Skip to playerSkip to main content
  • 7 hours ago
Zulfiqar Pahuncha Noor ko Lene Uske Ghar | Ishq Mein Tere Sadqay Next Ep 17 Full Teaser Review

Category

😹
Fun
Transcript
00:00اگر جب یونیورسٹری میں نور کو زلفگار شاہ کے مو پر زوردہ چماٹہ مارتے ہوئے دیکھتا ہے
00:04دیکھنے کے بعد جیسے اس کے ہوشیں اڑیاتے ہیں
00:06دراصل نور یہاں پر سمجھتی ہے کہ زلفگار نے اس کا دوپر ٹک کھیچا ہے
00:09لیکن اصل میں نور کا دوپر ٹک زلفگار کی جیکٹ کی ضد میں پھس گیا تھا
00:12جس کے ماں سلال آگ بہولہ ہوتے ہوئے نور کا ہاتھ ہیچ لے وہ اسے اپنے گھر لیاتا ہے
00:16وہ گھر پوچھ کر اس کے کردار پر انگلیاں اٹھاتا ہے
00:18لیکن انجوم اس کی بات کا بلکل بھی یقین نہیں کرتی
00:20جس طرح وہ کہتی ہے میری بیٹی بلکل بھی ایسی نہیں ہے
00:23اس کے ماں تبھی سلال آگ یونیورسٹری میں بنائی گئی ویڈیو
00:25جب وہ سب کو دکھاتا ہے ویڈیو دیکھنے کے بعد مرتضی انکل کے بھی ہوش اڑیاتے ہیں
00:28جس کے ماں ویڈیو دیکھنے کے بعد وہ بھی شک میں پڑھیاتے ہیں
00:31جس میں سلال آگ چیکتا ہے میری بات کا یقین کریں
00:33اس کا اس لڑکے کے ساتھ چکر چلنا ہے
00:35لیکن اب میں اسے اپنی زندگی میں ہرگز نہیں رکھوں گا
00:37اس کے ماں وہ نور کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے دھکے مار کے گھر سے نکالنے لگتا ہے
00:40لیکن پیچھے سے انجوم آ کر اسے روک لیتی ہے
00:42جس کے ماں دھنگلے دن نور روتے ہوئے یونیورسٹری پوچھتی ہے
00:45بکار جا جو کہ اپنی بہن کو چھوڑنے پہلے سے مہی پر موجود ہوتا ہے
00:48وہ نور کو آتا وہاں دیکھتا ہے تو گسے میں اس کے پاس آتا
00:50اور اس کا گسے میں ہاتھ مرورتے ہوئے کہتا ہے
00:52اور میں تو اسے کلوالی بیزتی کا بدلہ ضرور لوں گا
00:55جیسے سلال یہ سب کچھ دیکھ لے تھا اس کا تو بس ہی نہیں چلتا
00:57یہ وہ سلال کے پاس جا کر اس کا گڑے بان پکڑ لیں
01:00لیکن اس کے گارڈ جب دیکھتا ہے
01:01کہ وہ دم دبا کر وہاں سے بھاگ جاتا ہے
01:03اس کے پاس چھوڑ کر نور اور سلال کی ویڈیو بنا لیتا ہے
01:06اس کے پاس گھر آ کر وہ دوبارہ اپنی امی کو وہ ویڈیوز دکھاتا ہے
01:08یہ کہانی میں ایک بہت بہت ارتویس آتا ہے
01:10فڑا کراچی آ جاتی ہے
01:11اس کے پاس وہ بھی نور کو گھر سے نکالنے کے لیے سلال کے ساتھ مل جاتی ہے
01:14رہا سلال نے اسے جھوٹی تسلی دی ہی ہوتی ہے
01:16کہ وہ اسی سے شادی کریں گا
01:18اسے خوش فہمی میں فڑا نور کے خلاف سازیش کرنا شروع کر دیتی ہے
01:21انہی سازیشوں سے ایک تہہ سلال ایک دن نور کو یونیورسٹی سے لینے نہیں جاتا
01:25جس کے بعد نور اکیلی گھڑ کے لیے پیدل نکل پڑتی ہے
01:27اچانک راستے میں ایک بیانک گاڑی نور کو تیز ٹکر مارتی ہے
01:30کے بعد نور خون میں لطفت ہو کر زمین پہ گڑی آتی ہے
01:33سی وقت ذلوی خان شاہ بھی وہاں سے گزر رہا ہوتا ہے
01:35یہ دیکھا وہ رکھتا ہے جب نور کو وہ اس حالت میں دیکھتا ہے
01:38جس کے بعد اسے اپنی مڑی بھی ہوت یاد آ جاتی ہے
01:40یہ اس کا بھی کچھ اسی طریقے سے ایکسیڈن ہوا تھا
01:43کے بعد وہ نور کی پڑھانی بات بلا کر اسی ٹائم وہ نور کو اپنے گوت میں اٹھاتا ہے
01:46جس کے بعد وہ اسے اپنی گاڑی میدال کا سیدھا ہسپیڈل لے جاتا ہے
01:49جس کے بعد ڈاکٹر باہر آ کر گھڑاتے ہوئے بتاتے ہیں
01:52کے ساتھ کون نے تو سلار کہتا ہے میں ہوں وہ انہیں بتاتے ہیں ان کا خون بہت پی گیا
01:55ہے
01:55اور ان کی جان بچانے کے لیے فوراں خون کی ضرورت ہے
01:58پاہم بلٹ بینگ شاننے کے بعد بھی خون نہیں ملتا
02:00یہ زلفگار آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے
02:02ڈاکٹر میرا خون میچ کرتا ہے میرا خون لے لو
02:04اس کے بعد وہ اپنا خون دیتا ہے اور نور کی جان بچا لیتا ہے
02:07جب نور کو ہوش آتا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے
02:08زلفگار نے اس کی جان بچائی ہے
02:10جس کے بعد اسے بھی زلفگار سے بے پناہ محبت ہو جاتی ہے
02:13کے بعد نور کمزور نہیں رہتی وہ
02:14اتران کوڑ یا کر سلار سے کھلا لے لیتی ہے
02:16پاہ سلار جو انوشوہ بھی مرتا تھا وہ بھی
02:19اسے دھوکہ دیکھر کسی امیر شخص سے شادی کر لیتی ہے
02:21اس کے بعد انجم سلار کے پاس آتی ہے اور اسے تانہ مارتے ہوئے کہتی ہے
02:24سار تم نے ایک بحصوم لڑکی کا دل توڑ کا غلط کیا ہے
02:26آج تم اس کی صدہ بکت ہوگے اور دردر کی
02:29دوسری طرح زلفگار نور کو عزت سے اپنے گھر لے جاتا ہے
02:32اس کی ہمیں نور کو ہور سمجھ گا پورنر اسے اپنے گلے سے لگا لیتی ہیں
02:35اور کہتی ہیں تم تو بالکل میری ہور جیسی ہو
02:37یہ نور خلاصہ کرتی ہے کہ میری ایک جڑوہ بہن بھی تھی
02:40یہ سننے کے بعد سب کے ہوش اڑی آتے ہیں
02:41دوستو یہ حقیقت جاننے کے بعد آپ کو کیا لگتا ہے
02:44کیا زلفگار شاہ نور سے شادی کر لے گا
02:45راوی میں اس کے بعد کوئی اور بیانک رویس آئے گا
02:48جب استفار شاہ کی اس حقیقت زلفگار کے سامنے آئے گی
02:51کہ اس کی بی بی ہور کی جان لینے کے پیچھے کسی اور کا ہاتھ نہیں
02:53بلکہ اسی کے باپ کا ہاتھ ہے
Comments

Recommended