- 1 week ago
- #jannat
- #janwar
- #motivational
- #islam
- #story
10 Janwar Jo Jannat Main Jain Gay
Voiced By Qadir Kalhoro
#jannat #janwar #motivational #islam #story
Voiced By Qadir Kalhoro
#jannat #janwar #motivational #islam #story
Category
📚
LearningTranscript
00:00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:00:01السلام علیکم
00:00:03معزز خواتین و حضرات
00:00:04عربوں کھربوں درود و السلام خاتم النبیین
00:00:07سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ
00:00:10احمد مجتبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
00:00:13ان کی اولاد ان کی آل پر
00:00:15اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے آپ کی
00:00:17میری ساری امت کے مسلمانوں کی
00:00:20آمین
00:00:21معزز خواتین و حضرات
00:00:22جنت ایک مکان ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے بنایا ہے
00:00:27اس میں وہ نعمت مہیا کی ہیں
00:00:29جن کو نہ آنکھوں نے کبھی دیکھا
00:00:31نہ کبھی کانوں نے سنا ہے
00:00:33نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا ہے
00:00:37جو کوئی مثال اس کی تعریف میں دی جائے
00:00:39سمجھانے کے لئے ہے
00:00:41ورنہ دنیا کی عالی سے عالی شئے کو
00:00:44جنت کی کسی بھی شئے کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں
00:00:47عربی میں جنت ایسے گھنے باغ کو کہتے ہیں
00:00:51جس میں درختوں کی وجہ سے زمین چھپی ہوئی ہو
00:00:54مسلمانوں کو بروز قیامت ملنے والے گھر کو
00:00:57جنت کہنے کی مختلف وجوہات ہیں
00:00:59نمبر ایک جنت میں باغات ہیں
00:01:02نمبر دو وہ دنیا کی نگاہوں سے چھپی ہوئی ہیں
00:01:05نمبر تین عالم غیب سے ہے
00:01:08یوں تو اللہ تعالی نے جنت انسانوں
00:01:10اور بالخصوص مسلمانوں کے لئے بنائی ہے
00:01:13لیکن بعض روایات کے مطابق تاریخ میں
00:01:16کچھ ایسے جانور بھی گزرے ہیں
00:01:17جو کہ اللہ رب العزت کے مقرب بندوں کی نسبت سے
00:01:21جنت میں داخلوں کے
00:01:23ناظرین اقرامی آج کی اس ویڈیو میں
00:01:25ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں
00:01:27کہ وہ دس جانور کون سے ہیں
00:01:29جو کہ جنت میں داخلوں کے
00:01:31کن کن امبیاء قرام سے
00:01:32ان جانوروں کو کس وجہ سے نسبت ہے
00:01:35اس ویڈیو میں آپ کو تفصیل سے
00:01:37ہم بتانے جا رہے ہیں
00:01:38لہٰذا آپ سے بس گزارش اتنی ہے
00:01:40کہ اس ویڈیو کے ساتھ آخر تک جڑے رہیے گا
00:01:43اسکپ مت کیچے گا
00:01:45تو ناظرین آغاز کرتے ہیں
00:01:46آج کی ویڈیو کا
00:01:48اور آپ کو بتاتے ہیں
00:01:49اس پہلے جانور کا نام
00:01:51کہ وہ پہلا جانور کون سا ہے
00:01:53جو جنت میں جائے گا
00:01:54ناظرین اگرامی
00:01:56وہ آقا دو جہاں
00:01:57صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی ہے
00:02:00رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کا نام قسوہ تھا
00:02:04قسوہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں
00:02:06جو مالک کے نزدیک انتہائی محبوب ہو
00:02:09اور اس محبت کی وجہ سے
00:02:11اس کا مالک
00:02:12اسے کام اور بوجھ ڈھونے سے
00:02:14آزاد کر دے
00:02:16اور دوسری اونٹنیوں کی طرح
00:02:17اسے چرنے کے لیے
00:02:18چراغاہ نہ بھیجے
00:02:20قسوہ اس اونٹنی کو بھی کہتے ہیں
00:02:22جس کے کان یا ناک یا ہونٹ کا کوئی حصہ کٹا ہوا ہو
00:02:27مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسوہ اونٹنی
00:02:31اس طرح کے کسی عیب سے پاک تھی
00:02:33قسوہ نامی مبارک اونٹنی
00:02:35رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت محبوب تھی
00:02:39اس محبت کی وجہ یہ تھی
00:02:41کہ قسوہ اونٹنی نہایت فرما بردار اور شریف التباہ تھی
00:02:45اسلامی تاریخ میں قسوہ اونٹنی کا بڑا مقام ہے
00:02:49قسوہ قبلہ بنے قشیر کی چراغاہوں میں پیدا ہوئی
00:02:53اس کی رنگت سرخی مائل تھی
00:02:55جب قسوہ چار سال کی ہوئی
00:02:57تو حضرت ابو بکر صدیق نے
00:02:59اسے بنے قشیر سے آٹھ سو درہم کے عوض خرید لیا
00:03:03سیرت کی کتابوں میں ہے
00:03:04کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
00:03:07صحابہ اکرام کو مدینہ منورہ حجرت کی اجازت دی
00:03:11تو اکثر صحابہ قرآن رضوان اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
00:03:18حضرت ابو بکر صدیق کو حجرت سے یہ کہہ کر روکے رکھا
00:03:22کہ شاید اللہ تعالی آپ کے لیے کسی ساتھی کا انتظام فرما دے
00:03:27یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہو نے
00:03:30حجرت کی تیاری شروع کر دی
00:03:32اور بنی قشیر سے دو تیز رفتار اور طاقتور اونٹنیاں خرید لیں
00:03:37ان دو اونٹنیوں میں سے ایک قسوہ تھی
00:03:40بخاری میں ہے کہ حجرت کے وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:03:44اور حضرت ابو بکر نے غار میں پناہ لی
00:03:48تین دن کے بعد جب روانگی کا وقت آیا
00:03:51تو صدیق اکبر نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کے لیے
00:03:56اونٹنی پیش کرتے ہوئے فرمایا
00:03:58یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:04:01آپ پر میرے ماں باپ قربان
00:04:03آپ ان دو اونٹنیوں میں سے کوئی ایک پسند فرما لیں
00:04:06آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
00:04:09ہاں مگر میں اس کی قیمت ادا کروں گا
00:04:12صدیق اکبر نے جو اونٹنی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فروخت کی
00:04:18اس کا نام قسوہ رکھا گیا
00:04:20آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی قیمت ادا کی
00:04:23پھر اس پر سوار ہو کر مدینہ منورہ روانہ ہوئے
00:04:27ناظرین علماء اکرام رحمت اللہ علیہ کا کہنا ہے
00:04:30کہ سفر حجرت میں حضرت ابو بکر سے اونٹنی خریدنے میں حکمت یہ تھی
00:04:35کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے
00:04:38کہ اس مبارک اور تاریخی سفر حجرت میں
00:04:41آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی جان و مال سے حجرت فرمائیں
00:04:46قسوہ کو یہ شرف حاصل ہوا
00:04:48کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر سوار ہو کر
00:04:52مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کا وہ عظیم سفر کیا
00:04:57جسے اسلامی تاریخ میں حجرت کہا جاتا ہے
00:05:00اس سفر کے بعد قسوہ اونٹنی کو شرف و رفعت کی کئی منزلیں ملیں
00:05:05مدینہ منورہ پہنچ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبہ میں قیام فرمایا
00:05:10پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کا رخ کیا
00:05:15جہاں پہنچنے پر مدینہ منورہ کی بچوں نے دف بجا کر
00:05:19آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کیا
00:05:23اس مبارک سفر میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسوہ اونٹنی پر سوار تھے
00:05:29مولانا صفی رحمان مبارک پوری لکھتے ہیں
00:05:32کہ انسار اگرچہ دولت من نہ تھے
00:05:34لیکن ہر ایک کی یہی عارضو تھی
00:05:37کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں قیام فرمائیں
00:05:42چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسار کے جس مکان یا جس محلے سے گزرتے
00:05:48وہاں کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی اونٹنی یعنی قسوہ کی نکل پکڑ لیتے
00:05:55اور عرض کرتے کہ تعداد و سامان اور ہتھیار و حفاظت فرش راہ ہیں
00:06:00تشریف لائیے
00:06:02مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے
00:06:05کہ اونٹنی کی راہ چھوڑ دو یہ اللہ کی طرف سے معامور ہے
00:06:09مطلب یہ کہ قسوہ اونٹنی توفیق الہی سے چل رہی ہے
00:06:13اس کی راہ چھوڑ دو اسے جہاں حکم ہوگا وہیں بیٹھ جائے گی
00:06:18نیز اونٹنی کے بیٹھنے کے مقام پر ہی مسجد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعمیر ہوگی
00:06:24اور وہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام فرمائیں گے
00:06:29یہ سن کر سب قسوہ کی راہ سے ہٹ گئے
00:06:32اور حیرت و استعجاب سے اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لیتے رہے
00:06:38قسوہ چلتی رہی یہاں تک کہ اس مقام پر پہنچ کر بیٹھی
00:06:42جہاں آج مسجد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے
00:06:47لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے نہیں اترے
00:06:51قسوہ دوبارہ اٹھی تھوڑی دور گئی
00:06:53مڑ کر دیکھنے کے بعد دوبارہ اسی مقام پر آ کر بیٹھ گئی
00:06:58اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے تشریف لائے
00:07:02یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ننحال والوں
00:07:06یعنی بنی نجار کا محلہ تھا
00:07:08اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو ننحال میں قیام فرما کر
00:07:11رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت افضائی کرنا چاہتا تھا
00:07:17اب بنو نجار کے لوگوں نے میزبانی کا شرف حاصل کرنے کے لیے
00:07:21آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا
00:07:25مگر حضرت ابو عیوب انساری رضی اللہ تعالی عنہ نے لپک کر
00:07:30قسوہ سے کجاوہ اٹھا لیا اور اپنے گھر لے گئے
00:07:33اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
00:07:37آدمی اپنے کجاوے کے ساتھ ہے
00:07:39چنانچہ حضرت ابو عیوب انساری رضی اللہ تعالی عنہ کو
00:07:43رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا
00:07:48ادھر حضرت سعد بن زرارہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آ کر قسوہ کی نکیل پکڑ لی
00:07:54چنانچہ اس مدت کے دوران قسوہ ان کے پاس رہی
00:07:57اللہ تعالی نے قسوہ کو وہ طاقت و قوت عطا کی
00:08:01کہ وہ وحی کے بار کو برداشت کر سکے
00:08:04علماء قرآن کہتے ہیں کہ یہ واحد سواری تھی
00:08:07جو وحی کا بار برداشت کر سکتی تھی
00:08:10آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوتے
00:08:13اور اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کا نزول ہوتا تھا
00:08:18وحی کے نزول کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم اتحر
00:08:23اپنے وزن سے کئی گناہ بھاری ہو جاتا تھا
00:08:26یہاں تک کہ اس کی تاثیر ارد گرد کی چیزوں پر بھی ہوتی تھی
00:08:30حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:08:35اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے
00:08:37اور اچانک وحی کا نزول ہوتا
00:08:39وحی کا اتنا بوجھ ہوتا تھا
00:08:41کہ ہمیں ایسا معلوم ہوتا
00:08:43گویا قسوہ کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی
00:08:46وحی کے بوجھ کا اندازہ لگانے کے لیے
00:08:48ایک اور روایت پیش خدمت ہے
00:08:50ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:08:53زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہو کیران پر
00:08:56سر مبارک رکھ کر آرام فرما رہے تھے
00:08:59کہ اچانک وحی کا نزول شروع ہو گیا
00:09:02سیدنا زید کہتے ہیں
00:09:04کہ اللہ کی قسم قرآن کے بوجھ سے قریب تھا
00:09:07کہ میری ہڈی ٹوٹ جاتی
00:09:09میں سمجھا کہ آج کے بعد
00:09:11میں اپنے پیروں پر نہیں چل سکوں گا
00:09:13قسوہ کو یہ شرف حاصل ہے
00:09:16کہ اسے پانچ اہم مواقع میں شرکت نصیب ہوئی
00:09:19رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:09:22غزوہ بدر کے لیے
00:09:23اس پر سوار ہو کر تشریف لے گئے
00:09:25سلحِ حدیبیہ
00:09:27عمرہ قضا
00:09:28فتح مکہ
00:09:29اور حجت الودا کے سفر میں بھی قسوہ شرک تھی
00:09:32فتح مکہ کی موقع پر
00:09:34رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:09:36مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے
00:09:39کہ توازہ و انکساری سے
00:09:41آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:09:43کا سر جھکا ہوا تھا
00:09:44روایات میں ہے کہ
00:09:46رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:09:48نے اس قدر سر جھکا لیا
00:09:50کہ سرِ اقدس قسوہ کے
00:09:51کوہان سے لگ رہا تھا
00:09:53جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:09:56مسجد الحرام میں فاتح بن کر داخل ہوئے
00:09:59تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:10:02قسوہ پر سوار تھے
00:10:03اس وقت بیت اللہ کے گرد
00:10:05تین سو چالیس بطھ تھے
00:10:07آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:10:09کے ہاتھ میں کمان تھی
00:10:11آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:10:13کمان سے بطوں کو مارتے
00:10:15اور فرماتے حق آ گیا
00:10:17باطل مٹ گیا
00:10:18باطل جانے والی چیز ہے
00:10:20آپ کی ٹھوکر سے بط اوندھے موں گر پڑتے
00:10:23آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:10:26نے قسوہ پر سوار ہو کر
00:10:27بیت اللہ کا توا فرمایا
00:10:29آپ جب کسی صحابی کو
00:10:31کسی اہم مہم کے لیے
00:10:33اپنا سفیر بنا کر روانہ کرتے
00:10:35تو اسے قسوہ پر بھیجتے تھے
00:10:37ذلقاد نوہ ہجری کو
00:10:39نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:10:41نے حضرت ابو بکر صدیق
00:10:43کو امیر الحج بنا کر
00:10:45مکہ مکرمہ روانہ کیا
00:10:46قافلے کی روانگی کے بعد
00:10:48سورہ توبہ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں
00:10:51جن میں مشرقین سے کیے گئے
00:10:53اہد و پیمان کو برابری کی
00:10:55بنیان پر ختم کرنے کا حکم
00:10:57دیا گیا تھا
00:10:58اس حکم کے آ جانے کے بعد
00:11:00رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:11:02نے حضرت علی علیہ السلام
00:11:04کو روانہ فرمایا
00:11:05تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:11:08کی جانب سے
00:11:09اعلان کر دیں
00:11:10خون اور مال کے اہد و پیمان میں
00:11:13عربوں کا دستور تھا
00:11:14کہ آدمی یا تو خود اعلان کرے
00:11:16یا اپنے خاندان کے کسی فرد سے
00:11:19اعلان کروائے
00:11:20خاندان سے باہر کسی آدمی کا
00:11:22کیا ہوا اعلان تسلیم نہیں کیا جاتا تھا
00:11:25آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:11:28نے مولا علیہ السلام کو
00:11:29قسوہ پر سوار کیا
00:11:31اور مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا
00:11:34ایک روایت میں ہے
00:11:35کہ مولا علیہ السلام
00:11:36قسوہ پر سوار ہو کر
00:11:38جب حضرت ابو بکر صدیق
00:11:40رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچے
00:11:42تو نماز کا وقت ہو گیا تھا
00:11:44تکبیر کہی گئی تھی
00:11:45اور حضرت ابو بکر
00:11:47جماعت کی امامت کرنے کے لئے
00:11:49آگے بڑھے ہی تھے
00:11:50کہ قسوہ کی آواز سنائی دی
00:11:52حضرت ابو بکر جو تکبیر
00:11:54کہنے والے تھے
00:11:55رک گئے اور فرمایا
00:11:57یہ قسوہ کی آواز ہے
00:11:58شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:12:01خود تشریف لائے ہیں
00:12:03جب قسوہ قریب آئی
00:12:04تو اس پر سوار بھی نظر آ جاتے ہیں
00:12:07دوسری روایت کے مطابق
00:12:08حضرت علی علیہ السلام کی
00:12:10حضرت ابو بکر سے ملاقات
00:12:12عرج یا وادی زجنان میں ہوئی
00:12:15حضرت ابو بکر نے
00:12:16سیدنا علی المرتضی شیر خدا کو
00:12:19قسوہ پر سوار دیکھا
00:12:20تو دریافت کیا
00:12:21امیر ہو یا معمور
00:12:23حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا
00:12:25معمور
00:12:26پھر دونوں آگے بڑھے
00:12:28حضرت ابو بکر نے
00:12:29امیر الحج کے حیثیت سے
00:12:31لوگوں کو حج کر آیا
00:12:32دسویں تاریخ
00:12:33یعنی قربانی کے دن
00:12:35حضرت علی علیہ السلام نے
00:12:37قسوہ پر سوار ہو کر
00:12:38جمرہ کے پاس
00:12:39لوگوں میں وہ اعلان کیا
00:12:41جس کا حکم
00:12:42رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:12:45نے انہیں دیا تھا
00:12:46تمام اہد والوں کا اہد ختم کر دیا
00:12:49اور انہیں چار مہینے کی محلت دی
00:12:52جن کے ساتھ اہد و پیمان نہیں تھا
00:12:54انہیں بھی چار مہینے کی محلت دی
00:12:56جن مشرقین نے
00:12:57مسلمانوں سے اہد نبھانے میں
00:12:59کوتا ہی نہیں کی
00:13:00نہ مسلمانوں کے خلاف
00:13:02کسی کی مدد کی
00:13:03تو ان کا اہد
00:13:04ان کی تیہ کردہ
00:13:06مدت تک برقرار رکھا
00:13:08حضرت ابو بکر صدیق
00:13:09رضی اللہ تعالی عنہو نے
00:13:11صحابہ کی ایک جماعت بھیج کر
00:13:13یہ اعلان عام کروایا
00:13:14کہ آئندہ کوئی مشرق حج نہیں کر سکتا
00:13:17نہ کوئی بے لباس ہو کر
00:13:19بیت اللہ کا تواف کر سکتا ہے
00:13:21یہ اعلان گویا جزیرہ عرب سے
00:13:24بدھ پرستی کے خاتمے کا اعلان تھا
00:13:27مختلف مہمات کے علاوہ
00:13:29سفر و حضر کے دوران بھی
00:13:30اکثر و بیشتر صحابہ قرام
00:13:32رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
00:13:36قسوہ پر سوار ہوئے
00:13:37حجت الودا کا سفر بھی
00:13:39آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسوہ پر کیا
00:13:43روایات میں آتا ہے کہ نوز الحجہ کو
00:13:46آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر
00:13:49قسوہ پر کجاوہ قسا گیا
00:13:51اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:13:53بطن وادی میں تشریف لے گئے
00:13:55جہاں ایک لاکھ چوبیس ہزار
00:13:58یا ایک لاکھ چوالیس ہزار
00:14:00صحابہ قرام کا مجموع تھا
00:14:02آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
00:14:05وہاں ایک جامع خطبہ دیا
00:14:06یہ خطبہ حجت الودا کے نام سے معروف ہے
00:14:10یہ مساوات انسانیت اور ذاتفات کے خاتمے
00:14:13کا اولین چارٹر ہے
00:14:15قسوہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے
00:14:17کہ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:14:21نے اس کی پیٹ پر بیٹھ کر
00:14:23یہ جامع خطبہ ارشاد فرمایا
00:14:26لوگو میری بات سنو
00:14:28میں نہیں جانتا
00:14:29کہ شاید اس سال کے بعد
00:14:31اس مقام پر میں تم سے کبھی مل سکوں
00:14:34تمہارا خون اور تمہارا مال
00:14:35ایک دوسرے پر اسی طرح سے حرام ہے
00:14:38جس طرح تمہارے آج کے دن کی
00:14:40روا مہینے کی
00:14:42اور اس شہر کی حرمت ہے
00:14:43سن لو جاہلیت کی ہر چیز
00:14:46میرے پاؤں تلے روند دی گئی ہے
00:14:48عورتوں کے بارے میں
00:14:49اللہ سے ڈرو
00:14:50کیونکہ تم نے انہیں
00:14:51اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے
00:14:54اور اللہ کے کلمے کے ذریعے حلال کیا ہے
00:14:57میں تم میں ایسی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں
00:14:59کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑ رکھا
00:15:02تو تم اس کے بعد گمراہ نہ ہوکے
00:15:04وہ ہے اللہ کی کتاب
00:15:06اور میرے اہل بیت
00:15:08تم سے میرے بارے میں پوچھا جانے والا ہے
00:15:11تم لوگ کیا کہو گے
00:15:12صحابہ قرآن نے کہا
00:15:14کہ ہم شہادت دیتے ہیں
00:15:15کہ آپ نے تبلیغ کر دی
00:15:17پیغام پہنچا دیا
00:15:19اور خیر خواہی کا حق ادا فرما دیا
00:15:22یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:15:25نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا
00:15:28اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے
00:15:31تین مرتبہ فرمایا
00:15:32اے اللہ گوار
00:15:34واضح رہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:15:38کے تمام خطبات میں
00:15:39یہ خطبہ جو حجت الودا کے موقع پر
00:15:42ارشاد فرمایا گیا
00:15:43آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:15:46کا طویل ترین خطبہ ہے
00:15:48مولانا صفی رحمان مبارک پوری لکھتے ہیں
00:15:51کہ خطبہ ارشاد فرمانے
00:15:53اور زہر و عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد
00:15:56آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:15:58جائے وقوف پر تشریف لے گئے
00:16:01قسوہ کا شکم چٹانوں کی جانب کیا
00:16:04اور جبل مشات کو سامنے کیا
00:16:06اور قبلہ رخ وقوف فرمایا
00:16:08یہاں تک کہ سورج قروب ہونے لگا
00:16:11اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:16:14قسوہ پر سوار ہوئے
00:16:16اور حضرت اسامہ بن زید کو پیچھے بٹھا دیا
00:16:20وہاں سے مزدلفہ تشریف لے گئے
00:16:22آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:16:24کو قسوہ اس قدر محبوب تھی
00:16:26کہ اسے دیگر اونٹنیوں کی طرح
00:16:28کھونٹے سے باندھ کر نہیں رکھا جاتا تھا
00:16:30بلکہ اسے کھلا چھوڑا جاتا تھا
00:16:32قسوہ کا دائمی مسکن جنت البقی کے قریب
00:16:36ایک چراہ کہا تھی
00:16:37قسوہ وہاں قربوجوار کی جھاڑیوں سے چرتی تھی
00:16:41رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:16:43قسوہ کو پیار سے کبھی جدائی بھی کہہ کر بلاتے تھے
00:16:47کبھی قزبائی اور کبھی اسبا کہتے
00:16:50گویا یہ سب قسوہ کے نام ہیں
00:16:52قسوہ کو اونٹوں کی دوڑ کے مقابلوں میں بھی
00:16:56کبھی کبھار شریک کرایا جاتا تھا
00:16:58حضرت ابو حررہ رضی اللہ تعالیٰ عنہو کہتے ہیں
00:17:01کہ جب کبھی قسوہ کو اونٹوں کے مقابلے میں شریک کروایا گیا
00:17:05تو قسوہ دوڑ میں ہمیشہ بازی لے گئی
00:17:08حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہو کہتے ہیں
00:17:12کہ ایک مرتبہ دوڑ کے مقابلے میں قسوہ پیچھے رہ گئی
00:17:15اور دوسری اونٹ نے اس پر سب قتل لے گئی
00:17:18اس پر مسلمانوں کو افسوس ہوا
00:17:20جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوا
00:17:24تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
00:17:27دنیا کی چیزوں میں جس چیز کو لوگ بہت زیادہ بلند مقام دینے لگتے ہیں
00:17:32تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے اس مقام سے گراتا ہے
00:17:35قسوہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں
00:17:40گیارہ سال تک رہی
00:17:41آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات
00:17:44جہاں تمام صحابہ اکرام کے لیے عظیم صدمہ تھا
00:17:48وہاں قسوہ کے لیے بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات
00:17:53کسی بڑی مصیبت سے کم نہیں تھی
00:17:55صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:17:57اس صدمے سے نکل آئے
00:17:59مگر قسوہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی برداشت نہ ہو سکی
00:18:04شدت غم کی وجہ سے خود اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ رہی
00:18:09قسوہ نے کھانا پینا ترک کر دیا
00:18:11آنکھوں سے مسلسل آنسوں بہتے رہتے تھے
00:18:14یہاں تک کہ صحابہ قرآن نے اس پر رحم کھاتے ہوئے
00:18:17اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی
00:18:19رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وسال کے بعد
00:18:23قسوہ پر کوئی سوار نہ ہوا
00:18:25پھر حضرت ابو بکر کی خلافت کا ایک سال بھی پورا نہیں ہوا
00:18:29کہ قسوہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی
00:18:32ناظرین اکرامی دوسرا جانور
00:18:34جس کے بارے میں کہا جاتا ہے
00:18:36کہ وہ جنت میں جائے گا
00:18:37وہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی ہے
00:18:40اس اونٹنی کا تذکرہ قرآن کریم میں بھی موجود ہے
00:18:44اس کے متعلق آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں
00:18:47کہ یہ اونٹنی کیسے پیدا ہوئی
00:18:49اور اس کو کیسے قتل کیا گیا
00:18:51ناظرین قدیم جزیرت العرب کے شمال مغربی علاقے میں
00:18:55واقع وادی القرآن میں قوم سمود کی حکمرانی تھی
00:18:59جبکہ ان کے مدد مقابل جنوب مشرقی عرب پر قوم آد قابض تھی
00:19:05قوم آد اور قوم سمود کا تعلق
00:19:07حضرت نوح علیہ السلام کے صاحبزاد سام بن نوح علیہ السلام سے ہے
00:19:12یہ دونوں قومیں ایک ہی دادا کی اولاد ہیں
00:19:15اور دو شخصیات کے نام سے موسم ہیں
00:19:18توفان نوح علیہ السلام کے بعد قوم آد ہی وہ قوم تھی
00:19:22جس نے سب سے پہلے بتوں کو پوجھنا شروع کیا تھا
00:19:25ان کے پیغمبر حضرت غود علیہ السلام تھے
00:19:28جن کی نافرمانی کی پاداش میں
00:19:30اللہ تعالیٰ نے قوم آد پر تیز آندھی کا عذاب مسلط کیا
00:19:34اور پوری قوم اس میں غرق ہو گئی
00:19:36حجازی مقدس سے شام جانے والے قدیم راستے پر
00:19:39ایک شہر آباد تھا جس کا نام حجر تھا
00:19:42یہ قوم سمود کا دار الحکومت تھا
00:19:45آج کل یہ شہر مدائن سالح کہلاتا ہے
00:19:48مدائن سالح کے قدیم علاقوں میں ایک علاقہ علاہ ہے
00:19:52مدینہ منورہ سے تبوک کی دانب سفر کرتے ہوئے
00:19:55بڑی شہرہ پر تقریباً ساڑھے چار سو کلومیٹر کی
00:19:59مسافت پر یہ علاقہ آج بھی آباد اور بہت پر رونک ہے
00:20:03العلا شہر ہی سے وادی سمود میں داخلے کا راستہ ہے
00:20:08یہاں ایک جدید ریلوے اسٹیشن بھی ہے
00:20:10جس کا نام مدائن سالح اسٹیشن ہے
00:20:13وادی سمود کا یہ لقو دق سہرہ
00:20:15اٹھارہ سے بیس مربع میل پر پھیلا ہوا ہے
00:20:19جہاں ہزاروں اکڑ رقبے پر وہ خوبصورت تاریخی امارات ہیں
00:20:23جنہیں قوم سمود نے سنگلاخ سرخ پہاڑوں کا سینہ چیر کر تراشا تھا
00:20:28دوسری جانب مرب میدانی علاقوں میں موسم گرمہ کے لیے عالی شان محلات کے کھنڈرات ہیں
00:20:34ایک ہزار سال قبل مسیح کے ان عظیم فنپاروں کو دیکھ کر
00:20:39آج جدید دور کے ماہرین تعمیر بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں
00:20:43سرخ پہاڑوں کے اندر اس شہر خاموشان کی ہزاروں ویران تاریخی امارتیں
00:20:49اپنے مکینوں کی بد آمالیوں اور نافرمانیوں کے سبب عذاب الہی کے ذریعے ہونے والی تباہی کی چشم دید گواہ ہیں
00:20:58اور دور جدید کی نافرمان قوموں کو یہ پیغام دیتی نظر آتی ہیں
00:21:03کہ دیکھو مجھے جو دید عبرت نگاہ ہو
00:21:06قوم سمود ہی میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک خدا ترس اور نیک انسان کو نبوت کے منصب پر فائز فرمایا
00:21:13سورة العراف آیت نمبر 73 میں ارشاد باری طالع ہے
00:21:17اور ہم نے سمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا
00:21:20حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کے لیے دن رات کوششیں کرتے رہے
00:21:27اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں
00:21:33اسی نے تمہیں پیدا کیا اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو
00:21:39وحوالہ سورہ حود آیت نمبر 61
00:21:41اس کے جواب میں ان کی قوم کہتی
00:21:43اے صالح تم ہمیں ان چیزوں سے روکتے ہو جنہیں ہمارے بزرگ پوچھتے چلے آئے ہیں
00:21:49اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس میں ہمیں قوی شبہ ہے
00:21:53سورہ حود آیت نمبر 62
00:21:55حضرت صالح علیہ السلام جوانی کے زمانے سے قوم کو دین کی دعوت دیتے ہوئے بوڑے ہو کے تھے
00:22:01چنانچہ ایک دن قوم کے سرداروں نے حضرت صالح علیہ السلام سے کہا
00:22:06کہ اگر تم واقع اللہ کے سچے رسول ہو
00:22:08تو ہماری فلاں پہاڑی جس کا نام کاتبہ ہے
00:22:12اس کے اندر سے ایک ایسی اونٹنی نکال دو
00:22:14جو دس ماہ کی گابن ہو اور قوی اور تندرست ہو
00:22:18قرآن کریم کی سورت الشعرہ آیات نمبر 153-154 میں
00:22:23ارشاد باریت آلہ ہے
00:22:25وہ کہنے لگے
00:22:26تم جادو زدہ ہو تم اور کچھ نہیں
00:22:28بس ہماری ہی طرح کے آدمی ہو
00:22:30اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو
00:22:33یعنی انہوں نے اپنے نبی سے موجزے کی فرمائش کر دی
00:22:36حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے عہد لیا
00:22:39کہ اگر میں تمہارا یہ مطالبہ پورا کر دوں
00:22:42تو پھر تم سب ایمان لے آو گے
00:22:44جب سب نے عہد کر لیا
00:22:45تو حضرت صالح علیہ السلام
00:22:47اللہ کے حضور سرب سجود ہو گئے
00:22:50یہاں تک کہ اللہ نے اپنے نبی کی دعا کو قبول فرمایا
00:22:54اچانک سامنے کی پہاڑی میں جنبش پیدا ہوئی
00:22:57چٹان کے دو ٹکڑے ہوئے
00:22:59اور اس میں سے ایک خوبصورت تندرست اور طوانہ
00:23:03گابھن اونٹنی نمدار ہوئی
00:23:05پوری قوم نے اس حیرت انگیز موجزے کو
00:23:08اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھا
00:23:09لیکن قوم کے ایک سردار جندہ بن عمرو
00:23:13اور اس کے چند ساتھیوں کے علاوہ
00:23:16کوئی ایمان نہیں لیا
00:23:17اس موقع پر حضرت صالح علیہ السلام نے
00:23:20اپنی قوم سے فرمایا
00:23:21اے میری قوم یہ ناقت اللہ ہے
00:23:24یعنی اللہ کی اونٹنی ہے
00:23:25جو تمہارے لیے ایک معجزہ ہے
00:23:28اب تم اسے اللہ کی زمین میں چھوڑ دو
00:23:31اور اسے کسی طرح کا ایزا نہ پہنچاؤ
00:23:34ورنہ فوری عذاب تمہیں پکڑ لے گا
00:23:36اونٹنی اور اس کا نو مولود بچہ
00:23:39سارا دن نخلستان میں چرتے رہتے
00:23:42قوم سیر ہو کر اونٹنی کا دودھ پیتی
00:23:45لیکن وہ کم نہ ہوتا
00:23:46حضرت صالح علیہ السلام نے
00:23:48کوئیں کے پانی کو بھی تقسیم کر دیا تھا
00:23:50ایک دن اونٹنی پانی پیتی تھی
00:23:52اور ایک دن سمود کے لوگ
00:23:54ارشاد باری طالعہ ہے
00:23:56صالح نے اپنی قوم سے کہا
00:23:58ایک دن اس اونٹنی کے پانی پینے کی باری ہے
00:24:02اور ایک معین روز
00:24:04تمہاری باری
00:24:05لیکن اسے کوئی تکلیف نہ دینا
00:24:07نہیں تو تمہیں سخت عذاب آ پکڑے گا
00:24:10اللہ تعالیٰ قرآن مجید
00:24:11سورة القمر آیت نبر ستائیس میں فرماتا ہے
00:24:14اے صالح علیہ السلام
00:24:16ہم نے اونٹنی کو ان کی آزمائش کے لیے بھیجا ہے
00:24:19تو تم انتظار کرو اور سبر کرو
00:24:21ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا
00:24:23کہ قوم کو اونٹنی کی موجود کی
00:24:25کھٹکنے لگی دن بھر آزادی سے گھومنا پھرنا
00:24:29اور اپنی باری پر ایک ہی سانس میں
00:24:31پورے کوئے کا پانی پینا
00:24:33ان کے لیے پریشان کن تھا
00:24:35چنانچہ شیطان کے اکسانے پر
00:24:37انہوں نے اونٹنی کو جان سے مارنے کا فیصلہ کر لیا
00:24:40قوم کے سرداروں نے یہ کام
00:24:42دو حسین ترین خواتین کو سونپا
00:24:44ان عورتوں نے شراب و شباب کے رسیہ
00:24:47دو عباش نوجوانوں
00:24:49مسرہ اور قدار کو
00:24:51اپنی خوبصورت بچیوں سے شادی کے عوض
00:24:54ناقت اللہ کے قتل پر آمادہ کر لیا
00:24:57جن کے ساتھ مزید
00:24:58ساتھ اور عباش جوان بھی شامل ہو کے
00:25:01قرآن پاک کی سورت نمل
00:25:03آیت نمبر اٹھ تالیس میں
00:25:04اللہ تعالی نے حضرت صالح علیہ السلام
00:25:07کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا
00:25:09شہر میں نو افراد کی ایک جماعت تھی
00:25:11جو ملک بھر میں
00:25:13فساد مچاتے پھرتے اور
00:25:15اسلاح نہیں کرتے تھے
00:25:16پھر ایک دن انشقی القلب
00:25:18نو افراد کی جماعت اونٹنی کے انتظار
00:25:21میں کوئیں کے پاس گھات لگا کر
00:25:23بیٹھ گئی جبکہ قوم کے لوگ
00:25:25اللہ کے عذاب کے ڈر سے چھپ کر
00:25:27یہ دل خراش منظر دیکھنے لگے
00:25:29حسب معامل اونٹنی پانی پینے
00:25:31کے لیے کوئیں کے قریب آئی
00:25:33تو مصرہ نامی شخص نے
00:25:35کمان سیدھی کی اور اونٹنی
00:25:37پر تیر چلا دیا جو
00:25:39اس کی پنڈلی میں پیوست ہوا
00:25:41اور ٹانک سے خون کا فوار آجاری
00:25:43ہو گیا یہ منظر دیکھ کر
00:25:45باقی لوگ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ
00:25:47کہے اس موقع پر ان دونوں
00:25:49عورتوں نے مردوں کو لانتان
00:25:51شروع کر دی جس پر قدار
00:25:53بن صالف آگے بڑھا اور
00:25:55تلوار کے ایک بھرپور
00:25:57وار سے اونٹنی کی کونچیں
00:25:59کاٹ ڈالیں شدید زخمی
00:26:01اونٹنی لاچار ہو کر زمین پر
00:26:03گر پڑی گرتے گرتے اس نے
00:26:05ایک زوردار چیخ ماری
00:26:07تاکہ اس کا بچہ جہاں کہیں بھی
00:26:09ہو خبردار ہو کر ظالموں کے چنگل
00:26:11سے بھاگ جائے محتاط ہو جائے
00:26:13پھر ظالم قدار نے
00:26:15اونٹنی کے سینے پر نیزہ
00:26:17مارنے کے بعد اسے زبا کر
00:26:19ڈالا ادھر اس کا بچہ بھاگتا ہوا
00:26:21اونچے پہاڑ پر چڑھا اور
00:26:23چیخیں مارتا ہوا غائب ہو گیا
00:26:25اونٹنی کے قتل کے ارتکاب کے بعد
00:26:27قوم ثمبوت کے ان نو افراد
00:26:29نے حضرت صالح علیہ السلام
00:26:31کو قتل کرنے کا پروگرام بنا دیا
00:26:33اور اسی رات حضرت
00:26:35صالح علیہ السلام کی گزرگاہ کے
00:26:37ساتھ ایک پہاڑ کی گھاٹی میں چھپ
00:26:39کر بیٹھ گئے تاکہ حضرت صالح
00:26:41علیہ السلام وہاں سے گزریں
00:26:43تو انہیں قتل کر دیں لیکن اس رات
00:26:45پہاڑ سے بڑے بڑے پتھر
00:26:47اس طرح سے برسے کہ وہ
00:26:49سب ہلاک ہو گئے دوسرے دن جب
00:26:51لوگوں کا گزر ہوا تو دیکھا
00:26:53کہ وہ نو افراد بڑے بڑے پتھروں
00:26:55کے نیچے مرے پڑے ہیں اس طرح
00:26:57وہ صفاق لوگ اپنی قوم کے
00:26:59تباہ و برباد ہونے سے
00:27:01تین دن پہلے ہی جہنم رسید
00:27:03ہو گئے اونٹنی کے قتل کے بعد
00:27:05جب کوئی عذاب نازل نہ ہوا
00:27:07تو قوم نے خوشی کا جشن مناتے
00:27:09ہوئے حضرت صالح علیہ السلام
00:27:11سے کہا کہ جس چیز
00:27:13سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر
00:27:15تم اللہ کے پیغمبر ہو تو
00:27:17اس کو ہم پر لے آو حضرت
00:27:19صالح علیہ السلام نے فرمایا اے قوم
00:27:21اب تمہارے پاس صرف تین
00:27:23دن کی محلت ہے اور لو عذاب
00:27:25کی علامات بھی سن لو کل جمعرات
00:27:27کے روز تم سب کے چہرے
00:27:29سخت زرد ہو جائیں گے
00:27:31پرسوں یعنی جمعے کے روز
00:27:33تم سب کے چہرے سخت سرخ
00:27:35ہو جائیں گے اور ہفتے کو
00:27:37سب کے چہرے سیاہ ہو جائیں گے
00:27:39اور وہ تمہاری زندگی کا آخری
00:27:41دن ہوگا ان تینوں پیشگوئیوں
00:27:43کے سچ ہونے کے باوجود
00:27:45قوم چہروں کی رنگت کی تبدیلی
00:27:48کو معمولی جادوی اثرات
00:27:49سمجھتے ہوئے معمول کے مطابق
00:27:51عیش و عشرت میں مصروف رہی
00:27:53یہاں تک کے چوتھے دن کی صبح
00:27:55اوپر سے سخت حیبتناک
00:27:57چنگھاڑ اور زمین کے شدید
00:28:00زلزلے نے ان سب کو
00:28:01آنن فانن جہنم رسید کر دیا
00:28:04اور اللہ تعالی نے ان کی بستیوں
00:28:06کو آنے والی نسلوں کے لیے
00:28:07عبرت قدہ بنا دیا
00:28:09ناظرین وہ تیسرا جانور جو
00:28:11جنت میں جائے گا وہ حضرت
00:28:13ابراہیم علیہ السلام کا
00:28:15بچڑا ہے اس کے بارے میں کہا جاتا
00:28:18ہے کہ آپ نے اس کو فرشتوں
00:28:20کی زیافت کے لیے بھنوایا تھا
00:28:21اس کا تذکرہ بھی قرآن مجید
00:28:24فرقان حمید میں موجود ہے
00:28:26ناظرین حضرت ابراہیم علیہ السلام
00:28:28کا لقب ابول زیفان
00:28:30یعنی مہمانوں کا باپ تھا
00:28:32آپ کے مکان کے چار دروازے تھے
00:28:34ان سے دیکھتے رہتے کہ کب
00:28:36کوئی آنے والا ہے حضرت
00:28:37ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں مشہور
00:28:40ہے کہ آپ علیہ السلام
00:28:41نے پوری زندگی دن
00:28:43یا رات کا کھانا مہمان
00:28:45کے بغیر نہیں کھایا جب کھانے
00:28:47کا وقت ہوتا اور کوئی ساتھ کھانے والا
00:28:50نہ ہوتا تو آپ بساوقات
00:28:51میلوں تک کسی مہمان
00:28:53کی تلاش میں نکل جاتے
00:28:55عربوں میں بالعموم اور قریش میں
00:28:57بالخصوص مہمان نوازی کی روایت
00:28:59حضرت ابراہیم علیہ السلام
00:29:01کا فیضان تھا مہمان نوازی
00:29:04علامات ایمان میں سے ہے
00:29:05اور تمام انبیاء علیہ السلام
00:29:07کی سنت بھی اللہ رب العزت
00:29:10نے قرآن مجید فرقان حمید
00:29:12میں حضرت ابراہیم علیہ السلام
00:29:13کی مہمان نوازی کا
00:29:15ذکر کیا ہے اور ہمارے
00:29:17فرشتے انسانی شکل میں
00:29:19ابراہیم کے پاس بیٹا پیدا ہونے
00:29:21کی خوش خبری لے کر آئے
00:29:23انہوں نے سلام کیا ابراہیم
00:29:25علیہ السلام نے بھی سلام کہا
00:29:27اور بغیر کسی تاخیر کے
00:29:29گائے کا بھنا ہوا بچڑا لے آئے
00:29:31ان کی مہمان نوازی کے لیے
00:29:33اسے معلوم ہوا کہ فرشتے
00:29:35حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاں
00:29:37انسانی صورت میں پہنچے تھے
00:29:39اور ابتدا میں انہوں نے اپنا تعارف نہیں
00:29:41کرایا تھا اس لیے حضرت ابراہیم
00:29:43علیہ السلام نے خیال کیا
00:29:45کہ یہ کوئی اجنبی مہمان ہے
00:29:47اور ان کے آتے ہی فوراً ان کی
00:29:49زیافت کا انتظام فرمایا
00:29:51حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی
00:29:53عادت مہمان نوازی کے مطابق
00:29:55بشکل انسان آنے والے
00:29:57فرشتوں کو انسان اور مہمان
00:29:59سمجھ کر مہمان نوازی شروع کی
00:30:01فوراً ہی ایک تلا ہوا
00:30:03بچڑا سامنے رکھ دیا
00:30:04ناظرین اگرامی یہ وہ بچڑا ہے
00:30:07جس کے بارے میں کہا جاتا ہے
00:30:08کہ یہ جنت میں جائے گا
00:30:10ناظرین اب بات کرتے ہیں
00:30:12اس چوتھے جانور کی جو کہ
00:30:14جنت میں جائے گا وہ
00:30:16حضرت اسماعیل علیہ السلام کا
00:30:18مینڈہ ہے جو آپ علیہ السلام
00:30:20کی قربانی کے وقت حضرت
00:30:22جبرائیل علیہ السلام
00:30:24اللہ تعالیٰ کے حکم پر جنت
00:30:26سے لائے تھے ناظرین حضرت
00:30:28اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم
00:30:30علیہ السلام اور حضرت حاجرہ
00:30:32کے بیٹے تھے حضرت حاجرہ
00:30:34نے بچپن سے ہی بیٹے کی پرورش
00:30:37اور تعلیم و تربیت پر
00:30:38خصوصی توجہ دی تھی
00:30:40تیرہ سال کا طویل عرصہ جیسے پلک
00:30:42جھپکتے گزر گیا حضرت اسماعیل
00:30:45علیہ السلام مکہ کے مقدس
00:30:47فضاؤں میں آب زمزم
00:30:48پیکر اور صبر و شکر
00:30:50کی پیکر عظیم ماں کی
00:30:52آغوش تربیت میں پروان چڑھتے
00:30:55ہوئے بہترین صلاحیتوں
00:30:56کے مالک خوبصورت نوجوان
00:30:59کا روپ دہار چکے تھے
00:31:00کہ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام
00:31:02تشریف لائے اور فرمایا
00:31:04اے بیٹا میں خواب میں
00:31:06دیکھتا ہوں کہ گویا تمہیں زبح
00:31:08کر رہا ہوں تو تم سوچو
00:31:10کہ تمہارا کیا خیال ہے
00:31:11فرما بردار بیٹے نے سر تسلیم خم
00:31:14کرتے ہوئے فرمایا ابباجان
00:31:16آپ کو جو حکم ہوا ہے
00:31:18وہ کیجئے اللہ نے چاہا
00:31:20تو آپ مجھے صابرین میں پائیں
00:31:22کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام
00:31:24کا یہ سعادت مندانہ
00:31:26جواب دنیا بھر کے بیٹوں
00:31:28کے لئے آداب فرزندی کی
00:31:30ایک شاندار مثال ہے
00:31:32اطاعت و فرما برداری اور تسلیم
00:31:34و رضا کی اس قیفیت کو
00:31:36علامہ اقبال یوں بیان
00:31:38کیا کرتے ہیں یہ فیضان
00:31:40نظر تھا یا کہ مکتب
00:31:42کی کرامت تھی سکھائے
00:31:44کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی
00:31:47حضرت ابراہیم علیہ السلام
00:31:48نے بیٹے کا جواب سنا
00:31:50تو انہیں سینے سے لگایا اور حضرت
00:31:52حاجرہ کے پاس لے آئے فرمایا
00:31:54اے حاجرہ آج ہمارے نور
00:31:56نظر کو آپ اپنے ہاتھوں سے
00:31:58تیار کیجئے ممتع کے مقدس
00:32:00شیرین اور انمول
00:32:02جذبوں میں ڈوبی ماں نے
00:32:04اپنے اکلوتے بیٹے کو نئی پوشاک
00:32:06پہنائی آنکھوں میں سرما لگایا
00:32:08سر میں تیل لگایا اور
00:32:10خوشبو میں رچہ بسا کر
00:32:12باپ کے ساتھ باہر جانے کے لئے
00:32:14تیار کر دیا اسی حسنا میں
00:32:16حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی
00:32:18ایک تیز دھار چھوری کا بندوبست
00:32:20کر چکے تھے پھر بیٹے کو ساتھ
00:32:22لے کر مکہ سے باہر منہ
00:32:24کی جانب چل دیئے شیطان نے
00:32:26باپ بیٹے کے درمیان ہونے والی
00:32:28گفتگو سن لی تھی جب اس نے
00:32:30سبر و استقامت اور اطاعت خداوندی
00:32:32کا یہ روح پرور منظر دیکھا
00:32:34تو مسترب ہوا اس نے
00:32:36باپ بیٹے کو اس قربانی سے
00:32:38باز رکھنے کا فیصلہ کر لیا
00:32:40چنانچہ جمرہ اقبہ کے مقام پر
00:32:42راستہ رو کر کھڑا ہو گیا
00:32:44حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ
00:32:46موجود فرشتے نے کہا یہ شیطان
00:32:52اقبر کہہ کر اسے سات کنکریاں
00:32:54ماریں جس سے وہ زمین میں
00:32:56دھس گیا ابھی آپ علیہ السلام
00:32:58کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ زمین
00:33:00نے اسے چھوڑ دیا اور وہ جمرہ
00:33:02وستہ کے مقام پر پھر
00:33:04ورغلانے کے لیے آ موجود ہوا
00:33:06حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
00:33:08دوبارہ کنکریاں ماریں اور پھر
00:33:10زمین میں دھسا لیکن آپ
00:33:12علیہ السلام کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ وہ
00:33:14جمرہ اولہ کے مقام پر پھر
00:33:16موجود تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام
00:33:18نے تیسری بار اللہ اکبر
00:33:20کہہ کر کنکریاں ماریں تو
00:33:22وہ زمین میں دھنس گیا
00:33:24اللہ تبارک و تعالیٰ کو ابراہیم
00:33:26خلیل اللہ علیہ السلام کا شیطان
00:33:28کو کنکریاں مارنے کا عمل
00:33:30اس قدر پسند آیا کہ
00:33:32اسے رہتی دنیا تک کے لیے
00:33:34حج کے واجبات میں شامل فرما دیا
00:33:36شیطان حضرت حاجرہ
00:33:38علیہ السلام کی خدمت میں
00:33:40شیطان اپنی ناکامی پر
00:33:42بڑا پریشان تھا تینوں مرتبہ کی
00:33:44کنکریاں نے اس کے جسم کو زخموں سے
00:33:46چور چور کر دیا اچانک
00:33:48اسے ایک نئی چال سوجی اور وہ
00:33:50عورت کا بھیس بدل کر بھاگ بھاگ
00:33:52کر حضرت حاجرہ علیہ السلام
00:33:54کی خدمت میں حاضر ہوا بولا
00:33:56اے اسماعیل کی ماں تمہیں
00:33:58علم ہے کہ ابراہیم تمہارے لخت
00:34:00جگر کو کہاں لے گئے ہیں حضرت حاجرہ
00:34:02نے فرمایا ہاں وہ باہر گئے ہیں
00:34:04شاید کسی دوست سے ملنے گئے ہوں
00:34:06شیطان نے اپنے سر پر
00:34:08ہاتھ مارتے ہوئے کہا وہ
00:34:10تیرے بیٹے کو زبہ کرنے وادی
00:34:12منع میں لے گئے ہیں حضرت حاجرہ
00:34:14نے حیرت اور تعجب کا اظہار
00:34:16کرتے ہوئے فرمایا یہ کیسے
00:34:18ممکن ہے کہ ایک شفیق اور مہربان
00:34:20باپ اپنے چہیتے اور
00:34:22اکلوتے بیٹے کو زبہ کر دے
00:34:24اس موقع پر بے ساختہ شیطان کے
00:34:26موں سے نکلا وہ یہ سب اللہ
00:34:28کے حکم پر کر رہے ہیں یہ سن کر
00:34:30سبر و شکر اور اطاعت و فرما
00:34:32برداری کی پیکر اللہ کی برگزیدہ
00:34:35بندی نے فرمایا اگر
00:34:36یہ اللہ کا حکم ہے تو ایک
00:34:38اسمائل کیا اس کے حکم
00:34:40پر سو اسمائل قربان ہے
00:34:42اللہ تعالی نے قربان قبول فرمالی
00:34:44شیطان یہاں سے نامراد
00:34:46ہو کر واپس منع کی جانب
00:34:48پلٹا لیکن وہاں کا ایمان
00:34:50افروز منظر دیکھ کر اپنے سر پر
00:34:52خاک ڈالنے اور چہرہ پیٹنے
00:34:54پر مجبور ہو گیا وادی منع
00:34:56کے سیاہ پہاڑ نیل شفاف
00:34:58آسمان پر روشن آگ برساتا
00:35:00سورج فلک پر موجود
00:35:02تسبیح و تحلیل میں مصروف
00:35:04ملائکہ اللہ کی راہ میں
00:35:06اپنی مطاع عزیز کی قربانی
00:35:08کا محیر القول
00:35:10منظر دیکھنے میں محوط ہے
00:35:12مکہ سے آنے والی گرم ہوائیں
00:35:14بھی منع کی فضاؤں میں موجود
00:35:16عبادت و اطاعت تسلیم و رضا
00:35:18اور صبر و شکر کی ایک عظیم
00:35:20داستان رقم ہوتے دیکھ رہی
00:35:22تھیں روایات میں آتا ہے کہ جب
00:35:24حضرت ابراہیم علیہ الصلاة والسلام
00:35:26نے حضرت اسماعیل علیہ الصلاة والسلام
00:35:29کو لیٹنے کی ہدایت دی
00:35:30تو حضرت اسماعیل علیہ الصلاة والسلام
00:35:32نے فرمایا اباجان میں
00:35:34پیشانی کے بل لیٹتا ہوں تاکہ
00:35:36آپ کا چہرہ مجھے نظر نہ آئے
00:35:38اور آپ بھی اپنی آنکھوں پر
00:35:40پٹی باندھ لیں تاکہ جب آپ
00:35:42مجھے زباہ کر رہے ہوں تو شفقت
00:35:44پدری عمر الہی پر غالب
00:35:46آنے کا امکان نہ رہے
00:35:48سبر و استقامت کے کوئے گرام والد
00:35:50نے گوشہ جگر کے مشورے پر
00:35:52عمل کیا اور جب اسماعیل
00:35:54علیہ الصلاة والسلام لیٹکے
00:35:56تو تکمیل احکام خداوندی میں
00:35:58تیز دار چھوری کو
00:36:00پوری قوت کے ساتھ لخت جگر
00:36:02کی گردن پر پھیر دیا
00:36:04باپ بیٹے کی اس عظیم
00:36:06قربانی پر قدرت خداوندی جوش
00:36:08میں آئی اور اللہ جل شانہو
00:36:10کے حکم سے حضرت جبرائل
00:36:12علیہ الصلاة والسلام جنت کے باغات
00:36:14میں پلے سفید رنگ کے
00:36:16خوبصورت مینڈھے کو لے کر حاضر
00:36:18ہوئے حضرت ابراہیم خلیل اللہ
00:36:20علیہ السلام نے زبح سے فارغ ہو کر
00:36:22آنکھوں سے پٹی ہٹائے تو حیرت زدہ
00:36:24رہ گئے بیٹے کی جگہ ایک حسین
00:36:26مینڈھا زبح ہوا پڑا تھا جبکہ
00:36:28اسماعیل علیہ السلام قریب کھڑے
00:36:30مسکرا رہے تھے اسی اسنا میں غیب
00:36:32سے آواز آئی اے ابراہیم
00:36:34تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا
00:36:36بے شکم نیکی کرنے
00:36:38والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
00:36:40ناظرین محترم یوں وہ
00:36:42جنت سے آیا ہوا منڈھا اللہ
00:36:44پاک کی راہ میں قربان ہوا
00:36:46حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل
00:36:48علیہ السلام کے اس بے مثال
00:36:50جذبہ عیسار اطاعت
00:36:52و فرمان برداری جرت و استقامت
00:36:55تسلیم و رضا اور
00:36:56صبر و شکر پر مہر تصدیق
00:36:59سبت کرتے ہوئے
00:37:00اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید
00:37:02فرقان حمید میں ارشاد فرمایا
00:37:04اور ہم نے اسماعیل
00:37:06کی عظیم قربانی پر ان کا
00:37:08فدیہ دے دیا
00:37:09اللہ رب العزت کو اپنے دونوں
00:37:12برگزیدہ اور جلیل القدر
00:37:14بندوں کی یہ ادا
00:37:15اس قدر پسند آئی کہ اسے
00:37:18اطاعت عبادت اور قربت
00:37:20الہی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے
00:37:22تا قیامت جاری
00:37:24فرما دیا ناظرین محترم
00:37:26اب بات کریں گے اس پانچھیں
00:37:28جانور کی جو جنت
00:37:30میں جائے گا وہ حضرت موسیٰ
00:37:32علیہ السلام کی گائے ہے جس کی
00:37:33تفصیل بیان کرتے ہوئے امام
00:37:35ابن جریر تبری رحمت اللہ علیہ
00:37:37فرماتے ہیں کہ بنو اسرائیل
00:37:39میں عامیل نامی ایک مالدار
00:37:42شخص رہتا تھا اس کی
00:37:43اولاد نہیں تھی اس کا بھتیجہ
00:37:45ہی اس کا وارث تھا لیکن
00:37:47جلد جلد امیر بننے کا
00:37:49لالچوس پر کچھ اس طرح سے
00:37:51سوار ہوا کہ اس نے اپنے
00:37:53چچا کو قتل کر دیا اور
00:37:55لاش کو بستی کے مضافات
00:37:57میں راستے پر پھینک دیا
00:37:59صبح کو جب قاتل کی تلاش
00:38:01شروع ہوئی تو کسی کو
00:38:03کوئی سراخ نہ ملا
00:38:05بھتیجہ اپنے آپ کو مظلوم اور
00:38:07اپنے چچا کا خیر خواہ ثابت
00:38:09کرنے کے لیے خود ہی قاتل
00:38:11کی خوج میں بھی لگ گیا
00:38:13جب قاتل کا سراخ نہ مل سکا
00:38:15تو لوگ حضرت موسیٰ علیہ
00:38:17السلام کے پاس حاضر ہوئے اور
00:38:19قاتل کا سراخ لگانے کی درخواست
00:38:21کی آپ علیہ السلام نے
00:38:23لوگوں میں اعلان کروا دیا
00:38:25کہ اگر کسی کے پاس اس قتل
00:38:27کے شاہد موجود ہوں
00:38:29تو وہ آ کر گواہی دے لیکن
00:38:31کوئی بھی اطلاع موصل نہ ہوئی
00:38:33لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے
00:38:35کہا کہ آپ اللہ کے نبی ہیں
00:38:37اللہ تعالیٰ سے سوال کریں
00:38:38کہ وہ ہمیں قاتل کا نام بتا دے
00:38:40حضرت موسیٰ علیہ السلام نے
00:38:42اللہ رب العزت کے خضور میں
00:38:45دعا کی تو حکم آیا کہ ایک
00:38:47گائے زباہ کریں یہ حکم سن کر
00:38:49بنی اسرائیل نے حسب عادت
00:38:51حجت بازی شروع کر دی
00:38:52کہ قاتل کی شناخت اور گائے
00:38:54کے زبیحہ میں کیا مناسبت ہے
00:38:56آپ علیہ السلام ہم سے معزلہ
00:38:58مزاق فرما رہے ہیں
00:39:00حضرت کلم اللہ علیہ السلام نے فرمایا
00:39:03میں جاہل ہونے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں
00:39:06لوگوں کی حجت بازی جاری رہی
00:39:08اور کہنے لگے اللہ سے معلوم کریں
00:39:10گائے کیسی ہو
00:39:11آپ نے اللہ سے پوچھ کر فرمایا
00:39:13حکم ہے کہ گائے نہ بوڑی ہو
00:39:15اور نہ بچیا
00:39:16لوگ پوچھنے لگے رنگ کیسا ہو
00:39:18فرمایا شوخ اور زرد رنگ کی گائے ہو
00:39:21جو دیکھنے والوں کو بھلی لگتی ہو
00:39:24لوگ پھر کہنے لگے
00:39:25اس کی صفت کیسی ہو
00:39:26کیونکہ گائے ہم پر مشتبہ ہو گئی ہے
00:39:29اور مزید وضاحت ہوئی
00:39:31تو انشاءاللہ ہم ادایت پا جائیں گے
00:39:33ارشاد ہوا
00:39:34وہ گائے مشقت کرتی ہو
00:39:35نہ حل چلاتی ہو
00:39:37نہ کھیتوں کو پانی دیتی ہو
00:39:39صحیح سالم اور بے داغ بھی ہو
00:39:41کہنے لگے اب بات مکمل ہوئی
00:39:43جبکہ وہ محض حجتیں کر رہے تھے
00:39:45ان کی نیت گائے زباہ کرنے کی نہیں تھی
00:39:48اگر پہلی بار ہی حکم کی تعمیل کر دیتے
00:39:51تو کافی ہو جاتا
00:39:52لیکن انہوں نے سوالات کو طول دے کر
00:39:54اپنے لیے مزید قید لگوا لی
00:39:57اور انہیں گائے کی تلاش میں
00:39:59مشقت اور جستجو کا سامنا بھی کرنا پڑا
00:40:01بلاخر جب وہ اچھی طرح سمجھ گئے
00:40:04کہ فلان قسم کی گائے چاہیے
00:40:05تو ایسی گائے کی تلاش شروع کرتی
00:40:08یہاں تک کہ جب یہ لوگ
00:40:10ایک لڑکے کی گائے کے پاس پہنچے
00:40:12تو ہو بہو یہ ایسی ہی گائے تھی
00:40:14جس کی ان لوگوں کو ضرورت تھی
00:40:16چنانچہ ان لوگوں نے گائے کو
00:40:17اس کی کھال میں سونا بھر کر
00:40:20اس کی قیمت دے کر خرید لیا
00:40:22گائے کو زبح کیا گیا
00:40:23حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا
00:40:26اس کی ہڈی لے کر
00:40:27مقتول کے جسم پر ضرب لگاؤ
00:40:30جب ضرب لگائی گئی تو وہ
00:40:31مقتول زندہ ہو گیا
00:40:33اس نے اپنے قاتل کی نشاندہی کی
00:40:35اور پھر فوت ہو گیا
00:40:36بعد میں قاتل کو بطور سزا قتل کر دیا گیا
00:40:40ناظرین اسی جنتی گائے کے
00:40:42مالک اور اس کی قیمت
00:40:44کے بارے میں بتایا جاتا ہے
00:40:46کہ بنی اسرائیل میں ایک نیک شخص
00:40:47رہا کرتا تھا جس کا ایک ہی بیٹا
00:40:50تھا اس کے پاس ایک بچیا بھی
00:40:52تھی خدا کا کرنا ایسا ہوا
00:40:53کہ اس شخص کا انتقال ہو گیا
00:40:55اور اس کا بیٹا اپنی ماں کے سائے میں
00:40:57پرورش پانے لگا کچھ سالوں کے بعد
00:41:00بیٹا بڑا ہو گیا اور بہت
00:41:01نیک اور اپنی ماں کا فرما بردار
00:41:04تھا ایک دن ماں نے بیٹے
00:41:06کو اس کے والد کی بچیا
00:41:08جو اب بڑی ہو کر گائے بن چکی
00:41:10تھی اسے تین دینار میں
00:41:11بیچنے کا حکم دیا اور فرمایا
00:41:13کہ جب بیچنے لگو تو ایک بار
00:41:15پھر مجھ سے پوچھ لینا
00:41:17بیٹا گائے بیچنے بازار آیا تو ایک
00:41:19فرشتہ انسانی صورت میں آ کر
00:41:21اسے ملا اور چھے دینار گائے
00:41:23کی قیمت لگائے لیکن ماں کی
00:41:25اجازت کے بغیر بیچنے کو کہا
00:41:27بیٹا راضی نہ ہوا اور آ کر
00:41:29ماں کو یہ بات بتائی ماں نے
00:41:31چھے دینار قیمت منظور کر دی
00:41:33مگر اجازت لینے کی شرط باقی
00:41:35رکھی اگلی مرتبہ وہی فرشتہ
00:41:38پھر ملا اور اس بار بارہ
00:41:39دینار قیمت لگائے مگر ماں کی
00:41:41اجازت کے بغیر بیچنے کو کہا
00:41:43بیٹا پھر نہ مانا اور جا کر
00:41:45ماں کو یہ بات بتائی ماں
00:41:47سمجھ گئی کہ ہو نہ ہو یہ کوئی فرشتہ
00:41:50ہے ماں نے کہا کہ اب کی بار
00:41:51اگر وہ شخص ملے تو پوچھنا
00:41:53کیا آپ گائے بیچنے کا حکم
00:41:55دیتے ہیں یا نہیں اگلی بار
00:41:57ملنے پر جب بیٹے نے یہ سوال
00:41:59کیا تو وہ فرشتہ بولا
00:42:01کہ ابھی اسے مت بیچو جب
00:42:03بنی اسرائیل اسے خریدنے آئیں
00:42:05تو اس کی قیمت یہ لگانا
00:42:07کہ اس گائے کی کھال میں سونا
00:42:09بھر کر دیا جائے اس واقعی کی بنا پر
00:42:11اس صورت کا نام ہی صورت
00:42:13البقرہ ہے ناظرین اب آپ کو
00:42:15بتاتے ہیں اس چھٹے جانور کا
00:42:17جو کہ جنت میں جائے گا
00:42:19یہ وہ مچھلی ہے جس کے پیٹ میں
00:42:21حضرت یونس علیہ السلام چالیس
00:42:23دن تک زندہ رہے ناظرین
00:42:25حضرت یونس علیہ السلام کو
00:42:27اللہ تعالی نے نینوہ جو موجودہ
00:42:29عراق کا شہر موصل ہے
00:42:31اس بستی کی ہدایت کے لیے بھیجا
00:42:33نینوہ میں آپ علیہ السلام
00:42:35کئی سال تک ان کو تبلیغ کی
00:42:37دعوت دیتے رہے مگر قوم
00:42:39ایمان نہ لائی تو آپ
00:42:41علیہ السلام نے ان کو عذاب کے آنے
00:42:44کی خبر دی اور ترشیش
00:42:45کی طرف جانے کے لیے نکلے
00:42:47حضرت یونس علیہ السلام جب قوم
00:42:49سے ناراض ہو کر چلے گئے تو قوم
00:42:51نے آپ علیہ السلام کے پیچھے
00:42:53توبہ کر لی دوسری طرف آپ
00:42:55علیہ السلام اپنے سفر کے
00:42:57دوران دریہ کو عبور کرنے
00:42:59کے لیے اسرائیل کے علاقہ
00:43:01یافہ میں کشتی میں سوار ہوئے
00:43:03کچھ دور جا کر کشتی بھمر میں
00:43:05پھنس گئی اس وقت کے
00:43:07دستور اور رواج کے مطابق
00:43:09یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جب
00:43:11کوئی غلام اپنے مالک سے بھاگ
00:43:13کر جا رہا ہو اور کشتی میں
00:43:15سوار ہو تو وہ کشتی
00:43:17اس وقت تک کنارے پر نہیں پہنچتی
00:43:19جب تک اس غلام کو کشتی
00:43:21سے اتار نہ لیں اب کشتی
00:43:23کے بھمر میں فسنے پر ان لوگوں
00:43:25نے قررہ ڈالا جو حضرت
00:43:27یونس علیہ السلام کے نام نکلا
00:43:29تین دفعہ قررہ آپ
00:43:31علیہ السلام کے نام ہی کا نکلا
00:43:33تو آپ علیہ السلام نے فرمایا
00:43:35کہ میں ہی غلام ہوں جو اپنے
00:43:37آقا کو چھوڑ کر جا رہا ہوں
00:43:39آپ علیہ السلام نے خود ہی دریا میں
00:43:41چھلانگ لگا دی تا کہ دوسرے
00:43:43لوگ کنارے پر پہنچ جائیں
00:43:45اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کے دل
00:43:47میں علقا کیا اور حکم
00:43:49دیا کہ حضرت یونس علیہ السلام
00:43:51کو بغیر نقصان پہنچائے
00:43:53نگل لیں اس طرح آپ
00:43:55علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں آگئے
00:43:57یہ آپ علیہ السلام پر ایک
00:43:59امتحان تھا حضرت یونس
00:44:01علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں
00:44:03جانے کی وجہ سے ذل نون
00:44:05اور صاحب الحوت کہا جاتا ہے
00:44:07کیونکہ نون اور حوت
00:44:09دونوں کا معنی مچھلی ہے
00:44:11اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
00:44:13اور مچھلی والے کو بھی
00:44:15ہم نے نوازا یاد کرو
00:44:17جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا
00:44:19اور سمجھتا تھا
00:44:21کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے
00:44:23دوسری طرف مچھلی کے پیٹ میں
00:44:25داخل ہونے کے بعد
00:44:26حضرت یونس علیہ السلام نے
00:44:27یہ سمجھا کہ وہ مر چکے ہیں
00:44:29مگر پاؤں پھیلایا
00:44:31تو اپنے آپ کو زندہ پایا
00:44:33بارگاہِ الٰہی میں
00:44:34اپنی ندامت کا اظہار کیا
00:44:36اور توبہ استخفار کی
00:44:37کیونکہ وہ وحیِ الٰہی کا انتظار
00:44:40اور اللہ تعالیٰ سے اجازت لیے
00:44:42بغیر اپنی قوم سے ناراض ہو کر
00:44:44نینواز سے نکل آئے تھے
00:44:46پھر مچھلی کے پیٹ میں
00:44:47حضرت یونس علیہ السلام نے
00:44:49اپنی خطا کی یوں معافی مانگی
00:44:51آخر کو اس نے تاریکیوں میں پکارا
00:44:54نہیں ہے کوئی خدا
00:44:56مگر تو پاک ہے تیری ذات
00:44:58بے شک میں نے قصور کیا
00:45:00جب اللہ تعالیٰ نے
00:45:01حضرت یونس علیہ السلام کی
00:45:03پرسوز آواز کو سنا
00:45:05اور دعا قبول کی
00:45:06تو مچھلی کو حکم ہوا
00:45:08کہ حضرت یونس علیہ السلام کو
00:45:10جو تیرے پاس ہماری امانت ہے
00:45:12اگل دے
00:45:13چنانچہ مچھلی نے دریا کے کنارے
00:45:15حضرت یونس علیہ السلام کو
00:45:16چالیس روز کے بعد اگل دیا
00:45:19وہ ایسی ویران جگہ تھی
00:45:21جہاں نہ کوئی درخت تھا
00:45:23نہ سبزا
00:45:24بلکہ بالکل چٹل میدان تھا
00:45:26جبکہ حضرت یونس علیہ السلام
00:45:28بے حد کمزور اور نحیف ہو چکے تھے
00:45:31حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہو سے روایت ہے
00:45:35کہ حضرت یونس علیہ السلام
00:45:37نو مولود بچے کی طرح
00:45:39ناتوان کمزور تھے
00:45:40آپ علیہ السلام کا جسم بہت نرم و نازک ہو گیا تھا
00:45:44اور جسم پر کوئی بال نہ تھا
00:45:46چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے
00:45:49حضرت یونس علیہ السلام کے قریب
00:45:51قدو کی بے لگا دی
00:45:52تاکہ اس کے پتے آپ علیہ السلام پر سایہ کیے رہیں
00:45:56اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کے بموجب
00:45:59ایک جنگلی بکری صبح و شام
00:46:01آپ علیہ السلام کو دودھ پلا کر واپس چلی جاتی
00:46:04یہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل ہی تھا
00:46:07ورنہ آپ علیہ السلام
00:46:09ضعیف اور کمزور تر ہوتے چلے جاتے
00:46:12قرآن مجید مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد
00:46:15حضرت یونس علیہ السلام کی حالت کو
00:46:18اس طرح بیان کرتا ہے
00:46:19آخرکار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں
00:46:22ایک چٹل میدان پر پھینک دیا
00:46:24اور اس پر ایک بیلدار درخت ہوگا دیا
00:46:28ناظرین اس مچھلی کا نام نجم تھا
00:46:30وہ مچھلی بڑے سر والی اور پوری کشتی کو نگلنے کی صلاحیت رکھنے والی تھی
00:46:36ایک نبی علیہ السلام کی چند روز کی صحبت بابرکت کی وجہ سے
00:46:41وہ مچھلی جنت میں جائے گی
00:46:43علماء فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کا پیٹ چند دن
00:46:47ایک نبی علیہ السلام کی تجلیات کا مرکز رہنے کی وجہ سے
00:46:50عرش آزم سے افصل ہے
00:46:53آج کئی سو سال کے بعد جدید سائنس نے
00:46:56اتنی بڑی مچھلی کے موجود ہونے کی تصدیق کر دی ہے
00:47:00اور کئی تحقیقاتی اداروں نے
00:47:02اتنی بڑی مچھلیوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے
00:47:06ناظرین وہ ساتھویں جانور جو جنت میں جائے گا
00:47:09وہ حضرت عزیر علیہ السلام کا گدھا ہے
00:47:12اس گدھے کے بارے میں یہ روایت ملتی ہے
00:47:14کہ ایک مرتبہ اللہ عزو جل کے نبی
00:47:17حضرت سیدنا عزیر علیہ السلام کا
00:47:19بیت المقدس فلسطین کے پاس سے گزر ہوا
00:47:22آپ علیہ السلام کا زادہ راہ
00:47:24یعنی سفر کا سامان
00:47:26ایک برتن خجور اور ایک پیالہ انگور کا رس تھا
00:47:29نیزہ آپ ایک دراز گدھے پر سوار تھے
00:47:32آپ علیہ السلام بیت المقدس کی تمام بستیوں میں پھرے
00:47:35لیکن آپ کو کوئی شخص نظر نہیں آیا
00:47:38اور سب امارتیں گری ہوئی تھیں
00:47:40اس قدر ویرانی دیکھ کر
00:47:42آپ علیہ السلام نے تعجب سے کہا
00:47:44کہ اللہ انہیں ان کی موت کے بعد
00:47:47کیسے زندہ کرے گا
00:47:48یہ فرمانے کے بعد
00:47:49آپ علیہ السلام نے اپنی سواری کسی جگہ باندھی
00:47:52اور آرام کی غرص سے لیٹ گئے
00:47:55یہ صبح کا وقت تھا
00:47:56اس دوران آپ کی روح قبض کر لی گئے
00:47:59اور آپ علیہ السلام
00:48:00ایک سو سال کی نید سو گئے
00:48:02نیزہ آپ کا دراز گوش بھی مر گیا
00:48:05اس عرصے میں آپ علیہ السلام
00:48:07لوگوں کی نگاہوں سے پوشید آ رہے
00:48:09سو سال کے بعد
00:48:10آپ کو شام کے وقت زندہ کیا گیا
00:48:13اللہ عزوجل نے
00:48:14آپ علیہ السلام سے فرمایا
00:48:16تم کتنے دن سے یہاں ٹھہرے ہوئے ہو
00:48:18آپ علیہ السلام نے عرض کی
00:48:20کہ ایک دن یا اس سے کچھ کم وقت
00:48:23کیونکہ آپ علیہ السلام کا یہ خیال تھا
00:48:25کہ یہ اسی دن کی شام ہے
00:48:27جس کی صبح آرام کرنے کے لیے لیٹے تھے
00:48:30اللہ عزوجل نے فرمایا
00:48:32تم یہاں سو سال سے ٹھہرے ہوئے ہو
00:48:34اپنے کھانے پینے کی چیزیں دیکھو
00:48:37ویسی ہی صحیح سلامت ہیں
00:48:39اور اپنا گدھا دیکھو
00:48:40کس حال میں ہے
00:48:41جب آپ علیہ السلام نے
00:48:43کھجوریں اور انگور کا رس دیکھا
00:48:45تو واقعی دونوں کی تروتازگی میں
00:48:47کوئی فرق نہیں آیا تھا
00:48:49جبکہ گدھا بلکل گل سڑ گیا تھا
00:48:52اور اس کے آزا بھی بکھر گئے تھے
00:48:54صرف سفید ہڈیاں نظر آ رہی تھیں
00:48:57دیکھتے ہی دیکھتے
00:48:58گدھے کے آزا جمع ہو کر
00:49:00آپس میں ملنے لگے
00:49:01ہڈیوں پر گوشت اور کھال آ گئی
00:49:03اور گدھا زندہ ہو کر
00:49:05آواز نکالنے لگا
00:49:07قدرت خداوندی کا یہ شاندار
00:49:09اور بے مثال نمونہ دیکھتے ہی
00:49:12آپ علیہ السلام کی زبان پر جاری ہو گیا
00:49:14کہ میں خوب جانتا ہوں
00:49:16کہ اللہ عزو جل
00:49:17ہر چیز پر قادر ہے
00:49:19ناظرین اگرامی
00:49:20اللہ تبارک و تعالی نے
00:49:22اپنے برگزیدہ پیغمبر
00:49:24حضرت سلمان علیہ السلام کو
00:49:26علم منطق التیر
00:49:27یعنی پرندوں سے باتیں کرنے کا علم
00:49:30بھی عطا فرمایا تھا
00:49:31آپ پرندوں ہی نہیں
00:49:32چرندوں درندوں
00:49:34اور دیگر تمام مخلوقات
00:49:36کی زبان بھی سمجھتے تھے
00:49:37اور ان سے انہی کی زبان میں
00:49:39باتیں بھی کیا کرتے تھے
00:49:41آپ علیہ السلام کی لشکر میں
00:49:43انسانوں جنوں چرندوں پرندوں
00:49:45اور درندوں کے علاوہ
00:49:47اللہ تعالی کی دیگر مخلوقات
00:49:49بہت بڑی تعداد میں شامل تھیں
00:49:51ناظرین حضرت سلمان علیہ السلام کی
00:49:54نسبت سے دو جانوروں کو
00:49:56یہ عزاز حاصل ہے
00:49:57کہ وہ جنت میں جائیں گے
00:49:59ایک تو آپ علیہ السلام کا
00:50:01حدود اور ایک وہ چیونٹی
00:50:03جس سے آپ علیہ السلام کی
00:50:05ملاقات کا تذکرہ سورہ نمل
00:50:07میں بھی موجود ہے
00:50:08اس ملاقات کے بارے میں کہا جاتا ہے
00:50:11کہ ایک روز حضرت سلمان علیہ السلام
00:50:13اپنے عظیم الشان لشکر
00:50:15کے ساتھ کہیں جا رہے تھے
00:50:17آپ علیہ السلام بہت رعب
00:50:19اور دب دبے والے بادشاہ تھے
00:50:21یہی وجہ تھی کہ لشکر انتہائی
00:50:23نظم و ضبط اور ترتیب
00:50:25کے ساتھ چل رہا تھا
00:50:26کسی کی مجال نہ تھی کہ اپنی مقررہ
00:50:29خدود سے ادھر ادھر ہو جائے
00:50:31سہراؤں سے گزرتا پہاڑوں کو
00:50:33سر کرتا دریاؤں کو عبور کرتا
00:50:35یہ عظیم الشان لشکر
00:50:37اس وقت ایک بڑی وادی سے
00:50:39گزر رہا تھا یہ وادی نملہ
00:50:41یعنی چونٹیوں کی وادی تھی
00:50:43زمین اور پہاڑوں میں کروڑوں
00:50:45سوراخ تھے جن میں چونٹیاں
00:50:47رہتی تھیں ان چونٹیوں کی
00:50:49ایک ملکہ تھی ملکہ چونٹی
00:50:51اپنی رعایہ چونٹیوں کا
00:50:53بہت خیال رکھتی تھی اور
00:50:55چونٹیوں کی اس سلطنت کا نظم و
00:50:57نسک بخوبی چلا رہی تھی
00:50:59تمام چونٹیاں اپنی ملکہ سے بہت
00:51:01پیار کرتی تھی اور اس کے ایک
00:51:03اشارے پر بڑے سے بڑا کام
00:51:05کرنے کو تیار رہتی تھی ملکہ
00:51:07چونٹی بہت سی دیگر چونٹیوں
00:51:09کے ساتھ وادی میں گھوم رہی تھی
00:51:11اچانک اسے زمین میں عجیب
00:51:13سی دھمک محسوس ہوئی
00:51:15وہ چونک کر رک گئی اور زمین
00:51:17سے آتی آواز کو غور سے سننے
00:51:19لگی ملکہ چونٹی بولی کہ
00:51:21لگتا ہے کہ کوئی بہت بڑی فوج
00:51:23ہماری وادی کی طرف آ رہی ہے
00:51:25یہ ضرور حضرت سلمان
00:51:27علیہ السلام کا لشکر ہے
00:51:28دیگر چونٹیوں نے بھی اس کی بات سے
00:51:31اتفاق کیا کچھ ہی دیر میں
00:51:33اس جانب سے دھول کے بادل
00:51:35اٹھتے دکھائی دینے لگے جلد
00:51:37ہی فوج قریب آ پہنچی
00:51:38حضرت سلمان علیہ السلام اپنے
00:51:41تخت پر سوار اپنی فوج
00:51:43کے ساتھ آ رہے تھے چونٹی کی
00:51:45ملکہ نے چیخ کر کہا
00:51:46حضرت سلمان علیہ السلام کی فوج
00:51:49قریب آ پہنچی ہے میں حکم دیتی
00:51:51ہوں کہ تمام چوٹیاں اپنے
00:51:53بلوں میں چلی جائیں حضرت سلمان
00:51:55علیہ السلام ہمیں کوئی نقصان
00:51:57پہنچانے نہیں آ رہے مگر انہیں
00:51:58کیا معلوم کہ تمہاری کثیر
00:52:01تعداد اس وادی میں ہے اور
00:52:02زمین پر رینگ رہی ہے جو ان کی
00:52:04فوج میں شامل انسانوں اور
00:52:06جانوروں کے پیروں تلے روندی جا سکتی ہے
00:52:09حضرت سلمان علیہ السلام
00:52:10تک ملکہ چونٹی کے آواز پہنچ
00:52:13گئی آپ علیہ السلام اس کی بات
00:52:14سن کر مسکرا دیئے اور ملکہ
00:52:16چونٹی کی سمجھداری اور
00:52:18اپنی رعایہ کے خیال رکھنے پر
00:52:20اس کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا
00:52:22کہ بے شک ایک بادشاہ کو
00:52:24اپنی رعایہ کی حفاظت کا
00:52:26اسی طرح خیال رکھنا چاہیے
00:52:28جس طرح ملکہ چونٹی نے کیا ہے
00:52:30یہ واقعہ قرآن مجید کی
00:52:32سورة النمل آیت نمبر پندرہ
00:52:34تا انیس میں یوں بیان کیا گیا ہے
00:52:37اور ہم نے دعود اور
00:52:38سلمان کو علم عطا کیا تھا
00:52:40اور ان دونوں نے کہا کہ
00:52:42کل شکر اور کل تعریف
00:52:45اس اللہ کے لئے ہے جس
00:52:48مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی
00:52:51اور دعود کا وارث سلمان ہوا
00:52:53اس نے کہا اے لوگو
00:52:55ہمیں پرندوں کی بولیوں کا علم
00:52:57دیا گیا ہے اور ہمارے لئے
00:52:59ہر شئے مہیا کر دی گئی ہے
00:53:01بے شک یہ کھلا ہوا فضل ہے
00:53:03اور جمع ہوا لشکر
00:53:05سلمان کے لئے جنوں انس
00:53:07پرندوں کا اور وہ درجہ
00:53:09بدرجہ ایک نظم و ضبط کے
00:53:11ساتھ آگے پیچھے چل رہے تھے
00:53:13یہاں تک کہ واد یہ نمل میں پہنچے
00:53:15تو ایک چونٹی نے کہا
00:53:17اے چونٹیو اپنے اپنے گھروں
00:53:19میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو
00:53:21کہ سلمان اور اس کے لشکر تمہیں
00:53:23روند ڈالیں چونٹی کی یہ بات
00:53:25سن کر سلمان ہنس پڑے اور
00:53:27کہا اے پروردگار مجھے
00:53:29توفیق دے میں تیرا شکر
00:53:31ادا کر سکوں جو تُو نے مجھ پر
00:53:33اور میرے والدین پر انعام
00:53:35کیا ہے اور یہ کہ میں نیک
00:53:37عمل کروں جو تیرے نزدیک
00:53:39پسند دیدہ ہے اور مجھ کو اپنی
00:53:41رحمت سے اپنے نیک مندوں
00:53:43میں داخل فرما حضرت سلمان
00:53:45علیہ السلام نے اس چونٹیو کو
00:53:47اٹھا کر اپنی ہتھیلی پر رکھا
00:53:48اور پوچھا بتا تیری سلطنت
00:53:51بڑی اور وسیع ہے
00:53:52یا میری سلطنت بڑی ہے چونٹی
00:53:55نے کہا کس کی سلطنت پر عظمت
00:53:57ہے یہ اللہ کو معلوم ہے
00:53:59مگر اس وقت میرا تخت سلمان
00:54:01کا ہاتھ ہے سورة النمل میں
00:54:03حضرت سلمان علیہ السلام کی
00:54:04قیادت کا ذکر کیا گیا ہے
00:54:06کہ انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں
00:54:09سے جملہ مخلوقات کو
00:54:11کس طرح اپنے تصرفات کے احاتے
00:54:13میں لیا ہوا تھا
00:54:14آئمہ اور مفسرین بیان کرتے ہیں
00:54:17کہ آپ علیہ السلام کی قائم کردہ
00:54:19پارلیمنٹ کے چھے سو سے
00:54:21زائد عراقین تھے
00:54:23آپ سلطنت کے مختلف کاموں
00:54:25کو سرانجام دینے میں ہر
00:54:27مخلوق سے کام لیا کرتے تھے
00:54:29جب پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا
00:54:31تو ہر شخص کو اس کی
00:54:33مشاورت میں شریک کیا جاتا
00:54:35ہدھدوسی دربار میں پرندوں کی
00:54:37نمائندگی کرتا تھا
00:54:38اللہ رب العزت نے
00:54:40اسے یہ صلاحیت دے رکھی تھی
00:54:42کہ زیر زمین پانی کے
00:54:44زخائر کا پتہ تک چلا لیتا تھا
00:54:47اس طرح وہ حضرت سلمان
00:54:49علیہ السلام کے سفر کے دوران
00:54:51حصول آپ کا اہم فریضہ
00:54:53بھی ادا کرتا تھا
00:54:54چنانچہ اس سورہ میں
00:54:56ہدھد سے مراد وہ خاص پرندہ ہے
00:54:58جسے حضرت سلمان علیہ السلام
00:55:01کے درباری کی حیثیت حاصل تھی
00:55:03حضرت سلمان علیہ السلام
00:55:05نے اسے اپنے زیر تربیت
00:55:07رکھا تھا آپ علیہ السلام
00:55:08کی بارگاہ سے اس نے
00:55:10ذہانت نظم و نسق اور
00:55:12عدب بجا لانے کے اصول و
00:55:14زوابط سکھے ناظرین یوں تو
00:55:16سبھی پرندے حضرت سلمان
00:55:18علیہ السلام کے مسخر اور
00:55:19تابع فرمان تھے لیکن آپ کا
00:55:21حدود آپ کی فرما برداری اور
00:55:23خدمت گزاری میں بہت مشہور ہے
00:55:26اسی حدود نے آپ کو
00:55:27ملک سبا کی ملکہ بلقیس
00:55:30کے بارے میں خبر دی تھی
00:55:31کہ وہ ایک بہت بڑی تخت پر
00:55:33بیٹھ کر سلطنت کرتی ہے اور
00:55:37شان جو بھی سر و سامان ہوتا ہے
00:55:39وہ سب کچھ اس کے پاس ہے
00:55:41مگر وہ اور اس کی قوم
00:55:43ستاروں کے پجاری ہیں
00:55:44اس خبر کے بعد حضرت سلمان علیہ السلام
00:55:47نے بلقیس کے نام جو خط
00:55:49ارسال فرمایا اس کو یہی
00:55:51حدود لے کر گیا تھا چنانچہ
00:55:52قرآن کریم کا ارشاد ہے
00:55:54کہ حضرت سلمان علیہ السلام نے
00:55:56فرمایا تم میرا یہ خط لے کر
00:55:59جاؤ اور ان کے پاس یہ خط
00:56:00ڈال کر پھر ان سے الگ ہو کر
00:56:03تم دیکھو کہ وہ کیا جواب
00:56:05دیتے ہیں چنانچہ حدود خط
00:56:06لے کر گیا اور بلقیس کی گود
00:56:08میں اس خط کو اوپر سے گرا دیا
00:56:11اس وقت اس نے اپنے گرد
00:56:13امرہ اور ارکان سلطنت
00:56:15کا مجموعہ ایک کٹھا کیا
00:56:16پھر اس خط کو پڑھ کر لرزہ
00:56:18براندام ہو گئی اور
00:56:20اپنے عراقین سے یہ کہا
00:56:22کہ اے سردارو بے شک
00:56:24میری طرف ایک عزت والا خط
00:56:27ڈالا گیا ہے بے شک وہ
00:56:28سلمان کی طرف سے ہے اور بے شک
00:56:31وہ اللہ کے نام سے ہے جو
00:56:32نہایت مہربان رحم والا
00:56:35ہے یہ کہ مجھ پر
00:56:36بلندی نہ چاہو اور گردن
00:56:38رکھتے میرے حضور حاضر ہو
00:56:41خط سنا کر بلقیس نے
00:56:43اپنی سلطنت کے امیروں اور
00:56:44وزیروں سے مشورہ کیا تو ان
00:56:46لوگوں نے اپنی طاقت اور جنگی
00:56:48مہارت کا اعلان اور اظہار کر کے
00:56:51حضرت سلمان علیہ السلام سے
00:56:53جنگ کا ارادہ ظاہر کیا
00:56:55اس وقت اقل مند بلقیس نے
00:56:57اپنے امیروں اور وزیروں کو سمجھایا
00:56:59کہ جنگ مناسب نہیں ہے کیونکہ
00:57:01اس سے شہر ویران اور شہر
00:57:03کے عزت دار باشند زلیل
00:57:05و خوار ہو جائیں گے اس لیے
00:57:07میں یہ مناسب خیال کرتی ہوں
00:57:09کہ کچھ حد دایا اور تحائف
00:57:11ان کے پاس بھیج دوں اس سے
00:57:13امتحان ہو جائے گا کہ حضرت
00:57:15سلمان علیہ السلام صرف بادشاہ
00:57:17ہیں یا اللہ عزو جل کے نبی
00:57:19بھی اگر وہ نبی ہوں گے تو ہرگز
00:57:21میرا حدیہ قبول نہیں کریں گے
00:57:23بلکہ ہم لوگوں کو اپنے دین
00:57:25کے اتباع کا حکم دیں گے
00:57:27اور اگر وہ صرف بادشاہ ہوں گے
00:57:29تو میرا حدیہ قبول کر کے
00:57:31نرم ہو جائیں گے چنانچہ بلکیس
00:57:33نے پانچ سو غلام پانچ سو
00:57:35لونڈیاں بہترین لباس
00:57:37اور زیوروں سے آراستہ کر کے بھیجے
00:57:39اور ان لوگوں کے ساتھ
00:57:41پانچ سو سونے کی اینٹیں
00:57:43اور بہت سے جواہرات اور
00:57:45مشکو عمبر اور ایک جڑا
00:57:47اتاج ما ایک خط کے
00:57:49اپنے قاسد کے ساتھ بھیجا
00:57:51ہدھ ہدھ سب دیکھ کر روانہ
00:57:53ہو گیا اور حضرت سلمان
00:57:55علیہ السلام کے دربار میں آ کر
00:57:56سب خبریں پہنچا دیں چنانچہ
00:57:58بلکیس کا قاسد جب چند
00:58:00دنوں کے بعد تمام سامانوں
00:58:03کو لے کر دربار میں حاضر ہوا
00:58:05تو حضرت سلمان علیہ السلام
00:58:07نے غضبناک ہو کر قاسد سے
00:58:09فرمایا کیا مال سے میری
00:58:10مدد کرتے ہو تو جو مجھے
00:58:13اللہ نے دیا وہ بہتر ہے
00:58:15اس سے جو تمہیں دیا
00:58:16بلکہ تم اپنے تحفے پر خوش ہوتے
00:58:18ہوئے پلٹ جا ان کی طرف
00:58:20تو ضرور ہم ان پر وہ
00:58:22لشکر لائیں گے جن کی انہیں
00:58:24طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم
00:58:26ان کو اس شہر سے زلیل کر کے
00:58:28نکال دیں گے یوں کہ وہ پست
00:58:30ہوں گے چنانچہ اس کے بعد جب
00:58:32قاسد نے واپس آ کر بلکیس کو
00:58:34سارا ماجرہ سنا دیا تو
00:58:36بلکیس حضرت سلمان علیہ السلام
00:58:38کے دربار میں حاضر ہو گئیں
00:58:40اور حضرت سلمان علیہ السلام
00:58:42کا دربار اور یہاں کے
00:58:43عجائبات دے کر اس کو یقین آ گیا
00:58:46کہ حضرت سلمان علیہ السلام
00:58:48خدا عزو جل کے نبی برحق ہیں
00:58:50اور ان کی سلطنت اللہ تعالی
00:58:52کی طرف سے ہے حضرت سلمان
00:58:54علیہ السلام نے بلکیس کو
00:58:56اپنے دین کی دعوت دی تو اس نے
00:58:58نہایت ہی اخلاص کے ساتھ
00:59:00اسلام قبول کر لیا پھر حضرت
00:59:02سلمان علیہ السلام نے بلکیس
00:59:04سے نکاح کر کے اس کو اپنے
00:59:06محل میں رکھ لیا اس سلسلے
00:59:08میں حدود نے جو کارنامہ انجام
00:59:10دیئے وہ بلا شبہ عجائبات
00:59:12عالم میں سے ہیں جو یقیناً
00:59:14حضرت سلمان علیہ السلام کی
00:59:16موجزات میں سے ہیں اس سی نسبت
00:59:18سے اس حدود کو بھی یہ
00:59:20عزاز حاصل ہے کہ یہ جنت
00:59:22میں جائے گا ناظرین اب آپ کو
00:59:24بتاتے ہیں اس آخری جانور
00:59:26کے بارے میں جو کہ جنت میں جائے گا
00:59:28تو وہ ہے اصحاب
00:59:30کہف کا کتہ اصحاب
00:59:32کہف کے کتے کے بارے میں جاننے
00:59:34سے پہلے آپ کو کچھ تفصیل
00:59:36اصحاب کہف کے بارے میں بھی
00:59:38بتاتے چلیں ناظرین ہمارے پیارے
00:59:40آقا حضرت محمد مصطفی
00:59:42صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:59:44کے دور میں کچھ قریش مکہ
00:59:46ایک یہودی عالم کے پاس گئے
00:59:48اور اس سے کہا کہ حضور
00:59:50صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
00:59:52ایسا کیا سوال پوچھا جائے
00:59:54کہ ان کے نبی ہونے کی حقیقت واضح
00:59:56ہو جائے اس کے جواب میں یہودی
00:59:58عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
01:00:01سے تین سوال پوچھنے
01:00:02کو کہا جن میں ایک سوال
01:00:04یہ تھا کہ اصحاب کہف کون
01:00:06تھے لہٰذا اللہ پاک نے
01:00:08اپنے پیارے محبوب صلی اللہ
01:00:10علیہ وآلہ وسلم کو
01:00:12اس کا جواب قرآن پاک کی
01:00:14صورت القحف کے اندر مکمل
01:00:16وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا
01:00:18ناظرین حضرت عیسیٰ
01:00:20علیہ وآلہ وسلم کا دور تھا جب اللہ
01:00:21تعالی نے آپ علیہ وآلہ وسلم کو
01:00:23آج کے دور کے فلسطین کے علاقے میں
01:00:26اسلام کی تبلیغ کے لیے بھیجا
01:00:28یہ علاقہ اس وقت رومن
01:00:30ایمپائر میں شمار ہوتا تھا
01:00:32یہ بتپرست لوگ تھے
01:00:33یہاں ایک یہودی بادشاہ کی حکمرانی
01:00:36تھی جو رومن حکومت کے
01:00:37ماتحت کام کرتا رہتا تھا
01:00:39جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے
01:00:41تبلیغ شروع کی تو رومی لوگ
01:00:44آپ علیہ السلام کے مخالف ہو گئے
01:00:46اور آپ علیہ السلام کو گرفتار کر کے
01:00:48سولی پر لٹکانا چاہا
01:00:50مگر اللہ کے حکم سے آپ علیہ السلام
01:00:52کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا
01:00:54اس واقعے کے کچھ عرصے کے بعد
01:00:56یہودی لوگوں نے رومی حکومت
01:00:58کے خلاف بغاوت کر دی
01:01:00لہٰذا اس کے رد عمل میں
01:01:02انقعہ ہو کر ٹرٹرس نامی
01:01:04رومی بادشاہ نے یروشلم
01:01:06اور فلسطین پر حملہ کر کے
01:01:08بلکل تباہ کر دیا
01:01:09حتیٰ کہ بیت المقدس کو بھی تباہ کر دیا
01:01:12اسی دوران اس نے
01:01:14ڈیڑھ لاکھ یہودیوں کو قتل کر دیا
01:01:16جو بچے کھچے یہودی یہاں رہ گئے تھے
01:01:19وہ جان بچا کر
01:01:20فلسطین سے نکل گئے
01:01:21مگر جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
01:01:24ماننے والے اور ان کی تعلیمات
01:01:26کے پیروکار تھے صرف وہی
01:01:28فلسطین میں موجود رہ گئے
01:01:29جو کہ رومی تھا اور بت پرست تھا
01:01:32لہٰذا اس کی حکومت میں موجود
01:01:34عیسائی لوگوں پر اس نے
01:01:36ظلم و ستم کرنا شروع کر دیئے
01:01:38ایک دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام
01:01:40کے چند ماننے والے حواریوں کو
01:01:42اس نے اپنی دربار میں بلایا
01:01:44اور ان سے کہا کہ میں تمہیں
01:01:46چند دن کی مولت دیتا ہوں
01:01:48تم اپنے نئے دین یعنی عیسائیت
01:01:50سے باز آ جاؤ ورنہ میں تمہیں
01:01:52قتل کر دوں گا
01:01:53عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار یہ نوجوان
01:01:56لوگ دراصل اصحاب قحف تھے
01:01:58جن کے واقعے کا ذکر
01:02:00قرآن مجید میں سورہ قحف
01:02:02میں وضاحت سے آیا ہے
01:02:04ان نوجوانوں نے یہ جب دھمکی سنی
01:02:06تو وہ ششدر ہو گئے کیونکہ
01:02:08وہ بادشاہ سے لڑنے کی حمد تو
01:02:10نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی شہر میں
01:02:12رہ کر عیسائی تعلیمات
01:02:14جاری رکھ سکتے تھے ورنہ دقیانوسی
01:02:16انہیں قتل کروا دیتے لہٰذا
01:02:18انہوں نے شہر چھوڑ کر کہیں
01:02:20بھاگ جانے کا فیصلہ کیا اور
01:02:22اللہ پاک کی ذات پر بھروسہ کر کے
01:02:24شہر سے نکل پڑے
01:02:25یہ سوچتے ہوئے کہ اب اللہ پاک
01:02:28ہی ہمارے لیے کوئی فیصلہ فرمائے
01:02:30کا اور کوئی راستہ نکالے کا
01:02:32یہاں تک کہ وہ ایک پہاڑ
01:02:34کے غار میں جا کر چھپ گئے
01:02:36اور وہیں سو گئے
01:02:38یہاں تک کہ سوتے سوتے ان پر
01:02:40تین سو سال کا عرصہ گزر گیا
01:02:42ان چند نوجوانوں نے
01:02:44جب غار میں پناہ لی تو دعا
01:02:46کی کہ اے ہمارے پروردگار
01:02:48ہمیں اپنے پاس سے رحمت
01:02:50عطا فرما اور ہمارے کام میں
01:02:52ہمارے لیے راہیابی کو
01:02:54آسان کر دے پس ہم نے
01:02:56ان کے کانوں پر گنتی کے
01:02:58کئی سال تک اسی غار میں
01:03:00پردے ڈال دیئے دقیانوس نے
01:03:02جب ان لوگوں کو تلاش کروایا
01:03:04تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ اسی غار
01:03:06میں موجود ہیں اسے بہت
01:03:08خصا آیا حکم دیا کہ غار
01:03:10کو ایک مضبوط دیوار سے
01:03:12بند کر دیا جائے تاکہ یہ لوگ
01:03:14اندر ہی مر جائیں بادشاہ نے
01:03:15جس شخص کے ذمہ یہ کام لگایا
01:03:18وہ بہت ہی نیک اور اماندار
01:03:20تھا اس نے اصحاب قحف
01:03:22کے نام اور ان کی تعداد
01:03:24اور پورا واقعہ ایک تختی
01:03:26پر لکھوا کر لوہے کے
01:03:28صندوق میں رکھ کر دیواروں
01:03:30کی بنیادوں میں رکھ دیا اور
01:03:31ایک تختی شاہی خزانے
01:03:33میں بھی رکھوا دی اس تین
01:03:35سو سال کے دوران دقیانوس
01:03:37بادشاہ مر گیا اور کئی
01:03:39بادشاہ اور حکومتیں آئیں اور
01:03:41چلی گئیں یہاں تک کہ تین
01:03:43سو عیسوی رومن ایمپائر نے بھی
01:03:46عیسائیت اختیار کر لی
01:03:47چار سو چالیس عیسوی میں
01:03:49بیدروس نامی عیسائی بادشاہ کی
01:03:51حکومت آئی جو ایک نیک دل اور
01:03:53انصاف پسند بادشاہ تھا
01:03:55اس نے اٹھ سٹھ سال تک
01:03:57حکومت کی اس کے دور میں
01:03:59مذہبی فرقہ پسندی جب
01:04:01اروج پر پہنچ گئی اور لوگوں میں
01:04:03مرنے کے بعد دوبارہ زندہ
01:04:05کیے جانے اور قیامت کا یقین
01:04:07ختم ہوتا جا رہا تھا
01:04:09قوم کا یہ حال دیکھ کر بادشاہ
01:04:11بہت رنجیدہ ہوا اور
01:04:13اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ
01:04:15کچھ ایسی نشانی ظاہر فرما
01:04:17کہ میری قوم کے لوگوں کا
01:04:19ایمان پھر سے تازہ ہو جائے
01:04:21انہیں قیامت مرنے کے بعد
01:04:23دوبارہ زندہ کیے جانے اور
01:04:25ایک خدا کا یقین ہو جائے
01:04:27اللہ تعالی نے اس کی یہ دعا قبول
01:04:29فرمائی لہٰذا ایک روز
01:04:31ایک چروہہ اپنی بکریوں کو
01:04:33ٹھہرانے کے لیے اس غار کے پاس
01:04:35پہنچا یہ وہی غار تھا
01:04:37جس میں اصحاب کحف موجود تھے
01:04:39اس چروائے نے چند لوگوں
01:04:41کے ساتھ مل کر اس دیوار کو گرا دیا
01:04:43دیوار کے گرتے ہی
01:04:45لوگوں پر ایسی حیبت اور خوف تاری
01:04:47ہوا کہ سب گھبرا کر وہاں سے
01:04:49بھاگ نکلے یوں اللہ تعالی کے
01:04:51حکم سے اصحاب کحف
01:04:53اپنی نیند سے بیدار ہوئے اور
01:04:55ایک دوسرے سے سلام کلام کرنے
01:04:57لگے اور اپنے ایک ساتھی
01:04:59یملیخہ کو بازار سے کھانا
01:05:01لانے بھیجا جب یملیخہ بازار
01:05:03پہنچے تو یہ دیکھ کر
01:05:05حیران رہ گئے کہ شہر میں ہر طرف
01:05:07اسلام کا چرچہ ہے یہاں تک
01:05:09کہ لوگ اعلانیاں حضرت عیسی
01:05:11علیہ السلام کا کلمہ پڑھ رہے ہیں
01:05:13اور ان کی تعلیمات پر عمل بھی
01:05:15کر رہے ہیں اس کشمکش میں
01:05:17یملیخہ نے کھانے کے عوض
01:05:18اپنے زمانے کے سکھے دکاندار
01:05:21کو دیئے دکاندار نے جب یہ
01:05:23سکھے دیکھے تو شک ہوا
01:05:24کہ شاید اس شخص کو پرانا
01:05:27خزانہ مل گیا ہے لہٰذا اس نے
01:05:29یملیخہ کو سپائیوں کے سپرد
01:05:31کر دیا سپائیوں نے یملیخہ سے
01:05:33پوچھا کہ بتاؤ یہ خزانہ
01:05:34کہاں سے آیا یملیخہ نے کہا
01:05:37کہ ہمارے پاس کوئی خزانہ نہیں ہے
01:05:39یہ ہمارا ہی پیسہ ہے
01:05:40سپائیوں نے کہا کہ ہم کیسے مان لیں
01:05:42کیونکہ یہ سکھے تین سو سال
01:05:44پرانے ہیں یملیخہ نے کہا
01:05:46کہ پہلے مجھے بتاؤ کہ دکانوس
01:05:48بادشاہ کا کیا حال ہے
01:05:50سپائیوں نے جواب دیا کہ آج
01:05:52اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ہے
01:05:54مگر سیکڑوں سال پہلے
01:05:56اس نام کا ایک بے ایمان
01:05:58بادشاہ گزرا ہے وہ
01:06:00بدپرست تھا یہ سن کر
01:06:02یملیخہ حیران اور پریشان ہوئے
01:06:04اور بتایا کہ ہم کل تو
01:06:06اس کے شہر سے اپنا ایمان
01:06:08اور جان بچا کر بھاگے تھے
01:06:10اور میں اور میرے ساتھی قریب کے
01:06:12ایک غار میں چھپ گئے تھے جبکہ
01:06:14میرے باقی ساتھی اب بھی
01:06:16غار میں موجود ہیں تم میرے ساتھ
01:06:18چل کر خود ہی دیکھ لو جب سپاہی
01:06:20اور بہت سے لوگ اس غار کے پاس
01:06:23پہنچے تو اصحاب کحف
01:06:24یملیخہ کے انتظار میں تھے
01:06:26جب غار پر بہت سارے آدمی پہنچے
01:06:29اور شور و غل سنائی دینے لگا
01:06:31تو اصحاب کحف سمجھے
01:06:33کہ دقیانوس کی فوج ہمارا
01:06:34تعقب کر کے غار تک آ پہنچی ہے
01:06:37لہٰذا وہ اللہ کے ذکر
01:06:39و حمد و سنا میں مشغول ہو گئے
01:06:41سپاہیوں نے غار پر پہنچ کر
01:06:43تانبے کا وہ صندوق برامت
01:06:45کر لیا اور اس کے اندر سے
01:06:46تختی کو نکال کر پڑھا
01:06:48تو وہاں اصحاب کحف کے نام
01:06:51اور یہ لکھا تھا
01:06:52کہ یہ مومنوں کی جماعت ہے
01:06:54جو اپنے دین کی حفاظت کے لیے
01:06:56دقیانوس بادشاہ کے خوف سے
01:06:58اس غار میں پناہ گزی ہوئی ہے
01:07:00دقیانوس نے اس غار کے موں کو بند کروا دیا ہے
01:07:03سپاہی یہ دیکھ کر
01:07:04حیران اور پریشان رہے گئے
01:07:06جب کچھ سمجھ نہ آیا تو اپنے
01:07:08بادشاہ بے دروس کو اطلاع دی
01:07:10بادشاہ نے یہ خبر سنی تو
01:07:12فوراں اپنے عمراء اور علماء کے حمراء پہنچ گئے
01:07:15اصحاب کحف نے غار سے نکل کر
01:07:18تمام واقعہ بادشاہ سے بیان کیا
01:07:20بے دروس نے سجدہ گزار ہو کر
01:07:23اللہ تعالی کا شکر ادا کیا
01:07:25کہ اے اللہ میری دعا قبول ہوئی
01:07:28اور آپ نے ایسی نشانی ظاہر فرمائی
01:07:30کہ انسان موت کے بعد زندہ ہونے کا یقین ضرور کرے گا
01:07:34اس کے بعد اصحاب کحف نے بادشاہ کو دعا دی
01:07:37اور سلام کرنے کے بعد دوبارہ اسی غار میں واپس چلے گئے
01:07:41اور دوبارہ واپس جا کر سو گئے
01:07:43اور اسی حالت میں اللہ تعالی نے انہیں موت دے دی
01:07:47بادشاہ نے اسی غار میں ان کی قبریں بنوائیں
01:07:50اور سالانہ ایک دن مقرر کر دیا
01:07:53جب لوگ اصحاب کحف کی قبروں کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے
01:07:57اس سلسلے میں متعدد قول پائے جاتے ہیں
01:08:00حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہے
01:08:02کہ کیونکہ ان اصحاب کے نام ایک تختی پر کندہ تھے
01:08:06اس لیے انہیں رقیم کہا جاتا ہے
01:08:09اور انہی کا یہ قول بھی ہے
01:08:10کہ رقیم اس بستی کا نام ہے
01:08:12جس کے پہاڑوں کے ایک غار میں یہ چھپے ہوئے تھے
01:08:16البتہ جمہور اور محدثین
01:08:18ان کے ایک ہی جماعت ہونے پر متفق ہیں
01:08:21سورة القحف آیت نمبر نو میں
01:08:23ارشاد ربانی ہے
01:08:25کہ کیا تو اپنے خیال میں غار اور کتبے والوں کو
01:08:29ہماری نشانیوں میں سے کوئی بہت عجیب نشانی سمجھ رہا ہے
01:08:33آثار قدیمہ کی تحقیقات کے
01:08:35جو جدید انکشافات کیے گئے ہیں
01:08:38ان میں سب سے نمائیان اسی شہر رقیم کی دریافت ہے
01:08:41اور جس قدر تحقیق کی جا رہی ہے
01:08:43اس سے قرآن مجید کی حرف بحرف تصدیق ملتی ہے
01:08:47کسی بھی صحیح حدیث سے
01:08:49اصحاب قحف کے نام اور تعداد صحیح ثابت نہیں
01:08:53تفسیری اور تاریخی واقعات میں
01:08:55نام مختلف بیان کیے گئے ہیں
01:08:57ناظرین ہم امید کرتے ہیں
01:08:59کہ ہماری آج کی یہ ویڈیو آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
01:09:03اور اپنے دوستوں کے ساتھ اس ویڈیو کو شیئر بھی کریں گے
01:09:06اگر آپ نے ویڈیو آخر تک دیکھی ہے
01:09:08تو کمنٹس کر کے ہمیں ضرور بتائیے گا
01:09:11کہ آپ نے یہ ویڈیو آخر تک دیکھی
01:09:13آنے والی ویڈیو تک
01:09:15اپنے میزبان قادر بخش کلھوڑوں کو اجازت دیجئے
01:09:18اللہ حافظ
Be the first to comment