Skip to playerSkip to main content
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC

Topic: Mojza e Meraj

Host: Syed Salman Gul

Guest: Allama Liaquat Hussain Azhari, Mufti Khurram Iqbal Rehmani

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00. . . . . .
00:30. . . . .
01:00. . . . .
01:30. . . . . .
01:59. . . .
02:29I'm going to read it.
02:59کہ رات و رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصہ چلے گئے
03:03یہ کیسے ہو سکتا سمجھ میں نہیں آتا
03:05اور جو عقل کے لوگ ہیں وہ یہی کہتے ہیں
03:08کہ یہ ہو سکتا ہی نہیں ہے
03:10ایک جملہ کہوں گا سلمان بھائی
03:12سفرِ میراج کے حوالے سے مختلف لوگوں نے مختلف گفتگو کی ہے
03:15کسی نے کہا کہ یہ عالمِ رویہ کے اندر تھا
03:19یہ خواب تھا خواب کے اندر حضور تشریف لے گئے
03:22انبیاء کرام کے خواب بھی بڑے مبارک ہوتے ہیں
03:24اور خوابوں کے اندر بھی رب تبارک و تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے
03:28لیکن یہ صرف خواب نہیں تھا
03:30بلکہ رب تبارک و تعالیٰ نے آقاید و جہانسہ صلی اللہ کو
03:34جسم اور روح کے ساتھ اپنی بارگاہ کے اندر بولایا
03:37اگر صرف خواب ہوتا
03:40تو جب میراج کی صبح آقاید و جہانسہ صلی اللہ نے
03:44مکہ کے اندر کھڑے ہو کر حتیبِ کعبہ میں ذکر کیا
03:47تو کفار نے ایک شور و غوغہ مچا دیا
03:51تقزیب کرنی شروع کر دی
03:52جھوٹ ہے جھوٹ ہے
03:54اگر خواب ہوتا تو خواب مجھے اور آپ کو بھی آتے ہیں
03:56صبح اٹھ کے ہم ایک دوسرے کو سناتے ہیں
03:59کوئی نہیں کہتا
03:59میں کہتا ہوں سلمان بھائی آج رات کو میں مکہ مکرمہ پہنچا ہوا تھا
04:02آج مدینہ منورہ شریف اللہ وسلم پہنچا ہوا تھا
04:05کوئی نہیں کہتا کہ کیسی باتیں کر رہے ہیں
04:07آپ کراچی اس لیے کہ خواب ہے
04:10یہ خواب نہیں تھا
04:11بلکہ عالم بیداری کے اندر
04:14جسم اور روح کے ساتھ
04:16اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ کرتا
04:18لیکن آغاز کیسے ہوا مقام تعجب
04:20تبیہ موجزہ تبیہ بنا
04:22کمال تبیہ بنا
04:24فرمایا کہ وہ خود نہیں گئے بلکہ رب تبارک و تعالیٰ
04:27ان کو دیکھ
04:27سبحان اللہ
04:29رات کے ایک حصے کے اندر
04:37آپ یہ دیکھیں
04:37کہ کنڈی بھی ہلتی رہی
04:39پانی بھی گرم رہا
04:41سارا نظام روک دیا گیا
04:43وہ جانے کائنات
04:45کائنات سے کیا نکلے
04:46کہ سب کچھ وحی پر رک گیا
04:47اللہ و اکبر
04:48واپس تشریف لائے
04:50نظام وحی سے چلنا شروع ہو گیا
04:52یعنی جان ہے وہ جہان کی
04:53جان ہے وہ جہان کی
04:55انہی سے سب کچھ نظام ہے
04:56فرمایا لائلن
04:57لائلن من المسجد الحرام
04:59الى المسجد الاقصہ
05:01فرمایا مسجد حرام سے
05:03مسجد اقصہ کا یہ سفر شروع ہوا
05:05اس کی تفصیلات اللہم صاحب
05:07حدیث پاک کی روح سے بیان فرمائیں گے
05:08میں صرف اتنا کہوں گا
05:10کہ اس کا آغاز
05:11یہ جو خوبصورت جرنی ہے
05:13اس کی جو زمینی سفر ہے
05:14اس کا یہاں پر ذکر کیا گیا
05:16فرمایا کہ جو زمین کے اندر
05:18من المسجد الحرام
05:20الى المسجد الاقصہ
05:22مسجد حرام سے
05:23مسجد اقصہ کی طرف یہ سفر ہوتا ہے
05:26مسجد اقصہ
05:27اللذی بارکنا حولہو
05:29فرمایا جس کے اد گرد
05:30ہم نے برکتیں رکھی ہیں
05:32رحمتیں رکھی ہیں
05:33ظاہری بھی برکتیں
05:34وہاں زیتون ہوتی ہے
05:35یہ شام کا علاقہ
05:36فلسطین کا علاقہ
05:37اور روحانی برکتیں یہ ہیں
05:39کہ وہاں انبیاء سرزمین
05:42انبیاء اکرام کے سرزمین ہیں
05:43انبیاء اکرام کے مزارات ہیں
05:45تو اللذی بارکنا حولہو
05:47جس کے اد گرد
05:48ہم نے برکتیں رکھی ہیں
05:50اب جانا ہے
05:51اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ کے اندر
05:53اور پھر مسجد حرام سے
05:55مسجد اقصہ لجانے کا مقصد کیا ہے
05:58اس کا پھر وہاں پر
06:00امامت کا مقصد کیا ہے
06:01آلہ حضرت امام علیہ السنت
06:02نے ایک شیر کے اندر
06:03اس کا جواب دیا
06:04فرمایا
06:05نماز اقصہ میں تھا
06:06یہی سر
06:07ایاں ہو مانا اے اول آخر
06:09کہ دست بستا ہے پیچھے حاضر
06:12جو سلطنت آگے کر گئے تھے
06:15فرمایا
06:15آج اول و آخر کا معنی سمجھانا ہے
06:18کوئی یہ نہ سمجھے
06:19کہ آخر میں آنے والا
06:20مقام کے اعتبار سے بھی آخری ہے
06:22فرما آج ان کو کیا مقام دیا جا رہا ہے
06:25اللہ اقبل
06:26یہاں پر رب تبارک و تعالی نے
06:28سورہ بنی اسرائیل کے اندر
06:29من المسجد الحرام
06:31الى المسجد الاقصہ
06:33پاک ہے وہ ذات جو لے گئی
06:35اپنے بندہ خاص کر
06:37عبد کا اطلاق جو ہے
06:39سلمان بھائی
06:39روح معال جسم
06:41روح معال جسد پر ہوتا ہے
06:43ملکل صحیح
06:43صرف جو ہے
06:44حالم روحانیت کے اندر نہیں
06:46بلکہ جسم کے ساتھ تشریف لے گئے
06:49پھر آسمانوں کے سیر ہوتی ہے
06:51جس کا ذکر حدیث پاک کی روح سے بیان کیا جائے گا
06:54چلتے چلتے وہ مقام آتا ہے
06:56اللہ اکبر
06:57عند صدرت المنتحہ
06:59صدرت المنتحہ کے مقام پر پہنچ گئے
07:02عندہ جنت المعوی
07:04ادھ یغشہ صدرت ما یغشہ
07:06اللہ اکبر
07:07صدرت المنتحہ کے مقام
07:09آسمانوں سے بڑھتے ہوئے
07:11پھر چلتے چلتے وہ مقام آ گیا
07:13کہ رب تعالی فرماتا ہے
07:15ثمدنا فتدل
07:17فَقَانَقَابَ قَوْسَيْنِ اَوْعَدْنَا
07:20فَأَوْحَا إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَا
07:23اللہ اکبر
07:24پھر وہ جلوہ قریب ہوا
07:26اتنا قریب ہوا
07:27کہ جیسے دو قوسین ملتے ہیں
07:29اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا
07:31پھر اس نے اپنے بندے پر وحی کی
07:33کیا وحی کی
07:34وہ دینے والا جانتا ہے
07:36یہ لینے والے جانتا ہے
07:38کیا کچھ اتا کیا
07:39یہاں ایک جملہ کہوں گا
07:40وہ سارے لوگوں نے کہا
07:42کہ یہاں پر جو ہے
07:43صدرت المنتحہ
07:45اور یہ سارے کے سارے جو مقام ہے
07:47یہاں سے مراد جبریل علیہ السلام ہے
07:49کہ حضور علیہ السلام
07:51جبریل علیہ السلام سے ملے
07:53میں اتنا کہوں گا
07:54کہ جبریل علیہ السلام
07:55وہی لانے والے فرشتے ہیں
07:56وہ تو بار بار آیا کرتے ہیں
07:58مدینہ کی گلیوں کے اندر
08:00بلکل بازار میں آرہے ہیں
08:02صحابہ اکرام فرماتے ہیں
08:03ہم بیٹھے ہوئے
08:04اور ہمارے ساتھیوں کی طرح بن کر
08:06صحابہ کے طرح بن کر
08:08انسانی لباس کے اندر
08:09حدیثی جبریل ہے پوری باقیل
08:10وہ بیٹھے ہوئے
08:11اللہ اکبر
08:12ام الممنین سیدہ عشر
08:14رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر پر ہیں
08:15حضور وہاں تشریف لارہے ہیں
08:17تو جبریل علیہ السلام
08:18تو تشریف لاتے تھے
08:20مختلف صورتوں کے اندر بھی آتے تھے
08:21یہاں جبریل کو نہیں
08:23بلکہ رب تبارک و تعالیٰ
08:25کے ملاقات کے لئے تشریف لے گئے
08:27رب تبارک و تعالیٰ
08:29کہ وہ دیدار ہوا
08:30اور رب تبارک و تعالیٰ
08:31نے اپنے محبوب کو
08:33یہ میراج کا ایک ایسا
08:35موجزہ عطا فرمایا
08:37ایسا مقام عطا فرمایا
08:38جو نہ کسی کو بلا ہے
08:40نہ کسی کو بلے
08:41اللہ اکبر
08:42رب تبارک و تعالیٰ کا کرم
08:44اور رب تبارک و تعالیٰ کا فضل
08:45بہت خوب اللہ حمد صاحب
08:47قرآن ابھی بیان کر رہا تھا
08:48سفر میراج اللہ کے کلام سے
08:50اور اللہ کے کلام کی وجاہت کے ساتھ
08:53ہم سمجھ رہا
08:53لفظوں کا بھی وہی انتخاب
08:55پھر آدیس طیبہ گی روشنی میں
08:57سفر میراج کی
08:58ہمیں کیا تفصیلات اور اشارے ملتے ہیں
09:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
09:01و صلات و السلام
09:02علی رسول کریم
09:04الحمدللہ و شکر للہ
09:06کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا
09:07بے پناہ کرم ہے
09:08کہ اس نے ہمیں پیارے آقا
09:10صلی اللہ علیہ وسلم کی نات
09:12پڑھنے اور سننے والا بنایا
09:14اور حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم
09:16کی جب عزمنتوں کا بیان ہوتا ہے
09:18تو حقیقت دی ہے
09:18کہ مومن کا ایمان تازہ ہوتا ہے
09:20اس سفر میراج کا جہاں تک تعلق ہے
09:23تو قرآن مجید فرقان حمید
09:24میں اللہ سبحانہ و تعالی نے
09:26جس سرہ سفر میراج کا ذکر کیا ہے
09:28یہ بھی دیکھیں
09:29کہ اللہ کی اپنے حبیب کے ساتھ محبت ہے
09:30وغرنہ ہوتا یہ ہے
09:32کہ بندہ سفر کرتا ہے
09:33تو اس کے نیچے ماتحج
09:35جو فراد ہوتے ہیں
09:36وہ سفر کی تفصیلات کو بیان کرتے ہیں
09:38کہ جناب گئے تھے
09:39یہ ہوا
09:40یا بندہ خود اپنے سفر کی تفصیلات کو بیان کرتا ہے
09:42لیکن قرآن مجید فرقان حمید میں
09:44سفر میراج کا جو ذکر ہمیں ملتا ہے
09:46وہ اللہ کے اپنے حبیب سے محبت ہے
09:48کہ محبوب سفر کر رہے ہیں
09:50اور اللہ خود اپنے محبوب کے سفر کو بیان فرما رہا ہے
09:53پھر جو اعزاز و اکرام
09:54اللہ سبحانہ و تعالی نے
09:55ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
09:57کوئی سفر میراج میں اتا فرمایا
09:59خود حضور جاندو عالم صلی اللہ علیہ وسلم
10:01نے احادیث مبارکہ میں
10:03صحابہ کے سامنے اس کو بیان فرمایا
10:05جیسے بھی قبلہ علامہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
10:07ارشاد فرمایا تھا
10:08کہ سفر میراج جب مکمل ہوا
10:10پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
10:12مکہ مکرمہ تشریف لے کر آئے
10:13تو خود یہ حضور کی سنت ٹھیری
10:15کہ آپ مسجد حرام تشریف لے گئے
10:18اور وہاں لوگوں کے سامنے
10:19خود آپ نے اپنے سفر میراج کو بیان فرمایا ہے
10:21تو حضور کی سفر میراج کو بیان کرنا
10:24خود حضور کی سنت ہے
10:25جس طرح سرکار نے بیان کی ہے
10:27صحابہ کرام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو سنا
10:30اور پھر اس کے بعد آنے والی نسلوں
10:32کو بھی اس کو بیان کرتے چلے گئے
10:33جس طرح ہم تک یہ توادر سے چیز پہنچی ہے
10:35حدیث مبارکہ میں روایات
10:37سیحہ ستہ کے اندر بھی موجود ہیں
10:39اور اس کی علاوہ بھی کتوب حدیث کے اندر موجود ہیں
10:41اور اس کی جو سفر کا آغاز ہے
10:43اس سے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمانا شروع کیا
10:46کہ قرآن مجید میں
10:48کہ مسجد حرام سے سفر کا آغاز ہوا
10:49تو خود رسول اللہ نے فرما کہ میں حتیم میں آرام فرما تھا
10:53بینما آنا نائم ان کی کیفیت تھی
10:55کہ ایک آنے والا آیا ہے
10:56جبریل امین آئے
10:57اور پھر یہاں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا شق صدر ہوا
11:00اس کا ذکر بھی حدیث کے اندر ہے
11:02پھر آبِ زمزم سے اس کا دھویا جانا
11:04اس کا بھی حدیثِ مبارکہ کے اندر ذکر موجود ہے
11:06پھر جس سواری پر سرکار تشریف لے گئے
11:09وہ بھی حدیث میں ہم کو ملتا ہے
11:10کہ پیارے آقا نے فرما کہ برراک لائے گیا
11:13جس پر میں نے سواری کی ہے
11:14اس برراک کی رفتار کا علام کیا تھا
11:16وہ بھی ہم کو حدیث میں ملتا ہے
11:18کہ جہاں حد نگاہ ہے وہاں اس کا پہلا قدم پڑھتا ہے
11:20اس رفتار کے ساتھ سفر ہے
11:22پھر اس سفر کے جو مشاہدات ہیں
11:24وہ بھی حدیثِ مبارکہ میں ملتے ہیں
11:26جس میں ایک بڑا اہم مشاہدہ یہ تھا
11:28کہ پیارے آقا نے فرما کہ میں حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کی قبر پر سے گزرا
11:31اور میں نے دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے
11:34یعنی اللہ کے نبی اپنی قبر میں زندہ ہیں
11:37اور کس کیفیت میں کہ وہاں بھی وہ اللہ کی عبادت کے اندر مجھول اور مصروف ہیں
11:41پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
11:50کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
11:52صفح انبیاء میں
11:54امامت کے مسلح پر کھڑے ہوئے
11:56اور وہاں جبریل امین نے کہا کہ
11:58یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے نماز پڑھانی ہے
12:00پھر انبیاء نے جو ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کی
12:04اس کا ذکر بھی احادیثِ مبارکہ میں ہے
12:06کہ گویا مسجد اقصہ میں
12:08عظمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
12:10کا جلسہ منقض ہوا
12:11اس میں عظمتِ مصطفیٰ کو بیان کرنے والے خود
12:14انبیاءِ کرام تھے اپنے زمانے کے بیغم
12:16اور جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
12:18نے نماز پڑھائی تو کیا یہ خوبصورت
12:20مندر جس طرح سیدی آلت کا شعر تھا
12:21اسی طرح ایک اور نات کا شعر ہے
12:23کہ نماز اقصہ میں جب پڑھائی
12:25تو انبیاء و رسول یہ بولے
12:27نماز ہو تو نماز ایسی
12:29امام ہو تو امام ایسا
12:30پھر اس کے بعد جو آسمانوں کا سفر ہے
12:33اس کا ذکر بھی حدیث مبارکہ ملتا ہے
12:35ہر آسمان پر ایک نبی علیہ السلام سے
12:38ملاقات کا ذکر وہ حدیث مبارکہ میں ہے
12:40پھر جنت کا مشاہدہ
12:42دوزخ کا مشاہدہ
12:43پھر جو مقامِ قابع قوسین اور عدنہ پہ
12:46جس طرح آپ نے فرمایا کہ اللہ باگ نے فرما
12:48فَأَوْحَا إِلَا عَبْدِهِ مَا أَوْحَا
12:49ان خاص باتوں میں سے کچھ خاص باتیں
12:52سرکار نے بتائیں
12:52جیسے ایک نماز کا تحفہ
12:54سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کا
12:56وہاں ملنا یہ خاص صحفہ
12:58اس طرح جو انام و اکرام کی بارشیں
13:00وہاں پر ہوئیں
13:01وہ سرکار نے اپنی احادیث کے اندر بیان فرمایا
13:03انشاءاللہ اس کو تفصیل سے بھی پوچھوں گا
13:05تحفہ علی بات کو انشاءاللہ
13:06تو اس طرح پیارے آقا کی واپسی کا سفر
13:09یہ ساری کی ساری تفصیل جب میں ملتی ہے
13:11وہ رسول اللہ کی احادیث کے اندر ہی ملتی ہے
13:12وہ خدا کے نور کو دیکھ کر بھی
13:15جہان والوں میں آگئے
13:17ساری عرش جانا کمال تھا
13:19کہ وہاں سے آنا کمال ہے
13:20بریک کے بعد ہوتی ملاقات
13:22خیر مقدم ہے آپ کا
13:23حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا
13:25جو مراج کا ایک معجزہ
13:27اللہ رب العزت نے آپ کو عطا فرمایا
13:28ہم اس پر بات کرو کہ قریب ہیں
13:30مراج النبی کی شب سے
13:31اور اس شب میں
13:33اللہ تعالیٰ ہمیں عبادت کی توفیق عطا فرمایا
13:36درود و سلام کی کسرت کیا کیجئے
13:38کہ ویسے بھی کیا کیجئے
13:39اور اس رات تو خصوصی اعتمام کے ساتھ
13:41کہ حضور کی مراج کو یاد کرتے ہوئے
13:43کمال مراج پر پہنچایا
13:45اس نسبت نے مجھے اور آپ کو
13:46کہ ہم ان کے امتی ہیں
13:48کہ جن پر انبیاء کو بھی رشک ہے
13:50انبیاء کو بھی ناز ہے
13:51حلام علیہ عقاد حسن نظری صاحب قبلہ
13:53حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
13:55مراج کی تعلق سے
13:56کیونکہ میں لفظے مراج کو اگر دیکھوں
13:58تو اس کے مفہوم میں تو
13:59مجھے کئی باتیں دکھائی دیتی ہے
14:02لیکن مراج یہ جو جس مراج
14:04میں ہم بات کریں
14:05کیا یہ حضور کو مراج ایک مرتبہ ہوئی
14:07یا کئی بار ہوئی
14:09اس حوالے سے
14:10اور کیا دیگر انبیاء اکرام کو بھی
14:11اللہ رب العزت
14:12نے مراج اطا فرمائی
14:14وہ بھی مراج پر گئے
14:15دیکھیں آپ کے سوال کا
14:16وان لائنر جواب تو یہ ہے
14:18کہ عقاد و جہاں صلی اللہ علیہ وسلم
14:20کو عالم رویہ کے اندر
14:22تو کئی مرتبہ مراج ہوئی
14:23حضور رسی ساتھ و سلام
14:25رب تبارک و تعالی کی
14:26تجلیات کے اندر مستغرق رہتے
14:28حضور کا سینہ جو ہے
14:30وہ ہمہ وقت
14:31ایک سکینہ ہوتا
14:32رب تبارک و تعالی کے
14:33رحمتوں کا نزول ہوتا
14:34لیکن یہ مراج جو ہے
14:37جسم اور روح کے ساتھ
14:39جو رب تبارک و تعالی نے
14:40اپنے پاس بنایا
14:41اور حضور کی نبوت کا موجزہ
14:43بنا یہ صرف ایک مرتبہ ہوئی
14:45جہاں تک انبیاء اکرام کی بات رہی
14:47تو قرآن مجید فرقان حمید کے اندر آتا ہے
14:49موسیٰ علیہ ساتھ و سلام
14:50موسیٰ علیہ ساتھ و سلام
14:55کو ہی تور پر تشریف لے گئے
14:56رب تبارک و تعالی نے
14:58انہیں شرف کلام عطا فرمائے
14:59قریب اللہ بن گئے
15:00اور جب رب تبارک و تعالی نے
15:03ان کو کلام کا شرف عطا فرمائے
15:05تو موسیٰ ایک قدم آگے بڑے
15:06کہلیں کہ
15:07اللہ اکبر
15:10اے خدایہ
15:11تو نے یہ کرم کیا ہے
15:12یہ شرف کلام عطا فرمائے
15:14تو اپنے جلوہ بھی دکھا دے
15:15تو رب تبارک و تعالی نے فرمایا
15:17لن ترانی
15:18اے موسیٰ آپ مجھے نہیں دیکھ سکتی
15:21یہ نہیں فرمایا
15:22کوئی نہیں دیکھ سکتا
15:23یہ بھی ایک باحث ہے
15:24کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے
15:25کہ رب تبارک و تعالی کی رویت ممکن ہی نہیں
15:28اگر رب تبارک و تعالی کی رویت ممکن ہی نہ ہوتی
15:32تو نبی کبھی نممکن کا سوال نہ کرتا
15:35اللہ کی بارگاہ کیا
15:36ملکل صحیح
15:36اور اگر سوال کر دیتا
15:38تو رب تعالی فرماتا
15:39موسیٰ کیسی بات کر رہے ہو
15:40ہمیں کوئی بھی نہیں دیکھ سکتا
15:43فرمایا
15:44لن ترانی
15:45اے موسیٰ آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے
15:47فرمایا
15:48اگر بہت شوک ہے
15:49تو ایسا کرتے ہیں
15:50کہ
15:50آپ ایسا کریں
15:55کہ ہم اپنے جلوہ پہاڑ پر ڈالتے ہیں
15:57اور اگر آپ نے پہاڑ کو دیکھ ریا
16:00تو پھر اگرہ مرلہ
16:01ہم آپ کو دکھائیں گے
16:02اللہ اکبر
16:03اللہ اکبر
16:07اب تبارک و تعالی نے
16:08جب اپنا جلوہ پہاڑ پر ڈالا
16:10موسیٰ ری ساتو سلام نے پہاڑ کو دیکھا
16:13تو
16:14موسیٰ ری ساتو سلام بہوش ہو کر گر پڑے
16:18جب ہوش میں آئے تو
16:23کہنے لگے خدایہ میں تیری بارگاہ کے اندر
16:25توبہ کرتا ہوں
16:27یہاں بڑی پیاری بیات فرمائی
16:28ابھی ہم پڑھ رہے تھے نا
16:30اللہ اکبر
16:32اور پھر ایسا آیا
16:33کہ جب جلوے قریب آنے لگے
16:36جلوے قریب آنے لگے
16:37آواز آئی
16:38اے محمد اور قریب آئیں
16:42احمد اور قریب آئیں
16:44آپ کا رب آپ پر رحمتوں کا نزول فرما رہا ہے
16:47خدایہ میرا سب کچھ آپ کے لئے ہے
16:54میری مالی عبادتیں
16:55بدنی عبادتیں
16:56سب کچھ میرا آپ کے لئے ہے
16:58فرمایا آواز آ رہی ہے اور قریب آئیں
17:01تو میرے امام نے فرمایا
17:02خدایہ تیری بھی شان کیسی ہے
17:04تبارک اللہ شان تیری
17:05تجھی کو زیبہ ہے بے نیازی
17:08کہیں تو وہ جوش لن ترانی
17:10مرسا نہیں دیکھ سکتا
17:11کہیں تقاضے مثال کے
17:13اور قریب آئیں
17:14ادنو یا احمد
17:16ادنو یا محمد
17:17تو میراج جو ہے یہ جو میراج ہے کہ رب تبارک و تعالی نے ایک مرتبہ اپنے آقا
17:26صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی جو نہ کسی کو ملی ہے نہ کسی کو ملی ہے
17:30اللہ اکبر
17:30سبحان اللہ
17:32سبحان اللہ
17:33کیا بات ہے
17:33حضور علامہ خورم اقبال رحمانی صاحب تشریف فرمائیں
17:37مجھے بتائیں
17:39یہ واقع میراج
17:40کو اگر میں
17:41سائنٹیفک پوائنٹ اف یو سے دیکھنا چاہتا ہوں
17:43سائنس واقع میراج کو کیسے دیکھتی ہے
17:46کہ وہ بہت زیادہ
17:47ریالیٹی کی اور
17:49فیکٹ ان فگر کی بات کرتی ہے
17:51اس سے ہٹتی نہیں
17:52اور اکثر
17:53کہیں تو
17:54آج سائنس بالکل
17:56حضور کا
17:57جو ہے نہ
17:58حضور کے بارے میں
17:59ریسرچ کرنے میں لگی ہوئی ہے
18:00کیونکہ سائنس جہاں پہنچ نہیں پائی
18:02رسول اللہ وہاں پہلے سے ہی
18:03چودہ سو برس پہلے ہی
18:04حضور نے بتا دیا تھا
18:06لیکن کئی کئی
18:07آپ کو پتا ہے
18:08کہ جدید جو ذہن ہوتا ہے نا
18:11ان کے جو سائنٹسٹ آج کل بن رہے ہیں
18:13آپ کو ہر دور میں ایک نیا
18:14اوبجیکشن ملے گا
18:16میراج کے تعلق سے
18:17لوگوں کو راستے سے
18:19ہٹا ہٹانا
18:20بھٹکانا
18:20وہی بات
18:21سائنس
18:22آدھر صلی اللہ علیہ وسلم کو
18:23کیسے دیکھتی ہے
18:24اس کے پوزیٹیف ایمپیکٹس
18:26بتائیے مجھے آپ
18:27سلمان بی
18:28سب سے پہلے میں
18:29ارز کروں گا
18:30کہ
18:30جہاں تک تعلق ہے
18:32سائنٹیفک
18:33توجیہ کا
18:35تو سائنس نے
18:37ابھی تک یہ دعویٰ نہیں کیا
18:38کہ سائنٹیفک
18:39ریسرچ مکمل ہو چکی ہیں
18:41اور اب کوئی نئی
18:42ریسرچ نہیں آئی
18:42ایسا نہیں ہے
18:44بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ
18:46ریسرچز ہو رہی ہیں
18:47اور نئین شواہد
18:49اور نئین ایجادات
18:50اور نئین بیانیات
18:51منظر آم پر آ رہے ہیں
18:52ایسے بھی بیانی تشریف
18:54لہ رہے ہیں
18:54جو گزشتہ بیانیوں کی
18:56تردید پر منصر ہوتے ہیں
18:57یعنی
18:58مختلف سائنٹیس
18:59جو ہے
19:00اپنے پیشرو سائنٹیس
19:01کی جو ہے
19:02ان کی تحقیقات کا
19:03رد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں
19:04ایسا ہی ہے
19:04اہلی بات تو یہ ہے
19:05کہ ایسا نہیں ہے
19:06کہ کوئی بولے
19:07کہ جی نا
19:07سائنٹیفک ریسرچ
19:08بلکل ختم ہو گئی ہے
19:10ہم بلکل آخری کمال
19:11اور روچ کو پہنچ گئے ہیں
19:12اب کچھ نیا نہیں ہو سکتا
19:13اس لیے ہم سب چیزوں
19:14کا رد کر رہے ہیں
19:15تو ایسا ممکنات میں سے
19:16نہیں ہے
19:17روزانہ ریسرچز کا
19:18سلسلہ جاری ہو ساری ہے
19:19دوسری چیز یہ ہے
19:21کہ یہ موجزہ ہے
19:33اقل کی سمجھ میں آجے
19:34تو پھر موجزہ کیسے رہا
19:35اقل آجیز ہے
19:37اس کو سمجھنے سے
19:38اس کی توجیحات پیش کرنے سے
19:39اقل آجیز ہے
19:40اس لیے اس کو
19:41موجزہ کہا جاتا ہے
19:42تیسری بات یہ ہے
19:44کہ سفر محراجہ ہے
19:45وہ ایسا عظیم و شان موجزہ ہے
19:47جس نے انسان کیلئے
19:49اس کررہ ارزی سے
19:51باہر نکلنے کے دروازے کھولیں
19:52حضور علیہ السلام کے
19:55سفر محراج سے پہلے
19:56انسان کے وہم و گمان میں
19:58بھی نہیں تھا
19:59کہ وہ آسمانوں پر
20:00سفر کر سکتا ہے
20:01اڑ سکتا ہے
20:02خلا میں سفر کر سکتا ہے
20:04اور یہ چاند
20:06جس کو میں سجدے کرتا ہوں
20:07اس چاند پر میں
20:08کمن ڈال سکتا ہوں
20:09حضور کے سفر محراج سے پہلے
20:11یہ تصور بھی ممکن نہیں تھا
20:12یارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
20:15کی سفر محراج نے
20:16انسان کا جو علم ہے
20:18اس کی ارتقائی منزلوں کی دروازے کھولیں
20:19یعنی وہ انسان
20:21جو صرف نیچے نیچے دیکھتا تھا
20:23اب اسے اوپر دیکھنا سکھایا گیا
20:24اور اتنی بلندی کی طرف
20:26دیکھنا سکھایا گیا
20:27کہ اوپر آسمان میں
20:28جو کچھ ہے
20:29وہ تسخیر کرنے کیلئے ہے
20:30وہ تمہارے لئے بنایا گیا ہے
20:32اب تسخیر کیسے ہوگی
20:34جب تم وہاں پر پہنچوگے
20:35میں کیسے پہنچوں گا
20:37کہا منسان کامل
20:38محمد مصطفیٰ
20:39صلی اللہ علیہ وسلم
20:40کو اس سے بھی آگے پہنچا دیتے ہیں
20:42تمہارے لئے
20:43تاکہ تمہیں پتا چلے
20:45تاکہ تمہارے دیکھنے میں آسانی ہو
20:47تاکہ تمہیں پتا چلے
20:48کہ کیا ہے
20:49کہ رہبر اور رہنمہ جب آگے جاتا ہے
20:51تو اس کے نقشے قدم ہوتے ہیں
20:52اس کا راستہ ہوتا ہے
20:53پیچھے آنے والوں کے لئے
20:55چلنا آسان ہو جاتا ہے
20:56چونکہ منزلوں کا تعین ہو چکا ہوتا ہے
20:58تو کہا کہ تمہیں وہاں تک پہنچنے کے لئے
21:00پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے
21:01انسان کامل محمد مصطفیٰ
21:12اب تم ناممکن کو ممکن کیسے بنا سکتے ہو
21:15اس کا آسان سا طریقہ یہ ہے
21:16کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم
21:19کے سفر محراج کی تردید کرنے کے بجائے
21:22اس کی جزئیات پر تحقیق کرو
21:24کہ وہ کیسے گئے
21:26کتنی سپیٹ تھی
21:27کتنی رفتار تھی
21:28اس سفر کے لئے کیا کہ ضروریات تھا
21:30جیسے جیسے سیکھتے چلے جاؤگے
21:32تمہارے لئے بلندی پر سفر کرنا آسان ہوتا چلا جائے گا
21:35وہ انسان جو کہتا تھا
21:37کہ گرائوٹی ہے کشش سقل ہے
21:40اس قرعہ ارضی سے باہر نکلنا
21:41ممکن ہی نہیں ہے
21:42آج وہی انسان راکٹ میں بیٹھ کر
21:45اس قرعہ ارضی سے باہر نکل رہا ہے
21:46پہلے انکاردہ نہیں ہو سکتا
21:48انسان اپنے کسیب وجود کے ساتھ
21:51ہوا میں اڑنا ہی سکتا
21:52کسیب وجود کے ساتھ ہوا میں اڑنا ہی سکتا
21:55آج تنوں منوں وزنی ہوای جہاز اڑا رہا ہے
21:57بلکل صحیح اڑا
21:58تو پہلے خود کہتا تھا ممکن نہیں ہے
22:05اب خود انسان نے کرگر دکھایا
22:07تو ابھی بھی سائنسی تحقیق
22:09پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے
22:11نقش قدم کو نہیں پہنچ سکی ہیں
22:12یہ سارا کا سارا سفر انسان کے لیے
22:15باقائدہ عظمتوں کا سفر ہے
22:17یعنی رسول اللہ کا یہ سفر
22:19انسانیت کی میراج بننے جا رہا ہے
22:22اور آج بھی اگر انسان
22:23رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سفر
22:25میراج کا حقیقی معنوں میں
22:27مشاہدہ کرے اس پر ریسرچ
22:30کرے سائنس تو آپ دیکھتے ہیں کہ
22:31آئنسٹائن کی جو تھیوری ہے ٹائم اور سپیس کی
22:33حوالے سے جو ریلیٹیوٹی کی تھیوری ہے
22:36اس سے حضور کے سفر میراج
22:37کو ثابت کیا جا سکتا ہے
22:39یعنی وہ کیا ویلوسٹی تھی جس کے ساتھ سرکار تشریف
22:41لے کے گئے تو قرآن مجید فرقانی میں
22:43بھی اللہ پاک نے فرمایا
22:44اگر تم زمین کے مدار سے
22:57زمین اور آسمان کے مدار سے باہر نکلنا
22:59چاہتے ہو تو نکل کے دکھاؤ
23:01لا تنفذونا پہلے فرما نہیں نکل سکتے
23:03پھر استثناء فرما
23:05اللہ بسلطان لیکن
23:07تمہیں طاقت چاہیے ہوگی سلطان
23:09چاہیے ہوگی اب وہ سلطان کو انرجی
23:11کی صورت میں لے سکتے ہیں پاور کی صورت میں
23:13لے سکتے ہیں کسی بھی صورت میں بیان کر سکتے ہیں
23:15سلطان کا ذکر ہے سلطان جس کے
23:17پاس ہوگی وہ باہر نکل جائے گا
23:19اور یہ سلطان اللہ نے اپنے حبید محمد مصطفیٰ
23:21صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی
23:23کہ وہ تشریف بھی لے گئے
23:25اور واپس بھی آئے
23:27ان کا جانا بھی کمال تھا اور آنا بھی
23:29کمال ہے اس سفر کے اندر
23:31یہاں کشش سقل کی کوئی حیثیت ہی نہیں
23:33کوئی حیثیت ہی نہیں
23:34اپنی مرضی سے گئے
23:36اور آخری بات اس میں یہ ہے کہ جتنی پابندیاں
23:40ہم سوچ رہے ہیں انسان کے لیے
23:42کہ یہ ممکنات میں سے نہیں ہے
23:43وہ انسان کے لیے ممکن نہیں ہو سکتا
23:45لیکن اللہ سبحانہ وتعالی نے
23:47سفر محراج کو جو بیان فرمایا ہے
23:49اس میں حضور جاندعالم صلی اللہ علیہ وسلم
23:52کہ اس سفر کوئی نہیں فرما خود گئے تھے
23:54اللہ نے فرما اللہ لے گیا تھا
23:56وہ خالقِ کائنات ہے
23:57وہ مالکِ کائنات ہے
23:59تمام طرح طاقتیں اس کے قبضے کے اندر ہیں
24:01تو ان تمام گریوٹیز اور کشش کو بنا سکتا ہے
24:04وہ اس کے قانون کو تبدیل بھی کر سکتا
24:06بلکل ٹھیک ہے
24:08اور یہاں قیاس آرائیوں سے نکل کر
24:12حقیقت کا ایک چہرہ یہ ہے
24:13کہ ستاروں پر ڈالتے ہیں جو کمن
24:15یہاں تک ہمارے فلوسفرز
24:17ہمارے بزرگوں نے
24:18یہ اقبال کے مصرے سے اختباس ہے
24:21یہاں تک اس کو یقین کر لیا
24:24ایک سرٹین سیچویشن ہے
24:25کہ ستارت
24:26پتہ نہیں کتنے اللہ کی کشائیں
24:28کتنے ستاریں
24:29اور کہاں تک انسان پہنچ پائے گا
24:31ہم نہیں جانتے
24:32ہم نہیں ہوں گے لیکن تحقیق رہے گی
24:34اور کہاں تک پہنچ پائے گا
24:36لیکن پہلے آسمان تک پہنچنا
24:38شاید اس کے لئے قیامت تک ممکن نہیں ہوگا
24:42اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
24:44صدرت المنتہار ہے گزر میں تیری
24:46قابہ قوسین گرد سفر میں تیری
24:48تو ہے حق کے قریم
24:49حق ہے تیرے قریم
24:51تجھ سا کوئی نہیں
24:52تجھ سا کوئی نہیں
24:54بریک کے بعد ہوتی ہے ملاقب
24:55خوش آمدید ناظرین خیر مقدم ہے
24:57آپ کا ایک مردبہ پھر
24:58مراج النوی صلی اللہ علیہ وسلم
24:59کے موضوع پر بات ہو رہی ہے
25:00علامہ لیاقت حسین عزری صاحب
25:01علامہ خورم اقبال رحمانی
25:03آج ہمارے مہمان ہیں
25:04اور دونوں نے بڑا کمال
25:06ماشاءاللہ
25:06پروگرام کا آغاز کیا
25:08اور
25:08ایزائی ایکسپیکٹڈ جیسا
25:10سوال تھا
25:11اس سے بہتر آپ نے جواب اتا فرمائے
25:13آپ میں
25:14مراج النوی صلی اللہ علیہ وسلم
25:15پر ملنے والے
25:16حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
25:17کو جو تحائف ہیں
25:18کہ
25:19فرق
25:20مطلوب و طالب میں دیکھے کوئی
25:21قصہ تور و میراج
25:23سمجھے کوئی
25:24کوئی بے ہوش
25:24جلووں میں گمے کوئی
25:26اس کی تفسیر تو حضرت نے
25:27بیان فرمائی پچھلے سوال کے جواب میں
25:29اور بریک سے قبل اللہ
25:30مقرب اقبال رحمانی صاحب نے بھی
25:32کمال کی گفتگو کی
25:33ابھی جو تحائف ملے
25:35مراج النوی پر
25:35دیکھیں وہ کہتے ہیں نا
25:37کہ محب اور محبوب کی باتیں
25:38اللہ اکبر
25:39اور پھر جو انامات
25:40اکرامات
25:41ہر آسمان کا انام
25:42ہر موقع کا انام
25:43ہر موقع پر تحفہ
25:44ارشاد فرمائیے گا
25:46دیکھیں ہم نے آغاز کے اندر
25:47ذکر کیا تھا
25:48کہ ثمت دنا فتد اللہ
25:50جب جلوہ قریب ہوا
25:51تو
25:52سب سے پہلے آقائدو جہاں
25:53صلی اللہ علیہ وسلم
25:53نے اللہ کی بارگاہ کے اندر
25:55ہدیات پیش کیے
25:56تحییات پیش کی
25:57اللہ اکبر
25:58خدای میری مالی
25:59بدنی
26:00ساری عبادتیں
26:00التحیات
26:01اللہ
26:02والسلوات
26:02والطیبات
26:03پھر وہاں سے آیا
26:05السلام علیک
26:06ایہاں نبی
26:07ورحمت اللہ
26:08برکاتہ
26:09حضور السلام کا کرم دیکھیں
26:11کہ وہاں بھی
26:12ہم گنہگاروں کو فرموش نہیں
26:13سلام علینا
26:14وعلا عباد
26:15اللہ
26:15صالح
26:16اللہ
26:16اپنی امت کو
26:18یہ حضور نے
26:19توفہ پیش کیا
26:20حدیث پاک کے اندر آتا
26:21نبی کریش سلام نے فرمایا
26:22کہ میں نے
26:23اپنے رب کو
26:24بہترین صورت کے اندر دیکھ
26:26رائیت ربی فی احسر صورت
26:28مشکات المشابی
26:28کے حدیث پاک
26:29فرمایا
26:30فَوَضَا يَدَاهُ عَلَا كَتَفَيَّ
26:33فَوَجَتُ بَرْدَهَا بَيْنَ سَدَيَيَّ
26:36فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ
26:38وَمَا فِي الْأَرْضِ
26:39اللہ
26:39اکبر
26:40فرمایا
26:40رب تعالیٰ نے
26:42اپنے یدے بلا
26:43اس کی کیفیت نہیں ہے
26:44میرے دونوں شانوں کے درمیان
26:46رکھ دیا
26:46میں نے اس کی
26:47ٹھنڈک کو
26:48اپنے دل میں
26:48اور سینے میں
26:49محسوس کیا
26:50وَجَتُ بَرْدَهَا بَيْنَ سَدَيَيَّ
26:53اس کا نتیجہ کیا نکلا
26:54فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ
26:55وَلَا تُو
26:56کچھ زمین و آسمان
26:58کا ہے
26:58سب کا علم دے کر
26:59اپنے معبوب کو بیجے
27:00سبحان اللہ
27:01سبحان اللہ
27:03علم قانو
27:03عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْتَ عَلَمْ
27:05وَقَانَ فَدُّ اللَّهِ عَلَيْكَ عَزِيمَ
27:07سبحان اللہ
27:08دوسرا توفہ
27:09اللہ تبارک و تعالیٰ نے
27:11بڑی خوبصورت
27:12سورہ بقرہ کی جو
27:13آخری دو آیاتیں
27:14تا یہ بات ہے
27:15اللہ
27:15حضور نے فرمایا
27:16کہ جو ان آیات کو پڑھتا ہے
27:18مَنْ قَرَا آیَتَيْنِ فِي لَيْلَةٍ
27:20كَفَتَاهُ
27:21فرما آمن الرسول
27:23سے لے کر
27:23آخر تک جو ان آیات کو پڑھتا ہے
27:25وہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے
27:26کوئی وظیفہ چھوٹ گیا ہے
27:28کسی اور اعتبار سے
27:29ہر اعتبار سے کافی
27:30دوسرا جو میراج کا
27:32سب سے بڑا توفہ
27:33امت کے لیے
27:33مشہور معروف حدیث پاک ہے
27:35کہ پچاس نمازوں کا
27:37توفہ عطا کیا گیا
27:38حضور تشریف لا رہے تھے
27:40راستے میں موسیٰ علیہ السلام ملے
27:41حضور کیا ملا پچاس نمازیں
27:43فرما نے حضور یہ تو بہت زیادہ ہیں
27:45میں نے بنی اسرائیل کو دیکھا ہے
27:47اشدہ معالجہ
27:48میرا بہت تجربہ ہے
27:49ہے جی جرب تو بنی اسرائیل
27:51اشدہ معالجہ بہت دیکھ
27:53کم کرائیے
27:54کم کے لیے تشریف لے گئے
27:55پھر آئے کم ہوتی رہے
27:56کم ہوتی رہے پانچ رہ گئی
27:58کہا حضور پھر جائیے
28:00اور جا کر اللہ تبارک و تعالی سے کم کرائیے
28:02حضور نے فرمایا
28:03مجھے حیاء آتی ہے
28:04کہ اب میں کم کراؤں جا کر
28:06پچاس نمازیں عطا کی گئی تھی
28:09اللہمہ صاحب پانچ رہ گئی
28:10شاہ صاحب
28:11حضور کیا فرما رہے ہیں
28:13کہ مجھے حیاء آتی ہے
28:14ہم کسی سے پوچھتے ہیں
28:15کہ بیٹا نوجوان سے پوچھتے ہیں
28:16بیٹا نماز پڑھتے ہو
28:17والہا مولانا صاحب
28:18اللہ مجھے معاف کرے
28:19میں جوٹ نہیں بولوں گا
28:20جوٹ نہیں بولوں گا
28:21لیکن کبھی دو پڑھ لیتا ہوں
28:22کبھی تین پڑھ لیتا ہوں
28:23یار حضور فرما رہے ہیں
28:24کہ مجھے پانچ سے کم کراتے ہوئے
28:26حیاء آ رہی ہے
28:26ہمیں نا پڑھتے ہوئے حیاء نہیں
28:27لیکن ہمیں ایک دو کہتے ہوئے
28:29حیاء نہیں آ رہی ہے
28:29ہمیں حیاء ہوئے
28:31الصلاة المعراج المؤمنین
28:34کوئی حد ہے ان کے عروج کی
28:36وہ کہاں پر پہنچے
28:37فرمایا
28:38اے بندے
28:38اگر تم معراج کی برکتیں لینا چاہتا ہے
28:41تو اقربو الاللہ
28:43وہو ساجد
28:44تو اپنی جبین نیاز کو
28:46زمین پر رکھے
28:47سبحانہ ربی اللہ کہے
28:48رب تبارک و تعالی
28:49تجھے بھی اقرب بنا دے گا
28:51عروج عطا فرمائے گا
28:53یہ ہے معراج
28:54کہ وہ تحائف
28:55جو اللہ تبارک و تعالی
28:57نے اپنے محبوب کو عطا فرمائے
28:59شورہ بقرہ کی آخری آیات
29:01تیبات
29:01علم کانا و ما یکون
29:03اور نماز کا تحفہ
29:04آواز آئی
29:05فرمایا پچاس ملی تھی
29:07پانچ رہ گئی
29:08فرمایا پانچ بھی
29:09ادا کریں گے
29:10پچاس کا عجر دیا جاتا
29:12اللہ
29:12اتنی بڑی بات
29:13اللہ تبدیل علی کریمات اللہ
29:15فرمایا ہمارے
29:16کریمات تبدیل نہیں ہوتے
29:17آپ پانچ ادا کرو
29:18رب تعالی پچاس کا عجر عطا فرمائے
29:20بھائی کیا علامہ صاحب
29:21کیا بات ہے
29:22بہت خوب ماشاءاللہ
29:23واقعہ مراج کا پیغام
29:25کیا ہے حضرت
29:25اور آج
29:26ظاہر ہے
29:27ہم تو ہر سال
29:28ایک ریکال کرتے ہیں
29:29اور اس دفعہ تو ہم کوئی گفتگو
29:31ایسی نہیں کر رہے
29:31کہ جی ہر سال کی طرح
29:32اس سال بھی
29:33ہم نے اسی لئے
29:34آپ سے مختلف بات کی
29:35مختلف آپ نے جوابات دیا
29:36تو کوئی مختلف سا پیغام
29:38واقع ہے مراج
29:38آج کا ینگ سٹر
29:40بڑی تیز دنیا
29:41حضرت تیز ترین
29:42جو ہے نا
29:43سوائپ کر رہا ہے
29:44پانچ پانچ سیکنڈ میں
29:45ٹائم ہی نہیں ہے اس کے پاس
29:46واقعہ مراج کو پیشے نظر رکھتے
29:48وہ ایسا پیغام دیں
29:59بحیثیت مسلمان
30:00یا بحیثیت امتی
30:01حضور جاندعالم صلی اللہ علیہ وسلم
30:05کی عظمتوں کا یہ باب
30:06ہمیں حضور کے مزید قریب کرتا ہے
30:08انسان کے ایک نفسیات ہے
30:10کہ وہ اپنے آئیڈیل
30:11یا اپنے رول موڈل کو
30:12یا اپنے قائد کے اندر
30:13بہت ساری خصوصیات دیکھنا چاہتا ہے
30:15اور جتنا اس کی خصوصیات بیان ہوتی ہیں
30:18یا اس کی عظمتیں بیان ہوتی ہیں
30:19اتنا ہی وہ سیادہ کنیکٹڈ ہو جاتا ہے
30:29بہت عظیم الشان ایک ایسا واقعہ
30:31جو صفح انبیاء میں جیسے ہم کہتے ہیں
30:33کہ اس طرح جسمانی میراج کسی اور نیوی علیہ السلام
30:35کو بھی اللہ نے عطا نہیں فرمائی
30:38دوسرا ہمیں پتا چلتا ہے
30:40کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
30:41نے اس سفر میراج کے اندر جو حضور کی حقیقتیں ہیں
30:44خود حضور کی عظمتیں ہیں
30:46وہ امت کے سامنے نکل کر آتی ہیں
30:48حضور کا عالم بشریت کی طرف جانا
30:51اور پھر عالم بشریت کی طرف آنا
30:52پھر عالم ملکوت کی طرف جانا
30:54اس میں حضور علیہ السلام کا مشاہدہ کرنا
30:57اور مشاہدہ بیسے کہ خود قرآن میں فرما ہے
30:59کہ ما قذب الفؤاد مارعا
31:01یعنی جو آنکھیں دیکھ رہی تھے
31:03دل تصدیق بھی کر رہا تھا
31:04کہ آپ جو دیکھ رہے ہیں حق اور سچ یہی ہے
31:05ایسے نہیں کہ کچھ خواب و خیال چل رہا ہے
31:08ایک طرف تو کنیکٹیوٹی ہے
31:10یعنی حضور کے ساتھ تعلق ہے امتی کا
31:12اور امتیوں کا حضور کے ساتھ
31:14محبت کا تعلق مزید مضبوط ہوتا ہے
31:16پھر جب حضور کی عظمتوں کا بیان ہوتا ہے
31:18تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے
31:20جو دل میں عظمت ہے وہ مزید بڑھتی چلی جاتی ہے
31:23پھر اس سفرِ میراج میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
31:26نے جو جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کیا
31:28حادیث اس کی بڑی تفصیل ملتی ہے
31:30کہ اہلِ جنت میں جو انعامات ہیں
31:33وہ کن کن وجوہات کی بنا پر ہیں
31:35ہمیں وہ پڑھنا چاہیے
31:36تاکہ ہم وہ اختیار کریں
31:38اور اہلِ دوزخ پر جو عذابات ہیں
31:40وہ کس کس وجہ سے ہیں
31:42وہ ہمارے لیے بیان ہوئے
31:43کہ ہم ان تمام خرابیوں سے
31:44اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں
31:46اس سفرِ میراج کی بیان کے اندر
31:48ہمیں اس پر بھی نگاہ رکھنی چاہیے
31:49تاکہ اپنے احوال کی اور عمال کی
31:51اصلاح ہوتی رہے
31:52پھر اس سفرِ میراج میں
31:54عقائد کے حوالے سے بہت ساری باتیں ہیں
31:56جو ہمارے عقیدوں کو
31:57نہ صرف ستھرا کرتی ہیں
31:59بلکہ مضبوط دلائل کے ساتھ
32:00معیت کرتی ہیں
32:01ان کی طرف نگاہ کرنی چاہیے
32:03جس میں حضور کے علم کی طرف اشارہ ہے
32:05انبیاء کی حیات کی طرف اشارہ ہے
32:08پھر حضور جاند عالم صلی اللہ علیہ وسلم
32:09کا تمام انبیاء سے
32:10بلکہ تمام مخلوقات سے
32:12افضل ہونا ہے
32:13اللہ سبحانہ وتعالی کا دیدار کرنا ہے
32:15اور آخری بات میں یہ سمجھتا ہوں
32:17اس کے اندر
32:18کہ ہمیں سفر میراج کے اندر
32:20اسپیشلی جو مستند
32:22ریسورسز ہیں
32:23اس سے سفر میراج کو پڑھنا اور سننا چاہیے
32:26بلکل صحیح
32:27حضور علیہ السلام کی عظمتوں کو بیان کرنے کے لیے
32:29ہمیں کسی ایسے منگھڑت قصے کی ضرورت نہیں ہے
32:32جس سے ہم سمجھے کہ حضور کی عظمت بیان ہوگی
32:34بلکہ خود معاد اللہ
32:35حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر
32:36وہ تحمت ہوگی
32:37اور حضور نے اس کو پسند نہیں فرمایا
32:38قرآن و سنت میں اتنی مستند باتیں موجود ہیں
32:41سرکار کی عظمتوں کے بیان کے لیے
32:43کہ ہمیں کسی منگھڑت قصے کی
32:44کسی موضوع روایت کی میں ضرورت ہی نہیں ہے
32:47الحمد
32:48اور ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے
32:50کہ اس پرفتن زمانے میں
32:52ہم سرکار علیہ السلام کی سفر میراج کو
32:54مستند ترین ذرائع کے ساتھ ہی بیان کریں
32:57تاکہ ایمان والے سنیں
32:59سمجھیں
33:00اور اس کی برکات حاصل کر سکیں
33:01پھر اس شبہ میراج
33:03جو خاص طور پر ہمارے لیے آنے والی ہے
33:05اس شبہ میراج میں عبادت کا خاص طور پر
33:07احتمام کرنے کی کوشش کی دیئے
33:09کیونکہ یہ رات
33:10جو نماز ملنے کی رات
33:12اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حبیب کی رب سے ملاقات کی رات
33:16اور جس طرح اللہ کے حبیب نے
33:18اپنی تمام تر نیاز مندی
33:20اپنے رب کی بارگاہ میں پیش کی ہے
33:21تو امتیوں کو بھی چاہیے
33:23کہ اپنی تمام تر نیاز مندی
33:24اپنے رب کی بارگاہ میں پیش کریں
33:26جیسے سرکار کی
33:27شبہ میراج ہمیں تازہ کرنی چاہیے
33:32پروردگار
33:33میرا جینہ میرا مرنہ
33:40میری نماز میرے روزے
33:42سب کچھ پروردگار
33:43تیرے ہی لیے ہے
33:44تو عام راتوں میں تو زیادہ سی باتیں
33:46مشغولیت مصروفیت کاموں کے ویسے
33:48ہم عبادت پینا نہیں کر باتے
33:49تو شبہ میراج اگر کوشش کریں
33:51ذکر و اسکار میں
33:52عبادات میں
33:53نوافل میں
33:54رب کو منانے میں
33:55مناجات میں اگر ہم گزاریں
33:56تو یقین ان شبہ میراج
33:58جو سرکار پہ فضل ہوا
33:59جو انام و اکرام ہوا
34:01یقین ان امت کا بھی
34:02اس میں حصہ شامل ہے
34:03کیونکہ سرکار تو
34:04کہیں بولے ہی نہیں ہمیں
34:05آج کی رات
34:06حضور کی اس میراج
34:07کو یاد کرنے کے ساتھ
34:08اپنی بخشش و مغفرت
34:10کی پروانے حاصل کرنے کی بھی رات ہے
34:11کیا اچھی بات
34:12اللہ حضور مقبال رحمانی صاحب
34:14اللہ حضور مقبال رحمانی صاحب
34:14اللہ حضور مقبال رحمانی صاحب
34:16آپ دونوں حضورات
34:17کا بہت بہت شکریہ
34:17آپ آج تشریف لائے
34:18اور واقعہ میراج پر
34:20سہر حاصل کلام ہوا
34:21میرے پیارے دوستوں
34:22عزیزوں
34:23بھائیوں اور بہنوں
34:24ایک بات سمجھنے کی ہے
34:26کہ جن علیاء اکرام
34:27کے ہم ماننے والے ہیں
34:28جن کے نام
34:28اور جن کے کام
34:30کو ہم یاد کر کے
34:31اکثر یہ بھی ہوتا ہے
34:32کہ جی
34:32فلاں بزرگ کی یاد میں
34:34جو ہے
34:34ہم نے لوگ کو کھانا کھلایا
34:35فلاں بزرگ کی اس ادا کو
34:37پیش نظر رکھتے ہو
34:38اچھا زندگی کا حاصل بھی اسی میں
34:40کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں
34:41میں ابھی بزرگوں کی بات کروں
34:43یہ وہ لوگ ہیں
34:44جنہوں نے زندگی کو
34:45سمجھ لیا
34:46مقصد کو سمجھ لیا
34:47اویل کر لیا
34:47حاصل کر لیا
34:48وہ حاصل کر چکے تھے
34:50تو اب ہم
34:51برکتوں کو حاصل کرنے کے لئے
34:52ان کے نام اور ان کے کام کی
34:53نقل دھوراتے ہیں
34:55کیوں کہہ لیجئے
34:56کیونکہ وہ تو مخلص في اللہ لوگ تھے
34:58تو اسی طرح
34:58عبدالقادر جیلانی کی بات
35:00اور مہین الدین کی بات
35:01چشتی کی بات
35:02اور رحمت اللہ تعالی
35:02ان پر جب رب کا فضل ہوا
35:04جس دن ہوا
35:05جس انداز سے ہوا
35:06اس دن کو انہوں نے یاد رکھا
35:08اور اس کے بدلے
35:09اللہ کے حضور سرو سجود ہوئے
35:11لوگوں کو کھانا کھلایا
35:13طعام کا انتظام
35:14ہر وہ کام کیا
35:15جس سے رب کی رضا حاصل
35:17جس سے رب راضی ہوتا ہو
35:18رب کے حضور سرو سجود ہونا
35:20رب کی مخلوق پر شفقت کرنا
35:22اتی اللہ
35:23اور واتی الرسول
35:24پھر وہ
35:25اقیم الصلاة
35:26و آت الزکا
35:27یعنی کہ
35:27ہم نے اس کونسپٹ کو سمجھنا ہے
35:29کہ جو ہمارے کامیاب ترین لوگوں نے سمجھ لیا تھا
35:33یعنی جس رات فضل ہوا
35:34جس دن فضل ہوا
35:35جس دن کوئی نیکی ملی
35:36جس دن اللہ کی طرف سے کوئی
35:38ان پر احسان ہوا
35:39انہوں نے اس دن کا شکر بجال آیا
35:41تو یہ دن
35:42رب کے حضور شکر بجال آنے کا دن
35:45یہ شب رب کے حضور شکر بجال آنے کی شب ہے
35:47کہ اس دن اللہ نے ہم پہ وہ احسان فرمایا
35:50وہ احسان عظیم فرمایا
35:51کہ ہمارے آقا و مولا
35:53حضور پرنور سید العالمین
35:55محمد رسول اللہ
35:56صل اللہ علیہ وسلم کو
35:57میراج کے سفر پر بھلایا
35:59اور اس میراج کے سفر میں بھلایا
36:01وہ مقصد
36:02تو یہ محب اور محبوب کا وصل تھا
36:05اولین
36:06لیکن اس کے بعد جو
36:07جسے کہتے ہیں نا
36:08کہ ترجیحی بنیادوں پر
36:09سیکنڈ پریارٹی
36:10ترڈ پریارٹی
36:10اس میں ہر جگہ آپ کو
36:12آپ اور میں نظر آئیں گے
36:13کیونکہ
36:14جو نہ بھلا ہم غریبوں کو رضا
36:16یاد اس کی اپنی عادت کیجئے
36:17ہر آسمان پہ
36:19جہاں حضور نے تکلیف دیکھی
36:21جہاں حضور نے عذاب دیکھا
36:22جہاں حضور نے
36:23اللہ کی نرازگی دیکھی
36:25وہاں اپنی امت کے لئے
36:26دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے
36:27کہ یا اللہ میری امت کو
36:29اس عذیت سے بچانا
36:30یا اللہ میری امت کو
36:31اس تکلیف سے بچانا
36:32یا اللہ میری امت کو
36:33اس عیضہ سے بچا لینا
36:35تو جس نبی نے
36:36مراج النبی پہ
36:37ہمیں یاد رکھا
36:38ہم مراج النبی کی شب
36:39اس نبی کو یاد نہ رکھیں
36:41اور عام شب
36:43عام راتوں کی طرح
36:44اسے فضولیات میں گزار دیں
36:46تو سوچیں
36:46کہ ہم کتنے بدنصیب ہیں
36:48آئیں خوش نصیب
36:49لوگوں میں شمار کریں
36:50اس رات
36:51اللہ کے حضور سروس وجود ہو
36:53کہ شکر بجاہ لائیں گے
36:54اور حضور کی بارگاہ میں
36:55خوب درود و سلام کے
36:56تحفے پیش کریں گے
36:58انشاءاللہ
36:58میری بھی گزارش ہے
36:59اے آر وئی کیو ٹی وی
37:00انشاءاللہ براہ راست
37:02شب مراج پر ایک
37:03روحانی نورانی
37:04وجدانی
37:05محفل کا
37:06انتظام کر رہا ہے
37:07تو اس محفل میں
37:08انشاءاللہ فقیر کی بھی
37:09حاضری ہوگی
37:09وقت کے مقتدر علماء
37:11اور سناخان حضرات
37:12موجود رہیں گے
37:13مشایخ موجود رہیں گے
37:14آپ سب سے گزارش ہے
37:15کہ مراج النبی کی رات
37:17اے آر وئی کیو ٹی وی
37:18سے جڑے رہیے گا
37:18تاکہ ہم اللہ اور
37:19اس کے رسول سے جڑے رہیں
37:20اجازت دیجئے
37:21السلام علیکم
37:22ورحمت اللہ وبرکاتہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended