Skip to playerSkip to main content
#ayyamefatmiyah #syedrazaabbaszaidi #nohay2023 #nohaylyrics
♠ BismiAllah ♠
Ayyam e Fatmiyah Noha 2024 | Ek Yateema Aesi Bhi Thi | Syed Raza Abbas Zaidi | Bibi Fatima Noha 2023
Recited By | Syed Raza Abbas Zaidi
Kalam | Ek Yateema Aesi Bhi Thi

#ekyateemaaesibhithi #nohay2023 #syedrazaabbaszaidi #ayyamefatmiyah
-----------------------------------------------
Noha Lyrics
راہ میں ناقے سے جب گرگئی چھوٹی زہراؑ
گود میں ایک ضعیفہ نے اُسے تھام لیا
سر پہ جب ہاتھ رکھا روکے سکینہؑ نے کہا
جب سے بابا سے میں بچھڑی ہوں بہت ماراگیا
میرے گالوں پہ طمانچوں کے نشاں ہیں بی بی
تم نے دیکھی ہے مرے جیسی یتیمہ کوئی

بات جب یہ سنی وہ بھی رونے لگی
پھر ضعیفہ سکینہؑ سے کہنے لگی

تم سے پہلے اک یتیمہ ایسی بھی تھی

ہاں تمہارے وطن میں ہی رہتی تھی وہ
بادشاہِ مدینہ کی بیٹی تھی وہ
باپ کے بعد اتنے مصائب پڑے
اپنے گھر میں سہارے سے چلتی تھی وہ
غم اُٹھاتی رہی خم کمر ہوگئی
نوجوانی میں ہی جو ضعیفہ ہوئی

ظالموں نے یوں بابا کا پرسہ دیا
جلتا دروازہ اُس پر گرایا گیا
در کے نیچے تھی وہ در ہٹا نا سکی
ہاتھ بھی جل گئے پہلو زخمی ہوا
لوگ چل کر یہاں سے گئے جب وہاں
پاؤں رکھ رکھ کے توڑی گئی پسلیاں

گال نیلے ہیں جیسے تمہارے ابھی
اُسکے گالوں کی رنگت بھی ایسی ہی تھی
سامنے اُسکو بیٹوں کے مارا گیا
وقت یہ نا کسی ماں پہ آئے کبھی
شاہ زادی سنو کتنی بے بس تھی وہ
گھر میں بچوں سے چہرا چھپاتی تھی جو

جسطرح تیرے کانوں سے ہے خوں رواں
کان اُسکے بھی زخمی تھے اے میری جاں
اتنی شدت سے ظالم نے مارا اُسے
ٹوٹ کر خاک پہ گر گئیں بالیاں
بیٹی بن باپ کی درد سہہ نا سکی
ہاتھ کانوں پہ رکھ کر وہ روتی رہی

پانی اُٹھ اُٹھ کے جسکو پلاتی تھی وہ
لوریا ں دے کے جسکو سلاتی تھی وہ
ہاتھ چادر میں اُس سے چھپانے لگی
ہاتھ پھیلاکے جسکو بلاتی تھی وہ
کیسےکہتی وہ ماں میرےدل میری جاں
تازیانوں سے زخمی ہیں سب اُنگلیاں

اُسکا مرنا بھی سب سے چھپایا گیا
چودہ لوگوں میں گھر سے جنازہ اُٹھا
اُسکی چالیس قبریں بنائی گئیں
بس یہ سنتے ہی بچی نے روکر کہا
اے ضعیفہ سنو میری دادی تھیں وہ
مجھکو جلدی بتاؤ کہ تم کون ہو

ہاتھ پہلو سے اپنے اُٹھاتے ہوئے
زخمی چہرے سے پردہ ہٹاتے ہوئے
اے رضا اور ذیشان رونے لگیں
یہ سکینہؑ کو زہراؑ بتاتے ہوئے
میرا ورثہ ہو تم میرا چہرا ہو تم
اب سمجھ آیا کیوں چھوٹی زہرا ہو تم
-----------------------------------------------

Category

🎵
Music
Transcript
00:30Baba! Baba!
00:37سدينة السقطة من النوق.
01:00راہ بناقے سے جب گر گئیں
01:14چھوٹی زہرہ
01:19گود میں ایک ضعیفہ نے
01:25اسے تھام لیا
01:30سر پہ جب ہاتھ رکھا
01:34رو کے سکینہ نے کہا
01:40جب سے بابا سے میں بچھڑی ہوں
01:44بہت مارا گیا
01:48میرے گالوں پہ
01:51تماشوں کے نشان ہے
01:56بی بی
01:57تم نے دیکھی ہے
02:01میرے جیسی اتمہ کوئی
02:08بات جب یہ سنی
02:11وہ بھی رونے لگی
02:14پھر ضعیفہ سکینوں سے کہنے لگی
02:21تم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
02:38ہاں تمہارے وطن میں ہی رہتی تھی
02:43بادشاہ مدینہ کی بیٹی تھی وہ
02:50باپ کے بعد اتنے مسائب پڑھ
02:56اپنے گھر میں سہارے سے چلتی تھی وہ
03:02خم اٹھاتی رہی خم کمر ہو گئی
03:08نوجوانی میں ہی جو ضعیفہ ہوئی
03:15ہم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
03:23ہم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
03:32ظالموں نے یوں بابا کا پرسا دیا
03:38جلتا دروازہ اس پہ گرایا گیا
03:44در کے نیچے تھی وہ در ہٹا نہ سکی
03:50ہاتھ بھی جلگر پہلوں زخمی ہوا
03:56لوگ چل کر یہاں سے گئے جب وہاں
04:02پاؤں رکھ رکھ کے توڑی گئی پسلیاں
04:09ہم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
04:17وہ ضعیفہ کہانی سواتی رہی
04:23اور معصوم معصوم ہاتی رہی
04:29گال نیلے ہیں جیسے تمہارے ابھی
04:35اس کے گالوں کی رنگت بھی ایسی ہی تھی
04:41سامنے اس کو بیٹوں کے مارا گیا
04:47وقت یہ نہ کسی ماں پہ آئے کبھی
04:53شاہدادی سوں کتنے بے بستیوں
04:59گھر میں بچوں سے چہرہ چھپاتی تھی جو
05:06ہم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
05:23جس طرح تیرے کانوں سے ہے خورا
05:29کان اس کے بھی زخمی تھے میری جان
05:35اتنی شدت سے ظالم نے مارا
05:40اسے ٹوٹ کر خاک پہ گر گئیں والیاں
05:47بیٹی بن باپ کی درد سے نہ سکیں
05:53ہاتھ کانوں پہ رکھ کر وہ نوتے رہیں
06:00اس اہل ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
06:08وہ ضریفہ کانیں سناتے رہیں
06:14اور معصوم معصوم آتے رہیں
06:20پانی اٹھ اٹھ کے جس کو پلاتے تھے وہ
06:27لوریاں دیکھ جس کو سلاتے تھے جو
06:33ہاتھ چادر میں اس سے چھپانے لگی
06:39ہاتھ پھیلا کے جس کو بولاتے تھے وہ
06:45کیسے کہتی وہاں میرے دل میری جان
06:51تازیانوں سے زخمی ہے سب انگلیاں
06:58ہم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
07:15اس کا مرنا بھی سب سے چھپایا گیا
07:21چادہ لوگوں میں گھر سے جلازہ اٹھا
07:27اس کی چالیس قبریں بنائے گئیں
07:33بس یہ سنتے ہی بچی نے رو کر کہا
07:39اے ضعیفہ سو میری عادی تھی وہ
07:45مجھ کو جلدی بتاؤ کہ تم کون ہو
07:51ہاتھ پہلو سے اپنے اٹھاتے ہوئے
08:09زخمی چہرے سے پردا ہٹاتے ہوئے
08:15اے رضا اور زشان رونے لگیں
08:21یہ سکینہ کو زہرا بتاتے ہوئے
08:27میرا برسا ہو تم میرا چہرا ہو تم
08:33اب سمجھ آیا کیوں چھوٹی زہرا ہو تم
08:42ہائے ہائے ہائے ہائے زہرا
08:48ہائے ہائے ہائے زہرا
08:54موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended