00:03امریکہ جس جنگ کی تیاری کر کے آیا تھا ایران کے میزائل اس میں آوٹ آف پیپر آ گئے ہیں
00:09اور ایک ایسا خاص میزائل ایران فائر کر رہا ہے جس کی امریکی سسٹم اور اسرائیلی ڈیفنس سسٹم کو ابھی
00:17تک سمجھ ہی نہیں آ پا رہی
00:19اور اس کا بقاعدہ طور پر امریکی اور اسرائیلی ڈیفنس سسٹم نے اعتراف بھی کر لیا ہے
00:24ایران کی جانب سے فائر کیے جانے والے شاہد ڈرون کے متعلق یہ کہا جا رہا ہے
00:29کہ یہ اس وقت ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے
00:33امریکی اور اسرائیلی وار سٹریٹیجی کے متعلق بات کرتے ہوئے پروفیسر جانگ نے کہا
00:38کہ اصل میں جو ممالک غریب ہوتے ہیں ان کے پاس زیادہ توانائی ہوتی ہے
00:42وہ زیادہ کھل کر کھیلتے ہیں اور باہمی یکچہتی بھی زیادہ ہوتی ہے
00:46ایک مثال شاہد ڈرون ہے
00:48پروفیسر جانگ نے کہا کہ ہر ڈرون کی قیمت زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار ڈالر ہے
00:52بعض اوقات 35,000 ڈالر تک بھی ہوتی ہے
00:55ان ڈرون کی بڑی تعداد ایک ٹرک میں آسانی سے رکھ کر
00:59ایران کے کسی بھی حصے میں موو کی جا سکتی ہے
01:02انہیں کہیں بھی چھپایا جا سکتا ہے
01:04اور کہیں سے بھی فاہر کیا جا سکتا ہے
01:06سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ ڈرون انتہائی سستے ہیں
01:09آسانی سے بن جاتے ہیں
01:11اور روزانہ تقریباً پانچ سو کی تعداد میں تیار کیے جا رہے ہیں
01:15پروفیسر جانگ نے امریکہ کے لیے درد سر بننے والے اس ڈرون کے متعلق بتایا
01:20کہ یہ کسی صاف پانی کے پلانٹ کو بھی توا کر سکتا ہے
01:23تیل کے پلانٹ کو نقصان پہنچا سکتا ہے
01:25کسی ہوتیل کو ڈریکٹ اٹیک کر سکتا ہے
01:27اور اسے پکڑنا بہت مشکل ہے
01:30پروفیسر جانگ نے بتایا کہ ایران انہیں ایک جارہانہ سٹریٹیجی کے طور پر استعمال کر رہا ہے
01:35لیکن سوال یہ ہے کہ امریکی دفاعی سسٹم اس کے خلاف کیا کرتا ہے
01:45تیل کی مالیت تقریباً ایک ملین ڈالر یعنی دس لاکھ ڈالر کے قریب ہے
01:50یعنی پچاس ہزار ڈالر کا ایک ڈرون روکنے کے لیے دس لاکھ ملین کا انٹرسپٹر فائر کرنا پڑتا ہے
01:56اور بعض اوقات چار پانچ بھی فائر کرنا پڑتے ہیں
01:59اور پھر بھی اگر ڈرون نہ روکا جا سکے تو یہ اپنے ٹارکٹ کو جا کر ہٹ کر دیتا ہے
02:04اور یہی اس وقت امریکہ کے لیے بڑا دردے سر بن چکا ہے
Comments