Skip to playerSkip to main content
Salim ki ye kahani ek chhote se pahari gaon se shuru hoti hai, jahan wo mazdoor hai aur apni family ke liye mehnat karta hai. 🌄
Uski mehnat, sabr aur nek dil ne na sirf ek zakhmi shakhs ki zindagi badli, balki Allah ka ajab karama bhi uske ghar mein laya. 🕌✨

Is kahani se hume seekhne ko milta hai:
✅ Neki kabhi zaya nahi hoti
✅ Shukar aur dil ki nek niyat, asli daulat hai
✅ Humble rahkar Allah ki rahmat hasil hoti hai

Watch karein ye dil ko chhoo lene wali Islamic Kahani aur seekhein neki, sabr aur shukar ka asal asar.

💡 Don’t forget to LIKE 👍, SHARE 🔗, and SUBSCRIBE for more heartwarming Islamic Kahaniyan – Hikayate Islaam!

#HikayateIslaam #IslamicKahani #NekiKaInam #ShukarSeBaraGhar #SalimKiKahani #MoralStories #IslamicStories #FamilyStory #InspirationalStories #KidsStories
Transcript
00:00There was no place on the hill in a stream.
00:03It was a town where the hill was the land from.
00:06It was a river and the river.
00:07It was a town where the hill and tree,
00:11it was a small house where Salim's name is a poor house,
00:15in a house of B.B. Zainab and Ayusha Aisha came together with a side.
00:20Salim's name was The There was a river to join.
00:22It was Alabha Chandra that was the hall and the hill.
00:28دن بھر سخت چکتانوں پر وار کرتا
00:31ہاتھ زخمی ہو جاتے
00:33پسینہ آنکھوں میں اتراتا
00:35مگر زبان پر ایک ہی ذکر ہوتا
00:39الحمدللہ
00:40جو دیا ہے وہی کافی ہے
00:42گھر میں غربت ضرور تھی
00:44مگر سکون تھا
00:46کبھی صرف خوشک روٹی اور نمک پر گزارا ہوتا
00:49کبھی زینب سبزی بنا لیتی
00:51تو وہ دن عید لگتا
00:53ننہی آئشہ اکثر پوچھتی
00:56ابباجان
00:57کیا ہم بھی کبھی بڑا گھر لیں گے
00:59سلیم مسکرا کر کہتا
01:01بیٹی دل بڑا ہو
01:03تو گھر خود بہ خود بڑا لگتا ہے
01:05ایک دن سلیم حسب معمول کام سے
01:08واپس آ رہا تھا
01:10شام ڈھل رہی تھی
01:11پہاڑوں کے سائل لمبے ہو چکے تھے
01:14اچانک اس نے سنا
01:15کسی کے کراہنے کی آواز
01:17وہ چونک کر رکا
01:19آواز سڑک کے کنارے جھاڑیوں کی طرف سے آ رہی تھی
01:22وہ قریب گیا تو دیکھا
01:24ایک شخص زخمی حالت میں پڑا ہے
01:26کپڑے پھٹے ہوئے
01:28ماتھی سے خون بہ رہا تھا
01:29سانس دیز چل رہی تھی
01:32کچھ لوگ وہاں سے گزرے
01:34ایک لمحہ رکے
01:35دیکھا
01:36اور آگے بڑھ گئے
01:38ہم کیوں مصیبت مول لیں
01:39کسی نے سرگوشی کی
01:41سلیم کے قدم رک گئے
01:43اس کے ہاتھ میں اس دن کی مزدوری تھی
01:45صرف چند سکھ کے
01:46اس کے دل میں دو آوازیں لڑنے لگیں
01:49ایک کہتی
01:50گھر میں راشن کم ہے
01:51بیٹی کو دوائی لانی ہے
01:53دوسری کہتی
01:54اگر آج تم نے مو موڑ لیا
01:57تو کل اللہ تم سے مو موڑ لے گا
01:59سلیم نے گہری سانس لی
02:01اور فیصلہ کر لیا
02:02وہ زخمی شخص کو کندھے پر اٹھا کر
02:05گاؤں کے حکیم کے پاس لے گیا
02:07حکیم نے پٹیاں کی
02:08دوا دی
02:09جب ادائیگی کا وقت آیا
02:11تو سلیم نے اپنی مزدوری کا آدھا پیسہ نکال کر دے دیا
02:14حکیم نے حیران ہو کر پوچھا
02:17یہ تمہارا رشتے دار ہے
02:19سلیم نے نرمی سے کہا
02:21نہیں مگر انسان ہے
02:23یہیں کافی ہے
02:24پھر وہ زخمی شخص کو اس کے گھر تک چھوڑ کر آیا
02:27دروازہ کھلا تو اندر سے ایک بزرگ خاتون گھبرا کر باہر آئیں
02:31یا اللہ میرے بیٹے کو کیا ہوا
02:34سلیم نے پوری بات بتائی
02:36وہ عورت رو پڑی اور سلیم کے ہاتھ پکڑ کر بولی
02:39بیٹا اللہ تمہیں اس کا عجر ضرور دے گا
02:43زخمی شخص نیم بے ہوشی میں بس اتنا کہہ سکا
02:46میں تمہارا احسان نہیں بھولوں گا
02:50سلیم جب گھر پہنچا
02:52تو زینب نے پوچھا
02:53آج مزدوری کم کیوں ہے
02:55سلیم نے سچ سچ سب کچھ بیان کر دیا
02:58ایک لمحے کو خموشی چھا گئی
03:01پھر زینب مسکرائی اور بولی
03:03ہم نے اگر کسی کی جان بچائی ہے
03:06تو اللہ ہمارا رزق بڑھا دے گا
03:08اسی رات ان کے گھر میں صرف ایک روٹی تھی
03:12سلیم نے وہ روٹی بیٹی کو دے دی
03:14اور خود پانی پی کر سو گیا
03:16چند دن گزر گئے
03:18اچانک گاؤں میں خبر پھیلی
03:20کہ پہاڑوں میں شدید بارش کی وجہ سے
03:23چٹانے گرنے والی ہیں
03:24لوگ خوفزدہ ہو گئے
03:27اگھی دن واقعی زوردار توفان آیا
03:29کئی مزدور زخمی ہو گئے
03:31کام بند ہو گیا
03:33سلیم کے پاس اب کوئی کمائی نہ تھی
03:35کچھ لوگوں نے تنز کیا
03:37دیکھا دوسروں پر خرچ کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے
03:41مگر سلیم نے جواب نہ دیا
03:43وہ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھ کر بولا
03:46یا اللہ
03:47میں نے تیرے نام پر کیا تھا
03:49اب تو ہی کافی ہے
03:51اگلی صبح گاؤں میں
03:53گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز گونجی
03:55چند سوار گاؤں میں داخل ہوئے
03:57ان کے ساتھ ایک معزز شخص بھی تھا
03:59وہ سیدھا سلیم کے گھر کے سامنے آ کر رکے
04:02سلیم باہر نکلا
04:04تو حیران رہ گیا
04:05وہی زخمی شخص
04:07اب مکمل صحتیاب
04:08اور شاندار لباس میں کھڑا تھا
04:10اس نے آگے بڑھ کر سلیم کو گلے لگا لیا
04:13میں شہر کا ایک بڑا تاجر ہوں
04:16ڈاکووں نے مجھ پر حملہ کیا تھا
04:18اگر تم نہ ہوتے
04:20تمہیں زندہ نہ بچتا
04:21گاؤں والے حیران رہ گئے
04:24تاجر نے اعلان کیا
04:26میں یہاں پہاڑوں میں
04:28ایک پتھر کی کان کھول رہا ہوں
04:30اور اس کا نگران سلیم ہوگا
04:32سب دنگ رہ گئے
04:34چند ہی مہینوں میں سلیم کی حالت بدل گئی
04:37مگر اس کے دل میں کوئی غرور نہ آیا
04:40اس نے سب سے پہلے کیا کیا
04:42جن مزدوروں کے پاس کام نہ تھا
04:45انہیں نوکری دی
04:46گاؤں میں ایک چھوٹا مدرسہ بنوایا
04:48اور ہر جمعہ کو غریبوں میں کھانا تقسیم کرتا
04:52کسی نے پوچھا
04:53تم نے بدلہ کیوں نہیں لیا
04:55ان لوگوں سے جو تم پر ہستے تھے
04:57سلیم نے مسکرا کر کہا
04:59بدلہ لینا آسان ہے
05:01معاف کرنا مشکل
05:03اور جو اللہ کے لیے کرے
05:04وہ کبھی نقصان میں نہیں رہتا
05:06ننہی آئشہ ایک دن بولی
05:10ابباجان ہمارا گھر واقعی بڑا ہو گیا ہے
05:13سلیم نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا
05:16نہیں بیٹی
05:17گھر نہیں
05:18اللہ کا کرم بڑا ہو گیا ہے
Comments

Recommended