Skip to playerSkip to main content
  • 22 minutes ago

Category

🗞
News
Transcript
00:02اگر اس وقت عمران خان کی بات مانی ہوتی اداروں نے اور یہ ایرانی تیل سمگل ہو کر جو آتا
00:09ہے اس پر کنٹرول کیا ہوتا تو آج پاکستان میں تیل کا بہران اتنا سنگین نہ ہوتا
00:15کیسے ایرانی تیل کی وجہ سے پاکستان میں بہران بھڑ گیا ہے کیونکہ جنگ کی وجہ سے اب یہ تیل
00:21آنا بند ہو گیا ہے
00:22عمر ایوب نے بات کرتے ہوئے یہ سب باتیں جو ہیں وہ قوم کے سامنے رکھی ہیں کہ پاکستان میں
00:28پیٹرولیم سے متعلق حقائق دوہزار چھبیس اور ایرانی سمگل شدہ پیٹرول کے اثرات
00:32ہر سال تقریباً چوہتر ہزار آئل ٹینکر ٹرک جن میں سے ہر ایک میں تیس ہزار لیٹر ایرانی پیٹرول ہوتا
00:39ہے ایران سے پاکستان میں سمگل کی جاتے ہیں
00:42یہ ٹینکر کوٹری سے لے کر تھاکوٹ تک سینتیس پولوں سے گزرتے ہوئے پورے پاکستان میں استعمال ہوتے ہیں
00:48اس طرح سالانہ تقریباً دو اشاریہ دو ارب لیٹر سمگل شدہ پیٹرول پاکستان میں آتا ہے
00:53مالیت کے لحاظ سے یہ تقریباً چھ سو اسی ارب روپے کا ایرانی سمگل شدہ پیٹرول بنتا ہے
00:59جب دو اشاریہ دو ارب لیٹر سمگل شدہ پیٹرول پاکستان میں استعمال ہوتا ہے
01:04تو اس کی وجہ سے مقامی ریفائنریوں کے پیٹرول کی طلب کم ہو جاتی ہے
01:08کیونکہ ایرانی پیٹرول سستہ ہوتا ہے
01:10اب یہ دوستو آپ سنتے جائیں کہ کس طرح یہ ایرانی پیٹرول پاکستان کو اندر سے کھا گیا
01:15اور آج بہران جو ہے وہ پاکستان میں پیدا ہوا ہے
01:18عمر یوب نے کہا کہ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ریفائنریوں دیگر اندھن مکمل طور پر ریفائن نہیں
01:24کر پاتی
01:25کیونکہ تیل کی ریفائننگ ایک فکشنل ڈسپلن عمل کے ذریعے ہوتی ہے
01:29جس میں ایک ہی خام تیل سے مختلف درجے کے اندھن بنتے ہیں
01:33اگر پیٹرول فروخت نہ ہو تو ریفائنریوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے
01:37اس نازک توازن کی وجہ سے ڈیزل اور جیٹ فیول جیسے دیگر اندھن کا زخیرہ کم ہو جاتا ہے
01:43اس طرح ایرانی پیٹرول کی سمگلنگ قومی سلامتی کا مسئلہ بن جاتی ہے
01:47کیونکہ ضروری ڈیزل اور جیٹ فیول کے زخائر کم ہو جاتے ہیں
01:50یہ صورتحال 6 مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ سے پہلے بھی سامنے آئی تھی
01:55جب آئل ریفائنڈروں نے کھل کر کہا تھا
01:57کہ ایرانی پیٹرول کی سمگلنگ کی وجہ سے ہم پیٹرول سٹاک متاثر ہو رہے ہیں
02:01اور وزارت دفاع نے ریفائنڈریوں کو اہم اندھن کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی
02:06حال ہی میں یہ معاملہ دوبارہ سامنے آیا
02:08جب آئل مارکٹنگ کومپٹیوں نے اوگرا کے اس دعوے کی تردید کی
02:12کہ پاکستان کے پاس 30 دن کا پیٹرولیم زخیرہ ہے
02:15کومپٹیوں نے وزارت پیٹرولیم کو بتایا
02:16کہ دراصل صرف 15 دن کا سٹاک موجود ہے
02:19اب یہاں سے دوستو آپ اندازہ لگائیں
02:21کہ 15 دن کا سٹاک ایرانی تیل سے جو ہے وہ پورا ہوتا تھا
02:25جو کہ ایران سے ہی ریفائنڈ ہو کر آتا تھا
02:27اور 15 دن کا سٹاک ہے وہ پاکستانی ریفائنڈیاں جو ہیں وہ پورا کرتی تھی
02:31اب مسئلہ دوستو یہ ہوا ہے کہ ایران سے پیٹرول آنا بند ہو گیا ہے
02:35اور یہ پیٹرول جب ایران سے بند ہو گیا ہے
02:37تو پاکستان کے پاس پیچھے کتنا بچا
02:3915 دن کا تیل اور پاکستانی ریفائنڈیاں جو ہیں وہ صرف
02:4215 دن کا جو آئل ہے وہ ریفائنڈ کرتی ہیں
02:45باقی تیل وہاں سے آتا تھا
02:46بڑے بڑے مافیا یہ تیل پاکستان میں لاتے تھے
02:49تاکہ اربو روپیا کمائیں
02:51لیکن اب مسئلہ یہ ہوا ہے
02:52کہ 15 دن کا تیل ہم ریفائنڈ کر سکتے ہیں
02:55اس سے زیادہ نہیں
02:56اور اسی وجہ سے دوستو نہ پاکستان کے پاس
02:59جہازوں کو چلانے کے لیے فیول بنتا ہے
03:01نہ اگر جنگ ہوتی ہے پاکستان کی بھارت کے ساتھ
03:03تو پاکستان کے پاس تیل اسی وجہ سے کم ہو جاتا ہے
03:06اور ڈیزل کیونکہ پاکستان ایران سے سمگل شدہ
03:09تیل یوز کرتا ہے
03:10اور جب وہ یوز کرتا ہے
03:12تو ہم جو ہے اپنا تیل ریفائن نہیں کرتے
03:14جس سے ہم ڈیزل اور باقی جو جیٹ فیول ہے
03:17وہ نکال سکیں
Comments

Recommended