Skip to playerSkip to main content
Roshan Raste

Watch All Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XiddAaxTt5XonKPhIvtrezxo

Speaker: Peer Irfan Elahi Qadri

Topic : Quran ki Dawat

#ARYQtv #RoshanRaste #Seeratetayyaba #PeerirfanElahiQadri

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Ay hay hasti, roshan roshan, keh kasham ej jeg mag jeg
00:15Alhamdulillah rabbalalamin wal akibatulilmutaqin
00:18wa salatu wa salamu ala rasulhin nabiyul karim
00:22Amma bat
00:23A'udhu Billahi min shaytanir rajim
00:26Bismillahirrahmanirrahim
00:29ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ صَدَقَ اللَّهُ مَوْلَانَ الْعَظِيمِ
00:35درسِ قرآنَ اگر ہم نے بُلَایا ہوتا
00:39درسِ قرآنَ اگر ہم نے بُلَایا ہوتا
00:43یہ زمانانہ زمانے نے دکھایا ہوتا
00:47انسان کی روح کا سب سے بڑا علمیہ یہ ہے
00:51کہ وہ حجوم کے شور میں بھی تنہا رہ جاتا ہے
00:55اور دل کی گہرائیوں میں ایک بے نام پکار جنم لیتی ہے
01:01جسے صرف اس کا خالق ہی سن سکتا ہے
01:06بظاہر وہ ترقی کی بلندیوں پر ہیں
01:09مگر باطن میں شکست محرومی اور بے سکونی کا سامنا کر رہا ہے
01:16ایسے میں قرآنِ مجید اپنی عزلی اور رحمت بری آواز کے ساتھ
01:22انسان کے اندر اتر کر کہتا ہے
01:25تمہارا رب تمہیں نہیں بھولا
01:27اور تمہارا رب تمہیں بھول بھی نہیں سکتا
01:33اور کبھی تمہارا رب تمہیں بھولتا ہی نہیں
01:36اللہ اکبر
01:38اور تیرے لیے کیا ہے
01:41کہ لا تقنط من رحمت اللہ
01:44اس پاک پروردگار کی رحمت سے کبھی نہ امید نہ ہو
01:50یہی قرآن کی دعوت ہے
01:52دل کو روشن کرنے والی ہے
01:56اکل کو بیدار کرنے والی
01:59روح کو سکون دینے والی
02:02اور انسان کو اس کی حقیقت سے
02:05آشنا کرنے والی ربانی صدا
02:09آج کے پروگرام جو روشن راستہ آپ دیکھ رہے ہیں
02:15اس میں ہمارا موضوع ہے قرآنی دعوت
02:18قرآن کی دعوت
02:21یہ وہ مبارک دعوت ہے
02:24جس کا مقصد
02:26انسان کو اس کے رب سے جوڑنا
02:29اس کی زندگی کو مقصد بتانا
02:33اور اس کے وجود کو روشن کر دینا
02:37یہ قرآن کی دعوت ہے
02:39یعنی قرآن کی دعوت کی بنیاد
02:42تعلق باللہ
02:45اللہ سے بندے کا تعلق جوڑ دینا
02:47قرآن کا سب سے پہلا پیغام
02:50انسان کے اندر
02:52ربوبیت کا شعور پیدا کرنا ہے
02:54اے لوگو
02:56اپنے رب کی عبادت کرو
02:59جس نے تمہیں پیدا کیا ہے
03:01یہ اعلان ظاہر کرتا ہے
03:05کہ انسان بے مقصد پیدا نہیں ہوا
03:08بلکہ وہ آلہ حکمت
03:11ربانی نگہ داشت
03:14اور مقصدیت کا حامل ہے
03:16من عرف نفسہو فقد عرف ربہو
03:21قرآن ہمیں یہ دعوت دیتا ہے
03:25اس طرف ججھوڑتا ہے
03:27کہ انسان اپنے من میں
03:30ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
03:32تو بڑی بامقصد شہ ہے
03:38اور تیری نگہ داشت
03:41یہ ربانی نگہ داشت ہے
03:43اور تُو کبھی بھی اپنے رب سے بلایا نہیں گیا
03:47تیرے رب نے کبھی تمہیں چھوڑا نہیں
03:50یہ تکالیف یہ پریشانی ہے
03:54یہ مت چھو کہنا
03:55کہ رب نے تجھے چھوڑ دیا ہے
03:58نہیں
03:58بلکہ رب تجھے اپنے قریب کرنا چاہ رہا ہے
04:02اور قریب کرنا چاہ رہا ہے
04:04اپنا قرب عطا کرنا چاہ رہا ہے
04:06تو قرآنی دعوت ہے
04:08کہ اپنے آپ کو سمجھ
04:10قرآنی دعوت
04:12جبر نہیں ہے
04:15لا اقراح فی الدین
04:18قرآن کا پیغام ہے
04:20اس لیے قرآن کی دعوت
04:23اقل
04:24فکر
04:25دل
04:26اور کردار کو بیق وقت
04:28مخاطب کرتی ہے
04:30رب کے ساتھ
04:31تعلق
04:32محض
04:33نظریہ نہیں
04:34بلکہ زندگی کا سہارہ بنتا ہے
04:37جو انسان کو خوف
04:39تنہائی اور بے امانویت سے نکال کر
04:41روشنی اور سکونت آ کرتا ہے
04:44اگلے اس کا مقصد قرآنی دعوت کا کیا ہے
04:48کہ انسانی نفسیات میں
04:50قرآن کی دعوت کام کرتی ہے
04:53قرآنی پیغام
04:54قرآن جب انسان کو بلاتا ہے
04:57تو اس کی فطرت
04:59جذبات
05:00خوف
05:02امید
05:03محرومی
05:04اور ذہنی کیفیتوں کو
05:05سامنے رکھ کے بات کرتا ہے
05:07آپ قرآن مجید کی تلاوت کر کے دیکھیں
05:10جس کیفیت
05:12جس جس ذہن
05:13جس جس کٹا گری کا کوئی ہوگا
05:15اس کے مطابق قرآن کی دعوت
05:18اس تک پہنچے گی
05:19اور قرآن کا وہ نور
05:21ہر کسی کے لیے
05:23یکسانیت کی حسیت رکھتا ہے
05:25اب اس کے اندر
05:28انسان کی کمزوری کا احساس
05:31قرآن کیسے دیکھتا ہے
05:33قرآن کہتا ہے
05:35انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے
05:37یہ آیت دعوت دینے والوں کو سکھاتی ہے
05:41مبلغین کے لیے یہ بات
05:44توجہ طلب ہے
05:45کہ قرآن خود کہتا ہے
05:46کہ انسان کمزور ہے
05:48اس کو فیل فور نہ یہ کہنا
05:51کہ اس پر ابھی عمل کرو
05:53ابھی تم یہ ہو جاؤ
05:55رفتہ رفتہ
05:57پیغامِ قرآن دیتے رہو
06:00دعوتِ قرآن دیتے رہو
06:02رفتہ رفتہ
06:04یہ لوگ
06:04اللہ کی عبادت کی طرف
06:06چلتے آئیں گے
06:07فیل فور نہیں
06:09پہلے دن اگزیم نہیں ہوتا
06:12پہلے دن کمرہ امتحان میں نہیں بیٹھا جاتا
06:16ایک سال پڑھنے کے بعد
06:19پھر
06:20کمرہ امتحان میں بیٹھا جاتا ہے
06:24امتحان دیا جاتا ہے
06:26تو قرآن یہ بتا رہا ہے
06:29کہ لوگوں کو شفقت کے ساتھ
06:32محبت کے ساتھ
06:34اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف بلاؤ
06:36قرآن کی دعوت میں سختی نہیں ہے
06:39تشدد نہیں ہے
06:42جبر نہیں ہے
06:44اور نہ ہی یہ طریقہ
06:46رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے
06:48حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
06:50محبت
06:51اخلاق
06:52اور عملی نمونہ پیش کر کے
06:54پھر ان لوگوں کو دین کی طرف بلائیا
06:57اور جو نائے
06:59جو نامانتے تھے
07:01لیکن وہ یہ کہنے پر مجبور تھے
07:03کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
07:05صادق بھی ہیں
07:06اور امین بھی ہیں
07:07انسان کا مانوی خلا
07:12یہ بھی قرآن کی دعوت ہے
07:16قرآن نے اس کو واضح کیا ہے
07:19جدید انسان
07:20ذہنی دباؤ
07:22تنہائی
07:23اور مقصد جندگی
07:25کے بہران میں ہے
07:26قرآن مجید نے
07:28اس خلا کو اس طرح پورا کیا
07:30کہ اس حالت اور کیفیت میں
07:32تم پہنچ گئے ہو
07:33تو آپ کیا کرو
07:34قرآن نے کہا
07:40کہ اس کنڈیشن میں بھی
07:42تمہیں اتمنان ملے گا
07:43تو وہ قرآن سے ملے گا
07:45اللہ کے ذکر سے ملے گا
07:47اللہ کی عبادت سے ملے گا
07:49اب قرآنی دعوت میں
07:52ایک خیر خواہی ہے
07:53قرآن خیر خواہی چاہتا ہے
07:57خیر خواہی کی طلب ہے
08:00انسان محبت
08:02خیر خواہی اور
08:04رہنمائی کا محتاج ہیں
08:06اگر کوئی خود سے کہے
08:08کہ میں استاد بن گیا
08:10تو یہ ایسا نہیں ہو سکتا
08:12خود استاد نہیں بنا جاتا
08:14شاگرد ہو کر
08:16استاد بنا جاتا ہے
08:17تو قرآن نے کہا
08:19کہ اس حالت میں
08:21خیر خواہی اور
08:22رہنمائی کا محتاج ہے انسان
08:24اور دین تو خیر خواہی کا نام ہے
08:27رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
08:29الدین و نصیحہ
08:31دین خیر خواہی کا نام ہے
08:34یہ بتاتا ہے
08:36کہ دعوت کا مقصد
08:37کسی کو غلط ثابت کرنا نہیں
08:39بلکہ اس کی بلائی چاہتا ہے
08:41یہ نہیں کہہ دینا
08:43کہ یہ غلط ہے
08:44نہیں
08:45اس کی خیر خواہی
08:46بلائی
08:47طائف والے
08:48پتھر بھی مارے ہیں
08:50آسمان کے فرشتے
08:52بارگاہ رسالتِ معافی صلی اللہ علیہ وسلم میں
08:55حاضر بھی ہو جائیں
08:56لیکن حکم کیا ملے
08:58کہ نہیں
08:59یہ نہیں جانتے
09:01لیکن آنے والی نسلیں ان کی
09:03وہ
09:04اللہ کی عبادت میں مشغول ہوں گی
09:07میرا کلمہ پڑھ لیں گی
09:08قرآن سے جھڑ جائیں گی
09:10لہٰذا
09:11میں تو خیر خواہی کا پیغام لے کر آیا
09:13قرآن کا اسلوب ہے
09:16اور اس کی دعوت کا یہ اصول ہے
09:19کہ لوگوں کو حکمت
09:22خوبصورت آواز
09:24اور
09:26احسن انداز میں
09:28دعوت پیش کی جائے
09:30تو قرآن مجید نے
09:33اس بات کو واضح ارشاد فرمایا
09:35ادعو الہ سبیل ربک بالحکمت
09:38والمعزات الحسنہ
09:40اللہ اکبر
09:41اپنے رب کے راستے کی طرف
09:43حکمت
09:44اندہ نصیحت
09:45اور بہترین طریقے سے بحث کے ساتھ بلائیے
09:49اور
09:51اصول تین دے دیئے
09:53پہلا حکمت
09:54مععز حسنہ
09:56جدال احسن
09:58یعنی
10:00حکمت
10:02اس بندے کی بصیرت
10:04اس بندے کی سوچ
10:06سمجھ کے مطابق بات کریں
10:08جس دور میں
10:09رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری ہوئی
10:12تو مکہ کے جو حالات ہیں
10:14اور یہ اجڑ لوگ
10:16جو بیٹیوں کو زندہ درے گور کر رہے ہیں
10:21جو بائی بائی کا گلہ کاٹ رہا ہے
10:25جہاں بوڑے والدین کو
10:28منڈیوں میں فروخت کیا جا رہا ہے
10:31وہاں ایسے معاشرے میں آ کر
10:33کہ جو لوگ ہر بات کو ڈینائے کر دیتے ہیں
10:37ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں
10:40کہیں ابو جہل
10:42کہیں ابو لاہب
10:43اتنے اتنے بدبخت لوگ بیٹھے ہیں
10:46کہ جو کعبت اللہ میں بھی بیٹھ کر
10:48تھٹھا مزاگ کے علاوہ کچھ نہیں کرتے
10:50وہاں آ کر
10:52اس ماحول میں آ کر
10:54کس حکمت اور خوبصورتی کے ساتھ
10:58اور کس طریقے کے ساتھ
11:00کیسے انداز اسلوم کے ساتھ
11:02رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے
11:04پیغام حق لوگوں تک پچایا
11:05کہ الانِ نبوت سے قبل
11:09چالیس سالہ حیاتِ طیبہ
11:10عملی نمونہ پیش کیا
11:13ان کے سامنے
11:13شب و روز گزارے
11:16تجارت کی نکاح فرمایا
11:19لوگوں کے ساتھ
11:21میل جور رکھا
11:22اہلِ محلہ اہلِ علاقہ کے ساتھ
11:25سلام کلام کا تعلق رہا
11:27کہ وہ لوگ
11:30جو
11:31ہر حال میں محمد و رسول اللہ کی
11:34مخالفت کے در پہ ہیں
11:36لیکن ان کی زبانوں پر کے جملے ہیں
11:39کہ محمد جیسا کوئی صادق اور امین نہیں ہے
11:42پھر ان انداز میں رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
11:46نے جب قرآن لوگوں کو سنایا
11:48قرآن کی تلاوت کی
11:50ان کی عزت افضائی کی
11:53پھر ان کو بتایا
11:55کہ یہ کلام اللہ کا کلام ہے
11:57اس کا انداز
11:59اس کا اسلوب
12:00ان کے مقام
12:02ان کی حصیت کے مطابق کیا
12:03تو اس سے کیا ہوا
12:05کہ لوگ کشا کشا دین کی طرف راغب ہونے لگے
12:08دعوت میں
12:12اسلوب
12:13یعنی طریقہ کار کو
12:15تبدیل کرنے میں
12:16اس کی بھی قرآن میں اہمیت بیان کی گئی ہے
12:19اگر ایک انداز سے بات سمجھ میں نہ آئے
12:23تو دوسرے اسلوب سے پیش کی جائے
12:25قرآن مجید میں
12:27جا بجا مثالیں دے کر سمجھایا گیا ہے
12:30نبی پاک علیہ السلام نے
12:34احادیث میں
12:34اور پھر زندگی کے
12:36معمولات میں
12:38صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہ مجمعین
12:40کفار
12:41کو
12:42مختلف قسم کی مثالیں
12:45اگر اس طریقے سے سمجھ نہیں آئی
12:47تو دوسرا طریقہ پیش کر دیا
12:49تو قرآن نے اس کو کہا ہے
12:50سورہ انام ہے
12:51فرمایا ہم مختلف انداز سے
12:53آیات بیان کرتے ہیں
12:56انداز بدل لیتے ہیں
12:59مقصد پیچھے وہی پوشیدہ ہوتا ہے
13:01لیکن انداز بدلنے کا مقصد یہ ہے
13:03کہ جیسے سامائین مخاتبین ہیں
13:05ان کو اس کے ان کے طریقے سے خطاب کیا جائے
13:08اور اسی اصول کو رحمتِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنایا
13:11دعلمی کی
13:13روایت ہے
13:14فرمایا
13:14ہمیں حکم دیا گیا ہے
13:16کہ لوگوں سے ان کی ذہنی استعداد کے مطابق
13:19گفتگو کریں
13:20یعنی دعوت کا اسلوب
13:23قرآن ہمیں دعوت کا اسلوب کیا سکھانا چاہتا ہے
13:27کہ جیسے لوگ ہیں ان کے مطابق
13:30ان کی ذہنی احسیت کے مطابق بات کی جائے
13:33پیغام وہی ہے
13:34پیغام حق ہے
13:35پیغام وہی ہے جو قرآن کا ہے
13:38پیغام وہی ہے جو اللہ کے رسول کا ہے
13:40لیکن اس کے انداز کو بدل لینا
13:43یہ بھی اچھی بات ہے
13:45نبوی نمونہ کیا ہے
13:49نبی پاک علیہ السلام نے
13:51کہ عملی دعوت کا طریقہ کیا تھا
13:55حضور نے دعوت الہی کے سب سے بڑے عظیم دائی تھی
13:58آپ کی پوری زندگی ان تین اصولوں پر رہی
14:01حکمت
14:02معایز حسنہ
14:04اور جدال احسن
14:05دیکھیں مکی دور ہے
14:08تو مکی دور کی دعوت ہے کیسی ہے
14:11تیرہ سالہ مکی دور کی جو دعوت
14:15جو قرآن کا پیغام ہے
14:16جو قرآنی آیات ہیں
14:18جو مکی صورتیں ہیں
14:20آپ ان کا مطالعہ کر کے دیکھیں
14:23ان میں صبر
14:24حکمت
14:25کردار
14:27حلم
14:27اور اخلاق پر قائم
14:29رہنے کا حکم دیا گیا
14:31اور یہ عمل
14:33نبی پاک علیہ السلام نے
14:35اپنے زندگی میں ساتھ ساتھ
14:37عملی نمونہ پیش کیا
14:38اور
14:40اخلاق کی رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
14:43سب سے بڑی دلیل بن کر سامنے آئے
14:46سیدنا فاروق عاظم ایمان لے آئے جب
14:50لانے کے لیے
14:52نکلے تو ایمان لانے کے لیے نہیں تھے
14:55لیکن سورہ تاہا
14:57اللہ اکبر
15:00کہ وہ انداز
15:02سورہ تاہا کا پڑھا جانا
15:04سورہ تاہا کی تلاوت
15:06یہ ان کے
15:08قلب پر اثر کر گئی
15:11اور وہ قلب
15:13اور وہ انسان
15:15جو تلوار لے کر آتا ہے
15:17وہ قلب قلب سلیم کی حصیت
15:19اختیار کر جاتا ہے
15:20اور قلب منیب کے درجوں پر
15:23بعد میں آتا ہے
15:24اور رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی
15:27اختیار کر لیتا ہے
15:28حضرت سلمان فارسی
15:30جستجو میں ہے
15:32اور وہ جستجو کیسے بڑھتی گئی
15:36حق کی تلاش میں ہیں
15:39اللہ کی راہ
15:40دیکھنا چاہتے ہیں
15:42اللہ تک پہنچنا چاہتے ہیں
15:44اور اس سفر
15:45قرآن کی آیتیں ہیں
15:47جو ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں
15:56مجاہدہ کرتے ہیں
15:57ہم ان کے لئے راستے کھول دیتے ہیں
16:00تو ان کی جستجو تھی
16:01اس آیت نے ان پر اثر کیا
16:04اور رحمت کونین کی
16:06غلامی میں آ بیٹھے
16:07سلح خدیبیہ دیکھ لیں
16:10حکمت ہے
16:11موائزہ حسنہ ہے
16:14اسلوب ہے
16:15دعوت کو چینج کر لیا گیا
16:19نرمی
16:20دور اندیشی
16:22ہوا کیا
16:25بندوں کو نہیں
16:26علاقوں کو نہیں
16:27دلوں کو فتح کیا گیا
16:29جب دلوں کو فتح کیا گیا
16:32تو پھر حالت اور
16:34کیفیت یہ رہی
16:35کہ کفار سے
16:37مرنا
16:38کفار سے لڑنا
16:40یہ معنی نہیں رکھتا تھا
16:42اس لیے
16:43کہ نبی پاک
16:45علیہ السلام کی غلامی
16:46صحابہ کی زندگی میں
16:48ہر چیز پر مقدم تھی
16:50آج جدید دور ہے
16:53ٹیکنالوجی کا دور ہے
16:55گوگل
16:57پوری دنیا
16:59گلوبل ویلج
17:01آج کا انسان کیا کرے
17:03جو ڈپریشن کا شکار ہے
17:05آج کے انسان کے لیے
17:08ڈیجیٹل شور ہے
17:09ذہنی تناؤ ہے
17:11استراب ہے
17:12مقصدیت کا بہران ہے
17:14رشتوں کی ٹوٹ پوٹ ہے
17:16آج کے انسان کے لیے
17:18بنیادی نفسیاتی ضرورتیں کیا ہیں
17:20قرآن ان کی دعوت
17:23کس اس علوم میں پیش کرتا ہے
17:25تو ان میں چار چیزیں ہیں
17:27تعلق ہے
17:28شناخت ہے
17:29مقصد ہے
17:31اور سکون ہے
17:32قرآن ان چاروں ضرورتوں
17:34کا جواب فراہم کرتا ہے
17:36تعلق کا بھی
17:37شناخت کا بھی
17:39مقصد کا بھی
17:41اور سکون کا بھی
17:42جو میں نے
17:44اس سے قبل آپ کو پیش کر دیا
17:46تو قرآن مجید
17:48ان چاروں چیزوں کو
17:49کہتا ہے کہ
17:50تعلق بنانا ہے
17:51تو اللہ سے
17:51وَعْبُدُ اللَّهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ سَيَّا
17:54شناخت رکھنی ہے
17:57تو
17:59اِنَّ اَكْرَمَكُمْ
18:00اِنْدَ اللَّهِ اَتْقَاكُمْ
18:02اور مقصد
18:04تیری جندگی کا کیا ہے
18:05لَقَدْ خَلَقْنَا لَإِنسَانَ
18:08ہم نے احسن بنا کر
18:11تجھے بیجا ہے
18:12مقصد کیا ہے
18:13اللہ کی عبادت ہے
18:14لوگوں کے ساتھ
18:15اچھا رہن سہن ہے
18:16اور سکون کیسے ملے گا
18:19اَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَعِنُ الْقُلُوبِ
18:21تو قرآن کی دعوت
18:22انسان کو
18:23اس کے رب سے جوڑتی ہے
18:25دل کو مطمئن کرتی ہے
18:27اکل کو روشن کرتی ہے
18:28ناظرین اے کرام
18:29آئیے قرآن پڑھئے
18:31اس دعوت پر عمل پیرا ہو جائیے
18:33آئیے وقت ہوا چاہتا ہے
18:35ایک مجرب
18:36اور اکسیر تحفہ پیش کرنے کا
18:38یہ ہمارے
18:39خاجگان ساہوچک شریف کی جانب سے
18:41خاص
18:43تحفہ جات ہیں
18:45جو ہم آپ کی خدمت میں
18:46ہر ہفتہ ایک نئے
18:48موضوع کے ساتھ
18:49اور ایک نئے وظیفہ کے ساتھ
18:50حاضر ہوتے ہیں
18:51آج اس ہفتہ میں
18:53جو آپ کے میسیجز ہم تک پہنچے
18:55جو پیغامات پہنچے
18:58تو اس میں یہ تھا
18:59کہ دشمن غالب آ چکا ہے
19:01اور آپ اس سے چھٹکا رہا چاہتے ہیں
19:04موسلی جو
19:05زیادہ ہم وہ وظیفہ
19:06پیش کرتے ہیں
19:07جو زیادہ لوگوں کا
19:09جس کی طرف
19:09رجحان ہوتا ہے
19:11یا جو زیادہ سوال آتے ہیں
19:12اس ہفتہ میں ہم وہ وظیفہ
19:14پیش کرتے ہیں
19:15تو اس کے لئے ہے
19:16سورہ یاسین کی
19:17پہلی نو آیات
19:19سورہ یاسین کی
19:21پہلی نو آیات
19:22صبح نماز فجر کے بعد
19:24تین مرتبہ پڑھ لیں
19:25سورہ یاسین کی
19:27پہلی نو آیات
19:29صبح نماز فجر سے
19:30کے وقت
19:32نماز فجر کے بعد
19:34تین مرتبہ آپ نے پڑھنی ہے
19:36دشمن سے
19:37اللہ تبارک وطالعہ
19:38نجات اطاف فرمائے گا
19:39ناظرین کرام
19:40اگلے ہفتے تک کے لئے
19:42اگلے پروگرام تک کے لئے
19:43اجازت دیجئے
19:45دیکھتے رہیے پروگرام
19:46روشن راستے
19:47ہر ہفتہ
19:48اسی وقت پر
19:50اللہ تبارک وطالعہ
19:51ہم سب کو
19:51عمل خیر کی
19:52توفیق اطاف فرمائے
19:53اللہ حافظ
19:55سینہ اے ہستی
20:00روشن روشن
20:04سینہ اے ہستی
20:08روشن روشن
20:14کہہ کشاں جگم
Comments

Recommended