Skip to playerSkip to main content
Habeel Aur Qabeel Ka Mukamil Qissa | Pehli Qatl Ki Kahani | By Qadir Kalhoro

Habeel aur Qabeel ka mukamil aur dil hila dene wala qissa — insani tareekh ka pehla qatl.
Is video mein hum bayaan karte hain Adam (AS) ke dono beton ki kahani, hasad, gusse aur nafs ki woh aag jo pehli khoon-rezi ka sabab bani.

Yeh kahani sirf ek waqia nahi, balkay insani fitrat ke liye ek gehra sabaq hai — ke hasad aur gussa insaan ko kahan tak le ja sakta hai.

📖 Bayan: Qadir Kalhoro
🕋 Taleemi & Islahi Kahani

Agar aapko Islami kahaniyan, waqiat aur naseehat pasand hain to video ko **like**, **comment** aur **follow** zaroor karein.

#HabeelAurQabeel
#IslamiQissa
#PehlaQatl
#IslamicStories
#QadirKalhoro
#DailyMotionContent

Category

📚
Learning
Transcript
00:00بسم الله الرحمن الرحيم
00:01السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
00:04ناظرین انسانيت کا پہلا قتل کیوں ہوا
00:07اس بارے میں آج کی ویڈیو میں تفصیل سے بات کی جائے گی
00:10لہذا ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے گا
00:13ناظرین قرآن کریم کی صورت مائدہ میں
00:15اللہ تعالیٰ نے سرکشی حسد اور ظلم کے خوفناک انجام کو بیان کرنے کے لئے
00:21حضرت آدم علیہ السلام کے دو حقیقی بیٹوں
00:23قابل اور حابیل کا قصہ یوں بیان فرمایا ہے
00:27اور ان پر آدم کے دو بیٹوں کی خبر کی تلاوت حق کے ساتھ کر
00:31جب ان دونوں نے کچھ قربانی پیش کی
00:34تو ان میں سے ایک کی قبول کر لی گئی
00:36اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی
00:38اس نے کہا کہ میں تجھے ضرور ہی قتل کر دوں گا
00:42اس نے کہا بے شک اللہ متقی لوگوں ہی سے قبول کرتا ہے
00:46اگر تُو نے اپنا ہاتھ میری طرف اس لئے بڑھایا
00:48کہ مجھے قتل کرے
00:50تو میں ہرگز اپنا ہاتھ تیری طرف اس لئے بڑھانے والا نہیں
00:54کہ تجھے قتل کروں
00:55بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں
00:57جو سارے جہانوں کا رب ہے
00:59میں تو یہ چاہتا ہوں
01:00کہ تُو میرا گناہ اور اپنا گناہ لے کر لوٹ
01:04پھر تُو آگ والوں میں سے ہو جائے
01:06اور یہی ظالموں کی جزا ہے
01:08تو اس لئے اس کے نفس نے
01:10اس کے بھائی کا قتل پسندیدہ بنا دیا
01:13سو اس نے اسے قتل کر دیا
01:15پس خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گیا
01:18پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا
01:20جو زمین کریدتا تھا
01:22تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے
01:26کہنے لگا ہائے میری بربادی
01:28کیا میں اسے بھی رہ گیا
01:30کہ اس قوے جیسا ہو جاؤں
01:32تو اپنے بھائی کی لاش چھپا دوں
01:34سو وہ پشمان ہونے والوں میں سے ہو گیا
01:37ناظرین اللہ تعالیٰ نے سرکشی حسد اور ظلم کے خوفناک انجام بیان کرنے کے لئے
01:42حضرت آدم علیہ السلام کے ان بیٹوں کا ذکر فرمایا ہے
01:46ان میں سے ایک نے دوسرے پر کس طرح سے زیادتی کی حتانکہ اسے قتل کر دیا اور یہ محض سرکشی اور اس نعمت پر حسد کی وجہ سے تھا
01:55جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے نوازا تھا اور اس کی قربانی کو شرف قبولیت عطا فرمایا تھا
02:01جو اس نے اخلاص کے ساتھ اپنے رب کی بارگاہ میں پیش کی تھی
02:04اور اس طرح سے مقتول گناہوں کی معافی اور جنت میں داخلے کی وجہ سے کامیاب ہو گیا
02:10اور قاتل دنیا و آخرت میں ناکام اور نامراد رہا
02:14ان آیات میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اگر وہ حسد اور سرکشی پر مسر رہے
02:19تو ان کا انجام بھی دنیا و آخرت میں بہت برا ہوگا
02:23قصہ کچھ یوں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور اما حوا علیہما سلام
02:27تلافی معافات میں دو سو برس تک روتے رہے
02:31چالیس دن تک کچھ کھانا نہ کھایا نہ پیا
02:34کھانے پینے کی نوبت ایک چلے کے بعد آئی
02:37اب تک کوہ نوزدی ہی پر تھے جس پر آدم علیہ السلام کا حبوت ہوا تھا
02:42سو برس تک آدم علیہ السلام اما حوا علیہما سلام سے الگ تھلگ رہے
02:47سو برس کے بعد قریب گئے
02:49تو استقرار حمل ہونے پر قابیل
02:52اور اس کی بہن لبود کا اسی کی جڑوان تھی
02:55پہلے بطن سے پیدا ہوئے
02:57دوسرے بطن سے حابیل اور اس کی بہن اقلیمہ
03:00جو کہ حابیل کی توام تھی یہ پیدا ہوئے
03:03یہ سب بالغ ہوئے
03:04تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا
03:06کہ بطن اول کی ترویج بطن سانی سے
03:09اور بطن سانی کی بطن اول سے کی جائے
03:12یعنی ہر بطن کے بھائی بہنوں کا آپس میں نکاح نہ ہو
03:16دوسرے بطن کے بھائی بہنوں سے ہو
03:19قابیل کی بہن حسین اور حابیل کی بہن بدشکل تھی
03:22آدم علیہ السلام کو جو حکم ملا تھا
03:25جو اسے بیان کر دیا
03:26ہوا نے دونوں بیٹوں سے تذکرہ کیا
03:29حابیل تو راضی ہو گیا
03:30مگر قابیل نے ناخش ہو کر کہا
03:33کہ نہیں واللہ یہ بات نہیں
03:35خدا نے یہ حکم کبھی نہیں دیا
03:37یہ تو آئے آدم علیہ السلام خود تیرا حکم ہے
03:41اس پر آدم علیہ السلام نے فرمایا
03:43یہی بات ہے
03:44تم دونوں قربانی کرو
03:46اللہ تعالیٰ آسمان سے آگ نازل کرے گا
03:48اس لڑکی کا جو مستحق ہوگا
03:50آگ اس کی قربانی کھا لے گی
03:52اس فیصلے پر دونوں بھائی رضا مند ہو گئے
03:55حابیل کے پاس مویشی تھے
03:57وہ اپنے بھیڑ بکریوں میں سے
03:58قربانی کے لیے کھانے کے قابل
04:01بہترین راس کو لے آئے
04:05قابل ذرائط پیشا تھا
04:07اس نے اپنی ذرائط کی بدترین پیداوار میں سے
04:10ایک بوجھ لیا
04:11دونوں ایک پہاڑ پر چڑ گئے
04:13ان کے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام بھی موجود تھے
04:16وہاں قربانی رکھی
04:17جس کے متعلق آدم علیہ السلام نے
04:20جنابِ الہی کے لیے دعا فرمائی
04:22قابل نے اپنے جی میں کہا
04:24کہ قربانی قبول ہو یا نہ ہو
04:26مجھے پرواہ نہیں
04:28بہرحال میری بہن کے ساتھ
04:30حابیل کبھی نکاح نہیں کر سکتا
04:32آگ اتری اور اس نے حابیل کی قربانی کھا لی
04:35قابل کی قربانی سے صاف بچ کر نکل گئی
04:38کیونکہ اس کا دل صاف نہ تھا
04:40حابیل اپنی بھیڑ بکریوں میں چلے گئے
04:43تو قابل نے گلے میں آ کر یہ وعید سنائی
04:46کہ میں تجھ کو مار ڈالوں گا
04:48حابیل نے پوچھا کہ کس لیے
04:50اس نے جواب دیا کہ اس لیے
04:52کہ تیری قربانی قبول ہو گئی
04:54میری قربانی قبول نہیں ہوئی
04:56بلکہ مسترد ہو گئی
04:57میری حسین و جمیل بہن
04:59تیرے تصرف میں آئی اور مجھے تیری بد روح بہن ملی
05:03آج کے بعد لوگ کہیں گے
05:05کہ تُو مجھ سے بہتر تھا
05:06اس پر حابیل نے کہا
05:08تُو نے اگر مجھے قتل کرنے کے لیے
05:10اپنا ہاتھ بڑھایا
05:11تو میں تجھے قتل کرنے کو
05:13اپنا ہاتھ بڑھانے والا نہیں
05:15کیونکہ میں خدا رب العالمین سے ڈرتا ہوں
05:18میں تو یہ چاہتا ہوں
05:20کہ میرا گناہ بھی تجھ ہی پر پڑے
05:22اور تیرا گناہ بھی تیرے ہی سر پر ہو
05:24کہ تُو دو زخیوں میں شمار ہونے لگے
05:27اور ظالموں کا یہی قیفر کردار ہے
05:30حابیل کے اس قول
05:31کہ میں تو یہ چاہتا ہوں
05:33کہ میرا گناہ بھی تجھ پر ہی پڑے
05:35کہ میرا قتل گناہ ہے
05:36میرے قتل سے پہلے تُو جتنا گناہگار تھا
05:39مجھے قتل کر کے
05:41اس سے بھی زیادہ گناہگار ہو جائے گا
05:43لہٰذا میری خواہش ہے
05:45کہ یہ بوجھ تیرے سر ہی پڑے
05:47سیدنا بعد بن ابی وقاس
05:49رضی اللہ تعالی عنہ نے
05:51حضرت عثمان کے دور خلافت میں
05:53فتنے کے موقع پر کہا تھا
05:55کہ میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں
05:57کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:00نے فرمایا تھا
06:01کہ بلا شک و شبہ
06:02انقریب ایک فتنہ رونما ہوگا
06:05کہ جس میں بیٹھنے والا
06:06کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا
06:09اور کھڑا ہونے والا
06:10چلنے والے سے بہتر ہوگا
06:12اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا
06:15عرض کی
06:16کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:19اگر کوئی شخص میرے گھر میں داخل ہو کر
06:22میری طرف اپنا ہاتھ دراز کرے
06:24تاکہ مجھے قتل کر دے
06:26آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
06:29اس صورت میں آدم کے بیٹے
06:31حابیل کی طرح ہو جاؤ
06:32اسے مسند احمد میں
06:34روایت کیا گیا ہے
06:35ناظرین قابل نے حابیل کو قتل تو کر ڈالا
06:38مگر پھر نادم بھی ہوا
06:40اس نے بھائی کی لاش کو وہیں چھوڑا
06:43اور دفن نہ کیا کیونکہ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا
06:46کہ اب اس کی لاش کا کیا کرے
06:48اب اللہ تعالیٰ نے ایک کوہ بھیجا
06:50جو زمین پر مٹی کریدنے لگا
06:52کیونکہ قابل کو دکھانا تھا
06:54کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیا کرے
06:57کیسے اسے دفنائے
06:58حابیل نے اس کو عشاء کے وقت قتل کیا تھا
07:01دوسرے دن دیکھنے آیا
07:02تو ایک کوہ کو دیکھا
07:04جو مردے کو توپنے کے لیے
07:06مٹی کرید رہا تھا
07:08یہ دیکھ کر اس نے کہا
07:10کیا میں اتنے سے بھی عاجز ہوں
07:13کہ اس کوئے جیسا ہو سکوں
07:15کہ جس طرح یہ کوئے کا مردہ چھپا رہا ہے
07:18میں بھی اپنے بھائی کی لاش چھپا سکوں
07:20آخر حائے دھائے کرنے لگا
07:22اور نادم ہوا
07:23اب لاش کی طرف توجہ دی
07:25بھائی کا ہاتھ پکڑا
07:26اور کوہ نوز سے نیچے آ گیا
07:29حضرت آدم علیہ السلام نے قابل سے کہا
07:31کہ جا تو ہمیشہ مرعوب رہے گا
07:34جسے دیکھے گا
07:35اس سے خوف کھائے گا
07:37اس بد جسے دیکھے گا
07:38اس سے خوف کھائے گا
07:40اس بد دعا کے بعد قابل کی یہ حالت ہو گئی
07:43کہ خود اس کی اولاد میں سے
07:45کوئی اس کے پاس سے گزرتا
07:46تو کچھ نہ کچھ اس پر پھینک مارتا
07:49ایک مرتبہ قابل کا
07:51ایک اندھا بیٹا
07:52اپنے لڑکے کے ساتھ قابل کے پاس آیا
07:55لڑکے نے جو کہ قابل کا پوتا تھا
07:57اپنے اندھے باپ سے کہا
07:59کہ یہ سامنے تیرا باپ قابل ہے
08:01اندھے بیٹے نے قابل کو پتھر مارا
08:03اور وہ قتل ہو گیا
08:05اندھے کے لڑکے نے باپ سے کہا
08:07کہ ہائے تُو نے اپنے باپ کو مار ڈالا
08:10اندھے نے ہاتھ اٹھا کر
08:11بیٹے کو ایسا تمانچہ مارا
08:13کہ وہ بھی مر گیا
08:14پھر خود ہی افسوس کرنے لگا
08:16کہ مجھ پر حیف ہو
08:18کہ آپ ہی اپنے باپ کو پتھر سے
08:20اور بیٹے کو تھپڑ مار کر ہلاک کر دیا
08:23اللہ تعالیٰ نے قابل کے بارے میں فرمایا
08:26کہ حابیل کو قتل کرنے کی وجہ سے
08:28اس کی دنیا بھی برباد ہو گئی
08:31اور وہ آخرت میں بھی سخت عذاب کا مستحق قرار پایا
08:34جیسا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہو بیان کرتے ہیں
08:39کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
08:42کہ جب بھی کسی انسان کو ظلم سے قتل کیا جائے گا
08:46تو آدم کے اس پہلے بیٹے کے ذمہ بھی
08:50اس کے خون کا حصہ ہوگا
08:51کیونکہ وہ سب سے پہلا شخص تھا
08:54جس نے قتل کو جاری کیا
08:55ناظرین آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے
08:59کہ روح زمین پر انسانی زندگی ابتدائی حالت میں تھی
09:02اور حضرت حوہ علیہ وآلہ وسلم کے بطن سے
09:05ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے تھے
09:08ایک ساتھ پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کا نکاح
09:11دوسری مرتبہ جو بھی لڑکا یا لڑکی پیدا ہوتے تھے
09:14ان کے لڑکوں کے ساتھ کر دیا جاتا تھا
09:17حابیل اور قابیل یہ دونوں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں
09:21ناظرین جب قابیل نے حابیل کو قتل کیا
09:24اس وقت حضرت آدم علیہ السلام مکہ المکرمہ گئے ہوئے تھے
09:28جب حضرت آدم علیہ السلام مکہ سے واپس آئے
09:31اور حابیل کو نہ پایا تو اس کو بہت تلاش کیا
09:34مگر وہ نہ ملا
09:35وہ دوسرے لوگوں سے پوچھنے لگے
09:37کسی نے جواب دیا کہ حابیل کچھ دنوں سے نامعلوم کہاں گیا ہے
09:41حضرت آدم علیہ السلام نے حابیل کے صدمے میں کھانا پینا
09:45اور سونا سب ترک کر دیا
09:47اور شب و روز حابیل کے غم میں رہنے لگے
09:50ایک روز آپ نے خواب کی حالت میں دیکھا
09:52کہ حابیل الغیاس الغیاس
09:55اے پدر اے پدر پکار رہے تھے
09:57حضرت آدم علیہ السلام نیند سے چونک کر اٹھے
10:00اور زار زار رونے لگے
10:02اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے
10:05اور حضرت آدم علیہ السلام
10:06اور حضرت ہوا کو حابیل کی قبر پر لے گئے
10:10حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ہوا
10:12نے قبر کھوڑ کر حابیل کو دیکھا
10:15کہ اس کا مغز نکلا ہوا ہے
10:17اور وہ خون سے آلودہ ہو رہا ہے
10:20یہ حال دیکھ کر آپ دونوں بہت روئے
10:23پھر آپ نے حابیل کی لاش کو ایک تابوت میں بند کر کے
10:26اپنے مکان میں لا کر دفن کر دیا
10:28اس وقت آپ علیہ السلام کے 120 بیٹے تھے
10:32جن میں سے سوائے حابیل کے کوئی نہیں مرا تھا
10:36روایت ہے کہ جب حابیل قتل ہو گئے
10:39تو سات دن تک زمین میں زلزلہ رہا
10:42قابیل جو بہت خوبصورت تھا
10:44بھائی کا خون بہاتے ہی
10:46اس کا چہرہ بالکل سیاہ ہو گیا
10:49اور وہ بدصورت ہو گیا
10:50حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کو
10:52اپنے دربار سے نکال دیا
10:54اور وہ یمن کی سرزمین عدن میں چلا گیا
10:57وہاں ابلیس اس کے پاس آ کر کہنے لگا
11:00کہ حابیل کی قربانی کو آگ نے اس لیے کھا لیا تھا
11:04کہ وہ آگ کی پوجا کرتا تھا
11:06لہٰذا تو بھی آگ کی پرستش کیا کر
11:09چنانچہ قابیل پہلا شخص ہے
11:11جس نے آگ کی پرستش کی
11:13اور زمین پر یہ پہلا شخص ہے
11:15جس نے اللہ کی نافرمانی کی
11:17اور زمین پر خون ناحق کیا
11:20یہ وہ پہلا مجرم ہے
11:22جو جہنم میں ڈالا جائے گا
11:24حدیث میں ہے
11:25کہ زمین پر قیامت تک جو بھی خون ناحق ہوگا
11:28اس کے عذاب کا ایک حصہ
11:30بوجھ اور گناہ قابیل پر بھی ہوتا ہے
11:34کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا
11:38ناظرین کسی بے گناہ کو قتل کرنا یعنی خون ناحق کرنا بہت بڑا جرم ہے
11:44قابیل نے غصہ حصد اور بغض میں گرفتار ہو کر اپنے بھائی حابیل کو قتل کر دیا
11:50اس سے معلوم ہوا کہ حصد غصہ اور بغض انسان کے لیے کتنی بری اور خطرناک قلبی بیماری ہے
11:58اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی صورت مائدہ میں ارشاد فرماتا ہے
12:02کہ جو شخص کسی کو بلا وجہ مار ڈالے جبکہ اس نے نہ کسی کو قتل کیا تھا
12:07اور نہ زمین میں فساد پھیلایا تھا
12:10تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا
12:13اور جو شخص کسی بے قصور شخص کے قتل سے باز رہا
12:16گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی دی
12:19اللہ تعالیٰ سے دعا ہے
12:21کہ وہ ہم سب کو غصہ حصد بغض اور تکبر سے بچائے
12:26اور ان سے ہماری حفاظت فرمائے
12:29آمین
12:29دوستو ہم امید کرتے ہیں
12:31کہ ہماری آج کی ویڈیو بھی آپ کو ضرور پسند آئی ہوگی
12:35اور اپنے دوستوں کے ساتھ اس ویڈیو کو شیئر بھی کریں گے
12:38ہم اسی سلسلے کو آگے آنے والی ویڈیوز میں بھی جاری رکھیں گے
12:42اور امبیاء قرآن علیہ السلام کے بارے میں آپ کو بتایا جائے گا
12:46لہٰذا ہمارے چینل کو سبسکرائب ضرور کر لیں
12:50آنے والی ویڈیو تک آپ کا اپنا میز بان قادر بخش کلھوڑو آپ سے اجازت چاہتا ہے
12:55فی امان اللہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended