00:00وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَادًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ قُلِّهِنِ
00:10مُحَمَّدٌ سَيِّدُ الْكَوْنَيْنِ وَثَقَالَيِّ
00:17مُحَمَّدٌ سَيِّدُ الْكَوْنَيْنِ وَثَقَالَيِّ
00:24أعوذ بالله من الشيطان الرجيم
00:26بسم الله الرحمن الرحيم
00:29معجز سامین میں اور آپ اس وقت
00:32کیو ٹی وی کے معروف پروگرام
00:34شانِ مصطفیٰ میں
00:36کمالاتِ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم
00:40کے خوبصورت عنوان کے ساتھ حاضر ہیں
00:43انسانی تاریخ
00:45ہمیشہ سے عظمت و کمال
00:48پرفیکشن کی تلاش میں رہی ہے
00:50انسان کبھی
00:52اقل و فلسفہ کے ذریعے کمال تلاش کرتا رہا ہے
00:56کبھی طاقت و حکومت کے ذریعے
01:00کمال تلاش کرتا رہا ہے
01:02کبھی اس نے زہد و روحانیت کا راستہ اختیار کیا
01:06تاکہ وہ باکمال شخص بن جائے
01:09لیکن تاریخ شاہد ہے
01:11کہ جب بھی جس جہد سے اس نے کمال حاصل کرنا چاہا
01:16اس جہد سے تو اسے کمال مل گیا
01:19لیکن باقی جہاد وہ زوال پذیر ہو گئیں
01:24زوال ہی زوال
01:25انہیں وہ درست نہیں کر پایا
01:27انہیں عوج کی طرف اور کمال کی طرف نہیں لے جا سکا
01:31لیکن جب بات ہوتی ہے
01:33کمالات مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
01:37تو اس کی شان ہی نرالی ہے
01:39کیا انفرادیت ہے
01:41کمالات مصطفیٰ کریم کی
01:44کہ یہاں نہ جزویت ہے
01:46نہ محدودیت ہے
01:47اور نہ ہی زوال کا کوئی تصور موجود ہے
01:51بلکہ یہاں کمال کلی بھی ہے
01:54اور کمال مطلق بھی ہے
01:56جہاں عقل بھی ہے
01:58حسن بھی ہے
01:59اخلاق بھی ہے
02:01حلم بھی ہے
02:02بردباری بھی ہے
02:03وقار بھی ہے
02:05سنجیدگی بھی ہے
02:06یعنی جتنے کمالات ہیں
02:08وہ سارے کے سارے پوری آج پر
02:11جس ذات میں یک جا ہے
02:13وہ ذات رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم ہے
02:17اور ہر کمال
02:18اپنے اندر عجیب کمال رکھتا ہے
02:21کیا خوبصورت کہا گیا
02:23حسن یوسف
02:24دم عیسی
02:26ید بیزہ داری
02:28آنچ خوباں ہما دارن
02:30تو تنہ داری
02:32اور پھر
02:34ان کمالات کی گنتی کی بات
02:36تو ہو ہی نہیں سکتی
02:38چونکہ کسی کمال کا گنا جانا
02:41اس کی محدودیت پر دلالت کرتا ہے
02:44اور مصطفی کریم علیہ السلام کے کمالات
02:47وہ اس عیب سے بھی مبرہ ہیں
02:50آلہ حضرت نے کیا خوب کہا تھا
02:52تیرے تو وصف
02:53عیب تناہی سے بڑی
02:56ہے راہو میرے شاہ
02:58میں کیا کیا کہوں تجھے
03:01البتہ
03:02علماء سیر نے
03:04کمالات نبوی کو
03:06three fundamental dimension میں ذکر کیا ہے
03:09اور یہ تین خوبصورت
03:11جو بنیادی جہتے انہوں نے ذکر کی ہیں
03:13ایک احاطہ کرنے کی
03:15یا ایک نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
03:18کے کمال کے بارے میں
03:19آگ ہی دینے کے لیے
03:21یہ انہوں نے احاطہ کیا ہے
03:22ان میں سے پہلا
03:24کمال ذات و خلق
03:27کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
03:29کا وجود مبارک
03:30ظاہری اور باطنی اعتبار سے
03:33حسن مطلق کا مظہر تھا
03:35اور ایسا مظہر تھا
03:37کہ صحابہ اکرام
03:38ردوان اللہ علیہ مجمعین
03:40فرماتے
03:40کہ اگر مصطفیٰ کریم علیہ السلام
03:44اپنے وجہ منیر کے علاوہ
03:47کوئی دلیل بھی
03:49اللہ تعالیٰ کی توحید پر
03:50نہ لے کے آتے
03:51تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا
03:53چمکتا چہرہ ہی
03:56آپ کے حق پر ہونے کی
03:57دلیل کے لیے
03:58کافی تھا
03:59اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا
04:01جمال
04:02وہ اس کا ایسا ظہور ہوتا
04:05سارے لوگ
04:06صرف مکڑا رسول صلی اللہ علیہ وسلم
04:09کو دیکھ کر
04:09کہہ اٹھتے
04:10کہ یہ چہرہ
04:12کسی جھوٹے کا
04:13ہو ہی نہیں سکتا
04:15نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا وقار
04:17آپ کی حیبت ایسی تھی
04:19کہ پہلی نظر پڑتے ہی بندہ
04:22متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا
04:25اور اس پر روب بھی تاری ہو جاتا
04:28لیکن اس کے ساتھ ساتھ
04:30شفقت ایسی ہے
04:31کہ بلا ججک
04:32جب چاہتا ہے
04:34کلام بھی کر سکتا ہے
04:36بات بھی کر سکتا ہے
04:38اور کیا کیفیات ہے
04:40اس شفقت کی
04:42کہ جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
04:44اس بڑیا پر بھی ڈالتے ہیں
04:47کہ جس کی بات کوئی سننے والا نہ ہو
04:49تو اس کی بات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
04:52سنتے ہیں
04:53اور یوں سنتے ہیں
04:54کہ وہ بلا ججک
04:56اپنی بات نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے
04:58کرتی ہوئی نظر آتی ہے
05:02دوسری فنڈیمنٹل ڈائمنشن کو
05:04علماء سیر نے ذکر کیا
05:06کمال خلق اور سیرت کے عنوان سے
05:10اور اس میں بنیاد بنایا
05:12قرآن مجید فرقان حمید کی سائے مبارکہ کو
05:15بسم اللہ الرحمن الرحیم
05:16وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
05:21نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا عدل
05:23وہ عدل مطلق ہے
05:25کہ اپنی ذات والے کو معافی
05:27اور حق کے معاملے میں کسی سے رائط نہیں ہے
05:31اپنی ذات کی باری آئی
05:33تو جان کے دشمن سامنے ہیں
05:36امان چاہی تو امان دے دی
05:38اور اپنے دشمن
05:40جانی دشمن سامنے ہیں
05:42ایک ہی جملے میں کہہ دیا
05:44اِذْحَبُوا أَنْتُمُ تُلَقَا
05:47لیکن جب حدود اللہ کی بات آئی
05:50معاملات کی بات آئی
05:52تو پھر کسی قسم کی رائط نہیں
05:54وہ عمراء مخزومیہ کو یاد کیجئے
05:57جب اس کی سفارش کرنے کے لیے
05:59درمیان میں صحابی آتے ہیں
06:02تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
06:04جلال بڑے انداز میں کہتے ہیں
06:06کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں بھی
06:09سفارش کرنے کے لیے آ جاؤ گے
06:11یہ ہے وہ عدل مطلق
06:13کہ اپنی ذات کے دشمنوں کو
06:16معاف کر دینا
06:17لیکن اگر معاملات کی باری آنی
06:20تو اس میں پوری طرح عدل کو
06:22قائم رکھنا
06:23اس تناظر میں
06:25تیسری جو ڈائمنشن ہے
06:27اسے جب علامہ بیان کرتے ہیں
06:30وہ ہے کمال قیادت و انقلاب
06:33کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
06:36قیادت اور پھر
06:38اس قیادت میں تدریج کے ساتھ
06:40انقلاب
06:42نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
06:44دارِ ارکم سے یہ سلسلہ شروع کرتے ہیں
06:46اور پھر دارِ ارکم سے شروع ہونے والا سلسلہ
06:50شیبِ ابی طالب ہے
06:51شیبِ ابی طالب سے ہجرت ہے
06:53ہجرت سے مدینہ ہے
06:55پھر مدینہ پاک
06:56پھر فتحِ مکہ
06:57یہ ساری کیفیات میں
06:59نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
07:01لیڈرشپ وہ کمال رکھتی ہے
07:03کہ قیامت تک ہر جہد سے
07:06ہر ڈائمنشن سے جس کو کمال حاصل کرنا ہے
07:09وہ کمال مصطفیٰ کریم علیہ السلام کے
07:12کمال کا پڑتو ہوگا تو کمال بنے گا
07:16اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
07:18کے کمالات کے پرتو سے نکل گیا
07:22تو وہ زوال تو ہو سکتا ہے
07:24لیکن وہ کمال نہیں ہو سکتا
07:26علماء سیر نے
07:28نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
07:30جو علم و حکمت ہے
07:32اس کو بھی اسی کے تحت ذکر کیا
07:34کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:36باطل کو صرف جبر سے نہیں
07:39بلکہ برہان سے
07:40اور حکمت سے نیچا دکھایا ہے
07:43جوامی القلم کا
07:45کامل ترین مظاہرہ فرمایا ہے
07:48رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
07:50اپنے اس کمال کو بیان کرتے ہوئے
07:53ارشاد فرماتے ہیں
07:54اوٹیت جوامی القلم
07:56کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خصوصی کمال
07:58مجھے یہ عطا فرمایا ہے
07:59کہ مجھے جوامی القلم کا وصف دیا گیا ہے
08:04تو جوامی القلم کا مطلب یہ ہے
08:06کہ الفاظ تھوڑے ہیں
08:08لیکن ان کے اندر
08:09مانوں کا سمندر بہت زیادہ ہے
08:12عالی حضرت عظیم البرکت
08:14امام احمد رضا خان فاز بریلی
08:16نے کیا خوب کہا تھا
08:18تیری خلق کو حق نے عظیم کہا
08:21اور تیری خلق کو حق نے جمیل کیا
08:26کوئی تجسا ہوا ہے نہ ہوگا شہا
08:29تیرے خالقِ حسن و عدا کی قسم
08:32نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
08:35آپ نے جو انقلاب برپا کیا
08:37علماء سیر فکح السیرہ کے ماہرین
08:41کیا کہتے ہیں
08:42کہ ذرا دیکھئے
08:43تئیس سالہ زندگی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
08:47اعلانِ نبوت کے بعد اور اس تئیس سالہ مختصر زندگی میں
08:51کیفیات کیا ہے
08:53کہ اپنے الفاظ و عمل کے ذریعے
08:55ایک پوری قوم کے افقار کو
08:58ان کی اخلاق کو
08:59ان کی معمائشت کو
09:01ان کی سیاست کے زاویے کو
09:03جو کیفیات پہلے سے موجود تھی
09:06باطل نظام جو اس کے اندر ملاوٹ موجود تھی
09:09وہ ساری کے ساری کو جڑ سے اکھار دیا
09:13اور حق کو وہاں رکھا یہ انسانی تاریخ کا واحد انقلاب ہے
09:18جو بغیر کسی نہق خون ریزی اور نفرت کے برپا ہوا
09:22اور یہی کمالِ قیادت بھی ہے
09:25اور کمالِ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے
09:29آج کا انسان سامعین
09:31ٹیکنالوجی اور سائنس میں تو ترقی کر چکا ہے
09:36لیکن اخلاقی اور روحانی طور پر ایک گہرے کرائسس کا شکار ہے
09:41کیوں؟
09:43اس وجہ سے کہ آج کے انسان کے پاس
09:46کمالاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا
09:49وہ فیضان موجود نہیں ہے
09:51جو فیضان صحابہ اکرام ردوان علیہ علیہ مجمعین نے حاصل کیا
09:55آج ہمارے پاس
09:56علم بہت ہے
09:57نالج ہے
09:58ڈیٹا ہے
09:59انفرمیشن ہے
10:00لیکن اس کے ساتھ وہ ویجن موجود نہیں ہے
10:04وہ بصیرت موجود نہیں ہے
10:06کمالاتِ مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم
10:09ہمیں سکھاتے ہیں
10:10کہ علم وہی باوقار ہوتا ہے
10:13جو انسان میں آجزی پیدا کرتا ہے
10:15دور اندیشی پیدا کرتا ہے
10:17اور اسے ویجنری بناتا ہے
10:20اسے تقبر سے محفوظ کرتا ہے
10:23اور ساتھ ہی ساتھ
10:24ہمارے اندر آج
10:25احسان کی کمی ہے
10:27آج ہم صرف کام نمٹانے پر تو توجہ کرتے ہیں
10:31لیکن جو اس کی ایکسیلنسی ہے
10:33اس پر جو سنسیرٹی ہمارے اندر ہونی چاہیے
10:38اس کی پرفیکشن کے لیے
10:40کمال کے لیے
10:41جو ہمیں توجہ اور فوکس کرنا چاہیے
10:43وہ ہمارے اندر موجود نہیں ہے
10:45نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
10:47کمال کا ایک زاویہ یہ بھی بیان فرمایا ہے
10:51کہ اگر کوئی کمال کو پہنچنا چاہتا ہے
10:53تو اسے یہ چاہیے
10:55کہ وہ اپنے کام پر پورا فوکس کرے
10:58پوری توجہ کرے
11:00پورے اخلاص کے ساتھ
11:01اپنے کام کو سرانجام دے
11:03تو اخلاص کاموں کو
11:05کمال میں بدل دیتا ہے
11:07اسی طرح
11:08سامعین
11:10کمالات مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:13صرف تعریف و توصیف
11:15اور عقیدت کا موضوع نہیں ہے
11:17بلکہ یہ انسانی وقار
11:20اور ترقی کا وہ سٹینڈر ہے
11:22جس پر ہر دور کے انسان کو
11:25اپنی زندگی کو ناپنا چاہیے
11:27مجھے اور آپ کو بھی
11:28اسی طرازو میں دیکھنا ہے
11:30کہ ہم اپنی ذات
11:31اپنے معاشرے
11:33اور اپنے علم میں
11:34وقار
11:35سنجیدگی
11:36اور احسان
11:37وہ رکھتے ہیں یا نہیں
11:39کمالات مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:41کا تقاضی یہی ہے
11:43کہ امت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
11:45کمال رسول صلی اللہ علیہ وسلم
11:48سے حض کو وصول کرتے ہوئے
11:50اپنے علم کو
11:51وقار اور سنجیدگی کے ساتھ
11:54اپنے علم کو
11:55حلم کے ساتھ
11:57اور اپنے علم کو
11:58ویجن کے ساتھ
11:59مزین کرے
12:00اور کمالات مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:03کے مقدس آئینے میں
12:05ان کو سوارنے کی کوشش کرے
12:08اللہ تعالیٰ کی پاک بارگاہ میں دعا ہے
12:10کہ پروردگار عالم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
12:15کے قمالات کا حز وافر
12:17مجھ اور آپ تمام کو عطا فرمائے
12:20وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَا
12:40محمد سید الکونین وثقال