- 5 hours ago
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00Allah'a ta'a kalamu pardha ya Rasul ne
00:04Asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
00:09Nakhmeduhu wa nussalli ala Rasulhi al-karim
00:12Amma ba'd
00:13Aaudhu billahi min ashshaytanirajim
00:15Bismillahirrahmanirrahim
00:16Rabbish rahli sadri ve yassir li amri
00:19Vahlu lukudata min lisani yafqahu qawli
00:21Maja'alli vizirah min ahli
00:23Amin ya Rabbil alameen
00:24Nazir karam
00:25Assalamualaikum warahmatullahi wabarakat
00:28Umeed آپ خیر آفیت سے ہوں گے اور ہماری دعا ہے
00:30کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں
00:31Allah'a ta'ala آپ سب کو اور ہم سب کو اپنے زمان میں رکھیں
00:33آفیت و سلامتی سے نوازیں
00:35خلاصہ مضامین قرآن حکیم کا بیان جاری ہے
00:38اور آج انشاءاللہ
00:39قرآن حکیم کے چودوے پارے
00:42کا مطالعہ آپ کی خدمت پر پیش کریں گے
00:44قرآن حکیم کے چودوے پارے میں
00:45سورة الحجر اور سورة النحل
00:47ہمارے سامنے آتی ہیں
00:48ہمارے ہاں پاکستان میں
00:50برے صغیر میں جو قرآن پاک کے مصحف
00:52شایع ہوتے ہیں
00:54عام طور پر ان میں سورة حجر کی پہلی آیت
00:56وہ تیرے پارے کے اختتام پر ہے
00:59باقی مکمل سورة الحجر
01:01وہ چودوے پارے میں ہیں
01:02اور عالم عرب میں جو مصحف قرآن پاک کے شایع ہوتے ہیں
01:06ان میں ہم دیکھیں گے
01:07تو سورة حجر کا آغاز چودوے پارے سے ہی ہوتا ہے
01:10تو اس بحث میں جائے بغیر
01:11ہم نے بھی یہ ترتیب رکھی
01:12کہ سورة حجر آیت نمبر ایک تیختتام
01:15اور پھر سورة النحل کی آیت نمبر ایک تیختتام
01:18یعنی آیت ایک سو اٹھائیس
01:19یہ دونوں سورتیں سورة حجر
01:21اور سورة نحل مکمل یہ
01:23قرآن پاک کے چودوے پارے میں ہیں
01:25اب بات کو آگے بڑھاتے ہیں
01:26اور آج کا مطالعہ ہم شروع کرتے ہیں
01:28سب سے پہلے
01:29سورة الحجر اور سورة الحجر کا
01:31پہلے تعروف آپ کے سامنے رکھنا چاہیں گے
01:33انشاءاللہ
01:33سورة الحجر ابتدائی مکی دور میں نازل ہوئی
01:37یعنی مکہ مکرمہ میں آغاز وحی کے بعد
01:39آپ اور ہم جانتے ہیں کہ
01:40تیرہ برس قیام رہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا
01:44تو اس کے دوران میں جو ابتدائی برس ہیں
01:46ان کے دوران میں سورة الحجر کا نزول ہوا
01:49اس صورت میں ایمانیات سلاسہ
01:52یعنی توحید رسالت اور آخرت کا بیان ہے
01:55مکی صورت ہے
01:56مکی صورتوں کے مستقل مدامین ہے
01:58ایمانیات سلاسہ کا متتین ایمانیات توحید
02:01رسالت اور آخرت کا بیان
02:03حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ
02:05قدر تفسیر سے ذکر کیا گیا ہے
02:07اور یہ بات آپ اور ہم جانتے ہیں
02:09کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ
02:11کل سات مرتبہ قرآن پاک میں ذکر ہوا
02:13اور اس قصے کے بیان میں پھر
02:15ابلیس کا تذکرہ بھی ہمارے سامنے آتا ہے
02:17تو یہ قصہ قدر تفسیر سے
02:19سورة حجر میں آیا ہے
02:21رسولوں اور ان کی قوموں کے واقعات
02:23عبرت و نصیت کے لئے ذکر ہوئے ہیں
02:24یہ مستقل موضوع ہیں
02:26اور پیغمبروں کے حالات اور واقعات
02:27مکی صورتوں میں بکثرت بیان ہوئے
02:29نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے
02:32تسلی کا بیان ہے
02:33حق و باطل کی کشا کش کے دوران میں
02:36جو مخالفت ہو رہی تھی
02:38قریش مکہ کی طرف سے
02:39کفار مکہ کی طرف سے
02:40اس پر نبی کرم علیہ السلام سے مخاطبت ہے
02:43اور اس بارے میں آپ کو
02:45تسلی بھی اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے
02:47عطا کی گئی
02:48یہ چند نکتے ہیں
02:49سورہ حجر کے تعرف کے اعتبار سے
02:51اب چلتے ہیں منتخب آیات
02:53جن کا انتخاب ہم نے سورہ حجر میں سے کیا
02:55ان کے بیان کی طرف
02:56سورہ حجر کے منتخب آیات میں سے
02:58سب سے پہلے جس آیت کا ہم نے انتخاب کی
03:00بہت مشہور آیت قرآن پاک کی
03:02سورہ حجر آیت نبر نو
03:03یا حفاظت قرآن حکیم کا ذکر ہے
03:06اللہ تعالیٰ نے فرمایا
03:07سورہ حجر کے آیت نبر نو میں
03:13بشک ہم نے ہی
03:14اس الذکر کو ایک مراد قرآن حکیم
03:17کو نازل کیا
03:18اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں
03:21معروف تفسیر یہی ہے
03:24کہ یہاں الذکر سے مراد قرآن حکیم
03:26ہے جس کو نازل کیا
03:27اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم
03:29صلی اللہ علیہ وسلم پر
03:31اللہ نے نازل بھی فرمایا
03:32اور اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت
03:34کے ذمہ بھی لیا
03:35پچھلی الہامی کتاب تورات ہو
03:37انجیل ہو یا زبور ہو یا دیگر
03:39ان کے حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے نہیں لیا
03:42کیوں آخری کلام آنا تھا
03:43اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا
03:45اور پچھلی کتابوں کی اصل تعلیمات
03:47بھی قرآن پاک میں آ گئی ہیں
03:49اللہ تعالیٰ کے اقنام ہے المہیمن
03:51اور مہیمن قرآن پاک کی بھی صفت ہے
03:54مہیمن کا مطلب حفاظت کرنے والا
03:56اللہ حفاظت کرنے والا ہے ساری مخلوقات کی
03:58اور قرآن پاک مہیمن ہے
04:00پچھلی کتابوں کی حفاظت کرتا ہے
04:02پچھلی کتابوں کے اصل تعلیمات بھی قرآن پاک میں آگئے
04:05پھر قرآن پاک حفظ کے ذریعے سے
04:07محفوظ رہ کر آج تک محفوظ ہے
04:09قرآن پاک لکھ کر
04:11محفوظ رکھا گیا اور محفوظ
04:13ہے قیامت تک رہے گا
04:14قرآن پاک تدریس کے ذریعے سے محفوظ ہے
04:17اور قرآن پاک عمل کے ذریعے سے
04:19محفوظ ہے عجیب لگ رہے ہیں آپ کو یہ چار
04:21باتیں اہل علم نے بیان کی
04:23حفاظت حفظ کے ذریعے سے
04:25کتابت یعنی لکھنے کے ذریعے سے
04:27اور تدریس یعنی بیان
04:29کرنا سمجھانا اس کے ذریعے سے
04:31اور عمل کرنا ان چار
04:33ذرائع کے ذریعے آج تک اور قیامت
04:35قرآن پاک معفوظ رہے گا اور یہ حفاظت
04:37کا وعدہ کس کا ہے اللہ سبحان
04:39و تعالیٰ کے اس پر بڑی ریسرچ ہوئی ہے
04:41دنیا بھر میں اس پر کام ہوا
04:43اور آج ہم پورے وسوق اور یقین
04:45الدلیل کے ساتھ یہ بات کہتے ہیں
04:47ہم سب مسلمان کہ جس قرآن پاک
04:49کہ آج ہم تلاوت کریں یہ وہی الفاظ
04:51ہیں جو اللہ تعالیٰ نے رسول
04:53اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب
04:54اتھر پر نادل فرمائے اور ان کی
04:57حفاظت کا ذمہ بھی خود اللہ
04:58سبحان و تعالیٰ نے لیا ہے
05:00اگلی دو آیات جن کا انتخاب کیا گیا وہ
05:02سورہ حجر کی آیات
05:0449 اور 50
05:0549 صحیح لفظ ہوتا ہے سورہ حجر کی آیات
05:0949 اور 50
05:10اللہ تعالیٰ کی دو شانیں بیان
05:12کی جا رہی ہیں شان شان سے
05:14شانیں وہ کیا شانیں ہیں اللہ تعالیٰ کی آئین
05:17دونوں آیات کے ترجمے سے بات
05:19واضح ہو جائے گی انشاءاللہ سورہ حجر
05:21کی آیتہ پر 49 فرمایا
05:26اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندوں سے
05:28فرما دیجئے ان کو متعلق کر دیجئے
05:31اللہ فرما رہے بے شک میں
05:32میں بہت بخشنے والا بڑا رحم
05:34فرمانے والا ہوں ہاں
05:36اگلی آیت میں فرمایا
05:37اور بے شک میرا عذاب
05:41بڑا ہی دردناک عذاب ہے
05:43دیکھئے اللہ تعالیٰ کی دونوں
05:44شانیں بیان ہو رہی ہیں
05:46وہ غفور و رحیم ہے
05:47اور اس کا عذاب بڑا دردناک ہے
05:50تو فرما برداروں کے لئے وہ غفور و رحیم ہے
05:53نافرمانوں کے لئے اس کا عذاب بڑا شدید ہے
05:55اسے کہتے ہیں
05:56امید اور خوف
05:58دونوں کیفیات کا ایک ساتھ بیان
06:01حدیث مبارکہ میں ذکر آتا ہے
06:02ال ایمان بین الخوفی
06:05و الرجا
06:05ایمان کیا ہے خوف اور امید کی درمیانی
06:08کیفیت کا نام
06:09اللہ کی رحمت کی امید رکھنا فرد ہے
06:12اور اللہ کی پکڑ کا خوف رکھنا بھی
06:14لازم ہے
06:15اور یہ دونوں کیفیات ساتھ ساتھ ہونی چاہیے
06:18ال ایمان بین الخوفی و الرجا
06:20ایمان خوف اور امید کی
06:23درمیانی کیفیت کا نام ہے
06:24چنانچہ یہ بار بار
06:27قرآن پاک میں ہم دیکھتے ہیں
06:28اللہ تعالیٰ جہنم کے عذابوں کا ذکر بھی کرتا ہے
06:31وعید سناتا ہے
06:32درابے دیتا ہے تاکہ باز ہو
06:33اور اللہ جنت کی بشارات بیان کرتا ہے
06:36جنت کی نعمتوں کو ذکر کرتا ہے
06:37تاکہ شوق پیدا ہو
06:38تو خوف پیدا رکھو جہنم کا
06:41بلکہ خوف پیدا کرو
06:42اپنے اندر جہنم کا
06:43اور امید رکھو
06:45اللہ تعالیٰ کی رحمت کی
06:46یہ دونوں کیفیات ساتھ ساتھ ہوں
06:48تو یہ ایمان کی کیفیت ہے
06:50تو یہ سایت کریمہ میں
06:51اللہ تعالیٰ کی
06:52دونوں شانوں کو بیان کیا گیا
06:54اور یہ تربیت کا بھی اصول ہے
06:56دھرا کر بھی کام کرائے جاتے ہیں
06:57آنکھیں دکھا کر بھی
06:58بچوں سے کام کروائے جاتے ہیں
06:59اور ترغیب تشویق
07:01اور ایوارڈ ریوارڈ وغیرہ کا بھی
07:04معاملہ سامنے انسینٹیف دے کر
07:06بھی کام کروائے جاتے ہیں
07:07بارحال
07:07اللہ تعالیٰ غفور و رحیم بھی ہے
07:09اور اللہ کا عذاب بڑا شدید بھی ہے
07:11ایک حدیث مبارکہ میں
07:12واقعہ کے حاصل یہ ہے
07:14کہ کہ تم اللہ کا خوف رکھو
07:16کہ وہ پکڑ نہ لے
07:17تو تم جس چیز کا خوف رکھتے ہو
07:19یہ خوف بھی رہو
07:21اور اللہ کی رحمت کی امید رکھو
07:23کہ وہ معاف کر دے
07:24یہ دونوں بات ایک ساتھ جمع ہوں
07:26تو اس سے اللہ تعالیٰ بچا لے گا
07:28جس کا خوف ہے
07:28اور وہ عطا فرما لے گا
07:30جس کی امید ہے
07:31تو اللہ اپنی پکڑ اور عذاب سے
07:33تمہیں بچا لے گا
07:34اور اپنی رحمت کا
07:35تمہیں مستحق بنا دے گا
07:36یہ جامع تنویزی کی روایت میں
07:37تفصیل یہ ایک واقعہ
07:38ہمارے سامنے آتا ہے
07:40اس کے بعد جس آیت کا انتخاب کیا گیا
07:42بہت مشہور و معروف مقام ہے
07:44اور یہ سورہ حجر کی آیت
07:45حمد ستاسی ایٹی سیون ہے
07:47اور یہ سورہ فاتحہ کی عظمت کا تذکرہ ہے
07:50جب ہم نے سورت الفاتحہ کا
07:52مطالعہ کیا تھا
07:53تو اس آیت کا حوالہ دیا گیا تھا
07:55یہ سورہ فاتحہ کی عظمت کا بیان
07:56سورہ حجر کی آیت حمد ستاسی ایٹی سیون میں
07:59خود اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا
08:01اشاد ہو رہا ہے
08:08بے شک ہم نے آپ کو
08:10سات بار بار دہرائے جانے والی آیات
08:14یعنی قرآن عظیم عطا کیا
08:16یہ بہت عجیب لگے گا آپ کو
08:18بڑا خوصورت ترجمہ ہے
08:19ہم نے بار بار دہرائے جانے والی سات آیات
08:22یعنی قرآن عظیم عطا کیا
08:24اس کی تشریح میں نہیں کرتا
08:25حضور کی حدیث پیش کر دیتا
08:26اللہ کے رسول علیہ السلام فرمایا
08:30کہ یہ سورہ فاتحہ ہی
08:31سبع من المثانی سائیت کے الفاظ
08:33سبع من المثانی سورہ فاتحہ ہے
08:35بار بار دہرائے جانے والی سات آیات
08:37ہر نماز میں اس کی امتلاوت کرتے
08:39والقرآن العظیم
08:41حضور فرما یہ قرآن عظیم ہے
08:42اللہ اکبر کبیرہ
08:44کیسے بھلا
08:45ہم نے سورہ فاتحہ کی مختصر تشریح میں ذکر کیا تھا
08:48پورے قرآن کے کریم کو
08:49تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت قرار دیا
08:51اس میں تین بڑے موضوعات
08:52توہید ہے
08:53اور آخرت ہے
08:54اور رسالت ہے
08:55یہ تینوں موضوعات
08:56سورہ الفاتحہ میں ہمارے سامنے آ جاتے ہیں
08:58تو یہ اپنی جگہ ہدایت کے پیکج
09:01سورہ فاتحہ کی صورت میں عطا کر دیا گیا
09:03بارحال یہ بار بار دہرائے جانے والی سات آیات
09:06اور قرآن عظیم
09:07یہ سورہ الفاتحہ کی عظمت کا بیان ہے
09:10اور یہ عظمت خود
09:11اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان فرما دی
09:13سورہ حجر کے آیت 87 میں
09:15اور اس کی تشریح خود حضور نے حدیث میں بیان فرما دی
09:18کہ یہی سبع من المثانی سورہ فاتحہ
09:21اور یہی قرآن عظیم ہے
09:22سورہ فاتحہ میں کیا ہے
09:24الحمدللہ رب العالمین
09:26تمام تعریف تمام شکر اللہ کے لیے
09:28تمام جہان والوں کا رب ہے
09:29الرحمن الرحیم
09:31نہائیت رحم فرمانے والا
09:32مسلسل رحم فرمانے والا ہے
09:33مالک یوم الدین بدلے کے دن کا مالک ہے
09:36یہ تین آیات اللہ کے لیے
09:38اور اس میں توہید اور آخرت کا ذکر آ گیا
09:40ایہاک نعبدو و ایہاک نستعین
09:43ایلم تیری ہی عبادت کرتے ہو
09:44تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
09:46عبادت اللہ کا حق ہے
09:47کرنی بندے نے ہے
09:48حق حق اللہ کا ہے
09:50اور مدد مانگنا بندے کی موتاجی
09:52آدھی آیت میں اللہ کا ذکر ہے
09:54اس کی عبادت کا
09:55آدھی آیت میں بندے کی موتاجی کا ذکر ہے
09:57اگلی تین آیات
09:59اہدین السرات المستقیم
10:01ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے دیں
10:02یعنی منزل مقصود تک مہچا دیں
10:04سرات اللہذینہ نعمت علیہم
10:06اے اللہ ان کا راستہ جن پر تُو نے انعام فرمایا
10:08غیر المغذوب علیہم
10:10ولا الضالین
10:12جن پر نہ غضب ہوا نہ وہ گمراہ ہوئے
10:14یہ آخری تین آیات
10:15یہ خالص بندے کے لئے
10:17یاد آیا کچھ آپ کو
10:18تو آدھا حصہ سور فاتحہ کا
10:20اللہ کے لئے
10:20آدھا حصہ بندے کے لئے
10:21سبحان اللہ
10:22اور درمیان والی جو آیت ہے
10:24اس میں آدھا حصہ عبادت
10:26اللہ کا حق
10:26اور دعا مانگنا یہ بندے کی حاجت ہے
10:29تو بندے اور رب کے درمیان
10:31تعلق کو بڑے خوصورت انداز میں
10:33سور فاتحہ کی سات آیات میں
10:35بیان کر دیا گیا
10:36اور انہی سات آیات میں
10:37توحید اور آخرت
10:39اور رسالت کا تذکرہ
10:40بھی سامنے آ جاتا ہے
10:40اور اس کو
10:41اس آیت کریمہ میں
10:42یعنی سور فاتحہ کو
10:44سبعا من المسانی
10:45بار بار دہرہ جانے والی
10:46سات آیات
10:47اور قرآن عظیم کہا گیا
10:48سور حجر کی آیت
10:50امبر ستاسی میں
10:51یہ تو ہم نے چند منتخم آیات
10:53آپ کے سامنے رکھی
10:54سور حجر کے تعلق سے
10:55اس کے بعد بڑا حصہ
11:03تعریف رکھتے ہیں
11:04اور پھر انشاءاللہ
11:05چند منتخم آیات کا ذکر
11:07آپ کے خدمت میں پیش کریں گے
11:08تو سورت النحل کا تعریف
11:10آپ کے سامنے کہتے ہیں
11:10ویسے نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں
11:13نحل شہد کی مکھی کو کہتے ہیں
11:15اور اس کا ذکر بھی
11:16سور نحل میں آتا ہے
11:17آیت نمبر 68 میں
11:19ہمارے سامنے بڑی وضاحت کے ساتھ
11:20بارحال
11:21سورت النحل کا تعریف
11:23سورت النحل مکھی دور کے
11:24بلکل آخر میں نازل ہوئی
11:27کسرہ سے
11:27اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا
11:29ذکر کیا گیا ہے
11:30سورت النحل میں
11:32اللہ تعالیٰ نے
11:32ظاہری اور باطنی
11:34بہت ساری نعمتوں کا ذکر کیا
11:36اسی وجہ سے
11:37اس کا ایک اور نام
11:38سورت النعم بھی ہے
11:39نعمت کی جمع نعم
11:41نون کے نیچے زیر
11:42سورت النعم
11:44یعنی وہ سورت
11:45جس میں اللہ تعالیٰ کی
11:46نعمتوں کا کسرہ سے ذکر ہے
11:47یہ سورت النحل کا دوسرا نام بھی ہے
11:49تو کسرہ سے
11:50اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے
11:53اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و قدرت
11:55کو دلائل سے ثابت کیا گیا
11:56اور معبودانِ باطلہ کی
11:59بیبسی بیان کی گئی ہے وہی معاملہ
12:01یعنی جو حق و باطل کے درمیان
12:03کشا کش کا سسلہ جاری تھا
12:04جس میں مشکینِ مکہ کے غلط
12:06عقیدوں کا رد کیا جارہا ہے
12:08اور توحید کے دلائل ان کے سامنے
12:11پیش کیا جارہے ہیں یہ موضوع
12:12صورت النحل میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی
12:14وحدانیت و قدرت کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے
12:17اور معبودانِ باطلہ
12:19یعنی باطل معبودوں کی
12:21بیبسی کا ذکر کیا گیا
12:22کہ جن کو تم پوجتے ہو وہ نہ
12:24سنتے ہیں تمہاری بات کو
12:26نہ کوئی سمجھتے ہیں
12:28دوسرے مقامات پر قرآن پاک کہتے ہیں
12:30مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے ہیں ایسے بیبسوں کو
12:32پکارنے کا کیا فائدہ
12:34اگلا نقطہ سورہ نحل کے تعارف کے زیل میں ہے
12:37مشکینِ مکہ کے ساتھ
12:39جاری کشا کش کا تذکرہ ہے
12:45قیامت کے دن کفار و مشکین کی رسوائی
12:47اور ایمان والوں کی عظمت
12:49کا ذکر ہے ایمان والے تو
12:51اللہ کی نعمتوں میں ہوں گے ان کے عظمت
12:53کا تذکرہ ہے اور کفار و مشکین
12:55کے لیے تو رسوائی ہوگی ندامت ہوگی
12:57اس کا تذکرہ ہے تو قیامت کے
12:59دن کے نقشے بھی سورہ نحل میں
13:01ہمارے سامنے آتے ہیں
13:03اللہ تعالیٰ قیامت کا یقین اتا کرے اور
13:05آج موت سے پہلے پہلے اس کی تیاری
13:07کیا ہمیں توفیق عطا فرمائے
13:08بارحل یہ چند نکتے تھے سورہ نحل
13:10کے تعریف کے حوالے سے اب چلتے ہیں
13:12سورہ نحل کی چند منتخب آیات
13:14کے بیان کی طرف سب سے پہلے
13:16جس آیت کریمہ کا ہم نے انتخاب کیا
13:18یہ سورہ نحل کی آیت نمبر
13:20اٹھارہ ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں
13:22بے شمار ہیں ایک تو سورہ رحمان
13:24میں ہم پڑھتے ہیں فَبِعَيَّ آلَائِ رَبِّكُمَاتُ
13:36وَإِن تَعُدُّ نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا
13:39اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں
13:41کو شمار کرنا چاہو بھی تو شمار
13:44نہیں کر سکتے
13:48اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا
13:51نہائیت رحم فرمانے والا ہے
13:53اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار نہیں کر سکتے
13:56تو اس کی نعمتوں کا حق کیا عدا کریں گے
13:59تو یہ اعتراف کرنا ہی بندگی ہے
14:02کہ اللہ ہم تیری نعمتوں کا حق عدا نہیں کر سکتے
14:05کہ ان کا شکر عدا کریں
14:06اللہ اکبر
14:07اللہ ہم تیرے شکر کا حق عدا کرنے کے قابل نہیں ہے
14:10اچھا کئی بات ہم کہتے ہیں نا انگلیش میں
14:14کہ وہ فور گرانٹڈ لے لیتے ہیں
14:15یہ آنکھ دیکھ رہی ہے نا
14:17بس فور گرانٹڈ لیا
14:18اچھا یاد ہے ہاں دیکھ رہی ہے بھائی
14:19اس آنکھ پر پردہ بھی ہے
14:23یہ کان سنتے بھی ہیں نا
14:25ہاں کان سنتے بھی ہیں
14:26زبان بولے جا رہی ہے بولے جا رہی ہے
14:27اس کو کنٹول کرنا پڑتا ہے
14:29یہ کون اس کو بولنے کی صلاحیت دے رہا ہے
14:31یہ کان کو سننے کی صلاحیت کون دے رہا ہے
14:33یہ آنکھ کو دیکھنے کی صلاحیت کون دے رہا ہے
14:35یہ ملینز آف سیلز جو دماغ کے اندر ہیں
14:37ان کو کون اللہ تعالی
14:38کس نے کنیکٹڈ رکھا ہوا ہے
14:41جی میں ٹچ کرتا ہوں
14:43تو میرا سنس بتاتا ہے
14:44کہ یہ پین ہے تو میں ہاتھ میں پکڑ سکتا ہوں
14:47میں ٹچ کرتا ہوں
14:48کہ یہ سنس بتاتا ہے
14:50میرا دماغ بتاتا ہے
14:51کہ ساں پہ پکڑ سکتا ہوں
14:52بھاگتا ہوں اس کو چھوڑ کر میں
14:53اوہ بھائی یہاں سے شروع کریں
14:55اور یہ ایور ایکسپینڈنگ یونیورس
14:58یہ جو وسعت پذیر کائنات ہے
15:00اس کے بارے میں جتنی معلومات
15:02ہمارے سامنے آتی چلی جا رہی ہیں
15:04اور اس عالم میں
15:05اس دنیا کے عالم میں
15:06ہماری زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے
15:09اللہ نے کیسے کیسے انتظامات کر رکھے ہیں
15:12انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے
15:15وَإِن تَعُدُّ نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا
15:18اور اگر تم اللہ تعالی کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو بھی
15:21تو شمار نہیں کر سکتے
15:23اِنَّ اللَّهَ لَغَفُورُ وَحِيمِ
15:26بے شک اللہ تعالی یقیناً
15:27بہت بخشنے والا نہائی طرح ہم فرمانے والا ہے
15:30یہ جملہ کیوں آ رہا ہے
15:32اللہ اکبر کبیرہ
15:33یہ سورہ نحل میں ہم پڑھنے ہیں
15:35سورہ ابراہی میں بھی ایسی بات آتی ہے
15:37وہاں پر آتا ہے
15:37انسان کے بارے میں وہ بڑا ناشکرا ہے
15:40اللہ اکبر
15:41یہاں ذکر آرہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے
15:43اللہ تعالی کی نعمتوں کو ہم فور گرانٹڈ لے لیتے ہیں
15:46مال مفت دلے بے رہے والا معاملہ ہو جاتا ہے
15:49قدر نہیں کرتے
15:50شکر ادا نہیں کرتے
15:52کھاتے بھی تو اللہ کا نام دینا بھول جاتے
15:54کھا لیے تو اس کے بعد اللہ کا شکر ادا نہیں کر رہے ہوتے بہت سے لوگ
15:58استغفراللہ
15:58ارے شمار نہیں کر سکتے
16:00شکر ادا کرنا تو دور کی بات ہے
16:01تو پھر کیا ہے
16:02اللہ غفور ہے
16:04اللہ رحیم ہے
16:04تمہاری کتاہیوں کو
16:05تمہاری ناشکری کے روئیوں کو
16:07معاف کرتا ہے
16:08فوراں پکڑتا نہیں ہے
16:09لیکن یاد رکھیے گا
16:10دیگر مقامات پر اللہ تعالی نے فرمایا
16:13مثلا سورہ ابراہیم کی آیت انبر
16:15سات میں
16:16لَإِن شَكَرْتُمْ لَا زِیدَنَّكُمْ
16:18اگر شکر ادا کروگے
16:19اللہ تعالی فرماتا ہے
16:20مزید نعمتیں تمہیں عطا کروں گا
16:22وَلَإِن کَفَرْتُمْ
16:23اِنَّ عَذَابِ لَشَدِيدُ
16:24اور اگر تم نے ناشکری کی
16:26تو بے شک میرا عذاب بھی بڑا شدید ہوگا
16:28اللہ تعالی مجھے اور آپ کو
16:30اپنے شکر گودار بندوں میں شامل فرمائے
16:33ہم یہ اعتراف کریں
16:34اللہ تیری تو نعمتیں شمار نہیں کر سکتے
16:36ہم اس کا شکر کیسے ادا کریں گے
16:38تو یہ آجزی پسند ہے اللہ کو
16:40یہ اعتراف پسند ہے اللہ کو
16:42اور پھر کسرہ سے
16:43الحمدللہ کا کلمہ ہماری زبان پر
16:45اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
16:48نے صبح صدق شام و رات تک
16:49اور مستقل مواقع کی جو دعائیں
16:51ہمیں تعلیم کی ہیں
16:52کھانے کے بعد
16:53پانی پی لینے کے بعد
16:55لباس پہن لینے کے بعد
16:56بیت الخلا سے باہر آجانے کے بعد
16:58سواری پر سوار ہو جانے کے بعد
17:00صبح بیدار ہو جانے کے بعد
17:02اسی طرح سورج نکل آیا
17:03اس کے بعد
17:04سورج گروہ ہو گیا
17:05اس کے بعد
17:05بہت ساری دعائیں
17:06اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
17:09نے سکھائیں
17:09جن میں الحمدللہ کا کلمہ آتا ہے
17:12تمام شکر تمام تعریف
17:14اللہ کے
17:14اور سور فاتحہ میں کیا آتا ہے
17:16الحمدللہ رب العالمین
17:17ہر تھوڑی دیر بعد نماز ادا کرتے ہیں
17:19ہر نماز میں سور فاتحہ کی تلاوت کرتے ہیں
17:21یہ شکر گزاری سکھا رہا ہے
17:23اللہ تعالی ہم سب کو
17:24اللہ مجھے اور آپ کو
17:26اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے
17:28اگلی آئے جس کا میں انتخاب کیا
17:29وہ سور نحل کی آیت نمبر چواری سے فورڈی فور
17:31قرآن کریم کی تشریح
17:33نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری
17:35بہت اہم بات
17:36آتھارڈی آف سنہ کے حوالے سے
17:38سنت کی احمیت
17:40سنت کی حجیت اور آتھارڈی کے اعتبار سے
17:42بڑا اہم مقام
17:44سور نحل آیت نمبر چواری سے اشاد ہوا
17:47بالبینات والزبر
17:48اللہ تعالی نے کتابیں اور صحیفیں دے کر
17:50انبیاء اور رسول کو بھیجا
17:52یہ پچھلے رسولوں کا ذکر ہوا
17:53اب حضور کا ذکر ہے
17:55صلی اللہ علیہ وسلم
17:57وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِمْنَاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ
18:02اور اے نبیاء علیہ السلام
18:03اس ذکر یعنی قرآن کو
18:04ہم نے آپ پر نازل کیا
18:05تاکہ آپ لوگوں کے لئے واضح فرما دیں
18:08کہ لوگوں کے لئے
18:09اللہ تعالی نے کیا نازل فرمایا ہے
18:12وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ
18:13اور تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں
18:15اللہ تعالی فرما رہے ہیں
18:17ہم نے آپ پر قرآن پاک کو نازل کیا
18:19اللہ تعالی کے لئے کوئی مشکل نہیں تھا
18:21ہزاروں لاکھوں کروڑوں نہیں
18:22عربوں کھربوں کوپیز
18:24ہوارے گھروں میں آ جاتی
18:25ہر گھر میں دزدس کوپیز
18:27قرآن پاک کیا جاتی
18:28اللہ تعالی على کلی شہید
18:29قدیر اللہ تعالی کے لئے کچھ مشکل نہیں
18:31لیکن نہیں
18:32اے نبی ہم نے آپ پر قرآن پاک کو نازل کیا
18:35لِتُو بَيِّن
18:36تاکہ آپ بَيِّن کریں
18:37الیبریٹ کریں
18:38واضح کریں
18:39تشریح کریں
18:40تاکہ آپ لوگوں کے لئے واضح کریں
18:42مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ
18:43جو کچھ ان کے لئے نازل کیا گیا
18:45تو قرآن کریم
18:47اللہ کے رسول مکرم علیہ السلام پر نازل ہوا
18:50اس کی تشریح بھی
18:51اللہ نے حضور کو عطا فرمائی
18:52جی
18:53انتیس سپارے میں
18:54سورة القیامہ میں
18:55یہ ذکر آتا ہے
18:56آیت مر انس میں
18:58ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ
19:00پھر اس قرآن پاک کا بیان بھی ہمارے ذمہ
19:02الفاظ بھی اللہ نے دیئے
19:04قرآن کا بیان
19:05بیان تو تشریح ہوگی
19:06تشریح تو ٹیکسٹ کے علاوہ کوئی شئے ہوتی ہے
19:08مطن کے علاوہ کوئی شئے ہوگی
19:10اس قرآن کا بیان بھی
19:11اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہمارے ذمہ
19:13تو رسول اکرم علیہ السلام کی
19:15زبان مبارک سے قرآن جاری ہوا
19:17رسول اکرم علیہ السلام کی
19:18زبان مبارک سے قرآن پاک کی تشریح بھی جاری ہوئی
19:21یہ آثورٹی آف سننہ کا بیان
19:23یہ حجیت حدیث کا بیان
19:25ہمارے دین کی تعلیم کے اعتبار سے
19:27قرآن دلیل اور حجت ہے
19:28صاحبِ قرآن علیہ السلام کی ذات
19:30آپ کا کلام آپ کی سنت اور
19:32آپ کی حدیث بھی دین میں حجت ہے
19:34اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہو کر
19:36ہمارے سامنے آ جاتی ہے
19:38یہ ناظر کرام ہم نے دو آیات
19:40منتخب آپ کے سامنے ابھی رکھی
19:41سورة النحل کی آئیے حاصلِ کلام
19:44کا ذکر آپ کے سامنے رکھتے
19:46پھر بات کو وقفے کے بعد مزید آگے
19:48بڑھائیں گے انشاءاللہ و تعالیٰ
19:50تو سورہ حجر اور سورہ نحل کی
19:52چند منتخب آیات جو ہم نے آپ کے سامنے رکھی
19:54حاصلِ کلام کے طور پر کچھ
19:56لیسنز ہمارے سامنے جو آتے ہیں
19:58وہ رکھیں گے آپ کے سامنے پہلا نکتہ
19:59اللہ تعالیٰ ہی نے قرآن حکیم نازل فرمایا
20:02اور اللہ تعالیٰ ہی قرآن حکیم
20:04کے حفاظت فرمانے والا ہے
20:06ایک مومن کی کیفیت
20:08امید اور خوف کے درمیان ہوتی ہے
20:10کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک طرف
20:12اللہ تعالیٰ بہت معاف فرمانے والا
20:14اور رحم فرمانے والا ہے
20:15تو دوسری طرف وہ دردناک عذاب دینے والا بھی ہے
20:18یہ دونوں کی افیاد ساتھ ساتھ ہونی چاہیے
20:20سورت الفاتحہ کی سات آیات
20:23نمازوں میں دہرائی جاتی ہیں
20:24ان آیات کو سبع مثانی کہا جاتا ہے
20:27بار بار دہرائے جانے والی
20:29سات آیات
20:30اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا بھی
20:32ممکن نہیں ہے
20:34لیکن شکر تو ادا کرنے کی کوشش کرنی ہے
20:36اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے
20:38قرآن حکیم کی وضاحت نبی کریم
20:41صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی
20:43قرآن حکیم کو سمجھنے کے لئے
20:44سنت اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
20:47سے رہنمائی لینا ضروری ہے
20:49حضور تشریح بھی فرمائی ہے
20:51تو قرآن پاک کی تشریح کو
20:53رسول اکرم علیہ السلام سے لیں گے
20:55آپ کی سنت اور حدیث کی روشنی میں
20:57قرآن پاک کو سمجھنا ہے
20:58اللہ تعالیٰ مجھے آپ کو
21:00ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے
21:02ناظر کرام سورہ حجر اور سورہ نحل کی
21:04چند منتخب آیات کا مطالعہ اور حاصل
21:06کلام ہم نے آپ کے سامنے رکھا
21:07ایک چھوٹا سو وقفہ لیتے اس وقفے کے بعد
21:09سورہ نحل کی مزید چند منتخب آیات
21:12کی روشنی میں مزید اہم باتیں
21:14ہمارے سامنے آئیں گی ایک وقفہ لیتے
21:16اس کے بعد انشاءاللہ تعالیٰ پر آپ سے ملاقات ہوتی ہے
21:18السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
21:21السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
21:23ناظر کرام خوش آمدید کہتے ہیں آپ کو
21:25خلاص مزامین قرآن حکیم کا بیان جا دی ہے
21:28اور آج ہم قرآن حکیم کے چودوے پارے کا
21:30مطالعہ آپ کے خدمت میں پیش کر رہیں
21:32سورہ نحل کی دو منتخب آیات کا مطالعہ
21:35بھی ہم نے آپ کے سامنے رکھا
21:36بات کو آگے بڑھاتے ہیں
21:37اب قرآن پاک کے چودوے پارے میں جو آیات ہیں
21:39وہ سورہ نحل کی آیت نمبر
21:41پیتالی سے آیت نمبر ایک سو اٹھائیس
21:44تک مکمل یہ سورہ نحل شامل ہے
21:45آئیے مزید چند منتخب آیات
21:47کا مطالعہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں
21:49اس زمن میں اگلی جس آیت کا
21:51ہم نے انتخاب کیا یہ سورہ نحل
21:53کی آیت نمبر اٹھاون اور انسٹھ
21:56ففٹی ایٹ اور ففٹی نائن
21:57بیٹی کی پیدائش و مشرقوں
22:00کا رویہ قرآن پاک ذکر کر رہا ہے
22:02یہ ہمیں معاشرت بھی سکھاتا ہے
22:03ہاں اور آج ہمارے دور میں بھی
22:06جی کہتے ہیں پڑھا لکھا دور ہے
22:08پڑھے لکھے لوگوں کا دور ہے
22:09ایڈوانس دور ہے
22:10ترقی آفتہ دور ہے
22:12ٹکنالوجی کا دور ہے
22:13ذرا ان الفاظ پر غور کر دیجئے
22:16جو مشرقوں کے رویہ تھے
22:17بیٹیوں کی پیدائش کے بارے میں
22:20قرآن پاک نے ان دونوں آیات
22:22میں اس کو نقل کیا
22:23اور اپنے معاشر میں بھی نگاہ اٹھا کر دیکھ لیجئے
22:25تو یہ کیفیات یہاں بھی
22:27کبھی کبھی نظر آ جائیں گی
22:29قرآن پاک فرما رہا ہے
22:30سورہ نحل کی آیت نمبر اٹھاون
22:33وَإِذَا بُشِّرَ آَحَدْهُمْ بِالْأُنثَى
22:36اور جب ان میں سے
22:37کسی کو بیٹی کی پیدائش
22:40کی خوشخبری دی جاتی ہے
22:42ذَلَّا وَجْهُ مُسْوَدْدَوْ وَهُوَ قَدِيمٌ
22:44تو اس کا چہرہ
22:46سیاہ پڑ جاتا ہے
22:47اور وہ غصے کو
22:49ضبط کرنے لگ جاتا ہے
22:51بیٹی کی پیدائش پر
22:52سیاہ ہو جاتے تھے چہرے
22:54غصہ آتا تھا
22:55کہ بیٹی کیوں پیدا ہو گئے
22:57يَتَوَارَ مِنَ الْقَوْمِ
22:58مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهُ
23:00اب وہ اپنی قوم سے
23:02چھپتا پھرتا ہے
23:04اس بری خوشخبری کی وجہ سے
23:07جو اس کو دی گئی
23:08اس کے نظرے
23:09ان لوگوں کے نظرے
23:10بری خوشخبری کیا
23:11بیٹی پیدا ہو گئی
23:12اب وہ شرمندہ ہوتا ہے
23:14مو چھپائے پھرتا ہے
23:14لوگوں سے
23:15اَيُمْ سِكُوْ عَلَى هُونِن
23:17اَمْ يَدُسُّهُ فِي تُرَاب
23:19اب وہ غور کرتا ہے
23:21فکر کرتا ہے
23:21کہ اب
23:22ذلت کے ساتھ
23:23اس کو تھامے رہے بیٹی کو
23:24یا اس کو
23:25مٹی میں دفن کر دیں
23:27اَلَا سَاءَمَا يَحْكُمُون
23:29آگا ہو جاؤ
23:30بہت برا ہے
23:31جو یہ فیصلہ کرتے ہیں
23:32یہ دور جہلیت کا ذکر ہو رہا ہے
23:36جہاں
23:36بیٹیوں کی پیدائش پر
23:38کئی مرتبہ
23:39لوگوں کی مو بن جاتے تھے
23:40اور چہرے سیاہ ہو جائے کرتے تھے
23:42خصے میں وہ بھر جائے کرتے تھے
23:44بیٹی کیوں پیدا ہو گئی ہے
23:45کیونکہ کل بیٹی کو
23:46کسی کے ہاتھ میں دینا ہوگا
23:48یا اس کی شادی کرنا ہوگی
23:49تو ہمیں داماد کے نیچے رہنا پڑے گا
23:51ہمیں کمزور بننا پڑے گا
23:53یہ تمہیں پسند نہیں ہے
23:55تو خصے میں آ جائے کرتے تھے
23:56پھر یہ کہ
23:57اب اس کو ذلت کے ساتھ
23:58تھامے رہوں
23:58رکھوں اپنے ساتھ
23:59یا میں دفن کر دوں
24:01اور ظالم مشرق لوگ
24:03اپنی بیٹیوں کو
24:04زندہ دفن کر دیا کرتے تھے
24:06اللہ اکبر
24:07اس معاشرے میں
24:08ایک دن
24:09رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
24:13جب آپ علیہ السلام خان کعبہ کے پاس تھے
24:16ایک خادمہ نے
24:17بشارت دی
24:17خوشکبری سنائی
24:18کہ آپ کے ہاں
24:19بی بی خدیجہ کے ہاں
24:20بیٹی پیدا ہوئی ہے
24:21وہ خادمہ کہتے
24:22کہ رسول اکرم علیہ السلام کا چہرہ انور
24:25گلاب کے پھول کی طرح کھل اٹھا
24:27اور آپ نے اللہ کا شکر ادا کی
24:28آپ دوڑے دوڑے بی بی خدیجہ کے پاس گئے
24:31اور بیٹی کو لیا
24:32اللہ کا شکر ادا کیا
24:33چومہ اور سینے سے لگائے رکھا
24:35یہ اللہ کے رسول علیہ السلام کا رویہ تھا
24:38بیٹیوں کے بارے میں
24:39حضور اکرم علیہ السلام کے ارشادات کیا ہیں
24:41آپ نے فرمایا کہ
24:42جس کو اللہ تین بیٹی آتا فرمائے
24:44بیٹیوں کے پیدائش پر مو نہ بنائے
24:46ان کی پرورش کی ذمہ داری کرے
24:47پوری
24:48ان کا نکاح اس کا بندوبست کر دے
24:50کبھی حضور نے فرمایا
24:51یہ بیٹییں جنت میں داخلے کا باعث
24:53کبھی آپ نے فرمایا
24:54جہنم سے بچائے جانے کا باعث
24:56کبھی آپ نے فرمایا
24:57میں اور وہ شخص
24:58جس کی تین بیٹییں جنت میں ساتھ ہوں گے
25:00اور حضور اکرم علیہ السلام
25:02نے اپنے مبارک ہاتھ کی
25:03دو مبارک اونگلیوں کو ملا کر دکھایا
25:05کسی نے پوچھا حضور میری
25:07تو دو بیٹی ہیں
25:08آپ نے فرمایا
25:08تم ذمہ داری پوری کرو
25:09اللہ تمہیں بھی
25:10یہ اجر عطا فرمائے
25:11کہ سبحان اللہ
25:12اس کے بعد حضور تشریف لے گا
25:14صلی اللہ علیہ وسلم
25:15وہاں ایک صحابی فرماتے ہیں
25:16کہ آج اگر کسی نے حضور سے
25:18ایک بیٹی کے بارے میں سوال کیا ہوتا
25:20تو اللہ کا حضور ایک بیٹی کی کفالت پر بھی
25:23یہی بشارت دیتے
25:25یہی بشارت دیتے
25:26اللہ کا حضور علیہ السلام
25:35وجہ کیا ہے
25:36ہم نے نکاح کو مشکل بنا دیا
25:38ہم نے مصیبت ہم نے بنا دیا
25:39اور بیٹیوں کو ہم بوست سمجھ رہے
25:40بیٹیاں بھی اللہ ہی دیتا ہے
25:42بیٹے بھی اللہ ہی دیتا ہے
25:44اللہ خوب جانتا ہے
25:45ہم پڑھیں گے انشاءالت سورہ شورا
25:48سورہ شورا کی آیت نمبر 49-50 میں
25:51اللہ جس کو چاہے بیٹے دے
25:53بلکہ پہلے بیٹیوں کا ذکر ہے وہاں
25:55اللہ جس کو چاہے بیٹیاں عطا فرمایا
25:57جس کو چاہے بیٹے دے
25:58جس کو چاہے دونوں دے
26:00جس کو چاہے کچھ بھی نہ دے
26:01اللہ قدیر بھی ہے
26:02اللہ علم بھی رکھتا ہے پورا
26:03اللہ کی حکمت ہے
26:04کس کو کیا دینا ہے
26:05کس کو نہیں دینا ہے
26:06کس کو بیٹی ہے
26:07کس کو بیٹے ہے
26:07کس کو کچھ نہیں
26:09یہ سب اللہ کا ہی فیصلہ ہے
26:11اللہ کے فیصلے پر آزی رہنا چاہیے
26:13بیٹے نعمت ہیں اللہ کی
26:14بیٹیاں رحمت ہیں اللہ کی
26:16سبحان اللہ
26:17اور نبی مکرم علیہ السلام
26:19کہ دین چھوٹے بیٹے چھوٹے عمر میں انتقال کر گئے تھے
26:22آپ کی تو بیٹیاں ہی بڑی عمر کو پہنچیں ہیں
26:25تو کسی کے اگر فقط بیٹیاں ہو
26:27تو ایک نسبت حضورﷺ سے ہو جائے گی
26:28صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
26:30اللہ ہمیں قدر کرنے کی توفیق
26:32بیٹے ہو یا بیٹیاں پرورش اچھی کرنی ہے
26:35تربیت اچھی کرنی ہے
26:36تو بیٹا بھی صدقہ جاریہ بن سکتا ہے
26:38بیٹی بھی صدقہ جاریہ بن سکتی ہے
26:40دونوں اللہ کی عطا ہیں
26:41بیٹیوں کو جو ہے وہ
26:43ان کی پیدائش پر مو نہیں بنانا چاہیے
26:45بوجھ نہیں سمجھنا چاہیے
26:47اور حضور نے تو یہاں تک فرمایا علیہ السلام
26:49اگر اجازت ہوتی
26:51اگر اجازت ہوتی ترجیح دینے کی
26:54پریفرنس دینے کی
26:55تو میں بیٹیوں کو بیٹوں پر ترجیح دیتا
26:58حضور فرما رہے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم
26:59لیکن نہیں
27:00اولاد میں عدل کرنا ہے
27:02لیکن قرآن پاک بتا رہا ہے
27:05کہ بیٹیوں کی پیدائش پر
27:06تو مشرقوں کے چہرے سیاہ ہو جاتے تھے
27:08غصے میں آ جاتے تھے
27:10آج کبھی ساس جو ہے وہ بہو پر بحث کرتی ہے
27:13اس پر چیختی چلاتی
27:15کہ بیٹی کیوں پیدا ہو گئی
27:16اس ساس بھی تو کسی کی بیٹی بھول گئی
27:18ساس کی ماں بھی تو کسی کی بیٹی
27:20وہ بھول گئی
27:21کیسی ہم یہ جاہلانہ باتیں کرتے ہیں
27:23اللہ تعالی ہمیں دین کی سمجھ
27:25اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں
27:27اگلی آیت جس کا انتخاب کی ہے
27:29یہ بہت مشہور مقام قرآن پاک کا
27:31اور یہ سورة النحل کی آیت نمبر نوے ہے
27:35اللہ تعالیٰ کے چھے احکامات کا بیان
27:37اور آپ ہم جانتے ہیں
27:39کہ یہ آیت جمعے کے خطبے کے آخر میں
27:42عام طور پر تلاوت کی جاتی ہے
27:44یہاں چھے احکامات ہے
27:45تین کام کرنے کے اعتبار سے
27:47اور تین کام نہ کرنے کے اعتبار سے
27:49ارشاد ہو رہا ہے
27:50اِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْرِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيْتَائِذِ الْقُرْبَى
27:55بے شک اللہ تعالی حکم دیتا عدل کا
27:58اور احسان کا
28:00اور رشتداروں کا حق ادا کرنے کا
28:02آگے فرمایا
28:03وَيَنْهَا عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْدِ
28:07اور اللہ منع فرماتا ہے
28:08بے ہیائی کی بات سے
28:10منکر سے اور بغ
28:12یعنی زیادتی کے کاموں سے
28:16اللہ تمہیں نصیت فرماتا ہے
28:18تاکہ تم دھیان دھو
28:19اور ان چیزوں کو سمجھ کر
28:21ان پر عمل درامت کرو
28:22کرنے والے کاموں کو کرنا
28:24اور نہ کرنے والے کاموں سے بچنا
28:26اس کی توجہ اللہ تمہیں دلا رہا ہے
28:29بہت جامع آیت ہے
28:30اور جب آپ تفاصیل کا مطالعہ کریں گے
28:33تو کئی صفحات پر
28:34تفاصیل کا مواد
28:36یعنی کانٹینٹ آپ کو ملے گا
28:38ان چھے باتوں کے حوالے سے
28:40مختصر مختصر چند باتیں
28:41عدل کیا ہے
28:42عدل ہے جس کا جو حق بنتا ہو
28:45وہ دے دیا جائے
28:46پھر یہ عدل اللہ بھی فرماتا ہے
28:48پوری کائنات اللہ نے عدل پر قائم کی
28:50اور یہ عدل
28:52اولاد میں بھی مطلوب ہے
28:53ملازمین میں بھی مطلوب ہے
28:55کسی کے ایک سے زیادہ بیویاں
28:56ان کے درمیان میں بھی مطلوب ہیں
28:58یہ عدالت میں بھی مطلوب ہیں
29:00یہ گھر میں بھی مطلوب ہیں
29:01یہ پوری زندگی میں مطلوب ہے
29:03جس کا جو حق بنتا ہو دیا جائے
29:05احسان حسن سے ہے
29:07aahsan urdumah means of course that is good
29:08and how is it?
29:10anadagy se deena aah amal ko
29:12this is aahsan.
29:14and aahsan what is it?
29:15adal quranon ka tqadah bantah hai
29:18aahsan akhlaq ka tqadah bantah hai
29:20subhanallah
29:21hem ne kisi ke saat eek kama ka nye ke baaree me
29:23mazuduri taya ka li
29:24bhii mait taomhe 10,000 rupay doon ga
29:26ee kama tam ne kerna hai
29:27usne kama kiya
29:28hemei achha bhi laga
29:29hem ne 10 ke bjae 11,000 rupay dhe dhi
29:31ee adal kya tha
29:3210,000 rupay
29:331,000 rupay kya hai
29:34yeh aahsan hai
29:35to qanon se aaghe badekar
29:37akhlaq ka rupay ya
29:38ee akhtiyar karna
29:39و yad rukhie ga
29:40zindagy ki maamalat
29:41khasata wa gharilu
29:42zindagy qanon ke dhunday per
29:43naihi chelti
29:44qanon ke zhor per nai chelti
29:45akhlaq ke zhor per chelti hai
29:48parahat
29:49وَعِتَعِذِ القُرْبَ
29:50وَعِتَعِذِ الْقُرْبَ
29:52وَعِتَعِذِ الْقُرْبَ
30:02وَعِتَعِذِ الْقُرْبَ
30:31وَعِتَعِذِ الْقُرْبَ
30:33ہم سب کو پتا ہے
30:34قانون توڑنا
30:35ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے
30:36اخلاق تو دور دور کی بات ہو جاتی ہے
30:38اور دینا کیا
30:39چھیننے پر ہم
30:40آمادہ دکھائی دیتے
30:42استغفراللہ
30:43اللہ حفاظت فرمائے
30:44تین باتوں سے منع کیا گیا
30:46وَيَنْحَ عَنِ الْفَحْشَ
30:47اللہ فَحْشَا سے منع کرتا ہے
30:50کھلی فازِ بےہودہ باتیں
30:52چاہے وہ بے پردگی کی بات ہو
30:54وہ زنا کی دعوت کی بات ہو
30:56اور ایسے کام جس سے
30:58زنا کی خواہش پیدا ہوتی ہو
31:00یہ گندے و بےہودہ کام کرتا
31:02استغفراللہ
31:02یہ سب فحشا میں داقل ہے
31:04منکر سے اللہ منع فرماتا ہے
31:06منکر وہ بھی چیز ہے
31:08جس کو ہماری فطرت پسند نہیں کرتی
31:10جھوٹ برا ہے
31:10یہ لگ بات ہے
31:11بہت سے لوگ بولتے لیکن
31:12جب ہمارے ساتھ کوئی جھوٹ بولتا ہے
31:14تو اچھا لگتا ہے یا برا لگتا ہے
31:15برا لگتا ہے نا
31:17جھوٹ برا ہے
31:17وعدہ خلافی بری بات ہے
31:19تو شریعت بھی منع کرتی
31:21شریعت نے جن کاموں سے روک
31:22ان کو منکرات کہا جاتا ہے
31:23تو منکر سے اللہ نے منع کیا
31:25بغل کہتے ہیں
31:26زیادتی کو
31:27حق تلفی کرنا
31:28دوسرے کا حق ادا نہ کرنا
31:30بلکہ چھینگ لینا
31:31وراست کا استعمار جاتے ہیں
31:33ہے کہ نہیں
31:33مزدوری وقت پر ادا نہیں کرتے
31:36امپلائر جو وہ
31:37امپلائی کی تنخواہ وقت پر ادا نہیں کرتا
31:39اپنے وعدے کو ہم پورا نہیں کرتے
31:41دوسرے کا نفسان کرتے ہیں
31:42معادلہ ہی زیادتی کے کام ہیں
31:43اللہ تعالی فحشا سے
31:45منکر سے
31:46اور زیادتی کے کام
31:47اسے منع فرماتا ہے
31:48مزید آپ پڑھئے گا
31:49تفاصیل کا مطالع کر کے
31:50تو بڑی حکمت کی باتیں سامنے آئیں گی
31:52بہت جامع آیت قرآن پاک کی
31:54تین باتوں کے کرنے کا حکم
31:56عدل کا حکم
31:57احسان کا حکم
31:58اور اشدار کا حق
31:59آگے بڑھ کر ادا کرنے کا حکم
32:01اور تین باتوں سے رکا گیا
32:03منع کیا ہے کہ
32:03فحشا سے
32:04منکر سے
32:05اور بغیانی زیادتی کے کاموں سے
32:07یعیذکم لعلکم تذکرون
32:10اللہ تمہیں وعاث فرماتا ہے
32:12نصیت فرماتا ہے
32:13تاکہ تم دھیان دو
32:14اور ان باتوں کے مطابق عمل کرو
32:16اللہ تعالی مجھے اور آپ کو عمل کی توفیق عطا فرمائے
32:19اب جمعہ کے خطبات میں جب یہ آئے سنیں
32:21تو توجہ کے ساتھ سنیں
32:22بڑی جامع آیت ہے
32:23اور بڑی قیمتی احکامات اس میں عطا کیے گئے
32:26اگلی دو آیات جن کا انتخاب کیا گیا
32:29سورہ نحل کی وہ آیات ہیں
32:30چھانوے اور ستانوے
32:31حقیقی زندگی کا تذکرہ
32:33اور بہت پیارا مقام ہے
32:35اشاد ہوا
32:39جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا
32:41اور جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
32:43وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے
32:44دنیا
32:44اللہ ہی نے بنائی
32:46اللہ ہی نے سجائی
32:47سب کچھ اللہ ہی نے دیا
32:48لیکن تم سمجھتے ہیں کہ تمہارا ہے
32:49میری اونرشپ کا مکان ہے
32:50میری اونرشپ کی گاڑی
32:52اور کچھ اونرشپ کا ماملہ نہیں
32:53دنیا کے ماملہ چلانے کے لئے
32:55ٹھیک ہے
32:55سب اللہ کا ہے
32:56لیکن جو تمہارے پاس ہے
32:57وہ ختم ہو جائے گا
32:58وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقُ
32:59وَجُوَ اللَّهِ بَاقِ
33:00وَوَا ہمیشہ باقی رہنے والا ہے
33:03وَلَنَجَزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا
33:04اَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
33:07اور ہم ضرور ان کو بدلہ عطا کریں گے
33:10جنہوں نے صبر کیا
33:11ان کے عجر کے اعتبار سے بہترین بدلہ
33:14ان کے ان کاموں کے اعتبار سے
33:16جو بہترین کام انہوں نے کی
33:17ضرور بدلہ دیں گے
33:18صبر کرنے والوں کو
33:20ان کے عجر کے اعتبار سے
33:21کن کاموں کے اعتبار سے
33:22جو بہترین کام انہوں نے کی
33:24یہ دو ترجمہ ممکن ہیں
33:25بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
33:27بہترین بدلہ دیں گے ان کے کاموں کا
33:29or that He will have通 honesty in general
33:33whoever 누가 going to innovate
33:34we apply국 AirTag
33:35or so
33:36or so
33:37just
33:38ederim
33:38you think
33:40worshipping
33:41what much
33:51water
33:51Allah has done our work with better and better and better and better and better.
33:59The next verse is a good one.
34:01He said,
34:31اور یہ میدان ہے جہاں مرد عورت ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں آمال صالحہ میں ایمان کی
34:36شد کے ساتھ
34:37تو جو کوئی بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت بشرتے کے ایمان والا ہو اللہ پاکیزہ زندگی عطا
34:42کرے
34:42یہ پاکیزہ زندگی کیا ہے دنیا میں بھی سکون اتمنان نعمت پر شکر کا جذبہ
34:48مسئیبت پر صبر کا پہلو مشکلات میں اللہ پر توقع کا معاملہ
34:52اللہ کی طرف رجوع کرنا دل میں اتمنان کا ہونا روحانی سطح پر مضبوط ہونا
34:56ایمان کی آبیاری کا ہونا یہ دنیا میں حیاتِ طیبہ ہے
34:59پھر قبر میں اللہ تعالیٰ ثابت قدمی دیتے سوالات آسان ہو جائیں
35:03راحت والی قبر مل جائیں حشر کے میدان میں سوالات آسان ہو جائیں
35:06برزق کی زندگی کے آگے بڑھ کر قیامت کے دن کے معاملات آسان ہو جائیں
35:09جنت میں اللہ تعالیٰ داخلہ پھر ہمیشہ ہمیشہ کی پاکیزہ زندگی
35:13سبحان اللہ
35:17ہم انہیں ضرور ان کا بدلہ عطا کریں گے ان کے بہترین آمال کی نسبت سے جو وہ کرتے رہے
35:22یہ بات پہلے بھی ہمارے سامنے آگئی تھی
35:24تو یہاں بتایا گیا کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والے
35:28تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا
35:30اور نیک آمال ایمان کے ساتھ جب انجام دیے جائیں
35:33تو حیاتِ طیبہ اللہ عطا فرماتا ہے
35:37اگلا مقام جس کا انتخاب کیا گیا ہے سورہ نحل کی آیت نمبر 112 ہے
35:42ناشکر گزار بستی کے مثال
35:44اور مفسیلی نے لکھا کہ یہ مکہ والوں کا تذکرہ ہے
35:47جنہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قدر نہیں کی تھی
35:50تو اللہ تعالی نے ان پر قہد مسلط کیا تھا
35:53اور پھر عموم کے اعتبار سے جو لوگ اللہ کی ناشکری کریں
35:57تو پھر ناشکروں کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے عذاب کے فیصلے بھی ہوتے
36:01بتایا جا رہا ہے سورہ نحل کی آیت نمبر 112 میں اشاد ہوا
36:04وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرِيَتًا
36:07اور اللہ تعالی نے ایک بستی کی مثال بیان فرمائی
36:10قَانَتْ آمِنَتَ مُطْمَئِنَّا
36:12وہ امن میں تھی اتمنان سے رہتی تھی
36:14وہ بستی یعنی بستی والے امن اور اتمنان کے ساتھ جی رہے تھے
36:17يَأْتِهَ رِزْقُهَ رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَان
36:20ان کے پاس ان کا رزق ہر جگہ سے چلا آتا تھا
36:24فَكَفَرَ بِأَنْ عُمِلَّا
36:26تو انہوں نے اللہ تعالی کی نعمتوں کا ناشکری کا رویہ اختیار کیا
36:30ناشکری کی
36:31کفران نعمت جسے کہتے ہیں
36:33فَأَذَاقَ اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ
36:36تو اللہ تعالی نے ان پر بھوک اور خوف کا لباس انہیں عذاب مسلط کر دیا
36:41بِمَا قَانُ يَسْنَعُونَ
36:42ان کے کرتوتوں کی وجہ سے جب وہ کر رہے تھے
36:45اللہ تعالی نے ایک بستی کی مثال دی
36:47اکثر مفسرین نے مکہ والوں کا ذکر کیا
36:50اور مکہ مکرمہ میں آپ کو پتا ہے
36:51کہ ابراہیم علیہ السلام کی دعاوں کی بدولت کیا
36:53کچھ میں اثر نہیں ہے
36:54اور وہاں کچھ نہیں اگتا مگر اللہ کی نعمتیں تھی
36:57مگر پھر انہوں نے اللہ کی نعمت کی ناقدری
37:00کی اثر سے بڑی نعمت کیا آتا ہو رہی
37:01قرآن پاک کی صورت میں
37:02رسول اکرم علیہ السلام کی صورت میں
37:05عظیم ترین نعمت لیکن یہ مکہ والے انکار کر رہے ہیں
37:08تو اللہ تعالی نے ان پر
37:10بھوک اور خوف کا لباس
37:12مسلط کر دیا
37:13ایک سات برست قیت ان پر
37:15مسلط ہوا ان کی ناشکری
37:18کے رویوں کی وجہ سے
37:19ہمارے لئے رہنمائی کیا ہے
37:23اکتیس مرتبہ یہ الفاظ سورہ رحمان میں آئے
37:26اکتیس مرتبہ ایک ہی آیت کو دھرائے گیا
37:28تم اپنے رب کے کن کی نعمتوں کو
37:29جھٹلا ہوگے اور ہم نے سورہ ابراہیم میں پڑھا
37:32سورہ نحل میں بھی ہے
37:33وَإِن تَعُدُّ نِعْمَتُ اللَّهِ لَا تُخْصُوحَ
37:36اور تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو بھی
37:38تو شمار نہیں کر سکتے
37:40تو اللہ کی نعمتوں کی
37:42قدر کر رہے ہیں
37:44کس طرح عالم عرب میں بھی ہم دیکھتے ہیں
37:46اور ہمارے معاشرے میں بھی
37:47اللہ کی نعمتوں کو ضائع کیا جا رہا ہے
37:49پھیکا جاتا ہے ڈم کیا جاتا ہے استغفراللہ
37:51اور ناشکری کا اور بھی رویہ اختیار کی جاتے ہیں
37:54کلماتِ کفر تک زبان پر آ جاتے ہیں
37:56استغفراللہ ہمارا تو گزارہ نہیں ہو رہا
37:58ہم سے زیادہ کوئی فقیر اور موتاج نہیں
38:00حالانکہ کھاتے بھی ہیں پیتے بھی ہیں سوتے بھی ہیں
38:02جاگتے بھی ہیں سب کچھ کرتے ہیں استغفراللہ
38:04تو پھر ناشکری پر اللہ تعالیٰ کا بھی
38:06بھوک اور خوف کا
38:08عذاب بھی مسلط کر دیتا ہے
38:11اللہ ہمیں ناشکری سے بچائے
38:12اور اپنے شکر گزار بندوں میں
38:14شامل فرمائے
38:16اس کے بعد اگلی اور آخری آئے
38:18جس کا ہم نے انتخاب کیا سورہ نحل میں سے
38:20وہ سورہ نحل کی آیت نمبر ایک سو پچیس ہیں
38:23یا دعوت دین کے تین پہلو
38:25ذکر کیے جا رہے ہیں
38:26مختلف نویت کے لوگ ہوتے ہیں
38:28مختلف کیفیات والے لوگ ہوتے ہیں
38:30تو تین اعتبارات سے
38:32دعوت کے تین لیولز اور پہلو بیان ہو رہے ہیں
38:35فرمایا ادعو الہ سمین ربی
38:37کا برحکمتی اپنے رب کے
38:39راستی کی طرح دعوت دیجئے حکمت
38:41کے ساتھ حکمت میں
38:43استحکام کا لفظ بھی ذہن میں لے آئی
38:45استحکام پاکستان پاکستان کی
38:47مضبوطی یہ بڑا موضوع ہے نا
38:48اللہ مملکت خدادات پاکستان کو استحکام
38:51اور مضبوطی اعتا فرمائے
38:52تو حکمت میں پختہ
38:55دلائل کا پہلو شامل
38:57ہے سوچنے سمجھنے والے لوگ
38:59معاشرے کے انٹرلیکچولز ہوا کرتے ہیں
39:01معاشرے کا بینٹرسٹ ہوا کرتا ہے
39:03غور فکر کرنے والے لوگ ہوتے ہیں
39:05لیڈرشپ کی کالٹیز رکھنے والے ہوتے ہیں
39:06ان کو دلائل کے ساتھ دعوت دینے کی
39:09ضرورت ہوتی ہے
39:10آگے فرمائے والموعیدت الحسن
39:12امدہ واز کے ذریعے سے
39:15دعوت دی جائے
39:15واز کہتا ہے ایسی بات کچھ دل کو نرم کر دے
39:18دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
39:21پر نہیں طاقت پرواز
39:23مگر رکھتی ہے
39:23معاشرے میں عوام الناس کا طبقہ ہوتا ہے
39:26اکثر ستر اسی فیصد سے زیادہ لوگ
39:28وہ زیادہ فلسفے نہیں پڑھے ہوئے ہوتے
39:30ان کو تو حمدردی کے ساتھ
39:32بات پیش کرنے کی اور واز نصیت کرنے کی
39:34ضرورت ہوتی ہے
39:35اور ان سے مباحثہ کیجئے
39:40مگر بہترین طریقے پر
39:41بعض لوگ ہوتے ہیں فتنہ پھیلانے والے
39:43نہ مانتے نہ ماننے دیتے
39:45اور لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے
39:46آج کل بہت یہ کام چلنا ہے
39:48شبہات پیدا کرنا شکوک پیدا کرنا
39:49دین کے بارے میں
39:51لوگوں کو شبہات میں مبتلا کر دینا
39:54تو ان سے ڈیبیٹ کرنا ہوگا
39:55لیکن ڈیبیٹ کا انداز
39:57آمیانہ قسم کا بازاری قسم کا مناظرے کا
40:00اسٹائل نہیں ہوگا
40:00یہ بھی دلائل کے ساتھ ہوگا
40:02لیکن احسن طریقے پر انداز میں
40:05تو ایک طبقہ انٹیلیکچولز کا
40:07معاشرے کے ذہین افراد
40:08ان کو دعوت دینی
40:09اکثریت کیا ہے
40:10عوام الناس ان کو
40:11درد بھر آواز پیش کرنا ہے
40:13اور ایک فتنہ پھیلانے والے قسم کے لوگ ہوتے ہیں
40:16ان کو دلائل سے جواب دینے کی
40:17خاموش کرانے کی
40:18یہ ضرورت ہوا کرتی
40:19تاکہ جو لوگ حق قبول کر چکے
40:21ان کو بچایا جا سکے
40:23بارحل یہ تین سطح کے اعتبار سے
40:25دعوت دین کا کام کرنا ہے
40:26اور اس میں سپیشلیزیشن بھی ہوگی
40:28خاص طور پہلے اور تیسرے معاملے کے اعتبار سے
40:30آگے فرمایا
40:31اِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ وَلَّعَنَ سَبِیْرِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُحْتَدِينَ
40:37بے شک آپ کا رب خوب جانتا ہے
40:39اس کو جو
40:39اس کے راستے سے بھٹک گیا
40:41اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے
40:43ان لوگوں کو جو ہدایت یافتہ
40:45اللہ تعالی گمراہی کی
40:46ہر شکل سے میرے آپ کی افادت فرمائے
40:48اور اللہ تعالی ہم سب کو
40:50اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں شامل رکھے
40:52اہدین السرات المستقین
40:54یہی دعا ہم سور فاتحہ میں بار بار
40:56مانگ رہے ہوتے ہیں
40:57الحمدللہ ناظر کرم
40:58قرآن پاک کے چودوے پارے کے
41:00مزامین کے بیان کے تعلق سے
41:02سور نحل کی بھی منتخب آیات کا
41:04مطالعہ مکمل ہوا
41:05اب اس کے بعد حاصل کلام
41:07آپ کے سامنے رکھنا چاہیں گے
41:08پہلا نقطہ حاصل کلام کے طور پر
41:10بیٹیوں کی پیدائش کو ناپسند کرنا
41:13اور انہیں بودھ سمجھنا
41:15مشرقین کا طریقہ ہے
41:17اور اللہ تعالی کی ناشکری ہے
41:20اللہ تعالی نے عدل
41:21احسان اور صلح رحمی کا حکم فرمایا ہے
41:24بےہیائی برائی اور سرکشی سے منع فرمایا
41:28بڑی جامع آیت سور نحل کی
41:29جو دنیایوی مال و دولت
41:31ہمارے پاس ہے وہ سب ختم ہونے والی ہیں
41:33اور جو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے
41:36وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے
41:37تو نگاہ کس طرف ہو جو کچھ اللہ کے پاس
41:39اس کی طرف ہو
41:41نعمتوں کی ناشکری پر خوف
41:43اور بھوکی مسئبت جیسے عداب
41:45مسلط کیے گئے جیسے کہ ذکر بھی
41:47ایک بستی کا ہمارے سامنے آیا
41:48اللہ تعالی اپنے شکر گزار بندوں میں
41:51ہمیں شامل فرمائے اور ناشکری کی
41:53ہر روش سے اللہ ہماری افادت فرمائے
41:55ہمیں ذہین لوگوں کو
41:57حکمت یعنی دلائل کے ساتھ
41:59عوام و ناس کو درد بھرے
42:01واز سے
42:02اور اعتراضات کرنے والوں کو
42:05اچھے انداز سے بحث کر کے
42:07دین کی دعوت دینی چاہیے
42:09یہ الگ الگ قسم کے
42:11گروہ یا طبقات ہیں
42:12تو ان کو الگ الگ انداز اور
42:15سٹریٹیجی کے ساتھ ڈیل کرنے کی
42:16ضرورت ہے
42:17ذہین لوگوں کو حکمت یعنی دلائل کے ساتھ
42:20عوام و ناس کو درد بھرے واز سے
42:22اور اعتراضات کرنے والے شبہات پیدا کرنے والوں
42:25ان کو اچھے انداز سے بحث کر کے بہرحال دین
42:27کی دعوت دینی چاہیے اللہ تعالی ہم
42:29اس کی توفیق اطا فرمائے آخر میں
42:31معمول کے مطابق ایک حدیث
42:33مبارک پیش خدمت ہے فرمان
42:35نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
42:38رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
42:40نے فرمایا قرآن کریم
42:41کے ایک حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں
42:44عطا ہوتی ہیں جامع ترمزی
42:45کی روایت ہے ایک حرف اور حدیث
42:47مبارک میں آگے الفاظ یہ بھی ہیں
42:49alif 1 harf ہے
42:50lam 1 harf ہے
42:52and meme 1 harf ہے
42:5410 into 3 30
42:57alif alphabet
42:58word
42:591 harf
43:0110 harf
43:0110 harf
43:04Allah
43:05Allah
43:05and
43:05and
43:05and
43:06and
43:07and
43:08and
43:08and
43:10and
43:10and
43:10and
43:12and
43:17and
43:20and
43:22. . . . . . . . . . . . .
Comments