Skip to playerSkip to main content
  • 3 days ago
Kya aap jaante hain ke duniya ki sab se taqatwar qaumon mein se ek, Qaum-e-Aad, apni quwwat par itni naazaan thi ke unhein lagta tha koi unka muqabla nahi kar sakta? Aur unka badshah Shaddad, jis ne jannat jaisa shehar banwaya, apni daulat aur takabbur mein itna doob gaya ke Allah ki qudrat ko bhool baitha…
Transcript
00:01Registán کی تپتی ہوئی ریت
00:03بلند و بالا ستون و والے محلات
00:06طاقت اور غرور میں ڈوبی ہوئی ایک قوم
00:09اور ایک نبی کی پرسوز آواز
00:12جو بار بار انہیں اللہ کی طرف بلاتی رہی
00:16یہ کہانی ہے قومِ آدھ کی
00:19یہ کہانی ہے ایک سرکش بادشاہ شداد کی
00:23اور یہ کہانی ہے اللہ کے نبی حضرت حود علیہ السلام کی
00:28حضرت نو علیہ السلام کے بعد
00:31دنیا میں جن قوموں نے طاقت اور شان و شوقت حاصل کی
00:35ان میں قومِ آدھ کا نام سب سے نمائی تھا
00:38یہ لوگ یمن اور احکاف کے علاقوں میں آباد تھے
00:42قداور، مضبوط جسم والے
00:44فنِ تعمیر میں ماہر اور بے مثال طاقت کے مالک تھے
00:49انہوں نے بلند ستونوں والے شہر بنائے
00:52ایسی عمارتیں کہ جنہیں دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے
00:56ان کے باغات سرسبز تھے
00:58نہریں بہتی تھی
01:00مال و دولت کی فراوانی تھی
01:03لیکن ایک چیز کی کمی تھی
01:05شکر اور اطاعتِ الٰہی کی کمی
01:09رفتہ رفتہ وہ بدھ پرستی میں مبتلا ہو گئے
01:12انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بدھ تراشے
01:15اور انہی کے سامنے جھکنے لگے
01:17طاقت نے انہیں مغرور کر دیا
01:19وہ کہتے
01:21ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے
01:23اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے
01:26انہی میں سے ایک نبی مبہوز فرمایا
01:28حضرتِ حود علیہ السلام
01:31حضرتِ حود نہایت نرم دل
01:33حکمت والے اور صبر کرنے والے نبی تھے
01:36وہ اپنی قوم سے فرماتے
01:38اے میری قوم
01:40اللہ کی عبادت کرو
01:41اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں
01:44تم اس سے ڈرو
01:45اور اس کی طرف رجوع کرو
01:47وہ انہیں سمجھاتے
01:49کہ دنیا کی طاقت عارضی ہے
01:52اصل کامیابی
01:53اللہ کی رضا میں ہے
01:54وہ کہتے
01:56کہ تکبر چھوڑ دو
01:57ظلم چھوڑ دو
01:59بتوں کو چھوڑ دو
02:00لیکن قوم نے مزاک اڑایا
02:02انہوں نے کہا
02:04اے حود
02:05کیا تم ہمیں
02:07ہمارے معبودوں سے
02:08روکنے آئے ہو
02:09ہم تمہیں سچا نہیں مانتے
02:11کچھ نے کہا
02:13لگتا ہے
02:14ہمارے کسی معبود
02:15نے تمہیں دیوانہ بنا دیا ہے
02:18حضرتِ حود علیہ السلام
02:20نے بڑے اتمنان سے جواب دیا
02:22میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں
02:25کہ میں تمہارے شرک سے بری ہوں
02:27تم سب مل کر
02:29میرے خلاف تدبیر کر لو
02:31میں اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہوں
02:34یہ ایمان کا وہ مقام تھا
02:36جہاں ایک نبی پوری قوم کے سامنے
02:39تنہا کھڑا تھا
02:40مگر دل میں
02:41ذرہ برابر خوف نہیں تھا
02:44قومِ آدھ کا بادشاہ
02:45شداد بن عاد انتہائی مغرور تھا
02:48جب اس نے جنت کی نعمتوں کا ذکر سنا
02:50تو اس نے تکبر سے کہا
02:52اگر جنت ایسی ہے
02:53تو میں دنیا میں اس سے بھی
02:55زیادہ شاندار جنت بنا کر دکھاؤں گا
02:57اس نے بے شمار کاریگر جمع کیے
03:00سونے، چاندی، یاقوت
03:02اور ہیرے جواہرات سے
03:04ایک عظیم و شان شہر تعمیر کروایا
03:06روایتوں میں
03:08اسے عرم ذات العماد کہا جاتا ہے
03:10ستونوں والا شہر
03:12وہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنی طاقت سے
03:15جنت کا مقابلہ کر سکتا ہے
03:17یہ غرور اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا
03:20عذاب کی پہلی نشانی
03:22قہد
03:23حضرتِ حود علیہ السلام نے
03:25آخری بار اپنی قوم کو خبردار کیا
03:27اللہ سے معافی مانگو
03:29وہ تم پر آسمان سے بارش برسائے گا
03:32تمہاری طاقت میں اضافہ کرے گا
03:34لیکن انہوں نے انکار کیا
03:36اللہ تعالیٰ نے بارش روک دی
03:38زمین خوشک ہو گئی
03:40باغات سوک گئے
03:42مویشی مرنے لگے
03:43تین سال تک کہت رہا
03:45قوم پریشان ہوئی
03:47مگر توبہ نہ کی
03:48وہ بارش مانگنے کے لیے مکہ کی طرف نکلے
03:51وہاں دعا کی گئی
03:53اور آسمان پر تین بادل نمودار ہوئے
03:55سفید
03:56سرخ
03:57اور سیاہ
03:58ایک آواز آئی
03:59اے قوم عاد
04:00ان میں سے ایک بادل منتخب کرو
04:03انہوں نے سیاہ بادل کو چنا
04:05کیونکہ وہ انہیں زیادہ بارش والا لگا
04:07لیکن وہ بارش نہیں تھی
04:09وہ عذاب تھا
04:11وہ بادل ان کے علاقوں کی طرف بڑھا
04:14پہلے تھنڈی ہوا چلی
04:16قوم خوش ہوئی کہ بارش آئے گی
04:18لیکن وہ ہوا آندھی میں بدل گئی
04:22پھر طوفان میں
04:23ایسی تیز اور تند آندھی
04:25کہ جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل چلتی رہی
04:30وہ لوگوں کو اٹھا کر پٹک دیتی
04:32مضبوط جسم والے لوگ
04:35خجور کے خالی تنوں کی طرح زمین پر گرتے
04:38محلات گر گئے
04:40ستون ٹوٹ گئے
04:42شداد کا غرور خاک میں مل گیا
04:44روایت ہے کہ شداد
04:47اپنے بنائے ہوئے شہر میں
04:48داخل بھی نہ ہو سکا تھا
04:50کہ راستے ہی میں ہلاک ہو گیا
04:52وہ جنت بنانا چاہتا تھا
04:55لیکن دنیا ہی اس کے لیے جہنم بن گئی
04:58حضرتِ حود علیہ السلام
05:00اور ان پر ایمان لانے والے چند افراد
05:03اللہ کے حکم سے محفوظ رہے
05:05جب طوفان تھما تو وہاں ویرانی تھی
05:09نہ محلات باقی تھے
05:11نہ باغات
05:12نہ وہ طاقتور لوگ
05:13تکبر انسان کو ہلاکت تک لے جاتا ہے
05:17دنیا کی طاقت آرزی ہے
05:19اللہ کی قدرت دائمی ہے
05:21نبیوں کی بات مزاق نہیں
05:23رحمت ہوتی ہے
05:25جنت انسان کے بنانے سے نہیں
05:27اللہ کے فرمابردار بننے سے ملتی ہے
05:30قومِ آدھ اپنی طاقت پر نازاں تھی
05:33شداد اپنی دولت پر مغرور تھا
05:36لیکن اللہ کی ایک آندھی نے
05:38سب کچھ ختم کر دیا
05:40اور حضرتِ حود علیہ السلام کی صداقت
05:43قیامت تک کے لیے روشن مزید
Comments

Recommended