#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI
Public Money Showered on Media || Big News from the US || Imran Riaz Khan Reveals the Week’s Biggest Shocks!
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI #ImranKhan #Establishment #Political #Economy #Crisis #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #supremecourt #ptijalsa #SupremeCourt #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #aliamingandapur #arifalvi
Like us on Facebook: / imranriazkhan2
Subscribe to our Channel: https://bit.ly/3dGeB3h
Follow us on Twitter: / imranriazkhan
Pakistan Pakistani Politics
PTI
Imran Khan
Establishment
Political
Economy
Crisis
Public Money Showered on Media || Big News from the US || Imran Riaz Khan Reveals the Week’s Biggest Shocks!
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI #ImranKhan #Establishment #Political #Economy #Crisis #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #supremecourt #ptijalsa #SupremeCourt #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #aliamingandapur #arifalvi
Like us on Facebook: / imranriazkhan2
Subscribe to our Channel: https://bit.ly/3dGeB3h
Follow us on Twitter: / imranriazkhan
Pakistan Pakistani Politics
PTI
Imran Khan
Establishment
Political
Economy
Crisis
Category
🗞
NewsTranscript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30اگر پاکستان تحریک انصاف کو آپ مائنس کریں تو پاکستان کی میڈیا میں اس وقت کچھ بھی نہیں بھجتا
00:41ایسا لگتا ہے کہ ساری کی ساری جو فوکس ہے یا ساری کی ساری جو توجہ ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کو تباہ کرنے پہ ہے
00:49یعنی اگر پاکستان کے میڈیا کو آپ رزانہ دیکھیں تو وہ کیا پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر کیا چل رہا ہے
00:54وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ حکومت کے اندر کیا چل رہا ہے مہگائی کہاں پہ پہ پہنچ گئی ہے پھر رزگاری کہاں پہ پہ پہ پہنچ گئی ہے
01:00غربت کہاں پہ پہ پہنچ گئی ہے معیشت کا کیا ستیہ ناس ہو گیا اس پہ بات نہیں کریں گے
01:04وہ بات کریں گے جی کہ پاکستان تحریک انصاف کے اندر کیا چل رہا ہے
01:08عمران خان ڈیل کیوں نہیں کر رہا اس پہ بات کریں گے
01:12سوشل میڈیا کو کیسے کنٹرول کیا جائے اس پہ بات کریں گے
01:15اسٹیبلشمنٹ ابھی تک پاکستان طریقہ انصاف کیا
01:19عمران خان کی مقبولیت ختم کیوں نہیں کر پاری
01:21وہ اس پہ بات کریں گے
01:22یعنی عجیب و غریب چیزوں پر پاکستان کا میڈیا ڈسکیشن کرتا ہے
01:26جو عوامی ایشوز ہیں ان کے اوپر میڈیا بات نہیں کرتا
01:29پاکستان میں جالی پولیس مقابلے چل رہے ہیں اس پہ بات نہیں کرتا
01:32غربت کی ہاتھوں لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں اس پہ بات نہیں کرتا
01:35بجلی کی اور گیس کی قیمت کہاں سے کہاں پہنچ گئی اس پہ بات نہیں کرتا
01:39ہر پندلہ دن کے بعد قوم کو ایک ٹیکہ نیا لگ جاتا ہے
01:42پٹرولی مسلمات کی قیمتوں میں اضافے پہ اس پہ بات نہیں کرتا
01:45ڈالر کی قیمت کہاں پہنچ گئی اس پہ بات نہیں کرتا
01:47چینی کا ایک خوفناک سکینڈل ہے جو اس حکومت کا ہے
01:50یعنی اس حکومت نے جان بوجھ کے پہلے چینی کو ایکسپورٹ کیا
01:54پاکستان میں قلت پیدا کی اور جب پاکستان میں چینی کم ہو گئی
01:57باہر بجوانے کی وجہ سے تو پاکستان میں قیمت کو بڑھاتے بڑھاتے
02:01جو اسی روپے کلو والی چینی اس کو دو سو روپے سے اوپر لے گئے
02:04اور اب باہر سے مہنگی چینی ایمپورٹ کی جارہی ہے یہ پھر عمام کی جیب پہ
02:07ڈاکہ ڈالا جائے گا اس پہ بات نہیں کرتا گندم کے سکینڈل پہ بات نہیں کرتا
02:11پاکستان کا میڈیا کسی بھی چیز پہ بات نہیں کرتا
02:14بات کرتا تو پاکستان طریقہ انصاف پہ بات کرتا ہے
02:16ریزن کیا ہے یہ ریاض الحق صاحب ہیں بڑے اچھے انویسٹیگیٹیو جنرلسٹ ہیں
02:20انہوں نے سب سے پہلے یہ ڈیٹا ریویل کیا ہے
02:23ہے یہ سرکاری ڈیٹا اور اس کی جو تفصیلات ہیں میں آپ کے سامنے
02:26اور رکھنے والا ہوں یہ بڑا انٹرسٹنگ ڈیٹا ہے
02:30کہ گیارہ عرب کے اشتہارات پاکستان کے میڈیا کو دیئے گئے ہیں
02:34پاکستانی سرکار کی جانب سے گزشتہ لگ بگ ایک سال میں
02:38مارچ دوہزار چوبیس سے جون دوہزار پچیس تک کا یہ ڈیٹا ہے
02:42یعنی ایک سال کے عرصے میں گیارہ عرب روپے کے اشتہارات دیئے گئے
02:46ٹی وی چینلز کو اور اکبرات کو اور اس طرح پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا
02:51پاکستان کی تاریخ میں جو بترین پاکستان کا دور چل رہا ہے
02:55معیشت کے حوالے سے وہ موجودہ دور ہے
02:57پچاس سال کی کم ترین انویسٹمنٹ ہو رہی ہے
03:00مہنگائی جو ہے وہ پاکستان کے اندر ٹاپ پہ چلی گئی ہے شوٹ کر کے
03:04ایکانومی جو ہے وہ مکمل طور پر پاکستان میں انہوں نے تباہی پھیر دی ہے
03:08پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک بن گیا ہے جہاں سب سے زیادہ بڑی تعداد میں لوگ پاکستان ملک اپنا چھوڑ کے جا رہے ہیں
03:14یہ پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے نا
03:16تو اس وقت پاکستان کا میڈیا جو اتنی بری معیشت میں اتنے زیادہ اشتہار
03:21یعنی اتنے اشتہارات تو جب معیشت بہترین چل رہی ہوتی تھی تب بھی کبھی نہیں دیے گئے
03:26جتنے اشتہارات میڈیا کو اب دیے جا رہے ہیں
03:28اور اسی وجہ سے میڈیا کا فوکس ان چیزوں کی طرف کبھی بھی نہیں جاتا
03:32جن پہ عوام کا فوکس ہے
03:34عوامی ایشیوز کے بجائے میڈیا نون ایشیوز کو ایشیوز بناتا ہے
03:38کیونکہ انہیں پیسہ بہت زیادہ مل رہا ہے
03:40یہ پیسہ کیسے مل رہا ہے
03:41کس طرح کے میڈیا کو مل رہا ہے
03:42اس میں بہت سارا پیسہ جو ہے وہ
03:44ادھر ادھر اپنے لوگوں میں بھی بانٹ دیا جاتا ہے
03:46کرپشن بھی بہت ہوتی ہے
03:48کچھ اخبارات کے نام میں میں تو حیران ہو گیا
03:50لگ بگ چار ارب روپیہ دیا گیا ہے
03:52یہ اخبارات کو
03:54اور لگ بگ سات ارب روپیہ دیا گیا ہے
03:57ٹی وی چینلز کو
03:59تو یہ گیارہ ارب کی تفصیلات ہیں
04:00ابھی تک
04:00نو سو بتیس اخبارات کو اشتہارات دیئے گئے
04:03اور اٹھاسی ٹی وی چینلز کو
04:05جن میں نیوز چینل بھی ہیں
04:06انٹرٹینمنٹ کے بھی ہیں
04:07ان کو اشتہارات دیئے گئے ہیں
04:09آپ ذرا اخبارات کے نام سنیں
04:11جو آپ نے کبھی نام بھی نہیں سنے گئے
04:12ان کو بھی پیسہ دیا ہے
04:13اہم اخبار
04:15اعلان
04:16آئینہ انقلاب
04:17اخبار حق
04:18اخبار عوام
04:19یہ میں نے سارے نام جو ہیں
04:21وہ ریاض الاکسہ بتا رہے تھے
04:22بلکہ اب یہ ریپورٹ بھی آگئی ہے
04:23اعتدال
04:24الجلال
04:25الحق
04:25الفجر
04:26امن
04:27انجام
04:27امن انجام
04:28بی بی زی ہیڈ لائن
04:30بی بی زی ریپورٹر
04:31بیوپار
04:33اخبار
04:33بیسٹ بزنس
04:35بزنس ریکارڈرن
04:36تو یہ چلیں پرانا اخبار ہے
04:37فرزندہ بلوجستان
04:38فرزندہ کشمیر
04:38فیض العظیم
04:40فائٹر ٹائمز
04:41فائی آر
04:42فوری ایکشن اخبار
04:43تو یہ تمام
04:44عجیب و غریب قسم بھی
04:45اخبار ہیں
04:45جن کو
04:46پاکستانی حکومت نے
04:47جو ہے پیسہ پیسہ
04:48ان کو بھی دیا ہے
04:48لیکن نے جو
04:49سب سے زیادہ پیسہ دیا
04:50جنگ اخبار کو دیا
04:51فورٹی تھری کروڑ
04:53یعنی
04:54تنتالیس کروڑ روپیا
04:55دیا ہے جنگ اخبار کو
04:56اور ایکسپریس
04:58جو اردو اخبار ہے
04:58اس کو تیس کروڑ روپیا
04:59دیا ہے
05:00اور اس طرح
05:01باقی اخبارات کو بھی
05:02پیسہ ملے
05:02تو یہ
05:03لگ بک چار ارب روپیا
05:04اخبارات کو دیا گیا ہے
05:06اب آلین ٹی وی چینل پہ
05:07تو سب سے زیادہ پیسہ
05:08دیا گیا جیو ٹی وی کو
05:09یہ بنتا ہے
05:10چونسٹھ کروڑ
05:11اور اگر جیو گروپ کا
05:13سارا پیسہ اکٹھا کریں
05:14تو لگ بک سوہ ارب روپیا
05:16یعنی
05:16ایک سو پچیس کروڑ کے قریب
05:18پیسہ جو ہے
05:19وہ دیا گیا
05:20جیو کو
05:21جنگ گروپ کو
05:22اور اس کے بعد
05:23ایئر وائے کو
05:24چوالیس کروڑ دیا گیا
05:26دنیا نیوز کو
05:27چالیس کروڑ دیا گیا
05:28پی ٹی وی کو
05:29انٹالیس کروڑ دیا گیا
05:31سبہ نیوز کو
05:32ارتیس کروڑ دیا گیا
05:33ایکسپریس نیوز کو
05:34ارتیس کروڑ دیا گیا
05:35ہم نیوز کو
05:36چھتیس کروڑ دیا گیا
05:37ڈان نیوز کو
05:38اکتیس کروڑ دیا گیا
05:39چینل ٹونٹی فور کو
05:41تیس کروڑ دیا گیا
05:42موسن نقوی
05:42بول نیوز کو
05:44اٹھائیس کروڑ دیا گیا یہ ٹاپ ٹین چینلز ہیں اب آپ اندازہ
05:48کریں کہ ایسے ٹی وی چینلز کو انہوں نے پیسہ بانٹا ہے تو
05:52ڈیجیٹل میڈیا کا بھی ڈیٹا نہیں ہے وہ بھی آ جائے گا تھوڑے دنوں
05:55میں آپ کے سامنے وہ بھی ہم رکھیں گے لیکن آپ اندازہ کریں
05:57کہ کس طریقے سے انہوں نے پاکستانی عوام کا پیسہ پاکستانی میڈیا
06:01کے اوپر خرچ کیا ہے جس کا ایک حصہ یعنی ایک سال میں گیارہ
06:05ارب روپیہ انہوں نے ٹی وی چینلز کو دے دیا تو بچارے
06:08کہاں سے بھولیں گے اچھا یہ وہ پیسہ ہے جو سرکار نے دیا
06:11ہے جو پرائیوٹ کمپنیز ہیں جن کے اشتہارات چلتے ہیں سارا
06:14دن ٹی وی چینلز کے اوپر ان کا پیسہ الگ ہے آپ اگر ٹی وی
06:18چینلز کو دیکھیں غور کریں تو یہاں میں سرکاری اشتہار بہت
06:22کم ہوتا ہے زیادہ جو اشتہار چلتا ہے وہ پرائیوٹ اشتہار
06:25چلتا ہے پرائیوٹ کمپنیز کا چلتا ہے تو اب آپ ان کا
06:29دھندہ چیک کریں کہ ایک گیارہ ارب روپیہ اگر ان ٹی وی
06:32چینلز نے اخبارات نے مل کر لیا ہے سرکار سے تو کتنا
06:36پیسہ انہوں نے کم سے کم سے چار شے گنا پیسہ انہوں نے
06:38لیا ہوگا پرائیوٹ جو انویسٹرز ہیں یا کمپنیز ہیں جن کے
06:42اشتہارات چلتے ہیں ان سے کیونکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ٹی وی
06:45چینلز میں بہت کم کبھی بیس اشتہاروں کے بعد ایک
06:48سرکاری اشتہار آتا ہے تو پھر اس کی آمدن بھی کم
06:51ہوتی ہے تو جب سرکاری پیسہ اتنا زیادہ ہے تو سوچیں
06:55کہ دوسرا پیسہ کتنا ہوگا اب جتنا ان کی بہنچے لگی
06:58ہوئی ہیں اخبارات کی ٹی وی چینلز کی اور بیسے سرکاری جو
07:01ہے یہ پیسہ بھی بہت زیادہ دیتے ہیں حکومت بہت نواز
07:03تھی ہے میڈیا کو بہت زیادہ عمران خان کے دور میں اس طرح
07:07میڈیا کو نہیں نوازا جا رہا تھا جس کی وجہ سے میڈیا
07:09نراض بھی تھا تو یہ آج وجہ آپ کے سامنے ہے کہ کیوں
07:12میڈیا عوامی ایشوز کیوں پر بات کرنے کی بجائے صرف ان
07:16چیزوں پر بات کرتا ہے جن چیزوں پر موجودہ حکمران
07:19چاہتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ بات ہو نو
07:22مہی کی سزاؤں کے حوالے سے ناظرین سخت رد عمل آ رہا
07:25ہے یعنی بار بار رد عمل آ رہا ہے جن لوگوں نے پریس
07:28کانفرنس کی تھی مثال کے طور پر اندلی باباس تھی مراد
07:30راست تھے چوہان صاحب تھے راول پنڈی والے یا پرویس
07:35کھٹک صاحب تھے یا اور بہت سارے لوگ تھے جن لوگوں نے
07:38پریس کانفرنس کی وہ لوگ نکل گئے دیکھیں بائیزت بری
07:41ہو گئے ان کی جان چھوٹ گئی ان کے اوپر کیسز ہی نہیں
07:43چلے یعنی ایک طرح کے مقدمات کئی لوگوں پر بنے تھے کہ یہ
07:47آدمی بندوق لے کر آیا ہے یہ دوسرا بھی لے کر آیا ہے اس نے
07:49یہ کیا اس نے بھی یہ کیا تو ان میں سے جس نے پریس کانفرنس
07:52کر لیا اور نون لی گیا کوئی اور جماعت جوائن کر لی
07:54وہ بندہ بچ گیا اس کی جان چھوٹ گئی اور جس بندے نے
07:57پریس کانفرنس نہیں کی اس نے کہا جی میں عمران خان کا ساتھ
08:00دوں گا اس کو عدالت نے سزا دے دی یہ ایک بڑا عجیب و غریب
08:03کرائیٹریہ ہے آپ گوھر کریں کہ ایک ہی طرح کا جرم دو لوگوں
08:06نے کیا ایک آدمی نے کہا جی میں نے بھی یہ جرم کیا دوسرے
08:09کبھی دوسرے کبھی وہی جرم دونوں کا سیم ہے دونوں پر ایک
08:11الزام ہے ایک جو ہے وہ یہ کہہ دیتا ہے کہ جناب میں اس
08:15پولیٹیکل پارٹی کے ساتھ نہیں ہوں اس کا جرم ختم دوسرا کہتا
08:18ہی میں اس پولیٹیکل پارٹی کے ساتھ ہوں اس کا جرم جاری ہے اور
08:21اس کے اوپر جناب سزا بھی ہو جاتی ہے تو بہت زیادہ لوگوں نے جو
08:25ہے وہ اس کے اوپر رد عمل دیا ہے ہر طرف سے رد عمل آ رہا ہے
08:27پاکستان طریقہ انصاف کا بھی سوشل میڈیا پہ بھی نیشنل اور
08:31انٹرنیشنل لیول پہ بھی اس کا رد عمل آنا شروع ہو گیا ہے
08:33لیکن ایک رد عمل اس کا نون لیگ نے بھی دیا
08:36ذرا یہ نون لیگ کا رد عمل اگر آپ ویڈیو دیکھیں نا جا کے جو
08:39زہیم لگاری صاحب کا چینل ہے وہاں پہ آپ ضرور دیکھیں
08:41زہیم لگاری صاحب ایک بڑے اچھے جنرلسٹ ہیں اور انہیں آئیو سی
08:45نے اغواہ کر لیا تھا ایک ہفتے کے لیے اور ان کے ساتھ بڑی سختی بھی
08:49کی گئی تھی اس وقت تو زہیم لگاری صاحب آج کل ایک
08:53مشن پہ ہیں جہاں پہ نون لیگ والے اکٹھے ہوتے ہیں جا کے ان
08:55کے انٹریو کرتے ہیں تھوڑا دن پہلے نون لیگ نے ایک جلسے کی
08:57انٹرنیشنل کی یہ کہے جا کے مائک نکالا لوگوں سے پوچھا تو
09:01لوگوں نے کہا جی ہم تو یہاں تماشا دیکھنے آئے ہمارا تو نون
09:03لیگ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے تماشا کیا دیکھنے ہیں ان کا
09:06تماشا دیکھنے ہم تو عمران خان کو سپورٹ کرتے ہیں ابھی جب انہوں
09:10نے یہ نون لیگ نے بندے بندے اکٹھے کیے کچھ اور ان کے ہاتھوں میں
09:13نو مہی کے حوالے سے بینر پوسٹر پکڑا دیئے اور انہیں کہا جی
09:17کھڑے ہو جائے تجاج کرنے کے لیے تو لوگ آگئے کھڑے ہو گئے پتہ
09:20نہیں کہاں کہاں سے مزدور اٹھا کے لے آئے تھے وہ اب وہ بچارے
09:24لوگ اپنی روٹی کے چکر میں آئے تھے ان سے جب زہیم لگاری صاحب نے
09:26پوچھا جناب اپنے نو مہی کی مزمدی پوسٹر اور بینر اپنے
09:30ہاتھ میں آپ نے اٹھائے ہوئے ہیں تو آپ بتائیں کہ نو مہی کو ہوا
09:33کیا تھا سادہ سوال نو مہی کو کیا ہوا تھا تو جتنا انٹریو ہے میں
09:37سن سن کے ہستہ ہی آؤں کسی کو پتہ ہی نہیں کہ نو مہی کو کیا
09:40ہوا بلکہ ایک آدمی نے یہ کہہ دے کہ قرآن پاک کی بحرمدی کی گئی
09:43تھی یعنی اس بچارے کو یہ بتا کر لائے ہیں کہ کسی نے قرآن پاک کی
09:47بحرمدی کی ہے یہ پوسٹر آدمی پکڑو آؤ احتجاج کریں وہ بچارہ
09:50احتجاج کرنے کے لیے آگے وہ پڑھا لکھا آدمی نہیں تھا یعنی نو
09:54مہی کے حوالے سے لوگوں سے سوالات کیے گئے تو لوگ بتا ہی نہیں
09:56پا رہے تھے کہ نو مہی کو ہوا کیا ہے اور کس نے کیا کیا ہے یا وہ
10:00یہاں پہ پہ پہنچے کیوں ہیں اگر اس طرح کے لوگوں کو اس وقت
10:04اسٹیبلشمنٹ نے اپنی سپورٹ کے لیے استعمال کرنا ہے یا اسٹیبلشمنٹ
10:08کو اس طرح کی سپورٹ چیئے تھوڑا رہ سا پہلے میں دیکھ رہا تھا
10:10اسلامباد میں ایک احتجاج تھا اس میں بسیں بھر بھر کے وہ غریب
10:13لوگوں کو بچاروں کو روٹی کا لالش دے کے لائے گیا تھا اور وہاں
10:17پہ بھی اسٹیبلشمنٹ کے اگر مضاہرہ کروایا گیا تھا اگر یہ کرنا
10:21ہے تو جو میڈل کلاس کی ایک سپورٹ ہوتی تھی ہمیشہ پاکستان کی
10:24ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ یا پاکستانی اداروں کے ساتھ ایک میڈل
10:29کلاس کی ایک سپورٹ ہوتی تھی وہ سپورٹ ختم ہو گئی جو پڑے
10:32لکھے لوگ ہیں وہ سارے کے سارے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہو گئے اور
10:36پڑے لکھے لوگ اس نتیجے پہ پہنچے کہ پاکستان کے مسائل
10:38کے لیے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ریسپونسیول ہے لہذا وہ ناراض
10:42ہو گئے اور اب وہ اسٹیبلشمنٹ کے بیچے اپنا ٹائمز آیا نہیں
10:44کر رہے وہ نکل کر اسٹیبلشمنٹ کے لیے نہ آواز اٹھاتے ہیں نہ
10:47ان کے لیے اعتجاج کرتے ہیں نہ ان کے حق میں باہر نکلتے ہیں
10:50تو پھر اس طرح کے مزدوروں کو جو نارملی پرانی روایتی
10:54پولٹیکل پارٹیز جن کے پلے ہی ککھ نہیں ہیں وہ بچاری جس طرح
10:58کے مزدوروں کو اکٹھا کرتی تھی پیسے ویسے دے کے چلے جاتے تھے
11:01اڈے پہ دیکھ لیتے تھے کہ سو ڈیٹھ سو آدمی ویلا بیٹھا ہوا ہے
11:04تو انہیں کہتے تھے دیاری ملے گی سب کو تو سب کو دیاری دے کے
11:08سب کے ہاتھ میں ایک پوسٹر پکڑا کے وہ بس میں مٹھا کے لے جاتے
11:11سرے جا کے اپنا مزاہرہ کرا کے واپس چھوڑ دیتے ہیں
11:13پیسے والے لوگ ہیں سیاستدان اب یہی کام جو ہے وہ اسٹیبلشمنٹ
11:16کے لیے کیا جا رہا ہے اور پی ایم ایل این کر رہی ہے پڑھے لکھا
11:19طبقہ تو انہوں نے ناراض کر دیا ہے مکمل طور پر اپنے سے لیکن اب
11:23اس طرح کے لوگ کریں گے تو ایمج کا کیا بنے گا ایمج مزید
11:26اسٹیبلشمنٹ کا تباہ ہوگا اور پی ایم ایل این نے یہ اتجاج
11:29کر کے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے مشکل کھڑی کی ہے یہ ویجول
11:32جو ہے یہ ہانٹ کرتے ہیں یہ پرابلم کریئٹ کرتے ہیں بعد میں
11:35کہ نو مہی کے لیے لوگوں کو لے کر آئیں لوگ نکلیں نو مہی کے
11:38خلاف مضمت میں اور ان لوگوں کو یہی نہیں پتا کہ نو مہی کو ہوا
11:42کیا تھا ایک ناظرین بڑی خبر ہے اور یہ جو بڑی خبر ہے یہ امریکہ سے
11:48آئی ہے اور یہ اچھی اور بڑی خبر ہے خبر یہ ہے کہ بی
11:51ایل اے مجید برگیٹ جو کلدہ میں ایک تنظیم ہے اس کو دہشتگرد
11:54گروپ قرار دے دیا امریکہ نے اور اس کی اناؤنسمنٹ کر دی
11:57گئی ہے یہ بھارت کے لیے ایک اور دھچکا ہو سکتا ہے کیونکہ
12:01پاکستان ہمیشہ الزام لگاتا ہے کہ بلوجستان میں جو کچھ بھی
12:04ہو رہا ہے اس کے بیچے بھارت ملوث ہے اور پاکستان ہمیشہ یہ
12:07کہتا رہا ہے کہ پاکستان کے اندر حالات کی غرابی کے پیچھے
12:09بھارت کا ہاتھ ہے اور بھارت نے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کی
12:13ہیں بلوجستان میں بلکہ وہ جو کردم تنظیمیں ہیں یا دہشتگرد
12:17ہیں یا ٹی ٹی پی ہیں انہیں فتنہ تلخوارج کہتے ہیں لیکن ساتھ
12:21وہ یہ کہتے ہیں کہ بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ تلخوارج تو یہ
12:25ایک گروپ جو ہے اس کو دہشتگرد قرار دیا گیا امریکہ میں پاکستان
12:30کی کامیابی ہے بھارت کے لیے ایک دھچکا ہو سکتا ہے لیکن دیکھیں
12:33یہ ایک موقع بھی ہے کہ جیسے جیسے آپ دہشتگردوں کو دیوار کے
12:37ساتھ لگاتے ہیں اور ان کے خلاف کاروائی کرتے ہیں بلکل اسی طرح
12:40آپ کو جو جمہوریت پسند لوگ ہیں ان کو آگے لانا چاہیے جو
12:43ریاست کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ بات کرنی چاہیے جو
12:47نوجوان ہیں انہوں سینے سے لگانا چاہیے اور جو جبری طور پر گمشدگیوں
12:50کا ایک سلسلہ ہے وہ بند کرنا چاہیے جو بھی کام کیا جائے وہ
12:53قانون اور انصاف کے مطابق کیا جائے آئین اور قانون کے دائرے میں
12:57رہ کر کیا جائے تو بلوجستان اور قبائلی علاقوں کی جو مسائل ہیں وہ
13:01جلدی حل ہو سکتے ہیں قبائلی علاقوں میں جرگیں ایک بہت بڑا فیکٹر
13:04ہے وہاں پہ جرگوں کے ذریعے مسائل حل ہو سکتے ہیں جبکہ بلوجستان
13:07میں وہاں کے نوجوان یہ کہتے ہیں کہ ہمیں عدالت کے مطابق آئین اور
13:10قانون کے مطابق آپ چلیں جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ
13:14بند کیا جائے ناظرین عوامی نیشنل پارٹی اس وقت شدید مخالفت
13:19کر رہی ہے فوجی آپریشن کی جو خیبر پکتونخواہ میں ہو رہا ہے اس سے
13:24پہلے عوامی نیشنل پارٹی جو ہے وہ فوجی آپریشن کی بہت بڑی
13:26حمایتی بھی تھی لیکن ایک ہو بھی ہے این پی میں وہ یہ ہے کہ جب انہوں
13:31نے حمایت کی ملٹری آپریشن کی تو کھلن کھلا حمایت کی تھی کھل
13:36کھلا کر انہوں نے ٹھیک ہے یہ ہم حمایت کر رہے یہ آپریشن کی
13:39بھی حمایت کر رہے اس کی بھی کر رہے اور جو اسون یار ولی ہیں
13:42انہوں نے سٹیٹمنٹ دیا تھا کہ ہم آپریشن راہے راست آپریشن
13:45راہے نجات یہ جتنے آپریشن ہو رہے ہیں ان سب آپریشن کی ہم
13:48حمایت کرتے یہ این پی نے کھل کر کہا تھا اور آج جب وہ مخالفت
13:53کر رہے ہیں وہ بھی کھلن کھلا کر رہے گنڈا پور صاحب جو ہیں وہ عوام
13:57میں آ کر مخالفت کرتے ہیں آپریشن کی اور پسے پردہ جو ہے عملاً وہ
14:02آپریشن کی حمایت کرتے ہیں اب جیسا کہ علی امین گنڈاپور صاحب کے
14:05مشیر اطلاعات ہیں بیریسٹر سیف انہوں نے کرفیو لگانے کے معاملے
14:09کی تصدیق کر دی پورے خیبرت وختون خواہ میں تو نہیں لگا لیکن یہ
14:12کہ باجور اور میرنشاہ کے علاقوں میں کرفیو لگایا گیا ہے اور یاد
14:17رہے آپ کو کہ وہاں پہ آپریشن کی ایکٹیوٹیف چل رہی ہیں تو علی
14:21امین گنڈاپور کے جو مشیر اطلاعات ہیں انہوں نے خود آ کر کہہ
14:24دیا کہ میرنشاہ میں اور باجور کے اندر لگایا گیا ہے کرفیو تو
14:29گنڈاپور کی پالیسی این پی سے تو پتھاٹک ہے این پی جب حمایت
14:34کرتی تھی آپریشن کی کھل کے کرتی تھی جب مخالفت کرتی آپریشن
14:37کی تو کھل کر کرتی ہے لیکن گنڈاپور صاحب یہ کرتے ہیں کہ عوام
14:41میں آکے آپریشن کی مخالفت کرتے لیکن پسے پردہ وہ آپریشن
14:45کی حمایت کرتے ہیں اور کھل کر وہ بات کرنے ہی سکتے جو وہ جو
14:49پریکٹیکلی وہ کہہ رہے ہیں وہ کر نہیں سکتے تو یہ جناب ان کا
14:53ایک طریقہ کار ہے ناظرین خواجہ آصف صاحب ایک اور انٹریو انہوں
14:58نے دیا اور وہ لگاتار انٹریوز دیتے رہتے ہیں لیکن ابھی ان کے
15:01حوالے سے کچھ کنٹروورسیس تھیں تو اب ان کا انٹریو آیا ماضی میں
15:05خواجہ صاحب جو ہیں سیویلین سپرمیسی کے دعوے کیا کرتے تھے نعرے
15:08مارتے تھے کہ سیویلین سپرمیسی ہونی چاہیے اب وہ ہائیبریڈ
15:11سسٹم کے لیے نعرے لگا رہے ہیں اور اس دو گلے موڈل کی تعریفیں
15:14کر رہے ہیں یعنی انہوں نے کہا یہ گاڈ گیون ارینجمنٹ ہے یہ
15:18اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ایک ارینجمنٹ ہے اور یہ ڈیلیور کر رہا ہے
15:21خواجہ آصف کا یہ سوچنا ہے ویسے ہی اشرافیہ کو ڈیلیور کر رہا ہے
15:25پاکستان تو چوالیس فیصد جو ہیں قربت کی لگیر سے نیچے
15:27چلے گئے ہیں پاکستانی بہت بڑی تعداد میں پاکستان چھوڑ چھوڑ
15:30کر جا رہے ہیں پاکستان سے سرمایہ کاری باہر جا رہی ہے
15:33معیشت کا بیڑا غرق ہو گیا ہے پیٹرول آٹا گی دالے دنیا کی
15:38ہر چیز جو پاکستان میں اویلیور نہیں کر رہا اشرافیہ کو یہ
15:43نظام ڈیلیور کر رہا ہے اگر عام آدمی کو ڈیلیور کرتا تو وہ نظر
15:47بھی آ جاتا آہستہ آہستہ خواجہ صاحب جو ہیں وہ اس نظام
15:50کو جواز دے رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں
15:53کوئی آئینی ترمیم ہو جائے گی یا کوئی قانونی تحفظ فرام کر
15:56دیا جائے گا فوج کے حکومت میں جو وجود ہے اس کو ایک آئینی
16:00تحفظ فرام کر دیا جائے گا اور یہ جو رومانس اس وقت چل
16:03رہا ہے نا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا اور پولیٹیکل پارٹیز کا یہ
16:07صرف عمران خان کی وجہ سے چل رہا ہے اگر عمران خان کا
16:10فیکٹر نہ ہو تو یہ رومانس کبھی بھی نہ چلے کیونکہ پاکستان کی
16:13پولیٹیکل پارٹیز جانتی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیٹھنے کی
16:17وجہ سے ایک بدنامی ہوتی ہے اور عوام کے اندر مقمولیت میں کمی
16:21ہوتی ہے لیکن ان کے پاس دوسرا چارہ کوئی نہیں ہے کیونکہ
16:24مقمولیت عمران خان کے پاس ہے اور اگر یہ اسٹیبلشمنٹ سے دور
16:27ہو جائیں گے تو اسٹیبلشمنٹ بھی کمزور ہو جائے گی اور یہ
16:30پولیٹیکل پارٹیز بھی کمزور ہو جائیں گی اور عمران خان ان ساروں
16:33کو باری باری کھا جائے گا لہذا عمران خان کا خوف ایسا ہے کہ وہ
16:36ان ساروں کو اکٹھا کی ہوئے اور یہ بات بار بار لوگ کہتے ہیں عمران
16:40خان صاحب کو کچھ ایسا کرنا پڑے گا یا ان کو اپنا خوف توڑنا پڑے گا
16:44کہ پولیٹیکل فورسز مل کر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو دھکا دے
16:49کر باہر نکالیں اس غلط کام سے جس کے اندر وہ پڑ گئے ہیں ان
16:52کا کام سیکیورٹی کا ہے وہ اپنا کام سیکیورٹی کا کرے یہ
16:55کاروبار زندگی یہ معاملات زندگی یہ حکومت یہ انتظامی
17:00معاملات یہ سارے کے سارے سیویلینز کے چلانے کے ہیں یہ معاملات
17:04انہیں واپس دیے جائیں ناظرین بیرلک وامی فرنٹ سے دو خبریں
17:08امپورٹنٹ نمبر ایک تو سبتمبر میں آپ یاد رکھیں گا کہ آسٹیلیا
17:11اور کینیڈا سمیت بہت سارے یورپی ممالک فلسطین کو تسلیم
17:15کرنے جا رہے ہیں اور ان تمام ممالک نے اب تک اس بات کا اندیا
17:18دے دیا ہے ایک بہت بڑی ڈیولپمنٹ ہے اور اس وقت پوری زمین پہ
17:23کسی سے اتنا ظلم نہیں ہو رہا جتنا غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ
17:26ظلم ہو رہا ہے حالی میں وہاں پہ الشفاظ بطال کے قریب ایک عملہ
17:29کیا گیا ہے الجزیرہ کے پانچ صحافی اس میں شہید ہوئے ہیں ان میں
17:34ایک جو جنرلسٹ ہیں انس شریف وہ بہت کام کر رہے تھے اور ان کے
17:40اوپر جو ہے وہ حملہ کیا گیا خیمے پہ اور انہیں شہید کیا گیا
17:44ان کی کیمرمن ابراہیم زہیر تھے وہ بھی شہید ہو گئے جبکہ باقی
17:48تین صحافی عورتیں وہاں پہ وہ بھی شہید ہوئے ٹوٹل سات لوگ اس
17:51حملے کے اندر جامباک ہوئے ہیں اور پوری دنیا میں جو صحافتی
17:55تنظیمیں اس کے اوپر آواز اٹھا رہی ہیں اتجاج کر رہی ہیں جبکہ
17:58اسرائیل نے خود بتایا کہ یہ حملہ ڈیلیبریٹلی انس شریف
18:02پر ہی کیا گیا تھا انس شریف جو ہے وہ ایک بڑے مینٹی صحافی
18:06تھے اور وہ کئی مرتبہ یہ بتا بھی چکے کہ ان کی جان کو یہاں
18:09پہ خطرہ ہے بلکہ انہوں نے ایک پیغام بھی چھوڑا تھا کہ غزہ
18:12کو یاد رکھیے گا اور وہ یہ کہتے تھے کہ یہاں ان کی جان جا
18:16سکتی ہے تو انس شریف جو ہے وہ شہید ہو گئے ہیں اور غزہ کی
18:21صورتحال انتہائی مخدوش ہے وہاں بھوک ہے افلاس ہے پانی
18:26نہیں ہے لوگ بھوکے اور پیاسے ہیں لوگ ڈڑے ہوئے ہیں لوگ خوف
18:30زدہ ہیں پریشان ہیں ہر وقت ان کے اوپر اٹیک ہوتے رہتے ہیں
18:33حملے ہوتے رہتے ہیں لیکن وہ اپنی سرزمین کو چھوڑنے کے لیے
18:36تیار نہیں ہیں وہاں پر ڈٹے ہوئے اور ان کے اوپر ایک
18:39بدترین تاریخی نوعیت کا اٹیک کیا جا رہا ہے اسرائیل کی جانب سے
18:43اور اسی وجہ سے جو یورپی ممالک ہیں یا اسٹیلیا اور کینیڈا
18:48ہیں انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ فلسطین کو بطار
18:51ایک ریاست تسلیم کریں گے یہ ایک بڑی ڈیویلپمنٹ ہے تکلیت نہیں
18:55اپنا خیال رکھیے گا اپنے اس چینل کا بھی اللہ حافظ
Be the first to comment