00:30Baba! Baba!
00:37سدينة السقطة من النوق.
01:00راہ بناقے سے جب گر گئیں
01:14چھوٹی زہرہ
01:19گود میں ایک ضعیفہ نے
01:25اسے تھام لیا
01:30سر پہ جب ہاتھ رکھا
01:34رو کے سکینہ نے کہا
01:40جب سے بابا سے میں بچھڑی ہوں
01:44بہت مارا گیا
01:48میرے گالوں پہ
01:51تماشوں کے نشان ہے
01:56بی بی
01:57تم نے دیکھی ہے
02:01میرے جیسی اتمہ کوئی
02:08بات جب یہ سنی
02:11وہ بھی رونے لگی
02:14پھر ضعیفہ سکینوں سے کہنے لگی
02:21تم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
02:38ہاں تمہارے وطن میں ہی رہتی تھی
02:43بادشاہ مدینہ کی بیٹی تھی وہ
02:50باپ کے بعد اتنے مسائب پڑھ
02:56اپنے گھر میں سہارے سے چلتی تھی وہ
03:02خم اٹھاتی رہی خم کمر ہو گئی
03:08نوجوانی میں ہی جو ضعیفہ ہوئی
03:15ہم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
03:23ہم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
03:32ظالموں نے یوں بابا کا پرسا دیا
03:38جلتا دروازہ اس پہ گرایا گیا
03:44در کے نیچے تھی وہ در ہٹا نہ سکی
03:50ہاتھ بھی جلگر پہلوں زخمی ہوا
03:56لوگ چل کر یہاں سے گئے جب وہاں
04:02پاؤں رکھ رکھ کے توڑی گئی پسلیاں
04:09ہم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
04:17وہ ضعیفہ کہانی سواتی رہی
04:23اور معصوم معصوم ہاتی رہی
04:29گال نیلے ہیں جیسے تمہارے ابھی
04:35اس کے گالوں کی رنگت بھی ایسی ہی تھی
04:41سامنے اس کو بیٹوں کے مارا گیا
04:47وقت یہ نہ کسی ماں پہ آئے کبھی
04:53شاہدادی سوں کتنے بے بستیوں
04:59گھر میں بچوں سے چہرہ چھپاتی تھی جو
05:06ہم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
05:23جس طرح تیرے کانوں سے ہے خورا
05:29کان اس کے بھی زخمی تھے میری جان
05:35اتنی شدت سے ظالم نے مارا
05:40اسے ٹوٹ کر خاک پہ گر گئیں والیاں
05:47بیٹی بن باپ کی درد سے نہ سکیں
05:53ہاتھ کانوں پہ رکھ کر وہ نوتے رہیں
06:00اس اہل ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
06:08وہ ضریفہ کانیں سناتے رہیں
06:14اور معصوم معصوم آتے رہیں
06:20پانی اٹھ اٹھ کے جس کو پلاتے تھے وہ
06:27لوریاں دیکھ جس کو سلاتے تھے جو
06:33ہاتھ چادر میں اس سے چھپانے لگی
06:39ہاتھ پھیلا کے جس کو بولاتے تھے وہ
06:45کیسے کہتی وہاں میرے دل میری جان
06:51تازیانوں سے زخمی ہے سب انگلیاں
06:58ہم سے پہلے ایک یتیمہ ایسی بھی تھی
07:15اس کا مرنا بھی سب سے چھپایا گیا
07:21چادہ لوگوں میں گھر سے جلازہ اٹھا
07:27اس کی چالیس قبریں بنائے گئیں
07:33بس یہ سنتے ہی بچی نے رو کر کہا
07:39اے ضعیفہ سو میری عادی تھی وہ
07:45مجھ کو جلدی بتاؤ کہ تم کون ہو
07:51ہاتھ پہلو سے اپنے اٹھاتے ہوئے
08:09زخمی چہرے سے پردا ہٹاتے ہوئے
08:15اے رضا اور زشان رونے لگیں
08:21یہ سکینہ کو زہرا بتاتے ہوئے
08:27میرا برسا ہو تم میرا چہرا ہو تم
08:33اب سمجھ آیا کیوں چھوٹی زہرا ہو تم
08:42ہائے ہائے ہائے ہائے زہرا
08:48ہائے ہائے ہائے زہرا
08:54موسیقی
Comments