00:00اسلام علیکم guys
00:01اس اپیس اور کے سب سے پہلے سین میں
00:03ہمیں یہاں پر اس عورت کو دکھایا جاتا ہے
00:05جو کہ یہاں پر اپنے بیٹے سے باتیں کرتی ہوئی
00:08دکھائی دی جاتی ہے
00:09اور یہ عورت اپنے بیٹے کو کہہ رہی ہی ہوتی ہے
00:11کہ اٹھ کر بیٹھو تو وہ لڑکا
00:13اچانب اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے
00:14پھر یہ عورت اس لڑکے کو کہتی ہے
00:17کہ زیادہ تکلیف تو نہیں ہوئی
00:19تو وہ لڑکا کہتا تھا ہے کہ نہیں
00:20تو یہ عورت اس لڑکے کو کہتی ہے
00:22اگر خراشیں نہیں ہیں گی تو پھر ہم جھوٹ کو حقیقت میں کیسے تبدیل کریں گے
00:27تو وہ لڑکہ بھی اپنی ماں کی باتیں سن کر حیران ہو جاتا ہے
00:31اور اس کی ماں کہتی ہے کہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے
00:34تو پھر ہماری اصلیت ان کے سامنے آ جائے گی
00:37اور پھر ہمارا پول کھول جائے گا
00:40تو اس لیے ہمیں احتیاط سے کام لینا ہوگا
00:42تو پھر اسی کے ساتھ اگلے سین میں ہمیں یہاں پر اس لڑکی کو دکھایا جاتا ہے
00:46جو کہ یہاں پر بیٹھی ہوئی اپنی ماں سے باتیں کر رہی ہوتی ہے
00:50اور یہ لڑکی اپنی ماں کو کہہ رہی ہوتی ہے
00:52کہ مجھے ہنان نے فون کر کے بتایا ہے
00:55کہ ہمارے گھر میں نکیٹی ہو گئی ہے
00:57اور وہ سب کچھ چوڑی کر کے لے گئے ہیں
00:59اور یہ بات سن کر اس کی ماں بہت زیادہ پریشان ہو جاتی ہے
01:03اور یہاں پر بیٹھی ہوئی اپنی لڑکی بھی ان کی باتیں سن رہی ہوتی ہے
01:06تو وہ عورت بہت زیادہ پریشان ہو جاتی ہے
01:09اور وہاں بیٹھ کر سوچ رہی ہوتی ہے
01:12کہ اب کیا کیا جائے اور اس کے خوش اٹ جاتے ہیں
01:15اور یہاں پر اس عورت کی بیٹی بھی بہت زیادہ پریشان دکھائی دیر رہی ہوتی ہے
01:20کیونکہ اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے
01:22کہ چور اس کے بھی زیبر چوری کر کے لے چک گئے ہیں
01:25پھر اس کی ماں اس لڑکی کو کہتی ہے
01:27کہ میں نے تمہیں پہلے بھی کتنی مرتبہ کہا ہے
01:29کہ کسی کو بھی یہ باتیں مت بتایا کرو
01:32تو پھر یہاں پر بیٹھی ہوئی وہ عورت اس لڑکی کی طرف اشارہ کرتی ہے
01:35اور اسے کہتی ہے کہ اس منحوست کو تو کبھی بھی نہیں بتانا چاہیے تھا
01:39تو وہ لڑکی بھی یہاں پر کھڑی ہو کر اس کے سامنے بولنا شروع کر دیتی ہے
01:43اور کہتی ہے کہ آپ گلتی کرتے ہیں
01:45اور پھر سارا الزام مجھ پر ڈال دیتے ہیں
01:47اور وہ لڑکی بہت زیادہ غصے میں باتیں کر رہی ہوتی ہے
01:50اور کہہ رہی ہوتی ہے کہ میں اب یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتی
01:53وہ عورت اور وہاں پر بیٹھی ہوئی دوسری لڑکی بھی اس کی باتیں سن کر حیران ہو جاتے ہیں
01:57پھر ہمیں یہاں پر یہ عورت دکھائی جاتی ہے
01:59جو کہ یہاں پر کھڑی ہو کر اپنے بیٹے سے باتیں کر رہی ہوتی ہے
02:02اور اس کا بیٹا اپنی ماں سے کہہ رہا ہوتا ہے
02:05کہ وہ ایسا کیسے کر سکتی ہیں
02:06کہ منحل کو ہم سے ملنے سے رکھتی ہیں
02:09تو پھر یہ اس کی ماں اس لڑکے کو کہتی ہے
02:12کہ بیٹا ہم اس کی حمایت کرتے ہیں
02:15اس لیے اس کی ساس ہمیں اس سے ملنے نہیں دیتی ہے
02:18اور ان کو اس بات کا بھی ڈر ہے
02:21کہ کہیں ہم ان کی اصلیت اور ذین کی ساری باتیں پورے خاندان میں مشہور نہ کر دیں
02:26کیونکہ ہمیں وہ سب باتیں پتا ہیں
02:28لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے
02:30وہ ان لوگوں کا خیال ہے
02:31پھر اگلے سین میں ہمیں یہاں پر ولید کو دکھایا جاتا ہے
02:34جو کہ یہاں پر اس لڑکی کے ساتھ باتے کر رہا ہوتا ہے
02:37اور ولید اس لڑکی کو کہہ رہا ہوتا ہے
02:40کہ میں تم سے بہت زیادہ معذرت کرتا ہوں
02:42میں تمہاری چیزیں نہیں بچا سکا
02:44اور وہ ڈاک کو ہمارے گھر کی ہر چیز چوڑی کر کے لے گے
02:47اور پھر یہ اس لڑکی کے سامنے ہاتھ جور کر معافی مانگ رہا ہوتا ہے
02:51لیکن وہ لڑکی بہت زیادہ پریشان دکھائی دے رہی ہوتی ہے
02:53اور اس کو سمجھ نہیں آ رہا ہوتا ہے
02:56کہ اب کیا کیا جائے
02:57اور یہ لڑکا بھی یہاں پر بیٹا ہوا
02:58بہت زیادہ رو رہا ہوتا ہے
03:00اور اس سے بار بار معافی مانگ رہا ہوتا ہے
03:02پھر یہ لڑکا اس لڑکی کو بتاتا ہے
03:05کہ وہ ڈاک کو اور چوڑ
03:07اس لڑکی کا سارا زیبر بھی لے گئی ہیں
03:09جب لڑکی یہ بات سنتی ہے
03:11تو وہ بہت زیادہ پریشان ہو جاتی ہے
03:13اور بہت زیادہ غصے میں آ جاتی ہے
03:15اور پھر یہاں پر لڑکا بھی تکایا جاتا ہے
03:18جو کہ یہاں پر بہت زیادہ پریشان بیٹا ہوتا ہے
03:21اور یہاں پر یہ لڑکی کے رنگ اٹھ جاتے ہیں
03:24کہ میرا زیبر سارا چوڑی ہو گیا
03:27کیونکہ اس نے بھی دوسری لڑکی کا اٹھایا تھا
03:29اور پھر یہی پر اس قسط کا اقتدام ہو جاتا ہے
03:32آج کے لئے بس اتنا ہی
03:34اللہ حافظ
Comments