Shaitan Ki Anbiya-e-Kiram Aur Auliya Allah Se Mulaqatain | Iman Afroz Waqiat
Is video mein Shaitan ki Anbiya-e-Kiram aur Auliya Allah se hui mulaqaton ke hairat angez aur iman afroz waqiat bayan kiye gaye hain. Yeh kahaniyan humein haq aur batil ke darmiyan farq samjhati hain aur iman ko mazboot karti hain.
🎙️ Voiced By: Qadir Kalhoro
#IslamicStories #ImanAfroz #Anbiya #AuliyaAllah #IslamicKnowledge #MotivationalVideo #Storytelling #QadirKalhoro
Is video mein Shaitan ki Anbiya-e-Kiram aur Auliya Allah se hui mulaqaton ke hairat angez aur iman afroz waqiat bayan kiye gaye hain. Yeh kahaniyan humein haq aur batil ke darmiyan farq samjhati hain aur iman ko mazboot karti hain.
🎙️ Voiced By: Qadir Kalhoro
#IslamicStories #ImanAfroz #Anbiya #AuliyaAllah #IslamicKnowledge #MotivationalVideo #Storytelling #QadirKalhoro
Category
📚
LearningTranscript
00:00بسم الله الرحمن الرحیم السلام علیکم
00:02شیطان کو بدی کی ایک ایسی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو ہر لمحے انسان کو غلط راستے پر جانے اور اسے ورغلانے کی کوشش کرتا ہے
00:11دنیا کے مختلف مذاہب میں شیطان کا تصور موجود ہے اور اسے ہر جگہ منفی اور برے عمل کا نمائدہ سمجھا جاتا ہے
00:19جس کے ساتھ سزا اور عذاب کا تصور بھی منسلک ہے
00:23لوگ عام طور پر اچھائی کو فرشتوں سے اور برائی کو شیطان سے منصوب کرتے ہیں
00:28مسلمانوں میں یہ مانا جاتا ہے کہ ابلیس ایک ایسا جن تھا جو کسی زمانے میں اللہ کا بڑا عبادت گزار تھا
00:35اس نے ہزاروں سال تک اللہ کی عبادت کی اور یہ امید رکھتا تھا کہ اللہ اسے ایک خاص مقام عطا کرے گا
00:43اس کی عبادت گزاری کے باعث اس کے دل میں غرور پیدا ہو گیا
00:47اور وہ خود کو آسمانوں پر سب سے زیادہ عابد سمجھنے لگا
00:51مگر جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا
00:56اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کرے
00:59تو اس نے اسے اپنی شان کے خلاف سمجھا
01:02ابلیس نے آدم کو حکارت سے دیکھا
01:04اور اللہ تعالیٰ کو جواب دیا کہ وہ کیوں مٹی سے بنے ہوئے انسان کو سجدہ کرے
01:09جبکہ وہ خود آگ سے بنا ہے اور وہ خود کو آدم پر برتر سمجھتا ہے
01:14اس گستاخی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو معتوب قرار دیا
01:18اور اسے جنت سے نکل جانے کا حکم دیا
01:21ابلیس نے اللہ سے اپنی عبادت کا سلح مانگا
01:24جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک انسانوں کو گمراہ کرنے کا اختیار دے دیا
01:30اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا
01:31کہ جو لوگ اللہ کے سچے بندے ہوں کے وہ ابلیس کی گمراہی سے محفوظ رہیں گے
01:36حضرت آدم علیہ السلام جو اللہ کے نبی تھے
01:39اپنے آمال و افعال میں شیطان کے بالکل مخالف تھے
01:43اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی تبلیغ و فروغ کے لیے
01:47ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے
01:49ان پیغمبروں نے حق کے راستے پر چلتے ہوئے بے شمار مشکلات کا سامنا کیا
01:54اور اللہ کے دین پر مضبوطی سے قائم رہے
01:57انہوں نے سبر و استقامت سے شیطان کی چالوں کا مقابلہ کیا
02:00اور کبھی بھی اس کے بہکاوے میں نہیں آئے
02:03شیطان نے ہر ممکن طریقے سے ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈالیں
02:07اور مسئیبتیں کھڑی کی
02:08لیکن ان پیغمبروں نے ہمیشہ اللہ کے حکم کو ترجیح دی
02:12اور ثابت قدمی کے ساتھ اس کے راستے پر چلتے رہے
02:16یوں تو یہ کہا جاتا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے
02:19جو اسے برائی پر اکساتا رہتا ہے
02:22لیکن کچھ روایات کے مطابق چند انبیاء اور اولیاء اللہ کو
02:26شیطان مجسم صورت میں نظر آیا اور ان سے ملاقات کی
02:30ناظرین آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ کو بتائیں گے
02:33کہ وہ کون سے نبی اور ولی اللہ تھے
02:36جن سے شیطان نے ملاقات کی
02:38کب اور کیسے یہ ممکن ہوا
02:39اور اس ملاقات میں شیطان نے ان سے کیا کیا باتیں کی
02:43ویڈیو کو آخر تک دیکھئے
02:45تاکہ آپ کو مکمل معلومات حاصل ہو سکے
02:48لیکن اس سے پہلے اگر آپ نے ابھی تک
02:50ہمارا چینل راہ حیات سبسکرائب نہیں کیا
02:53تو براہ کرم ابھی کر لیں
02:55ساتھ ہی بیل کے بٹن کو بھی دبا دیں
02:57تاکہ ہماری آنے والی ہر نئی ویڈیو کا نوٹفیکشن
03:00آپ تک بروقت پہنچ سکے
03:02ناظرین اہل عرب ابلیس کو بلس سے ماخوز کہتے ہیں
03:06جس کے معنی نا امید ہونے کے ہیں
03:08ابلیس کو اس نام سے اس لیے پکارا جاتا ہے
03:11کہ وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو چکا ہے
03:13اور ایک ایسی مخلوق ہے
03:15جسے اللہ کے قہر کا سامنا کرنا ہوگا
03:17اسی وجہ سے اسے شیطان اور عدو اللہ
03:20یعنی اللہ کا دشمن بھی کہا جاتا ہے
03:23اور یہ انسان کا کھلا دشمن بھی مانا جاتا ہے
03:26شروع دن ہی سے
03:27ابلیس کے دل میں حضرت آدم علیہ السلام کے خلاف حسد پیدا ہو گیا تھا
03:32یہ حسد اتنا شدید ہوا
03:33کہ اس نے بخص کی صورت اختیار کر لی
03:36اور پھر ابلیس نے ہوا کو بہکایا
03:38تاکہ حضرت آدم اور امہ ہوا جنت سے نکل جائیں
03:41اس کے بعد ابلیس نے قیامت تک کے لیے
03:44انسانیت کے خلاف دشمنی کا عظم کیا
03:47اور اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی
03:49کہ وہ انسانوں کو بہکانے کے اس مشن کو جاری رکھے
03:52اللہ نے اس کے لیے محلت دے دی
03:54اور ابلیس نے انسانیت کو گمراہ کرنے کی یہ مہم شروع کر دی
03:59جو روز حشر تک جاری رہے گی
04:01اس دن ابلیس کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیا جائے گا
04:04جہاں وہ اپنے انجام کو پہنچے گا
04:06بائبل میں بھی ابلیس کا قصہ تقریباً اسی طرح سے بیان ہوا ہے
04:11علامہ زمخشری نے ابلیس کو جن قرار دیا ہے
04:14کیونکہ قرآن میں ہے کہ وہ جن میں سے تھا
04:17تاہم کچھ علماء نے ابلیس کو فرشتہ سمجھا ہے
04:20اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ جن فرشتوں میں شامل تھے اور جنت کے محافظ تھے
04:25جن کو نارے سموم یعنی ایک تیز آگ سے پیدا کیا گیا
04:29جبکہ فرشتے نور سے تخلیق ہوئے
04:31ابتدا میں جنات زمین پر آباد تھے
04:34لیکن جب وہ آپس میں لڑنے لگے
04:36تو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو ان کے پاس بھیجا
04:39بعض روایات میں ذکر ہے کہ ابلیس زمین پر بسنے والے جنات میں سے تھا
04:44انجامکار شیطان اور اس کے ساتھیوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا
04:48جہاں وہ اپنے پیروکاروں سے کہے گا
04:50کہ تم پر لانت ہو اب تم ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہو گے
04:55شیطان آدم کی اولاد کو بہکانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے
04:58لیکن نیک بندے اس کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں
05:01قرآن میں ابلیس کا ذکر سب سے پہلے سورت بقرہ کے تیسرے رکو میں آتا ہے
05:07جہاں تخلیق آدم اور فرشتوں کو سجدے کا حکم دینے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے
05:12اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
05:13اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو
05:18تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے
05:20اس نے انکار کیا تکبر کیا اور کافر ہو گیا
05:24ناظرین اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام مخلوقات کے نمونے
05:28اور روحانی و جسمانی کمالات کا مچموعہ بنا کر پیدا فرمایا
05:32اور فرشتوں کے لیے حصول کمالات کا ایک ذریعہ بنایا
05:36اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا
05:39کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں
05:42اس حکم میں حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کا اعتراف تھا
05:45اور اس سے قبل فرشتوں کے کیا آپ اس میں فساد کرنے والے بنائیں گے
05:50اس کے سوال کا جواب بھی تھا
05:52چنانچہ تمام فرشتوں نے بشمول مقرب فرشتوں کے
05:55اللہ کے حکم کی تعمیل میں سجدہ کیا
05:58لیکن ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا
06:01اس نے اپنے تکبر میں یہ سمجھا
06:03کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام سے افصل ہے
06:06اور یہ کہ ایک عظیم عبادت گزار
06:08فرشتوں کا استاد اور مقرب بارگاہِ الہی ہونے کے ناتے
06:12اسے سجدہ کرنے کا حکم دینا حکمت کے خلاف ہے
06:16ابلیس کے اس غلط عقید اللہ کے حکم سے انکار
06:20اور نبی کی تعظیم سے تکبر کی بنا پر وہ کافر ہو گیا
06:24حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا یہ واقعہ
06:27قرآن پاک کی ساتھ صورتوں میں بیان کیا گیا ہے
06:30جس میں حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت اور ابلیس کی نافرمانی کا تذکرہ ہے
06:35قرآن مجید میں ابتدائے آفننش کے بیان میں ابلیس کا ذکر آیا ہے
06:40جبکہ دوسرے مقامات پر اسے شیطان کہا گیا ہے
06:43قرآن میں شیطان کی جمع کا ذکر بھی ملتا ہے
06:46جو اس بات کی نشاندہ ہی کرتا ہے
06:49کہ شیطان کا ایک پورا گروہ ہے
06:51علاوہ از ہی قرآن میں تاغوت کا لفظ بھی بار بار آیا ہے
06:55جس کا مطلب شیطان یا اس کی اطاعت میں چلنے والے ہیں
06:59سید سجاد الحسین آف قبولہ کے مطابق ابلیس کو پہلے عابد کے نام سے جانا جاتا تھا
07:05جب اس نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا
07:09تو اللہ تعالیٰ نے اسے دربار اکبری سے نکال دیا
07:12اور ابلیس کہہ کر پکارا
07:14یوں وہ ابلیس کے نام سے مشہور ہو گیا
07:17بعد میں جب اس نے حضرت آدم علیہ السلام اور امہ حوہ علیہ السلام کو بہکایا
07:23تو اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی اور اسے شیطان کہا
07:26اس موقع پر فرمایا لعنت اللہ علل شیعتین ہم
07:30یعنی اللہ کی لعنت ہو ان کے شیعتین پر
07:34اس طرح ابلیس دوزخی قرار پایا
07:36اور اس کے حمایتی بھی دوزخ کے مستحق ٹھہرے
07:39اللہ کی نافرمانی شیطان نے تکبر کے باعث کی تھی
07:43اور یہی تکبر اسے کفر کی گمراہیوں میں لے گیا
07:46اس سے واضح ہوتا ہے کہ تکبر ایک ایسا عظیم گناہ ہے
07:49جو انسان کو برطری کے زم میں مبتلا کر دیتا ہے
07:53اور بعض اوقات کفر تک اسے پہنچا سکتا ہے
07:56اسی لئے ہر مسلمان کو چاہیے
07:58کہ وہ تکبر جیسی بری صفت سے دور رہے
08:01اور ہمیشہ آجزی اختیار کرے
08:03حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
08:07کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
08:10کہ تکبر حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے
08:16حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی روایت ہے
08:19کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
08:23کہ تکبر سے بچتے رہو
08:25کیونکہ اسی تکبر نے شیطان کو اس بات پر اکسایا
08:28کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرے
08:32حضرت السلمہ بن عقو رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
08:36کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
08:40آدمی دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اپنی ذات کو بلند سمجھتا رہتا ہے
08:44یہاں تک کہ اسے تکبر کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے
08:48پھر اسے وہی عذاب پہنچے گا جو تکبر کرنے والوں کو پہنچتا ہے
08:52ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں
08:55کہ ابلیس فرشتوں کے ایک قبیلے سے تھا
08:58جسے جن کہا جاتا ہے
09:00یہ جن شولوں والی آگ سے پیدا کیے گئے تھے
09:03اور ابلیس کا اصل نام حارس تھا
09:05وہ جنت کا خازن بھی تھا
09:07اس قبیلے کے علاوہ باقی تمام فرشتے نوری تھے
09:11مارچ سے مراد وہ آگ ہے جو تیزی سے بلند ہوتی ہے
09:14اسی سے جنات کی تخلیق ہوئی جبکہ انسان مٹی سے پیدا کیا گیا
09:19ابتدا میں زمین پر جنات آباد تھے
09:21لیکن جب انہوں نے فساد اور خون ریزی شروع کی
09:24تو اللہ تعالی نے ابلیس کو فرشتوں کی فوج دے کر
09:27ان کی سرکوبی کے لیے بھیجا
09:29ابلیس نے ان جنات سے جنگ کی
09:31اور انہیں سمندروں کے جزیروں اور پہاڑوں کی وادیوں میں دھکیل دیا
09:35اس کامیابی کے بعد ابلیس کے دل میں تکبر پیدا ہو گیا
09:39کیونکہ اس نے وہ کارنامہ انجام دیا
09:42جو کسی اور سے ممکن نہیں ہوا تھا
09:44اللہ تعالی نے جب ارادہ فرمایا
09:46کہ زمین پر ایک خلیفہ پیدا کریں
09:48تو فرشتوں نے عرض کیا
09:50کہ کیوں ایسی مخلوق پیدا کرنی ہے
09:52جو فساد اور خون ریزی کرے گی
09:54جیسا کہ پہلے قوموں نے کیا تھا
09:56اللہ تعالی نے جواب دیا
09:58کہ وہ جانتا ہے جو فرشتے نہیں جانتے
10:01یعنی ابلیس کے دل میں چھپاوا تکبر اور غرور
10:04فرشتے اس پوشیدہ بدی سے بے خبر تھے
10:07جو اللہ تعالی کے علم میں تھی
10:08اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے لیے
10:12مٹی کا انتخاب کیا
10:13جو چکنی اور عمدہ تھی
10:15اس مٹی سے آدم علیہ السلام کا پتلہ بنایا گیا
10:18جو چالیس دن تک اسی حالت میں رہا
10:21اسی دوران ابلیس بار بار اس پتلے کے پاس آتا
10:24اسے ٹھوکرے مارتا
10:25اور کہتا کہ یہ ایک کھوکلی چیز ہے
10:28ابلیس اس پتلے کے موں کے سوراخ سے اندر گھس کر
10:31پیچھے سے نکلتا
10:33اور یہ کہتا کہ اگر مجھے اس پر مسلط کیا گیا
10:36تو میں اسے برباد کر دوں گا
10:38اور اگر یہ مجھ پر مسلط کیا گیا
10:40تو میں ہرگز اس کی اطاعت نہیں کروں گا
10:43پھر اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام میں روح پھونک دی
10:46روح جیسے ہی سر کی طرف سے ناف تک پہنچی
10:50تو ان کا جسم خون اور گوشت میں تبدیل ہونے لگا
10:53حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے جسم کو حرکت میں محسوس کر کے اٹھنے کی کوشش کی
10:59لیکن روح ابھی مکمل طور پر جسم میں نہیں پہنچی تھی
11:02اس لیے اٹھنا سکے
11:04اس جلدبازی کو قرآن میں اس آیت سے تعبیر کیا گیا ہے
11:08سورة الاسرہ آیت نمبر گیارہ
11:10بے شک انسان بے صبر اور جلدباز ہے
11:13جب روح مکمل طور پر جسم میں پہنچی
11:16اور حضرت آدم علیہ السلام کو چھینک آئی
11:18تو انہوں نے الحمدللہ رب العالمین کہا
11:22جس پر اللہ تعالیٰ نے جواب دیا
11:23یرحمک اللہ
11:25یعنی اللہ تم پر رحم کرے
11:27اللہ تعالیٰ نے پھر فرشتوں سے فرمایا
11:29کہ حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کریں
11:33تمام فرشتے سجدے میں چلے گئے
11:35مگر ابلیس نے انکار کر دیا
11:37اس کا تکبر اور غرور واضح ہو گیا
11:40اس نے کہا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام سے افضل ہے
11:43کیونکہ وہ زیادہ طاقتور قوی اور آگ سے بنا ہوا ہے
11:47جبکہ آدم مٹی سے بنے ہیں
11:49اس نے کہا کہ آگ مٹی سے برتر ہے
11:52اس لیے وہ کسی صورت آدم کو سجدہ نہیں کر سکتا
11:55اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس کے انکار پر
11:57اسے اپنی رحمت سے مایوس کر دیا
11:59تو اسے ابلیس کہا جانے لگا
12:01اس کی نافرمانی کی سزا کے طور پر
12:04اللہ تعالیٰ نے اسے درگاہ سے نکال دیا
12:06اور اسے شیطان کا لقب دے دیا
12:08پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو
12:11مختلف چیزوں جیسے انسان جانور زمین سمندر
12:15اور پہاڑوں وغیرہ کے نام سکھائے
12:17اور انہیں ان فرشتوں کے سامنے پیش کیا
12:20جو ابلیس کے ساتھ ہی تھے
12:21اور آگ سے پیدا کیے گئے تھے
12:23اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں سے فرمایا
12:25کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو
12:27تو مجھے ان چیزوں کے نام بتا دو
12:29فرشتے جو اپنی پہلی بات سے
12:31اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو محسوس کر چکے تھے
12:34عرص کرنے لگے
12:35کہ یا اللہ تو پاک ہے
12:37تیرے سوا کوئی غیب جاننے والا نہیں ہے
12:40انہوں نے اعتراف کیا
12:41کہ جو علم اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیا
12:45وہ ان کے پاس نہیں تھا
12:46پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا
12:50کہ ان فرشتوں کو ان تمام چیزوں کے نام بتا دو
12:53حضرت آدم علیہ السلام نے ان تمام چیزوں کے نام بتا دیے
12:57اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا
12:59کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا
13:01کہ آسمان و زمین کے غیب کو جاننے والا میں ہی ہوں
13:04من هر پوشیدہ چیز کو اسی طرح سے جانتا ہوں جیسے ظاہر کو اور تم اس سے بے خبر ہو
13:10جب ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا تو اس نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء علیہ السلام کو وسوسا دالنے کی کوشش کی
13:19اس حوالے سے مفسرین قرام کے مختلف اقوال ہیں
13:22بعض کے مطابق شیطان جنت کے دروازے پر ایک سامب کے ذریعے جنت میں داخل ہوا
13:27اور اسی نے حضرت حواء سلام اللہ علیہ کو بہکایا
13:31بعض مفسرین کے مطابق شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو براہ راست وسوسا ڈالا
13:36اور انہیں اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کیا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا تھا
13:42ان مختلف تفسیروں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیطان کی وسوسا اندازی کا مقصد
13:48حضرت آدم اور حضرت حواء علیہ السلام کو گمراہ کرنا اور ان پر اپنی دشمنی کا عمل ہی ظہار کرنا تھا
13:55مفسرین قرآن کی آراء مختلف ہیں کہ کس طرح شیطان نے حضرت آدم اور حضرت حواء کو جنت میں وسوسا ڈالا
14:03نمبر ایک پہلا قول یہ ہے کہ جب شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا
14:10تو اس کی سزا یہ تھی کہ اسے آئندہ فرشتوں کے ساتھ بطور عزاز جنت میں داخلہ نہیں ملے گا
14:17تاہم حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء کی آزمائش کے لیے اسے جنت میں آنے سے نہیں رکا گیا
14:23دوسرا قول یہ ہے کہ شیطان جنت میں داخل ہونے کے لیے ایک سامپ کے موں میں بیٹھ کر آیا
14:28یا کسی جانور کی شکل میں آیا
14:31مفسرین کے مطابق یہ قول کمزور ترین ہے اور اسے زیادہ تر علماء نے رد کیا ہے
14:37تیسرا قول یہ بھی ہے کہ شیطان نے کسی جانور کی شکل اختیار کر کے جنت میں داخل ہوا
14:42یہ قول بھی ضعیف سمجھا جاتا ہے اور علماء کی اکثریت اس سے بھی متفق نہیں
14:48چوتھا قول یہ بھی ہے جو کئی علماء کے نزدیک مضبوط ہے اور وہ یہ کہ شیطان جنت میں داخل نہیں ہوا تھا
14:55بلکہ باہر ہی سے حضرت آدم اور حضرت حواء صلی اللہ علیہ کو وسوسہ ڈالا
15:01ان کے مطابق وسوسہ ڈالنے کے لیے قریب ہونا ضروری نہیں اور شیطان نے جنت کے باہر ہی سے یہ وسوسہ ڈالا
15:08عیسائی عدبیات میں بھی ہے جیسا کہ پیراڈائز لاسٹ وغیرہ میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے
15:16اور اس میں بھی کچھ مختلف تفصیلات کے ساتھ یہی واقعہ ملتا ہے
15:20دنیا بھر میں یہ کہانی ایک عمومی قصے کی صورت میں مشہور ہے
15:24اصل میں شیطان کی سازش انسان کے خلاف تھی جس نے حضرت آدم علیہ السلام سے دشمنی کا عزم کیا
15:31اللہ تعالی نے شیطان کو یہ اختیار دے دیا تاکہ حق اور باطل کے درمیان واضح فرق ہو اور انسانوں کے ضمیر اور ایمان کی آزمائش ہو سکے
15:40اس طریقے سے انسان کو صحیح اور غلط کے درمیان انتخاب کرنے کی آزادی دی گئی اور اس کے ایمان کا امتحان لیا گیا
15:48ہر معاشرے اور مذہب میں اخلاق اور اقدار کے پیمانے مختلف ہوتے ہیں
15:53مگر شیطان کو عموماً ہر برائی کی جڑ اور منبع سمجھا جاتا ہے جبکہ اچھائی کو عالی قوتوں کے ساتھ منصوب کیا جاتا ہے
16:01دوستو جنت سے نکالے جانے کے وقت شیطان بظاہر اکیلا تھا
16:06مگر وقت کے ساتھ ساتھ سرکش شیعتین اور جنات کا ایک پورا گروہ اس کے ساتھ شامل ہو گیا
16:12اور یوں بدی کی ایک جماعت تیار ہو گئی
16:15اسی تصور کو عدبیات میں بھی جگہ ملی ہے
16:18جیسا کہ انگریزی مصنف کرسٹوفر مارلو کے مشہور مورالٹی پلے ڈاکٹر فاسٹس میں
16:24جس میں شیطان کے ساتھ بڑے گناہوں کو مختلف کرداروں کے ذریعے پیش کیا گیا ہے
16:29شیطان کا کردار تقریباً ہر عدبی صنف میں ناپسندیدہ اور عذاب کے لائق تصور کیا جاتا ہے
16:37انسان نے اپنی مکرو فریب کی جالیاں بچھا رکھی ہیں
16:40اور شیطان کے دیگر ساتھی دنیا میں برائیوں کو فروغ دینے
16:43اور نیک لوگوں کے لئے مشکلات کھڑی کرنے میں لگے ہوئے ہیں
16:47شیطان نے اللہ تعالیٰ کے سامنے قسم کھا کر چیلنج کیا تھا
16:51کہ وہ انسان کو گمراہ کرے گا
16:53اور اسے اللہ کی فرما برداری کے بجائے نافرمانی کے راستے پر چلائے گا
16:57یہ چیلنج شیطان نے اپنی بربادی کے آغاز پر دیا
17:01اور آج تک وہ اور اس کی نسل اسی مقصد کو پورا کرنے میں مصروف ہیں
17:06البتہ شیطان کا اختیار صرف وسوسہ ڈالنے تک محدود ہے
17:09وہ انسان کی نفسیاتی اور اخلاقی کمزوریوں کو
17:13یعنی ہماری اندرونی خواہشات اور نفس کو استعمال کرتے ہوئے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے
17:19انسانوں کی پہلی اور بڑی کمزوری یہ ہے
17:21کہ باوجود اقلی وجود ہونے کے
17:24وہ اکثر مذہبی معاملات میں اقل کو پسے پشت ڈال کر
17:27ظاہر پرستی اور جذباتیت کا شکار ہو جاتا ہے
17:31بہت سے لوگ اللہ کے دین کی حقیقت اور شرک میں فرق نہیں کر پاتے
17:35اور اپنے آبا وجدات کے طور طریقوں پر چلتے رہتے ہیں
17:38چاہے وہ طریقے اللہ کی تعلیمات کے مخالفی کیوں نہ ہوں
17:42اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
17:43کیا تم اقل سے کام نہیں لیتے
17:46قرآن میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتایا
17:49کہ جو لوگندھی تقلید میں چلتے ہیں
17:51وہ اکثر راہِ ہدایت سے دور ہوتے ہیں
17:54اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے
17:56سورہ بقرہ آیت نمبر 170 میں آتا ہے
17:59اور جب ان سے کہا جائے
18:01کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے
18:04تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے
18:07جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے
18:09کیا اگرچہ ان کے باپ دادا
18:11نہ کچھ عقل رکھتے ہوں
18:13نہ وہ ہدایت آفتہ ہوں
18:15سورتِ توبہ آیت نمبر 119 میں
18:17اللہ رب العزت کا ارشاد ہے
18:19اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ
18:21اسی طرح ہر نماز میں
18:23ہمیں دعا مانگنے کی تلقین کی گئی ہے
18:25کہ اللہ ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلائے
18:28جن پر اس کا انعام ہو
18:30سرات اللہزین عن عمت علیہم
18:33ان لوگوں کے راستے پر چلا
18:34جن پر تو نے انعام کیا
18:37شیطان کا ایک بڑا حملہ
18:39جنسی بے راہ روی کے ذریعے ہے
18:41ابتدائی آفری نش سے
18:42شیطان نے انسان کو بہکانے کے لیے
18:45جنسی خواہشات کا سہارہ لیا ہے
18:47اور آج کے دور میں
18:48یہ پہلو سب سے زیادہ
18:50بڑا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے
18:52مغربی تہذیب نے آزادی کو بنیادی انصر بنا کر
18:55جنسی آزادی کو اپنا حصہ بنایا
18:57جس کے نتیجے میں
18:58اوریانی فہاشی اور غیر فطری تعلقات عام ہو چکے ہیں
19:02انفارمیشن ایج سے پہلے تک
19:04جنسی بے راہ روی کچھ حدود میں تھی
19:06لیکن انٹرنیٹ کی آمد کے بعد
19:08اب یہ ہر گھر تک پہنچ چکی ہے
19:10اوریان تصویریں فلمیں اور فہش مواد
19:13انگلیوں کی ایک جنبش سے دستیاب ہے
19:16شیطان اس وسوسے کے ذریعے
19:18لوگوں کو بہکانے میں لگا ہوا ہے
19:20یہاں تک کہ عام فلموں میں بھی
19:23ایسے مناظر شامل کیے جاتے ہیں
19:25جو دل اور نظر کو آلودہ کر دیتے ہیں
19:28اللہ تعالیٰ سورة النور آیت نمبر انیس میں فرماتا ہے
19:31وہ لوگ جو چاہتے ہیں
19:33کہ مسلمانوں میں برا چرچہ پھیلے
19:36ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے
19:40اور اللہ جانتا ہے
19:41اور تم نہیں جانتے
19:43یہ آیت ہمیں خبردار کرتی ہے
19:45کہ فہاشی اور بے حیائی کو پھیلانا
19:47ایک عظیم گناہ ہے
19:49اور اس کا انجام دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے
19:52اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہم پر نہ ہوتی
19:56تو ہم اسی گناہ میں گرفتار ہو جاتے
19:59شیطان انسان کی نفسیاتی اور اخلاقی کمزوریوں کو استعمال کر کے
20:03بہکانے کی کوشش کرتا ہے
20:05اور انسان جب اپنی عقل کو ایک طرف رکھ کر اندھی تقلید میں چلتا ہے
20:10تو اکثر شیطان کے جال میں بھنس جاتا ہے
20:12جو لوگ یہ چاہتے ہیں
20:14کہ مسلمانوں میں بے حیائی اور فہاشی پھیلے
20:16ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
20:21اس دنیا میں عذاب کا مطلب شرعی حد قائم کرنا ہے
20:24جیسا کہ واقع افق کے موقع پر حضرت عبداللہ بن عبی
20:29حضرت حسان بن ثابت
20:31اور حضرت مستح بن اساسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حد کی سزاتی گئی
20:36اگر کوئی توبہ کے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے
20:39تو آخرت میں اسے جہنم کی سزا دی جائے گی
20:44دلوں کے راز اور انسان کے باطنی احوال کو خوب جانتا ہے
20:48جبکہ انسان ان سے ناواقف ہے
20:50حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
20:54کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
20:58کہ جس نے اسلام میں اچھا طریقہ رائج کیا
21:00اس کے لئے اسے رائج کرنے اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب ہے
21:06اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا
21:11اور جس نے اسلام میں برا طریقہ رائج کیا
21:13اس پر اس طریقے کو رائج کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ہے
21:18اور ان کے گناہ میں سے بھی کچھ کمی نہیں ہوگی
21:21بحوالہ صحیح مسلم
21:23نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روم کے شہنشاہ
21:27ہر قل کو دعوت اسلام دیتے ہوئے یہ فرمایا تھا
21:30کہ اگر وہ اسلام قبول کرے تو اسے دگنا عجر ملے گا
21:34لیکن اگر وہ انکار کرے گا
21:36تو رعایہ کے گناہوں کا بوجھ بھی اس پر ہوگا
21:39اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے
21:45تو اس کے اثرات اس کی پوری قوم پر پڑتے ہیں
21:48اور اسی کے باعث اس پر اضافی ذمہ داری آئد ہوتی ہے
21:52اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے
21:56کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
21:59کہ جو شخص ظلمتن قتل کیا جاتا ہے
22:03تو اس کے ناحق خون میں حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے قابل کا بھی حصہ ہوتا ہے
22:09کیونکہ اس نے پہلے ظلم کے ساتھ قتل کرنے کی ابتدا کی تھی
22:13ناظرین قرآن مجید فرقان حمید سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے
22:17کہ شیطان کی نافرمانی کی جڑ تکبر تھی
22:20یہی تکبر انسان کو اللہ تعالی سے بغاوت اور حق سے انکار کی جانب لے جاتا ہے
22:25چنانچہ شیطان انسان کو تکبر کے جال میں پھسانے کی کوشش کرتا ہے
22:29وہ انسان کو اس کی دولت طاقت علم اور قابلیت پر فخر اور غرور میں مبتلا کر دیتا ہے
22:35یہی فخر انسان کو خدا تعالی کی بارگاہ میں مجرم بنا دیتا ہے
22:40نتیجتن انسان دوسروں پر ظلم کرتا ہے
22:42حق دبانے لگتا ہے اور اللہ کے احکام سے دور ہو جاتا ہے
22:46شیطان کا ایک اور حربہ یہ ہے
22:49کہ وہ انسان کو نیکی کے خبت میں مبتلا کر دیتا ہے
22:52جس سے وہ اپنے آپ کو بہت نیک اور پاکیزہ سمجھنے لگتا ہے
22:56یہ بھی تکبر کی ایک صورت ہے
22:58جہاں شیطان انسان کو یہ باور کراتا ہے
23:01کہ وہ باقی سب سے برتر ہے اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے
23:04یہ عمل انسان کے دلوں کو مزید گمراہ کر دیتا ہے
23:08اور اسے اللہ کی بارگاہ میں مقبول عامال سے دور لے جاتا ہے
23:12شیطان انسان کے عامال کو خوبصورت اور دل کش بنا کر پیش کرتا ہے
23:16تاکہ وہ گمراہی میں مبتلا ہو جائے
23:18اور یہی اس کی بدبختی کا باعث بنتا ہے
23:22شیطان نے ہر دور میں انسانوں کو گمراہ کرنے کی بھرپور کوشش کی
23:26اور اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لیے اپنے انبیاء قرآن کو بھیجا
23:30تاہم شیطان نے لوگوں کو دو مختلف طریقوں سے انبیاء کے راستے سے دور کرنے کی کوشش کی
23:36ایک طرف تو انہیں ظاہری پرستی غفلت اور تکبر میں مبتلا کیا
23:40تاکہ وہ نبیوں کے پیغام کا انکار کر دیں
23:42اور دوسری طرف جو لوگ انبیاء کے ساتھی بن کر دین پر استقامت کے ساتھ کھڑے ہوئے
23:47شیطان نے انہیں افراد و تفریت میں مبتلا کر کے دین کی اصل تعلیمات سے دور رکھنے کی کوشش کی
23:54مثال کے طور پر یہودیوں میں ظاہر پرستی اس قدر بڑھ گئی
23:58کہ چھوٹے اور غیر اہم عامال ان کے نزدیک سب سے زیادہ اہم ہو گئے
24:03جبکہ ایمان رحم اور انسانی ہمدردی جیسی بنیادی اقدار پیچھے رہ گئیں
24:08حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس رویے پر شدید تنقید کی
24:12کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ دین کی اصل تعلیمات سے انحراف ہے
24:16شیطان کے انسانوں کو بیکانے کی کوششیں صرف عام لوگوں تک محدود نہیں رہیں
24:21بلکہ اس نے نبیوں کو بھی مختلف مواقع پر گمراہ کرنے کی کوشش کی
24:26ایک روایت کے مطابق امام ابو دعود رحمت اللہ علیہ نے
24:30حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شیطان سے ملاقات کا واقعہ پیش کیا ہے
24:34اس واقعے میں شیطان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہاڑ کی چوٹی سے کودنے کا مشورہ دیتا ہے
24:40تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ زندہ رہیں گے یا نہیں
24:43حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو منع فرمایا ہے
24:49کہ وہ اللہ کو آزمائیں اور یقین دلایا کہ اللہ جو چاہے وہی کرتا ہے
24:54اسی طرح امام زہری رحمت اللہ علیہ کے مطابق اللہ کا بندہ اپنے رب کو آزمائش میں ڈالنے کا مجاز نہیں ہے
25:01بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جب چاہے آزمائش میں ڈال سکتا ہے
25:06ایک اور روایت میں ہے کہ شیطان نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دس سال تک عبادت کی
25:12اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دریا کے کنارے کھڑا تھا
25:16اور کہتا تھا کہ اگر وہ دریا میں کودے گا تو کیا اس کے ساتھ وہی کچھ ہوگا
25:22جو اس کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے
25:24حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پھر اسے یاد دلایا
25:27کہ اللہ کو آزمائش میں ڈالنا مناسب نہیں ہے
25:30اور اللہ جب چاہے کسی کے آزمائش کر سکتا ہے
25:33بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوا
25:36کہ جو شخص ان کے ساتھ دس سال تک عبادت کرتا رہا وہ اصل میں شیطان ہی تھا
25:42جو انہیں بہکانے کے لیے مختلف روح پہ اختیار کر کے آتا رہا
25:45ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کس طرح سے انبیاء کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے
25:51اور انہیں بہکانے کی کوششیں کرتا رہا ہے
25:54لیکن اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہمیشہ اللہ کی مدد سے شیطان کے فریب سے محفوظ رہے
26:00اور انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنے رہے
26:03ایک روایت کے مطابق شیطان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا
26:08کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم مردوں کو زندہ کرتے ہو
26:11حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا
26:13کہ زندگی اور موت کا مالک اللہ ہے جو مرد میں زندہ کرتا ہوں
26:18اللہ اسے دوبارہ مارے گا اور پھر زندہ کرے گا
26:22شیطان نے چالا کیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے کہا
26:26آپ آسمانوں میں بھی خدا ہیں اور زمین میں بھی
26:30یہ سن کر حضرت جبرائیل علیہ السلام فوراں حاضر ہوئے
26:34اور اپنے پروں سے شیطان کو مارا اور اسے سورج میں پھینک دیا
26:38جہاں سے وہ ایک دہکتے چشمے میں جاگرا
26:41بعد میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پھر اسے ساتھویں سمندر میں پھینک دیا
26:46جہاں شیطان نے چیخو پکار کی
26:49ابن عبیل دنیا رحمت اللہ علیہ السلام سے بھی روایت ہے
26:52کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں نماز ادا کرنے کے بعد واپس آ رہے تھے
26:58کہ راستے میں شیطان نے انہیں روکا اور کہا
27:01آپ کو بندہ کہنا آپ کے شایان شان نہیں
27:04حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے چھٹکارا پانا چاہتے تھے
27:07مگر شیطان ان کا پیچھا کرتا رہا
27:10اور مسلسل انہیں غرور کی طرف اکسانے کی کوشش کرتا رہا
27:14حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے مدد کی دعا کی
27:18تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل اور میکائل علیہ السلام کو بھیجا
27:22جب شیطان نے فرشتوں کو دیکھا تو وہ فوراں بھاگ نکلا
27:28اسے پہاڑ کی وادی میں پھینک دیا
27:30شیطان نے دوبارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا راستہ روک کر کہا
27:34کہ وہ انہیں زمین کا رب مانتا ہے جبکہ آسمانوں کا رب اللہ ہے
27:39حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کی
27:42اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرافیل علیہ السلام کو بھیجا
27:46جنہوں نے شیطان کو دوبارہ مارا جس سے وہ زمین پر گر پڑا
27:50پھر اسے آینل شمس یعنی سورج کی آگ کے چشمے میں پھینک دیا گیا
27:58اسے بار بار گھوٹے دیئے شیطان جب چیختا تو اسے کچڑ میں پھینک دیتے
28:03اس عبرتناک انجام کے بعد شیطان دوبارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے آنے کی جررت نہ کر سکا
28:11یہ واقعہ تمہیں شیطان کی فریبکاری اس کی بے باقی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مکمل بھروسے کی یاد دلاتے ہیں
28:18شیطان نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہکانے اور عظمت کے جال میں پھنسانے کی کوشش کی
28:24لیکن اللہ کی مدد سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شیطان کو شکست دی اور اس کے فریب سے محفوظ رہے
28:31حافظ ابن حجر الملکی نے الجوازر ان اقتراف القبائر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عبلیس کے درمیان ایک واقعہ نکل کیا ہے
28:40روایت کے مطابق عبلیس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی
28:45کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی توبہ کی سفارش کریں
28:48حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی
28:51تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عبلیس سے کہہ دو
28:54کہ اگر وہ حضرت عدم علیہ السلام کی قبر کو سجدہ کر لے
28:58تو اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے
29:00جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عبلیس کو یہ پیغام پہنچایا
29:04تو عبلیس غزبناک ہوا اور کہنے لگا
29:06میں نے زندہ عدم کو سجدہ نہیں کیا تھا
29:09تو اب ان کی قبر کو کیسے سجدہ کروں
29:11اس پر عبلیس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا
29:14کہ چونکہ آپ نے میری سفارش کی ہے
29:16اس لیے میں آپ کو تین اہم مواقع کے بارے میں ہمدردی سے خبردار کرتا ہوں
29:22تاکہ ان مواقعوں پر آپ میرے شر سے محفوظ رہ سکیں
29:26نمبر ایک غصے کے وقت
29:28عبلیس نے کہا کہ غصے کے وقت میں انسان کے جسم میں اس طرح سے سرائیت کرتا ہوں
29:34جس طرح رگوں میں خون دوڑتا ہے
29:36نمبر دو میدان جنگ میں
29:38کیونکہ میں مجاہد کو اس وقت اس کے بیوی بچوں اور گھر والوں کی یاد دلاتا ہوں
29:43تاکہ اس کا حوصلہ کمزور ہو
29:45نمبر تین اجنبی عورت کے ساتھ
29:48کیونکہ ایسے وقت میں میں وسوسہ اندازی کرتا ہوں
29:51تاکہ دونوں کے درمیان پیغام رسانی کا عمل کر سکوں
29:55یہ حکایت اس بات کی نشاندہ ہی کرتی ہے
29:58کہ شیطان ہر وقت انسانوں کو گمراہ کرنے کے مواقع تلاش کرتا ہے
30:02اور خاص طور پر ان لمحوں میں وار کرتا ہے
30:05جب انسان کمزور یا غفلت میں ہوتا ہے
30:08حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
30:11وہ ایک روایت میں بیان کرتے ہیں
30:13کہ ایک دن ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ
30:18مکہ کے جنگلات کی طرف نکلے
30:20توہامہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر پہنچے
30:23تو ہم نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص لاتھی کے سہارے چلتے ہوئے نمودار ہوا
30:28اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا
30:31حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا
30:36یہ بوڑھا اپنی چال اور آواز سے جن معلوم ہوتا ہے
30:39پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اس نے جواب دیا کہ حضور میں جن ہوں
30:45اور میرا نام حامہ بن ہیم بن لاقیس بن ابلیس ہے
30:49یہ واقعہ اس بات کو واضح کرتا ہے
30:51کہ شیطان اور اس کے ساتھی جنات مختلف مواقعوں پر انسان کے سامنے آتے ہیں
30:56اور انبیاء قرآن کو بھی ان کے وجود سے آگاہ کیا گیا ہے
31:00حضور اکدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ وسلم کے یہ واقعات انسانوں کے لئے عبرت کا پیغام ہے
31:07کہ شیطان انسان کے سامنے ہمیشہ مختلف صورتوں میں آتا ہے
31:11اور اسے ورغ لانے کی کوشش کرتا ہے
31:14روایات میں بیان کیا جاتا ہے
31:16کہ ایک روز جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ قرآن رضوان اللہ علیہم اجمعین
31:22مکہ مکرمہ کے جنگلات کی طرف نکلے
31:25تو وہاں ایک جن نمودار ہوا جس کا نام حامہ تھا
31:28حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مخاطب کر کے فرمایا
31:32میں تمہارے اور شیطان کے درمیان صرف دو پشتوں کا فاصلہ دیکھ رہا ہوں
31:37تمہاری عمر کتنی ہے
31:38حامہ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
31:43میری عمر دنیا کی عمر کے برابر ہے
31:46یا اس سے کچھ کم ہے
31:48جب قابل نے حابل کو قتل کیا تھا
31:50اس وقت میری عمر چند برست کی تھی
31:53میں پہاڑوں میں دوڑتا اور لوگوں کے دلوں میں وسوے سے ڈالتا تھا
31:57حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے برے عامال پر تنبیح فرمائی
32:02حامہ نے جواب دیا کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان لایا تھا
32:07اور ان کی دعوت کے کام میں تعاون کیا تھا
32:10پھر وہ جن اتنی شدت سے رویا کہ اس کے ساتھ صحابہ بھی رونے لگے
32:14حامہ نے قسم کھائی کہ وہ اللہ کی پناہ میں ہے اور کفر سے توبہ کر چکا ہے
32:20حامہ نے بتایا کہ اس کی ملاقات حضرت حود علیہ السلام
32:23حضرت ابراہیم علیہ السلام
32:25حضرت یوسف علیہ السلام
32:27حضرت شعیب علیہ السلام
32:29اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی ہوئی تھی
32:32اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سلام پہنچایا تھا
32:37اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسے فرمایا تھا
32:40کہ اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرے
32:45تو انہیں میرا سلام پہنچانا
32:47یہ کہہ کر حاما نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سلام پہنچایا
32:54اور اعلان کیا کہ وہ آپ پر ایمان لاتا ہے
32:57یہ سن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسوں آگئے
33:02اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سلام ہو
33:08اور اے حاما امانت پہنچانے کے سبب تم پر بھی سلام ہو
33:12پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاما سے اس کی حاجت دریافت کی
33:17حاما نے عرض کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے تورات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیل سکھائی تھی
33:25اس نے درخواست کی کہ اسے قرآن بھی سکھا دیا جائے
33:29حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جن کو قرآن مجید کی تعلیم دی
33:34پھر فرمایا اے حاما جب بھی تمہیں کوئی حاجت ہو میرے پاس آجانا اور ملاقات نہ چھوڑنا
33:41ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے صرف دس صورتیں سکھائیں
33:47تاہم اس واقعے کے بعد حاما کے بارے میں مزید کوئی ذکر ملتا ہی نہیں
33:52کہ آیا وہ اب بھی زندہ ہے یا وفات پا چکا ہے
33:55حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
33:59کہ ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان یعنی ہم شکل جن مقرر ہے جو اسے بیکانے کی کوشش کرتا ہے
34:06صحابہ قرآن رضوان اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارز کیا
34:09کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ کے ساتھ بھی شیطان ہے
34:14آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
34:17ہاں میرے ساتھ بھی ہے لیکن اللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں میری مدد فرمائی
34:22اور وہ مسلمان ہو گیا اور مجھے خیر کے سوا کچھ نہیں کہتا
34:26حضرت عائشہ رضوان اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہیں
34:29کہ ایک رات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے اٹھ کر کہیں چلے گئے
34:35جس پر حضرت عائشہ کو غیرت آئی
34:37جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے
34:40اور حضرت عائشہ کے چہرے پر حیرانی دیکھی تو فرمایا
34:44کیا تمہیں غیرت آئی؟
34:45حضرت عائشہ نے ارز کیا
34:47کہ مجھ جیسی عورت کو آپ جیسے مرد پر غیرت نہ آئے تو کیا ہو
34:51اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
34:54کیا تمہارے پاس تمہارا شیطان آیا تھا؟
34:57حضرت عائشہ نے پوچھا
34:58کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے؟
35:00آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
35:03ہاں ہر شخص کے ساتھ شیطان ہے
35:05یہاں تک کہ میرے ساتھ بھی
35:07لیکن اللہ نے اس کو میرے تابع کر دیا
35:10اور وہ مسلمان ہو گیا
35:11اس واقعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے
35:13کہ شیطان ہر انسان کے ساتھ موجود ہوتا ہے
35:16اور اسے مختلف طریقوں سے بہکانے کی کوشش بھی کرتا ہے
35:19اللہ تعالیٰ نے شیطان کو دنیا میں محلت دی ہے
35:22اور اسے گمراہ کرنے کا اختیار بھی
35:25لیکن یہ اختیار بھی
35:26اللہ کی حکمت اور عدل کا حصہ ہے
35:28شیطان نے اپنی عبادت پر غرور کیا
35:31اور اللہ سے عالی مقام کی توقع رکھی
35:34لیکن اپنے تکبر اور نافرمانی کے باعث
35:37وہ مردود اور راندہ درگاہ ہو گیا
35:40اللہ تعالیٰ نے اسے بڑی طاقت اور طویل محلت دی
35:43جو اس کی عبادت کا بدلہ تھا
35:45مگر ساتھ ہی اس کے گناہ کی سزا بھی مقرر کر دی
35:48اللہ کے عدل کی یہی شان ہے
35:50کہ اس نے شیطان کو بھی محرم نہیں رکھا
35:53ناظرین حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ سے بھی
35:56ایک روایت منصوب ہے
35:58کہ ان کے دل میں شیطان کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی
36:01ایک دن وہ مسجد کے دروازے پر کھڑے تھے
36:04کہ دور سے ایک بڑھا شخص آتا دکھائی دیا
36:06جب حضرت جنید بغدادی نے اس کی شکل دیکھی
36:09تو ان کے دل میں نفرت کا شدید احساس پیدا ہوا
36:13بڑھا شخص ان کے قریب آیا
36:15تو حضرت جنید نے پوچھا
36:16اے بڑھے تو کون ہے
36:18تیری شکل دیکھ کر دل میں سخت وحشت ہو رہی ہے
36:21اس پر اس نے جواب دیا
36:22میں ابلیس ہوں
36:23جسے دیکھنے کی تمنا تم نے کی تھی
36:26حضرت جنید نے اسے مخاطب کر کے کہا
36:28اے ملعون
36:29تو نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیوں نہیں کیا
36:32ابلیس نے جواب دیا
36:33اے جنید کیا تمہیں لگتا ہے
36:35کہ میں کسی غیر کو سجدہ کر لیتا
36:38اس پر حضرت جنید بغدادی ششدر رہ گئے
36:41اور فوری طور پر جواب نہ دے سکے
36:43اسی لمحے غیب سے آواز آئی
36:46اے جنید اس ملعون سے کہو
36:48کہ اگر تو واقعی فرما بردار ہوتا
36:50تو اللہ کے حکم کو کیوں رد کرتا
36:52شیطان نے جب یہ آواز سنی
36:54تو چیخ اٹھا اور کہا
36:55خدا کی قسم تم نے مجھے جلا دیا
36:58اور وہ فورا غائب ہو گیا
37:00شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کے حوالے سے
37:03مشہور واقعہ ہے
37:04کہ ایک بار سخت گرمی میں سفر کر رہے تھے
37:07جب شیطان بادل کے ٹکڑے کی صورت میں
37:10ان پر سایا کرنے لگا
37:11کچھ دیر کے بعد اس بادل سے آواز آئی
37:13اے عبدالقادر جیلانی
37:15مبارک ہو
37:16کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرض نماز معاف کر دی
37:19شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ
37:22فورا پہچان گئے
37:23کہ یہ شیطان کا فرعب ہے
37:25جواب دیا
37:26اے عبدالقادر جیلانی
37:27دفع ہو جا
37:28اگر دنیا میں کسی کی نماز معاف ہوتی
37:31تو سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز معاف ہوتی
37:35شیطان نے کہا
37:37اے عبدالقادر جیلانی
37:38آج تمہارے ایمان کو تمہارا علم بچا گیا ہے
37:41اس پر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا
37:45مجھے میرے علم نے نہیں
37:47بلکہ میرے رب کے فضل نے بچایا ہے
37:50امام صادق علیہ السلام سے بھی ایک روایت منقول ہے
37:53انہوں نے فرمایا
37:54کہ ابلیس کو قیامت تک نہیں
37:56بلکہ ہمارے قیام علیہ السلام کے قیام کے دن تک محلت دی گئی ہے
38:01جب امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا
38:04تو ابلیس کو پکڑ کر ختم کر دیں گے
38:06یہ دن وقت معلوم ہے
38:08یعنی مقررہ وقت جب اس بڑے شیطان کا خاتمہ ہو جائے گا
38:12تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے
38:15کہ تمام شیعتین اور شیطان صفت انسان بھی ختم ہو جائیں گے
38:19دنیا میں گناہ اور غلطی کے امکان کے لیے شریر قوتیں رہیں گی
38:24لیکن ابلیس جیسے عظیم شیطان کا خاتمہ ہو جائے گا
38:28ناظرین گرامی شیطان کی کچھ ملاقاتیں
38:31جو انبیاء قرآن علیہ السلام اور اولیاء اللہ سے ہوئیں تھی
38:35ان کا ذکر آج کی اس ویڈیو میں کیا
38:37مزید بہت ساری ایسی ملاقاتیں ہیں
38:40جن کا ذکر ہم اگلی کسی ویڈیو میں کریں گے
38:43امید ہے کہ آپ کو آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہوگی
38:46اسے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر بھی ضرور کریں گے
38:49ویڈیو کو لائک کریں اور کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں
38:52اگر آپ نے ابھی تک ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا ہوا
38:55تو براہ کرم سبسکرائب کریں اور بیل کے آئیکن کو دبا دیں
38:59تاکہ آپ تک ہماری نئی ویڈیوز کا نوٹفکیشن پہنچتا رہے
39:03اللہ تعالیٰ آپ کو ایمان اور صحت کے ساتھ رکھے
39:07اور شیطان کے شر سے محفوظ رکھے
39:09آمین
39:10فی امان اللہ
39:11السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Be the first to comment