Skip to playerSkip to main content
  • 7 weeks ago
کینسر کی جانچ کرسکتےہیں خون کے ٹیسٹ سے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمارا یہ ویڈیو دیکھیں۔ کینسر کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ کی اہمیت، ان کے کام کرنے کا طریقہ، اور ان کے نتیجے کی تشریح پر ہماری گہری بات چیت۔ کینسر کی ابتدائی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے اور وہ کینسر کے مختلف اقسام کی پہچان کے لیے کتنا موثر ہیں۔ ہمارے ماہرین سے جانیے کہ کینسر کی جانچ کے لیے خون کے ٹیسٹ کی کیا اہمیت ہے اور یہ کینسر کے مریضوں کی زندگیوں کو کیسے بچا سکتے ہیں۔

Category

😹
Fun
Transcript
00:00ڈیو تیرپی سرطان کی بروقت تشخیص اس بیماری کو شکست دینے میں ہماری معاون ہو سکتی ہے
00:06عموماً یہ بیماری تب تشخیص ہوتی ہے جب دیر ہو چکی ہوتی ہے
00:11جتنا جلدی ہم کینسر کا سراغ لگائیں گے اتنا ہی جلدی اس کا علاج ممکن ہوگا
00:19ٹیومر چھوٹا ہوگا یا پھیلا نہیں ہوگا تو اسے بہت آسانی کاٹا جا سکے گا
00:22یا ریڈیو تیرپی سے ختم کیا جا سکے گا
00:25برطانیہ میں سیمپلیفائی نامی ٹرائل میں امریکی بائیو ٹیک کمپنی گریل کی تیار کردہ
00:32خون کے ٹیسٹ گالری کا جائزہ لیا گیا
00:35کینسر کی تشخیص عموماً پیچیدہ ہوتی ہے مگر یہ ٹیسٹ کئی طرح کے سرطان کی نشاندہ ہی کر سکتا ہے
00:40سیمپلیفائی میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خون کا ٹیسٹ کیا جائے جو ہمیں کینسر کی انتہائی ابتدائی علامات
00:48جیسے پیٹ میں درد یا وزن میں کمی کے ذریعے نشاندہ ہی کر دیں
00:51یہ ٹیسٹ مختلف ٹیومر سے جڑے مختلف مالیکیولز یا ٹیگز کی خون میں موجودگی کی شناخت کرتا ہے
01:02یہ ٹیگز خصوصی طرز کے ہوتے ہیں کچھ سراسر کینسر کی صورت میں پیدا ہوتے ہیں
01:11سرطان کے خلیات ان ٹیگز کے ذریعے اپنی ابنورملٹی کا پتہ دیتے ہیں
01:16یہ ٹیسٹ ان انتہائی مخصوص ابنورملٹی کا سراغ لگا لیتا ہے
01:20سمپلیفائی ٹیسٹ کے نتائج انتہائی حوصلہ افضائیں
01:31اسے پانچ ہزار چار سو مریضوں میں علامات کے ذریعے کینسر کی تشریف کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کیا گیا
01:36کسی بھی دوسرے ٹیسٹ سے قبل مریض نے اپنے خون کے نمونے دیئے اور گالیری ٹیسٹ کے ذریعے اس کی جانچ کی گئی
01:44آخر میں ڈاکٹروں نے ان میں سے 368 افراد میں روایتی طریقوں سے کینسر کی موجودگی کا سراغ لگایا
01:50اس کی مقابلے میں گالیری ٹیسٹ نے تین میں سے دو مرتبہ درستی سے کینسر کی نشاندہی کی
01:56اس پلڈ ٹیسٹ نے یہ تک بتا دیا کہ مریض کو کس قسم کے سرطان کا سامنا ہے
02:01جہاں یہ ٹیسٹ مصبت رہا وہاں اس نے 85 فیصد درستی سے یہ بھی بتایا کہ کینسر کہاں ہے
02:10یہ انتہائی کارامت ہے کیونکہ اس سے درست ٹیسٹ تک پہنچا جا سکتا ہے
02:14بعض صورتوں میں کینسر کی تشخیص بہت مشکل ہوتی ہے
02:17مثلا پینکریاتک کینسر
02:18یہاں دو تین دیگر چیزیں دیکھنے کی بجائے
02:21اس سے آپ کو باسانی پتا چل جائے گا کہ کون سا ٹیسٹ کیا جائے
02:25مگر اس نے 89 ایسے مریضوں میں بھی کینسر کا ٹیسٹ مصبت بتایا
02:31جن کو حقیقت میں کینسر نہیں تھا
02:33اسے جھوٹا مصبت نتیجہ کہتے ہیں
02:35سرطان نہ ہو اور جھوٹا مصبت ٹیسٹ آئے
02:42تو مریض کے لیے یہ انتہائی پریشان کن ہوتا ہے
02:45کیونکہ وہ ہمیشہ پریشان رہتے ہیں کہ کہیں واقعی انہیں کینسر تو نہیں
02:48یا کہیں کینسر تشخیص سے رہ تو نہیں گیا
02:50یہ ڈاکٹرز اور طبی نظام کے لیے بھی غیر معمولی دباؤ کی وجہ بن سکتا ہے
02:55جھوٹے مصبت کیسز کو کم از کم کرنے کے لیے
03:03اس طریقے کو فقط ایک ستھائی مگر فوری راستے کے طور پر جہد تیہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
03:10برطانیہ میں لاگیری ٹیسٹ سے متعلق ایک وسیطر تحقیق بھی جاری ہے
03:20ڈاکٹرز اور طبی نظام کے لیے
Be the first to comment
Add your comment

Recommended