Skip to playerSkip to main content
Meri Pehchan

Topic: Naseehat ki Ahmiyat aur Fawaid

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xid5vnoOqusaAKyjCNLp6_QW

Host: Syeda Zainab

Guest: Prof. Naheed Abrar, Zarmina Nasir

#MeriPehchan #SyedaZainabAlam #ARYQtv

A female talk show having discussion over the persisting customs and norms of the society. Female scholars and experts from different fields of life will talk about the origins where those customs, rites and ritual come from or how they evolve with time, how they affect and influence our society, their pros and cons, and what does Islam has to say about them. We'll see what criteria Islam provides to decide over adapting or rejecting to the emerging global changes, say social, technological etc. of today.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00I am the Almighty, in the name of Allah, the most important thing, Allahumma salli ala siyyidina wa moulana muhammadin
00:08wala ala ala siyyidina wa moulana muhammadin wa barik wa sallim wa sallu ala
00:13Rabbi shrahali sadarii vayasir liyamrii vahilul aqdatan min lisani yafquahu qawli
00:20Assalamualaikum warahmatullahi wabarakatuhu
00:23ڈناب میری پہچان پروگرام کی ایک نئی اپیسوٹ کے ساتھ آپ کی میزبان سیدہ زینب حاضر خدمت ہے
00:32دین کی جو اصل روح ہے ناظر محترم دین کی اصل روح لوگوں کی اصلاح اور بھلائی میں مزمر ہے
00:42نصیحت جو ہے وہ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے اور دین اسلام نے اس پر بہت زیادہ زور بھی دیا ہے
00:50قرآن مجید فرقان حمید میں بھی اور احدیث مبارکہ کی روح سے بھی
00:55جب ہم لوگوں کی معاشرتی اخلاقی کوئی بھی تربیت کرنا چاہے تو نصیحت اس میں بنیادی انصر کا کام دیتی ہے
01:05نصیحت کے ذریعے فرد اپنی ذات میں بھی نکھار پیدا کرتا ہے
01:10یعنی اس کی اپنی ذات میں بھی نکھار آتا ہے
01:12پھر اس کے ساتھ ساتھ سماجی سطح پر بھی نصیحت کے ذریعے بہتری آتی ہے
01:18تو نصیحت ایک بہت ہی پیاری چیز ہے جسے ہمیں لوگوں کے لیے بہتر بات بتانے کے لیے
01:24ضرور اپنا اظہار کرنا چاہیے
01:27اور جیسا کہ میں نے ابھی ارس کیا کہ یہ اخلاقی فریضہ بھی ہے
01:30اب نصیحت دین کا جو بنیادی حصہ ہے
01:33اور قرآن مجید فرقان حمید کا جس طرح ہم نے ذکر کیا
01:37سورہ عصر کی بات کریں ہم
01:39تو سورہ عصر میں اللہ رب العزت کے آئشات فرماتا ہے
01:43کہ انسان قسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے
01:46کہ جو ایمان لائے جنہوں نے نیک آمال کیے
01:50جو حق بات کی تلقین کرتے ہیں
01:52اور صبر کی تعقید کرتے ہیں
01:54اور نصیحت کی اہمیت آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں
01:57کہ قرآن مجید میں
01:59حضرت لقمان علیہ السلام نے جو اپنے بیٹے کو نصیحتیں فرمائیں
02:04اور اس قدر اہم نصیحتیں تھیں
02:07وہ قرآن مجید میں اس کا بیان موجود ہے
02:09تو نصیحت اتنی اہم چیز ہے
02:11الدین و نصیحہ
02:14اب دین نصیحت کا نام ہے
02:17یہ بھی ہم نے اب آرہا پڑھا
02:19تو آج ہم نصیحت کے فوائد اور اس کی اہمیت کے تعلق سے کلام کریں گے
02:25اور اس اہم موضوع پر ہمارے ساتھ لبکف شائی کے لیے
02:28دو مہمان شخصیات ہوا کرتی ہیں
02:30جیسا کہ آپ جانتے ہیں آج بھی آپ کی پسندیدہ میری پسندیدہ
02:34اسکولر ہمارے ساتھ موجود ہیں
02:36ڈاکٹر پروفیسر ناہید عبرار صاحبہ موجود ہیں
02:39اسلامی طرز پر ویلکم کرتے ہیں
02:42السلام علیکم برحمت اللہ وبرکاتہ
02:44والیکم اسلام زینب
02:46کیسی آپ کا خیریت سے ہیں
02:47جی زینب میری اللہ کا حسان ہے
02:50آپ جب آپ یہ کہتی ہیں بڑا ہی اچھا لگتا ہے مجھے ما شاء اللہ
02:53دراصل اس بات میں تمام بات پنہا ہے
02:55بے شک بے شک سبحان اللہ
02:57ان کے ساتھ جو اگلی نشست پر شخصیت رونق افروز ہیں
03:00بہت جمع کر بات کرتی ہیں
03:02بہت منفرد انداز کی مالک ہے
03:04زرمینہ ناصر خاکبی صاحبہ موجود ہیں
03:06ویلکم کرتے ہیں
03:07السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
03:09والیکم السلام
03:10جزاکہ اللہ بہت خوش رہی ہے آباد رہی ہے
03:13ڈاکٹر صاحبہ آغاز کر لیتے ہیں
03:15نصیحت کی اہمیت
03:17ازروع قرآن اور حدیث کے تعلق
03:19صاحب اشاد فرمائیے گا
03:20اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
03:24بسم اللہ الرحمن الرحیم
03:28نصیحت مومنین کے اوصاف میں سے ہے
03:33نصیحت کرنے والوں پر
03:35اللہ رحم فرماتا ہے
03:37نصیحت کرنے والے
03:39مستحق رحمت ہیں
03:41نصیحت کرنے والوں کو
03:43اللہ عذاب سے بچاتا ہے
03:45خیر خواہی کے ساتھ
03:47کسی اچھی بات کی
03:49تلقین کرنا نصیحت کہلاتا ہے
03:52قرآن پاک میں
03:53اللہ تعالیٰ اشاد فرماتا ہے
03:56کہ اپنے رب کی طرف بلاؤ
03:58پکی تدبیر
04:00اور اچھی نصیحت کے ساتھ
04:02قرآن پاک میں
04:04اللہ تعالیٰ اشاد فرماتا ہے
04:06کہ ہم تمہیں اس لیے نصیحت کرتے ہیں
04:08کہ تم اسے قبول کرو
04:10اور اس پر عمل کرو
04:12قرآن پاک میں
04:13اللہ تعالیٰ اشاد فرماتا ہے
04:15کہ ممن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں
04:18نیکی کا حکم دیتے ہیں
04:20برائی سے روکتے ہیں
04:21نماز قائم کرتے ہیں
04:22اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل کرتے ہیں
04:26اللہ انقریب ان پر رحم فرمائے گا
04:29تو زینب صاحبہ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے
04:32کہ نصیت کرنے والوں پر
04:34اللہ اپنا رحم فرماتا ہے
04:36قرآن پاک میں
04:38اللہ تعالیٰ اشارت فرماتا ہے
04:40کہ وہ لوگ جو خشو خضو کے ساتھ
04:42نماز پڑھتے ہیں
04:43رات کی تاری کیوں میں سجدوں کو بجاہ لاتے ہیں
04:46نیکیوں کی طرف دوڑتے ہیں
04:49ایسے نیکوکار سوحالین ہیں
04:51تو اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے
04:54کہ نصیت کرنے والے سوحالین ہوتے ہیں
04:57قرآن پاک میں
04:58اللہ تعالیٰ اشارت فرماتا ہے
04:59کہ اللہ عدل احسان
05:01رشتے داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے
05:03برائی بےہائی
05:04اور سرکشی سے منع فرماتا ہے
05:07اور اس لیے تم لوگوں کو نصیت کرتا ہے
05:09کہ تم اسے قبول کرو
05:10اور اس پر عمل کرو
05:12نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
05:15صحابہ اکرام سے کہا
05:17کہ نصیت کریں
05:18تو صحابہ اکرام نے کہا
05:20یا رسول اللہ کس کے لیے کس کو
05:22تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
05:24اللہ کے لیے نصیت کریں
05:26اللہ کے رسول کے لیے کریں
05:27اللہ کی کتاب کے لیے کریں
05:29اور مسلمانوں کے لیے کریں
05:31ابو ذر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے
05:35اور کہنے لگے
05:36کہ اللہ کے رسول مجھے کوئی نصیت فرمائے
05:39تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
05:41کہ خوف خدا رکھو یہ تمام معاملات کی زینت ہے
05:45اللہ کے ذکر کو لازم پکڑ لو
05:48یہ دنیا میں نور آخرت میں زقیرہ ہے
05:51تلاوت کلام پاک کی تلاوت کرو
05:53اور دیکھئے کہ زیادہ حسنے سے منع فرمائے
05:57کہ زیادہ حسنہ دل کو مردہ کر دیتا ہے
06:00اور چہرے کی چمک ختم کر دیتا ہے
06:02اسی طرح ابن باست روایت ہے
06:04فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پہ تھا
06:08میں نے کہا اللہ کے رسول مجھے کوئی نصیت فرمائیے
06:11تو اللہ کے رسول نے کہا
06:13کہ اللہ کی عبادت کرو
06:15اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ رکھو
06:18اور یاد رکھو کہ ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی تمہیں فائدہ پہنچانا چاہیں
06:22تو اس سے زیادہ نہیں پہنچ سکتا
06:25جتنا تمہارے لئے لکھ دیا گیا ہے
06:27اور ساری دنیا کے لوگ مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں
06:31تو اس سے زیادہ نہیں پہنچ سکتا
06:33جتنا تمہارے لئے لکھ دیا گیا ہے
06:36اور سب سے بڑھ کر زینب ہمارے لئے یہ بات بہت اہمیں
06:39کہ آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
06:43جو ہمیں خوبصورت نصیتیں کی ہیں گی
06:45ان پر عمل پیرا ہو کر
06:47ہم اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو سمار سکتے ہیں
06:50سبحان اللہ
06:51آپہ یعنی نصیت جو ہے
06:54ایک تو بہت خوبصورت اور فائدہ مند عمل بھی ہے
06:57اور یہ ہر دور میں
06:58ہر معاشرے کی ضرورت رہا ہے
07:00ایسا نہیں کہ آج کے دور میں نہیں ہے
07:02پچھلے دور میں تھا
07:03ہر دور کی ضرورت ہے
07:05اور نصیت
07:06بس یہ ہے کہ وقت اور موقع محل دیکھ کر
07:08جو ہے نصیت کی جائے
07:10زرمینہ آپ ہمیں ساتھ موجود ہیں
07:12نصیت کے فوائد اور اس کے اثرات کے تعلق سے
07:15کیا فرمائیں گی روشنی ڈالی
07:17بہت شکریہ بسم اللہ الرحمن الرحیم
07:18آج کا موضوع بہت اہم ہے نصیت
07:20اور ہر زمانے میں
07:21ہر وقت انسان کو گائیڈنس کی
07:23کہیں نہ کہیں
07:24ضرورت پیش آتی رہتی ہے
07:25ہم دیکھتے ہیں کہ
07:26اسباب ہدایت کے طریقوں میں
07:27تعلیم و تربیت کے طریقوں میں
07:29نصیت کو ایک اہم درجہ حاصل ہے
07:31پھر ہم بزرگانے دین
07:32اپنے اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کریں
07:34ان کی لائف کے حوالے سے دیکھیں
07:36ان کی اقوال
07:36ارشادات
07:37مکتوبات
07:38ملفوزات
07:38تو نصیت کو ایک بنیادی درجہ حاصل ہے
07:41پھر ارابک زبان میں
07:51شخص کسی کو نصیت کر رہا ہوتا ہے
07:53وہ اپنے تجربات کا
07:54ایک نچوڑ پیش کر رہا ہوتا ہے
07:55اب تربیت کے دو طریقے ہیں
07:57یا تو انسان اس پورے پروسس سے گزرے
07:59یا پھر کسی کے تجربے سے سیکھ لے
08:01کسی کے ایکسپیرینس
08:02یا اپنی زندگی میں نکھار پیدا کر دے
08:04اور اپنی زندگی میں بہار لے آئے
08:05اور نصیت چونکہ خیر خواہی کا نام ہے
08:07تو جب بھی انسان کسی کو نصیت کرتا ہے
08:10خیر خواہی کا یہ جذبہ
08:11اتنا دین اسلام میں پسند کیا گیا ہے
08:13کہ ایک حدیث کا مفہوم ہے
08:14کہ جو شخص خیر خواہی کی بات
08:15دوسروں تک پہنچاتا ہے
08:16اس کے لئے سمندر میں مچھلیا
08:17اور بلوں کے اندر
08:18تھیونٹیم بھی دعا استخفاء
08:20اور خیر کی بات کرنے والے کو بھی
08:23اتنا ہی ثواب ملتا ہے
08:24جتنا کہ خیر کا عمل
08:25انجام دینے والوں کو ثواب ملتا ہے
08:27حضرت جبیر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ
08:29اسے روایت ہے
08:29کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:32نے مجھے نصیحت فرمائی
08:33کہ نماز ادا کرو
08:35زکاة ادا کرو
08:36اور اس کے ساتھ ساتھ
08:37لوگوں کو خیر کی دعوت دو
08:39پھر نصیحت فرمایا گا
08:40دین اسلام میں
08:41کہ نصیحت تمام مسلمانوں کے لئے
08:43اہل ایمان کے لئے
08:45نفع بخشی ہے
08:46خیر ہی خیر ہے
08:47کیونکہ آپ دیکھیں
08:48حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کی
08:50والدہ نے ان کو سچ کی نصیحت کی
08:51اور کیسے ان کی زندگی بدل گئی
08:53اور ڈاکوں کا وہ پورا گروہ مسلمان ہو گیا
08:55دائرہ ایمان میں داخل ہو گیا
08:57اور آپ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ بھی
09:00اپنے وقت کے ولیے کامل ٹھہرے
09:01اس کے فوائد و اثرات تو بے حد ہیں
09:04کیونکہ دین و نصیحت
09:05کہ دین نصیحت کا نام ہے
09:07جب ہم کسی کو نصیحت کر رہے ہوتے ہیں
09:08اپنی ڈیوٹی بھی انجام دیتے ہیں
09:09بہترین انسان بہترین مسلمان ہونے کی پہچان بھی یہی ہے
09:12جب ہم کسی کو نصیحت کرتے ہیں
09:14تو معاشرے میں پیار محبت
09:15امن نیکی عدل احسان کو فروغ ملتا ہے
09:18اور ہو سکتا ہے
09:19دیکھیں کوئی انسان کہیں سٹک ہو
09:20ہماری ہلکی سپورٹ کی اس کی ضرورت ہو
09:22وہ کہیں پھسا ہوا ہو
09:24تو اس کو مدد مل جاتی ہے
09:25وہ اپنی اصلاح کا سامان کر لیتا ہے
09:27ہو سکتا ہے کہ کوئی انسان اتنا پریشان ہو
09:29کہ ہماری چھوٹی سی بات
09:39بے حد فوائد و اثرات ہیں
09:40جو سوسائٹی کے اندر ہمیں دیکھنے میں آتے ہیں
09:43اور انسان کی زندگی کے جو پانچ اہم ترین شعبیں ہیں
09:47سپیرچول ہے روحانی ہے
09:48اس کے علاوہ فیزیکل ہے
09:50جو اس کا جسمانی ہے
09:52مورل ہے اخلاقی ہے
09:54اور اسٹھیٹیکل جو ہے
09:55اس کی جمالیاتی حص جو انسان کی ہوتی ہے
09:58اس کے علاوہ دیگر جتنی بھی شعبیں ہیں
10:00ان کو خوبصورتی عطا ہوتی ہے
10:01انسان کی جو معاملات ہیں اور عبادات ہیں
10:04دونوں میں نکھار پیدا ہوتا ہے نصیحت سے
10:05اس نے تلاوت بھی وہ سیکھ لیتا ہے
10:07اس نے عبادت آ جاتا ہے
10:08اس نے نیت اس کے اندر آ جاتی ہے
10:09اس نے خلق آ جاتا ہے
10:10اور جب نصیحت کرنے والے کا مخاطب
10:13سب سے پہلے اپنی ذات ہو
10:14تو اس کی نصیحت کرنے کو
10:16اور اس کی شخصیت کو گویا چار چاند لگ جاتے ہیں
10:18کیونکہ دل سے جو بات نکلتی ہے
10:20اثر رکھتی ہے
10:21پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
10:24بے شک بے شک
10:25اب جس طرح سے ہم بار بار بات کر رہے نا
10:27نصیحت کے حوالے سے
10:28اس پر مزید بھی کلام کریں گے
10:30اس کے فوائد پر بھی کلام ہوا
10:32مزید اس پر بات کریں گے
10:33اثرات کے تعلق سے بھی بات ہوئی
10:35ایک وقفہ ہمارے اور آپ کے درمیان حائل ہے
10:37حاضر ہوتے ہیں
10:38اس مقتصر سے وقفے کے بعد
10:40السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
10:43جناب آج کی بزن میں ہم بات کر رہے ہیں
10:46نصیحت کے تعلق سے
10:47اس کے سمرات کے حوالے سے
10:49اس کے فوائد کے حوالے سے
10:50اور جس طرح سے آج فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں
10:53مجھے ایسا لگتا ہے
10:55کہ اس کی قدر زیادہ ضرورت ہے
10:57کہیں پر کوئی دکھی دل ہے
10:59کہیں پر کوئی کسی معاملے میں پریشان ہے
11:02آپ کے اچھائی کا
11:04بھلائی کا
11:05خیرخواہی کا طالب ہے
11:07اور اگر آپ اسے بہتری نصیحت دیتے ہیں
11:09تو یقینی طور پر
11:11اس کے دل میں جگہ بھی پیدا ہوتی ہے
11:12اور اس کا عزم بھی مزید بڑھ جاتا ہے
11:15ہمارے ساتھ موجود ہے ڈاکٹر پیسر ناہید عبرار صاحبہ
11:19ان کے ساتھ رونہ قفروز ہے
11:20زرمینہ ناصر خاکوی صاحبہ
11:22ڈاکٹر صاحبہ اگر ہم بات کر لیتے ہیں
11:25آج کی نوجوان نسل کے تعلق سے
11:28تو ہماری نوجوان نسل کے تعلق سے
11:31آپ کیا کہیں گی
11:32کہ جو کبھی کبھی ہمیں ایسا فیل ہوتا ہے
11:34اور کہ وہ نصیحت سننے کے روادار ہی نہیں ہے
11:37ایسا لگتا ہے
11:38کہ جیسے انہیں
11:39سب کچھ آتا ہے نصیحت کے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے
11:42کیا کہیں گی
11:43صاحبہ بہت خوبصورت سوال کیا ہے
11:46کہ بچے ہمارے اہد کے چالاک ہو گئے
11:48تو نصیحت کو تو آج کل بوس سمجھا جاتا ہے
11:52دیکھیں میں اس سوال کا جواب دینے سے پہلے تحصیح کر دوں
11:56کہ نصیحت بچوں کے لیے بھی ضروری ہے
11:58نصیحت کے لیے عمر کی وقت کی قید نہیں ہے
12:02نصیحت نوجوانوں کے لیے بھی ضروری ہے
12:04نصیحت خواتین مردمت
12:06ہر دور میں اگر آپ کو کوئی اچھی نصیحت کر رہا ہے
12:10تو اسے خیر خواہی سمجھ کر آپ قبول کریں
12:13تاکہ آپ زندگی کے جو گزار رہے ہیں
12:16ان کے راستوں میں آپ کے لیے آسانیہ پیدا ہوں
12:19دیکھیں زینب صاحبہ
12:20جس طرح اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے
12:22زندگی گزارنے کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں
12:25اس طرح نصیحت کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں
12:27دیکھیں ایک گھر میں پانچ بہن بھائی ہوتے ہیں
12:30سب کی سوچ مختلف ہوتی ہے
12:32سب کا انداز مختلف ہوتا ہے
12:34سب کی فکر مختلف ہوتی ہے
12:36کچھ بچے اپنے والدین کے بہت فرما بردار ہوتے ہیں
12:39کچھ بچے اپنے والدین کے فرما بردار نہیں ہوتے
12:42اس کام نصیحت سنتے ہیں
12:44اور دوسرے کام نکال دیتے ہیں
12:45کچھ بچے جو پیدائشی طور پر بہت زدی ہوتے ہیں
12:48راکھیر عمر تک
12:49بڑھا پر تک زدی رہتے ہیں
12:51کہ میں نے تو جو کہہ دیا میرا فیصلہ توٹال ہے
12:53اور گھر والوں کو ماننا ہے
12:54اور کچھ بچے جو بلکل زدی نہیں ہوتے
12:57کچھ بچوں میں نوجوانوں میں بڑھوں میں
12:59بہت زیادہ برداشت کا مادہ ہوتا ہے
13:01کچھ میں جو بلکل بھی برداشت کا
13:03مادہ نہیں ہوتا ہے
13:05دیکھیں کہ اس میں سب سے اہم پہلوی ہے
13:07کہ والدین کی تربیت
13:09دیکھیں زینب صاحبہ اگر بچے کو کھلونا نہیں دیا جائے گا
13:12تو کوئی دیر کلیر ہوئے گا
13:14علم نہ دیا جائے گا
13:15تو ساری زندگی روئے گا
13:16اور اگر اسے دین سے دور
13:19دینی علم نہیں سکھایا گیا
13:21تو تا قیامت روئے گا
13:22تو والدین کی ذمہ داری ہے
13:24کہ اپنے بچوں کی کس طرح تربیت کر رہی ہیں
13:27دیکھیں جس گھر میں
13:28بڑے والدین بڑے صلح جو ہوتے ہیں
13:31اگر انہیں کوئی برا بھی کہہ رہا ہوتا ہے
13:32تو وہ اپنے بچوں سے کہتے ہیں نہیں بیٹے ہیں
13:34انہوں نے ہمیں کہا ہے
13:35تمہارا کیا قصور جاؤ تم جا کر انہیں ملو
13:37تم سلام کرنے میں پہل کرو
13:39تو وہاں پر نصیت پر بڑا عمل ہوتا ہے
13:41جہاں کچھ گھروں میں والدین بہت زدی طبیعت اکتے ہیں
13:44کچھ گھروں میں بچے بہت زدی طبیعت اکتے ہیں
13:46تو والدین کا فرض ہے
13:48کہ بچوں سے مشفقانہ رویہ رکھیں
13:50ان کی اصلاح کریں
13:52ان کی جائز خواہشات کو پورا کریں
13:55ان کے ساتھ نرمی اور شفقت کا رویہ فرمائیں
13:58اور دیکھیں
13:59ہمیں زردہ فرماتے ہیں
14:00کہ کسی نے کسی کو نصیت
14:02لوگوں کے بیش میں کی تھی
14:03اس نے اس شخص کو رسوہ کیا
14:05تو اپنے نوجوان بچے ہوتے ہیں
14:07تو ان کی عزت نفس کا بھی خالقنا پڑتا ہے
14:10دیکھیں زینب صاحبہ
14:12یونیسٹی میں بھی باشعور بچے پڑھنے آتے ہیں
14:14اگر ان کو ڈاٹا جائے گا
14:16تو میری عزت میرے اپنے ہاتھ میں
14:18مجھے بھی دو پلٹ کر وہ فوراں جواب دے دیں گے
14:21جب انہیں کوئی اچھائی اور برائی
14:22کا راستہ بتایا جاتا ہے
14:24سچ و جھوٹ کا راستہ بتایا جاتا ہے
14:26خیر و شر کا راستہ بتایا جاتا ہے
14:29تو انہیں تنہائی میں بلا کر کہا جاتا ہے
14:31کہ بیٹا یہ تمہارے لیے اچھا راستہ ہے
14:33اس راستے کو تم اختیار کرو
14:35لیکن زینب صاحبہ
14:37یہاں بھی اس فوراں سے وضحات کر دوں
14:38کہ اس کے پیچھے بھی ان بچوں کی تربیت بولتی ہے
14:41جن بچوں کے والدین
14:43بہت اچھی تربیت کرتے ہیں
14:44کہتے ہیں میڈم
14:45مستاد تو ماں کا درجہ رکھتا ہے
14:47آپ نے جو کہا صحیح کا
14:48آپ نے ہماری اصلاح کے لیے کہا
14:50اور اس بھی کچھ بچے ایسے بھی
14:51اس کام سنتے ہیں
14:52دوسرے کام نکال دیتے ہیں
14:53دیکھیں نا نظام الدین
14:55اولیہ کی تربیت ان کی والدہ صاحبوں نے
14:58کس طرح کی
14:59کہ جب کچھ کھانے کے لیے نہیں ہوتا تھا
15:01تو کہتے تھے آج ہم اللہ کے مہمانے
15:03پیچھے دیکھیں نا
15:04کہ بابا فری شکرگنج کی
15:06نے کہا کہ میں نے تو آج تک کبھی
15:07تحجد کی نماز نہیں چھوڑی
15:09تو اس کی ماں نے کہا
15:10کہ چھوڑتے کیسے
15:10میں نے کبھی تمہیں زندگی میں
15:12بغیر وضو دودھی نہیں پلایا
15:14تو دیکھیں کہ ماں
15:16ایک اہم رول موڈل ہوتی ہے
15:17والد کا بھی کرداریں
15:18ماہ زیادہ ٹائم گھر میں دیتی ہے
15:20کہ اپنے بچوں کو
15:21اگر زد ہے
15:22تو ان کی زد کی عادت ختم کریں
15:24اگر مطلب ہے
15:26کہ ان میں اونچی آواز سے
15:27بات کرنے کی عادت ہے
15:28تو وہ عادت ختم کریں
15:29اور ان کی اصلاح کریں
15:31اور اصلاح کرنے کے لیے
15:32عمر کی کوئی قید نہیں ہے
15:34میں تو ابھی بھی
15:34اگر کوئی میری اصلاح کرتا ہے
15:36تو میں کہتا ہی
15:36میرے بھلے کے لیے بول رہا ہوں
15:38تو میں خود اپنے گیرے بان میں
15:39جھاک کر دیکھتا ہوں
15:40کہ نہیں ہو سکتا
15:41ابھی سب کو اصلاح کی ضرورت
15:42اللہ ہمیں بھی
15:43ہدایت نصیب فرما
15:44پھر دین سے دوری
15:46دیکھیں زینب
15:46سوشل میڈیا نے
15:48جدید دور کی چمک دمک
15:50نے بچوں میں یہ احساس
15:52پیدا کر دیا ہے
15:53کہ ہم سب کچھ ہیں
15:55ہم جو کہہ رہے ہیں
15:56صحیح کہہ رہے ہیں
15:57اور ہمیں تو کسی کی نصیب کی ضرورتیں نہیں ہیں
16:00ارے آپ تو ایسے ہی کہتے رہے تھیں
16:01آپ گھر میں بیٹھتی ہیں
16:02ہم باہر جاتے ہیں
16:03ہمیں کسی کی نصیب کی ضرورتیں نہیں گی
16:05پھر اگر جب نوجوان نسل کو نصیب کی جاتی ہے
16:08تو وہ اس نصیب کو
16:10اپنی آزادی کی راہ میں متاخلت سمجھتے ہیں
16:13لو ہم تو بلکل ٹھیک پڑھ رہے ہیں
16:14ہم تو سیدھے راستے پہ جا رہے ہیں
16:16ہم تو اچھے زندگی گزار رہے ہیں
16:17لو یہ ہماری ماں کا کردار ادا کر رہے ہیں
16:19ہماری ماں گھر میں موجود ہے
16:21یہ ہمیں نصیب کر رہے ہیں
16:22وہ تو ہمارا باپ بن گیا
16:23اور دیکھیں زیادہ کوئی نصیب کر رہے ہیں
16:26تو زینب بھاگنے لگتے ہیں
16:27بچے رہے وہ آ رہے ہیں
16:28سامنے سے ہمیں نصیب کر رہے ہیں
16:30دو جملے پکڑائے گا
16:31چلو دور چلو
16:32بچوں کی یہ کم اقلی ہے گی
16:44اٹھتے بیٹھتے ہمیں ٹوکا جاتا ہے
16:47تو یہ غلط فہمی ہے
16:49نصیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:52کی ہم صحیحت مبارکہ پر عمل کریں
16:54انہوں نے پورے قوم کو
16:56اصلاح کی
16:57تو کافروں نے بھی
16:58بتوں کی پرستے چھوڑ کے
17:00اللہ کو سجدہ کیا
17:02تو ہر اچھے شخص کی نصیب کو ماننا چاہیے
17:04بزرگوں کی بڑوں کی
17:05اور اپنے والدین کی
17:07سبحان اللہ
17:08اصل میں بات یہ ہے
17:09جو مجھے اب تک دیکھنے میں آئی ہے
17:12کہ نصیحت اب کرنے والے
17:15جو ہے نا
17:15وہ گوگل بابا ہیں
17:16اب بچے ان کی زیادہ سنتے ہیں
17:19گھر میں کم سنتے ہیں
17:20گھر میں بزرگوں سے کم سنتے ہیں
17:22وہ کہتے ہیں
17:22ہمیں کوئی بات سمجھ نہیں آئے
17:23کہ ہم گوگل کر لیں گے
17:25تو بیٹا عرض یہ ہے
17:26کہ ہر چیز کا جواب
17:28آپ کو گوگل بابا سے نہیں ملے گا
17:30جو آپ کے گھر میں لوگ ہیں
17:31جو آپ کے والدین ہیں
17:32جو آپ کے اساتذہ ہیں
17:34وہ جو آپ کو
17:35اپنی زندگی کا تجربہ
17:37اپنی زندگی کا نچوڑ
17:38حاصل کر کے
17:39جو انہوں نے چیز جذب کر کے
17:41آپ کو بتائی ہے
17:42وہ بہت
17:42مشکل سے کہیں ملتی ہے
17:44بہت سفر کرنے کے بعد ملتی ہے
17:47اب زرمینہ جیسا
17:48ابھی بات ہو رہی ہے
17:49میں آپ سے یہ بھی کہوں گی
17:50جیسے دورانے گفتگو
17:51آپ نے بھی بات کی
17:52کہ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں
17:54وہ ایک کان سے سنتے ہیں
17:55دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں
17:57یعنی بلکل ایسا لگتا ہے
17:58ان کے فیس ایکسپریشن
18:07جی بہت اچھا سوال کیا آپ نے
18:09اس کی ایک تیسک ریزن
18:10جو مجھے یہ لگتی ہے
18:11کہ آج کل انسان کے دل پر
18:13دنیا کی چمک زیادہ غالب آگئی ہے
18:15پھر ایک بزرگ کا بڑا پیارا قول ہے
18:16کہ نصیحت کان سے نہیں
18:18بلکہ دل سے سنی جاتی ہے
18:19جب بھی ہم کسی بچے کو
18:21اچھی نصیحت کرتے ہیں
18:22یا کسی انسان کو
18:23دوسرا انسان نصیحت کرتا ہے
18:24تو جس کا دل
18:25اللہ تعالیٰ کی محبت سے
18:26اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
18:28کی محبت سے معمور ہوتا
18:30تو فوراں وہ اس نصیحت کو
18:32اس حق بات کو قبول کرتا ہے
18:33اس حق بات کو کیچ کرتا ہے
18:35لیکن دل اگر دنیاوی خواہشات
18:37کے اندر پسا ہوا ہو
18:37تو پھر اس حق بات کو
18:39وہ قبول نہیں کرتا
18:39یعنی وہ دل گویا سخت ہو گیا ہے
18:41جیسے کہا گیا نا
18:42کہ دل سخت ہو گیا ہے
18:43اور اس میں نیکی کا
18:44خیر کا بیج نہیں اگتا
18:46کیونکہ نہ تو
18:47آنسوس کو نرم کر سکتے ہیں
18:56آگے بڑھ جاتے ہیں
18:57اس میں تربیت کا
18:59بہت زیادہ فکتان ہے
19:00کیونکہ ہمارے معاشرے کے اندر
19:01تریڈیشنل جو ویلیوز ہیں
19:03وہ بہت کام ہوتی جا رہی ہیں
19:04ینگ جنریشن
19:06جس کو پروان چڑھایا جا رہا ہے
19:07ان کی تربیت ہی
19:08اس طرح سے کی جاری ہے
19:09کہ وہ حق بات کو
19:10یا ایون آم کوئی نارمل گھر کے اندر
19:11فیاملی لائف کے اندر
19:13کوئی بات ہو رہی ہے
19:13تو وہ اس کو بھی برداشت کرنے کا مادہ
19:15اپنے اندر سے
19:16نکالتے چلے جا رہے ہیں
19:17آپ دیکھیں
19:18والد جو اپنی اولاد کو
19:20بہترین چیز دے سکتا ہے
19:21وہ سب سے امدہ تربیت ہے
19:23والدہ کی جو گود ہے
19:24وہ بچے کی پہلی درستہ
19:26فرسٹ انسٹیٹیوشن ہے
19:27تو دیفنیٹلی وہ خود
19:28کائنٹ ہوں گے
19:29وہ خود سچ بولیں گے
19:30وہ خود آنسٹ ہوں گے
19:31تو وہ ہی پوزیٹیوٹی
19:32ان کی بچوں کی شخصیت کا
19:33حاصل بنتی چلے جائے گی
19:35پھر اسادسہ کے ساتھ
19:36بھی ٹائم سپینڈ کرتے ہیں
19:37تو اسادسہ بھی
19:38تو شجر سایہ دار کی ماند ہے
19:39تجربات کا
19:40اپنی زندگی کا
19:41ایک بہتری نچور بچوں میں
19:42ڈیلیور کر رہے ہوتے ہیں
19:43اور اہل دانش نے
19:44کیا خوبصورت کہا ہے
19:45جیسے ہم کہتے ہیں
19:46کہ دوسروں کو نصیت
19:47خودمیہ فصیت
19:48تو جب آپ
19:49ٹین ٹائمز
19:50یا کئی بار
19:51بچوں کو خود بار بار
19:52کہہ رہے ہیں
19:52کہ میرے حوالے سے
19:53جھوٹ بول دیں
19:53چاہے وہ ٹیچر ہیں
19:55چاہے وہ گھر کا
19:55کوئی بھی بڑا فیملی میمبر ہے
19:57تو بچے اس نصیحت
19:58کو پھر کس طرح سے
19:59قبول کریں گے
20:00اور جو لوگ
20:00نصیحت قبول نہیں کرتے
20:01حضرت عبداللہ بن مسعود
20:03رضی اللہ عنہ کی
20:04بڑی خوبصورت روایت ہے
20:05کہ جو شخص
20:07وہ شخص لکی ہوتا ہے
20:08خوشبخت ہوتا ہے
20:09جو کسی کی نصیحت
20:10کو قبول کر لے
20:11کسی کی نصیحت سے سیکھ لے
20:13کیونکہ آپ دیکھیں
20:14ایک بزرگ ہیں
20:14اور ان سے پوچھا گیا
20:15کہ آپ نے عدب کیسے سیکھا
20:16تو انہوں نے کہا
20:17کہ میں جس بھی شخص کو دیکھتا تھا
20:19کہ جس کے اندر
20:19تربیت کا فقدان ہے
20:20یا جو چیز
20:21مجھے برا لگا کرتی تھی
20:23تو میں وہ
20:23اپنی ذات سے نکالتا چلا گیا
20:25اور یوں میری پرسنیلٹی
20:26گروم ہوتی چلی گئی
20:27اور تربیت
20:28اس لیے بھی بہت ضروری ہے
20:29کیونکہ ہمارے جو
20:30صلف صالحین ہیں
20:31ہمارے جو اسلاف ہیں
20:32کیا خوبصورت درس مل رہا ہے
20:33کہ حضرت
20:34ابو بکر صدیق
20:36رضی اللہ تعالیٰ عنہ
20:37کے کال کا بھی
20:37بڑا پیارہ مفہوم ہے
20:38کہ مختصر اور
20:39جامع نصیت ہونی چاہیے
20:41اور اس کے علاوہ
20:42جو دل نصیت کو
20:43ایکسیپٹ نہیں کرتا
20:44گویا
20:44اس کا دل ایمان کے نور سے خالی ہے
20:47پھر قرآن پاک کی ایک آیت کا
20:48اس کے ترجمے کا
20:49یہ مفہوم ہے
20:50کہ جو اہلِ تقویہ ہیں
20:51وہی تو
20:51نصیت کو قبول کرتے ہیں
20:53تو انسان کو
20:53نصیت کو ضرور
20:54ایکسیپٹ کرنا چاہیے
20:55جہاں سے اچھی بات ملے
20:56امام حسن حسین
20:58رضی اللہ تعالیٰ عنہ
20:59کے حوالے سے
20:59کیا خوبصورت واقعہ ملتا ہے
21:01جس کا میں مفہوم
21:02یہاں پیش کرنے کی
21:03سعادت حاصل کروں گی
21:04کہ ایک بزرگ
21:05وضو فرما رہے ہیں
21:06اور ان کی کوئی درستگی نہیں تھی
21:07اس کا تھوڑی کمی تھی
21:08تو ایک شہزادے
21:10وضو فرما رہے ہیں
21:11اور دوسرے شہزادے
21:12ان کو بتا رہے ہیں
21:13ان کی تسیح
21:14ان کی کریکشن کر رہے ہیں
21:15صرف اس لیے کہ
21:16بزرگ تک حضرت تک
21:17یہ بات چلی جائے
21:17اور ان کو
21:18معلوم ہو جائے
21:19کہ میں نے اس عمل
21:20کو اس طرح سے انجام دینا
21:21کہ اس میں جو کمی ہے
21:22ذرا اس کو پورا کر رہے ہیں
21:23انڈائریکٹ وے میں
21:24ایکزیکلی
21:25اور انتہائی عدب کے ساتھ
21:27انتہائی محبت کے ساتھ
21:28ہمارا دیکھیں
21:29میسج ہمارا کیا ہے
21:30نصیحت کرنے کا مقصد
21:31اور موٹف کیا ہے
21:32کہ ہم نے خیر خواہی کا جذبہ
21:33دوسرے کی بھلائی کا جذبہ
21:35بیدار کرنے ہیں
21:36اور نصیحت برائے تنقید نہیں
21:37نصیحت برائے اصلاح کرنی ہے
21:39اس سے محبت کرتے ہیں
21:40نا سامنے والے سے
21:41چاہتے ہیں
21:42کہ وہ حق بات کو قبول کرے
21:43تو ہمارا وے ایسا ہونا چاہیے
21:44ہمارا اسلوب ایسا ہونا چاہیے
21:46اچھا اگر کوئی نہ مانے
21:47تو میں سمجھتی ہوں
21:48توقف کر لینا چاہیے
21:49اپنا جو اسلوب کا
21:50سٹائل ہے نا نصیحت کا
21:51تھوڑا سا اس کو آپ چینج کر لیں
21:53تھوڑا سی الفاظ کو اور موم کر لیں
21:54کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی
21:56اس کو زینت دیتی ہے
21:57اور نصیحت مومنین کے فضائل میں سے
22:00ایک اہم ترین اس کی فضیلت ہے
22:01اس لئے نصیحت کو ضرور ایکسپٹ کریں
22:03and it's our basic duty
22:05society کے اندر نصیحت کے
22:06خوشیوں کے
22:07محبتوں کے
22:08بہتری کے
22:09فلاق کے
22:10شعور کے یہ پول تقسیم
22:11کرتے چلے جائیں
22:12سبحان اللہ
22:13یعنی جو اس پوائنٹ سے
22:15ہم نے سیکھا
22:16کہ ایک تو تلقین
22:17اور تظلیل میں فرق ہے
22:19آپ کسی کو کسی اچھی بات کی
22:21تلقین کر رہے ہیں
22:22تو نرمی سے کریں
22:24آپ اس کا
22:24ہم نصیحت بھی اسی کو
22:26کہتے ہیں
22:27جس کو ظاہر ہے
22:28جس کا بیک گراؤنڈ ہم جانتے ہیں
22:29کہ اس بندے کو
22:30کس بات کی ضرورت ہے
22:32آیا یہ کس لئے پریشان ہے
22:34یا کہیں پر
22:35کہاں پر یہ
22:36فسا ہوا ہے
22:37کہ اس کو ہم نے
22:38اس مشکل سے نکالنا ہے
22:39تو ہم اس کے لئے
22:40نصیحت کا باعث بنتے ہیں
22:42کسی بھی اچھی بات کو کرنے کا
22:44اچھا ہی اور اندہ ہی
22:46طریقے کار ہونا چاہیے
22:48تب ہی دل تک بات پہنچتی ہے
22:50اور پھر انشاءاللہ
22:51عمل تک وہ جذبہ پہنچتا ہے
22:53ایک وقفہ لیتے ہیں
22:54حاضر ہوتے ہیں
22:55اس مقتصر سے
22:56وقفے کے بعد
22:57السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
23:00جناب آپ دیکھ رہے ہیں
23:01پرگرام میری پہچان
23:02اور میری پہچان میں
23:04ایک مرتبہ پھر آپ
23:05سب کا خیر مقدم ہیں
23:06ہمارے ساتھ
23:08رونہ قفروز
23:09دو شخصیات
23:09جو ہمیں بھی
23:11نصیحت کر رہی ہیں
23:12ان سے ہم بہت کچھ سیکھ رہے ہیں
23:13فیض حاصل کر رہے ہیں
23:14ان کے گفتگو سے
23:15ہمارے ساتھ موجود ہیں
23:16ڈاکٹر پوفیسر ناہید
23:18عبرار صاحبہ
23:18اور زرمینہ ناصر خاکوی صاحبہ
23:21بھی موجود ہیں
23:22ڈاکٹر صاحبہ
23:22حقیقت تو واقعی یہ ہے
23:24کہ ہم نے آپ سے بھی
23:25بہت کچھ سیکھا
23:25آپ اکثر گاہے گاہے
23:26ہمیں نصیحت کرتی رہتی ہیں
23:28اب قرآن مجید
23:29فرقان حمید کا
23:31جب متعلق کرتے ہیں
23:32ڈاکٹر صاحبہ
23:32تو اس میں پتا چلتا ہے
23:34کہ جو حکیم لقمان ہیں
23:36انہوں نے اپنے بیٹے
23:38کو جو نصیحتیں کی
23:39قرآن مجید
23:40فرقان حمید میں
23:41کتنی تفصیل کے ساتھ
23:43آپ اس کو بیان کیا ہے
23:44آدم علیہ السلام
23:45نے بھی
23:46اپنے بیٹوں کو
23:47نصیحتیں فرمائیں
23:48میں چاہوں گی
23:49کہ اس تعلق سے
23:50آپ بیان فرمائیے گا
23:51بہت شکریہ زینب
23:53دیکھیں آپ نے
23:54اتنی خوبصورت بات کی
23:55تو اب نصیحت کے حوالے سے
23:57دیکھیں
23:58تلقین اور تذہیق میں
24:00زینب صاحبہ
24:00فرق ہوتا ہے
24:01آپ کسی کو
24:03نصیحت کر رہے ہیں
24:04تو سچے دل کے ساتھ کر رہے ہیں
24:06اس میں کوئی
24:06بناوٹی ایکشن نہیں ہونا چاہیے
24:08کہ میں اچھا لگ رہا ہوں
24:09تم اس کو کنفیوز کروں
24:10وہ اچھا بول رہا ہے
24:11تم اس کو کنفیوز کروں
24:13اور اس کے جوتے کیسے
24:14ایسے باتوں سے
24:15کسی کی دل آزاری ہوتی ہے
24:17نصیحت میں
24:18آپ محبت کے پہلو
24:20کو اجاگر کریں
24:21نہ کہ آپ
24:22تخریب کے پہلو
24:23کو اجاگر کریں
24:23جیسے کہ
24:24حضرت لقمان نے
24:25کتنی خوبصورت نصیحتیں کی ہیں
24:27دین کے مطالق کی ہیں
24:29معاشرے کے مطالق کی ہیں
24:30جنت دوزہ کے
24:31مطالق کی ہیں
24:32حضرت عطم علیہ السلام
24:33نے اپنے بیٹوں کو
24:34کتنی خوبصورت نصیحتیں کی ہیں
24:36تو دیکھیں
24:37یہ نصیحتیں
24:38تعمیری نصیحتیں ہیں
24:39ان نصیحتیں تو پر عمل کر کے
24:41ہم اپنی دنیا اور آخرت
24:42دونوں کو سمار سکتے ہیں
24:44اور حضرت لقمان علیہ السلام کو
24:45اللہ تعالی نے
24:46علم کا خزینہ بنایا تھا
24:49اور انہیں اپنے تجربے کے بنیاد پر
24:51اپنے بہت ساری نصیحتیں کی
24:53اور اپنے بیٹے کو کہا
24:54کہ میرے بیٹے
24:55شخص سے بچو
24:56اللہ واحد و لا شریک ہے
24:59اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
25:02اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو
25:05اور جو شخص اللہ کے ساتھ
25:07کسی کو شریک کرتا ہے
25:09تو اس سے برا کام کوئی بھی نہیں
25:11دیکھیں دوسری نصیحت
25:12انہوں نے کتنی خوبصورت کی ہے
25:14کہ ماں باپ کے ساتھ اچھا صلوک کرو
25:16ان کے ساتھ آجزی
25:18اور انکساری سے پیش آؤ
25:20توبہ کرو
25:21توبہ کرنے میں تاخین نہ کرو
25:24موت کسی لمحے بھی آ سکتی ہے
25:27اور یہ دنیا فانی ہے گی
25:28پھر اس کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کو
25:31کہا کہ اے میرے لگتے جگر
25:32تمہارے لیے زندگی میں
25:34حصول آخرت سے بڑھ کر
25:36کوئی چیز تمہاری منزل نہیں ہونی چاہیے
25:39دنیا ایک گہرے سمندر کی مانند ہے
25:42جس میں ہزاروں لوگ
25:44ڈوب چکے ہیں
25:44اور تم اپنی کشتی ایمان
25:47اور تقویٰ کو بناو
25:48دیکھیں ہم یہ دیکھتے ہیں
25:50کہ لوگ ایک دوسرے کے ڈریس پر تنقید کر رہے ہیں
25:52ایک دوسرے کے عبائے پر کر رہے ہیں
25:54ایک دوسرے کے سکاف پر کر رہے ہیں
25:56آپ ایمان پر نصیت کریں
25:58آپ تقویٰ پر نصیت کریں
25:59آپ سمجھائیں کہ ماں باپ کا احترام کرو
26:01اپنے رشتوں کی پہچان کرنا سیکھو
26:04تو یہ نصیتیں کتنا انسان کے
26:07جو کر رہا ہے
26:08اس کے وضن میں بھی اضافہ کرتی ہیں
26:10جو مان رہا ہے
26:11اس کے وضن میں بھی اضافہ کرتی ہیں
26:13He said that he will be a good friend.
26:18He is a great number of children.
26:23He said that he will be a great friend of mine.
26:30He will be a good friend of mine.
26:35bachou شرk سے bachou رازبازی اختیار کرو اور پھر حلال اور حرام کا فرق
26:41رکھو اور دیندار بنو اور دینی کام انجام دو پھر اس کے بعد ان کے
26:46بیٹے نے بھی سوال کہے کہ باجان کوئی مجھے آپ ایسی نصیحت ہے
26:50کہ نہیں جو میری اصلاح ہو جائے تو انہیں پھر نصیحت کی کہ شرk
26:54سے بچو تقوی اختیار کرو جھوڑ سے بچو غیبت سے بچو برائی سے بچو
26:59اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں کو نصیحت کی
27:03کہ اللہ کی عبادت کرو سچائی اور تقوی کا راستہ اختیار کرو
27:08شیطانی کاموں سے بچو موت اور آخرت کو مت بھولو گناہوں سے بچو
27:14اللہ کی بارگاہ میں ہر وقت توبہ کرو اور اللہ کی نافرمانی والے
27:20کاموں سے بچو جو اللہ کی اطاعت و فرما برداری کرتا ہے جو
27:24اللہ کی فرما برداری والے کام کرتا ہے تو اس کے اللہ تعالی عزت
27:31اور وقار میں اضافہ کرتا ہے آج آپ نے اتنے خفصت ٹاپک پر
27:35آپ نے اتنا خفصت انٹرو بھی دیا بھئی ہم آج اتنی نصیحتیں سن کے
27:39جا رہے ہیں دین کے حوالے سے بھی دنیا کے حوالے سے بھی تو اللہ
27:43ہم سب کو بھی نصیحوں اتو پر عمل کرنے کی توفیق اطافر
27:46سبحان اللہ سبحان اللہ آپا اب قرآن کا جو اسلوب ہے اگر قرآن
27:53میں ایک ایک لفظ کی اہمیت ہے آپ دیکھئے جس طرح سے حضرت
27:57لقمان علیہ السلام کی نصیحتیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کہیں
28:02بہت ساری آپ نے بھی بیان کی ان تمام میں بار بار مخاطب کتنے پیار
28:07سے کیا گیا اے میرے بیٹے اے میرے بیٹے اے میرے بیٹے یعنی جب ہم
28:13مخاطب کریں کسی کو یہ بھی ہمیں سکھایا جا رہا ہے تو بہت ہی
28:17پیار کے ساتھ اور جب بچوں کو خاص طور پر اس میں بات کی گئی بیٹوں
28:21کے حوالے سے یعنی ہم اپنی اولاد کو جب نصیحت کریں ان کو احترام
28:26دیں سب سے پہلے ان سے احترام کا رویہ روا رکھیں تو نصیحت زیادہ
28:31دیر تک اثر کرتی ہے یعنی دیر پا ہوتی ہے زرمینہ آپ ہمارے ساتھ
28:35موجود ہیں آپ بتائیے نصیحت کے آداب اور اس کے تقاضے کیا ہیں اور
28:39بالخصوص آپ سے بھی ہم جائیں گے کہ ہماری بہنوں کو بچیوں کو آپ
28:43کیا نصیحت دیکھ کریں گی کیا پیغام دیں گی ہماری دیکھنے والی
28:46بچیوں کو فرمائیے گا جی بہت شکریہ بالکل نصیحت یہ سب سے پہلے
28:51تو میری اپنی ذات کے لیے ہے جو بھی میں یہاں بیان کرنے کی سعادت
28:54حاصل کریں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے آپ بھی دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ
28:57میرے حق میں آپ سب کے حق میں قبول اور منظور فرمائے اچھا حضرت
29:00لقمان علیہ السلام کا بڑا پیارا ذکر ہوا یا بنیہ اے میرے بیٹے
29:03ایک نصیحت اس وقت میرے مائن میں آئی جنہوں نے اپنے بیٹے کو
29:06فرمائی تھی کہ بیٹا جس طرح سے تم شادیوں میں شرکت کرتے ہو
29:10یا خوشی کی تقریبات میں ایسے ہی جنازوں میں بھی شرکت کیا کر
29:12تاکہ زندگی کے اندر ایک توازن آئے ایک بیلنس پر پیدا ہو
29:15اگر ہم خوشیوں کے محول میں ہی رہتے ہیں یا زیادہ ہستے ہیں
29:19تم غفلتوں اور کوتاہیوں کا خدا نہ خاصتہ شکار ہو سکتے ہیں
29:22تو یہ بھی ایک بہت بڑی امدہ اور بڑی اچھی نصیحت ہے
29:24نصیحت کے عداب قرآن و حدیث کی روشنی میں
29:26دین اسلام کی ٹیچنگز کی روشنی میں ہم تک پہنچتے ہیں
29:29ہمیں بڑے خوبصورت اسلوب کے ساتھ سکھائے گئے ہیں
29:32اور بڑی خوبصورتی کے ساتھ ہمیں اس جانب دعوت دی گئی ہے
29:35کہ ہم نے نصیحت کرنی کیسے ہے
29:36پھر نصیحت سننی کیسے ہے
29:38پھر نصیحت پر عمل کیسے کرنا ہے
29:39موقع محل کی مناسبت سے نصیحت کرنا بہت زیادہ ضروری ہے
29:44کہ کسی کی سیلف رسپیکٹ کبھی بھی ہرٹ نہیں ہونی چاہیے
29:47ابودعوت کی حدیث کا مفہوم ہے
29:49کہ جس نے کسی کو سب کے سامنے نصیحت کی
29:51اس نے اس کو بگاڑ دیا
29:52اور جس نے اس کو تنہائی میں نصیحت کی
29:55کسی کو اس نے اس کو سمغار دیا
29:56تو ہمارا کنسٹرکٹیف پہلو ہے
29:58تعمیری سوچ ہے
30:00ہم تعمیری پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے
30:02موقع محل کے اعتبار سے
30:03وہ محول کیسا ہے
30:04وہ گھر ہے
30:05ادارہ ہے
30:06آفس ہے
30:06آیا جگہ کونسی ہے
30:08اور اس طرح سے پھر ہم کسی کو
30:09definitely نصیحت کرتے ہیں
30:10پھر society کے اندر میں نے یہ دیکھا ہے
30:12کہ اہلِ علم کو بھی نصیحت کی جا رہی ہوتی ہے
30:15وہ بھی بھری محفل ہے
30:16ہاں اگر آپ side پہ لے جا کے
30:18کسی کی تصیح کرنا چاہتے ہیں
30:19تو بالکل کیجئے
30:20کہ یہاں سے یہ بات ایسے نہیں ہونی چاہیے
30:22ایسے ہوتا تو زیادہ اچھا ہے
30:23کیونکہ نصیحت تو ہر ایک کے لیے ہے
30:24وہ کسی ایج گروپ سے بلانگ کرتا ہو
30:26لیکن society میں میں نے یہ observe کیا ہے
30:29کہ پوری محفل میں
30:30اہلِ علم کو ٹوکا جاتا ہے
30:31حالانکہ ان کی گفتگو
30:33ہدایت کا چراخ ہے
30:34نور کا چراخ ہے
30:36ہدایت کی خوشبو لیے ہوئے
30:37وہ علم کے فہم کے
30:39متعلقے تحقیق کے
30:40محنت کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر
30:43وہ جواہر اور وہ موتی نکال کر
30:44لا رہے ہیں
30:45تو دیفنیٹلی وہ ٹھیک ہی لا رہے ہوں گے
30:46لیکن پوری بھری محفل کے اندر
30:48جس طرح سے کسی کو کہہ دیا جاتا ہے
30:50کہ آپ کو یوں بات نہیں کرنی چاہیے تھی
30:52آپ کو اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے
30:53تو آپ یہ دیکھیں
30:54کہ غواث آپ نہیں ہے
30:56وہ اہلِ علم ہے
30:57اور اہلِ علم کی رسپیکٹ کرنا
30:58دراصل دین اسلام میں
30:59علم کی ہی عزت کرنا ہے
31:01تو اس چیز کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے
31:03کہ جو غواث ہے
31:03جو غوطہ زن ہو کر
31:04سارے جواہر آپ کے سامنے نکال کر لا رہا ہے
31:07ہی اس کیپیبل
31:08کہ وہ کسی کو بتائے
31:09سمجھائے
31:09اور اگر ہاں آپ اس کی تسیح کرنا چاہتے ہیں
31:12تو سائی پہ تنہائی میں کریں
31:13جو اس کی شخصیت میں
31:15سمار اور نکار پیدا کرے
31:16پھر اسی جہت سے
31:18نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
31:20کا اندازہ تربیت
31:21اندازہ نصیحت
31:22کتنا امدہ اور دل محلینے والا
31:24ہوا کرتا تھا
31:24کہ بے ساختہ ہم پڑھتے بھی ہیں
31:26تو عمل کرنے کو جی چاہتا ہے
31:28تو اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے
31:29کہ ہمیں لٹ مار انداز
31:30حکمیہ انداز
31:31اور جو
31:33کرٹک پوائنٹ آف ویو ہے
31:34اس سے پلیز اشتناب کرنا ہے
31:36کنسٹرکٹیو پہلو رکھیے
31:37امت کو جھوڑنے والے بنیں
31:39محبت کے ساتھ
31:40اخلاص کے نور کے ساتھ
31:42نرمی کے ساتھ
31:43کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوگی
31:44اس کو بیوٹی فائی کر دے گی
31:46کسی بیمار کے پاس دے کے
31:47فی زمانہ جب ہم جاتے ہیں
31:48تو ہمارا کیا ہوتا
31:50کہ ہم آیادت کے لیے جا رہے ہیں
31:51اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے لیے
31:53خوشنودی کے لیے
31:54وہاں جا کر
31:55اگر ہم اس کو مزید
31:56دپریسیو میں کہیں
31:57آپ نے یہ ڈائٹ کیوں نہیں کی
31:58آپ نے یہ
31:59میڈیسنز اس طرح سے لینی تھی
32:01اس بیماری کے تو
32:02میں نے پہلو دیکھے ہیں
32:03کہ خدا نہ خواستہ
32:04کوئی دنیا سے ہی چلا جاتا ہے
32:05تو ہم اس کو
32:06اور زیادہ
32:07ڈپریس نہ کریں
32:08پھر کسی کے گھر چوری ہو گئی ہے
32:10کوئی ڈاکو کے معاملات ہو گئے ہیں
32:12کوئی ایسا پریشانی کا معاملہ آ گیا ہے
32:13کیونکہ ظاہر ہے
32:15انسان محنت کرتا ہے
32:16تک و دو کرتا ہے
32:16زندگی کے اپنی جو آسانی ہے
32:18سمیٹنے کی
32:19آسودگیاں اختیار کرنے کی
32:20اپنی اولاد کے لیے
32:20اپنے لیے کوشش کرتا ہے
32:22وہاں جا کر انسان کہے
32:23کہ تم نے تو یہ غلطی کی تھی
32:24تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیتے
32:25تو بات یہ ہے
32:26کہ آپ تعمیری پہلو اختیار کیجئے
32:28آپ موقع محل دیکھ کر
32:30محبت کے ساتھ
32:31اخلاص نیت کے ساتھ
32:32امت کو جوڑنے والے
32:33بنتے ہوئے نصیحت کیجئے
32:34جیسے قرآن پاک میں ہم جانتے ہیں
32:36کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرمایا گیا
32:38کہ فیرون کو نرمی سے نصیحت کیجئے
32:40تو آپ دیکھیں جب فیرون کے ساتھ
32:42بھی نرمی سے بات کرنے کا درس دیا گیا
32:44تو ہم مسلمان تو اس بات کے زیادہ حق دار ہیں
32:46کہ ہم سے محبت سے شفقت سے
32:48بہتری کے پوائنٹ کو
32:50مد نظر رکھتے ہوئے
32:51ہمیں امدگی سے نصیحت کی جائے
32:53کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
32:55اقدس میں ایک شخص حاضر ہوتا ہے
32:57اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نصیحت فرمائی
32:58کہ غصہ چھوڑ دو
32:59اب وہ واپس جاتا قبائل جنگ و جدل پر آمادہ تھے
33:01تلوار بے نیام ہونے کو تھی
33:03لیکن اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
33:05محبت بری نصیحت کو یاد رکھا
33:07غصہ سے اجتناب کی اور تمام عاملات
33:09بہتری کے جانے باگئے اور سیٹل ڈاؤن ہو گئے
33:11سبحان اللہ
33:12یہ جس طرح سے ہم نصیحت کے تعلق سے بات کر رہے ہیں
33:16اور اس کے فوائد پر
33:17اس کے اثرات پر
33:19جس طرح بار بار یہ بات کی جا رہی ہے
33:21کہ ہمیں کسی کی بھی اصلاح کرنی ہے
33:24کسی کو کوئی بات کی تلقین کرنی ہے
33:26اسے کوئی اچھی نصیحت کرنی ہے
33:29تو اسے تنہائی میں کریں
33:30موقع محل دیکھ کر کرنی چاہیے
33:32اور اس کو بہترین انداز
33:34اور بہترین الفاظ کے ساتھ
33:36نہ کہ یہ بتانا مقصود ہو
33:38کہ مجھے یہ یہ علم ہے
33:40ایک تکبرانہ آپ کا طریق ہو
33:42کہ مجھے بہت زیادہ علم ہے
33:44تو میں اس علم کی بیس پر یہ بات بتا رہے ہوں
33:46یہ طریق نہیں ہونا چاہیے
33:48ڈاکٹر صاحبہ کیا نصیحت کریں گی
33:50آج کی بزن سے ہماری بہنوں کو
33:52مجھے غاص طور پر فرمائیے گا
33:54سب سے بڑی بات ہے
33:55کہ جب ہم کسی کو نصیحت کریں
33:57تو خود ہم باعمل انسان بنیں
34:00اگر ہم جھوٹ بول رہے ہیں
34:02اور دوسروں کو نصیحت کر رہے ہیں
34:03تو دوسرے والے بھی ہمارا مزاق بڑائیں گے
34:05اگر ہمارے قول و فیل میں تضاد ہے
34:08اور ہم دوسروں کو کہیں گے
34:09کہ آپ سچ کے راستے پر چلیں
34:11تو یقینا کہے گا
34:12کہ یہ کیا کہہ رہی ہیں
34:13انکہ تو خود قول و عمل میں تضاد ہے گا
34:16تو اچھی نصیحت کریں
34:17نصیحت کرتے ہوئے
34:18اور دوسروں کی عزت نص کو مجرور نہ کریں
34:21ان کی دل آذاری نہ کریں
34:23سبحان اللہ
34:24جی ظلمینا آپ کیا کہیے گا
34:26میں یہ کہنا چاہوں گی
34:27کہ دیکھیں پور تاثیر
34:28یا پور عمل جو بات ہوتی ہے
34:30وہ تو دلوں تک خود بخود رسائی حاصل کر لیتی ہے
34:32ہم سب کو
34:33اپنے دل کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے
34:36کیونکہ حدیث کا کتنا پیارہ مفہوم ہے
34:37کہ ہمارے جسم کے اندر
34:39دل کی جانے بشارہ کیے گا
34:40کہ یہ ایک ایسا حصہ ہے
34:42کہ اگر یہ درست ہو جائے
34:43تو زندگی کے سارے معاملات درست ہو جائیں گے
34:45تذکیہ ہو جائے گا
34:46اور اگر اس کے اندر بگاڑ و خدا نہ خاصتہ
34:48تو زندگی کا ہر مسئلہ
34:49ہر معاملہ بگاڑ کا شکار ہو جائے گا
34:51سبحان اللہ
34:51بے شک بے شک
34:52بہت پیاری گفتگو
34:53دونوں مہمان شخصیات کی جانب سے رہی
34:56ڈاکٹر صاحب آپ کی آمد کی بہت مشکور ہوں
34:58آپ زرمینہ تشریف لائیں
34:59آپ کا بہت شکریہ آپ تشریف لائیں
35:01آج کی بز میں جتنی بھی باتیں ہوئیں
35:04میں سمجھتی ہوں
35:06کہ در حقیقت
35:07ان باتوں کی
35:08فی زمانہ بھی بہت زیادہ ضرورت ہے
35:11اور ہر وقت ہر لمحہ
35:12ہمیں کہیں نہ کہیں
35:13اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے
35:15اقلِ کل کوئی بھی نہیں ہوتا
35:17تو جس طرح ہم بات کرتے ہیں
35:19اپنے آپ کو صحیح رکھنے کی کوشش کریں
35:21دوسرے کی بھی اصلاح اس وقت کریں
35:23جب اپنے اندر
35:24اس برائی کو نکال کر پھیک دیں
35:26اور پھر اس کے بعد دوسرے کی اصلاح کریں
35:28یہ تمام باتیں انشاءاللہ
35:29جاری ہو ساری رہیں گی
35:30انشاءاللہ زندگی بخیر
35:32تو اگلے کسی پروگرام میں
35:34نئے ٹاپک کے ساتھ
35:35آپ کے خدمت میں حاضر ہوں گے
35:36اللہ رب العزت آپ کو آسانیہ عطا فرمائے
35:39اور آسانیہ تقسیم کرنے کی
35:41توفیق عطا فرمائے
35:43اس کے ساتھ ہی اپنی مزبان
35:44سیدہ زینب کو دیجے گا اجازت
35:46السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments

Recommended