Skip to playerSkip to main content
Roshni Sab Kay Liye

Watch All The Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xic1NLGY05O7GY70CDrW_HCC

Topic: Islam aur Azadi

Host: Syed Salman Gul

Guest: Allama Liqauat Hussian Azhari, Allama Hafiz Owais Ahmad

#RoshniSabKayLiye #islamicinformation #ARYQtv

A Live Program Carrying the Tag Line of Ary Qtv as Its Title and Covering a Vast Range of Topics Related to Islam with Support of Quran and Sunnah, The Core Purpose of Program Is to Gather Our Mainstream and Renowned Ulemas, Mufties and Scholars Under One Title, On One Time Slot, Making It Simple and Convenient for Our Viewers to Get Interacted with Ary Qtv Through This Platform.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00. . . .
00:30. . . .
01:00. . . . .
01:29. . . . . . .
01:55That's a very good thing.
02:25That's a very good thing.
02:55He said,
03:25that's a good thing.
03:27That's a good thing.
03:57That's a good thing.
04:27That's a good thing.
04:29That's a good thing.
04:31That's a good thing.
04:33That's a good thing.
04:35Yeah.
04:37Yeah.
04:39Yeah.
04:41Yeah.
04:43That's a good thing.
04:45That's a good thing.
04:47That's a good thing.
04:49That's a good thing.
04:51That's a good thing.
04:53That's a good thing.
04:55That's a good thing.
04:57That's a good thing.
04:59That's a good thing.
05:01That's a good thing.
05:03That's a good thing.
05:05That's a good thing.
05:07That's a good thing.
05:09That's a good thing.
05:11That's a good thing.
05:13That's a good thing.
05:15That's a good thing.
05:17That's a good thing.
05:47That's a good thing.
05:49That's a good thing.
05:51That's a good thing.
05:53That's a good thing.
05:55That's a good thing.
05:56That's a good thing.
05:57That's a good thing.
05:58Hmm.
05:59إِذَا جَاءَ نَصُرُ اللَّهِ وَالْفَتْحِ
06:01وَرَعَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ اَفْوَاجَ
06:05فَصَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَسْتَغْفِرْ
06:08فَتْحِ مَكَّةَ ہو گئی.
06:10اللہ کی طرف سے نُسْرَتَ آگئی.
06:12کیا کرو بھئے اب؟
06:13ہوای فیرنگ کرنی ہے.
06:14سلنسر نکال کے موٹسیکلوں کا
06:16لوگوں کو بیماروں کو تنگ کرنے فرمایا ہے
06:19نئی نئی نئی.
06:20تمہاری اس خوشی کو
06:22اس آزادی کو سیلیبریٹ کرنے کا بھی ایک اصول بتایا ہے.
06:26اللہ حکم.
06:27آپ نے اصول کی بات کہی نا.
06:28قرآن کہتا ہے فَصَبْ بِحَمْدَ رَبِّكَ وَسْتَغْفِرْ
06:31فَرْبَا اُسْ دِن بھی تم نے اللہ کی تسبیح کرنی ہے.
06:34سبحانہ.
06:35اس دن بھی تم نے اللہ تبارک و تعالی کی حمد کرنی ہے
06:38کہ خدایہ تیرا لاکھ لاکھ شکر
06:40تو نے ہمیں یہ وطن کی صورت کے اندر کتنا بڑا انام عطا فرمایا.
06:44سبحان اللہ.
06:45سلمان بھے آپ بھی پوری دنیا کے اندر اللہ کی دین کے لئے جاتے ہیں.
06:47لوگ دنیا میں جاتے ہیں جا کر کہتے ہیں
06:49میں امریکہ گیا میں لندن گیا میں نے نیورک میں یہ دیکھا جونسپرگ میں یہ دیکھا
06:53ہم نے کبھی آکے زندگی بھی یہ تقریریں نہیں کی.
06:55خدا کی قسم آپ پوری دنیا کے اندر گھوم کے آ جائیں.
06:58جس دن آپ کا جہاز اپنے وطن میں اترے گا
07:01آپ کو لگے گا ماں کی آغوش میں آگیا.
07:04اللہ اکبر.
07:05جو سکون جو راحت اور جو آرام اور جو اپنائیت
07:10اپنے وطن کے اندر ہوتی ہے
07:12آپ کتنے بھی دنیا کے اندر چلے جائیں
07:14وہ چیز آپ کو نہیں مل سکتی.
07:16پتا چلا کہ وطن اور آزادی اللہ کی نعمتوں میں سیکھ بہت بڑی ہے.
07:20سبحان اللہ.
07:21سبحان اللہ.
07:22کیا بات.
07:25اللہ.
07:28کہ آزادی ایک اللہ کی بہت بڑی نعمت.
07:31آزادی مل جانے والی جو اقوام ہیں
07:33انہیں اس کی قدر کرنے میں
07:35کیا رویہ اختیار کرنے میں تاں باتا تو چلے کہ قدر کی آزادر کیونکہ میں
07:39حضرت چونکہ آئی آر کا سٹوڈنٹ رہا ہوں میں نے اسی میں ماسٹرز کیا
07:42تو میں نے دیکھا جن اقوام نے آزادی کی قدر نہیں کی
07:46ان سے آزادی بہت ہی آرام سے چھین لی گئی.
07:49خول خول.
07:50پھر وہ مغلوب رہے پھر وہ مظلوم رہے پھر وہ بے کس رہے بے بس رہے
07:55کیوں آزادی کی قدر نہیں کی.
07:57اور بھول گئے کہ آزادی کی قدر ہوتی کیا.
07:59آزادی مل جانے کے بعد قدر والی اقوام کا رویہ کیا ہوتا ہے.
08:03بسم اللہ الرحمن الرحیم.
08:06آزادی کی حدود و قیود اس کو سیلیبریٹ کرنے کی حدود و قیود
08:12بڑی خوبصورتی سے اللہم صاحب نے بیان کی اور اسی سے جوڑ کر جو آپ نے یہ سوال کیا ہے
08:17اس کو اگر میں کہوں کہ یہ ایک قرآنی سوال بھی ہے تو یہ بے جانا ہوگا
08:22اور کیونکہ قرآن کریم کا یہ ایک خاص موضوع ہے آزاد ہونا
08:27جو حریت ہے جو آزادی ہے جیسے اللہم صاحب نے ذکر کیا کہ ایک بچہ آزاد پیدا ہوتا ہے
08:35اور ایک اس سے قوم بنتی ہے قوم کی آزادی یہ قرآن کا موضوع ہے یہ
08:40بلکس ہے
08:41اچھا قرآن کریم نے قوم کی آزادی کے حوالے سے وہ پچھلے نبیوں کے حوالے سے جو بات کرتا ہے
08:48ان کے واقعات کا ذکر کرتا ہے مثالوں کے انداز میں
08:51تو ایک قوم کو خاص طور پر اللہ پاک نے خود بنی اسرائیل کی قوم کی آزادی پر اللہ نے بات کیا
08:58فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَ إِنَّا رَسُولَ رَبِّ الْعَالَمِينَ
09:02حضرت موسیٰ سے کہا کہ آپ فیرون کے پاس جائیں
09:05وہ بنی اسرائیل پر ظلم کر رہا ہے
09:08آپ ان سے جا کر کہیں کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں
09:12اچھا جی کیوں آئے ہیں یہاں پر یہ بھی بتا دیں
09:15ان ارسل معنا بنی اسرائیل
09:19کہ میرے ساتھ میری قوم بنی اسرائیل کو بھیجو
09:23ان کو آزاد کرو
09:25تو ایک نبی قوم کی آزادی کے لیے قیام کرتا ہے
09:30کھڑا ہوتا ہے
09:32مشن کو لے کے آگے بڑھتا ہے
09:35بلکہ اسے آزاد کرا کے لے کے جاتا ہے
09:38اور جب خود نبی موجود ہو
09:41تو اس کی آزادی کی رہ میں کوئی آڑ بن کے آتا ہے
09:45خواہ وہ فیرون ہی ہو تو غرق کر دیا جاتا ہے
09:48تو اللہ پاک نے آزادی دی اس قوم کو
09:52اب آپ دیکھیں اس کی قدر کی جو آپ نے بات کی
09:55کہ یہ یہاں سے آزاد ہوتے ہیں
09:57یہ سہرہ سینہ میں پہنچتے ہیں
10:00وہاں اللہ پاک نے اب اس کی قدر کا طریقہ کیا بتایا
10:04میں زیادہ ڈیٹیل میں نہیں جاتا
10:06میں زیادہ تفصیلات میں نہیں جاتا
10:08مگر اس سے زیادہ جامع قدر
10:11میں آپ کو بتا بھی نہیں سکتا
10:13ایک ہی قدر ہے
10:14مگر بڑی جامع ہے
10:15وہ کیا
10:16بنی اسرائیل آزاد ہو چکے ہیں
10:18اللہ کا نبی ان کے سامنے موجود ہے
10:21آؤ بھئی سیلیبریٹ کرتے ہیں
10:23تمہاری آزادی کو
10:24تو وہ سیلیبریشن کیا تھا
10:26کہا موسیٰ
10:27چالیس دن کے لیے
10:29ایک مہینے کے لیے
10:31آپ ذرا کوہ تور پہ ہمارے پاس آجائیں
10:33اللہ اکبر
10:34اب حضرت موسیٰ علیہ السلام پہاڑ پہ جاتے ہیں
10:37ایک مہینے کے چالیس دن روزے رکھتے ہیں
10:41ایک مہینے سے چالیس دن ہوگے
10:43چالیس دن کے روزے رکھتے ہیں
10:45اور چالیس دن روزے رکھنے کے بعد
10:48اللہ پاک انہیں تورات اتا کرتا ہے
10:51کہ جاؤ آزاد قوم کو ہم نے نصاب اتا کر دی
10:54اللہ اکبر
10:55کتاب اتا کر دی ہے
10:58تورات اتا کر دی ہے
11:00جس میں ہدایت ہے
11:01موعزت ہے
11:03نصیحت ہے
11:04وہ لے کر اسے واپس آتے ہیں
11:06تو آپ دیکھیں کہ جو بے قدرے ہوتے ہیں
11:09وہ کیا کہ ان کے لئے ادھر کتاب آ رہی ہے
11:12نیچے وہ بچڑے کی عبادت کر رہے ہیں
11:14اور اس کتاب کو بھی پھر انہوں نے جھٹلایا
11:17اس میں بھی شکوک پیدا کیے
11:19تو پھر اللہ نے ان کے لئے کیا کہا
11:20دُرِبَتْ عَلَيْهِمُ
11:22ایک تو یہ ہمارے سامنے نقشہ رہنا چاہیے
11:28کہ آزادی کی سب سے بڑی قدر یہ ہوتی ہے
11:31کہ جب آپ آزاد ہو جائیں
11:32تو خدا کی کتاب پھر آپ کا نصاب بن جانا چاہیے
11:36پھر آپ اس پہ عمل کریں
11:38بھائی بہت اچھی ہے
11:39پھر یہ ساری تفصیل پھر اس میں ہے
11:41پھر آپ اس کو جوڑ دیں آزادی کو
11:43محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
11:46محنت سے صحیح سے
11:48تو پھر اس کا سیکنڈ جو پارٹ ہے
11:50وہ بڑی خوبصورتی سے کمپلیٹ ہوتا ہے
11:52کہ آزادی نام ہے نظریہ کا
11:55ابو جہل یہ کہہ رہا تھا
11:58آؤ کچھ ہمارے بتوں کی عبادت کر لو
12:01ہم تمہارے خدا کو سجدہ کر دیں گے
12:03لیکن خدا کا کلام اترا لکم دینوکم ولی دین
12:07نظریہ پر کمپرومائز نہیں کیا جائے گا
12:11دو قومی نظریہ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:16نے یوں عطا فرمایا
12:17کہ قوم شہر سے نہیں بنتی
12:20کسی مخصوص علاقے سے نہیں بنتی
12:23قومیں بنتی ہیں آزادی آتی ہے
12:25تو نظریہ سے آتی ہے
12:26وہ پھر جتنی جانیں دینی تھی انہوں نے دین
12:30جو کچھ نچھاور کرنا تھا کیا
12:32مگر جب مدینہ میں آئے
12:34اور آ کر انہوں نے
12:36اس کفر کے نظریہ سے نجات حاصل کی
12:39اور پھر قرآن کی ایک ایک آیت
12:42نصاب بن کر اتری
12:43تو وہ آزادی کمپلیٹ ہوئی
12:45اور میں اس کا تیسرا مرحلہ آخری
12:47آپ کے سامنے رکھ دوں
12:49یہی سیم چیز ہوئی تھی
12:50دو قومی نظریہ پر
12:52اٹھارہ سو ستاون میں
12:54علامہ فضل حق خیر آبادی نے
12:56فتوہ دیا تھا انگریز کے خلاف
12:58امام احمد رضا خان فاضل بریلی
13:00رحمہ اللہ کے والد اور آپ کے دادا
13:02نقی علی خان اور رضا علی خان
13:04نے اس فتوے کی تائید کی تھی
13:06اگرچہ مسلمان شہید کیے گئے
13:09بائیس ہزار علماء
13:10اس جنگ میں شہید ہوئے
13:12مگر وہ آزادی کے متوالے تھے
13:14وہی دو قومی نظریہ
13:16امام احمد رضا خان نے پیش کیا
13:18علامہ اقبال نے پیش کیا
13:20قائد اعظم محمد علی جنہ نے پیش کیا
13:23یہی آزادی کا حقیقی
13:25تصور اور قدر تھی
13:27کہ اس دو قومی نظریہ پر
13:29ہزاروں لوگوں نے
13:30اپنی جانے قربان کی
13:32اور وہ اللہ کا کلام کے
13:34وہ نصاب بنا کر
13:37اس ملک میں دو قومی نظریہ کے
13:38نتیجے میں یہاں پر آئے
13:40اور اس ملک کو آئے
13:41تو یہ ساری تفصیل بتانے کا
13:43مقصد نوجوانوں کو یہ ہے
13:44کہ سمجھ لیجئے
13:46اس آزادی کی جو قدر ہے
13:48وہ کتاب اللہ ہے
13:49وہ نظریہ ہے
13:51اپنے اسلاف کی پیروی ہے
13:53اگر یہ چیزیں نکل جائیں
13:55تو نہ باجے آزادی ہیں
13:57نہ پھر کپڑے آزادی ہیں
13:59نہ پھر خوبصورتیاں آزادی ہیں
14:01آزادی کی قدر یہ چیز ہے
14:03کیا بات
14:03نظریہ
14:04ویجنری نیشنز جنہیں اللہ نے
14:05ہمیشہ سر فراز کیا
14:07سر چلے گئے
14:08تن چلے گئے
14:09نظریہ نہیں جانے دیا
14:10اور نظریہ زندہ رہا
14:12نظریہ کی جیت ہوئی
14:13بہترین
14:14ماشاءاللہ دو قومی نظریہ
14:15آپ نے ابتدا سے سمجھایا
14:16اور بریک کے بعد
14:18انشاءاللہ مزید آزادی کے موضوع پر
14:20علماء اکرام سے کچھ سوالات کرتے ہیں
14:21خوش آمدید ناظرین
14:22خیر مقدم ہے
14:23آپ کا پروگرام روشنی میں موضوع ہے
14:24آزادی اور علامہ لیاقت
14:25حسین نظری صاحب
14:26علامہ حافظ عویل صاحب
14:27نقشبندی صاحب
14:28رفیق صاحب
14:28بڑی خوبصورت اور بنیادی گفتگو
14:30حضرات علماء فرما رہے تھے
14:32جس طرح
14:33علامہ حافظ صاحب
14:34فرما رہے تھے
14:35اس میں مجھے
14:37کئی نہ کئی ساؤنڈ کیا
14:38ٹو نیشن تھیوری
14:39قومی نظریہ
14:40اچھا پاکستان کی
14:42ازادی کے جو
14:42بنیادی اور اہم ترین
14:44مقاصد ہیں
14:44میں چاہتا ہوں
14:45آپ اس پہ روشنی ڈالیں
14:46تھا کہ ہمیں
14:47یہ جو ویجن والی بات
14:48ٹو نیشن والی بات ہے
14:49یہ بھی ذرا ریکال ہو
14:50اور اسلام
14:51رہنمائی کیا کرے گا
14:52دیکھیں برے صغیر کے اندر
14:54جو ہے
14:54مسلمانوں نے
14:55ایک بڑی طویل
14:57مدت تک حکومت کی ہے
14:59اور مسلمانوں کی
15:01حکومت کی صداقت
15:02اور مسلمانوں کی
15:04اس بات سے
15:04اب اندازہ لگا لیں
15:05کہ اتنے ہزار سال
15:07حکومت کرنے کے باوجود
15:08برے صغیر کے اندر
15:11مندر بھی موجود ہیں
15:12اور سینگال بھی موجود ہیں
15:14ہندو بھی موجود ہیں
15:16اتنی بڑی تعداد کے اندر
15:18اس کا مطلب ہے
15:19کہ مسلمان ان حکمرانوں نے
15:20اور ان لوگوں نے
15:21کسی کو زبردستی مسلمان نہیں کی
15:23ورنہ وہ کہتے ہیں
15:24بجیس کو رہنا
15:24ہماری سلطنت کے اندر
15:25مسلمان ہو
15:26ان کے جو رہے وہ رہے
15:28لیکن اس کے بعد
15:29جب زوال ہوا
15:30اور اس کے بعد
15:31جب اکبر بادشاہ نے
15:33دین اکبری کے نام سے
15:34ایک مسلمانوں کو
15:36خراب کرنا چاہا
15:37تو سب سے پہلے
15:38امام ربانی
15:39مجدد الفیسانی
15:40سبحان اللہ
15:40اکبال کہتے ہیں
15:42وہ ہند میں سرمایہ
15:43بلت کے دے کے باہر
15:44اللہ نے کیا
15:46جن کو بروقت خبردار
15:47اللہ
15:48اللہ نے ان کو چن لیا
15:49فرمایا کہ یہ
15:51چونچو کا مربع نہیں
15:52کہ رحمان بھی ٹھیک ہے
15:54بغوان بھی ٹھیک ہے
15:55فرمایا دو قومی نظریہ
15:57ہمارا جو دین ہے
15:59ہمارا جو ثقافت ہے
16:01ہمارا جو کلچر ہے
16:02ٹھیک ہے آپ رہیں
16:03آپ اپنے حصے جیسے
16:04اللہم صاحب نے فرمایا
16:05لیکم دین کو ولیہ دین
16:06تمہارا اپنا دین ہے
16:07ہمارا فرمایا
16:08ہم اپنے زندگی کو
16:09اپنے دین کے مطابق
16:11تو پھر امام ربانی
16:12مجدد الفیسانی سے لے کر
16:13فضلہ خیربادی
16:14رحمت اللہ
16:15تعالیٰ علی
16:15آزد آل آزد
16:16امام علی سنت سے لے کر
16:17پھر آل آزد کے خلافہ
16:19پھر ڈاکٹر علامہ اقبال
16:20علامہ اقبال نے جس وقت
16:22جو ہے
16:22قرارداد مقاسد پاکستان پیش کی
16:24تو لوگوں نے بڑی باتیں کی
16:26انہوں نے کہا
16:27کہ یار
16:28کیا ضرورت ہے
16:29ہم سب برے سغیر کے اندر رہتے ہیں
16:31اور ہم سب ہندوستان میں رہتے ہیں
16:33اور یہاں رہنے کے وجہ سے
16:35ہم سب ایک قوم ہیں
16:36اللہ اکبر
16:38ہم ایک دھرتی میں رہنے کے وجہ سے
16:40ہم سب کیا ہیں
16:41ایک قوم
16:42علامہ اقبال اس وقت
16:43بستر مرک پر تھے
16:44بمار تھے
16:45بہت زیادہ علیل تھے
16:47آپ نے کہا کہ
16:47مجھے قلم دو
16:49اور قلم لے کر
16:50آپ نے ایک ربائی لکھی
16:51اس ربائی کے پہلے اشارتوں میں
16:53قطع نہیں پڑ سکوں گا
16:54اگلی قطع کے اندر فرماتے ہیں
16:56فرمایا کہ
16:57تم کیا سمجھ رہے ہو
16:58کہ ملت جو ہے
16:59وہ بطن سے
17:00زمین سے
17:01سرزمین سے بنتی ہے
17:02جیسے علامہ صاحب نے فرمایا
17:04کہ ملت بنتی ہے
17:05فکر سے
17:06ملت بنتی ہے
17:08نظریے سے
17:09اللہ
17:09اور ملت بنتی ہے
17:11بھرے صغیر کے
17:12آپ زاویے کے اندر دیں
17:14تو غلامی و مصطفیٰ سے بنتی ہے
17:15علامہ اقبال فرماتے ہیں
17:17دوسرے قطع کے اندر
17:18دوسرے قطع کے اندر
17:20فرماتے ہیں
17:21سرود بر سرے ممبر
17:23کے ملت
17:24از وطن
17:25چیبی خبر
17:27زمقام محمد عرابی
17:29اللہ
17:30فرمایا
17:31ممبر پر گاتے ہوئے
17:32کہہ رہے ہیں
17:32کہ میرے بھائی
17:33ملت جو ہے
17:34وہ وطن سے بنتی ہے
17:35فرمایا
17:36اگر ملت
17:37زمین سے
17:38وطن سے بنتی ہے
17:39تو اس کا مطلب ہے
17:40کہ حضور کی تشریف آدمی
17:41حضور کی بے صد
17:42دیکھیں
17:43وہ سب کا سب فوت ہو گیا
17:44ایک جملہ کہوں گا
17:45فرمایا
17:46کہ ابو جہل
17:47ابو لہابی کے سارے
17:48کے سارے مکہ میں رہتے
17:49ایک سر زمین
17:50ایک خاندان ان کا قریش
17:52لیکن نہ برادری سے بنتی ہے
17:54نہ مکی ہونے سے بنتی ہے
17:56ملت بنتی ہے
17:58تو وہ غلامی ابو صفیح سے بنتی ہے
18:04بلال حبشا سے آئے
18:07وہ انہیں فرمایا
18:08میری ملت یہ ہے
18:09یہ میرا گلدستہ ہے
18:11قوم مذہب سے
18:12مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
18:13تم بھی نہیں
18:14فرمایا کہ
18:15ملت جو بنتی ہے
18:17وہ غلامی مصطفیح
18:18سرود بر سرے ممبر
18:20کے ملت
18:20عز و تنست
18:22جیب خبر
18:23زمقام محمد عربیس
18:25با مصطفیح
18:27برسا خیش را
18:28کے دی ہماعوس
18:30گربعون رسیدی
18:32تمام بولہ بی
18:33فرمایا وہ نہیں ہے
18:35اگر تم غلامی مصطفیح
18:36کے اندر نہیں ہو
18:37تو فرمایا
18:38کچھ بھی نہیں ہے
18:39تو یہ دو قومی نظریہ
18:41اور اس کے بعد
18:42اس دو قومی نظریہ
18:43کی بنیاد کیا ہے
18:44سلمان بھئی
18:44زمین نہیں ہے
18:46سرزمین نہیں ہے
18:47اسلام صرف
18:48زمین کو نہیں مانتا
18:49وہ ہے دو قومی نظریہ
18:50آپ دیکھیں
18:51کہ برے صغیر
18:52کے بچے بچے
18:53کی زبان پر تھا
18:55یہ نہیں
18:55کسی نے کہا کہ
18:56میں روٹی کپڑا وقان چاہیئے
18:57ہمیں گیا روٹی نہیں ملتی
18:58اس وقت ہی مسلمان
18:59کے بڑے بڑے تاجر تھے
19:00مسلمانوں کی
19:01بڑی بڑی ریاستیں
19:02تھیں نواب تھے
19:04ہیں مسلمان
19:05فرمایا
19:05اصل کیا ہے
19:06کہ پاکستان
19:07کا مطلب کیا
19:08لا الہ الا اللہ
19:09پورے برے صغیر
19:11کے بچے بچے
19:12پر یک نکاتی
19:13فورمیٹ
19:14اور ایک نعرہ تھا
19:15ایک مقصد تھا
19:16فرمایا
19:16کیوں بنا رہے ہو پاکستان
19:17بولا ہمیں
19:18وہاں پر قرآن
19:19سنت
19:20آپ یہ دیکھئے
19:21کہ قائد عاظم
19:22محمد علی جنات
19:23اور شیف لے گئے
19:23سرد کے اندر
19:25خیبر پختون خواہ کے اندر
19:27اس وقت سرد تھا
19:28اور وہاں جا کر
19:29پیر اوف مانک شیف کی
19:30بارگاہ کے اندر حاضر
19:31بائیس سال کا نوجوان
19:33ریفرینڈم ہونا ہے
19:34کہ بھئی سرد کس طرف جائے گا
19:36آپ نے سب سے پہلے
19:37پیر اوف مانک شیف نے پوچھا
19:39کہ قائد عاظم صاحب
19:40آپ یہ بتائیں
19:41کہ ہمارا دستور کیا ہوگا
19:43منشور کیا ہوگا
19:44آئین کیا ہوگا
19:45اور انہوں نے کہا
19:46پیر صاحب ہمارا دستور
19:47تو قرآن ہوگا
19:48فرمایا ہم کو لکھ کے دو
19:51ہم پیر بھی ہے
19:52پتھان بھی ہے
19:53ہم کو لکھ کے دو
19:54ادھر اللہ اکبر
19:55اس کے بعد پھر
19:57پیر صاحب نکل پڑے
19:58پورے بارے سور سرد کے اندر
20:00لوگوں کو بائیس سال کا
20:01تو وہ ایک جو گاندی کے
20:04ماننے والے وہاں تھے
20:05وہ کہتے تھے
20:06کہ مجھے جنانے نہیں آر آیا
20:08مجھے ایک بائیس سال کے
20:09مانکی کے سابزادے
20:10نے ہر ہوا
20:11یہ تھا
20:12اللہ حکم
20:13آپ پیر جماعت علی شاہ صاحب سے لے کر
20:15پیر احمان کی شریف سے لے کر
20:16پیر احمد زکوری شریف سے لے کر
20:18ان تمام بزرگوں نے
20:20جو ہے ایک کردار ادا کیا
20:21اور کردار کی وجہ کیا تھی
20:23سرزمین نہیں تھی
20:24دو قومی نظریہ تھا
20:26کہ یہاں پر
20:27ایک اللہ اور اس کی رسول کا
20:29ایک نظام لے کر آئیں گے
20:30نظام مصطفیٰ
20:31اور اس کو یہاں پر
20:33نافذ کیا جائے گا
20:34سلمان بھائی
20:35آپ کے سوال کا
20:36ون لائنر جواب یہ ہے
20:38ساری دنیا سن رہی ہے
20:39کہ پاکستان بنا ہے
20:41لا الہ الا اللہ
20:42محمد الرسول اللہ
20:43کی بریاد
20:44اور قرآن کے نظام
20:46کو یہاں پر نافذ کرنا
20:47بہت خوب اللہ حساب
20:48اور
20:49میں نے جیسے کہ عرض کیا
20:51کہ قوم مذہب سے ہے
20:52مذہب جو نہیں
20:53تم بھی نہیں
20:54جذب باہم جو نہیں
20:56محفل انجم بھی نہیں
20:57اور اقبال نے
20:58جب اس وقت
20:58یہ اخلاقی خرابیاں
21:00اپنی قوم میں محسوس کی
21:01اور جو ترقی آفتر لوگوں
21:03کی ان باتوں سے
21:03متاثر ہو رہے تھے
21:05جو ان کی تہذیب
21:05اور ان کا مذہب نہیں تھا
21:07تو تب علامہ اقبال نے کہا تھا
21:08اپنی ملت پر قیاس
21:09اقوام مغرب سے نہ کر
21:11خاص ہے ترقیب میں
21:13قوم رسول عاشمی
21:14تو اپنی ترقیب کو سمجھ
21:16تیری ترقیب کا یہی راز ہے
21:18اور ترقیب کی بنیاد توحید
21:20میں علامہ حافظ عویس حمد نقشبندی صاحب
21:23قبلہ
21:23میں میڈیا پر آتا ہوں
21:26ہم بھی ایک میڈیا
21:27چینل سے بابستہ ہے
21:28اس وقت میڈیا
21:29میں بیٹھے ہیں دنیا میں دیکھ رہی
21:30ایک آزاد میڈیا
21:32سوال ہوتا ہے
21:32کہ میڈیا تو آزاد
21:33ایک آزاد میڈیا
21:35اور ایک ذمہ دار
21:36رسپونسیول میڈیا میں
21:37کیا ڈیفرنس ہے
21:38کیا فرم
21:39اصل میں بنیادی چیز
21:41اگر یہ سمجھ لی جائے
21:42کہ آزادی جو ہے
21:44وہ ذمہ داری کو لے کر آتی ہے
21:46تو سارے مسائل خود ہی آلو جائے
21:48بہت بڑا جملہ کا
21:49بہت بڑا جملہ
21:50لوگوں نے آزادی کو
21:52الگ کر دیا
21:52اور اس کی ذمہ داری کو
21:54الگ کر لیا
21:54تو اب وہ آزادی
21:57جو ہے نا وہ
21:58اس کیٹیگری میں چلی گئی
22:00کہ جہاں حدود و قیود ختم ہو گئے
22:02اگر آپ میڈیا
22:04سوشل میڈیا
22:04چینلز کی بات کریں
22:06تو اس کی بنیاد
22:07ہمیں دین اسلام نے
22:08آج سے چودہ سو سال پہلے
22:10اس کے بارے میں جو
22:11احکامات تھے
22:12اس کے بارے میں جو چیزیں تھی
22:14بنیادی چیزیں
22:15وہ ہمیں عطا کر دی
22:16آپ دیکھیں نا
22:17آپ صلی اللہ علیہ وسلم
22:18نے خود ایک
22:19جو میڈیا ہے
22:21اس کی آپ نے
22:21یوں بنیاد رکھی تھی
22:23کہ آپ نے یہ کہہ دیا تھا
22:24کہ جو آج میرے پاس موجود ہے
22:26وہ میری بات کو آگے پہنچا دیں
22:28تو بات کو آگے پہنچانا
22:30خبر کو آگے پہنچانا
22:32یہ تو ہر معاشرے کی بنیاد ہے
22:34مگر اس بنیاد میں
22:36جو اس کے مقاصد
22:37اور اس کے جو حقائق تھے
22:39وہ اسلام نے ہمیں دی
22:40یا ایوہ اللہزین آمنو ان جاکم فاسقم بینبعین فتبینو
22:45ایمان والو
22:47اگر تمہارے پاس کوئی فاسق آئے
22:49تو تم بات کی تحقیق کر لیا کرو
22:51فتبینو ان تسیبو قومم بجہالتن
22:55فتسبہو علا ما فعلتم نادمین
22:58تمہیں شرمندہ نہ ہو نہ پڑے
23:00ایک بات کی تم نے تصدیق کی نہیں
23:02اور آگے پہنچا دیا
23:03آپ آزاد میڈیا اور ذمہ دار میڈیا کی بات کر رہے تھے
23:07میں اگر اس کو آپریشن بنیان و مرسوس کے تحت
23:10اگر دیکھوں
23:11تو اس وقت جو میڈیا
23:13ایک طرف آزاد میڈیا چل رہا تھا
23:16اور ایک طرف پاکستان کا ذمہ دار میڈیا چل رہا تھا
23:19جو آزاد میڈیا نے جو خبریں دی تھی
23:23جو ہر چیز سے آزاد تھا
23:26تو دنیا جو ہے ان پر ہنس رہی تھی
23:28کہ آج تو انہوں نے سب کچھ ہی ختم کر دیا
23:31جو قوموں کا فرق تھا
23:36اتنا ذمہ دار کر دا
23:38پاکستان کے میڈیا نے
23:42اپنی آزادی کے ساتھ ساتھ
23:45اس دن جو ذمہ داری کا
23:46ہمارے سامنے ایک وہ سوچ رکھی
23:49یہ وہی بنیاد تھی
23:50کہ کوئی خبر آپ نے جھوٹی نہیں پھیلائی
23:52ایک خبر جھوٹی نہیں تھی
23:54اور میرے رسول تو یہ
24:01ہم تو اس رسول کے امتی ہیں
24:04جنہوں نے فرمایا
24:05کفا بالمرئی کذب
24:06کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے
24:09اتنا ہی کافی ہے
24:10وہ سنی سنائی بات کو آگے پہنچا
24:13اچھا اب اس کے نتائج کیا نکلے
24:15جب آپ نے آزادی کا اپنا
24:17ایک مفہوم ذہن میں رکھ لیا
24:19تو اس میڈیا کے ذریعے
24:21پھر آپ جس پر چاہیں جو الزام لگا دیں
24:24اس میڈیا پر بیٹھ کر آپ جھوٹی
24:27خبروں کو دشرت لیں
24:28اس میڈیا کے ذریعے
24:31اب جو سب سے بڑا جو اس کا
24:33جو دجالیت ہے اس کی
24:36دنیا بھر میں میڈیا کی
24:37وہ یہ ہے
24:38کہ صحیح کو غلط
24:40اور غلط کو صحیح دکھانا
24:41مظلوم کو ظالم دکھانا
24:44ظالم کو مظلوم دکھانا
24:46یہ وہ چیزیں ہیں
24:48جس نے پوری دنیا کے نقشے کو
24:50متاثر کیا
24:51پوری دنیا کے مظلوموں کو
24:53متاثر کیا
24:54اور اس میڈیا نے
24:56اپنی اس ناجائز آزادی کی وجہ سے
24:59بہت ساری اقوام کے ساتھ
25:01ظلم کیا ہے
25:02تو اس لیے
25:03جو میار حق ہے
25:05وہ ہر جگہ قائم ہوگا
25:06تو میڈیا میں بھی قائم ہوگا
25:08کہ آپ حق کو حق دکھائیں
25:10آخری چیز یہ
25:11جس سے ہم
25:13بہت متاثر ہیں
25:14اس میڈیا کے دور میں
25:16وہ ہے فہاشت
25:18جو ایمان والوں میں فہاشت پھیلاتے ہیں
25:25یہ بڑا ایک دردناک موضوع ہے
25:29اس اعتبار سے
25:30کہ ہم اپنی نگاہوں کو
25:32اپنے کردار کو
25:34اور اپنے سوسائٹی کو
25:36اور بالخصوص آج جو بچہ
25:37ہمارا میڈیا کے ساتھ جڑا ہے
25:39موبائل کی راہوں پر آ کر
25:41جس میں جسمانی امراض
25:43روحانی امراض
25:44ساری چیزیں پیدا ہو رہی ہیں
25:46تو اس بے رہ روی نے بھی
25:48آزاد میڈیا کی صورت میں
25:50ہمارے معاشرے میں
25:51تباہی اور بربادی پھیلائی ہے
25:53بلکل
25:53ہمارے پاس جو ہے
25:55ہماری وہ قوم ہے
25:57جو بچہ
25:57ڈیجیٹل دور میں پیدا ہوا ہے
25:59اور وہ ڈیجیٹل انداز میں
26:02اس کو یوز کر رہا ہے
26:03اور انہوں نے وہ پرانا دور نہیں دیکھا
26:05تو وہ ڈیریکٹ چھلانگ لگا
26:07کہ اس دور میں پہنچ گئے
26:08تو اس لیے جو ہے وہ
26:10اس کے حدود و قیود
26:11جو آپ نے بہت اہم سوال کیا
26:13ایک قوم کی آزادی میں
26:15ایک میڈیا کی آزادی کا
26:17صحیح تصور بڑا ضروری ہے
26:19بلکل صرف
26:19اگرنا نیو جنریشن
26:21جو ہے وہ تباہ ہو جاتی ہے
26:22بلکل ٹھیک
26:22بہت اچھی اور خوبصورت بات
26:25اور اس کا
26:25جو ون لائنر تھا
26:28کہ ایک آزاد میڈیا
26:29اور ایک ذمہ دار میڈیا میں
26:30کیا فرق ہوتا ہے
26:31اور اس کے لیے
26:32ایک بہترین ایگزمپل
26:33آپ نے آپریشن بنیانوں
26:34مرسوس کی دی
26:35کہ ایک طرف تھا
26:36آزاد میڈیا
26:37جو دل کیا
26:38مادر پدر آزاد تھے
26:39جو دل کیا
26:40خبر چلا دی
26:41جو چاہا جھوٹ باندیا
26:42اور ایک طرف
26:43وہ ذمہ دار میڈیا تھا
26:45جس نے ایک خبر بھی
26:46جھوٹی نہیں چلائی
26:48جو کچھ کہا
26:49سچ کہا
26:50سچ کے ساتھ کھڑے رہے
26:51حق پر ڈٹے رہے
26:53اور اللہ نے ان کو
26:54کیا خوبصورت فتحہ
26:55اور عزت کا تاج
26:56اتا فرمایا
26:57بریک کے بعد ہوتی ہے
26:58آپ سے ملقات
26:59جی والکم بیک
26:59ناظرین خیر مقدم
27:00میں آپ کا آج ہم
27:01فریڈم یعنی آزادی
27:02کے موضوع پر بات کر رہے ہیں
27:03اسلام اور آزادی
27:04یہ ہمارا موضوع ہے
27:04اور دیکھیں
27:05کیا خوبصورت انداز سے
27:07حضرات علماء
27:08اسلامی تعلیمات بھی بتا رہے ہیں
27:10ایکزمپلز بھی بتا رہے ہیں
27:11مطلب کرنٹ افیر بھی چل رہا ہے
27:12اور اسلام سے
27:13رہنمائی بھی چل رہی ہے
27:14اور بہترین
27:15موضوعاتی
27:16مثالیں آپ کو دی جارہی ہیں
27:17علماء لیاقت
27:18نظری صاحب سے
27:19میں بات کروں گا
27:21حضرت آزادی کے نام پہ
27:22فہاشی اور بے حیائی
27:23کو پرموٹ کرنا
27:24پھیلانا
27:25اور فی زمانہ
27:27ماضی
27:28قریب میں آپ نے دیکھا بھی
27:30کہ جو ہے وہ آزادی کے نام پر
27:32اس طرح کی باتیں
27:33کی گئیں
27:34پرموٹ کیا گیا
27:34اس کو
27:35دیکھیں
27:36قبلہ علماء حافظ
27:37اویس حمد صاحب نے
27:38بہت خوبصورت
27:39میڈیا کی کردار پر
27:41بات کی ہے
27:41اور اس کے اندر
27:42خاص طور پر انہوں نے
27:43ذکر کیا ہے
27:43اور حقیقت یہ ہے
27:45کہ آزادی کا تصور
27:46یہ نہیں ہے
27:47کہ آپ کا جو دل چاہے
27:48آپ خبر دیں
27:49وہ سچی ہو
27:50یا جوٹی ہو
27:50ہم نے کہا
27:52کہ جو بھی اچھی قوم ہے
27:53ہم تو مسلمان ہیں
27:54ہم تو اللہ رسول کے پابند ہیں
27:55لیکن دنیا کے اندر
27:57بھی جو معذب قومیں ہیں
27:58وہ یہ دیکھتی ہیں
28:00کہ وہ خبر سچی دے رہے
28:01یا نہیں دے رہے
28:02ان کا اپنا جو کردار ہے
28:04اور ان کی اپنی جو سند ہے
28:06اور ساری چیزیں
28:06اس کو ملوز خاطر رکھتے
28:08جہاں تک رہا
28:09میڈیا بڑھ رہا ہے
28:11سوشل میڈیا بڑھ رہا ہے
28:12اس کے ساتھ
28:13انفرمیشن
28:14دنیا کہتی ہے
28:14کہ اب انفرمیشن کا دور ہے
28:16لیکن ساتھ ساتھ
28:16فہاشی اور اڑیانی
28:17بہت بڑھتی جا رہی ہے
28:18ہماری وہ جنریشن
28:21ہماری نیو جنریشن
28:22ہماری یوت
28:22بچے اور بچیاں
28:24اس وقت ان راہوں
28:25اور رستوں پر چل پڑے ہیں
28:26کہ الامان والحافیظ
28:27رب تبارک و تعالی
28:29ہم سب کی عزتوں
28:30کے حفاظت فرمائے
28:31قرآن مجید فرقان حمین
28:32نے فرمائے
28:32اندللذین یحبون
28:34انتشیع الفاحشت
28:35فیللذین آمر
28:36لہم عذاب علیم
28:37فی الدنیا والاقر
28:38کہ وہ لوگ
28:39جو مسلمانوں کے درمیان
28:40فہاشی پھلاتے ہیں
28:41بھئے آپ کے تو
28:42آپ کے تو فنگر ہے نا جی
28:44آپ نے ایک لائک کیا
28:45ایک شیئر کیا
28:47لیکن آپ یہ دیکھیں
28:48کہ اس کا ریزلڈ کیا
28:49یہ گناہ جاریہ ہے
28:50بلکل ہے صحیح
28:50ایک جیسے صدقہ جاریہ ہوتا ہے
28:52بلکل
28:53ایک صدقہ جاریہ ہوتا ہے
28:55یہ گناہ جاریہ ہے
28:56اور سلمان بھئے
28:57کتنی چیزیں
28:58ایسے لوگوں کے سامنے آئی ہیں
28:59کہ انہوں نے شیئر کی ہوئی تھی
29:01ان کے ایکاؤنٹ
29:02ان کے پاسفرڈ لگا ہوا تھا
29:03ایکسیلنٹ ہو گیا
29:04دنیا سے چلے گئے
29:05لیکن ان کے وہ شیئرنگ چل رہی
29:06گناہ جاریہ
29:09وہ قبر کے اندر موجود ہیں
29:10لیکن ان کا وہ گناہ جاریہ
29:12تو اس لیے
29:13ہمارے ہاں تو کوئی بھی چیز سامنے آتی ہے
29:15نہ ہم کہتے ہیں
29:15ٹھک کر کے اس کو لائک کرو
29:16اس کو شیئر کرو
29:17بھئے یہ کیا ہے
29:18سچ ہے جھوٹ ہے
29:19فاشی ہے اور یعنی ہے
29:20مائنس کیا پلس کیا
29:21بس میرا کام ہے
29:23اس کو شیئر
29:24فرما یہ نہیں ہے
29:25ہم مسلمان ہیں
29:26ہم پابند ہیں
29:27ہم اس چیز کے باؤنڈ ہیں
29:29کہ ہمیں اللہ رسول کی بارگاہ کے اندر جا کر جواب دینا ہے
29:32یہ زبان بھی اللہ کی نعمت ہے
29:35یہ بیڈیا بھی یقیناً
29:37ایک اظہار اور ابلاغ کا ذریعہ ہے
29:39لیکن
29:40اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے
29:46اقراہ کتابہ کا
29:47کفاہ بنفس کر
29:48یوم علی کا حصیبہ
29:50اس لیے ایک محذب قوم
29:52اور ایک تعلیم یافتہ قوم
29:54اور ایک ایسی قوم
29:55یعنی یہ تو اقوام عالم کا ہوا
29:57اور ایک ایسی قوم
29:58جس کو اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ کے اندر جا کر جواب دینا ہے
30:02کہ ہماری یہ زندگی صرف یہ نہیں ہے
30:04بلکہ اس کا جو نتیجہ ہے
30:06اس کا جو سمرہ ہے
30:07وہ اللہ کی بارگاہ کے اندر
30:08تو آزادی کو سیلویریٹ کریں
30:11آزادی اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمت ہے
30:13لیکن ان تمام حدود و قیود کو
30:16ان تمام بانڈریز کو
30:17آپ یہ دیکھیں نا
30:19شعیب علیہ السلام نے جب لوگوں کو بلایا
30:21اور کہا کہ آپ آ جائیں
30:22اور نے کہا کہ اے شعیب آپ کی نماز
30:24کیا ہمیں جو ہے ہمارے
30:26جو باپ دادا کے خدا ہیں
30:28ان سے روکتی ہے
30:29ہم ان کی عبادت نہ کریں
30:30جن راہوں پر وہ تھے
30:31او ان نفعلا فی اموالنا ما نشاؤ
30:34ہم اپنے معلوم کے اندر جو کرپشن کرتے ہیں
30:36جو دندہ کرتے ہیں
30:37جو خیالات کرتے ہیں
30:38اور جو ہم کبھی کرتے ہیں
30:40وہ نہ کریں
30:41یہ تو باؤنڈ ہے
30:43ہمیں آزاد رکھو
30:45ہم جو کچھ کر رہے ہیں
30:47اپنے معلوم کے اندر وہ کرتے رہے ہیں
30:49اور ہم مومن مسلمان بھی ہو
30:51عاشق بھی ہیں
30:52مسلمان بھی ہیں
30:53توبہ توبہ کرتا جائے
30:54خالی جام کو بڑھتا
30:55ایسا نہیں ہو سکتا ہے
30:56جب آپ مسلمان ہو گئے ہیں
30:59تو اس کے بعد
31:00آپ حدود و قیود کے پابند ہو گئے
31:02ان حدود کو پھلانگیں گے آپ
31:08تو اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ کے اندر
31:10آپ مجرم ہوں گے
31:11اس لیے میں کہوں گا
31:12اپنے پاکستانیوں کو
31:14اور یہ کتنی بری بات ہے
31:16کہ پوری دنیا کے اندر یہ چیز بڑھتی ہی جا رہی ہے
31:18اور اس کے نقصانات بہت ہیں
31:20آج لوگوں کو یہ لگتا ہے
31:21کہ یار یہ مولوی اور علماء لوگ
31:23ہمیں رسٹیکشن کر رہے ہیں
31:25اور روک رہے ہیں
31:26ہماری ترقی کو روک رہے ہیں
31:27بیٹا ترقی نہیں ہے
31:29یہ ترقی معقوس ہے
31:30یہ تباہی اور بربادی کا راستہ
31:32دوسرا میں کہوں گا سلمان بھائی
31:35کہ یہ بھی آزادی کے لیے بہت ضروری ہے
31:37کہ آپ
31:39صوبائیت کے اندر
31:40اسبیت کے اندر
31:42زبانوں کے اندر
31:43علاقوں کے اندر
31:44تقسیم ہو کر
31:46اپنی اس آزادی کو خراب کر رہے ہیں
31:48اکبال نے کہا رہتا
31:50کہ فرد قائم ربط ملت سے ہے
31:52تنہا
31:53اور موج ہے دریا میں
31:55بیرون دریا
31:56ہماری کامیابی یہ ہے
31:59کہ کراچی سے لے کر خیبر تک
32:01اور کراچی سے لے کر
32:02پیر پنجال کے پہاڑوں تک
32:04ہماری ساری کی ساری قوم
32:06اپنے وطن کے لیے
32:07اپنے ملک کے لیے جمع ہو جائے
32:09اور میرے وطن کو
32:11اللہ نے دریا دیئے
32:12میرے وطن کو
32:13اللہ تعالیٰ نے کتنی چیزیں دی
32:15سارے موسم دیئے
32:16سارے پھل دیئے
32:17میں کہتا ہوں
32:18خدا کی قسم
32:19میری زبان اور دل یقصہ ہو
32:21ہمارے وطن کو
32:22اللہ نے جو نعمتیں دی ہیں
32:29ایک چیز ہے دوسری چیز نہیں
32:30میرے وطن کو
32:31اللہ نے سب کچھ دیا
32:33کیا بات
32:33اسی لیے تو کہتے ہیں
32:34کہ چاند میری زمین
32:35پور میرا وطن
32:37میرے وطن کے اندر
32:38اللہ تعالیٰ نے سب کچھ عطا فرمی
32:39ماشاءاللہ
32:40اللہ صاحب
32:41بہت خوبصورت اور سہر حاصل
32:42ہمارے بار حضرت
32:43تین منٹ بچے ہیں
32:45میں چاہتا ہوں
32:45اس میں آپ سے ایک سوال یہ پوچھ لیں
32:47جوانوں کو آپ کیا پیغام دیں گے
32:49آزادی کی نعمت اور قدر کے حوالے سے
32:50دیکھیں یہ پورے موضوع کا نچوڑ ہے
32:53جے جے
32:53میں یہ سمجھتا ہوں
32:56کہ آزادی جو منائی جاتی ہے
32:58سب سے زیادہ سیلیبریٹ کی جاتی ہے
33:00گلیوں اور کوچوں سے زیادہ
33:02ہمارے تعلیم گاہوں میں
33:04اس کو سیلیبریٹ کیا جاتا ہے
33:05اسکولوں میں
33:07کالیجز میں
33:08یونیویسٹیز میں
33:09مدارس میں
33:10اچھا وہ جو وہاں کے معلمین ہیں
33:13ان کی بڑی ذمہ داری یہ بنتی ہے
33:15کہ وہ بجائے اس کے
33:16کہ چند کھیل منعقد کر کے
33:19چند رکس کی چیزیں
33:21چند ناچکوت کی چیزوں میں
33:23اس کو صرف
33:24ضائع کر کے
33:26آپ اس کو گزار دیں
33:27ان کی بڑی ذمہ داری یہ ہے
33:30کہ اس مرحلے پر
33:31چودہ اگست کے موقع پر
33:33وہ اپنے بچوں کو
33:35اور بچیوں کو
33:36جو فکر کی آزادی ہے
33:38جو تربیت ہے
33:39وہ ضرور دے
33:40اور وہ کیا ہے
33:42جو اپنے ساتھ ذمہ داریہ لے کر آئی
33:43جی جو
33:44جیسا کہ آپ نے کہا
33:45بالکل
33:45اور یہ جو
33:46بچوں کو کم از کم
33:48اپنے اسلاف کے ساتھ جوڑیں
33:49اپنی آزادی کے ساتھ جوڑیں
33:51کہ یہ آزادی کیسے حاصل ہوئی
33:53اللہم صاحب نے علماء کا
33:55اتنا ذکر کیا
33:55میں نے بتایا تھا
33:57کہ بائیس ہزار علماء
33:58تحریک آزادی ہے
33:59ہند میں جو ہے وہ
34:00مارے گئے
34:01تو یہ
34:02ان سب چیزوں کو
34:04ان کو بتایا جائے
34:05اور سب سے بڑھ کر یہ
34:06کہ بچے کو
34:07فکر کی آزادی سکھائی جائے
34:10کہ فکر کی آزادی کیا چیز ہے
34:12فکر کی آزادی سے مراد یہ ہے
34:14کہ آپ نے یہ نہیں دیکھنا
34:16کہ کوئی غیر قوم نے
34:17کپڑے کیسے پہنے ہیں
34:18غیر قوم نے جو ترقی کی
34:20تو ہم اس سے متاثر ہو کے
34:21اس میں مدغم ہو جائیں
34:23بلکہ آپ کو
34:24اپنی شناخت بنانی ہے
34:25اپنی تہذیب
34:27اپنی زبان
34:28اپنے کلچر کو
34:29پوری دنیا میں پرموٹ کرنا ہے
34:31دیکھیں
34:32اپنی اپنی قوم کو لے کر
34:34مختلف ممالک کو آپ دیکھیں
34:35جو ہمارے بعد بھی آزاد ہوئے
34:37دنیا میں انہوں نے
34:38اپنا نام بنایا
34:39اور انہوں نے
34:40دنیاوی راہوں میں
34:41بڑی ترقییاں کی
34:42تو اس کے لیے
34:43ہم اپنے بچوں کو
34:44اگر فکر کی آزادی نہیں دیں گے
34:46کہ آپ نے
34:47اپنے ملک وطن
34:48پاکستان کے لیے
34:49کیا کرنا ہے
34:50آزاد سوچنا ہے
34:52کسی کے زیر اثر
34:53آ کے نہیں سوچنا
34:54آزاد سوچنا ہے
34:56آزاد بولنا ہے
34:57آپ یہ دیکھیں
34:58کہ ہماری زبان اردو تھی
34:59اس سے لوگ کتنے دور ہو گئے
35:01اس اعتبار سے
35:03اگر آپ دیکھیں
35:04تو اس لیے
35:05یہ جو
35:06فکر کی آزادی ہے
35:08یہ بچوں کو
35:09ضرور سکھانی چاہیے
35:10نوجوانوں کو
35:11ضرور سکھانی چاہیے
35:12اور اس کا
35:13سب سے بڑا جو
35:13مرکز ہے نا
35:15وہ تعلیم ہے
35:15وہ تعلیم گاہیں ہیں
35:18اور مدارس ہیں
35:19اور آخر میں
35:20بس میں یہ ارز کروں گا
35:21جو میں نے بات پہلے کی تھی
35:22وہ میرے نزدیک
35:23سب سے زیادہ اہم ہے
35:25کہ جب بھی کہیں پر آپ
35:26آزادی کی بات کرتے ہیں
35:29حضرت آدم علیہ السلام
35:30کو زمین پر بھیجا
35:31فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِّنِّي هُدَنْ
35:34میری طرف سے
35:35ہدایت آئے گی
35:35اس کی پیروی کرنا
35:36موسیٰ علیہ السلام
35:37کی قوم کو آزاد کیا
35:39تورات ان کو دی
35:40حضور کو آزادی
35:41پورے ایک صحابہ نے
35:42آزادی حاصل کی
35:43قرآن ان کا دستور بن گیا
35:45اور مسلمانوں نے
35:46یہاں بھی
35:47جب یہاں
35:49اس ملک کو حاصل کیا
35:50تو ایک نساب کے لیے
35:52ایک دستور کے لیے
35:54ایک قانون کے لیے
35:55آج اگر اس کی قدر
35:57ہم نے ہی نہیں سیکھی
35:58کہ ایک خدا کا قانون
36:00جو مدینہ میں نافذ ہوا تھا
36:02وہ یہاں پر بھی نافذ ہو
36:04تو پھر اس کے بغیر
36:05کوئی آزادی نہیں ہے
36:07تو اس لیے یہ فکر جو ہے
36:09وہ مسلمانوں کو
36:10اور مسلمان کے بچوں کو
36:12اس کا جو تصور ہے
36:13وہ ضرور دینا چاہیے
36:15اگر وہ اس تصور کے ساتھ جڑنا ہیں
36:17اور شریعت اسلامیہ کے ساتھ جڑ جائیں
36:20کتاب اللہ کے ساتھ جڑ جائیں
36:22تو یہ جو ہے نا وہ بنیاد ہے
36:24اور پھر اس میں
36:25کتاب اللہ کے اندر
36:26دنیا کی ترقی ہے
36:27دین کی ترقی ہے
36:29دنیا و آخرت کی کامیابی ہے
36:32وہ ضرور اس کی طرف متوجہ ہوں گے
36:34اور ضرور اس سے جو ہے وہ
36:36فوائد حاصل کریں
36:37کیا بات
36:37بہت شکریہ علامہ صاحب آپ کا
36:39حضرت آپ کا
36:39سلمان میں ایک جملہ صرف کہوں گا
36:41آپ پوری دنیا کے اندر تشریف دے جاتے ہیں
36:43اللہ صاحب نے بات کہی
36:44آپ باہر چلے جائیں
36:46کہیں ترکی قوم ہوگی
36:47جرمن قوم ہوگی
36:49ایرانی قوم ہوگی
36:50کوئی دوسرے چائنیز قوم ہوگی
36:51وہ اپنے بچوں کو
36:52اپنی زبان سکھاتے
36:53بلکل
36:54صرف ہمارے لوگ ہیں
36:55کہ وہ اپنے بچوں کو
36:57اردو ختم
36:58وہ نہیں
36:59یوں نو ہمارے بچوں کو
37:00وہ نہیں آتی ہے
37:02اردو نہیں آتی ہے
37:03ہے جی
37:04یعنی اس کو ہم یہ
37:05یہ غلامی ہے نا
37:06بلکل صحیح
37:07یعنی اس کا مطلب ہے
37:07کہ ذہنی فکری طور پر
37:09جو ہے آپ
37:10ہر قوم دیکھیں آپ
37:12وہ انگریزی سکھائیں آپ
37:13ایسا ہی
37:13دوسری بات یہ
37:15کہ ہمارے اپنے ملک کے اندر
37:16پچتر برس ہوگئے
37:18آپ کی دفتری زبان
37:19نہیں بدلی
37:20قومی زبان کا
37:21آپ نے نام دیا
37:21لیکن دفتری زبان
37:22آپ کی وہ انگریزی ہے
37:23آپ کی عدالتی زبان
37:25انگریزی ہے
37:25آپ کا سارے کا سارا
37:26وہی سسٹم ہے
37:27تو آزاد ہوئے ہیں
37:29تو پوری طریقے سے
37:37سن رہے میں ان سے کہوں گا
37:38آپ ہر زبان سکھائیں
37:39ہر زبان جو ہے
37:41یہ زبانیں بھی
37:41اللہ کی دعمت ہیں
37:42لیکن اپنے ملک کی زبان
37:44اپنے بچوں کو نہ بولائیں
37:45ان کو اپنی زبان سکھائیں
37:47اللہ اکبر
37:47کیا بات
37:48اللہ صاحب کا بہت شکریہ
37:49حضرت آپ کا بہت شکریہ
37:50ناظرین اگرام
37:51فکری غلامی جو ہے
37:53وہ جسمانی غلامی سے
37:54بہت زیادہ خطرناک ہے
37:55کہ جسمانی غلامی کے لیے
37:57آپ کو زنجیروں کی
37:58قید خانوں کی ضرورت پڑتی ہے
37:59اور جسم کا جب بس چلے
38:01وہ زنجیروں سے بچے
38:03قید خانے سے کوئی سراغ ملے
38:04جسم فرار ہوگا
38:05لیکن فکر فرار نہیں ہوتی
38:07فکر پھر دائمی
38:08اسیر ہو جاتی ہے
38:09اور انسان جب فکری غلامی میں آ گیا
38:11تو اس سے پھر نکل نہیں سکتا
38:13تو فکر کو ہمیں بدلنے کی
38:15تربیت کی
38:16اپنے بچوں کو سکھانے کی
38:17ان کی فکر کو
38:18رسول اللہ سے جوڑ دینے کی
38:20رسول اللہ کی فکر سے جوڑ دینے کی
38:22مسلمانوں کے مشن اور ویجن سے
38:24جوڑ دینے کی ضرورت ہے
38:25ہم وہ قوم ہیں
38:26جنہوں نے
38:27ماضی میں کئی صدیوں تک
38:29الحمدللہ
38:30حاکمیت اللہ نے ہمیں عطا فرمائی
38:33ہمارا عروج
38:34دنیا نے دیکھا
38:35وہ عروج اب تک
38:36دنیا کی ترقی
38:38افتاقوام کو نہیں مل سکا
38:39کیونکہ ہم فکری غلامی میں نہیں تھے
38:41اور اب ہم فکری غلامی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں
38:44عقل ہے تیری سپر
38:46عشق ہے شمشیر تیری
38:48تو مسلمان ہو تو
38:49تقدیر ہے
38:51تدبیر تیری
38:52اور یاد رکھیں جو میں نے مثال دی تھے تو
38:54آبا وہ تمہارے ہی
38:55مگر تم کیا ہو
38:56ہاتھ پر ہاتھ دھرے
38:58منتظر فردہ ہو
39:00کی محمد سے وفا تو نے
39:01تو ہم تیرے ہیں
39:02یہ جہاں چیز ہے کیا
39:04لوہ و قلم تیرے ہیں
39:06پاکستان
39:07زندہ باد
39:08السلام علیکم ورحمت اللہ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended