Skip to playerSkip to main content
Khulasa e Mazameen e Quran | Rehmat e Sehr

✨ Don’t miss our special Ramzan programming:
Watch Shan e Ramzan 2026➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Naimat e Iftar | New Episodes | 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifM_2JI-vR0No8J3zKWTdec&si=ydRLxvXrh8nKk3on

Watch Rehmat e Sehr | Ramzan Episode's 2026➡️ https://youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XicMEurbK_1yWAYr02skW7Oq&si=5ZW8tuayXzOGsHwG

Speaker: Shujauddin Shaikh

#ShaneRamzan #ramzan2026 #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Allaha ta kalamu pardha ya Rasul ne, asham beba'r safha ko likha ya Rasul ne
00:09Nakhmeduhu wa nussalli ala Rasulihil karim, amma ba'd, bismillahirrahmanirrahim
00:14Allahumma salli ala Muhammadin wa ala ala Muhammadin wa barik wa sallim
00:18Rabbish rah liyusadrii wa yassir liy amrii wachlul qudata min lihsani yafqahu qawli
00:23wa jahalli wazirah min ahlii, amin ya rabbala alameen
00:26نازی کرام السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:29امید آپ خیر عفیت سے ہوں گے اور ہماری دعا ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں
00:32اللہ تعالی آپ سب کو اور ہم سب کو اپنے حفظ ومان میں رکھے عفیت اور سلامتی سے نوازیں
00:37اللہ تعالی کی توفیق سے خلاصہ مزامین قرآن حکیم کے بیان کا سسلہ جاری ہے
00:42اور آج انشاءاللہ تعالی قرآن حکیم کے 28 پارے کا مطالعہ آپ کے سامنے رکھیں گے
00:47خلاصہ مزامین کے طور پر
00:4928 پارے کا آغاز ہوتا ہے صورت المجادلہ کی پہلی آیت سے اور اس کی تکمیل ہوتی ہے صورت تحریم
00:55کی آیت نمبر بارہ پر
00:5728 پارے میں نو مدنی صورتیں ہیں
01:00مکمل پارہ مدنی صورتوں پر مشتمل ہے
01:02اور آپ کو یاد ہوگا گدشنا نشست مرس کیا گیا تھا
01:05کہ 27 پارے کی آخری صورت صورت الحدید مدنی صورت ہے
01:09اور پھر یہ نو صورتیں 28 پارے میں
01:12یہ کل دس مدنی صورتوں کا بڑا قیمتی اور جامع گلدستہ ہمارے سامنے آتا ہے
01:17آج ہم مطالق کر رہے ہیں 28 پارے کا
01:19سب سے پہلے سورت المجادلہ ہے
01:21آئیے سور مجادلہ کا تعرف چند نکات کی صورت میں آپ کے سامنے رکھتے ہیں
01:24سور مجادلہ کی تعرف کے حوالے سے پہلا نکتا ہے
01:27کہ سورت المجادلہ مدنی صورت ہے
01:29ویسے تمام صورتیں جو 28 پارے میں مدنی صورتیں ہی ہیں
01:32اس صورت کے آغاز میں زمائن جہلیت کی ایک رسم ذہار کی اصلاح کی گئی ہے
01:37اور اس سے مطالق شرع احکام بیان کیے گئے ہیں
01:40زمائن جہلیت میں ہوتا کہ اشیس اپنی بیوی کو کہہ دیتا
01:43کہ تم تو میری ماں کی طرح ہو
01:45تو ماں سے نکاح حرام ہے
01:47وہ بیوی کو معادلہ اپنے اوپر حرام کر دیا کرتے تھے
01:50تو یہ حلال حرام کا فیصد تم کیسے کر رہے ہو
01:52اللہ تعالیٰ نے سرزنش فرمائی ہے
01:55اور تمہارے کہنے سے تمہاری بیوی تم پر حرام نہیں ہو جائے گی
01:57تم اس کو ماں کہہ دو تمہاری ماں نہیں بن جائے گی
02:00یہ زہار کا مسئلہ کہلاتا ہے
02:02اس کے بارے میں شرعی احکامات عطا ہوئے
02:04تفصیل کا موقع نہیں وہ تفاصیل میں آپ دیکھ سکتے ہیں
02:07اسلام کے خلاص سادشے کرنے والے منافقین کو خبردار کیا گیا ہے
02:11کہ ان کی چالیں ناکام ہوں گی
02:13منافقین کا ذکر ہو رہا ہے
02:15سادشے کرتے تھے آسین کے سامت تھے
02:17بتایا جارہا ہے کہ لاکھ کوشش کر لو تم سادشے کر لو
02:20تمہاری چالیں ناکام ہوں گی
02:22مسلمانوں کو آداب مجلس کی تعلیم دی گئی ہے
02:25کسی مجلس میں لوگ زیادہ ہو جائیں
02:27تو دوسرے کے لئے کشادگی پیدا کیا کرو
02:29اللہ تمہارے لئے کشادگی پیدا فرما دے گا
02:31یہ تعلیم بھی عطا کی گئی
02:33سور مجادلہ میں ایک اور اہم پہلو ہے
02:35منافقین پر گرفت کی گئی ہے
02:37کہ یہ شیطان کی جماعت ہے اور بالآخری نقصان اٹھائیں گے
02:40قرآن کریم میں سور مجادلہ ہے
02:42دو ہی جماعتوں کا ذکر آتا ہے
02:44ایک اللہ کی پارٹی
02:45ایک شیطان کی پارٹی
02:46ایک ہے حضب اللہ
02:47ایک ہے حضب الشیطان
02:49تو حضب الشیطان میں کھلے کافر بھی شامل ہیں
02:51اور حضب الشیطان میں یہ آستین کے سام منافقین بھی شامل ہیں
02:55آخر میں حضب اللہ کا ذکر ہے
02:57اللہ والوں کا ذکر ہے
02:58اللہ کی جماعت کے لوگوں کا ذکر ہے
03:00ان کے بارے میں ذکر آ رہا ہے
03:01مخلص اہل ایمان کی صفات کا ذکر ہے
03:04کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
03:07کو اپنے عزیز و اقارب سے مقدم رکھنے والے ہوتے ہیں
03:11اللہ کی بات اس کے رسول کی بات اوپر
03:13باقی ساری رشیداریاں نیچے
03:15رشیدار اگر کفر بر ہیں
03:17تو اس سے کوئی گہرہ تعلق دلی نہیں ہو سکتا
03:19بہرحال اصولی بات کیا ہے
03:21کہ حضب اللہ کے افراد
03:23اللہ اور اس کی رسول علیہ السلام کی محبت کو
03:26ساری محبتوں پر غالب رکھتے ہیں
03:29یہ سور مجادلہ کے تعارف کے حوالے سے چند باتیں
03:31اب آگے بڑھتے ہیں
03:32سور مجادلہ کی ایک آیت کا ہم نے
03:34مطالق اعتبار سے انتخاب کیا
03:36اس کا ذکر آپ کے سامنے رکھتے ہیں
03:37سور مجادلہ کی آیت تنبر ہے
03:39نو نجوہ کی ممانعت
03:41نجوہ قرآن پاک کے اسطلاح ہے
03:43نجوہ کا مطلب کیا ہے
03:44ایک اجتماعیت ہے
03:45جماعت موجود ہے
03:47اور کچھ لوگ علیدہ ہو کر بیٹھ کر
03:48کونے کھدنے میں باتیں کر رہے ہوں
03:50اس سے نفسیاری طور پر برا اثر پڑتا ہے
03:53نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور
03:56منافقین ایسی حرکتیں کرتے
03:57نجوہ کی ادھر کونے میں ادھر کونے میں بیٹھ کر
04:00کانوں کے اندر باتیں کرتے
04:01سرگوشیاں کرتے تھے
04:02جس سے نفسیاری طور پر بھی اثر پڑتا ہے
04:04پتہ نہیں کیا باتیں کر رہے ہیں
04:06پھر اسی طرح وہ نافرمانی کے کاموں کی
04:07سرگوشیاں کرتے تھے
04:08مشورے کرتے تھے
04:09اس پر متنبع کیا جا رہا ہے
04:11خطاب مسلمانوں سے ہے
04:13اور منافقین کو سردنش بھی کی گئی ہے
04:15فرمایے جا رہے ہیں
04:16سورہ مجادلہ کے آیت نمبر نو
04:18اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
04:20بسم اللہ الرحمن الرحیم
04:21یا ایہا اللہین آمنو
04:24اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو
04:25اذا تناجیتم
04:27جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو
04:30تنہائی میں اکیلے میں بیٹھ کر
04:31کوئی باتشیت کرنا چاہو
04:32فلا تتناجو بالعثم والعدوان ومعصیت الرسول
04:36تگنا اور زیادتی اور نافرمانی
04:40رسول اکرم علیہ السلام کی نافرمانی
04:42کے کاموں کے بارے میں
04:43مشورے نہ کرنا
04:44تمہارا یہ نجوہ
04:45تمہارا یہ مشورہ
04:46تمہارے سرگوشیاں
04:47یہ گناہ کے بارے میں
04:49زیادتی کے کاموں کے بارے میں
04:50اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی
04:52نافرمانی کے بارے میں نہ ہو
04:53وَتَنَاجُ بِالْبِغْدِ وَتَقْوَى
04:55اور نیکی اور تقویٰ کی معاملات میں
04:57ایک دوسرے کے ساتھ
04:58تم نجوہ کر سکتے ہو
04:59مراج سرگوشی کر سکتے ہو
05:01سرگوشی اکیلے میں
05:02تنہائی میں بات کرنا
05:03تنہائی میں کو بات کرنی بھی ہے
05:05تو کسی کو نیکی کی دعوت دینے کے لیے
05:07کسی کو بدی سے رکھنے کے لیے
05:08کسی کی مدد کرنے کے لیے
05:09اچھے بات
05:10اچھی کام ہے
05:10نیکی کی بات
05:11تقویٰ کی بات
05:12لیکن گناہ
05:13زیادتی پیغمبر کی نافرمانی کے باروں میں
05:15سرگوشیاں کر رہے ہو
05:16تو پھر آگے فرما کہ
05:17وَتَّقُ اللَّهُ
05:18اور اللہ سے ڈرو
05:19الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
05:21جس کی حضور تمہیں جمع کیا جائے گا
05:23بارال جماعتی زندگی کے بارے میں
05:25اہم ہدایت ہے
05:26زیادہ تفصیل کا موقعی تفاصیل
05:28کو دیکھا جا سکتا ہے
05:29سورہ مجادلہ کے بعد
05:31اٹھائیسے پارے میں
05:32اگلی سورت آتی ہے
05:33سورت الحشر
05:34آئیے سورت الحشر کا تعرف
05:36چند نکات کی سورت میں
05:37آپ کے سامنے رکھتے ہیں
05:38یہ سورت چار ہجری میں
05:40مدینہ منورہ میں نازل ہوئی
05:41غزوہ بنی نذیر کا ذکر ہے
05:44آپ کے علمے ہیں
05:45مدینہ طیبہ میں
05:46یہود کے کچھ قبائل آباد تھے
05:48ان قبیروں نے جا بھجا
05:49مسلمانوں کو خلاص سادشے کی
05:50تو ان کے خلاف اقدامات کیے گئے
05:52بنو نذیر کا قبیلہ تھا
05:54ان کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم
05:56نے سنچار ہجری میں اقدام کیا
05:58اس کا ذکر سورہ حشر میں
06:00ہمارے سامنے آتا ہے
06:01بنو نذیر کی ذلت آمیس
06:03جلا وطنی کا ذکر کر کے
06:05لوگوں کو ان کے انجام سے عبرت
06:07حاصل کرنے کی تلقیم کی گئی ہے
06:08دشمنان دین ہو
06:10دشمنان اسلام ہو
06:11دشمنان مسلمان ہو
06:12ان کو کہا جارہا ہے
06:13کہ ان کے انجام سے عبرت پکڑو
06:15تمہارے لئے بھی
06:16اللہ کی طرح سے پکڑ کا فیصلہ آ سکتا ہے
06:18اگر ایک اور اہم نقطہ
06:20خاص بنو نذیر کے حوالے سے
06:21جو اقنام ہو اس کے ذل میں
06:23وہ مال جو بغیر کسی قتال کے محض
06:25اللہ تعالیٰ کے فضل سے
06:27مسلمانوں کے ہاتھ آئیں
06:28مال فی کہلاتا ہے
06:30اس کے بارے میں
06:31احکام بیان کیے گئے ہیں
06:32ایک ہے بالی غنیمت
06:33بدر کے بیان میں
06:35آپ کے علمیں ہیں
06:35ہمارے علمیں ہم جانتے ہیں
06:36تو بقاعدہ جنگ کے نتیجے میں
06:38مسلمانوں کو ہاتھ آئے
06:40مال
06:40اسباب
06:41یہ مال غنیمت ہے
06:42اس کے احکام سورہ انفال میں
06:44بغیر جنگ مسلمانوں کو
06:45مال اور اسباب مل جائے
06:47اتھائی کونسی جنگ کی مراد ہو رہی
06:48آپس میں لڑڑ رہے ہیں
06:49ایک دوسرے کو قتل کر رہا ہے
06:51بھائی اس جنگ کی بات نہیں ہو رہی
06:52وہ جو شرعی تقاضوں کے مطابق
06:54اللہ تعالیٰ نے ہدایات عطا فرمائی
06:56ان کے مطابق قتال فی سبیل اللہ کیا جائے
06:59اس کے حوالے سے بات ہو رہی
07:00تو بغیر جنگ
07:01اگر مال ہاتھ آئے
07:03اس کو مال فی کہا جاتا ہے
07:05اس کے بارے میں ہدایات
07:06سورہ حشر میں عطا کی گئی
07:08گردش دولت کا اصول ذکر کیا گیا ہے
07:10آگے اس پر کلام بھی کیا جائے گا
07:12اللہ تعالیٰ چاہتا ہے
07:13کہ دولت جو ہے وہ معاشرے میں گردش کرے
07:15سرکولیشن آف ویلد ہوتی رہے
07:17دولت چند امیروں کے ہاتھ میں
07:19کنفائنڈ ہو کر محدود ہو کر
07:21نہ رہ جائے
07:22رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
07:24کی کامل اطاعت کا حکم دیا گیا ہے
07:27اور یہ بات ہے ہم نے سور نسا میں
07:28تفسیر سے سمجھی تھی
07:29کہ منافقین پر
07:30رسول اکرم علیہ السلام کی اطاعت بڑی بھاری تھی
07:33ہمارے دور میں جلوگ منکرین سنت ہیں
07:35سنت و حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا
07:38سرے سے انکار کرتے ہیں
07:39ان کے لئے بھی رسول اللہ علیہ السلام کی شخصی اطاعت کرنا
07:42بڑا بھاری معاملہ ہو جاتا ہے
07:44اللہ حکم دے رہا ہے
07:44رسول اکرم علیہ السلام کی کامل اطاعت کا
07:47مہاجرین اور انسار کی تحسین
07:49اور منافقین کے مضمت بیان کی گئی ہے
07:51مہاجرین نے اپنے گھر بار کو چھوڑا
07:53اللہ کے خاطر
07:54اور انسار مدینہ ان مہاجرین کو
07:56ویلکم کہا
07:57ان کی بھرپور مدد کی خوب عصار کیا
07:59ان کی تحسین ہے
08:00اور آستین کے سام منافقین
08:03جنہوں نے بنو نظیر کا ساتھ دینے کے دعوے کیے تھے
08:06ان کی اللہ تعالیٰ نے مضمت بیان کی
08:08مخلص اہل ایمان اور قرآن مجید کی عظمت کا ذکر ہے
08:11مشہور آیت
08:12کہ قرآن پاک اگر کسی پہاڑ پر نازل ہوتا
08:15تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا
08:16اللہ کے خشیت کی وجہ سے
08:18قرآن پاک کے جلال کی وجہ سے
08:19یہ آیت بھی سورہ حشر کے آیتیں کس ہیں
08:21اللہ تعالیٰ کی عظمت اور صفات عالیہ بیان کی گئی ہیں
08:25اللہ تعالیٰ کے مشہور جو صفاتی نام ہے
08:27الملک القبدوس السلام المؤمن المہیمن العزیز الجبار المتکبر
08:32یہ سب نام صفاتی نام
08:34یہ سورہ حشر کی آخری آیات میں ہمارے سامنے آتے ہیں
08:37یہ تعروفہ سورہ حشر کے حوالے سے
08:39چند نکات کی صورت میں اب چلتے ہیں
08:41سورہ حشر کی جس آیت کا ہم نے انتخاب کیا
08:44بہت جامع آیت ہے جس میں تین ہدایات عطا کی جا رہی ہیں
08:48سورہ حشر آیت نمبر سات
08:51ما افا اللہ علیہ رسولہ من اہل القرآن
08:55جو کچھ اللہ تعالیٰ نے بستی والوں میں سے
08:58لوٹا دیا رسول اللہ علیہ السلام کی طرف
09:02فللہ ولی رسولی ولید القربہ والیتام والمساکین وابن سبین
09:06تو یہ سب کس کا ہے
09:08یہ اللہ کا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا
09:11اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داروں کا
09:14اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا ہے
09:16یہ مال فی کا ذکر آ رہا ہے
09:19ویسے فی یہ عربی کا لفظ ہے
09:21قرآن پاک کا انگلیش والا ف اے وائ نہیں ہے
09:23تو یہ فی جو ہے لوٹا دینے کا مفہوم دیتا ہے
09:26بغیر جنگ مسلمانوں کو جو مال میسر آئے
09:29کفار سے وہ ہے مال فی
09:31اس کی احکامات کا بیان ہے
09:33اور یہ اللہ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے
09:36علیہ السلام مراد یہ بیت المال میں جائے گا
09:38مسلمانوں پر خرچ ہوگا
09:39خاص طور پر ضرورت مندوں پر
09:40اور رسول کے رشتہ داروں کے لئے
09:42صلی اللہ علیہ وسلم کیوں
09:43حضور نے اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے
09:46صدقے کو ممنوع قرار دے دیا تھا
09:48تو مال فی میں سے حضور کے رشتہ داروں کو بھی عطا ہوگا
09:51اور یتیموں کو
09:52مسکینوں کو اور مسافروں کو
09:54باقی مسیح شریع احکام تفاصیل میں دیکھے جا سکتے
09:57دوسری اہم ہدایت
10:02کہیں دولت تمہارے چند امیر لوگوں کے درمیان میں ہی محدود نہ رہ جائے
10:08یہاں مال غنیمت کا حکم ہے
10:10ہمارے دین میں زکاة کا حکم ہے
10:12عشر کا حکم ہے
10:13اور اسی طرح صدقات واجبہ کا حکم ہے
10:16جیسے کہ صدقہ فطر ہے
10:17وسیعت کے احکامات ہیں
10:19وراست کے احکامات ہیں
10:20مال غنیمت کے احکامات ہیں
10:22اب مال فی کے احکامات ہیں
10:24ان سارے احکام کا بڑا مقصد کیا ہے
10:27دولت گردش میں رہے
10:28عمرہ سے وہ اس کا فلو
10:30غربہ کی طرف جائے
10:32تاکہ ان کو بھی جینے کا حق ملے
10:33اور سرکولیشن جب زیادہ ہوگی
10:35مورڈن ایکنومکس میں بھی بتایا جاتا ہے
10:37کہ بیٹر دی سرکولیشن بیٹر دی اکانومی
10:40جتنا یہ دولت گردش کرے گی معاشرے میں
10:42اتنی معیشت بہتر ہوگی
10:44تو اسلام نے اصول عطا کیا
10:46معیشت کا وہ یہاں بیان ہوا
10:47کہ دولت تمہارے چند افراد کے درمیان محدود نہ رہ جائے
10:50اب آپ غور کریں
10:51سود کی ممانعیت
10:52جوے کی ممانعیت
10:53سٹھے کی ممانعیت
10:55حرام کی دیگر ذرائع کی ممانعیت
10:56کیوں ان کی وجہ سے
10:58مال چند افراد کے ہاتھ میں محدود رہتا ہے
11:00امیر امیر سے عبیر تر غریب غریب سے غریب تر ہوتا رہتا ہے
11:03یہ اسلام کا پولیس اسٹیٹمنٹ ہے
11:05معیشت کے معاملات میں
11:06یہ دولت چند افراد جو کہ امیر ہوں
11:08ان کے ہاتھوں میں محدود نہ رہے
11:10بلکہ معاشرے میں گردش کرتی رہے
11:12تیسی ہدایت
11:13وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُضُ
11:15اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
11:18جو تمہیں عطا فرمائے
11:20مراد حکم دے
11:21فَخُضُ اسے تھامو
11:22مراد اس کے تقاضوں پر عمل کرو
11:24وَمَا نَحَاكُمْ عَنْهُ فَمْتَهُ
11:26اور جس بات سے منع فرما دے
11:28روگ دے اس سے باز آجاؤ
11:29یہ رسول اللہ علیہ السلام کی
11:30اثورٹی کا بیان
11:31آپ کی سنت کی اثورٹی
11:34آپ کی حدیث کی
11:35خجیت کا بیان
11:36اللہ بھی حکم دیتا ہے
11:37اللہ کے رسول بھی حکم دیتا ہے
11:38صلی اللہ علیہ وسلم
11:39اللہ تعالی بھی حلال قرار دیتا ہے
11:41حضور بھی حلال قرار دیتے ہیں
11:42اللہ تعالی کچھ باتوں کو حرام قرار دیتا ہے
11:44حضور علیہ السلام بھی حرام قرار دیتے ہیں
11:46اور اللہ کے حکم سے
11:47یہ حضور کی اثورٹی کا بیان
11:48جو حکم دے امان ورعمل کرو
11:50اور جس سے روک دے اس سے روک جاؤ
11:52وَتَّقُوا اللَّهُ اور اللَّهُ کا تقوی اختیار کرو
11:54إِنَّ اللَّهَ شَدیدُ الْعِقَابِ بِشَكْ اللَّهُ شَدیدُ سَزَا دینے والا ہے
11:59اللہ ہم سب کو اپنی سزا سے معفوظ رکھے
12:01اور ان احکامات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے
12:04سورة الحشر کے بعد 28 پیارے میں سورة الممتحنہ کا آغاز ہوتا ہے
12:09آئیے سورة الممتحنہ کا تعرف مختصر نکات کی صورت میں آپ کے سامنے رکھتے ہیں
12:13سورة الممتحنہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی
12:17اہل ایمان کو تعلیم دی گئی کہ کسی حال میں اور کسی غرض کے لیے بھی
12:21اسلام کے دشمن کفار کے ساتھ محبت اور دوستی کا تعلق نہ رکھیں
12:26اللہ اکبر اسلام دشمن مسلمانوں کے دشمن کفار
12:31کسی طور پر بھی ان کے ساتھ کوئی محبت کا دوستی کا تعلق نہ رکھا جائے
12:35یہ ہے جو ہمارے دین کے واضح تعلیم ہے
12:37آج مسلمان حکمرانوں کی حرکتیں اور مسلمان عوام بھی کم نہیں ہیں
12:41ان کے بھی رول موڈل کون ہیں ان کو بھی پسند کس کی تیزیب ہے
12:44ہم سب کو معلوم ہیں
12:45اصول کیا بتایا گیا
12:47اسلام دشمن کافر ہیں
12:48ان سے کوئی محبت اور دوستی کا تعلق نہیں ہو سکتا
12:52آگے مزید رہنمائی
12:53اہل ایمان کو ہدایت دی گئی ہے کہ اسوے ابراہیمی کی پیروی کرے
12:57ابراہیم علیہ السلام نے اپنی پوری قوم کے مقابلے میں کھڑے ہو کر
13:00کلمہ توحید کو بلند کیا تھا اس مشرکانہ محول میں
13:04تو بتایا جا رہا ہے کہ تمہارا کفر والوں کے ساتھ
13:06شرک کرنے والوں کے ساتھ
13:07کوئی تعلق نہیں ہو سکتا
13:09کوئی دلی دوستی نہیں ہو سکتی
13:11اور اس حوالے سے ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ تمہارے لئے بہترین ہے
13:16شرائط سورہ حدیبیہ کی زمن میں
13:18مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کر کے آنے والی
13:21مسلمان عورتوں کے بارے میں رہنمائی عطا کی گئی ہے
13:24سورہ حدیبیہ سن چھے ہجری میں پیش آئی
13:26سورہ فتح میں ہم نے اس کا مختصر ذکر کیا تھا
13:29چھبیس پارے میں
13:30وہاں ایک بات تیہ ہوئی تھی
13:31کہ مسلمان تو مدینہ شریف میں آباد ہیں
13:33اب اگر مکہ سے کوئی مسلمانوں کے پاس مدینہ آئے گا
13:36تو مسلمانوں کو لوٹ آنا پڑے گا
13:38اب ایک مشکل پیش آگئے
13:39ایک مسئلہ پیش آگیا
13:40کچھ عورتیں مکہ مکرمہ سے مدینہ شریف آگئیں
13:43اب کیا کیا جائے
13:43تو اللہ تعالی نے رہنمائی دی ہے
13:45کہ ایسی خواتین جو مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ آ جائیں
13:48اور تم دیکھ لو کہ وہ صاحب ایمان ہیں
13:51اتمنان کر لو
13:52تو ان کو تم روک لو
13:53یہ کافروں کے طرف لوٹائی نہیں جائیں گی
13:56اس حوالے سے یہاں پہ رہنمائی عطا کر کے
13:58اس مسئلے کا حل اللہ تعالی نے عطا فرمایا
14:00سور ممتہینہ کے آخر میں
14:02خواتین کی بیعت کا ذکر کیا گیا ہے
14:04جی ہاں بیعت کا ذکر
14:05بیعت رضوان کا انہیں مطالعہ کیا تھا کہاں
14:08سورہ حدیبیہ کے بیان میں
14:09چھبیس پارے میں سورة الفتح میں
14:11یہاں سورہ ممتہینہ کے آخر میں
14:13خواتین کی بیعت کا ذکر ہے
14:14ہمارے دین میں جماعت بنانے کے اعتبار سے
14:17جو اسوہ ملتا ہے جو تعلیم ملتی ہے
14:20قرآن کریم میں
14:21سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
14:22احادیث میں امت کی چودہ صدیوں کی تاریخ میں
14:25وہ بیعت کا تصور ایک امیر اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی
14:28سورہ ممتہینہ کے آخر میں
14:29خواتین کے بیعت کا ذکر بھی کیا گیا ہے
14:31اب آئیے سورہ ممتہینہ کی
14:33دو آیات کا ہم نے انتخاب کیا
14:35ان کا مطالعہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں
14:37یہ سورہ ممتہینہ کی آیت نمبر آٹھ اور نو ہے
14:40کفار کے مطالق رویہ
14:42کفار سارے برابر نہیں ہوتے
14:44تو کون سے کفار ہیں
14:46جن کی ساتھ حسن سلوک ہو سکتا ہے
14:47حسن سلوک
14:49حسن سلوک تو جانوروں سے بھی کرنا ہے
14:50ہمارے دین کی تعلیم ہے
14:52تو کفار اگر
14:53وہ ہیں تو انسان نا
14:54لیکن وہ کون سے کفار
14:56جو جنگ نہ کرتے ہوں
14:57جو تم سے جنگ نہ کرتے ہوں
14:59تمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکال
15:00وضاحت کی جاری ہے
15:01تو ایک وہ کفار ہے
15:03جن کے ساتھ حسن سلوک ہو سکتا ہے
15:04لیکن جو دین دشمن ہوں
15:05اسلام دشمن ہوں
15:06ان کے ساتھ تو یہ معاملہ نہیں ہوگا
15:08اور تمہاری دلی دوستی ہے
15:10تو کافروں کے ساتھ نہیں ہوں گی
15:11مسلمان کی دلی دوستی
15:13مسلمان سے ہو سکتی ہے
15:14This is not possible to be able to do this
15:17This is the way to be able to do this
15:19Surah Al-Mumtahina, Ayat 8 and 9
15:21Firmaya
15:27Allah Ta'ala, Tumh'i Manah, Nahi Firmata
15:30Unlooghoke Barhe Me
15:31Jinnohne Tumhse Dienke Maamalhe Me JengNahi Kyi
15:34Wa Lham Yukhurijuku Min Diyarikum
15:36Or Na Tumhye Tumhare Gharo Se Nikala
15:38An-Tabarruhum Wa Tuqusitu Ilihim
15:40کہ تم ان کے ساتھ حسن سلوک کرو
15:42اور ان کے ساتھ عدل کا معاملہ کرو
15:45اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
15:46بے شک اللہ عدل کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے
15:49تو وہ کفار جو تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کرتے
15:52تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالتے
15:54ظلم نہیں کر رہے نا
15:55تو جاؤ حسن سلوک کرلو ان سے
15:57کوئی حرج نہیں
15:57ان کے ساتھ عدل کرو
15:59کافر بھی ہے لیکن عدل کیا جائے گا
16:01اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
16:02یہ بہت بڑی عظیم تعلیم ہے ہمارے دین کی
16:05چاہے کافر ہے
16:06معاملہ پیش آئے گا عدل کا معاملہ کرنا
16:08اچھا یہ کون سے کافروں کا ذکر ہوا
16:10تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کرتے
16:12تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالتے
16:13تو حسن سلوک کرلو
16:14عدل کا معاملہ کرلو
16:16دلی دوستی نہیں
16:17مسلمان کی دلی دوستی نہیں ہوگی کافر کے ساتھ
16:20یہ نکتہ اور کلیارٹی کے ساتھ
16:21ہمارے سامنے رہنا چاہیے
16:22اچھا اب کن کے بارے میں منع کیا جا رہا ہے
16:25اب بتایا جا رہا ہے اگلا نکتہ
16:26دوسرے قسم کے کفار
16:32بے شک اللہ تعالیٰ
16:34تمہیں منع فرماتا ہے
16:35ان لوگوں کے بارے میں
16:36جنہوں نے دین کے معاملے تم سے جنگ کی
16:39واخرجوکم اندیارکم
16:40اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا
16:42وظاہر علی اخراجکم
16:44اور تمہارے نکالے جانے پر دوسروں کی مدد کی
16:47آج کشمیر میں ہو فلسطین میں ہو برما میں ہو
16:51دنیا کے دیگر ممالک میں ماضی میں رہا
16:53اب بھی کچھ علاقوں میں ہے
16:54کافر مسلمانوں پر ظلم کرے
16:57مسلمانوں سے جنگ کرے
16:58ان کا جینوسائٹ کرے
17:00ان کی نسل کشی کرے
17:01اللہ اکبر
17:02اور پھر دوسرے کافر ان کا ساتھ دے
17:05مسلمانوں کے خون بہانے میں
17:07مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے میں
17:09مسلمانوں کی بسیت تباہ کرنے میں
17:11ایسے کافروں کے ساتھ
17:13ام تولوہم
17:14اللہ منع فرماتا ہے تمہیں کہ تم ان سے دوستییں اختیار کرو
17:18وَمَيَّتَوَلَّهُمْ
17:18اور جن سے دوستییں اختیار کرے گا
17:22فَأُولَائِكَهُمُ الظَّالِمُونَ
17:23پس یہی لوگ ظالم ہیں
17:24قرآن کہہ رہے ہیں بھائی
17:25اللہ نے لائن ڈروہ کر دی
17:27ایک یہ ہے جو جنگ نہیں کرتے
17:29تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالتے
17:30اسے سلوک کر لو
17:30ایک ہے جنگ کرتے
17:32تمہیں تمہارے گھروں سے نکالتے
17:33تمہارے مسلمان بھائیوں بہنوں بچوں بھوڑوں کو نکالنے پر
17:36ان کے ساتھ کوئی دوستی نہیں کی جائے گی
17:40ان کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا
17:42آج دوستیاں بھی ہوں
17:43تعاون بھی ہوں
17:44اور معایدات بھی ہوں
17:45ان کے پروڈکس کو بھی استعمال کیا جائے
17:47اور ان کے ساتھ پینگیں بڑھائیں جائیں
17:48اللہ فرمارا ہے
17:49وَمَيَّتَوَلَّهُمْ
17:50جو ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرے گا
17:52دوستیوں کے
17:56اللہ معفوظ رکھے
17:57اور اللہ ہمیں دینی غیرت عطا کرے
18:00اور مسلمانوں کے ساتھ
18:01دلی دوستی اختیار کرنے کی توفیق دے
18:03نہ کہ کافروں کے ساتھ
18:06سورہ ممتہینہ کے بعد
18:07اٹھائیسے پارے میں
18:08سورة صف کا آغاز ہوتا ہے
18:10آئیے سورة صف کے حوالے سے
18:12چند نکات تعریف کے ذریعے میں آپ کے سامنے رکھتے ہیں
18:14پہلا نکتہ
18:15سورة صف مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی
18:18سورت کا موضوع جہاد و قتال
18:20اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بے عصد کا بیان ہے
18:23بہت ہی جامع صورت ہے
18:25یہ بات پہلے بھی ذکر کی جا چکی ہے
18:27کہ سور حدیث ستائیسے پارے کی آخری صورت
18:30اور یہ اٹھائیسے پارے کی نو صورتیں
18:32کل دس صورتیں
18:33یہ مدینی صورتوں کا بڑا پیارا اور قیمتی گلدستہ ہے
18:36طویل مدینی صورتوں کی جو موضوعات تفسیر سے وہاں پڑھتے ہیں
18:40وہ خلاصے کے طور پر مختصر الفاظ میں
18:42جامع الفاظ میں
18:43ان دس مدینی صورتوں میں ہمارے سامنے آتے
18:45جہاد و قتال کا تقاضی بھی سور صف میں آ رہے ہیں
18:48اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقصد بے صد کو بیان کیا
18:51اور وہ کیا ہے
18:52اللہ کے دین کے غلبے کی جد و جہد کرنا
18:54آگے اس پر ذکر بھی آئے گا انشاءاللہ و تعالی مزید
18:58ترہیب کے انداز میں راہ خدا میں
19:00جہاد و قتال کرنے کا مطالبہ
19:01ترہیب کہتا ہے دراوے کو
19:03جہاد و قتال کا تقاضی کیا جا رہا ہے
19:05فرمائے گئے سور صف کے شروع میں
19:06لِمَا تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ
19:08کیوں وہ کہتے جو تم کرتے نہیں ہو
19:09دعویٰ ایمان کا اور اللہ کے راہ میں جنگ کا موقع ہے تو بھاگ جاتے ہو
19:12منافقین بھی تو تھے نا
19:13اور اللہ کے راہ میں خلج کرنے کی بات ہے بھاگ لیتے ہو
19:16تمہیں دنیا پسند ہے
19:17اللہ اکبر
19:19ڈراوے کے انداز میں اللہ نے ابھارا ہے
19:21اللہ کے راہ میں خطال کرنے کے لیے
19:23بنی اسرائیل کے تین ادوار ان کی نا فرمانیوں کا ذکر ہے
19:26موسیٰ علیہ السلام کا دور
19:27صاف کورہ جواب دی دیا
19:28موسیٰ علیہ السلام کے قوم میں ہم تو آپ کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے
19:31اللہ اکبر قبیرہ
19:33سورة المائدہ میں یہ تفصیل ہمارے سامنے آئی تھی
19:36عیسیٰ علیہ السلام کا دور تھا
19:37عیسیٰ علیہ السلام کی دو دشمن ہو گئے معادلہ یہود
19:40اتنے بدترین لوگ ہیں
19:41عیسیٰ علیہ السلام کی دشمن ہو گئے تھے
19:43اور ان کو شہید کرنے کے درپے ہو گئے تھے معادلہ
19:45اور پھر نبی صلی اللہ علیہ السلام کا دور ہے
19:47جب تین قبیریں یہاں پر آباد تھے
19:49یہود کے اور انہوں نے پی درپے
19:51سادشے کی نبی صلی اللہ علیہ السلام کے خلاف
19:54یہ تین ادوار بیان کیے گئے
19:56بنی اسرائیل کے ہماری عبرت
19:57اور سبق آموزی کے لیے
19:58غلب ہے دین حق کو نبی کریم صلی اللہ علیہ السلام
20:11ہاں تم اللہ کے راہ میں محنت کرو گے
20:13جہاد کرو گے سٹرگل کرو گے
20:14جد و جہود کرو گے
20:15اللہ تعالیٰ گناہ بھی بخش دے گا
20:17ہمیشہ کی زندگی میں جنت بھی عطا کرے گا
20:19جنت کے واغات میں تمہیں زندگی عطا کرے گا
20:21سبحان اللہ اور اللہ کے رضا بھی تمہیں حاصل ہوگی
20:23تو ڈراؤے کا پہلو بھی آتا ہے
20:25اور بشارت کا پہلو بھی
20:27قرآن پاک میں ساتھ سال ہمارے سامنے آتا ہے
20:29اگنا اور آخری رکھتا ہے
20:30سورہ صف کے تعرف کے حوالے سے
20:32دین حق کے غلبے کے لئے جہاد کرنے والوں کو
20:34انصار اللہ کے الفاظ میں
20:36سعادت مند قرار دیا گیا ہے
20:38انصار اللہ اللہ کے مددگار
20:40جو لوگ اللہ کے دین کے غلبے کی جد و جہود کر رہے ہیں
20:43اللہ فرما رہے وہ اللہ کے مددگار
20:45کس قدر بڑی بات ہے
20:46اللہ کو مدد کی حاجت نہیں
20:48یہ بندوں کی ترغیب و تشویق کے لئے ہے
20:50اور اللہ تعالیٰ کی شان کریمی کا بیان ہے
20:53یہ سورہ صف کا تعرف ہوا مکمل
20:55اب چلتے ہیں سورہ صف کی
20:57چند منتخب آیات کے مطالعے کے طرف
20:59سورہ صف کی آیات نو تا بارہ
21:01غلبے دین کا مشن بیان ہو رہا ہے
21:03رسول اکرمہ علیہ السلام کا مشن کیا تھا
21:05اور اب یہ پکار ہمارے لئے لگائے جا رہی ہیں
21:07آئی مطالعہ کرتے ہیں
21:08هو اللہ ذی ارسل رسولہو بالہدا و دین الحق
21:11وہ اللہ جس نے بھیجا
21:13اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
21:15کو الہدا مکمل ہدایت نام قرآن حکیم دے کر
21:18و دین الحق دین حق دین اسلام دے کر
21:20لیو ذہرہو علی الدین کلی ہی
21:23تاکہ آپ اس دین حق کو
21:24کل نظام زندگی پر غالب فرما دیں
21:26قرآن پاک کیوں عطا ہوا دین اسلام کیوں عطا ہوا
21:29تاکہ ان احکام کا نفاظ ہو
21:31اللہ کے دین کو قائم کیا جائے
21:33یہ اللہ کے رسول کا تیز برس کا مشن
21:35اسی میں تائف کی گلیاں
21:37ہجرت کی راتیں بدر سے لے کے فتح مکہ
21:39تک قتال فی سب اللہ کا مرحلہ
21:41تب اللہ کا دین سے زمین عرب پر غالب ہوا
21:43اور غصب تبوک کا خود
21:44اللہ کے رسول علیہ السلام نے فیصلہ کیا
21:46اور یہ عرب سے بہر انقلاب نبوی کے
21:49تسلسل اور توسیقہ اور ایکسپینشن
21:51کا معاملہ ہوا
21:52تو حضور کا انقلابی مشن کیا ہے
21:54اللہ کی زمین پر اللہ کا دین غالب اور قائم ہو
21:56اب اس کے لئے پکار لگ رہے ہیں ہمارے سامنے
21:59یا ایوہ الذین آمنو
22:00اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو
22:02حل ادلکم علا تجارتن
22:04کیا میں تمہیں اس تجارت کی طرور احنمائی کروں
22:07تون جیکو من عذاب من علیم
22:08جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے
22:10پتا چلا اب جو آکے تجارت بیان کی جا رہی ہے
22:13دردناک عذاب سے بچنے کے لئے
22:15وہ لازم ہے
22:16وہ کیا تجارت ہے
22:22تم ایمان لاؤ اللہ پر
22:24اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر
22:26اور تم جہاد کرو
22:27اللہ کے رحمے اپنے مال اور اپنی جانو
22:29ایمان اور جہاد
22:30یہ سورہ حجرات کے آیت نمبر پندرہ میں
22:34سامنے آگئی اور جہاد مستقل محنت ہے
22:37بندگی کرنے کی اللہ کی
22:38مستقل محنت ہے بندگی کی دعوت دینے کی
22:40اور مستقل محنت ہے اللہ کی بندگی پر
22:43مبنی نظام کو غالب اور قائم کرنے کی
22:45یہ تجارت کریں گے تو
22:46جہنم سے بچیں گے یہ لازم ہے کرنا ہمارے لئے
22:49ذالکم خیر لکم انکم
22:51تم تعلمون یہ تمہارے حق میں بہتر ہے
22:53کہ تم سمجھو کیا ملے گا
22:54یاغفر لکم ذنوبکم اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا
22:57وَيُدُخِلْكُمْ جَنَّاتٍ
22:59اور تمہیں باغات میں داخل فرمائے گا
23:01یعنی جنت
23:01تجریم امتحتی انہاج
23:03جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں
23:05وَمَسَاقِنَ طَيِّبَتًا
23:06اور پاکیزہ مکانات میں
23:08تمہیں داخلان لاتا فرمائے گا
23:09فی جنت عدن
23:11ہمیشہ رہنے والے باغات میں
23:12ریزیڈنشل گارڈنز عطا ہوں گے
23:14ذالک الفوز العظیم
23:16یہی عظیم کامیابی ہے
23:17اللہ ہمیں استجارت کے
23:18تقادے پورا کرنے کی توفیق دے
23:20اور اپنے دین کے غلبے کی
23:22جد و جہد کے لیے
23:23قبول فرمائے
23:24ناظرین کرام
23:25یہ سوری صف کی منتخب آیات کا
23:26مطالعہ ہوا مکمل
23:27اب چلتے ہیں
23:28حاصل کلام کی طرف
23:29اور چند نکات جو ہم نے سمجھے
23:31ان کا ایک بریف جائز آپ کے سامنے رکھتے ہیں
23:34ٹیک اوئے لیسنس کے طور پر
23:35اہل ایمان پر لازم ہے
23:37کہ جب بھی وہ سرگوشی کی کوئی بات کریں
23:39تو گناہ
23:39سرکشی
23:40اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
23:43نافرمانی کی بات نہ کریں
23:44بلکہ اگر کوئی سرگوشی کرنی بھی ہو
23:46تو نیکی اور پریزگاری ہی کے بارے میں کریں
23:49دولت سے مالداروں کے درمیانی گردش نہ کرتی رہے
23:52بلکہ
23:52مال فیع
23:53مال غنیمت
23:54زکاة و صدقات وغیرہ کی صورت میں
23:56مال و دولت فقراء
23:58غریبوں
23:59مسکینوں
24:00یتیموں
24:00اور
24:01ضرورت مندوں تک بھی پہنچے
24:03تاکہ ان کی ضروریات زندگی بھی پوری ہو سکیں
24:05یہ سرکلیشن آف ویل کی بات تھی
24:08قرآن حکیم کی طرح
24:09سنت و حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی دین میں حجت ہے
24:12یعنی دلیل ہے
24:13کہ اللہ تعالی نے حکم فرما دیا ہے
24:15کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
24:17تمہیں جو حکم دیں اسے مانو
24:19اور جس بات سے منع فرمایا اسے رک جاؤ
24:21اسلام و مسلمانوں سے دشمنی نہ رکھنے والے
24:24بے ضرر غیر مسلموں سے
24:26حسن سلوکی ممانیت نہیں ہے
24:28البتہ قلبی دوستی ان سے بھی رکھنا
24:30ممنوع ہے
24:32مسلمانوں کے دشمن حربی کفار
24:34حربی جنگ کرنے والے
24:35مسلمانوں کے دشمن حربی کفار سے دوستی کرنے والے
24:38اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظالم ہیں
24:40اللہ تعالیٰ نے
24:42اپنے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو
24:44ہدایت و دین حق یعنی اسلام دے کر
24:45مبعوث فرمایا ہے
24:47تاکہ آپ اسے تمام نظام زندگی بغالب کر دیں
24:50اور اس انداز پر زندگی کے تمام معاملات کا
24:52احاطہ کیا جائیں
24:53کہ زندگی کا کوئی گوشہ بھی اسے محروم نہ رہے
24:56یہ دین کا انقلابی تصور ہے
24:57جب ایک مسلمان اپنی جان و مال
25:00اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہے
25:01تو اللہ تعالیٰ کی شان کریمی ہے
25:03کہ وہ اس کے سلم عذاب سے نجات
25:05گناہوں کی بخشش
25:06اور جنت میں داخلے کا وعدہ فرماتا ہے
25:08اللہ ہم سب کو جنت الفردوس عطا فرمائے
25:10نازل کارے بھی ایک وقفہ لیتے ہیں
25:12اس کے باتے سسلہ جاری رہے گا
25:13انشاءاللہ خلاصہ مزامین قرآن حکیم کا
25:15السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتو
25:18السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتو
25:21نازل کرام خوش آمدید کہتے ہیں
25:22آپ کو خلاصہ مزامین قرآن حکیم کا سسلہ جاری
25:25قرآن حکیم کے 28 پارے کا مطالعہ کر رہے ہیں
25:28نو سورتیں ہیں
25:2928 پارے میں
25:30چار کے حوالے سے مطالعہ مختصر انم کر چکے ہیں
25:33اگلی اب پانچ سورتیں ہیں
25:34سورت جمعہ سے لے کر
25:35سورت تحریم تنگی مزید پانچ سورتیں 28 پارے میں
25:38آئیے
25:39مطالعہ آگے بڑھاتے ہیں
25:40اور سورت الجمعہ کا تعرف آپ کے سامنے رکھتے ہیں
25:43نام سے ویسے واضح ہے
25:44کہ جمعہ کا ذکر آ رہا ہے
25:46انشاءاللہ تعالی
25:47سورت الجمعہ کے تعرف کے حوالے سے پہلا نکتہ ہے
25:49سورت الجمعہ مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی
25:52اس سورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرآن حکیم کے تعلق سے
25:56چار فرائز کا ذکر ہے
25:57سورت البقرہ میں ہم نے مطالعہ کیا تھا
25:59اور حوالہ دیا تھا سور جمعہ کا آج پڑھیں گے
26:02قرآن پاک ہی کے حوالے سے چار فرائز
26:04نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جماعت سازی کے اعتبار سے
26:08کردار سازی کے اعتبار سے بھی
26:10یہود کے طورات سے اعراس پر وعید کا ذکر ہے
26:13اللہ کے کتاب کو پس سے پوش دالا
26:15تو اللہ نے گھدے کی مثال یہود کے لئے بیان کی
26:17استغفراللہ
26:18جمعہ کی حکمت آداب اور احکامات کا بیان ہے
26:21اسی نسبت سے سورت کا نام سورت الجمع بھی ہے
26:24یہ ہوا سور جمعہ کا تعرف مکمل
26:27اب چلتے ہیں سور جمعہ کی منتخب آیات کی طرف
26:31سب سے پہلے دیس آیت کا منہ انتخاب کیا
26:33وہ سور جمعہ کی آیت نمبر دو ہے
26:35نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرآن حکیم کے حوالے سے
26:38چار فرائز ارشاد ہو رہا ہے سور جمعہ آیت نمبر دو میں
26:41اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
26:48وہ اللہ ہے جس نے امیین میں انہی میں سے ایک رسول کو بھیجا
26:53صلی اللہ علیہ وسلم
26:54وہ رسول علیہ السلام ان پر اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت فرماتے ہیں
27:04وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابُ
27:05ان کو کتاب یعنی احکام کی تعلیم دیتے ہیں
27:07وَالْحِکْمَ اور حِکْمَ سِکھاتے ہیں
27:09وَإِمْكَانُ مِنَا قَبْلُ لَفِي ظَلَالِ مُبِينَ
27:12اور بے شک اس سے پہلے یہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے
27:16امیین میں بھیجا
27:17امیین عربوں کو کہا جاتا ہے
27:18احلِ کتاب کے مقابلے میں
27:20صدیوں سے احلِ کتاب کے ہاں تو کتابیں موجود رہیں
27:23لیکن عربوں میں موجود نہ رہیں
27:25تو کتابِ الٰہی وحی کی تعلیم سے یہ دور تھے
27:27اس سے ان کو امی انپڑ اس معنی میں کہا جاتا تھا
27:30مرنہ ویسے لکھنے پڑھنے والے کچھ لوگ بہرحال عربوں میں موجود تھے
27:34نمبر ایک
27:34نمبر دو
27:35حضور نبی اکرم علیہ السلام کے چار فرائس
27:37یہ چار ہی مرتبہ قرآن پاک میں آئے ہیں
27:39دو مرتبہ البقرہ میں
27:41اور ایک مرتبہ سورہ عمران میں
27:43اور اب یہ سورہ جمعہ کی آیت نمبر دو میں
27:45آپ قرآن پاک کی آیات کی تلاوت فرماتے ہیں
27:47اور لوگوں کا تسکیہ فرماتے ہیں
27:49لوگوں کو احکام کی تعلیم دیتے ہیں
27:52اور لوگوں کو حکمت سکھاتے ہیں
27:53قرآن پاک کی آیات کی تلاوت
27:55قرآن پاک کے ذریعے سے دلوں کا تسکیہ
27:57نفس کا تسکیہ
27:58قرآن پاک کے احکام کی تشریح حضور کی ذمہ داری
28:01اور قرآن پاک میں احکام کی حکمت
28:03وزنم بیان کی
28:03اس کو بھی حضور بیان کرتے
28:05تو آپ کے چار بنیادی فرائص
28:07اور جو صحابہ اکرام کی جماعت تیار ہوئی
28:10جو 313 میں بدر میں دکھائی دیتے
28:12وہ قرآن پاک کے ذریعے تیار ہوئے
28:14اس قرآن پاک کی ذریعے توحید کی دعوت
28:17دلوں میں ایمان کی آبیاری
28:18اور پھر تسکیہ
28:19احکام کی تعلیم حکمت کی تعلیم
28:21اس قرآن سے ایک انقلابی جماعت تیار ہوئی
28:24آج بھی ہم کوئی تبدیلی برپا کرنا چاہتے ہیں
28:26آج بھی ہم چاہتے
28:28واقعاتاً معاشرے میں انقلاب برپا ہو
28:30تو قرآن کتاب انقلاب ہے
28:32اور نبی مکرم علیہ السلام نے
28:33اس قرآن کے ذریعے انقلابی جماعت کو تیار کیا
28:36اگلی آئے جس کا ہم نے انتخاب کیا
28:38یہ سور جمعہ کی آیت امبر پانچ ہے
28:40کتابِ الٰہی سے اعراس
28:41اللہ کے کتاب کو پسے پشت لال دینا
28:44یہود کا تذکرہ ہو رہا ہے
28:45فرمایا
28:46مثلُ الَّذِينَ حُمِّرُوا تَوْرَاتَ
28:48مثالُ ان لوگوں کی جن پر تورات کی ذمہ داری ڈالی گئی
28:52ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا
28:53پھر وہ تورات کی ذمہ داری کو نباہ نہ سکے
28:56کَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُوا أَسْفَارَ
28:59گھدے کی مثال کی طرح ہے
29:01جس پر کہ بوجھ لاد دیا جائے
29:03اللہ اکبر
29:04کبھی اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں سونے آراف آیت 175 میں
29:08ایک شخص کا ذکر کرتا ہے
29:09جو کتابِ الٰہی کی تعلیم کو فراموش کر دے
29:11پھر آگے اللہ تعالیٰ اس کے لئے کتے کی مثال بیان کرتا ہے
29:14یہاں گھدے کی مثال بیان ہو رہی
29:15کون؟
29:16تورات کو فراموش کرنے والے
29:18تورات کو پسے پشت ڈالنے والے
29:20تورات کو اگنور کرنے والے یہود کے لئے کہا جا رہا ہے
29:22ان کی مثال گھدے کی طرح ہے
29:24گھدہ گھدہ ہے نا
29:25گھدے کے پر ایٹوں کا بوجھ لاد دیں
29:27قیمتی کتابوں کا بوجھ لاد دیں
29:28وہ کہا ہے کہ بوجھا بھئی
29:29جان چھڑاؤ میری
29:30چھوڑو مجھے
29:31اتارو کسی طرح
29:32انہوں نے جان چھڑائی معاد اللہ
29:34دنیا کی محبت میں ڈوبے
29:36کتاب کو پس سے پچھ ڈالا
29:37تو اللہ کے غضب کا شکار ہوئے
29:39آج کتاب کس کے پاس ہے
29:40آج کتاب ہمارے پاس ہے
29:41آگے الفاظ پڑھیں
29:42کیا لکھیں الفاظ
29:46بری ہے مثال لوگوں کی
29:48جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا
29:50یہود نے تورات کو
29:52اللہ کا کلام ماننے سے انکار نہ کیا
29:54مانتے تھے
29:55عمل نہیں کرتے تھے
29:56جی
29:57فرمبرداری نہیں کرتے تھے
29:58تورات کے احکامات کی
29:59تو آج قرآن پاک ہمارے پاس ہے
30:01مانتے ہیں نا مانتے
30:02قرآن پاک کی مانتے
30:03عظیم اگر صحیح تو پڑھتی نہیں ترجمے کے ساتھ
30:06نام معلوم اس میں کیا لکھا ہے
30:07تو عمل کیسے کریں گے بھائی
30:09اللہ ہمارے حال پر ہم کرے
30:10ہماری عبرت کے لئے ان کی مثال
30:12یہود کی مثال
30:13تورات پس سے پوچھ ڈالی
30:14اللہ گھرے کی مثال دے رہے
30:15استغفراللہ
30:16فرمایا
30:17واللہ لا یہد القوم الظالمین
30:19اور اللہ ظالمین کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا
30:21اللہ ہمیں اس سے معفوظ رکھے
30:23قرآن پاک کو تھامنے
30:25اور اس کے حقوق کو ادا کرنے کی توفیق
30:26عطا فرمائے
30:27سورہ جمعہ کی منتخب آیات کا
30:29مطالعہ ہوا مکمل آگے چلتے ہیں
30:30اس کے بعد 28 پارے میں
30:32سورت المنافقون ہے
30:33نام سے ظاہر ہے
30:34منافقین کا ذکر آ رہا ہے
30:36اور طویل مدنی صورتوں میں
30:37منافقین کا تذکر آتا ہے
30:39یہاں جامعہ اور مختصر الفاظ میں
30:40ذکر آ رہا ہے
30:41سورت المنافقون کا تعریف آپ کے سامنے رکھتے ہیں
30:45اس کے حوالے سے پہلا نکتہ
30:46سورت المنافقون مدنی صورت ہے
30:49مرض نفاق کی علامات
30:51درجات
30:52یعنی سٹیجس
30:53اسباب
30:54یعنی وجوہات
30:55اور اس کی سخترین سزا کا بیان ہے
30:57علامات کیا ہوتی ہیں
30:58صفات کیا ہوتی ہیں
30:59درجہ و درجہ نفاق کا مرض آ کے
31:01کیسے بڑھتا ہے
31:01اور اس کی وجوہات اور اسباب کیا ہوتے ہیں
31:04اور سخترین سزا کے یہ تمام موضوعات
31:06سور منافقون کی گیارہ آیات میں
31:08ہمارے سامنے آتے ہیں
31:09مرض نفاق کے چار درجات کا ذکر کیا گیا
31:16فقین بھاگ جاتے ہیں
31:17پھر اب کب تک جھوٹ بولیں گے
31:19اگلا مرحل آتا ہے
31:20تو جھوٹی قسم میں اٹھاتے ہیں
31:21اللہ کے قسم میرا تو پیر ٹوڑ گیا تھا
31:23اللہ کے قسم میرے تو بھائی کی طبیعت خراب ہو گی
31:25تو اللہ کے قسم میرا بچہ بیمار ہو گیا تھا
31:27بھاگ جاتے ہیں
31:28اور تیسرے سٹیج کے آتا ہے
31:29جو لوگ آگے بڑھ رہے
31:30ان کو روکنے کی کوششیں کرنا کیوں
31:32جو آگے بڑھ جاتے ہیں
31:33تو ان کے آگے بڑھنے سے
31:35ان کا پیچھے رہنا نمائی ہو جاتا ہے
31:36آگے بڑھنے والے کو روکتے ہیں
31:38کہ تم آگے بڑھو گے
31:39تو ہم نمائی ہو جائیں گے
31:40اور ہماری کمزوری وعدے ہو جائے گی
31:42استغفراللہ
31:42اور چوتھے سٹیج کے آتا ہے
31:44امیر جماعت سے
31:45اس وقت تو امیر جماعت کون تھے
31:46رسول اکرم تھے صلی اللہ علیہ وسلم
31:48معاذ اللہ ام منافقین کو نفرت پیدا ہوگا
31:50استغفراللہ
31:51حضور کی دعا لینے کو تیار نہیں
31:52معاذ اللہ
31:53قرآن پاک کہتا ہے
31:54اس سور منافقون میں
31:55حضور کی دعا لینے لو
31:56بھاگ جاتے ہیں معاذ اللہ
31:57دفرت ہو جاتی ہیں معاذ اللہ
31:59مخلص ساتھیوں سے نفرت ہو جاتی
32:00یہ پوائنٹ آف نوریٹر ہے
32:01یہ چار درجہ
32:03جھوٹ بولنا
32:03جھوٹی قسمیں اٹھانا
32:04آگے بڑھنے والوں کو روکنا
32:05اور امیر جماعت
32:07اور مخلص ساتھیوں سے
32:07نفرت پیدا ہو جانا
32:09استغفراللہ
32:09آگے لکھا ہے
32:10منافقین کے دوگلے کردار
32:12اور کردار کے کھوکلے پن
32:13کو بیان کیا گیا ہے
32:15ہاں ڈیل ڈول
32:16بڑے زبردست ہیں
32:17گیٹ اپ بڑا زبردست ہیں
32:18اندر کچھ بھی نہیں
32:19کھوکلے ہیں ملکل
32:20ایمان کی دولت ہی نہیں
32:21آخری نکتہ ہے
32:22سور منافقون کے تعریف کے حوالے سے
32:24حب دنیا کو نفاق کا سبب
32:26اور انفاق کو نفاق کا علاج
32:29بتایا گیا ہے
32:30دنیا کی محبت میں
32:31ڈوبتا ہے بندہ
32:32نفاق کے طرف جاتا ہے
32:33دین سے بھاگتا ہے پھر
32:34اور یہ اس کا علاج کیسے ہوگا
32:36اللہ کی راہ میں خرج کرو
32:38مال کی محبت ہے نا
32:39جس کی وجہ سے بھاگ رہے ہو
32:40یہ مال خرج کروگے
32:41تو نفاق کا علاج ہوگا
32:43اس پر ابھی ہم کلام بھی کریں گے
32:44انشاءاللہ تعالی
32:45یہ سور منافقون کے حوالے سے
32:47تعریف مکمل ہوا
32:48چلتے سور منافقون کی چند منتخم
32:50آیات کے مطالعے کی طرف
32:51سور منافقون کے دوسرا رکوع ہے
32:53آیات 9 تا 11
32:55مرض نفاق سے بچاؤ
32:56اور علاج کیسے
32:58ارشاد ہوا
33:06مال اور اولاد کی شدید محبت تو ہے
33:12یہ محبت علامت ہے
33:13دنیا کی محبت کی
33:15ایک حد تک ٹھیک ہے
33:16حلال پر کمانا جائز میں خرج کرنا
33:18اولاد کی کفالت کرنا
33:19تربیت کرنا
33:19سب بات ہم سمجھ کر آئے
33:21مگر یہ جو دنیا ہے
33:22یہ ضرورت ہی مقصود نہ بن جائے
33:24تو کیپ اٹھا سیف ڈسٹنس
33:26ڈھوپ مت جانا
33:26ورنہ نفاق کا مرض شروع ہو جائے گا
33:28تو دنیا کی محبت سے
33:30اپنے آپ کو بچاؤ
33:30اس میں ڈھوپنے سے بچاؤ
33:31دیکھو تمہارے مال
33:32اور تمہاری اولاد
33:33تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں
33:35وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُلَائِكَهُمُ الْخَاسِرُونَ
33:39اور جو لوگ یہ کام کریں گے
33:40یہی لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں
33:41اب اگر یہ تو پریونشن تھی نا
33:43بچنے کے لیے
33:44ذکرِ الٰہی میں مشکول رہو
33:46دنیا کی محبت میں ڈوب نہ جاؤ
33:47لیکن کہیں ڈوب گئے
33:49غافل ہو گیا
33:49تو نفاق کی طرف چل پڑے
33:50اب کیسے علاج کریں گے
33:52اس کا فرمایا جا رہا ہے
33:54وَأَنفِقُوا مِنْ مَا رَزَقْنَاكُمِنِ الْقَبْلِ
33:56اَنْ يَأْتِيَ آَحَدَكُمُ الْمَوْتِ
33:58اور انفاق کرو خرش کرو
34:00اس میں سے جو ہم نے تمہیں رزق میں سے عطا فرمایا
34:02سور حدیث میں ہم نے جانا تھا
34:04جس شہ میں اختیار دیا
34:05خرش کرو انفاق کرو
34:06جان مال وقت اوقات
34:08اولا صلیل انسو ان
34:09خرش کرو اس میں سے جو ہم نے تمہیں رزق میں سے عطا فرمایا
34:12اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے
34:14اب موت آئے گی تو کیا کہے گا
34:16فَيَقُولَ رَبِّ
34:17لَوْ لَا أَخَرْتَنِي إِلَىٰ أَجْلِينُ الْقَرِيمِ
34:20پس وہ کہے کہ میرے رب
34:21تو نے مجھے تھوڑا قریبی مدت کے لی
34:23اور مؤخر کیوں نے کر دیا معاملہ
34:25مجھے تھوڑی سی
34:26اللہ تو نے محلت کیوں نے دے دی
34:27میں خوب کرش کرتا
34:29فَأَصَدَّقَا مَا خوب صدقہ دیتا
34:30وَأَكُمْ مِنَ الصَّالِحِينَ
34:32ہمیں نیک لوگوں میں سے ہو جاتا
34:33یہ ٹائم نہیں ملتا بھائی
34:35فرمایا
34:35وَلَيُّ اَخْرَ اللَّهُ نَفْسًا اِذَا جَاءَ اَجَلُهَا
34:39اور اللہ کسی نفس کے معاملے کو
34:41مؤخر نہیں کرتا
34:42جب اس کی اجل
34:43یعنی موت کا وقت آ جائے
34:44وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
34:46اور تم جو کچھ کرتے ہو
34:47اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے
34:49موت کا وقت معین ہے
34:51محلت نہیں ملے گی
34:51محلت آج ہے
34:52موت آئی
34:53عمل کی محلت ختم
34:54آج خرچ کر دو
34:55اللہ دنیا کی محبت سے ہمیں بچائے
34:57اور اللہ اپنے راہ میں
34:58ہمیں انفاق کرنے کی توفیق دے
35:00اور اللہ ہم سب کے دلوں کو
35:01نفاق سے محفوظ فرمائے
35:04صورت المنافقون کے مطالعے کے بعد
35:06اب ہم آگے بڑھتے ہیں
35:07اور اگلی صورت اٹھائیسے پارے میں
35:08صورت التغابن
35:09صورت تغابن کا تعرف آپ کے سامنے رکھتے ہیں
35:12صورت التغابن مدنی صورت ہے
35:14ایمانیات سلاثہ کا ذکر
35:16یعنی توحید آخرت و رسالت
35:19دعوت ایمان اور ایمان کے سمرات کا بیان
35:22بہت جامع صورت ہے
35:23اٹھارہ آیات ہیں
35:24اور جیسے کہ ذکر کیا گیا
35:25کہ طویل مدنی صورتوں کے مدامین کا خلاصہ
35:28ان آخری مدنی صورتوں میں آ رہا ہے
35:30تو دعوت ایمان اور ایمان کے سمرات کا بیان
35:33بڑے جامع انداز میں
35:34صورت تغابن میں ہمارے سامنے آتا ہے
35:36توحید رسالت اور آخرت کی وضاحت کی گئی ہے
35:39ابتدائی سات آیات میں
35:40ایمان قبول کرنے والوں
35:42اور دعوت ایمان رد کرنے والوں
35:44کا انجام بیان کیا گیا ہے
35:46اگلی مزید آیات میں
35:48آٹھ نو اور دس میں
35:49اس کے بعد دوسرا رکو بڑا اور جامع ہے
35:51ایمان کے نتیجے میں
35:53بندے کی سیند و کردار میں
35:55پیدا ہونے والے اثرات کا تذکرہ ہے
35:57ایمان دل میں ہو تو کیا اثرات پیدا ہوتے
36:00یہ سمرات اور یہ اثرات
36:02سورت تغابن میں بیان ہوئے
36:03کچھ کا ہم ابھی آگے آپ کے سامنے ذکر کریں گے
36:06انشاءاللہ تعالی
36:07چلتے ہیں سورت تغابن کی چند منتخب آیات کے متعلقے کی طرف
36:11سورت تغابن آیات
36:12گیارہ بارہ اور تیرہ
36:14ایمان کے سمرات کا بیان
36:16اشاد ہو رہا ہے
36:17ما اصاب مِ مصیبتٍ اِلَّا بِإِذْنِ اللَّا
36:20کوئی مصیبت نہیں آتی
36:22مگر اللہ تعالیٰ کے اِذن سے
36:24ہاں وَمَنْ يُؤْمِمْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ
36:27اور جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے
36:29اللہ اس کے دل کو ہدایت عطا فرما دے
36:31تو مراد اتمنان سکون کی کیفیت مل جاتی ہے
36:34وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْنِ عَلِيمُ
36:36اور اللہ ہر ہر شے کا علم رکھنے والا ہے
36:39صاحبِ ایمان بندہ ہوگا
36:40تو تصنیم و رضا کی کیفیت
36:43اس میں پیدا ہوگی
36:44کیا مطلب
36:45اللہ کے فیصلے پر راضی رہے گا
36:47بدلتے حالات میں مشکل آگئی
36:49مشقت آگئی پریشانی آگئی
36:51تکلیف آگئی
36:51اس کا ایمان ہے کس کے حکم سے ہوا
36:53اللہ کے حکم سے
36:55اللہ کے فیصلے پر رہے گا وہ راضی
36:57تو یہ ایمان اس کو اتمنان عطا کرتا ہے
36:59سکون عطا کرتا ہے
37:00ایک باوقار کردار و رویہ سامنے آتا ہے
37:03تو ایمان کا ایک بڑا حاصل
37:05تصنیم و رضا کی کیفیت
37:07اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا
37:09آگئے فرمایا
37:10وَأَطِعُوا اللَّهَ وَأَطِعُوا الرَّسُولُ
37:12اور اطاعت کرو اللہ کی
37:13اور اطاعت کرو رسول کی
37:14صلی اللہ علیہ وسلم
37:16فَإِمْ تَوَلَّيْتُمْ
37:18پھر اگر تم نے روح گردانی کی
37:19رخ پھیر لیا
37:20فَإِنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينَ
37:23تو بھی شک ہمارے رسول کے ذمہ
37:24تو پیغام کا واضح طور پر پہنچا دینا
37:26یہی ذمہ داری ہے
37:28ایمان دل میں ہو
37:29تو مومن
37:30اللہ اور اس کے رسول کی
37:32اطاعت کے سانچے میں
37:33دھلتا ہوا نظر آئے گا
37:34چلتا پھرتا مومن
37:36لگے گا کہ یہ اللہ کا بندہ ہے
37:38یہ رسول اللہ علیہ السلام کا
37:39نمائندہ اور ان کا امت ہی ہے
37:41حدیث میں آتا ہے
37:43مومن وہ جسے دیکھ کر
37:44اللہ تعالیٰ یاد آئے
37:45جامع ترمیزی شریف کی روایت ہے
37:47تو صاحب ایمان بندہ
37:48جس کے دل میں ایمان ہو
37:50اس کا عمل بتائے گا
37:51اس کی گفتگو کو دیکھ کر
37:52اس کے کردار کو دیکھ کر
37:54اس کی ڈیلنگز کو دیکھ کر
37:55اس کے معاملات کو دیکھ کر
37:57اس کے شب و روز کو دیکھ کر
37:58اللہ یاد آئے گا
37:59تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت
38:01یہ دکھائی دے گی
38:02اگر ایمان واقعتاً دل میں ہو
38:04اگلی بات
38:05اللہ لا الہ الا اللہ
38:08اس کے سوا کوئی معبود نہیں
38:10وعلی اللہ فلیتوکر للمؤمنون
38:12اور ایمان والوں کو
38:14اللہ تعالیٰ ہی پر توقل کرنا چاہیے
38:17ایمان کا ایک اور سمر اور نتیجہ کیا ہے
38:19اللہ پر توقل
38:20اللہ پر بھروسہ
38:21کل نفع نقصان کا مالک کون
38:23اللہ
38:24اسباب ہے
38:25مگر اللہ مسبب الاسباب ہے
38:27اسباب میں تاثیر ڈالنے والا کون
38:30اللہ سبحانہ وتعالی
38:32یہ ہے توقل
38:33ہاں حدیث میں آیا حضور نے فرمایا
38:35صلی اللہ علیہ وسلم
38:36اونٹ باندو اور اللہ پر توقل کرو
38:38ظاہر کے اسباب اختیار کر دیے جائیں
38:40لیکن نگاہ
38:41مسبب الاسباب کی طرف ہونی چاہیے
38:43یہ چھنڈ باتیں ہم نے آپ کے سامنے رکھی ہیں
38:45ورنہ سورہ تغابن میں مزید موضوعات بھی
38:47ایمان کے سمرات کے حوالے سے آئے
38:49تو ایمان دل میں ہوگا
38:50اللہ کے فیضوں پر بندہ راضی رہے گا
38:53اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کی اطاعت کرتا ہوا
38:55نظر آئے گا
38:56اور اللہ پر توقل کرتا ہوا
38:58نظر آئے گا
38:59اللہ یہ ایمانی کیفیات
39:01مجھے آپ کو ہم سب کو عطا فرمائے
39:03اس کے بعد آگے بڑھتے ہیں
39:04اور سورہ طلاق کا آغاز ہوتا ہے
39:06اٹھائیس سے پارے گی اگلی سورت
39:08نام سے ظاہر ہے
39:09طلاق کے حوالے سے کچھ امور بیان کیے گئے ہیں
39:11سورت و طلاق مدنی سورت ہے
39:13گھرین و زندگی کے بارے میں رہنمائی عطا ہوئی ہے
39:16گھروں میں
39:17اللہ ہمارے خروں کی حفاظت فرمائے
39:18کبھی ناچاقی ہو جاتی ہے
39:20اور کبھی انتہائی کیفیت آ سکتی ہے
39:23طلاق کا معاملہ
39:24اس بارے میں رہنمائی عطا کی گئی
39:27سورت طلاق میں
39:27شہر و بیوی میں عدم موافقت کے حوالے سے
39:30ہدایات عطا کی گئی ہیں
39:32عدم موافقت کا مطلب ہے
39:33بات بننا پا رہی ہو
39:34نوک جھوک
39:35بڑھتے بڑھتے
39:36جدائی کی طرف معاملہ جا رہا ہو
39:38اس حوالے سے ہدایات عطا کی
39:40ایک بڑی اہم ہدایت پتہ ہے کیا ہے
39:42وہ ہے اللہ کا تقویہ
39:43خوفِ خدا دل میں رکھنا
39:45شہر کے دل میں اللہ کا خوف ہو
39:46بیوی کے دل میں اللہ کا خوف
39:47خوف کا مطلب
39:48اللہ کی ناراضگی سے بچنا
39:50اور اللہ ناراض کس سے ہوتا ہے
39:52گناہگاروں سے
39:52جی
39:53تقویہ کیا ہے
39:53خوفِ خدا دل میں رکھنا
39:54گناہوں سے اپنا آپ کو بچانا
39:56تو اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دے
39:57کہ احساس شہر کے دل میں بھی ہوگا
39:59بیوی کے دل میں بھی ہوگا
40:00تو حتی لئے امکان معاملات
40:01سلجنے کی طرف جائیں گے
40:03انشاءاللہ
40:04مزید بہت سارے موضوعات
40:05اور مضامین
40:06سورہ طلاق میں آئے ہیں
40:07نکاح کے بارے میں
40:08طلاق کے حوالے سے
40:09عددت کا معاملہ
40:11رضاعت بچے کو دودھ پلانے کا معاملہ
40:13نان نفقے کا معاملہ
40:14شوہر پر کفالت کے ذمہ داری ہے
40:16اور رہائش کا معاملہ
40:18طلاق دے دی ہے
40:19اس حوالے سے عددت کے دوران بھی
40:22اخراجات شوہر کے ذمہ
40:23اور دوسرے مسائل سے متعلق
40:25احکامات کا بیان ہے
40:26تفصیلات
40:27تفاصیل میں دیکھئے گا
40:28اور یہ سورہ طلاق میں
40:29مزید کچھ ایسے احکامات
40:31عطا ہوئے
40:32جو اسی مقام پر آئے
40:33طلاق کے بارے میں
40:34کچھ رہنمائی اور ہدایات
40:35سورہ البقرہ میں بھی
40:37ہمارے سامنے آتی ہیں
40:38اور مزید ہدایات
40:39یہاں سورہ طلاق میں
40:40سامنے آئی ہیں
40:41مزید کچھ رہنمائی
40:43جو سورہ طلاق میں
40:43ہمارے سامنے آتی ہیں
40:44تعرف کے ذہن میں
40:45وہ بھی آپ کے سامنے
40:46مختصراً رکھتے ہیں
40:47تقویٰ کے انعامات
40:49اور سامرات کا بیان ہے
40:50گھریل و معاملات
40:51کی اصل روح تقویٰ ہی ہے
40:52کیا مطلب
40:53گھر مصبوط ہوں گے
40:54جب دلوں میں تقویٰ ہوگا
40:55باہر بندہ
40:57دوسروں کا خیال کر لیتا ہے
40:58کیمروں کا خیال کر لیتا ہے
40:59لوگوں کا خیال کر لیتا ہے
41:00ایسے ہی ہے نا
41:01گھر میں کیا کریں گے
41:02کسی کو لاکے بٹھائیں گے
41:03کوئی ووچمن بیٹھے گا
41:04گھر میں آکے
41:04کوئی چوکھیدار بیٹھے گا
41:05کوئی کیمرے گھر میں لگائیں گے
41:07نا خوف خدا
41:08بار بار یہ تقویٰ
41:09خاندانی زندگی کے
41:11معاملات کے حوالے سے
41:12بیان ہوتا ہے
41:12سورہ نسا میں بھی
41:13بہت مرتبہ بیان ہوا
41:14اور یہاں سورہ
41:15طلاق میں بھی ہم دیکھ رہے ہیں
41:17تقویٰ کا ذکر بار بار
41:18سورة البقرہ میں بھی ذکر آتا ہے
41:19تقویٰ کا
41:20آخری ایک اور نکتہ ہے
41:22مسلمانوں کو
41:23تنبیہ کی گئی ہے
41:23کہ وہ اللہ تعالیٰ کی
41:24حدود کی پاسداری کریں
41:25کزشتہ قوموں کی سرکشی
41:27پر ان کی تباہی سے
41:28عبرت حاصل کریں
41:29نافرمان سرکش قوموں کے
41:31انجام سے عبرت دلائے گئی
41:32اور اللہ کی حدود کی
41:33پاسداری گھر میں بھی
41:34ضروری ہے
41:35جی گھر کے معاملات میں
41:36بھی ضروری ہے
41:37اللہ ہمیں یقین بھی
41:38عطا کرے اور ان حدود
41:40الہی کی پاسداری کی
41:41توفیق عطا فرمائے
41:42یہ مختصر تعروف
41:44سورہ طلاق کا ہوا
41:44اب چلتے ہیں
41:45سورہ طلاق کی
41:46چند منتخب آیات کے
41:47مطالعے کی طرف
41:48اور یہ سورہ طلاق کی
41:49دو آیات ہیں
41:50آیت دو اور تین
41:51تقویٰ کی برکات کا بیان
41:53آگے مزید بھی ہے
41:54یہ دو آیات کا
41:55مختصر ذکر آپ کے
41:56سامنے ہم کر رہے ہیں
41:57سورہ طلاق کی آیت
41:58دو اور تین میں
41:59ارشاد ہو رہا ہے
42:00وَمَن يَتَّقِ اللَّهِ
42:01اور جو اللہ تعالیٰ کا
42:02تقویٰ اختیار کرے
42:03يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجَ
42:05اللہ تعالیٰ اس کے لئے
42:06مخرج
42:06مشکلات سے نکلنے کا
42:07راستہ بنا دیتا ہے
42:09لکھا ہوتا نا
42:10ایمرجنسی ایکزرٹ
42:11تو یہ ایکزرٹ ہے
42:12مخرج
42:13مشکلات سے نکلنے کا
42:14راستہ اللہ تعالیٰ بنا دے گا
42:16کب جب تم تقویٰ اختیار کرو گے
42:17اور کیا ملے گا
42:18وَيَرْزُقُ مِنْحِيثُ لَا يَحْتَسِبُ
42:21اور وہاں سے
42:21اللہ بندے کو
42:22رزق و عطا فرمائے گا
42:23جہاں بندے کا
42:24گمان بھی نہیں ہوگا
42:25اللہ مجھے اور آپ کو
42:26یقین عطا فرمائے
42:27یہ قرآن کریم
42:28وظیفہ عطا کر رہا ہے
42:29ہمارے اکثر
42:30وظیفے پڑھنے والے ہوتے ہیں
42:32یہ قرآن کریم کا
42:33بتایا گیا وظیفہ ہے
42:34یہ پڑھنے کے ساتھ
42:36کرنے والا ہے
42:36وہ کرنا کیا ہے
42:37تقوی اختیار کرنا ہے
42:38گناہوں کو چھوڑنا ہے
42:39نافرمانی کو چھوڑنا ہے
42:40خوفِ خدا دل میں رکھنا ہے
42:41اللہ فرما رہا ہے
42:44وَيَرْزُقُ مِنْحِيثُ لَا يَحْتَسِبُ
42:46اللہ وہاں سے
42:46اس کو رزق عطا فرمائے گا
42:47جہاں اس کا
42:48گمان بھی نہیں ہوگا
42:49مزید سنیے
42:50وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهُ
42:52اور جو اللہ پر توقل کرے
42:53اللہ پر بھروسہ رکھے
42:54فَهُوَ حَسْبُ
42:55پس اللہ اس کے لئے کافی ہو جائے گا
42:57سبحان اللہ
42:57حدیث مبارک میں آیا
42:59بندہ اس آیت کو تھام لے
43:00اللہ کافی ہو جائے گا
43:02بندے کے لئے
43:02جو اللہ پر یقین ہے
43:04کہ کل نفع نفصان کا اختیار
43:05اللہ کے پاس ہے
43:06کوئی میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتا
43:08جب تک کہ اللہ کا اذن نہ ہو
43:09کوئی مجھے کوئی نفع پہنچا نہیں سکتا
43:11جب تک کہ اللہ کا اذن نہ ہو
43:12جو یہ توقل اللہ پر رکھے
43:14فَهُوَ حَسْبُ
43:14اللہ اس کے لئے کافی
43:16اِنَّ اللَّهَ بَالِغُ عَمْرِ
43:18بے شک اللہ تعالیٰ
43:19اپنے معاملے کا
43:20مکمل فیصلہ فرمانے والا
43:22اور اپنے معاملے کی تکمیل تک پہنچنے والا ہے
43:25یعنی اللہ جو چاہے سے کر سکتا ہے
43:27اللہ کی چاہت کو کوئی روک نہیں سکتا
43:29سبحان اللہ
43:30بہت قیمتی مقام آیا
43:31تقویٰ کی برکات
43:32اللہ مشکلات سے نکال دے گا
43:34تقویٰ کی برکات
43:44بار بار اس پر تبدیل آئے گئی
43:45سورة طلاق میں بھی
43:46اور دیگر مقامات پر بھی
43:47اللہ ہمارے گھرانوں کی افادت فرمائے
43:49اور اپنے متقی بندوں میں
43:51ہمیں شامل فرمائے
43:52اس کے بعد
43:53اٹھائی سے پارے کی آخری صورت ہے
43:55سورة تحریم
43:56آئیے سورة تحریم کا تعارف
43:58آپ کے سامنے رکھتے ہیں
43:58مختصر نکات کی صورت میں
44:00سورة تحریم مدنی صورت ہے
44:02گھرے اور زندگی کے بارے میں
44:04رہنمائی عطا کی گئی ہے
44:14شہر ایک حد تک
44:15اپنی بیوی کی دل جوئی کرے
44:16جبکہ بیوی کو بھی چاہیے
44:17کہ وہ اپنے دائرے میں رہے
44:19اور غیر ضروری تقاضوں سے گھریس کرے
44:21شہر اپنی بیوی کی حاجات پوری کرے
44:23کفالت کی ذمہ داری اس پر ہے
44:25مگر ایک حد تک
44:25وہ حد کیا ہے
44:26بیوی کی ایسی خواہش پوری نہیں ہوگی
44:28جس سے اللہ کا حکم ٹوٹے
44:29جی
44:30بیوی کی ایسی بات نہیں ماننی
44:32جس سے اللہ کا حکم ٹوٹے
44:33حد میں رہنا ہے
44:34سبحان اللہ
44:35موافقت ہونی چاہیے
44:36ریلیشن ہونا چاہیے
44:37مگر ایزا نہ ہو جائے
44:38کہ اللہ کا حکم ٹوٹ جائے
44:39بچنا ہے
44:39اور بیوی کو بھی چاہیے
44:40کہ اپنے دائرے میں رہے
44:42مراد وہ بیوی
44:43اللہ تعالی نے اس کو
44:44گھر کی ملکہ بنایا
44:45شہر کے تابع رکھا
44:46گھر کا نظام چلانے کے لیے
44:47اور غیر ضروری تقاضوں سے گریس کرے
44:49ایسے تقاضیں نہ رکھے
44:50ایسی خواہشات نہ رکھے
44:51کہ جناب شہر کو
44:52حرام میں مو ڈالنا پڑے
44:53نہ نہ نہ نہ
44:54اللہ اور اس کے رسول کے اطاع ٹاپ پر
44:56باقی سب باتیں نیچے رہیں گی
44:58سربراہ خاندان کی
44:59ذمہ داری بیان کی گئی ہے
45:01کہ وہ کفالت کے ساتھ
45:02ان کی دینی تربیت کا بھی پابند ہے
45:04تاکہ انہیں جہنم سے بچانے کی
45:06کوشش کر سکے
45:06یہ نکتہ آگے ہم
45:07منتخب آیت کی صورت میں پڑھیں گے
45:09انشاءاللہ
45:10سربراہ خاندان کی
45:11ذمہ داری اصل کیا ہے
45:12بیوی کا علیدہ تشخص بیان ہوا ہے
45:14کہ وہ انتظامی اعتبار سے
45:15دنیا میں شہر کے تابع
45:17مگر آخرت میں خود جواب دے ہیں
45:19کچھ خواتین کی
45:20مثالیں بیان کی گئی ہیں
45:21وہ تفاصیل سے
45:22تفاصیل
45:23تفاصیل میں دیکھی جا سکتی ہیں
45:25بتایا جارہا ہے
45:26کہ عورت دنیا میں
45:27گھر کا نظام چلانے کے اعتبار سے
45:29شہر کے تابع رکھی گئی ہے
45:30لیکن ہر عورت نے
45:32خود اپنا جواب دینا ہے
45:33اس کا اپنا ایک علیدہ تشخص ہے
45:35اس کی اپنی ایک سیپریٹ آئیڈنٹیٹی ہے
45:37اور وہ اپنی پرسنل
45:38کپیسٹی میں
45:39اللہ کے اکاؤنٹبل ہے
45:40اپنی ذاتی حیثیت میں
45:42اس نے اللہ کے ہاں
45:42جواب دینا ہے
45:43یہ چند اہم نکتے ہیں
45:44سورة تحریم کے
45:46مدامین کے تعریف کے حوالے سے
45:47اب چلتے ہیں
45:48سورة تحریم کی جس منتخب آیت
45:50کا ہم نے مطالعہ کیا
45:51اس کی طرف
45:52یہ سورة تحریم کی آیت
45:53مبر اچھے
45:54آگ سے بچو اور بچاؤ
45:56جہنم کی آگ سے بچنے
45:57اور بچانے کی بات ہو رہی ہے
45:58ارشاد ہوا
45:59یا ایوہ الذین آمنو
46:01اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو
46:03قو انفسکم و اہلیکم نارا
46:05اپنے آگ کو
46:06اور اپنے گھر والوں کو آگ یہ نہیں
46:07جہنم کی آگ سے بچاؤ
46:09وقود ہم ناس والحجارہ
46:11جس کا اندن انسان و پتھر ہوں گے
46:13جہنم میں انسان
46:15اللہ ہم سب کی افادت فرمائے
46:28اللہ نے انہیں جو حکم دیا
46:30وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے
46:31وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ
46:32اور وہی کچھ کرتے
46:33جس کا انہیں حکم دیا گیا
46:35جہنم بجو فرشتے مقرر ہیں
46:37ان کے دلوں میں کوئی نرمی نہیں
46:39ان کو مقرر کیا گیا
46:40عذاب دینے کے لیے
46:41اور وہ اللہ کی حکم کے پابن ہیں
46:42اور جہنمی کو خوب عذاب دیں گے
46:44اللہ میری آپ کے ہم سب کی حفاظت فرمائے
46:47اپنے بھی فکر کرنی ہیں
46:49اور ہر ایک نے اپنے بارے میں ہی نہیں
46:51اپنے گھر والوں کے بارے میں بھی
46:53اللہ کو جواب دینا ہے
46:54تو گھر والوں کا کپڑا
46:55گھر والوں کا کھانا پینا سب بجا
46:57سب سے بڑا مسئلہ ہے
46:58ان کو اور اپنے آپ کو
46:59بلکہ اپنے آپ کو اور ان کو تلطیب یہ ہے
47:01جہنم سے بچانے کی فکر کرنا
47:03ہم اپنے بیلیویڈ ونس کو کہا دیکھنا چاہتے ہیں
47:05اپنے پیاروں کو جنت میں دیکھنا چاہتے ہیں
47:07تو کیا جنت کی طرف جانے کے لیے
47:09ہم اپنے اوپر اور ان کے اوپر محنت کر رہے ہیں
47:12حکم ہے
47:12اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو
47:14جہنم کی آگ سے بچاؤ
47:15اللہ ہم سب کو جہنم سے معفوض رکھے
47:17اور جنت الفردوس عطا فرمائے
47:19ناظر کرام الحمدللہ
47:2128 پارے کے مزامین کا خلاصہ ہمارے سامنے آیا
47:24آخر میں حاصل کلام
47:26چند آیات کی روشنی میں
47:27کچھ ٹیک اوے لیسنس کا بیان
47:29غلبہ دین کی جدہ جہت میں
47:31افراد کی تیاری کے لیے
47:33قرآن کریم اہم ترین ذریعہ ہے
47:35آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
47:37بنیادی طریقہ یہ تھا
47:38کہ آپ لوگوں کو اللہ تعالی کی آیات سناتے
47:41لوگوں کا تذکیہ فرماتے
47:43انہیں اللہ تعالی کی احکامات کی تعلیم دیتے
47:46اور ان احکامات کی حکمتیں تعلیم فرماتے
47:48حضور کا بنیادی طریقہ قرآن پاک کے ذریعے
47:51چار فرائز کا انجام دینا
47:52یہود کو اللہ تعالی نے
47:54تورا جیسی عظیم کتاب کا حامل بنایا تھا
47:56انہوں نے ذمہ داری سے عراض کیا
47:58اور آیاتِ الہی کی تقذیب کی
47:59یعنی جھٹلایا
48:00اس ظلم کے نتیجے میں وہ ہدایے سے محروم کر دیئے گئے
48:03یہود کا ذکر مسلمانوں کے لیے بطور عبرت ہے
48:06آج کتاب قرآن پاک ہمارے پاس ہے
48:08ہم دیکھ لیں کیا کر رہے ہیں اس کے ساتھ
48:11مرضِ نفاق کا اصل سبب
48:12مال و اولاد کی بیجا
48:14محبت میں مشغول ہو کر
48:16اللہ تعالی کی یاس سے غافل ہو جانا ہے
48:18ایسی لوگ خسار اٹھانے والے ہیں
48:20نفاق کا علاج اللہ تعالی کی رہ میں
48:22انفاق کرنا ہے
48:24نفاق کا علاج انفاق سے
48:25نفاق ایک بڑی وجہ حب دنیا ہے
48:28اور انفاق کا عمل
48:29اس محبت کو کم کرنے کا ذریعہ ہے
48:33ایمان کے سمرات میں سے یہ ہے
48:35کہ بندہ اللہ تعالی کی رضا پر
48:37راضی رہنے والا ہو جائے
48:38ایمان حقیقی کا ایک سمرہ
48:40خوشی خوشی اللہ تعالی
48:42اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا ہے
48:44خوشی خوشی پوری دل جمعی کے ساتھ
48:46مجبورا نہیں
48:47مزید بنا بندہ مومن کا بھروسہ
48:50اپنی محنت
48:50ذہانت
48:51منصوبہ
48:52بندی
48:52اور فراہم کرنا
48:54اسباب پر نہیں
48:54بلکہ اللہ تعالی پر ہوتا ہے
48:56جو کہ مسبب الاسباب ہے
48:58جو شاستقوی اختیار کرتا ہے
49:00تو اللہ تعالی اس سے مشکلات سے نکلنے کی راہ عطا فرماتا ہے
49:03اور وہاں سے رزق کا عطا فرماتا ہے
49:05جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا
49:07اللہ تعالی نے سرورائے خاندان کے لئے ہدایت فرمائی ہے
49:10کہ وہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کا ذمہ دار نہیں ہے
49:13بلکہ اس کی یہ ذمہ داری بھی ہے
49:15کہ وہ اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو اخربی عذاب سے
49:17یعنی جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کریں
49:20اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے
49:22آخر میں حدیث رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
49:27رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
49:30قرآن کریم پڑھا کرو
49:31یہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کے لئے
49:33شفاعت کرنے والا بن کر آئے گا
49:35صحیح مسلم شریف کے روایت ہے
49:36اللہ تعالیٰ قرآن حکیم کو ہمارے حق میں
49:38سفارش کرنے والا بنائے
49:41اسے کے ساتھ اجازت چاہتے ہیں
49:42زوا کے ساتھ
49:43اللہ تعالیٰ میرے آپ کے مسلم کے تمام مسلمانوں کی
49:45مغفرت فرمائے
49:46قرآن پاک سے تعلق میں ضبوط یہ عطا فرمائے
49:48آمین یا رب العالمین
49:49وآخر دعوانا
49:50ان الحمدللہ رب العالمین
49:52والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
50:03یا رسول نے
Comments

Recommended