٍ
18:57اور تم جو زکاة میں سے دیتے ہو
18:58زکاة صدقات راہِ خدا میں خرش کرتے ہو
19:01تُرِیدُونَ وَجْهَ اللَّهُ
19:03تم چاہتو کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر لو
19:05فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضَعِفُونَ
19:07تو یہی لوگے جو بڑھانے والے ہیں
19:09زکاة دیتو صدقات دیتو بڑھ جاتا ہے
19:11عقل کیا کہتی ہے
19:12بھئی لاکھ روپے کسی کے پاس تھا
19:14دائی پرسنٹ اس نے زکاة نکال دی
19:16کتنا رہ گیا
19:17ساڑھے ستانوے ہدا
19:18نائنٹی سیون تاوزن فائیف ہنڈڈڈ
19:20عقل کیا کہتی ہے کم ہو گیا
19:21ایکاؤنٹس کیا بتاتے ہے کم ہو گیا
19:24عقل کو رکھے ایک طرف
19:25اللہ کیا فرما رہا ہے
19:26جو تم زکاة دیتے ہو
19:28اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے
19:30وہ بڑھانے والے ہیں
19:31سبحان اللہ
19:32سود عقل کہتی کہ بڑھ جاتا ہے
19:34زکاة دینے سے کم ہو جاتا ہے
19:35نہ
19:35اللہ فرماتے کہ سود سے ختم ہو جاتا ہے
19:37گھڑ جاتا ہے
19:38اور زکاة صدقہ سے بڑھ جاتا ہے
19:40رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید فرمایا
19:43سنیر بن ماجہ میں بھی روایت ہیں
19:45آپ نے فرمایا
19:46سود کا لازمی انجام مفلسی ہے
19:48اور زکاة و صدقہ سے مال کبھی کم نہیں ہوتا
19:51عقل نیچے نقل
19:53یعنی کتاب و سنت کی تعلیم اوپر رہے گی
19:55اللہ تعالیٰ سود کی ہر شکل سے بچائیں
19:58حلال پر اختفاق کرنے کی توفیق ہے
20:00اور اپنی راہ میں اللہ خرج کرنے کی توفیق عطا فرمائیں
20:02اس کے بعد اگلی اور آخری آیت
20:05جس کا ہم نے انتخاب کیا
20:06یہ سورہ روم کی آیت نمبر اکتالیس ہے
20:08سورہ روم کی آخری آیت کہہ رہے
20:10ابھی پروگرام جاری ہے انشاءاللہ تعالی
20:12سورہ روم کی آیت نمبر اکتالیس میں
20:14اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے
20:15کہ فساد کی وجہ کیا ہے
20:16لوگوں کی بد اعمالیاں
20:18ہم نے سنن کبوت میں بھی پڑھا تھا
20:20بیسے پارے میں
20:21کہ لوگوں پر قوموں پر عذاب کیوں آتے تھے
20:23میٹا فیزیکل کاؤزز کی وجہ سے
20:25وہی بات یہاں بھی آ رہی ہے
20:26سورہ روم آیت نمبر فورٹی ون اشاد ہوا
20:34خشکی میں و تری میں فساد مچ گیا
20:36لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے
20:39لیوذیقم بعض اللذی عمیلو
20:41تاکہ اللہ تعالی ان کے بعض اعمال کا انہیں مزہ چکھائے
20:45لعلہم یرجعون
20:46تاکہ وہ لوٹیں
20:47اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف
20:49خشکی تری میں فساد مچ گیا
20:51یہ زلزلے آ گئے
20:52طفان آ گئے
20:53سیلاب آ گئے
20:54اور اسی طرح شولے برسا دیئے گئے
20:58اللہ اکبر
20:58چہرے مسخ کر دیئے گئے
21:00بسیہ اُلٹ دیئے گئیں
21:01لوگوں کو اندھا بنات
21:02انسو اون
21:03یہ لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے
21:05لوگوں کی بدعمالیوں کی وجہ سے
21:07زمین پر عداب آتے ہیں
21:08اور یہ فساد مچتا ہے
21:09ہاں
21:10اللہ کی شان کریم
21:11اس سارے گناہوں پر نہیں پکڑتا
21:13ان کے بعض اعمال کا
21:14اللہ مزہ چکھائے
21:15بعض کا سب کا نہیں
21:16اس میں بھی حکمت کیا ہے
21:17لعلہم یرجعون
21:19تاکہ لوگ لوٹیں
21:19اللہ کے طرف
21:28اس نے یہ حریق ہے
21:28ساری کا معاملہ گیا
21:29فسیہ تباہ ہو گئی
21:30ایکانومی کا پٹہ بیٹھ گیا
21:31انسو اون
21:32یہ سب بھی کیا ہے
21:33ذرا سختی آئے گی
21:34تو نرب ہو جائیں گے دل
21:35لعلہم یرجعون
21:37تاکہ لوگ لوٹیں
21:38اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف
21:39تو یہ سختیاں
21:40اس لیے بھی آتی ہیں
21:41اور فساد
21:42بہرحال جو مچے کرتوتوں کی وجہ سے
21:44لوگوں کے
21:44مگر جو اللہ کی طرف سے آفاد
21:46اللہ کی طرف سے تنبیحات
21:48اللہ کی طرف سے وارننگز آتی ہیں
21:49اس کا بہت بڑا مقصد کیا ہے
21:51دل نرب ہو
21:52اور لوگ اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف
21:54رجوع کریں
21:54اللہ ہمیں دلوں کی نرمی عطا کرے
21:56دلوں کی سختی سے بچائے
21:57اور سچی پکی توبہ کرنے کی توفیق
22:00عطا فرمائے
22:00یہ چند آیات سورہ روم کے
22:02ہم نے آپ کے سامنے رکھی
22:02مطالعہ کتبار سے
22:03اب حاصل کلام کے حوالے سے
22:05ہم کچھ
22:06پیک اوی لیسنس آپ کے سامنے رکھنا چاہیں گے
22:08ہم نے سورہ عنقبوت
22:09اور سورہ روم کی چند منتخب آیات
22:11آپ کے سامنے رکھی
22:12چند نکات
22:12حاصل کلام کے طور پر
22:14سب سے پہلا نکتہ
22:15اس حوالے سے ہے
22:16رائے حق کی مشکلات پر
22:18صبر و استقامت کے لیے
22:19تلاوت قرآن
22:20نماز اور ذکر الہی کی تلقین کی گئی ہے
22:22جو لوگ اللہ تعالی کی راہ میں
22:24جہاد مسلسل کرتے ہیں
22:26ان کے لیے اللہ تعالی
22:27ہدایت کے راستے کھول دیتا ہے
22:29اللہ ہم سب کو ہدایت اتا فرمائے
22:31میاں بیوی کا رشتہ
22:33بہمی محبت
22:33اور ایک دوسرے سے راحت پانے کا ذریعہ ہے
22:36آج اس کو لوگوں نے
22:36زحمت بنا دینا جانے کیا کچھ
22:38اللہ ہمارے گھرانوں کو
22:39محفوظ فرمائے
22:41رشداروں اور مسکینوں
22:42اور مسافروں کے ساتھ
22:43حسے سلوک کرنا
22:43اللہ تعالی کو رازی کرنے کا ذریعہ ہے
22:46اللہ تعالی کے نزیق
22:48سوچ سے مال گھٹتا ہے
22:49اور زکاة و صدقہ دینے سے مال بڑھتا ہے
22:51اللہ ہمیں یقین اتا فرمائے
22:53اور آخری نکتہ ہے
22:54حاصل کلام کے طور پر
22:55خوشکی اور تری میں فساد برپا ہونا
22:57انسانوں کے آمال کا نتیجہ ہے
22:59یہ گناہوں کے نتیجہ ہیں
23:01میٹا فیزکین کاؤسس کی وجہ سے فساد مشتا ہے
23:03اللہ ہمیں گناہوں سے بچنے
23:04اور سچی توبہ کرنے کی توفیق
23:05اتا فرمائے
23:06ناظر کرام ایک وقفہ لیتے ہیں
23:08اس کے بعد
23:08اگلی سورہ سورہ لقمان کا مطالعہ
23:10انشاءاللہ شروع کریں گے
23:21زمین قرآن حکیم کے بیان کا سسنہ جاری
23:23آج ہم قرآن حکیم کے اکیس سپارے کا
23:26مطالعہ کر رہے ہیں
23:27وقفے سے پہلے آپ کے سامنے
23:28ہم نے قرآن حکیم کے اکیس سپارے کے
23:30تعلق سورہ انقبوت
23:31اور سورہ روم کی منتخب آیات کا
23:32مطالعہ پیش کیا
23:33آگے بڑھتے ہیں
23:34اب جو اگلی آیات ہیں
23:36اس پر سورہ لقمان کی پہلی آیت سے لے کر
23:38سورة الاحذاب کی آیت نمبر تیس تک کی آیات شامل ہیں
23:41یعنی اب سورہ لقمان مکمل شامل ہے
23:43کس سپارے میں
23:44پھر سورہ السجدہ مکمل شامل ہے
23:46کس سپارے میں
23:47اور پھر سورة الاحذاب کا آغاز ہوتا ہے
23:49اور اس کی آیت نمبر تیس تک کی آیات
23:52قرآن پاک کے اکیس سپارے میں شامل ہیں
23:54شروع کرتے ہیں مطالعہ سورہ لقمان کا
23:56سورہ لقمان
23:57سب سے پہلا نقطہ اس کے تعلق سے ہے
23:59کہ سورہ لقمان مکی صورت ہے
24:01نام سے ظاہر جناب لقمان کا ذکر آئے گا
24:03ابھی ہم ان کے حوالے سے بات آپ کے سامنے رکھیں گے
24:06سورہ لقمان مکی صورت ہے
24:08قرآن حکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کے
24:10اعصاف بیان کیے گئے ہیں
24:12کون لوگ قرآن پاک سے فائدہ اٹھائیں گے
24:14بار بار ہم قرآن پاک میں پڑھتے ہیں
24:16غیب پریمان رکھنے والے
24:17نماز قائم کرنے والے
24:18اللہ کرام خرج کرنے والے
24:20ایسے ہی اعصاف سورہ لقمان میں بھی
24:22آغاز میں بیان کیے گئے
24:23اللہ تعالیٰ نے عرب کے انتہائی معروف و معزز حکیم اور دانا شخص
24:28حضرت لقمان اور ان کی وسیعتوں کو ذکر فرمایا ہے
24:31عرب کے لوگ جناب لقمان سے واقف تھے
24:33اچھا ہمارے بھی کہتے نا
24:34اس مرس کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا
24:38یا حکیم سے برات حکمت اور دانائی
24:40وزڈم بالا ہونا
24:40تو عرب کے لوگ بڑے معروف طور پر ان کو جانتے تھے
24:44اچھی طرح جانتے تھے
24:45تو ان کی بڑی قیمتی وسیعتیں ہیں
24:47جنہوں نے بیٹے کو کی تھی
24:48یہ نبی نہیں تھے
24:50اور ایک رائے کے کسی نبی کے پیروکار بھی نہیں تھے
24:53شاید ان تک حق کی دعوت نہ پہنچ سکی
24:55مگر ایک سلیم الفطرت انسان تھے
24:58توحید پر کار بند تھے
24:59سبحان اللہ
25:00انہوں نے اپنے بیٹے کو کچھ وسیعتیں کی تھی
25:03جن وسیعتوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں
25:05قیامت تک کے نہیں محفوظ فرما دیا
25:07سبحان اللہ
25:08آگے لکھا ہے
25:09انہوں نے اپنی پوری زندگی کا حاصل
25:11چند بہت اہم وسیعتوں کی صورت میں
25:14اپنے بیٹے سے بیان کیا
25:16یعنی زندگی پر غور فکر اور حکمت جو ان کے پاس ہی
25:19اس کا حاصل
25:19ان کے بیٹے کو جو انہوں نے وسیعتیں فرمائیں
25:22اس کی صورت میں سامنے آ جاتا ہے
25:24صورت میں اللہ تعالیٰ کی توحید
25:26قدرت اور صفات کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے
25:29آخر میں
25:30اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت کا بیان ہے
25:33سبحان اللہ
25:34اللہ تعالیٰ کی توحید اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا تذکرہ
25:37اس صورت لقمان میں ہمارے سامنے آتا ہے
25:39صورت لقمان کے اس تعالف کے بعد چلتے ہیں
25:42چند منتخب آیات کے متعلق کی طرف
25:44سب سے پہلے جس آیت کا ہم نے انتخاب کیا
25:46وہ صورت لقمان کی آیت
25:48امبر اچھے ہے
25:49لحو الحدیث کا ذکر
25:50لحو کہتے ہیں بیکار بات کو
25:52اور سن لیجے کا توجہ سے
25:54حدیث لغوی طور پر کہتے ہیں بات کو
25:56جب ہم کہتے ہیں حدیث رسول
25:58تو رسول اللہ علیہ السلام کی بات
26:00اچھا قرآن پاک کو بھی احسن الحدیث کہا گیا
26:03بہترین بات
26:04قرآن پاک کو احسن الحدیث کہا گیا
26:06بہترین بات
26:07تو حدیث کا لغوی جو مفہوم ہے
26:09لٹرل جو میننگ ہے وہ بات کا ہے
26:11لحو الحدیث کے مطلب
26:12کھیل تماشے کی بات
26:13کیا مطلب آئیے سمجھتے ہیں
26:15صورت لقمان آیت نمبر چھے کی روشنی میں
26:18وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِ لَحْوَ الْحَدِيثِ
26:21اور لوگوں میں سے وہ بھی ہیں
26:22جو کھیل تماشے کی بیکار باتیں خریدتا ہے
26:25لِوَذِلَّ عَوْنَ السَّبِيلِ اللَّهِ بِغْرِ عِلْمِ
26:28تاکہ بغیہ سوچے سمجھے
26:29اللہ کے راستے سے روکنے اور گمراہ کرنے کی کوشش کرے
26:32وَيَتْتَخِضَهَا حُزُوَا
26:34اور اللہ تعالیٰ کے راستے کو وہ حسی مزاگ ٹھہراتا ہے
26:36معاذ اللہ
26:37اُلَائِكَ لَهُمْ عَذَابُ مُحِين
26:39ایسے لوگوں کے لئے زلت آمیز عداب ہے
26:42پس منظر کیا ہے
26:43نظر من حارس
26:45یہ مشکین کا ایک سردار تھا
26:47اور قرآن پاک کی دعوت کو روکنے کی کوششیں کرتا تھا
26:50شام اور عراق سے یہ کنیزوں کو خرید کر لے کر آیا
26:53اور اس نے ان کو معمور کیا
26:55کہ جہاں جہاں قرآن کی دعوت دی جا رہی ہو
26:57نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کی دعوت پیش کریں
27:01تم نے رخص و سرور کی محفرے سجانی ہیں
27:03تم نے کہا گانے باجے کی محفرے سجانی
27:05تاکہ لوگ تمہاری طرح متوجہ ہوں
27:07اچھا قرآن پاک نے کوئی اسپیسیفک بات نہیں کی
27:09میوزیک نہیں کہا گانا نہیں کہا
27:11اور کرکٹ نہیں کہا
27:13ماف کیجئے گا
27:14ہاں کرکٹ ویسے کیوں کھیلے کو ہرچ کی بات نہیں
27:16مگر کرکٹ میں جھوہ شامل ہو جائے
27:17سٹا شامل ہو جائے
27:19نماز زائیہ ہو جائے
27:20محباق حق پامال ہو جائے
27:21بے پردگی شروع ہو جائے
27:22فہاش اور یعنی شروع ہو جائے
27:23پھر تو بیڑا غرق ہو گیا نا کرکٹ کا
27:25ماف کیجئے گا بھئی
27:26اللہ نے سپیسیفک بات نہیں کہ
27:28لحول حدیث
27:28کھیل تماشے کی باتیں
27:30اور جو ہے وہ غافل کر دینے والی باتیں
27:33اب اللہ سے غافل کر دینے والی بات
27:35آخرت سے غافل کر دینے والی بات
27:37حقیقت زندگی سے غافل کر دینے والی بات
27:40جو بھی ہو
27:41وہ گفتگوں میں ہو
27:42وہ کھیل تماشوں میں ہو
27:43وہ گانے باجے میں ہو
27:44فلم اٹرامے میں ہو
27:45ناجگانے کسی شہے میں بھی ہو
27:47وہ سب اس کے ٹائٹل میں آئے گا
27:48یہ جو تھا نظر بن حارس
27:50یہ تو کنیزوں کو خرید کر لے کر آیا
27:52گانے بجانے کی محفل اس نے
27:53رخص و سرور کی محفل اس نے سجائیں
27:55کیوں تاکہ قرآن پاک سے روکا جائے
27:56آج بھی ایسا ہے کہ نہیں
27:58کھیل تماشوں میں لگا کر رکھو
28:00خورافات میں لگا کر رکھو
28:01خواب سے بیدار ہوتا ہے
28:03ذرا محکوم اگر
28:04خواب سے بیدار ہوتا ہے
28:06ذرا محکوم اگر
28:17ماہ رمضان میں بھی کرکڑ میں لگا دو
28:19اللہ اکبر کبیرہ
28:20کس سے روکا جا رہا ہے
28:21اللہ کی بات سے
28:22اللہ کے راستے سے
28:23قرآن پاک سے
28:24تو یہ تو نظر بن حارس کا کردار تھا
28:26ایسے ہی کردار دشمنان دین کا ہوا کرتا ہے
28:28کون لوگ ہیں
28:29لوگوں میں سے وہ بھی ہیں
28:30جو کھیل تماشے کی چیزیں خریدتے ہیں
28:33تاکہ بغیر سوچے سمجھے
28:34اللہ کے راستے سے گمراہ کرنے کی کوشش کریں
28:37اور اللہ تعالیٰ کے راستے کے انہوں نے کیا کیا
28:39حسی مزاق ٹھہرا لیا
28:40ایسے منکرین حق
28:42جو قرآن پاک کے دعوت سے روکے
28:43جو حق سے روکے
28:44فرمایا کہ
28:45اولائی کا لہم عذاب مہین
28:47ان کے لئے زلت آمیز عذاب ہے
28:49جو تیار کا رکھا ہے
28:50اللہ تعالیٰ نے
28:51اگلی آئے جس کا انتخاب کیا گیا
28:53سورہ لقمان کی آیت تنبر تیرہ
28:56شرک سب سے بڑا ظلم ہے
28:57اور یہاں سے وسیعتوں کا آغاز ہوتا ہے
29:07اور یاد کیجئے جب لقمان نے
29:08اپنے بیٹے سے کہا
29:10جبکہ وہ اپنے بیٹے کو واز و نصیت فرما رہے تھے
29:13یہ بڑا پیارا لفظ ہے
29:17بیٹے نہیں
29:20خوران پاک بتاتا ہے
29:22عذاب سکھاتا ہے
29:23اولا سے کیسے کلام کرنا ہے
29:24آج کیسے کیسے اولا سے بات ہو جائے کرتی ہے
29:26اللہ ہمیں معاف رکھے
29:27جناب لقمان نے کیا کہا
29:30اے میرے پیارے بیٹے
29:32لا تشرک باللہ
29:33اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا
29:38یقین الشرک سب سے بڑا ظلم ہے
29:39ظلم کہتے ہیں
29:42عربی میں کہتے ہیں
29:43کسی شیئے کو اس کے مقام سے ہٹا دینا
29:45شرک کرنے والا کیا کرتا ہے
29:46مخلوق میں سے کسی کو اٹھا کر اللہ کے برابر
29:48تو یہ ظالم ہے
29:49اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا
29:51اور معادلہ کبھی
29:52اللہ کے مقام بلن سے اس کو نیچے لاکر
29:54مخلوق کے ساتھ وابستہ کر دینا
29:55کمزوریہ وابستہ کر دینا
29:56استغفر اللہ
29:57تو شرک کیا ہے
29:58سب سے بڑا ظلم ہے
30:00اور شرک ناقابل معافی جرم ہے
30:02قرآن پاک میں
30:03سورہ نیسا آیت نمبر 48
30:06اور سورہ نیسا ہی میں آیت نمبر 101 میں ہے
30:09بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں فرمائے گا
30:13کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے
30:15ہاں
30:15توبہ کر کے اسلام میں داخل ہو جائے
30:17تو سچی بات ہے
30:18اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا
30:19لیکن شرک ناقابل معافی جرم ہے
30:21توبہ کے بغیر اس کی معافی نہیں ہے
30:23یہاں بتایا گیا
30:26یقین الشرک سب سے بڑا ظلم ہے
30:28اگلا مقام جس کو ہم نے منتخب کیا
30:30وہ سورہ لقمان کی آیت نمبر 17
30:32اصلاح معاشرہ کی ذمہ داری
30:34اکیلہ کے لئے نیکی نہیں کرنی
30:36معاشرے کی بھی ذمہ داری ہم پر ڈالی گئی ہے
30:38اور یہی وسیعت جناب لقمان نے
30:40اپنے بیٹے کو کی آئیے
30:42اس آیت کا مطالق کریں
30:43سورہ لقمان آیت نمبر 17
30:46یا بنیہ اے میرے پیارے بیٹے
30:48اقیم الصلاح نماز قائم کرنا
30:50وعمر بالمعروفی معروف کا حکم دینا
30:53ونہانی المنکر اور منکر سے روکنا
30:55واسبر علا ماہ السابق
30:58اور جو مصیبت تم پر آئے
31:00آزمائش تم پر آئے
31:01اس پر صبر کرنا
31:02اِنَّ ذَالِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ
31:05یقین ہے یہ بڑی ہمت والے کاموں میں سے ہے
31:07چار باتیں
31:08نماز قائم کرنا
31:09زیادہ تفصیل میں نہیں چاہرے
31:10مگر ہم پر تو نماز فرد ہے
31:12ہمیں معلوم ہے
31:13سب کو معلوم ہے
31:14پانچ وقت کی نماز روزانہ فرد ہے
31:15مقرر اوقات میں
31:17اور نماز سے آگے بڑھ کر
31:18نیکی کا حکم دینا
31:19بدی سے روکنا
31:20یہ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے
31:22ہم نے بار بار پڑھا
31:23سورہ المران آیت امبر
31:25ایک سو دسی امت
31:26خیر امت خیر امت کیوں ہیں ہم
31:27تأمرونا بالمعروف
31:29و تنہونا عنی المنکر
31:30تم معروف کا حکم دوگے
31:31تم بدی سے روکو
31:32کہ اس کام کے لئے
31:33امت کو کھڑا کیا گیا
31:34یہ بس یہ جناب العقمان
31:35اپنے بیٹے کو کر رہے ہیں
31:36اچھا
31:37جب نیکی کے دعوت دیں گے
31:38بدی سے روکیں گے
31:39لوگوں کو متوجہ کریں گے
31:40تو لوگوں کو
31:41کبھی کبھی برا بھی لگے گا
31:42مخالفت بھی ہوگی
31:43پھر کیا ہوگا
31:44مصیبتیں آئیں گی
31:45آزمائشیں آئیں گی
31:46مخالفت ہوگی
31:47پھر کیا کرنا ہے
31:48وَسْبِنْ عَلَى مَا
31:49اصابق
31:49اور جو مصیبت
31:50تم پر آئے
31:51جو کچھ تم پر بیٹے
31:53آزمائش آ جائے
31:53سبر کرنا
31:54آسان کام نہیں ہے
31:56چنانچہ آگے فرمایا
31:57اِنَّ ذَالِكَ مِنْ عَزْمِ الْعُمُورِ
31:59بیشے کی بڑی ہمت کے کاموں میں سے
32:01اللہ تعالیٰ ان ہدایات پر
32:02ہمیں عمل کرنے کی توفیق
32:03عطا فرمائے
32:04اس کے بعد اگلی اور آخری آئیت
32:06سوری لقمان میں سے
32:07جس کا میں انتخاب کیا ہے
32:08وہ سوری لقمان کی آئیت
32:09نمبر تیس ہے
32:10ہر شخص خود جواب دے ہوگا
32:12قیامت میں
32:13ہر ایک کو اپنا جواب
32:14خود پیش کرنا ہے
32:15اللہ تعالیٰ ہم سب کے حساب
32:16کو آسان فرمائے
32:17بڑا ہلا دینے والا ایک مقام ہے
32:19سوری لقمان آئیت
32:20نمبر تریڈی تری
32:21ارشاد ہوا
32:22یا ایہو ناس تقو ربکم
32:24اے انسانو اپنے رب کا
32:25تقوی اختیار کرو
32:26وخشو یوم اللہ
32:28یجزی والدن او حلدی
32:30اور اس جن سے ڈرو
32:31جب باپ بیٹے کی جگہ
32:33جواب دے نہیں ہوگا
32:34وَلَا مَوْلُودُنْهُوَ جَازِنْعَوْ وَالِدِهِ شَيْعَا
32:38اور نہ ہی بیٹا
32:39باپ کی جگہ جواب دے ہوگا
32:40باپ نے اپنا جواب دینا ہے
32:42اور بیٹے نے اپنا جواب دینا ہے
32:44سوری مریم آئیت نائنٹی فائف میں
32:46ہم نے پڑھا
32:46وَكُلُّهُمْ آتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَتِ فَرْدَا
32:49ہر ایک اکیلے اکیلے اللہ کے سامنے پیش ہوگا
32:51ہر ایک نے اپنا جواب دینا ہے
32:53اللہ آج موت کے آنے سے پہلے
32:55بہنے محلت ہے
32:56ہمیں کل کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے
32:58اور اللہ ہمارے اس حساب کو آسان فرمائے
33:00ایک اور اہم بات
33:01اِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقُ
33:03بے شک اللہ کا وعدہ پکا ہے
33:05سچا ہے
33:06فَلَا تَغُرَنَّكُمُ الْحَيَاتُ الدُّنِيَا
33:09دیکھو یہ دنیا کی زندگی
33:10تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے
33:11اس کے جال میں پھسنا جانا
33:13جگہ دل لگانے کی یہ دنیا نہیں ہے
33:15یہ عبرت کی جا ہے
33:16تماشا نہیں ہے
33:17تو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے
33:19کہ اسی دنیا کو سب کچھ سمجھ کر
33:20اسی کے اندر لگے رہو
33:21اور سورے کحاف کے آخر میں ہم کیا پڑھتے ہیں
33:23سب سے بڑھ کر خسارہ پانے والے کون لوگ ہیں
33:25جن کی ساری کوششیں دنیا ہی کمانے میں لگ گئیں
33:28اللہ معاف رکھے
33:29وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورِ
33:32اور بہت بڑا دھوکے باس
33:33شیطان تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے
33:36غرور یہ شیطان کے لئے بہت بڑا دھوکے باس
33:39کیا کہتا ہے
33:40اللہ بڑا رحمان و رحیم ہے
33:41کیے جاؤ گناہ کی
33:42استغفر اللہ
33:43اللہ رحمان ہے
33:44رحیم ہے
33:45وہ مالک یہ امیدین بھی تو ہے
33:47اللہ تعالی رحمت فرمانے والا ہے
33:49کوئی شک نہیں
33:50اس کی رحمت بہت بہت بہت وسیع ہے
33:51مگر اللہ
33:52سریع الحساب بھی تو ہے
33:54جل حساب لینے والا
33:54شدید انعقاب بھی تو ہے
33:56شدید سزا دینے والا
33:57عزیز ان ذم تقام بھی تو ہے
33:59کل غلبہ رکھنے والا
34:00یہ پہلو شیطان سامنے ہانے نہیں دیتا
34:02اللہ کی رحمت کی امید بہت رکھنی ہے
34:04اور اللہ کی پکڑ کا خوف بھی رکھنا ہے
34:06یہ ایمان کی کیفیت ہے
34:08حدیث مبارک کا ذکر پہلے بھی آتا رہا
34:12ایمان خوف اور امید کے درمیانی کیفیت کا نام ہے
34:15دیکھو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں مبتلہ نہ کر دے
34:18اور بہت بڑا دھوکے باس
34:20شیطان تمہیں دھوکے میں مبتلہ نہ کر دے
34:22اللہ آخرت کی تیاری کی توفیق دے
34:24دنیا کی چنگل سے ہمیں معفوظ رکھے
34:26اور شیطان کے دھوکوں سے
34:28اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے
34:30سورة اقمال کے بعد قرآن پاک 21 پارے میں
34:32سورة سجدہ ہے
34:33آئیے اس کے تعریف کے حوالے سے چند مختصر باتیں
34:36آپ کے سامنے رکھتے ہیں
34:37سورة سجدہ مکی صورت ہے
34:40نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
34:42کو اس صورت سے خاص محبت تھی
34:44بڑا خاص پہلو اس میں
34:45اگلا نوٹ کیجئے گا
34:47آپ صلی اللہ علیہ وسلم
34:49جمعہ کے دن فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں
34:52سورة سجدہ اور دوسری رکعت میں
34:54سورة دہر کی تلاوت فرماتے
34:56یہ جمعہ کے دن کی جو فجر کی نماز سے خاص اعتمام ہوتا
34:59پہلی رکعت میں سورة سجدہ کی تلاوت حضور فرماتے
35:02صلی اللہ علیہ وسلم
35:03اور اس کا نام سورة سجدہ اس بجے سے بھی ہے
35:05کہ اس میں ایک آیت سجدہ بھی موجود ہے
35:08اور فجر میں
35:09یعنی جمعہ کے دن فجر کی نماز میں
35:11دوسری رکعت میں
35:1129 پارے کی سورة دہر
35:13اس کی بھی تلاوت نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے
35:16اس صورت میں قرآن حکیم کو ماننے کی دعوت دی گئی ہے
35:19توہید اور آخرت کے دلائل بیان کیے گئے ہیں
35:22مستقل مکی سورتوں کے مدامین
35:24سورہ سجدہ میں بھی ہمارے سامنے آتے ہیں
35:26موسیٰ علیہ السلام کا اور بنی اسرائیل کا تذکرہ بھی مختصرا
35:29سورت السجدہ میں آیا ہے
35:31اگلا اور آخری نکتہ ہے
35:32سورہ سجدہ کے تعرف کے حوالے سے
35:34منکلی نے قیامت کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے
35:37نے اس قیامت کے دن
35:38مؤمنوں اور مجرموں کے انجام کا تذکرہ کیا گیا ہے
35:42تو گویا کہ
35:42مستقل توہید کے مضامین
35:44اور آخرت کے مضامین
35:46اور قیامت کے دن کی کیفیات
35:47جو مکی سورتوں میں آئی ہیں
35:48وہ سورہ سجدہ میں بھی ہمارے سامنے آتے ہیں
35:51یہ ہوا تعرف سورت السجدہ کا
35:52اس کے بعد سورہ سجدہ کی ایک ہی آیت کا
35:55ہم نے انتخاب کیا ہے
35:56متعلق اعتبار سے
35:58اور وہ ہے سورہ سجدہ کی آیت نمبر بائیس
36:01آیاتِ الٰہی سے اعراض کا انجام
36:04اللہ تعالیٰ کی آیات کو فراموش کرنے والے
36:06اللہ تعالیٰ کے قرآن کو نظر انداز کرنے والے
36:08کیا حشر ہوگا
36:09ان کا بہت سخبات آ رہی ہے
36:11سورت السجدہ کی آیت نمبر بائیس اشاد ہوا
36:14وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآیَاتِ رَبِّهِ
36:17اور اسے بڑھ کر ظالم کون ہوگا
36:19جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے سے نصیت کی گئی
36:23ثُمْ أَعْرَدْ عَنْهَا
36:24پھر وہ اسے اعراض کر بیٹھا
36:26فراموش کر دیا
36:27نظر انداز کر دیا
36:28اگنور کر دیا
36:28پسے پوش ڈال دیا
36:29آگے الفاظ بڑے سخت ہیں
36:31اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ
36:34بے شک ہم مجرمین سے انتقام لینے والے ہیں
36:37اللہ اکبر
36:38اور یہ باتیں بار بار ہم نے قرآن پاک میں پڑھیں
36:40نظر انداز کرتے ہو قرآن پاک کو
36:42تمہیں نصیت کی جاری ہے
36:43اللہ تعالیٰ کے کلام سے
36:47نظر انداز کرتے ہو پسے پوش ڈالتے ہو
36:49اللہ معفوظ رکھے
36:51آج ہمارے پاس قرآن پاک ہے
36:52اور الحمدللہ خلاصہ مزامین قرآن حکیم کی صورت میں
36:56چند آیات کا مفہوم تو ہمارے سامنے آ رہا ہے
36:58اللہ اس قرآن پاک کو دنیا کی سب سے بڑی دولت سمجھتے ہوئے
37:01ہمیں اسے تھامنے کی توفیق عطا فرمائے
37:04اور اعراض کرنا
37:05غافل ہو جانا
37:06پسے پوش ڈال دینا
37:07اگنور کر دینا
37:08نظر انداز کر دینا
37:09اللہ اس سے معفوظ رکھے
37:11جسے قرآن کی آیات سے نصیت ملی
37:13پھر فراموش کر دے
37:14اللہ فرماتا ہے
37:15ان مجرموں سے منتقام لینے والے ہیں
37:17اللہ تعالی انتقام لینے پر آئے
37:19کوئی بچا سکے گا
37:20اللہ تعالی اس بنے انجام سے معفوظ رکھے
37:22خدا نے پاک سے تعلق کی مصموطی
37:24اور اسے سمجھنے
37:25اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی
37:27ہمیں توفیق عطا فرمائے
37:28سورت السجدہ کے بعد
37:30اکیس سے پارے کے آخر میں
37:32سورت الاحذاب کا آغاز ہوتا ہے
37:34اور تکمیل پھر بائیسے پارے میں ہوتی جا کر
37:36سورت الاحذاب کے تعارف کے حوالے سے
37:39کچھ باتیں آپ کے سامنے رکھتے ہیں
37:41تعارف کے زیر میں
37:42سورت الاحذاب کے حوالے سے پہلا نکتہ
37:44سورت الاحذاب مدنی صورت ہے
37:46سورت النور اٹھاروے پارے میں
37:48مدنی صورت تھی
37:49اب اس کے بعد ایک اور مدنی صورت
37:51اب آ رہی ہے
37:52ایک کس پارے کے اختیام پر
37:53سورت الاحذاب
37:54اس کا نزول سن پانچ ہجری میں ہوا
37:56نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
38:00کی شان و عظمت کا تذکرہ ہے
38:01غزو اعذاب پر مفصل تفسرہ کیا گیا
38:04غزو اعذاب جس کو ہم
38:05غزو خندق بھی کہتے ہیں
38:07انگلیش بیٹل آف ٹرنچز کہا جاتا ہے
38:09جب خندق ایک ہو دی گئی تھی
38:10اس پر ایک مفصل تفسرہ
38:12سورت الاحذاب میں ہمارے سامنے آتا ہے
38:14سچے اہل ایمان و منافقین کے کردار کو بیان کیا گیا
38:17یہی انداز سورہ نور میں بھی تھا
38:19سچے ایمان والوں کا طرز عمل
38:20اور منافقین کا طرز عمل
38:22یہی بات سورہ اعذاب میں آئے گی
38:23سچے ایمان والوں کی کیفیان
38:25اعذاب کے موقع پر کیا تھی
38:26اور منافقین کا طرز عمل کیا تھا
38:29ایک کانٹراسٹ اور بلکہ کمپیرزن کے طور پر
38:31اس کو بیان کیا گیا
38:33معاشرتی زندگی اور پردے سے متعلق احکامات کا تذکرہ ہے
38:36سورہ نور میں بھی پردے کے احکامات کا بیان تھا
38:38مگر وہاں کیا تھا
38:39گھر کے اندر کا پردہ
38:41سورہ اعذاب میں گھر سے باہر کا پردہ
38:43خاتون گھر سے باہر نکلے
38:44تو اس کے لباس کی کیفیت کیا ہوگی
38:46اس کو ہم انشاءاللہ بائیس پارے میں مزید سمجھیں گے
38:49تو معاشرتی زندگی اور پردے سے متعلق احکامات کا تذکرہ بھی
38:53سورہ اعذاب میں ہے
38:54خواتین کے لئے اہم ہدایات کا ذکر
38:56ان کے صفات کا تذکرہ بھی ہے
38:58اور ان سے متعلق کچھ امور کو بھی
39:00اللہ تعالی نے بیان کیا
39:01یوں معاشرتی ہدایات کے اتبار سے
39:03پردے کے احکامات کے بارے میں
39:04خواتین کے بارے میں
39:05اہل ایمان کے صفات کے حوالے سے
39:07منافقین کے طرز عمل کے حوالے سے
39:09اور غزو اعذاب کے حوالے سے بہت کچھ ہے
39:11جو سورہ اعذاب میں بیان کیا گیا ہے
39:14یہ سورہ اعذاب کا ہوا تعرف
39:16اب آئیے چند منتخب آیات کا مطالعہ
39:18ہم آپ کے سامنے رکھتے ہیں
39:19سب سے پہلے جس آیت کے انتخاب کیا گئے
39:21سورہ اعذاب کی آیت امبر چھے
39:24نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
39:26اور ازواج متحرات
39:27رضی اللہ تعالی عنہن اجمعین
39:29کا مقام بہت پیارا مقام ہے
39:31اور ایمان والوں کے حوالے سے
39:33بڑی قیمتی بات آ رہی ہے
39:34سورہ اعذاب آیت امبر چھے
39:36اشاد ہوا
39:37النبی اولا بالمؤمنین من انفسہن
39:40نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
39:43اہل ایمان کے نزیق
39:45ان کی جانوں سے بڑھ کر مقدم ہیں
39:47محترم ہیں
39:48و ازواج امہاتہم
39:50اور آپ کی ازواج متحرات
39:52وہ امت کی مائیں ہیں
39:53پہلی بات
39:54ایمان والوں کے ایمان کا تقادہ کیا ہے
39:56ہمارے تبار سے
39:57ایک پہلو
39:58ہم اپنی جانوں سے بڑھ کر
40:00اللہ کے رسول علیہ السلام سے
40:01محبت کریں
40:02ہمارے نزیق
40:03ہماری جان سے بڑھ کر
40:04احمیت ہو
40:05رسول کرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
40:07ایک اور ترجمانی یہ کی گئی
40:09ہم کہتے ہیں نا بھئی
40:10ہمارے اختیار ہے
40:11جی میں اس وقت سوتا ہوں
40:12اس وقت جاگتا ہوں
40:13میں یہ کھاتا ہوں
40:13میں وہ پیتا ہوں
40:14حلال کی بات ہو رہی
40:15حرام تو منع ہے
40:16لیکن یہ ہمارے اختیار
40:18ہمارے وجود پر
40:19تصرف اور استعمال کا اختیار
40:21نہیں
40:25نبی علیہ السلام
40:26اہل ایمان کی جانوں پر
40:27ان ایمان والوں سے
40:29بڑھ کر اختیار رکھتے ہیں
40:31بات واضح ہو رہی
40:32نبی علیہ السلام
40:33ایمان والوں پر
40:34ان کی جانوں سے
40:35بڑھ کر اختیار رکھتے ہیں
40:37جو چائیں حکم دے
40:38اللہ اکبر کبیرہ
40:39وَأَزْوَاجُ اُمَّهَا تُمْ
40:41وَرَابْ صلی اللہ علیہ وسلم کی
40:43ازواج متحرات
40:45امت کی ماں ہیں
40:46امت کی ماں ہیں
40:47تو ان سے نکاح حرام ہے
40:48البرتہ پردے کے احکامات
40:50سبحان اللہ
40:51اسی سورہ عذاب میں
40:52بعد میں چل کر
40:52پردے کے احکامات کا ذکر
40:54آئے گا
40:54بائیس میں پارے میں
40:55انشاءاللہ تعالی
40:56ہاں وہ امت کی ماں ہیں
40:57ان سے نکاح حرام ہیں
40:58مگر انہوں نے
40:59پردے کے احتمام کیا
41:00امت کی افراد سے
41:01امت کی ماں نے
41:02پردے کے احتمام کیا
41:04تو عام عورتوں کو
41:05پردے کے احتمام کے
41:06حوالے سے کس قدر
41:07احتمام کرنے چاہئے
41:09اندازہ کیا جا سکتا ہے
41:12اگلی آج جس کا
41:13ہم نے انتخاب کیا
41:14سورہ عذاب میں سے
41:15وہ سورہ عذاب کے
41:15ایکے سے بہت
41:17مشہور آیت کریمہ
41:18اصوہ حسنہ کا تذکرہ
41:20اشاد ہوا
41:20سورہ عذاب آیت میں
41:22ایک قسم میں
41:27رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں
41:29بہترین نمونہ موجود ہے
41:37مگر کس کے لئے
41:40اس کے لئے جو
41:41اللہ اور آخرت کے دن کی
41:42ملاقات کے امید رکھتا ہو
41:44وذکر اللہ کثیرہ
41:46اور وہ کسرہ سے
41:47اللہ تعالی کا ذکر کرنے والا ہو
41:48جی آخرت سامنے ہوگی
41:50تو جواب دے کے احساس ہوگا
41:51جواب دے کے احساس ہوگا
41:53تو بندہ اللہ کی رضا کے حصول کی کوشش کرے گا
41:55اللہ کی پسندیدہ باتوں کو اختیار کرے گا
41:57اور اللہ کی نا پسندیدہ باتوں کو رد کرے گا
42:00اب اللہ کیا پسند کرتا ہے
42:02کس بات کو نا پسند کرتا ہے
42:03اللہ کو رازی کیسے کرے
42:04اصوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا
42:07آخرت پیش نظر نہ ہو
42:09تو کچھ معلومات میں اضافہ ہو جائے گا
42:11عملا فائدہ نہ ہو
42:12بہت سارے غیر مسلم مصنفین ہیں
42:14بڑی امدہ کتابیں
42:16انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھ دیں
42:18لیکن آخرت پر ایمان نہیں
42:21تو معلومات مل گئی
42:22ہدایت نہیں ملی
42:22ہاں آخرت پیش نظر ہوگی
42:24تو اصوہ حسنہ سے عملا فائدہ ہوگا
42:27اللہ ہمیں آخرت کا یقین اطاف فرمائے
42:29اچھا
42:30یہ آیت ہے سور آزاب کی آیت نمبر اکیس
42:32اس سے پہلے رکو نمبر دو ہے
42:34سور آزاب کا
42:35اور پھر یہ رکو نمبر تین کے شروع میں
42:36سور آزاب کی آیت نمبر اکیس
42:38یہ دو رکو
42:39سور آزاب کا رکو نمبر دو اور تین
42:41اس میں اللہ تعالی نے غزب آزاب کا ذکر کیا
42:44غزب آزاب کے موقع پر
42:45ایک مہینے تک کفار و مشکی نے محاصرہ کیا
42:48مدینہ شریف کا
42:49نبی علیہ السلام نے خود بھی کودالے چلائی
42:51نبی علیہ السلام نے خود بھی خندقوں کے کھودنے میں حصہ ڈالا
42:55آپ نے بھوک اور مشقت کو برداشت کیا
42:57یہ ساری محنت آپ نے برداشت کی
42:59آپ کے پیارے صحابے اکرام نے برداشت کی
43:01آزاب کا موقع کیوں آیا
43:02حق و باطل کے مارکے کے دوران میں
43:05جب دس ہزار سے بڑا لشکر آگے
43:07اکوفار کا تو دفاع کرنا تھا
43:09تو خندقے کھودی گئی
43:10اس موقع پر یہ آیت آ رہی
43:11اللہ کے رسول علیہ السلام کا
43:13اسوہ نماز کے لیے بھی ہے
43:14روزے کے لیے بھی ہے
43:15گھرگر غستی کے معاملات کے لیے بھی ہے
43:17میت کے اعتبار سے نکاح کے اعتبار
43:19ساری زندگی کے لیے
43:20ہاں تئیس برس کا اس وقت
43:22کہاں دکھائی دیتا ہے
43:23تئیس برس کی سنت کیا ہے
43:24تئیس برس کی محنت کیا ہے
43:26یہ بھی تو یاد رکھیں
43:27دعوت دین کی محنت
43:28اقامت دین کی جد و جہود
43:30اللہ کے زمین پر
43:31اللہ کے دین کے نفاس کا معاملہ
43:32سورة توبہ کی آیت امت تیتیس میں
43:34ہم نے پڑھا
43:35لِيُذْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ
43:37کیا مشن تھا نبی علیہ السلام کا
43:38اللہ کے زمین پر
43:39اللہ کے دین حق کو غالب
43:41اور نافذ کر کے آپ دکھائیں
43:42اس جد و جہود کے دوران میں
43:43بدر بھی ہے
43:44اہود بھی ہے
43:44احضاب کا موقع
43:46اب یہ آئے سمجھیں
43:47لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ
43:49اُسْوَةٌ حَسَنَا
43:50یقیناً تمہارے لئے
43:51رسول اللہ علیہ السلام کی زندگی میں
43:53بہترین نمونہ موجود ہے
43:54مصواہ کرنا مبارک
43:55خوش بلگانا مبارک
43:56اور بالوں میں کنگی کرنا مبارک
43:59سبحان اللہ
44:09خون اتھر بھی بہا
44:10اللہ کی راہ میں
44:11اس کے دین کے جد و جہود کے دوران میں
44:12اور اسی دوران میں
44:14ہجرت مدینہ کا معاملہ بھی پیش آیا
44:16تو تئیس ورس کی سنت بھی تو سامنے رہے
44:18لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ
44:21اُسْوَةٌ حَسَنَا
44:21یقیناً تمہارے لئے
44:23رسول اللہ علیہ السلام کی زندگی میں
44:24بہترین نمونہ موجود ہیں
44:25لِمَنْ كَانَ يَرْجُ اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ
44:28وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا
44:29اس کے لئے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن کے امید
44:32رکھتا ہوں ملاقات کی
44:33اور کسرے سے وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہو
44:36اس کے بعد سورہ عذاب کی اگلی دو آیات
44:38جو ہم نے انتخاب کیا
44:39وہ آیات ہیں سورہ عذاب آیت
44:41امبر بائیس اور تئیس
44:42غزوِ عذاب کے موقع پر
44:44جب دس ہزار سے بڑا لشکر کفار و مشکین کا حملہ آور ہوا
44:47مدینہ شریف پر
44:48تو اس موقع پر بڑی آزمائی سے ایمان والوں کو گدارا گیا
44:51سچے ایمان والوں کا طرز عمل کیا تھا
44:53آئیے سمجھتے ہیں
44:54رائحق میں اہلِ ایمان کا طرز عمل
44:56سورہ عذاب آیت امبر بائیس اور تئیس
44:59وَلَمَّا رُعَ الْمُؤْمِنُونَ الْأَعْزَابِ
45:01اور جب ایمان والوں نے گروہوں کو دیکھا
45:03یعنی کفار و مشکین کے لشکر کو دیکھا
45:05قَالُوا هَادَ مَا وَعَادَنَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
45:08انہوں نے کہا یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ
45:10اللہ اور اللہ کے رسول نے فرمایا
45:11وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
45:13اور سچ فرمایا اللہ نے اور اللہ کے رسول علیہ السلام نے
45:16وَمَا زَادَهُمْ اِلَّا ایمَانُ وَتَسْلِيمًا
45:19اور اس کیفیت ہے تو ان کے ایمان میں اور
45:21ان کی تسلیم یعنی اللہ کے سانے
45:23جھک جانے کی کیفیت میں اضافہ ہی کر دیا
45:26سبحان اللہ
45:27اس سے پچھلی آیات میں منافقین کا طرز عمل
45:29ہم تو مارے گئے ہم سے تو جھوٹے وعدے کیے گئے
45:32ہمیں تو کہادہ کے محلات ملیں گے
45:33یمن کے شام کے محلات ملیں گے
45:35کسرہ کے کنگن ملیں گے ہم سے تو جھوٹ گا
45:37معاذ اللہ یہ تو جھوٹے دعویت تھا
45:39کہ منافقین ایمان کے ان کا ذکر ہوا
45:41سچے ایمان والے کہتے ہیں
45:42اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا
45:44یہ تو وہی جو اللہ اس کے رسول نے وعدہ فرمایا
45:46ہمیں بتایا کہ اللہ کے ہمیں مشقت آئیں گے
45:48آزمائش آئیں گی
45:49سورة البقرہ آیت امور 155
45:52وَلَنَا بُلُمَنَكُمْ مِشَيِّ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْسِمْ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَارَاتِ
45:57اور ہم ضرورت ہمارے آزمائش کریں گے
45:59کسی قدر خوف اور بھوک کے ذریعے
46:01اور جان مال اور سمران
46:03یعنی پیدوار کے نقصان کے ذریعے
46:04وَمَشْشِلِ الصَّابِرِينَ
46:06اور اے نبی علیہ السلام
46:07صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیجئے
46:08یہ سب مجھ دیکھ کر ان کے ایمان کے
46:10اور اللہ کے سامنے جھکنے کی کیفیت میں اضافہ ہو گیا
46:12ایمان عجیب دولت ہے خودصورت دولت ہے
46:15بڑی قیمتی دولت ہے
46:16یہ مشقت جھیلنے کا موقع آرہا
46:18ایمان بڑھ رہا ہے
46:19سبحان اللہ
46:20مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَارُونَ صَدَقُ مَا عَاهَدُ اللَّهَ عَلَيْهِ
46:24ایمان والوں میں سے وہ جواب مرد بھی ہیں
46:26کہ جو انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا
46:28انہوں نے پورا کیا کون ہے وہ
46:29فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ
46:31ان میں سے کچھ اپنی نظر پوری کر چکے
46:33راہِ خدا میں جان کا نظر آنا پیش کر چکے
46:35وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِر
46:37اور ان میں سے کچھ منتظر ہیں
46:39کہ جامع شہادت نوش کرنے کا موقع آئے
46:41اور ہم راہِ خدا میں جان پیش کرنے
46:42اللہ اکبر
46:43وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا
46:45اور انہوں نے اپنے اس نظر کے معاملے میں
46:48ذرا بھی تبدیلی نہیں کی
46:49سب کچھ راہِ خدا میں پیش کرنے کے لیے تیار
46:51میری زندگی کا مفسد تیرے دیگ کی صرف ارازی
46:54میں اسی لیے مسلماء
46:56میں اسی لیے نمازی
46:57الحمدللہ قرآن پاک کے 21 پارے کی چند صورتیں
47:01جو ہیں ان کی منتخب آیات کا مطالعہ
47:03ہم نے آپ کے سامنے رکھا
47:04آخر میں حاصل کلام رکھنا چاہیں گے آپ کے سامنے
47:08دشمنان دین
47:09کھیل تماشوں کی باتوں میں لگا کر
47:10لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں
47:14یہ دین دشمنوں کا انداز ہے
47:16ہمیں قرآن پاک سے جڑنا ہے
47:18اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے
47:19شرک سب سے بڑا ظلم ہے
47:20ہمیں ہمیشہ ہر قسم کے شرک سے بچنا چاہیے
47:23اللہ ہم سب کی افادت فرمائے
47:24حکمت و دانائی کا تقادہ ہے
47:26کہ اللہ تعالیٰ سے لو لگائی جائے
47:28بھلائی کا حکم دیا جائے
47:30برائی سے منع کیا جائے
47:31اور اگر مسائب آئیں
47:33تو ان پر صبر کیا جائے
47:35حکیم لقمان کی وسیعت ہے اپنے پیارے بیٹے کو
47:37ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈڑتے رہنا چاہیے
47:40اور دنیا کی دھوکے سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے
47:42کیونکہ محض دنیا کی کامیابی ایک دھوکہ ہے
47:45جبکہ اصل کامیابی آخرت میں کامیاب ہونا ہے
47:47قلعان حکیم سے اعراض کرنے والے مجرم ہیں
47:50اللہ تعالیٰ ان سے انتقام لے گا
47:52اللہ اس بلے انجام سے ہمیں معفوظ رکھے
47:54آپ صلی اللہ علیہ وسلم
47:56اہل ایمان سے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب
47:59اور ان کی جانوں پر خود ان سے بھی زیادہ
48:01حق تصرف اور اختیار رکھتے ہیں
48:05رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
48:07اپنے تمام اقوال افعال اور احوال کے لحاظ سے
48:11زندگی کے انفرادی اور اجتماعی
48:12تمام گوشوں کے لئے بہتری نمونہ ہیں
48:15اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ تمام معاملات میں
48:17آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو سامجے رکھیں
48:20اور اسوہ حسنہ کی پیروی کریں
48:22اللہ تعالیٰ ہم اس کی توفیق اطاف فرمائے
48:24مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے سے
48:26سچے اہل ایمان کا جذبہ ایمان
48:29اور شوق اطاعت بڑھ جاتا ہے
48:31اللہ ایمان کی کیفیت ہم سب کو بھی
48:33اطاف فرمائے
48:34مخلص اہل ایمان
48:35اللہ تعالیٰ سے کی ہوئے آہد اور وعدے پورے کرتے ہیں
48:38اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی بھی قربانی سے
48:40دریغ نہیں کرتے
48:41ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت حاصل کر چکے ہیں
48:45اور بعض یہ سعادت حاصل کرنے کے انتظار میں
48:48اللہم مرزقنا شہادتاں فی سبیلک اے اللہ
48:50ہمیں اپنی راہ میں شہادت کا رتبہ عطا فرما
48:53آخر میں حضیث رسول پیش خدمت ہیں
48:56فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
48:58رسول اللہ علیہ السلام نے فرمایا
49:01قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی
49:03اور حکمت بھرا ذکر ہے
49:05جامعہ تنمیزی شریف کی روایت
49:07حکمت بھرا ذکر ہے
49:08اور قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی
49:10جسے تھامنے کا حکم ہے
49:11اللہ ہمیں قرآن پاک کو تھامے رہنے
49:13اور اس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے
49:16آمین یا رب العالمین
49:17وآخر دعوانا
49:18ان الحمدللہ رب العالمین
49:19والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments