Skip to playerSkip to main content
Huqooq ul Ibaad | Naimat e Iftar - Topic: Rasate ke Huqooq

Watch Shan e Ramzan 2026 ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidxOPy82ppRmJ5GRaSujfOw

Host: Dr. Sarwar Hussain Naqshbandi

Guest: Peer Irfan Elahi Qadri, Mufti Arif Shah Owaisi, Dr. Muhammad Waqas Jaffar

Sana Khuwan: Qari Ashiq Hussain Anjum

#shaneramzan #ramzan2026 #aryqtv

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Hi Muminos
00:00Hi Muminos
00:06Hi Muminos
00:15Bismillahirrahmanirrahim
00:16Mr. Send sahaja
00:18Alah habibika khayril khalqi kulli himi
00:22Nazare ni kolam air yq tv ki khususyi
00:24Shani Ramazan transmission
00:26and this is the night of the day, and this is the night of the day.
00:31We are here with Dr. Serwer Hussain Nakhchman.
00:34We are our program and we are talking about rights,
00:40and we are talking about the rights and rights.
00:42Ramadan and Mubarak has also been in its own time.
00:47Astagfirullah Rabbi min kulli dham bin wa atubu ilaih.
00:50قویر جہاں وہ زیادہ سے زیادہ
00:52اس عشرے میں حکم دیا گیا ہے
00:53تجویز کیا گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ
00:55کوشش کریں کہ استغفار
00:57جو ہے اپنے رب کے حضور
00:59اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے رہیں
01:01اللہ ہم سب کی
01:05جو غلطیاں ہیں
01:06کتائیاں ہیں اس سے درگزر فرماتے
01:08ہوئے اس مہینے کی برکت سے
01:10ہم سب کے لئے خیر کا
01:11اور عزت کا اور برکت کا
01:13ان گھڑیوں کو سبب بنائے
01:15حمد باری طالع سے ہم آغاز کرتے ہیں
01:17اور اس کے بعد پھر میمانوں کا تعرف بھی آپ سے کرواتے ہیں
01:20اور گفتگو کا سلسلہ بھی
01:22آگے بڑھاتے ہیں
01:23کہ سر فلک جو ستارے
01:26سجائے ہیں اس نے
01:28سر فلک جو
01:30ستارے سجائے ہیں اس نے
01:32زمین پہ سبزہ
01:34و گل بھی بچھائے ہیں اس نے
01:36زمین پہ سبزہ
01:38و گل بھی بچھائے ہیں اس نے
01:40دیا ہے خود ہی ہمیں
01:42خیر بانٹنے کا
01:44شعور
01:44دیا ہے خود ہی ہمیں خیر بانٹنے کا شعور
01:48یہ بکششوں کے وسیلے بنائے ہیں اس نے
01:51یہ بکششوں کے وسیلے بنائے ہیں اس نے
01:55اسی میں رکھا ہے اس نے
01:57بلندیوں کا سراغ
01:59جو بندگی کے کرینے سکھائے ہیں اس نے
02:02جو بندگی کے کرینے سکھائے ہیں اس نے
02:06اور گناہ جو بھی کیے ہیں
02:10وہ خود کیے میں نے
02:12कि यह काम जो अच्छे कराए हैं उसने जो अक्से आप थे उनको दवाम बख्ष दिया जो नक्षे संग थे
02:29पल में मिटाए हैं उसने
02:35वो उस तलक ही पहुँचते हैं कोई चल तो पड़े दरून जहां कई रस्ते बनाए हैं उसने
02:52इसी से फर्दे अमल की सियाही धुलती है पसे निगाह जो चश्मे बहाए हैं उसने
02:59पसे निगाह जो चश्मे चुपाए हैं उसने मेरे ख्याल की बंजर जमीन पर सर्वर
03:07मेरे ख्याल की बंजर जमीन पर सर्वर गुले सनाबी करम से उगाए हैं उसने सरे फलक जो सितारे सजाए habits
03:17जमीं पे सब्जा औ गुल भी बिचाए हैं उसने
03:22ناظرین اکرام ہم روزانہ کسی نہ کسی ایک موضوع پر بات کرتے ہیں
03:26اور کسی نہ کسی ایک رائٹ اور اس کے ذاوی اور اس کے پہلو کو اجاگر کرتے ہیں
03:31آج جو ہمارا موضوع ہے وہ ہے راستے کے حقوق
03:35اسلام ایسا خوبصورت دین ہے ایسا مکمل ذابطہ حیات ہے
03:39کہ اس نے کوئی زندگی کا ایسا پہلو نہیں چھوڑا ہے
03:43جس میں اس نے اس کے حق نہ بتائے ہوں
03:46ذمہ داریاں جو ہے وہ نہ بتائی ہوں
03:48راستوں تک کے حقوق جہاں وہ ہمیں تعلیم کیے گئے ہیں
03:51اس پہ انشاءاللہ آج ہم بات کرتے ہیں
03:54ہمارے ساتھ تشریف فرما ہے
03:55جناب پیر عرفان الہی قادری صاحب
03:58آستان انبیاء ساہوچک شریف سے
04:00اور ایئر وائی کو ٹی وی کے متعدد پرگراموں میں
04:03آپ ان کو سماعت کرتے ہیں دیکھتے ہیں
04:06ہمیں آج جوائن کیا ہے
04:07حویلیاں شریف سے بہت ہی منتاز محترم
04:10اور قابل احترام سکالر جناب دکٹر سید مفتی
04:14عارف شاہ اویسی صاحب نے
04:16خوش آمدید قبلہ آپ کو بھی
04:17بہت شکریہ آپ تشریف فرما ہوئے
04:20جناب دکٹر محمد وقاس جعفر صاحب
04:22بھی آج تشریف فرما ہے
04:23ہمارے ساتھ آپ کو بھی بہت جناب خوش آمدید
04:26آپ کو اور جناب قاری عاشق حسین انجم صاحب
04:29ہمارے ساتھ موجود ہیں
04:30آپ کو بھی قبلہ خوش آمدید
04:32اور بسم اللہ کلام عطا فرما دی
04:38امہ
04:39آہ
04:46آہ
04:47آہ
04:59آہ
05:00پھرتے ہیں وہ سوے لالزار
05:08پھرتے ہیں وہ سوے لالزار
05:21پھرتے ہیں تیرے دن آئے بہار
05:35پھرتے ہیں تیرے دن آئے بہار
05:43پھرتے ہیں جو تیرے دن سے
06:00یار پھرتے ہیں جو تیرے دن سے
06:09یار پھرتے ہیں
06:18دربدر یوں ہی خار پھرتے ہیں
06:25دربدر یوں ہی خار پھرتے ہیں
06:39اس گلی کا
06:47اس گلی کا
07:00گدا ہوں میں
07:04جس میں
07:13تاجدار ارے مانگتے تاجدار
07:20پھرتے ہیں مانگتے تاجدار
07:28پھرتے ہیں
07:38بھول کیا دے
07:46ایک میری آنکھوں میں
07:57دشتِ دیبا کے خار پھرتے ہیں
08:09جناب ماشاءاللہ کاری صاحب سلامت میں
08:11بہت خوبصورت کلام آپ نے اور خوبصورت آواز میں
08:14عطا فرمائے اللہ مزید آپ کو برکتیں عطا فرمائے
08:17عطا فرمائے آمین
08:19اپی صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
08:21راستوں کے بھی حقوق بیان فرمائے ہیں
08:24اور اس سے آگاہ فرمائی
08:26بسم اللہ الرحمن الرحیم
08:28مولای صلی اللہ علیہ وسلم دائماً آبدا
08:30علا حبیبکا خیر الخلق کل ہمی
08:33لخمسة نطفی بیا
08:35حر الوبائی الحاتمہ
08:37المصطفی والمرتزا
08:38و بناہما والفاتمہ
08:40بہت شکریہ ڈاور صاحب
08:42دین اسلام کے اندر
08:44ہر پہلو پہ گفتگو کی گئی ہے
08:47اور راستوں کے متعلقہ
08:49بخاری و مسلم کی روایت
08:51حضرت ابو سعید خدری
08:52رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں
08:54کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
08:57کہ راستوں میں نہ بیٹھا کرو
09:00راستوں میں بیٹھنے سے بچا کرو
09:02صحابہ اکرام
09:03رضوان اللہ تعالی علیہ مجمعین نے ارز کیا
09:05کہ یا رسول اللہ
09:06ہمارے پاس چونکہ چارہ کار نہیں ہے
09:09چونکہ وہ آج کا دور تو نہیں تھا
09:11کہ ڈرائنگ روم ہوتے ہیں
09:12یا بیٹھنے کے لیے جگہ ہوتی
09:13تو ہم نے آپس میں ڈسکس کرنی ہو
09:16گفت و شنید کرنی ہو
09:17تو ہمارے پاس اور کچھ چارہ کار نہیں
09:19کہ ہم راستوں میں ہی بیٹھ سکتے ہیں
09:21تو پھر حضور علیہ السلام نے فرمایا
09:23اگر راستوں میں بیٹھنا تمہاری مجبوری ہے
09:26تو پھر راستے کا حق ادا کرو
09:28راستے کے حقوق ادا کرو
09:30یا رسول اللہ راستے کے بھی حقوق ہیں
09:31تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
09:35کہ نگاہیں نیچی کر کے بیٹھو
09:37نگاہیں جکا کے بیٹھو
09:39اللہ اکبر
09:42راستے سے تکلیف دے چیزوں کو ہٹا دو
09:46آنے جانے والوں کو سلام کہو
09:49نیکی کا حکم دو
09:51برائی سے منع کرو
09:53اب ڈرسا یہ پانچوں چیزیں جو ہیں
09:55یہ دین اسلام کی تمام جو شاراہیں ہیں
10:00ان کے ساتھ ان کا تعلق ہے
10:02نگاہیں جکا کے بیٹھنا
10:04یعنی پہلا جملہ حیاء ہے
10:06راستے میں ہیں گلی میں ہیں بزار میں ہیں
10:08تو یہاں سے ہمیں مدعہ یہ ملتا ہے
10:10کہ وہاں حیاء کا پہلو رہے
10:12نگاہیں جکی رہیں
10:14خواتین راستوں سے گزرتی ہیں
10:16یا کوئی ایسے لوگ گزرتے ہیں
10:18جو آپ کی وجہ سے وہاں سے نہیں گزریں گے
10:20تو ان کو تکلیف پہنچے گی
10:22لہذا آپ خود نگاہیں جکا کر بیٹھیں
10:24تاکہ وہ آنے جانے والوں کی آمد و رفت میں
10:27کوئی کسی عمر کا خلل نہ آئے
10:29دوسرا
10:30راستے میں تکلیف دے چیزوں کو ہٹا دو
10:33یعنی راستے میں کانٹا دیکھتے ہو
10:35پتھر دیکھتے ہو
10:36یہ ویسے بھی صدقہ ہے
10:37راستے سے تکلیف دے چیزوں کو ہٹا دینا
10:39یعنی تمہاری جو وہاں بیٹھنا اٹھنا ہے
10:42وہ خیر الناس
10:43مینف الناس کا مصداق بن کر رہے
10:46حضور نے فرمایا
10:47کہ جو تم سے سلام کہے
10:49سلام کا جواب چونکہ واجب ہو جاتا ہے
10:51تو اس کے سلام کا جواب ضرور دو
10:53اور اگر کوئی جانے والا ہے
10:55آہستگی سے جا رہا ہے
10:56اس سے سلام کرو
10:58اب دین سلام کے اندر سلام
11:00چونکہ حضور علیہ السلام کی ایک حدیث پاگ ہے
11:02حضور نے فرمایا
11:03کہ جسے جانتے ہو اس سے بھی سلام کہو
11:05جسے نہیں جانتے
11:06اس سے بھی سلام کہو
11:08اب یہ ایک تو تعلق بڑھتا ہے
11:10اس سے آنے جانے والوں سے
11:12جو ہے مانوسیت ہو جاتی ہے
11:13اور انسان کا وہاں جو بیٹھنا ہے
11:16اجنبیت نہیں رہتی
11:18چھیک
11:18فرمایا کہ نیکی کا حکم دو
11:20جہاں فرمایا کہنا
11:21کن تم خیر امہ
11:22تم بہترین امت ہو
11:23تو ساتھ ہی اس امت کی ڈیوٹی کیا لگائی گئی
11:26وامر بالمعروف ونہا ان المنکر
11:28چھیک
11:28نیکی کا حکم دیتے رہو
11:30برائی سے منع کرتے رہو
11:31حضور علیہ السلام نے فرمایا
11:33کہ جب راستے میں بیٹھنا
11:35تمہاری مجبوری بن گئی ہے
11:36تو پھر وہاں بیٹھ کر
11:37نیکی کا حکم دو
11:39کہ تمہارے سامنے کوئی برائی نہ کرے
11:41اگر کوئی آتا ہے
11:41بیٹھتا ہے
11:42تو اس کو
11:43اللہ کے دین کی تعلیم بھی ساتھ
11:46دیتے رہو
11:46اور برائی سے منع کرتے رہو
11:48اگر راستے میں تمہارے سامنے
11:50کوئی برا فیل کرتا ہے
11:51تو تم اسے روک ٹوک بھی کرو
11:53اور اسے یہ بتاؤ
11:54کہ یہ دین اسلام کے منافی ہے
11:56بلکل چیز
11:57اس لیے راستوں کے یہ پانچ حقوق جو ہیں
11:59یہ اتنی اہمیت کے حامل ہیں
12:01کہ اگر ہم ان پر عمل پیرا ہو جائیں
12:04تو آج کا معاشرہ بھی
12:05جو ہے
12:06ہمارا حسن معاشرت بھی
12:08اور معاشرے میں رہن سہن بھی
12:09بڑا خوبصورت اور خوبصیرت ہو جائے گا
12:12بلکل ٹھیک
12:12اچھا ڈاکس صاحب
12:13ہم ذرا اس گفتگو میں
12:15اور جو راستوں کے آداب
12:17اور اس کے حقوق
12:18رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم
12:20نے ارشاد فرمائے ہیں
12:22اس کی روشنی میں دیکھیں
12:23تو ہمارے ہاں
12:25تمام تر جو ہماری خوشی کی
12:27تقریبات ہوں
12:28وہ راستوں پہ ہوتی ہیں
12:29غمی کی تقریبات ہوں
12:30ہماری مجالس ہوں
12:32محافل ہوں
12:33تقریبات ہوں
12:34ایون مظاہرے ہوں
12:35اس میں بھی جو پہلا
12:37ہمارا قدم ہوتا ہے
12:38وہ راستوں کو بند کرنا ہوتا ہے
12:39تو اس کو کس تناظر میں پھر ہم
12:41راستوں کے حقوق کے حوالے سے
12:43کیسے دیکھیں گے
12:45ماشاءاللہ
12:47ڈاکس صاحب نے
12:47اور پیر صاحب کبلہ نے
12:48بڑی اچھی گفتگو کی ہے
12:50ماشاءاللہ
12:51اور یہ عنوان بھی آج
12:53یار بھائی کیو ٹی وی نے رکھا ہے
12:54جو آج کے
12:55کرنٹ ایشیوز کے حوالے سے ہے
12:57اور بڑا اچھا
12:59عنوان انتخاب ہے
13:00ماشاءاللہ
13:02اور
13:04اس پر میں
13:07دو حوالوں سے گفتگو کروں گا
13:10پہلی بات تو یہ ہے کہ
13:14امام بہے کی
13:15رحمت اللہ تعالی نے
13:17ایک کتاب لکھی ہے
13:18اس کا نام ہے
13:19شعوب الایمان
13:21جی
13:21اس کے اندر ایمان کی
13:24ستتر شاخیں
13:25انہوں نے حدیث شریف سے بیان کی
13:26چیک
13:28اس میں جو ایمان کی
13:29سب سے آخری شاخ ہے نا
13:31ستترویں شاخ
13:34اس کا نام ہے
13:35ایماتت الازا عن طریق
13:38چیک
13:39راستے سے
13:40کسی تکلیف دے
13:42چیز کو ہٹا دینا
13:43یہ ایمان کی
13:44ستترویں شاخ ہے
13:45اللہ حکر
13:4677 برانچ
13:47آف ایمان
13:49ایمان
13:49فیت
13:51تو ہم لوگوں نے
13:53آج امراج و معاشرہ ہے
13:55میں ذرا تھوڑی سی اس کو اپنے ماضی کے ساتھ جوڑ لیتا ہوں
13:59آج کے بھٹی گیٹ کو دیکھو
14:01اور آج سے
14:02دو سو سال پہلے کا بھٹی گیٹ دیکھیں
14:04آج کا لاہور دیکھیں
14:05دو سو سال پہلے کا لاہور دیکھیں
14:08یہی حال فیصلہ باد
14:09پنڈی پشاور
14:10دنیا بھر کے عبدالی دیکھ لیں
14:12دنیا بھر کے شہروں کو دیکھ لیں
14:15تو جب وہ شروع ہوتے ہیں
14:17تو ان کی شہرائیں بڑی ہیں
14:18گلیاں بڑی ہیں
14:19بازار بڑی ہیں
14:21جب وہ بڑھتے ہیں
14:23تو ان کی گلیاں چھوٹی ہو جاتی ہیں
14:25ان کے شہرائیں چھوٹی ہو جاتی ہیں
14:27ان کی گلیاں تنگ پڑ جاتی ہیں
14:28اس کی وجہ کیا ہے کہ لوگ رستے کا حق نہیں پہچانتے
14:32اپنی سیڑھی باہر نکال لی
14:33اپنا رستہ باہر نکال لیا
14:36تو جس طرح ہم لوگ خالی ایک ایونٹ کے موقع پر ہم یہ کہتے ہیں
14:42کہ جلسہ کیوں ہو گیا جلوس کیوں ہو گیا
14:44اور جلسے جلوس ہو جاتے ہیں
14:45احتجاج ہو جاتے ہیں
14:46احتجاج یا جلسے جلوس یہ تو شہریوں کا حق ہے
14:50جب کسی کے ساتھ کوئی اس طرح کا معاملہ ہو جائے
14:51تو جب کوئی ایونٹ آتے ہیں
14:54مقامات آتے ہیں شہروں میں
14:55ویسے بھی آج کل ہماری گورنمنٹوں کا کام ہے
14:58کہ وہ پارکس دیں
14:59اگر پارک نہیں ہے
15:00تو پھر لوگوں کو
15:01چونکہ سیولائز ماسٹریز جیسے یوکے کر لیں
15:03یو ایسے کر لیں
15:04وہاں احتجاج کے لیے باقیدہ پارک بنے ہوئے ہیں
15:07ایک جگہ بنی ہوئی ہیں
15:08جہاں پر لوگ احتجاج کرتے ہیں
15:10ہمارے ملکوں میں اصلاح نہیں ہیں
15:11تو اس لئے ہماری عوام مجبور ہوتی ہے
15:14کہ وہ پھر شہروں میں ہی آ کر احتجاج بھی کرتے ہیں
15:16جلسے جلوس بھی کرتے ہیں
15:17بارہ ربی لوال آگا گیا
15:19محرم آگیا یہ سارے جلوس کرتے ہیں
15:21مگر اس کے لئے بھی
15:22ہمارے ہاں بھی اس کا ایک اچھا
15:24طریقہ کار ہو سکتا ہے
15:26کہ آدھا رستہ چھوڑ دیا جائے
15:28گزرنے والوں کے لئے رستہ بھی چھوڑ دیا جائے
15:30آپ اپنا کام بھی کرتے رہیں
15:32تاکہ گزرنے والوں کو تکلیف بھی نہ ہو
15:34اس میں ایک میں بات بڑھانا چاہوں گا
15:37اور بڑھا اچھا آپ نے انمان کیا
15:39اور اس ما شاء اللہ
15:40اے آر و ایکیوٹی وی کے ذریعے
15:42ہمارا یہ پاہم معاشرے میں پھیلے
15:44اور لوگوں تک یہ ہمارا جو میسیج ہے پہنچے
15:47تو ہو سکتا ہے کہ کافی سارے لوگوں کی صلاح ہو
15:50یہ تو میں کہتا ہوں
15:51اس ٹاپک کو منتخب کرنا یہ بہت اچھا
15:53آپ نے مطلب ٹاپک کیا
15:55اس پر اور زیادہ میں نے کہا گفتگوی ہونے شہیر
15:58تو میں یہ جو بات اس میں اضافہ کرنا چاہ رہا ہوں
16:00وہ یہ ہے
16:01کہ دور حاضر میں ہمارے جو جلسے جلوس ہو رہے ہیں
16:04اس میں اخلاقی
16:07تھوڑی سی قدروں کا بہار
16:08کہ کوئی مریض جا رہا ہے کوئی ایمبولنس جا رہی ہے
16:10کوئی جنازہ جا رہا ہے
16:12کوئی اور ایسی مسائل ہو سکتے ہیں
16:14جو ہماری بھائی ہیں
16:15اگر بیمار ہے کوئی ہماری بہن ہوگی
16:17ہمارا بھائی ہوگا جو ایمبولنس میں پڑھا ہوگا
16:19کوئی بچہ ہوگا کوئی مریض ہوگا
16:21تو اس وجہ سے ہمیں چاہیے کہ ہم جتنا مرضی بھی احتجاج کریں
16:24جو کچھ کریں جو ہمارا کے قانونی آکھ ہے جو مریض آکھ ہے
16:27اس کے ساتھ ہمیں چاہیے کہ دوسرے لوگوں کو ہماری وجہ سے تکلیف نہ ہو
16:31صحیح صحیح
16:31اس وجہ سے ایک اور چیز
16:33جو
16:34قبلہ بریک کا وقت ہے ابھی دوبارہ آپ آتے ہیں
16:36اچھا بریک اور یہ بس ٹھیک ہے
16:37وہ اتنی سے بات کرتا ہوں کہ راستہ
16:41اللہ کی مرضی کے مطابق ہم نے چلنا ہے
16:44بلکل ٹھیک بہت اچھی بات
16:45ناظرین اکرام بریک اپ وقت ہے ہمارے ساتھ رہیے
16:48لوٹتے ہیں اور پھر کچھ اور پہلوں پہ بات کرتا ہے
16:56شان رمضان
17:09ناظرین خوش حامدیت کہتے ہیں آپ کو وقفے کے بعد
17:12پروگرام دیکھ رہے ہیں آپ حقوق العباد
17:13اور آج راستے کے حقوق پر ہم بات کر رہے ہیں
17:16اور بریک پہ جانے سے پہلے
17:18بہت سے ابتدائی طور پر
17:20بہت سی اہم باتیں ہم نے کی
17:22اور خاص طور پر اس میں یہ ذکر آیا
17:24کہ راستے سے جو پتھر
17:27ہٹا دینا ہے
17:28اور اس کی رکاوٹ کو دور کر دینا ہے
17:30یہ بھی صدقہ میں شمار ہوتا ہے
17:32کانٹا پتھر اس سے دور کر دینا
17:35تو جنابے ڈاکٹر وقاس
17:36جافر صاحب ہمارے ساتھ موجود ہیں
17:38وہ فرمائیں گے کہ یہ
17:40صدقہ اس کو کہا گیا ہے اور کبلا پیر صاحب نے بتایا
17:43کہ ستترمی شاخ
17:45جو ہے وہ راستے
17:46کو درست کرنا یا اس کو صحیح کرنا ہے
17:49تو کیا فرماتے ہیں کہ صدقہ
17:51شمار کیا گیا ہے راستے کو
17:52صاف کرنا
17:53بسم اللہ الرحمن الرحیم
17:56نو ڈاؤڈ کہ یہ سرکار دعالم صلی اللہ علیہ وسلم
17:58کی متفقن علیہ حدیث ہے
18:00بخاری و مسلم دونوں میں آئی ہے
18:02کہ راستے سے پتھر کو
18:04کیا کسی تکلیف دے چیز کو ہٹا دینا
18:06جیسے پیر صاحب فرمارے تھے
18:08آقا علیہ السلام کی حدیث
18:10کہ غد البسری وقف العزائی
18:12ورد السلامی
18:14والعمر بالمعروف وانہین ننکر
18:16کہ اس پہ جو آپ نے پہلو دوسرا پہلو
18:18کہ تکلیف دے چیز کو ہٹا دینا
18:20کا حکم دیا ہے
18:21تو حکم بھی ہے یعنی ایک طرف اللہ کے رسول
18:24حکم فرمارے ہیں دوسری طرف
18:26حضور اکرم صاحب اس کا فائدہ بھی بتا رہے ہیں
18:28اگر آپ بھی ہٹائیں گے تو آپ کو اس کا سواب بھی
18:30ملے گا اور دوسری چیز جو
18:32اپنے ڈاک صاحب آپ نے غور کرنی ہے
18:34کہ جو آپ نے اس
18:36موضوع کا انتخاب کیا ہے نا
18:37اس انتخاب میں دیکھیں
18:39کہ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے لیے
18:42یا دین اسلام کے لیے
18:44کیسے کسی الفاظ کا چناؤں کی ہے
18:46تو سرات کا لفظ استعمال فرمایا
18:48یعنی حدیر السرات المستقیم
18:50تو سرات کہتے ہیں کھلے راستے کو
18:52یعنی اس سے ہی اندازہ ہوتا ہے
18:54کہ راستوں کو کشادہ ہونا چاہیے
18:55اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ
18:58انہوں نے فرمایا تھا
18:59کہ اگر عراق میں اگر ایک کوئی خچر
19:01ٹھوکر لگا کر زخمی ہو جاتا ہے
19:04ٹھوکر لگنے سے
19:05راستہ ہموار نہ ہونے کی وجہ سے
19:07تو ہو سکتا ہے
19:07مجھے خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ
19:09مجھے اس کے بارے میں سوال نہ کریں
19:10تو آپ اندازہ لگائیے
19:12کہ راستوں کو کشادہ رکھنا
19:14کس طرح اور حکم ہے
19:15پھر شریعت کا
19:16یعنی شارعہ کا معنی یہ ہے
19:18کہ جو چشمیں ہوتے تھیں
19:20کیونکہ ظاہرہ آپ سہرائی علاقہ تھا عرب کا
19:22تو جو چشموں تک پہنچا دے
19:23تو اس کو شارعے کہتے ہیں
19:24تو اللہ تعالیٰ نے جو لفظوں کا انتخاب فرمایا
19:27شریعت کے لیے
19:27یعنی شریعت کا لفظ
19:29سرات کا لفظ
19:30طریق کا لفظ
19:31یعنی ہم طریق کی بات کر رہے ہیں
19:32طریقہ وہ ہوتا ہے جو ظاہری طور پہ
19:34عملی طور پہ جو راستے کا انتخاب کرتا ہے
19:36صرف سبیل کا لفظ
19:38چھوٹا موٹا رستہ ہے
19:39اور آقا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
19:40ایک بڑی حضیث فرما کے
19:41ایک وضاعت فرمائی
19:43آقا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم
19:44میں ایسی پیٹھے ہیں صحابہ کے پاس
19:45مسجد نوی کے سہن میں
19:47تو آقا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
19:48ایک ہاتھ میں کانہ وغیرہ پکڑا ہوا ہے
19:50تو آپ اس طرح مختلف ڈائریکشنز بنا رہے ہیں
19:52کوئی دائیں کوئی بائیں
19:53لیٹ سائیڈ پہ
19:55اور بیچ میں ایک بڑا راستہ بناتے ہیں
19:57آقا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
20:01کہ تم دیکھ رہے ہیں یہ رستے ہیں
20:02یہ پکڑنڈیاں ہیں جو دائیں بائیں جا رہی ہیں
20:04لیکن اس میں جو سب سے بہترین
20:06یہ جو راستہ بتایا نا میں نے
20:07یہ بلکل سیدھا راستہ ہے
20:08یہ تمہیں دائیں بائیں یہ لے کے جائے گا
20:10حاضر صراط و مستقیم یہ سیدھا رستہ ہے
20:12تو آپ اندازہ لگائیں
20:14کہ شریعت متحرہ ہی آپ کو
20:17راستوں کے حوالے سے آگاہ کر رہی ہے
20:19وہ دین اسلام کے جو
20:21اصل پرومیننٹ چیزیں ہیں
20:22ان کو راستوں کے ساتھ اٹیچ کر رہی ہے
20:24تو لہٰذا جو آقا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم
20:26کے یہ فرمان کے راستوں سے ہٹا دی ہے
20:28پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
20:29مسلم شریف کی ایک حدیث ہے
20:30آقا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم
20:33ایک صحابی نے آکے بتایا
20:34کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
20:35ایک شخص کو میں نے جنت میں دیکھا
20:38تو آقا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
20:40اس شخص نے
20:42راستے سے ایک درخت کو کٹوا دیا تھا
20:44کیونکہ وہ راستے میں آ رہا تھا
20:45اور لوگوں کو ٹھوکر لگنے کا یہ حادثے خطرہ تھا
20:48تو اس درخت کو کٹوا دیا تھا
20:49اللہ تعالیٰ نے
20:50اس راستے کو ہموار کرنے
20:53اور راستے سے تکلیف دے چیز کو دور کرنے کی وجہ سے
20:55اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت ادا فرمائی
20:57بلکل ٹھیک
20:59پیس اپ کیا فرماتے ہیں
21:01ہمارے ہاں ایک تو یہ ہے
21:02ایک تو ہے کہ راستوں کو صاف کرنا
21:05کشادہ رکھنا
21:06وہاں پر تکلیف پہنچانے والی چیزیں
21:09ان کو دور کر دینا
21:10یا لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا
21:12لیکن ایک دوسرا ایک پہلو بھی ہے
21:14کہ راستہ پوچھنا
21:15کسی سے
21:16اور وہ آپ کو درست نہ بتایا
21:18ہمارے ہاں اکثر یہ ہوتا ہے
21:20کہ اس میں کیا درست
21:21زاویہ کیا ہے
21:22کوئی آپ سے راستہ پوچھتا ہے
21:23آپ کو علم ہے
21:25تو آپ اس کو درست
21:26جو ہے وہ گائیڈ کر دیں
21:28اور اگر نہیں پتا ہے
21:29تب ہی آپ گائیڈ کر رہے ہیں
21:30اور غلط راستہ بتا دیتے ہیں
21:32تو یہ غلط راستہ بتانا
21:33اور درست راستہ بھی
21:35صحیح طریقے سے نہ گائیڈ کرنا
21:37اس پر بھی رہنوائی فرما
21:38یہ عام ہے یہ مارے
21:39جی دار صاحب دیکھیں
21:40جہاں قرآن مجید میں
21:41سورہ نصہ کے اندر
21:42آیت نمبر 35 میں
21:44اللہ رب العزت نے
21:45والدین کے ساتھ
21:47عزاقارب کے ساتھ
21:48یتیموں کے ساتھ
21:56حسنِ سلوک
21:58راستہ بتانا
21:59یہ حسنِ سلوک میں آتا ہے
22:01بتاون علی البر و التقوی
22:04یعنی نیکی میں
22:05یہ اس میں تعاون ہے
22:08اب راستہ بتانا
22:10حسنِ سلوک میں آگیا
22:11پہلی بات تو یہ ہے
22:12کہ حکم ہے
22:13اچھا دوسری بات یہ ہے
22:14کہ اگر آپ کو پتا ہے
22:16تو آپ اس کے امین ہیں
22:19اور نہیں بتا رہے
22:21تو آپ خیانت کر رہے ہیں
22:23یعنی یہ دونوں کام گناہ گئے ہیں
22:26قرآن نے دونوں پہ وعید فرمائی ہے
22:28کہ راگیر ہے
22:29اس کے ساتھ
22:31اس نے سلوک کرو
22:32اور اگر تمہیں کسی بات کا علم ہے
22:34تم نہیں بتا رہے
22:35وہ امانت میں خیانت کر رہے ہو
22:38راستے کا بتا دینا
22:40دیکھیں اگر کوئی بیمار ہے
22:41اچھا کوئی مجنون ہے
22:43کوئی پاگل ہے
22:44اچھا اس کے علاوہ
22:46بندہ ٹھیک ہے لیکن راستہ بھول گیا ہے
22:48وہ پوچھتے ہیں
22:49آپ اس کو نہیں بتاتے
22:50یا آپ اس کو دوسری سمجھ ڈال دیتے ہیں
22:56دوسرا گناہ پہ ڈٹ جانا
22:57یعنی غلط راستے پہ اس کو ڈال دینا
23:00اس کی مثال یوں ہے
23:01کہ گناہ کرنا
23:02دوسرا گناہ پہ ڈٹ جانا
23:03اگر معلوم نہیں ہے
23:05تو بتا دے کہ مجھے علم نہیں ہے
23:07آپ گناہگار نہیں ہے
23:09اور اگر آپ کو علم ہے
23:10تو پھر آپ کو اس راستے تک پچھانا
23:13آپ کے وہ فرض میں شامل ہو جاتے ہیں
23:15چونکہ آپ
23:16اللہ کی مخلوق کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں
23:20اگر آپ کو معلوم ہے
23:21اور غلط بتا رہے ہیں
23:22اور وہ اس لیے بتا رہے ہیں
23:24کہ یہ سواری میرے ساتھ نہیں بیٹھی
23:26تو میں اس کو غلط بتا دیتا ہوں
23:28یا یہ بندہ کار پہ ہے
23:29اور میں رکھشے والا ہوں
23:31اور میں اس کو جو مرضی بتا دوں
23:33اب وہ یہ دیکھیں
23:34وہ جدر مرضی بھولتا پھرے
23:36اور ویسے بھی آج کے
23:37اگر جو ہے
23:39زاویے میں ہم بات کریں
23:41تو پٹرول اتنا مہنگا ہے
23:42کہ کسی صورت بھی بندہ برداشت نہیں کرتا
23:44کہ مجھے تھوڑا سا بھی زیادہ سفر
23:48تو اس لیے ڈاٹ صاحب ضرورت اس عمر پر ہے
23:51راستے کا صحیح بتانا
23:53یہ اس نے سلوک ہے
23:54اور نہ صحیح بتانا
23:56اور صحیح بتانا یہ امانتداری بھی ہے
23:58اور اگر آپ اس بندے کے ساتھ
24:00دھوکہ دعی کر رہے ہیں
24:01تو آپ اللہ اور اللہ کے رسول کے بھی مجرم ہیں
24:04اس بندے کے بھی مجرم ہیں
24:05کیونکہ حضور نے فرمایا
24:06خلق جو ہے یہ اللہ کا کنبہ ہے
24:08اللہ کا کنبہ سمجھتے ہوئی
24:10ہم مخلوق کے ساتھ پیار کریں
24:12اور پیار کرنے والی صفات میں بھی یہ بات آتی ہے
24:15کہ راستہ صحیح بتایا جائے
24:16بلکل ٹھیک
24:18اچھا ڈاک صاحب یہ جو شہریوں کی
24:21گزرنے والوں کی جو آمد و رفت ہے
24:23اس میں راستے کا
24:25کشادہ کرنا
24:26اس کے لیے سہولت فراہم کرنا
24:28اور اس میں آسانیاں پیدا کرنا
24:29یہ انفرادی ذمہ داری ہے
24:31معاشرے کی ذمہ داری ہے
24:33حکومت کے ذمہ داری ہے
24:34کہ آسانی ہو گزرنے کے لیے کشادگی بھی ہو
24:37اور مسائل نہ ہو راستوں میں
24:39تو یہ بنیادی طور پر کس کی ذمہ داری ہے
24:44آج کے اس پرگرام میں میں خوش تو اس لیے رہا ہوں
24:46کہ قبلہ پیر صاحب کے ارشادات سے بڑا
24:48مستفیض ہوئے
24:49جاک صاحب نے بڑی پیاری باتیں کی ہیں
24:51اور آپ کی اتنی خوبصورت گفتگو ہے
24:53تو ماشاءاللہ یقیناً ہمارے ناظرین و ناظرات
24:56آج بڑے محزوز ہو رہے ہوں گے
24:58یہ عنوان بھی بہت اچھا ہے
25:00حضور والا ذمہ داریاں
25:03بیق وقت نہ تو گورنمنٹ کی ہوتی ہیں
25:05اور نہ یہ افراد کی ہوتی ہیں
25:07کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں
25:09جیسے بڑے روڈز
25:10بڑی شہرائیں
25:11بڑے سڑکیں
25:12موٹر ویز بنانا
25:13یہ پبلک کا کام نہیں
25:15یہ گورنمنٹ کا کام نہیں
25:16چیک
25:17لیکن جہاں ٹاؤنز ہیں
25:19ہماری محلے ہیں
25:20عبادیاں ہیں
25:22وہاں پر اپنے رستوں کو صاف رکھنا
25:24یہ ہماری خود اپنی ذمہ داری ہے
25:26صحیح
25:26بڑے بڑے دنیا کے ممالک کے اندر دیکھیں
25:28آج بھی
25:29ہر شخص اپنے گھر کا
25:31ڈسٹ بن خود جا کر باہر سائیڈ پر رکھتا ہے
25:33گاڑیاں آتی ہیں
25:34لے کر جاتی ہیں
25:35اور پھر وہاں سے واپس لاکر
25:36اپنے گھر میں رکھتا ہے
25:37صحیح
25:37تو ہمارے ہاں
25:40میں چونکہ پاکستان میں بیٹھا ہوا
25:41ہم یہ پروگرام کر رہے ہیں
25:42آر وائی کیو ٹی وی کے ذریعے
25:43دنیا بر کے ناظرین و ناظران سننے ہیں
25:45لیکن ہماری گفتگو کا مقصد تو پوری دنیا میں ہی جاتا ہے
25:48پوری دنیا کے لوگ چونکہ دیکھتے ہیں
25:50پورے گلوبل میں
25:51تو میں یہ محلے اور گلی کی سطح پر جو لوگ ہیں
25:55ان کے حوالے سے بات کروں گا جہاں ہم لوگ رہتے ہیں
25:58تو اس کے حوالے سے
26:01ہمارے ہاں تصوف میں بھی یہ بات ہے
26:03کہ اگر کسی شخص کے اپنے گھر کا کچرہ
26:07اور گندگی گھر کے باہر رہتی ہے
26:10اور اس کا رستہ گندہ رہتا ہے
26:11تو اس شخص کے اپنے روانی معاملات بھی ٹھیک نہیں ہوتے
26:15اس لیے چاہیے کہ گھر سے باہر بھی صفائی کرو
26:17اور صفائی کر کے دوسروں کے گھر کے آگے نہ ڈالو
26:20صفائی کر کے اس کو جہاں پر کچرہ
26:23یا گندی چیزیں پھینکنے کی جگہ ہے
26:25وہیں پر ڈالنا ہے
26:27لیکن یہ کہ ہمارے ہاں اکثر یہ ہوتا ہے
26:29کہ ہم اپنے گھر سے تو صفائی کر لیتے ہیں
26:31لیکن ارد گرد والوں کے ہاں
26:34اپنی گندگی وہاں پر ڈال لیتے ہیں
26:36یہ بھی غلط ہے
26:36محلے میں سب کے حقوق برابر ہوتے ہیں
26:39علاقے کے لوگ رہتے ہیں
26:40تو سب چاہیے
26:41کہ ہم سب لوگوں کو مل جول کر صفائی کرنے چاہیے
26:44اور ہر شخص اگر اپنے گھر کے سامنے سے صفائی کر بھی لے
26:47تو اس طرح سارا محلہ بھی صاف ہو جائے گا
26:50اس طرح گھر میں رہنے کے لئے حاصل بھی ہے
26:52تو باطنی صفائی
26:53ظاہری صفائی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے
27:03وہ ایمان کا ایک لازمی حصہ اور جز ہے
27:06اور یاد رکھیں
27:08آج جو ہمارے دنیا بھر میں جتنے بھی راستے ہمارے بنے ہوئے
27:12گلیاں ہیں
27:13روڈ ہیں
27:15سٹاپس ہیں
27:15تو ان کے حوالے سے حقوق اور فرائض
27:18دونوں کے برابر برابر ہیں
27:20گورنمنٹ کا بھی کام ہے
27:22کہ لائٹنگ کرے
27:22گورنمنٹ کا کام ہے
27:23ان رستوں کو پکا اور شادہ کرے
27:25اس کے اندر جو گٹر سسٹم ہے
27:27اس کو ٹھیک کرے
27:27کیونکہ یہ وہ کام ہے
27:29جو ملے والا
27:29یہ ہر گھر والا آدمی نہیں کر سکتا
27:31چیک
27:31تو جو سیوری سسٹم کا جو گورنمنٹ کا کام ہے
27:33وہ وہ کرے
27:34لیکن اس کے بعد جب وہ چیز بن جائے
27:36اس کو روزہ نہ توڑنا پھوڑنا
27:38یہ ملے والوں کا کام ہے کہ وہ نہ کریں
27:39صحیح
27:40اور اس کو جب گورنمنٹ ایک چیز بنا کر چلی گئی ہے
27:42تو پھر اس کو رکھیں اور سمحلیں اور اس کا خیار رکھیں
27:46جتنے اپنے گھر کے رستے سے لے کر
27:48ملے کے رستے سے لے کر
27:49ٹاؤن کے رستے سے لے کر
27:51ہر جگہ رستوں کے حقوق برابر برابر چلتے ہیں
27:54کچھ گورنمنٹ کی ذمہ داریاں آتی ہیں
27:56اور کچھ ہماری ذمہ داریاں
27:57چیک
27:57دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں جو ہیں
27:59ان کا سمجھنا بہت ضروری ہے
28:01وقاط زیافر صاحب
28:02جی صاحب
28:02ٹرافک کے مسائل راستوں میں آج کل سب سے زیادہ ہیں
28:05ہمارے ہاں
28:07اور وہ بھی ظاہر ہے کہ رستوں کی بندش سے بہت عذیت ہوتی ہے
28:10لوگ اپنی اپنی منزل پر
28:12اپنے کام پر وقت پر نہیں پہنچ پاتے
28:14امبولنسز پسی ہوتی ہیں
28:15اور کوئی بیمار اس کے اندر جو ہے وہ
28:18گاڑی میں موجود ہوتا ہے
28:19یا اوورال بھی جب ٹرافک بند ہوتی ہے
28:22تو ایک ذینی عذیت کا سبب جو ہے وہ بنتا ہے
28:25تو یہ جو ذمہ داری ہے
28:27اس میں عوام کی کتنے ذمہ داری ہے
28:29اور ٹرافک کو کنٹرول کرنے والے جو ہمارے حضرات ہیں
28:32جو ٹرافک پولیس ہے
28:34یا ادارے ہیں
28:34ان کی کتنے ذمہ داری ہیں
28:36دونوں کو کس طرح سے
28:37اس میں توازن پیدا کیا جائے
28:39کہ رش ہونے کے باوجود بھی کم از کم ٹرافک چلتی رہے
28:42رکاوٹ نہ بنے
28:44دیکھیں روکس صاحب
28:45اصل تو چیز یہ ہے
28:46کہ اللہ کے رسول کا حکم کیا ہے
28:49اللہ کے رسول کا متلکن حکم ہے
28:51کہ راستے کے اندر سے تکلیف سے چیز کو ہٹا دو
28:55اور اس میں ظاہر ہے
28:56پھر وہ گورنمنٹ کا بھی کام آ گیا
28:58اور عوام الناس کا بھی آ گیا
28:59دونوں ذمہ دار ہو گئے
29:00اور اپنی اپنی ذمہ داریوں نے نبھانی ہیں
29:02اور دوسری چیز یہ ہے
29:04کہ سرکار دعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان
29:06حضور نے فرمایا
29:07راستے لوگوں کی امانت ہے
29:10ہم
29:10تو جب آپ
29:12اللہ کے رسول فرمانے ہیں
29:13کہ سارے راستے امانت ہیں
29:15لوگوں کی
29:15تو لہٰذا وہ پبلک پراپٹی ہوئی
29:17پبلک پراپٹی ہوئی
29:18تو میرا بھی حق ہے
29:19آپ کا بھی حق ہے
29:20ہم سب کا حق ہے
29:21کہ اس پراپٹی کا خیار رکھیں
29:23تو لہٰذا جو آپ ٹریفک کی بات کریں
29:25اگر ہم موڈرن ورلڈ میں
29:27یا ویسٹر ورلڈ میں دیکھتے ہیں
29:28تو وہاں پر
29:29جو بہت سارے ٹریفک کے قوانین کی
29:31وائلیشنز آپ کو کم ملتی ہیں
29:33لوگ جو ہے
29:33وہ زیادہ اپنا ٹریفک کے قوانین کو
29:35فالو کرتے ہیں
29:36ہمارے ہاں ایسا
29:38انفورچنیٹلی نہیں ہے
29:39تو اس کے لیے
29:40ہمیں یہ نہیں دیکھنا
29:41کہ گورنمنٹ کی کیا ذمہ داری ہے
29:43یا جو پولیس والا سارجن کھڑا ہے
29:46تو ہم نے ہیلمنٹ پین لینا ہے
29:47یا ہم نے ٹریفک اپنا
29:49اگر کیمرے لگے ہوئے ہیں
29:50تو ہم نے رک جانا ہے
29:51اشاروں کی پابندی کرنی
29:52ایسا نہیں
29:52بلکہ اگر یہ دیکھا جائے
29:54کہ آپ کی ذمہ داری ہے
29:55بطور مسلمان
29:56بطور ایک شہری
29:57کہ آپ نے اپنی ذمہ داری
29:59نبھانی ہے
29:59تو لہٰذا پھر
30:00ٹریفک سگنل لگے ہوں
30:02کیمرے لگے ہو
30:03نہ لگے ہو
30:03پولیس والا کھڑا ہو
30:05نہ کھڑا ہو
30:05اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا
30:06آپ اللہ تعالیٰ کو
30:08جواب دیں ہیں
30:09آپ سرکار دعوی عالم
30:10صلی اللہ علیہ وسلم کے
30:11امتی ہیں
30:11تو لہٰذا جب ہم
30:12اس طرز میں سوچیں گے
30:14اور دیکھئے کہ
30:15حضرت عمر فاروق
30:16رضی اللہ تعالیٰ نے
30:17بقاعدہ طور پر
30:18بازاروں کے لیے
30:19محتسب
30:20اقائق ادارہ قائم کیا
30:21تو بازاروں کی
30:22نگرانی کرتا تھا
30:23جس کے اندر
30:24صرف پرائس کنٹرول نہیں
30:25تھی بلکہ یہی چیز
30:26دیکھی جاتی تھی
30:27کہ کوئی راستہ
30:28رکاوٹ
30:28راستے کو روک کے
30:30تو نہیں بیٹھا ہوا
30:30تو راستوں کو
30:31ہموار رکھنا
30:32راستوں کو کشادہ رکھنا
30:33اور ساری چیزوں کو
30:34چیک انڈ بیلس رکھنا
30:36یہ حضرت عمر فاروق
30:37رضی اللہ تعالیٰ کو
30:37بقاعدہ ایک سسٹم موجود تھا
30:39لہٰذا
30:40ہمیں خلافہ راشدین تھے
30:41اور سرکار دعالم
30:42صلی اللہ علیہ وسلم
30:42کی تعلیمات
30:43یہی بتاتی ہیں
30:44صرف اپنے حشام میں
30:45اگر آپ پڑھیں گے
30:46تو حضور نے
30:46بقاعدہ طور پر یہ فرمایا ہے
30:48کہ راستوں کو
30:48کشادہ رکھو
30:49پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
30:50نے آپ دیکھی نا
30:51کہ آپ
30:52رحمت اللی العالمین ہیں
30:54اور آپ دیکھیں
30:55کہ جنگ کے دنوں میں بھی
30:57آپ جب
30:57مکہ فتح کرنے جا رہے ہیں
30:59اس وقت بھی حضور فرما رہے ہیں
31:00کہ راستے میں
31:01کوئی چیز
31:02جو ہے
31:02اس کو ہٹا دینا
31:03آپ نے درخت کو نہیں توڑنا
31:05آپ نے فصلوں کو نقصان
31:06جنگ کے جو اصول بیان فرما ہیں
31:07اس کے اندر بھی
31:08ساری چیزیں موجود ہیں
31:09کہ راستے کو
31:10جو ہے وہ نقصان نہیں پہنچا
31:11ایسے یہ
31:11لہٰذا آپ دیکھتے ہیں
31:13کہ اگر جب کوئی جنگ ہوتی ہے
31:14کسی کوئی ملک
31:15دوسرے ملک سے جنگ کرتا ہے
31:16تو سب سے پہلے
31:17راستوں کو ہی توڑا جاتا ہے
31:18دیکھیں یہ
31:19یعنی سب سے بڑی
31:20خطرناک بات یہ ہے
31:21کہ اسی چیز کا نقصان
31:22تاکہ لوگوں کی ترسیل
31:23جو ہے
31:23لوگوں کی عام دور افر رکھ جائے
31:25لہٰذا
31:25ہماری بھی ذمہ داری ہے
31:27پبلک کی بھی ذمہ داری ہے
31:28اور یہ گورنمنٹ
31:30اور پاکستان کی
31:30یا گورنمنٹ کی بھی ذمہ داری ہے
31:31کہ دونوں اپری بھی
31:32ذمہ داری پوری کریں
31:33اور جو ٹریفیکر نظام ہے
31:35اس کو چلانے میں مدد کریں
31:36بلکل ٹھیک
31:36ناظرین اکرام
31:37چھوٹا سا وقفہ ہے
31:38ہمانے ساتھ رہیے
31:39لوٹتے ہیں
31:40اور پھر انشاءاللہ
31:41یہ جو
31:42ہمارا موضوع ہے
31:43اس کے پر مزید
31:44کچھ پہلوں پر بات کرتے ہیں
31:46قاری عاشق
31:47حسین انجم صاحب
31:48آپ کا وحد شکریہ
31:49ہمیں ایک اور مہمان
31:50جو آئین کریں گے
31:51وقفے کے بعد
31:51ملتے ہیں
31:52ایک مختصر سے وقفے کے بعد
32:07ہے مومینوں کے دل کا
32:09اجالہ شان رمضان
32:12ہے مومینوں کے دل کا
32:14اجالہ شان رمضان
32:19ناظرین خوش حامدید
32:21کہتے ہیں
32:21آپ کو وقفے کے بعد
32:22پروگرام دیکھ رہے ہیں
32:23آپ حقوق العباد
32:24اور آج رستے کے حقوق
32:25پر ہم بات کر رہے ہیں
32:26پچھلے جو دونوں سیگمنٹ
32:28ہمارے گزرے ہیں
32:29اس میں بہت سارے پہلوں پر
32:30ہم نے بات کی
32:31انفرادی اور اجتماعی
32:33جو ہماری ذمہ داریاں ہیں
32:34اس کی طرف
32:35ہمارے مہمانوں نے توجہ دلائی
32:36اور راستوں کو صاف رکھنا
32:38اور وہاں پر تکلیف دے
32:41چیزوں کو ہٹانا
32:42ان کو کشادہ رکھنا
32:44کسی قسم کی رکاوٹ جو ہے
32:45اس سے
32:45اس کو دور رکھنا
32:47یا دور کر دینا
32:48یہ انفرادی اور اجتماعی
32:50دونوں سطح پر ہماری
32:51ذمہ داری بنتی ہے
32:52قبلہ پیر صاحب کیا فرماتے ہیں
32:54اس گفتگو کی روشنی میں
32:56آپ کس طرح سے
32:58اس کو سمپ کرتے ہیں
32:59کنکلوڈ کرتے ہیں
33:00یا خلاصہ کیا ہے
33:01آج کے ہمارے موضوع
33:02اکل کو دڑا دڑا کے
33:04تھکایا ہم نے
33:05کوئی دین دین محمد
33:07سا نہ پایا ہم نے
33:08دین اسلام ایک ایسا دین ہے
33:10اور اس نے انسانی زندگی
33:12کو حقوق کے حسار میں رکھا ہے
33:14چھیک
33:15فقط یہ نہیں
33:16ہم پورا ماہ مقدسی حقوق
33:18پر بات کرتے رہے ہیں
33:20یعنی چھوٹے سے چھوٹے پہلو پر بھی
33:23جس کو عام روٹین میں
33:24نظر انداز کر دیا جاتا ہے
33:25اس کی کوئی حسیت نہیں سمجھی جاتی
33:28یعنی ہم راستے میں جا رہے ہیں
33:30جو بڑی گاڑی والا ہے
33:32وہ چھوٹی گاڑی والے کی
33:33کوئی حسیت نہیں سمجھتا
33:34جو گاڑی والا ہے
33:35وہ پیدل والے کی
33:36کوئی حسیت نہیں سمجھتا
33:38تو دین اسلام کے اندر
33:39اسی بات کو سمجھایا گیا ہے
33:41کہ بھئی تم خیر و ناسی میں
33:44ینف و ناس کا
33:45مصداق بن کے رہنا ہے تم نے
33:46تم جو اس کائنات کے اندر ہو
33:48تمہارا وجود صرف ذاتی
33:50اور اکیلا وجود نہیں ہے
33:52بلکہ یہ ایک معاشرے کا حصہ ہے
33:54اور سارے معاشرے کے ساتھ
33:56مل کر ہی تم معاشرتی فرد ہو
33:59اور جب تم معاشرتی فرد ہو
34:01تو پھر ہر کسی کے ساتھ
34:02اس کے مطابق تم نے رہنا ہے
34:04چھیک
34:05اپنے آپ کو اپنی حدود و قیود میں
34:07رکھنا ہے
34:08یعنی بالکل ہر چیز
34:09اپنے آپ پہ نہیں ڈال لینی
34:11اس طرح ہم اگر یہ کہیں
34:13کہ صرف گورنمنٹ ہی یہ کام کرے گی
34:15تو ہم سب گورنمنٹ کا حصہ ہیں
34:17چھیک
34:18ہم سب حکومت کا حصہ ہیں
34:19ہم گورنمنٹ کے ساتھ تعاون کریں گے
34:22تو گورنمنٹ کامیاب ہے
34:23اور اگر دیکھیں گورنمنٹ
34:25ہمارے گلی محلوں میں
34:27شہروں میں دہاتوں میں خرچ کرتی ہے
34:29پیسہ لگاتی ہے
34:30اور وہاں روڈ بن جاتے ہیں
34:32گلیاں بن جاتی ہیں
34:34اور سی ویرج کا سسٹم ہو جاتا ہے
34:36لیکن پھر ہم ہی اس کی توڑ پھوڑ کرتے ہیں
34:39اور موسنی ڈالٹ صاحب ایک بات
34:41بڑی ضروری اور توجہ طلب ہے
34:43ہمارے تمام ناظرین کے لئے یہ سمجھنے والی ہے
34:46ہم یہ سمجھتے ہیں
34:47کہ یہ فلان پارٹی والوں نے بنایا تھا
34:49ہم نے اس کو توڑنا ہے
34:52اور دوسری پارٹی والے سمجھتے ہیں
34:53فلان نے بنایا تھا
34:54ہم نے اس کو توڑنا ہے
34:56حالانکہ یہ ملک خداداد
34:58عرض وطن پاکستان
34:59تو ہم سب کا ہے
35:00ہم سب نہیں
35:01اور وطن سے محبت
35:03یہ دین کے تقاضوں میں سے ایک تقاضہ ہے
35:05ایمان کا تقاضہ ہے
35:06اور اپنے روڈ کی صفائی
35:08اپنے گلی کوچوں کو صاف رکھنا
35:10اور ان کو توڑ پھوڑ سے بچانا
35:13یہ کہلیں
35:14حب الوطنی ہے
35:15تو راستوں کے حقوق
35:18جو ہیں
35:18حب الوطنی میں شامل ہوتے ہیں
35:20یہ اپنے وطن کے ساتھ
35:21محبت کرنے میں
35:23ان کا جو ہے
35:24وہ تقاضوں میں شامل ہوتے ہیں
35:25تو اس لیے
35:26ہمارے لیے لازم یہ ہے
35:28ایک بحیثیت اچھی قوم
35:30بحیثیت مسلمان
35:32اور مسلم قوم سے بڑھ کر
35:34کوئی قوم نہیں ہے
35:35اور دین اسلام سے بڑھ کر
35:37کوئی دین نہیں ہے
35:38تو بحیثیت مسلم قوم
35:39بحیثیت مسلمان
35:41بحیثیت پاکستانی
35:43ہم سب پر یہ فرض ہے
35:44اور لازم ہے
35:45کہ ہم نے
35:46اپنے علاقوں کو بھی سوارنا ہے
35:48اپنے راستوں کو بھی سوارنا ہے
35:50اور اس بات کو سمجھنا ہے
35:52کہ ہم گاڑی پر ہیں
35:53پیدل ہیں
35:54کسی حال میں ہیں
35:55دیکھیں ہم مکان بنا لیتے ہیں
35:57لیکن اس کا جو سیورج کا پائپ ہے
35:59وہ چار فٹ اونچہ رکھ دیتے ہیں
36:01وہاں سے نمازی پیدل گزرتے ہیں
36:03اب وہ جو پانی
36:04گلی میں نیچے گرے گا
36:06تو نمازیوں کے کپڑے خراب کرے گا
36:08یہ تمام چیزیں حقوق میں شامل ہیں
36:11ان کو ہم نے سمجھنا ہے
36:13اور بحیثیت قوم
36:14بحیثیت پاکستانی
36:15بحیثیت مسلمان
36:16ان تمام چیزوں کو سمجھتے ہوئے
36:18ہم نے اپنے راستوں کے حقوق کو
36:20ادا کرنا ہے
36:21جی قبلہ پیر صاحب
36:23آپ بھی جو آج گفتگو ہوئی ہے
36:25اس کا خلاصہ اور پیغام
36:27ساری چیزیں ایک پیغام کے اندر شامل کر لی جائے
36:31ماشاءاللہ بہت شکریہ
36:34میں یہ سمجھتا ہوں کہ
36:36ہم سب لوگوں کو
36:40ایک تو اللہ تعالی
36:43اور اس کے پیارے معبوب
36:44صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے
36:47راستوں کے مطابق
36:48اپنے دنیاوی راستے بھی
36:51سمارنے چاہیے
36:52اور اپنی آخرت کے راستوں کو بھی سمارنا چاہیے
36:56کیونکہ ادھر ہم دنیا کے راستے صاف کریں گے
36:59کسی کے راستے سے تکلیف ہٹائیں گے
37:01تکلیف دے چیز کو ہٹائیں گے
37:02ادھر آخرت کا راستہ بھی ہمارا
37:04اچھا ہوگا
37:06ہماری قبر اور عشر
37:07وہ اچھی ہوگی
37:09کیونکہ ہمارا دنیا میں کوئی بھی کام ہے
37:12وہ اس کا نتیجہ آخرت کے ساتھ ضرور جڑتا ہے
37:16کیونکہ ہم مسلمان ہیں
37:18دوسرے معاشروں میں اور ہم میں یہ فرق ہے
37:20کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں اسی دنیا کے لیے کرتے ہیں
37:26بھی فائدہ ہوتا ہے اور ہمیں اس کا آخرت میں بھی پھل ملتا ہے
37:29صحیح
37:29اس لیے اگر ہم یہ سوچیں
37:31کیا اگر میرا محلے والا ٹھیک نہیں ہے
37:34یا دوسرا ٹھیک نہیں ہے
37:35تو وہ جب تک ٹھیک نہیں ہوتا
37:37تو میں کیوں ٹھیک ہو جاؤں نہیں
37:38ہمیں دوسرے کا نیخ خیال کرنا
37:40ہم نے اس اندھیرے محول میں
37:43اپنے حصے کی شمعہ کو روشن کرنا ہے
37:45ہم خود اپنے آپ کو ٹھیک کریں
37:48ہم اپنی صفائی کریں
37:49اپنے حصے کی صفائی کریں
37:50اپنے گھر کو صاف رکھیں
37:51اپنے گلی محلے کو صاف رکھیں
37:53اپنے جہاں جہاں تک ہم سے ہو سکتا ہے
37:56ہم اپنے حصے کی صفائی ضرور کریں
37:59میں سمجھتا ہوں آج کی اس بحث کا خلاصہ یہ ہے
38:01کہ جو کچھ ہم سے ہو سکتا ہے
38:03ہمیں وہ کرنا چاہیے
38:04بلکل ٹھیک
38:06جناب ڈاکٹر محمد وقاص جعفر صاحب کیا فرماتے ہیں
38:08کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے
38:17کہ تم نے عدل اور انصاف کرنا ہے
38:19اور تم نے احسان کرنا ہے
38:21تو لہٰذا جیسے ابھی بات
38:23کہ نیکی کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے
38:26لہٰذا یہ دونوں آیات میں
38:29اگر ہم دیکھیں
38:30تو بطور مسلمان
38:31ہر بندے کی یہ ذمہ داری ہے
38:34کہ وہ اپنا اپنا کام کریں
38:35اور آپ یہ دیکھیں ابھی ایک بات ہے ہی
38:38آپ یورپ میں یا میڈلیس وغیرہ کے ممالک میں جائیں
38:41تو وہاں پہ جو ٹریفک سنگنل کے اوپر
38:43جب رکھتا ہے تو
38:44سب سے زیادہ پیرارٹی جو پیدل چلنے والوں کو دی جاتی ہے
38:47یہ اس بات کا ثبوت ہے
38:49کہ سب سے بڑھ کر جو چیز
38:50ہمارے لیے ضروری ہے وہ انسانیت ہے
38:53یہ جو گیجٹس ہے
38:54یہ جو ٹریفک کی کارے وغیرہ
38:56یہ اس کی پیرارٹی نہیں ہے
38:58بلکہ پیرارٹی جو وہ انسانیت ہے انسان ہے
39:00تو لہٰذا اللہ تعالی کا دین ہمیں یہ سکھاتا ہے
39:03کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہمیں سکھاتا ہے
39:06کہ راستے لوگوں کی امانت ہیں
39:08تو لہٰذا راستوں کو کشادہ رکھنا
39:11تجاوزات کو ہٹانا
39:13اپنے گھری محلوں کو صاف سترا رکھنا
39:15اور وہ اسی کیٹر میں آتا ہے
39:17کہ ہم نے نیکی کا حکم دینا ہے
39:19نیکی کے کام ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے
39:22اور اس کے ساتھ ساتھ
39:24سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے
39:26اس عصوہ کے اوپر
39:27کہ وہ صرف عدل نہیں کرتے تھے
39:29برکے لوگوں کے احسان بھی کرتے تھے
39:30ہم بطور مسلمان
39:32اگر ہم سے کسی کے کچھ کوئی اگر ہم سارے زیادتی کر بھی لیتا
39:35جیسے فرمانے دراغ صاحب
39:36کہ ہم نے بدلہ نہیں لینا
39:37یا ہم نے ایک پارٹی بازی نہیں بننا
39:39بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ یہ انسان ہے
39:41یہ مسلمان ہے
39:41اگر اس نے کوئی زیادتی کر بھی لی ہے
39:43تو مجھے نہیں چاہیے
39:44آپ نے کبلہ دیکھا ہوگا
39:46کہ ایک تھڑا بناتا ہے
39:47تو دوسرا اس کے مقابلے میں تھڑا بنا لیتا ہے
39:49اور آہستہ آہستہ وہ ساری گلی یا رستہ
39:51جو ہے وہ ریڈیوس ہو جاتا ہے
39:52لہٰذا اگر ہم نے یہ سوچنا ہے
39:54کہ ہم نے فلاں بندے کی طرف نہیں دیکھنا
39:56دوسرے کی طرف نہیں دیکھنا
39:57اپنا احتساب کرنا ہے
39:59سیلف اکاؤنٹی بلیٹی کرنی ہے
40:00اور اپنے راستوں کو صاف رکھنا ہے
40:02تاکہ یہ معاشرہ جو ہے
40:03وہ بہتر طریقے سے گزارا جا سکے
40:05بلکل ٹھیک جناب
40:06بہت شکریہ جناب پیر عرفان اللہی قادری صاحب
40:09آپ کی تشریف آوری کا
40:10جناب دکٹر سید مفتی عارف شاہ عویسی صاحب
40:14آپ کی تشریف آوری کا
40:15دانمائی کا بہت شکریہ
40:16جناب دکٹر محمد وقاس جعفر صاحب
40:18آپ کا بہت شکریہ
40:20ابھی جوائن کیا ہے
40:21ہمیں محمد فیضان خالد قادری صاحب
40:23نے آپ کا بھی بہت شکریہ
40:24ابھی آپ سے کلام ہم لیتے ہیں
40:26اور ناظرین اکرام آج
40:27پرگرام کا وقت جو ہے وہ
40:29اختتام کو پہنچا
40:30اور آخر میں
40:32نات کے چند اشار
40:33آپ کی خدمت پیاس کرتے ہوئے
40:35اجازت آپ سے لینی ہے
40:36کل آپ سے ملقات ہوگی
40:37ایک نئے موضوع کے ساتھ
40:39کہ ہو لاک خلق خدا سے آگے
40:43ہو لاک خلق خدا سے آگے
40:46کوئی نہیں مصطفیٰ سے آگے
40:48کوئی نہیں مصطفیٰ سے آگے
40:52کہاں بلندی کی دسترس ہے
40:54حضور کے نقشے پا سے آگے
40:58کہاں بلندی کی دسترس ہے
40:59حضور کے نقشے پا سے آگے
41:02مقام حضرت کی ابتداء ہے
41:05اروج کی انتہا سے آگے
41:12میرے نبی کے قدم پڑے ہیں
41:15حدودِ عرض و سما سے آگے
41:17मैं शहर तयबा को चल पड़ा हूँ मेरा कदम है हवा से आगे
41:23मेरा कदम है हवा से आगे कोई महबत नहीं जहां की महबतِ मुस्तफा से आगे
41:30मिला है रहमत का सब्स मौसम ख्याले मद हो सना से आगे
41:36नहीं कोई सिन्फ शेर गोई सना खेर लवरा से आगे
41:46भले जमाने के ताजवर हो चलो ना उनके गदा से आगे
41:53दुरूत का इहतमाम रखिये दुआ से पहले दुआ से आगे
41:58खुदा की बंदे से गुफटगू है सुकूत गारे हिरा से आगे
42:04किसी का दस्ते सखा नहीं है नभी के दस्ते सखा से आगे
42:08सजीती सल्ल अला की मसनत सदाए कालू बला से आगे
42:15वो कैसे पीछे रहेगा सर्वर हुआ जो उनकी अता से आगे
42:20इन्हें आशार के साथ अजाज़त दीजिए कल आपसे मुलकात होगी कलाम शामिल करते हैं मुहम्मद फैजान खालिद खादर
42:27या मुस्ताफा याता हो पिरे इजन हाजरी का
42:42कर लो नजार आया कर मैं आपकी गली का
42:55या मुस्ताफा याता हो
43:01इक बार बे दिकाद रमजान में मदीना
43:16इक बार बे दिकाद रमजान में मदीना
43:27बे शक बना लुआ का मेहमान दो गरी का
43:39या मुस्ताफा याता हो पिरे इजन हाजरी का
43:53रोता हुआ में आओं दागे जिगे दिखाओं
44:07रोता हुआ में आओं दागे जिगे दिखाओं
44:18अफसान बे सुनाओं मैं अपनी बे कसी का
44:29या मुस्ताफा याता हो पिरे इजन हाजरी का
44:44शाने रमजान
44:49शाने रमजान
44:53है मौमीनों के दिल का उजाला शाने रमजान
44:59है मौमीनों के दिल का उजाला शाने रमजान
45:05है मौमीनों के दिल का उजाला शाने रमजान
45:10झाल
Comments

Recommended