Skip to playerSkip to main content
  • 6 months ago
مولانا مفتی عبدالکریم دین پوری صاحب(امام و خطیب جامع مسجد عمر گلشن اقبال بلاک-15 کراچی/استاذ و رفیق دارالافتاء جامعةالعلوم الإسلامية علامہ بنوری ٹاؤن کراچی)-(پاکستان )

Maulana Mufti Abdul Kareem Deen Puri Sahb (Imam and Khatib Jama Masjid Umar Gulshan-e-Iqbal Block-15 Karachi/Teacher at Darul Ifta Jamaatul Uloom Islamia Allama Banuri Town Karachi)-(Pakistan).


Any Queries please contact
Fahad Ahmed Khan
Email : fahadahmed00046@gmail.com
(Subscribe For Spiritual Lectures)

Category

📚
Learning
Transcript
00:00it is saying the same way
00:07for allports are made
00:10and not to happen
00:13because the issue that
00:15is going to come
00:16And that's why it's not.
00:46ڈیل سازی سے آرہا ہے
00:49مکرو فرید سے آرہا ہے
00:50یا صحیح طریقے سے آرہا ہے
00:54سجائی کے ساتھ آرہا ہے
00:56امانت اور دیانت کے ساتھ آرہا ہے
00:59شریع ذاتوں کے مطابق
01:00کو جی یہ مال حاصل ہو رہا ہے
01:03جس کو اس کی پرواہ نہیں ہے
01:05بلکہ اس چیز کی پرواہ ہے
01:07کہ بس مال آنا چاہیے
01:08سب سے پہلے تو ہمیں
01:17اس چیز کی فکر کرنی چاہیے
01:19کہ پیسہ جو آئے وہ علال آئے
01:22کیونکہ حرام میں برکت نہیں ہے
01:27اور اہل علم سے علماء سے
01:33آپ نے
01:36یہ مسئلہ بارہا سنا ہوگا
01:40کہ حرام کے پیسوں سے کیا ہوا
01:45حج بھی قابل قبول نہیں ہوتا
01:47بڑے فخر کے ساتھ باندھو
01:57گانا بجانے والے ڈانسر
02:01اور دوسری جن کی کمائی
02:05کہ حرام ہونے میں ذرہ برابر
02:08کسی ایک آم انسان کو بھی شک نہیں ہوگا
02:11لیکن وہ بھی فخر کر رہے ہوتے ہیں
02:18اپنے حج پر فخر کر رہے ہیں
02:23ڈرنے کی بات ہے
02:28اپنے اندر خوف خدا پیدا کرنا چاہیے
02:31ایک تو آدمی حرام کمائے
02:35پھر حرام پر اترانہ
02:37پخر کرنا
02:39کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے
02:43وہ سخت پکڑ میں نہ جائے
02:46قربان جائیے
02:52نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:57جو ہمیں
02:59معیشت کا نظام دیا
03:04اقتصادیات کا نظام دیا
03:10آج اگر ہم اسے اختیار کر لیں
03:13تو ہمارے گھروں میں برکت شروع ہو جائے گی
03:20ہمارے کام میں برکت ہوگی
03:23ہمارے کاروبار میں برکت ہوگی
03:25ہمارے بازاروں میں برکت ہوگی
03:28ہم ترقی کریں
03:30آج آپ دیکھئے کہ
03:35ہر دوسرا کاروباری آدمی
03:39اس پہ مارکیٹ میں جائے
03:42لوگ گگلیوں اٹھا رہے ہوتے
03:43ارے تو اس کے پاس یہ ہے
03:47یہ تو ایسا ہے
03:48اس نے تو اتنے گپلے کیا ہوا ہے
03:50اس نے تو اتنوں کار پیسہ کھایا ہوا ہے
03:54اور پراپٹی کے کاروبار میں چلے جاؤں تو بڑے بڑے بیٹھے ہوں گے پتہ نہیں
04:02کتنے غریبوں کی زمینوں پہ قبضہ کی ہوئے
04:05جون تک نہیں رینگ رہی ان پہ
04:09وہ بیشارہ غریب دہاتی آدمی
04:13وہ کہاں جا سکتا ہے
04:15اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں گیا
04:16عدالتوں کا دروازہ کٹ کٹ آئے
04:18اور انہوں نے دو چار بڑے
04:22اصل رسول خوالوں سے تعلقات جلا لیے
04:26اور بیچارے غریبوں کی زمینوں پہ قبضے
04:29حضیح شریف میں بہت سخت وعید بیان کی گئے
04:35جس کا مفروم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی
04:40کسی کی ایک بالش زمین بھی غصب کرے
04:45ایک بالش زمین
04:48تو کل قیامت کے دن اس کو
04:52جی ساتوں زمین دھسایا جائے
04:56جی وہ جو زمینیں ہیں
04:58بلکہ وہ آتے ہیں فینوں لوتوں بھی
05:00یعنی توق ڈالا جائے گا
05:01ساتوں زمینوں کا وہ کر کے
05:04اب اس کی کیفیت کیا ہوں گی
05:06یہ اللہ ہی جانے
05:08اس کی گردن میں
05:09توت اور زنجیر کے توت پر ڈالا جائے گا
05:13یہاں ایک بالش کا مسئلہ نہیں ہوتا
05:16ایک اکڑ کا مسئلہ نہیں ہوتا
05:18کتنی زمینیں ہوتی ہیں
05:22بیچارے غریبوں کی
05:24وہ کھائے بیٹھے ہوتے ہیں
05:28اور پھر کہہ دیں کہ یہ تصویر
05:30ہمیں جو ہے جنت میں پہنچا دے گی
05:32یہ مسئلہ اور یہ نماز
05:34ہمیں جو ہے بخشوا دے گی
05:36این خیالست و محالست و جروح
05:39ایسا نہیں ہوتا
05:40حقوق اللہ کا مسئلہ
05:45الگ ہے
05:46حقوق العباد کا مسئلہ
05:49الگ ہے ہمیشہ یاد رکھئے
05:50حقوق اللہ کے متعلق
05:55رب العالمین
05:58اللہ رب العالمین
06:01وہ ہم نرمی بھی فرما دیں
06:04لیکن حقوق العباد کے مسئلے میں
06:07اللہ بدلہ دلوائیں گے
06:09کہ کسی کا حق اگر کسی نے دبایا ہے
06:14وہ اس کو واپس کریں
06:16دنیا میں تو کر سکتا ہے
06:19جب تک زندہ ہے کر دے
06:20لیکن مرنے کے بعد
06:24جب قیامت کا دن ہوگا
06:26تو وہاں یہ زمینیں تھوڑی ہوں گی
06:29وہاں یہ جائدانیں تھوڑی ہوں گی
06:32یہاں دنیا میں
06:34اس نے جس کا پیسہ بٹورہ
06:36جس کی کرنسی لی
06:38وہاں کوئی کرنسی تھوڑی ہو
06:40اب وہاں
06:40وہاں کا سکہ رائے جلوقت
06:43اور قیامت کے دن کی کرنسی
06:47وہ یہی اس کے پاس جو
06:50عامال سالحہ ہیں
06:52نیک عامال ہیں
06:53اب ہوگا یہ کہ
06:57اس کے عامال
06:58اس کو دے دی جائیں گے
07:00صاحبِ خان
07:01اگر اس نے بہت زیادہ لوگوں
07:06تو ستایا ہوگا
07:07اور اصحابِ حقوق
07:10زیادہ ہوں گے
07:12اور اس کی نیکیاں
07:14کم پڑ جائیں گی
07:16پہلے تو یہ نیکیوں سے
07:18خالی ہو جائے گا
07:18نیکیاں ختم
07:19اور اصحابِ حقوق
07:24اب بھی باقی ہے
07:25تو ان کے جو گناہ ہے
07:28وہ اس پر لات دی جائیں گے
07:30اور اس کو جہنم میں
07:31ڈال دی جائیں گے
07:32معاملہ بہت سنگین
07:36اللہ تعالیٰ نے
07:39ہمیں موقع دیا ہے
07:41ہم توبہ کریں
07:43استقبار کریں
07:45اگر کسی نے
07:47اپنی سگی بہن
07:48کا حق دبایا ہوا ہے
07:49تو ابھی اس کو
07:53ادا کر دے
07:54اپنے
07:55اپنی حد تک تو ادا کر دے
07:57بعد لوگ آکے
07:58مسئلہ پوچھتے ہیں
07:59مفتی صاحب
08:00باقی بھائی
08:02تو نہیں دینا چاہتے
08:03میں کس طریقے سے
08:05اپنی بہن کو دوں
08:06تو اس کا بھی حل موجود ہے
08:08آپ کے حصے میں
08:11جتنے فیصد
08:12بہن کھا رہا ہے
08:15آپ اتنا دے دیں
08:16آپ پر یہ ذمہ ہو جائیں گے
08:17باقی بھائی جانے
08:18اپنے کام جانے
08:19آپ اپنا معاملہ
08:21اپنا کھاتا
08:22صاف کریں
08:24دنیا کے
08:26اور کاروبار کے معاملے میں
08:27تو آپ کو
08:28اگر ایک آن روپیہ بھی
08:29اوپر نیچے ہو جائے
08:31تو سب آپ کا
08:32کمپیٹر بتا دیتا ہے
08:33اور یہاں آپ کو
08:36بھی سمجھ میں نہیں آرہا
08:37کہ دوسرے بھائی
08:37حصہ نہیں دے رہے
08:38تو میں کس طریقے سے
08:39حصہ دوں گا
08:40یہ کوئی اتنا
08:41بڑا مسئلہ تو نہیں ہے
08:42آپ کسی عالم کے پاس آئیں
08:43اگر خوٹ خدا ہے
08:47فکر آخرت ہے
08:50قبر کا تصور ہے
08:53تو آج ہی
08:55اپنا حساب کر لیجئے
08:57اگر آج
08:59اگر آپ حساب نہیں کر سکتے
09:02اور آپ یہ سمجھتے ہیں
09:03کہ کل میری اولاد کر دے گی
09:08میں وسیعت کر جاتا ہوں
09:10تو یہ آپ کی بھول ہے
09:12بھول ہے بھول ہے
09:13جو کام آپ نہیں کر سکے
09:15آگے والے کہاں سے کریں
09:16آگے والے کہاں سے کریں
09:20پھر خاندان میں
09:22جھگڑے شروع ہو جائیں
09:24نزہ شروع ہو جائے گا
09:27ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جائے گا
09:30بعض علاقوں میں
09:32عجیب بات ہے
09:33یہ جہالت کی بات ہے
09:35کہتے ہیں کہ
09:37حصہ جو ہوتا ہے
09:41جائداد میں
09:41مکان میں
09:42کاروبار میں
09:43یہ بیٹوں کا ہوتا ہے
09:45بیٹیوں کا نہیں ہوتا
09:47کیوں
09:47بھائی کیوں نہیں ہوتا
09:48اس لیے نہیں ہوتا
09:52کہ بیٹی کو
09:53شادی کے موقع پہ
09:56اببہ نے دے دیا تھا
09:58اس کو تو دے دیا
10:02بد اس کو
10:04وہ دے دیا
10:04اس کو دے دیا
10:05فارق کر دیا تھا
10:06اب اس کا کچھ حصہ نہیں
10:08یہ بھی دین سے
10:11دوری کی بات ہے
10:13مسئلہ کی
10:14نواقفیت کی بات ہے
10:16یاد رکھئے
10:17زندگی میں
10:19والد جو اپنی
10:23اولاد کو دیتا ہے
10:24وہ ہیوہ کہلاتا ہے
10:26گفت کہلاتا ہے
10:28اور ہیوہ اور گفت کے بارے میں
10:31آپ اہل علم سے سنتے رہتے ہیں
10:34کہ اس میں برابری
10:36کا حکم دیا گیا
10:38آپ اس میں
10:39مسابات اور برابری کی جائے
10:41جتنا بیٹے کو دیا جائے
10:44جتنا کسی ایک بیٹے کو دیا جائے
10:47اتنا
10:48دوسرے بیٹے اور دوسری بیٹی کو دیا جائے
10:51اس میں بلا بجائے معقول
10:53کمی بیشی نہ کی
10:54وراثت کا مسئلہ
10:58الگ ہے
10:59وہ تو جب آدمی
11:02دنیا سے رخصت ہوتا ہے
11:04دنیا سے چلا جاتا ہے
11:06تو
11:06جو مال وہ چھوڑ جاتا ہے
11:09وہ ترکہ ہوتا ہے
11:11وہ وراثت ہوتی ہے
11:13اس کے پھر
11:15تقسیم کا طریقہ
11:17وہ
11:18قرآن سنت میں
11:19موجود ہے
11:19اس کے مطابق پھر
11:21اس کی تقسیم کی جاتی ہے
11:23جس کا جو حصہ مقرر کیا گیا ہے
11:26وہی حصہ اس کو ملتا ہے
11:28بعض بڑے لکھے
11:32سمجھدار لوگ
11:34صرف میں یہ نہیں کہہ رہا
11:37کہ وہ دنیا بھی تعلیمی آفتہ لوگ
11:39بلکہ دینی تعلیمی آفتہ لوگ
11:43ان میں بھی بعض کے اندر
11:46یہ کمزوریاں ہوتی ہیں
11:47کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے
11:49کہ یہ لوگ تو قرآن سنت
11:51صرف پڑے ہوئے نہیں
11:53یہ پڑھتے پڑھاتے
11:54اسی میں کی زندگی بزر ہوتی ہے
11:56لیکن جب معاملہ یہ آتا ہے
11:59اس میں گڑڑ کرتے
12:01مہنوں کو حصہ نہیں دے رہے
12:03یہ کتنی بڑی محرومی ہے
12:06اور کتنے بڑے گناہ کی بات
12:08کتنے بڑے شرم کی بات
12:10یہ کل قیامہ کا دن پوچھا جائے
12:15تو میں یہ عرض کر رہا تھا
12:19ایک تو مال کمائے اور مال بھی حلال طریقے سے
12:24اس کی تفصیل میں ہم تھوڑا چلے گئے تھے
12:27کہ وہ جو حلال مال ہے
12:32وہ راہ حق کے اندر خرچ کرے
12:36تو یہ بندہ قابلِ رشق ہے
12:37اور دوسرا وہ شخص قابلِ رشق ہے
12:40جس نے علم حاصل کیا
12:42حکمت حاصل کی
12:44اللہ تعالی نے علومِ نبوت
12:47جی اس کو نصیب کیا
12:49اب اس کا کام چاہے دن رات
12:51علومِ علمِ علمِ علم پھیلاتا ہے
12:54خود بھی عمل کرتا ہے
12:56اس علم پر خود بھی عمل کرتا ہے
12:59اور وہ علم دنیا میں بھی پھیلاتا ہے
13:02تو یہ قابلِ رشق ہے
13:03عالم بعمل
13:05علم ہے علم پر عمل بھی ہے
13:09اور عمل کے ساتھ ساتھ
13:11اس علم کو آگے پھیلا بھی رہا ہے
13:13ایک دوسری روایت ہے
13:18حضرت اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے
13:21امام بخاری رحمہ اللہ نے
13:23اسے نقل کیا ہے
13:24قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:29اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے
13:33ارشاد فرمایا
13:35اَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ
13:38اَحَبُّ إِلَيْهِ مِن مَالِهِ
13:41قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ
13:45مَا مِنَّا أَحَدٌ
13:46إِلَّا مَالُهُ
13:48اَحَبُّ إِلَيْهِ
13:50قَالَ فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَا
13:53وَمَا لَوَارِثِهِ
13:55مَا أَخَّرَ
13:57اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
14:00نے اشارت فرمایا
14:01تم میں سے کون ہے
14:04جسے اپنے وارث کا مال
14:07اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو
14:10آپ نے سوال فرمایا
14:12صحابہ سے
14:13کہ تم میں سے کون ایسا ہے
14:16جسے اپنے وارث کا مال
14:19اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو
14:22جواب بہت ہی آسان ہے
14:25صحابہ نے کہا
14:26یا رسول اللہ
14:29مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ
14:31اَحَبُّ إِلَيْهِ
14:33اے اللہ کے رسول
14:34ہم میں سے ہر شخص کو
14:36اپنا مال ہی سب سے زیادہ محبوب ہے
14:38اپنا مال ہر ایک کو محبوب ہوتا ہے نا
14:41وارث کا مال تو بھی محبوب نہیں ہے نا
14:43وارث کے مال سے زیادہ کس کو
14:45اپنا مال اپنا مال
14:47پھر آپ نے فرمایا
14:51کہ انسان کا اپنا مال تو وہ ہے
14:54مَا قَدَّمَا
14:56جو اس نے آگے بھیجا
14:59صدقہ و خیرات کر دیا آگے بھیجا
15:03وَمَا لَوَارِسِهِ مَا أَخَّرَا
15:06اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو وہ پیچھے چھوڑ گیا
15:10جو نیک آمال کرنے ہیں صدقہ و خیرات کرنا ہے
15:16اپنی زندگی میں کر لیجئے
15:18آپ اس امید میں ہیں کہ یہ جو میرے وارث ہے نا
15:24میرے مرنے کے بعد
15:26ہاں میرے نام کی مسجدیں بنوائیں گے
15:30صدقہ و خیرات کریں گے
15:33میں قبر میں چلے جاؤں گا
15:35تو یہ کریں گے وہ کریں گے
15:37فلاں کریں گے فلاں کریں گے
15:39بس یہ آپ اپنی تمنہیں جوڑتے ہی رہے
15:44اپنے اندر ہی رکھتے رہے
15:46ہو سکتا ہے کوئی اللہ کا نیک اور صالح بندہ ایسا نکل آئے
15:50دنیا میں کمی نہیں لیکن وہ لاکھوں میں کوئی ایک ہوتا ہے
15:54وَنَا اَقْسَمْ وَرَسَا
15:55آپ اپنی زندگی میں دیکھیں کہ جس وارث کی ابھی سے
16:00نظر آپ کی جائدات پر ہے
16:03ابھی سے
16:04آپ ابھی زندہ ہیں
16:06اور زندگی میں ہی وہ کبھی کبھی آکے مطالبہ بھی شروع کر دیتا ہے
16:11اب با آپ کا جو یہ کیا کرتے ہیں
16:14پلاڑ پڑا ہوئے ایسے ضائع ہو رہا ہے
16:17پلاڑ چھوٹا سا کرایا ہے
16:18اس میں بلڈنگ بنا دیتے ہیں
16:19آپ کو کیا ہو مسئلہ ہے
16:21وہ ہو جائے گا
16:23یہ ہو جائے گا
16:24آپ کی فلاں جو وہ ہے دکان ہے
16:26اس کو تھوڑا بیج کے یہ کر لیتے ہیں
16:28پلاں کر لیتے ہیں
16:29جو آپ کا بچہ
16:32جو آپ کا وارث
16:33آج آپ کو سکون سے نہیں رہنے دے رہا
16:36اور دو چار چیزیں آپ کے پاس پڑی ہوئی ہیں
16:40اس پر اس کی نظر ہے
16:42حیرت ہوتی ہے
16:45ستر سال
16:46اسی سال
16:47پچاسی سال کا گوڑا
16:49جو صحیح طریقے سے چل نہیں سکتا
16:52اس کا جوان بیٹا
16:54جوان سے مرتبی چالیس پیتالیس سال کا بیٹا
16:57پگڑ کے لاتا ہے دارلیفتہ میں
16:59اس سے کیا کہلوانا چاہتا ہے
17:01کہ یہ بابا جی
17:03مجھے اپنا گھر دے رہے ہیں
17:04مفتی صاحب یہ ٹھیک ہے
17:06جب وہ بابا جی
17:08اس حال کے ہوتا ہے
17:09کہ آدھی بات سمجھتا ہے
17:10آدھی نہیں سمجھتا
17:11جب اس سے پوچھا جاتے
17:14بابا جی آپ کے پاس اور بھی کچھ ہے
17:16اس گھر کے علاوہ اور کچھ ہے
17:19وہ کہتے ہیں نہیں
17:20اور کچھ نہیں ہے
17:22تو وہ کہتے ہیں
17:23بابا جی اگر آپ اس کو دے دیں گے
17:24تو آپ کیا کریں گے بعد میں
17:26ابھی کم از کم
17:28یہ آپ کا ہاتھ تو پکڑ کے گھوم رہا ہے نا
17:30جب آپ نے اس کے نام سب کچھ کر دیا
17:32تو پھر آپ بعد میں
17:33روتے بھی رہیں گے
17:35یہ ہے وارثوں کا حال
17:39باب بیمار ہوا
17:43ہسفتال میں ہے
17:45پیپر بن رہے ہیں
17:46وکیلوں سے باتیں ہو رہی ہیں
17:48وکیلوں سے باتیں ہو رہی ہیں
17:51اور ہشیار کیسے ہم کہاں کس طریقے سے انگوٹھا لگوانا ہے انگوٹھا
17:56جب وہ بھی ہوشی میں ہو فلاں میں ہو
17:59کاغذات میں
18:00تجھے بھی کچھ
18:01ہاں اتنے پیسے مل جائیں گے
18:03آج دنیا میں جو سب کچھ ہو رہا ہے
18:05کیا نہیں ہو رہا بتا یہ دو کافرات
18:07اللہ بچا ہے
18:09اللہ بچا ہے
18:10یہی سگی اولاد
18:12اپنا وہ محسن جو زندگی کی آخری سانسے لے رہا ہوتا ہے
18:17اب وہ تو اللہ کو معلوم کہ وہ کب تک زندہ رہے
18:21پتہ نہیں ہے اس کا مرضہ وفات ہے یا نہیں ہے
18:25لیکن اس کو فکر یہی ہے کہ کسی طریقے سے ساری جائدات بٹھول
18:29بھائی اگر آپ نے بٹھول بھی لی تو تم کتنے دن زندہ رہو گے بتاؤ
18:33کتنے سال مزید زندہ رہو گے
18:37پھر تمہاری کہانی یہی ہوگی
18:39پھر تمہاری اولاد تمہارے ساتھ یہی کرے
18:40صدیوں سے
18:43یہ دنیا ہے
18:46یہ زمینے ہیں
18:47ہاں پہلے کونسی قومیں یہاں آباد تھی
18:50جن کا نام و نشان آج موجود نہیں ہے
18:54آج اگر یہ مکان و یہ جہدادیں
18:57ہمارے نام رنشری ہو رہی ہے
18:59تو کب تک رہے گی یہ
19:01اور کتنے عرصے تک رہے گی
19:03اور کتنی نسلوں کے بعد یہ رہیں گے اس کے بعد ختم
19:06تو اس لیے انسان کو چاہیے
19:12کہ وہ اپنے لیے اس زندگی میں
19:16آخرت کے طور پر کچھ کر کے جائے
19:19کچھ کر کے جائے
19:20ہاں جنہوں نے اپنی اولاد کی تربیت کی ہوتی ہے
19:24ان کو نیک بنایا ہوتا ہے
19:27صالح بنایا ہوتا ہے
19:28زاہد بنایا ہوتا ہے
19:30ان کو آخرت کا بندہ بنایا ہوتا ہے
19:32دنیا کا نہیں بنایا ہوتا
19:34تو وہ تو خود اولاد بھی
19:36عمل سالے میں آ جاتی ہے نا
19:38وہ بیٹا بھی تو عمل سالے ہوتا ہے
19:41آپ نے اگر اپنے بچے کو
19:43قرآن کا حافظ بنایا
19:44آپ نے اگر اپنے بچے کو
19:46قرآن کا عالم بنایا
19:48آپ نے اگر اپنے بچے کو
19:50نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
19:53سنت اور احادیث کا حافظ بنایا
19:57اس کے لئے اس کو وقف کر دیا
19:58دین کی تعلیم کے لئے اس فکر
20:00وہ عمل کرتا ہے
20:01جی آپ بتائیے کہ وہ زندگی بھر
20:04جو بھی یہ دین کا کام کرے گا
20:07کیا آپ اس کا سواب نہیں ملے گا
20:09آپ قبر میں ہوں گے
20:12آپ قبر میں ہوں گے
20:15لیکن وہ جتنے بھی آمال سالحہ
20:17کر رہا ہوگا
20:18وہ جتنے قرآن پڑھ رہا ہوگا
20:20جتنی حدیثیں پڑھ رہا ہوگا
20:22دنیا میں قرآن و سنت کا
20:24علم پھیلا رہا ہوگا
20:26اس کے شاگر دنیا میں دنیا کے کونے کونے میں
20:29پھیل رہے ہوں گے
20:30وہ فیض پھیل رہا ہوگا
20:32آپ بتائیے کہ اس کا عجر و سواب
20:35آپ کو نہیں ملے گا
20:36ضرور ملے گا
20:38یا تو آپ زندگی میں یہ کام کر جائیے
20:41کر جائیے
20:42پھر آکے تھنڈی ہوں گی
20:44قبر میں روزانہ تھوک کے حساب سے
20:47جی آپ کے پاس
20:49تنفے اور تہائف آیا کرے گا
20:51وہ ایک واقعہ ہے
20:54کشف کا واقعہ ہے
20:55تو ایک بزرگ قبرستان کے پاس سے گزرے
20:59کشف کا مطلب یہ ہوتا ہے
21:01کہ پردے ہٹا دیے جاتے ہیں
21:03یہ کوئی کسی کے اختیار میں نہیں ہوتا
21:05اللہ کی مرضی ہے
21:07کسی پر کبھی ظاہر کر دے
21:08کبھی ظاہر نہ کریں
21:09اور یہ کوئی عقیدے کا مسئلہ بھی نہیں ہے
21:12بارال
21:14تو انہوں نے کیا دیکھا
21:16کہ قبروں سے
21:17لوگ نکل لیں
21:19اور ایک میدان کے اندر
21:22کھیلیں پڑی گئے
21:23کھیلیں
21:23ہم نے دیکھا ہو نا
21:25کہ بعض چیزیں وہ کرتے ہیں
21:26تو کھیلیں بن جاتی ہیں
21:27اس کی
21:27وہ لوگ اٹھا رہے ہیں
21:29کوئی جتنی ان سے آتی ہیں
21:31اور ایک ساپ کمر میں
21:32بڑے مزے سے
21:33تھاٹ باٹ سے اپنے بیٹھے ہوئے
21:35وہ نہیں آرہے باہر
21:37کچھ لینے کے لیے نہیں آرہے
21:39تو میں نے ان سے پوچھا
21:40کہ یہ آپ
21:42کو ضرورت نہیں ہے
21:44آپ یہ چیزیں لینے کے لیے نہیں آرہے
21:46تو انہوں نے کہا کہ
21:48میرے پاس تو
21:49تھوک کے حساب سے آ جاتے ہیں
21:51مجھے ان چیزوں کے چننے کی ضرورت
21:53نہیں ہے
21:54تو میں نے پوچھا
21:56کیا مطلب ہے
21:56انہوں نے کہا
21:57بات یہ ہے
21:58کہ جو مسلمان
22:00دوسرے مسلمانوں کے لیے
22:03دعائیں کرتے ہیں
22:04جیسے ہم بھی دعا کرتے ہیں
22:06جی
22:06کہ اللہ
22:07جتنے بھی مومنین ہیں
22:08مومنات ہیں
22:09ہم سب کی بخشت کر دے
22:10تو وہ
22:12یہ دعائیں
22:13یا ہم مثال سباب جو کرتے ہیں
22:15یا قبرستان کے پاس سے گزرتے ہیں
22:17تو پورے مردوں کے لیے
22:18کچھ پڑھ کے
22:19حساب زواب کر دیتے ہیں
22:20تو یہ وہاں ان کو پہنچتا ہے
22:22تو کہنے لگے
22:23کہ میرا جو بیٹا ہے
22:24وہ حافظ قرآن ہے
22:26میرا بیٹا حافظ قرآن ہے
22:29وہ روزانہ ہے
22:30پورا قرآن پڑھ کے
22:31مجھے بھیج دیتا ہے
22:33تو مجھے کیا ضرورت ہے
22:35یہ پرشون کا گام
22:36میرے بعد تو
22:37تھوک کے حساب سے آ رہا ہے
22:39تو آپ بیٹا جب قرآن پڑھے گا
22:42جی
22:43تو وہ کس کو ملے گا
22:46ظاہر ہے
22:47کہ جس نے اس مادی دور میں
22:50جہاں آپ کا میڈیا
22:53آپ کے تمام تدیگر وسائل
22:56یہ اس لیے استعمال ہو رہے ہوں گے
22:59کہ بچوں کو دین مت سکھاؤ
23:01قرآن مت سکھاؤ
23:02قرآن والوں کے حوالے مت کرو
23:05دین والوں کے حوالے مت کرو
23:07یہ تمہارا بچہ کیا کھائے گا
23:09کیا پیے گا
23:10یہ کیا کرے گا
23:13مولویوں کے حوالے مت کرو
23:14آج پھر تو پھتا نہیں
23:16کیا کچھ ہو رہا ہے
23:17جی
23:18لیکن اس اللہ کے بندے نے
23:22اپنے اس بچے کو
23:24لوگوں کے
23:26تانے سنتا رہا
23:27لیکن
23:28اس نے دین کے لیے حوالے کیا
23:31دین کے حوالے کیا
23:32سمجھے نہیں
23:33تو اللہ نے اس کو کیا بنایا
23:36جی قرآن کا حافظ بنایا
23:38عالم بنایا
23:39لوگوں کی آنکھیں کیوں نہیں کھلتی
23:41وہ ایک لطیفہ ہے نا
23:43اللہ باقی آپ نے بھی سنا ہوگا
23:45ایک دفعہ
23:46اس ملک کے جرنل لے
23:47جی
23:48اس لئے کیا کہتے ہیں
23:50ایک عالم کو سامنے بیٹھایا
23:52جی
23:53ان سے کہا ہے کہ
23:54آپ ڈاکٹر بن رہے تھے
23:56تو ڈاکٹر بن جاتے نا
23:58آپ ڈاکٹر بن جاتے
24:00آپ نے میڈیکل کی تعلیم چھوڑ دی
24:03عجیب آنیا آپ مولی بن گئے
24:06انہوں نے جواب نے کیا
24:07کہ انہوں نے کہا کہ
24:08اگر میں ڈاکٹر بننا تو
24:09کیا تو مجھے یہاں بلاتے
24:10یہ عزت تو کس وجہ سے کر رہے ہو میری
24:12مولانا بننے کی وجہ سے
24:15ایک عالم کے بننے کی وجہ سے
24:17یہ مجھے عزت مل رہی ہے
24:18ڈاکٹر کے جیسے نہیں
24:19ڈاکٹر تو اور بھی
24:20ملک میں بڑھے پڑھے ہیں
24:22آپ کسی اور کو بلالیتے
24:23قربانی دینا پڑتی ہے
24:27حضرت ایسے نہیں
24:28ہاں قربانی کے بغیر
24:30یہ نعمتیں حاصل نہیں ہوتی
24:32حضرت
24:35ابو حریرہ رضی اللہ عنہ
24:38سے روایتیں فرماتے ہیں
24:40کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
24:42نے ارشاد فرمایا
24:44یہ روایت بھی بخاری اور مسلم کی ہے
25:03اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
25:06میں ارشاد فرمایا
25:07ہر دن جس میں بندے صبح کرتے ہیں
25:10دو فرشت آسمان سے اترتے ہیں
25:14ان میں سے ایک کہتا ہے
25:16اللہم آتی منفقا خلفا
25:19اے اللہ
25:21خرش کرنے والے کو
25:23بہترین بدلاتا فرما
25:25خرش کرنے والے کو
25:28بہترین بدلاتا فرما
25:31اللہم آتی منفقا تلفا
25:35اے اللہ
25:36دوسرا فرشتہ کہتا ہے
25:39اے اللہ
25:40روک کر رکھنے والے کے حصے میں
25:43حلاقت کر
25:44یعنی جس نے روک رکھا ہوا ہے
25:47کنجوس ہے
25:49اس کے عبال کو
25:51برباد کر
25:52اور جو خرش کرتا ہے
25:55اس کے بارے میں فرشتہ کیا کہتا ہے
25:57اللہ اس کو بہترین بدلہ
25:59عطا کر
25:59حضرت ابو حریرہ
26:02رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
26:04بخاری اور مسلم میں ہے یہ بھی
26:07کہ ان رسول اللہ
26:08صلی اللہ علیہ وسلم
26:11قال
26:11اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
26:14نے اشارت فرمایا
26:15انفق ابن آدم
26:17اے آدم کے بیٹے
26:19تو خرچ کر
26:21ینفق علیک
26:24تجھو پر بھی خرچ
26:26کیا جائے گا
26:28تو خرچ کر
26:29تجھو پر بھی
26:30تو اللہ کے راستے میں خرچ کر
26:33اللہ تجھے مزید عطا کرے گا
26:36اللہ تعالیٰ تجھے مزید عطا کرے گا
26:38امان مسلم نے
26:39اللہ نے
26:40صحیح مسلم بھی یہ روایت نقل کی ہے
26:43حضرت ابو حریرہ
26:44رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
26:46ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
26:49قال
26:50مَا نَقَسَدْ صَدَقَةٌ مِّمْ مَال
26:53مَا نَقَسَدْ صَدَقَةٌ مِّمْ مَال
26:57وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ
27:30اللہ تعالیٰ ضرور
27:33اسے رفت اور بلندی عطا فرماتے ہیں
27:37اسے اوچھا کرتے ہیں
27:38اور ایک روایت میں یہ ہے
27:41حضرت
27:42اس میں یہ ہے کہ میں تین باتوں پر قسم کھاتا ہوں
27:57اللہ کے نبی نے فرمایا ہے
27:58میں تین باتوں پر قسم کھاتا ہوں
28:02اور وہ تین باتیں یہی تھی
28:03مَا نَقَسَ مَالُ عَبْدٍ مِّن صَدَقَةٍ
28:07مَا نَقَسَ مَالُ عَبْدٍ مِّن صَدَقَةٍ
28:11کسی بندے کا مال
28:14کسی بندے کا مال
28:16صدقے سے کم نہیں ہوتا
28:18قسم کھا کے فرمایا
28:21صدقے سے مال کم
28:23اور آج کل ماحول کیا بنا ہوا ہے
28:26جی زیادہ صدقہ کرو گے مال کم ہو جائے گا
28:31اچھا شیطان اس وقت پر اٹھالے گا یہ باتیں
28:34سمجھے نہیں
28:35شیطان انسان کی شکل میں بھی ہوتا ہے یا نہیں ہوتا بتائیے
28:39مِنَ الْجِنَّتِ وَالْلَّاسِ
28:41مَتْ کرو صدقہ مَتْ کرو
28:43یہ مَتْ کرو
28:45لیکن اگر کھانے پینے م
28:50یہ بڑے والا ایٹم
28:53جس میں زیادہ خرچہ ہو
28:55جس میں کیا ہو
28:57زیادہ خرچہ ہو
28:59اچھا خیر بارال
29:00یہ انسان کی اپنی طبیعت ہے
29:02انسان کی اپنی طبیعت ہے
29:04خیر بارال
29:05so
29:05وَلَا ظُلِمَ عَبْدٌ مَسْلِمَةً صَبَرَ عَلَيْهَا
29:10إِلَّا زَادَهُ اللَّهِ
29:11دوسری بات بھی
29:12فرمایا کہ
29:14جس پر ظلم کیا جائے
29:16اور وہ اس پر صبر کریں
29:17اللہ تعالیٰ ضرور
29:18اس کی عزت میں
29:19اضافہ دیں
29:21فرمایا گا
29:21لیکن آج کل کیا
29:22اوہے
29:23تو نے معاف کر دیا
29:24تو نے معاف کر دیا
29:26تو کمزور پڑ گیا
29:27اگر تجھے اس نے
29:28ایک تھپڑ ماری تھی
29:29تجھے کیا کرنا تھا
29:30دو تھپڑ مارنے تھے
29:32اینڈ کا جواب
29:33تو پتھر سے دینا تھا
29:34تم نے یہ کیا کیا
29:35لیکن پیارے آقا
29:37کیا فرما رہے ہیں
29:38کہ اگر کوئی
29:39تم پہ ظلم کرے
29:40معاف کر دو
29:42صبر کرے گا
29:43اللہ کیا دے گا
29:44اس کے بدلے میں
29:45اس کو عزت عطا فرمائے گا
29:47عزت عطا فرمائے گا
29:49اور تیسری بات
29:50یہ ارشاد فرمائی
29:51کہ جو شخص
29:52مانگنے کا دروازہ
29:53کھولتا ہے
29:54اللہ تعالیٰ
29:55اس میں فقر و محتاجی
29:57کا دروازہ
29:58کھول دیتا ہے
29:59بکاری بن
30:00دیکھئے
30:02ضرورت کے تحت
30:03ایک الگ مسئلہ ہے
30:04لیکن ایک آدمی
30:05عادت بنا لیتا ہے
30:07تو پھر
30:08وہ دروازہ پر
30:09کبھی بند نہیں ہوتا
30:10اس سے لوگوں کو
30:11آپ نے دیکھا ہوگا
30:12جن کو یہ لط پڑ جاتی ہے
30:14جی
30:14تو پھر کیا کہتے ہیں
30:16وہ زمین ہی ہوتے رہتے ہیں
30:18جتنا کچھ بھی آ جائے
30:20پھر بھی عادت ہوئی ہوگی
30:22پھر بھی عادت ہوئی ہوگی
30:23وہ جیسے ایک لطیفہ ہے
30:24جی
30:25کہ ایک شخص
30:26جو ہے کیا کہتے ہیں
30:27بھیک مانگ رہا تھا
30:28کسی ریڈیو دکان کے پاس
30:30جو ہے نا
30:30بھیک مانگ رہا تھا
30:31اس نے کچھ پیسے دے دی ہے
30:32امبان میں
30:33کئی پیچھے بیٹھ گیا
30:34سمجھے نہیں
30:35تو جب اس سے خریداری
30:37کیا اس کے ملازم سے
30:38حقیقت میں
30:39وہ خود جو بھیکاری تھا
30:40اسی کا وہ کاروبار تھا
30:42اور جب اس کو پیسے دینے لگا
30:44تو اس نے کہا
30:45ایٹی ایم ہے
30:45اس نے اس سے کہا
30:46اس نے کہا
30:47میں نے تو اس کو بھیک دی ہے
30:48تو کوئی کہنے لگا
30:49کہ وہ صاحب کا
30:51اصل بزنس تو وہی ہے
30:53یعنی بھیک مانگنا
30:54یہ سائیڈ بزنس ہے
30:55اب ہمارا ماحول
30:57یہ ہوگی
30:58اللہ بچائے
30:58جی
30:59تو جب اگر ہم بھیکاری بنیں گے
31:01تو رتیجہ یہی نکلے گا
31:02اللہ تعالیٰ کی طرف
31:04ہم متوجہ ہو جائیں
31:05اللہ ہمارے لئے خزانے کھول دے
31:07تو بس یہ چند باتیں
31:09آپ کے سامنے کی
31:10اخیر میں
31:10یہ ایک بات
31:13آپ کے سامنے ذکر کرنی ہے
31:14کہ آج کل
31:16جو ملکی حالات ہیں
31:18ہم سب کے سامنے
31:19بعض علاقوں میں
31:20سیلاب ہے
31:21اور بعض علاقوں میں
31:23بہت زیادہ تباہی بھی ہوئی ہے
31:25تو
31:26اللہ تعالیٰ نے
31:28جن کو مصد عطا کی ہے
31:29اس مشکل وقت میں
31:31مشکل گھڑی میں
31:32ان لوگوں کو ضرور یاد رکھیں
31:33آپ کے ارد گردائیں بھائیں
31:36ان علاقوں کے کچھ لوگ ہوں
31:38ان کو ڈھونڈیں
31:39دریافت کریں
31:40ان کے علاقے میں
31:41اگر کوئی ایسی آفت
31:43یا پھلا ہے
31:43ہم سے جتنا ہو سکے
31:45ہم ضرور بھی ضرور
31:47جتنا تعاون ہو سکے
31:48اس مشکل گھڑی میں
31:50ہم ان کے ساتھ کیا کہتے ہیں
31:52ان کا ساتھ دیں
31:53دعافر بیلنہ رب العالمین
31:55ہمیں عمل کرنے کی توفیق عظیق فرمائے
31:57وما علینا ان البلاہم
31:58ہمیں عمل کرنے کی توفیق عظیق

Recommended