Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes of Dars e Bukhari | https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00ڈرس بخاری
00:30منیحہ کسے کہتے ہیں یہ دودھ دینے والے جانور کا ہوتا ہے دودھ دینے والے جانور کے فضل کا باپ
00:38اچھا فضل کا مطلب دے دینا عطا کرنا بھی ہوتا ہے یہاں اسی معنی میں ہے کہ اگر ہم منیحہ کے جانور کو کسی اور کو کچھ دے دیتے ہیں اس کو عطا کرتے ہیں
00:49تو اس کی کیا برکت ہے کیا اس کی مدہ کی گئی ہے اس کے بارے میں یہ باپ بیان ہوا ہے
00:54تو منیحہ ہر طرح کا جانور ہوتا ہے جسے اونٹ میں بھی منیحہ ہوں گے دودھ دینے والی اونٹ نہیں گائے میں دودھ دینے والی گائے اور اگر بکری میں ہو تو دودھ دینے والی بکری
01:07تو جب ان جانوروں کے فی میل کے بچہ پیدا ہوتا ہے تو پھر قدرتی طور پر دودھ اترتا ہے اور وہ باز ایسی ہوتی ہیں کہ بہت کسرت سے دودھ اترتا ہے
01:17اور بہت عرصے تک چلتا رہتا ہے اور بڑھتا ہے بچے کے پیدائش کے بعد جو دودھ ہوتا ہے بہت طاقتور بھی ہوتا ہے
01:24اور ایسی اس زمانے میں بھی اونٹنیاں یا بکریاں بڑی امدہ مال تصور کی جاتی تھی اب ایسا مال کسی کو دینا یہ بڑی بات ہے اور یہاں چونکہ آریتن کا چل رہے ہے بات تو یعنی بادوقت ایسا ہوتا ہے جیسے میرے پاس بھینس ہے
01:41تو اس نے بچہ دیا بڑا زبدس دودھ اتر رہا ہے لیکن میں اپنے کسی مسلمان بھائی کو بھینس دے دوں کہ لیں آپ اس کے دودھ سے نفع اٹھا لیں پھر میں آپ سے بھینس واپس لے لوں گا
01:51تو وہ دودھ نکال رہے ہیں پی رہے ہیں تو یہ بہت بڑی چیز ہوتی ہے کہ اتنا قیمتی مال اتنا امدہ مال لیکن اپنے مسلمان بھائی کو برتنے کے لیے دے دیا جائے پھر چاہے وہ اس کا اصل واپس لے لیں اس کو اس کے دودھ سے نفع اٹھانے دیا
02:06یہ بڑے دل کی نشانی ہے سخاوت کی نشانی ہے خیرخواہی کی علامت ہے اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت کی علامت ہے تو ایسی چیزیں شریعت بہت ہی محبوب رکتی ہے
02:17چنانچہ اس کے بارے میں یہ حدیث ہے دو ہزار چھ سو انتیس نمبر حدیث پاک ہے حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالی عنہ اس کے راوی ہیں
02:26وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا کیا ہی اچھا اٹیہ اس دودھ دینے والی اونٹنی کا ہے جو زیادہ دودھ دیتی ہو
02:39یعنی زیادہ دودھ دیتی اور آپ اس کو کسی کو دے دیں اٹیہ کر دیں کسی کو دے دیں توفتاً یا پھر آریتاً دے دیں
02:48سرکار فرماتے ہیں کیا ہی اچھا اٹیہ ہے اور اس بکری کا جو زیادہ دودھ دیتی ہو جس سے صوبہ بھی دودھ نکالا جاتا ہو اور شام کو بھی دودھ نکالا جاتا ہو
02:59تو سرکار نے اس کی مدح فرمائی کیا ہی اچھا اٹیہ ہے کیا ہی اچھی یہ فضیلت والی چیز ہے
03:06تو اس کا مطلبی ہے کہ جس چیز مال کی طرف آپ کی میری رغبت ہو اگر ہم اثار کرتے ہوئے یا سخاوت کا مزارہ کرتے ہوئے
03:15اپنے بھائی کے لئے اس کو دیں گے تو یہ قابل مدح چیز ہے اور رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم اس فیل کی قدر فرما رہے ہیں
03:23اب اچھا بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ یہ تو چلیں عطا کے اوپر محمول کر سکتے ہیں کہ آپ نے بخری توفتن دے دی
03:30عربوں کے ہاں یہ چیز جاری اور ساری تھی کہ بعض اوقات وہ فائدے والی چیز کسی کو کچھ عرصے کے لئے دیتے اور اس کے بعد واپس لے لیا کرتے تھے
03:40جیسے ایک تو یہ جانور کی مثال ہیں اسی طریقے سے درخت ہیں اس پر پھل نکلتے ہیں کہ چھوڑے ایک سال کے لئے آپ یہ پھل کھائیں
03:46ان کو کھاتے رہیں پھال پھر اپنے درخت واپس لے لیں تو اس طریقے سے بھی ہو سکتا ہے جبکہ کوئی عجرت وغیرہ نہیں لے رہے پس ویسی
03:54یا تم کھاؤ اللہ تعالی برکت دے گا اور ہمیں ثواب ملے گا اور یہ تو دیکھیں رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
04:01کہ جس کے ہاں کوئی پھلدار درخت ہو اور اسے انسان کھائیں یعنی ایسا نہیں کہ نقصان پہنچائیں جسے گر جاتی ہیں جامنیں گر جاتی ہیں جنگل جلے بھی ہوتی ہیں
04:10دیگر چیزیں اور لوگ کھا رہے ہیں یا سرکار نے فرمایا جانور اس سے کھائے تو اس شخص کو صدقے کا ثواب حاصل ہوتا ہے
04:17تو اس لیے بہت سارے باغ والے ایسے ہوتے ہیں زمینوں والے ایسے ہوتے ہیں کہ تھوڑی بہت اگر کوئی اطراف کے لوگ چیزیں کھا رہے ہوں لینے تو منع نہیں کرتے ہیں
04:26ہاں خراب کریں تو وہ نراز ہوتے ہیں ورنہ بانٹتے بھی ہیں دیتے ہیں اچھی عادت ہے
04:32اب اس پر ایک حدیث دیکھئے دو ہزار چھے سو تیس نمبر
04:40وہ کہتے ہیں کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے اور اس وقت ان کے ہاتھوں میں کوئی چیز نہیں تھی
04:48اور انصار زمین اور جائداد والے تھے
04:53تو انصار نے ان سے یہ معاملہ تیہ کیا کہ وہ ان کو اپنے باغات کے پھل ہر سال دیا کریں گے
05:00اور اس کے بدلے وہ یعنی مہاجر حضرات ان کی زمینوں میں کام کاج اور مشقت کریں گے
05:09اور ان کی والدہ یعنی حضرت انص رضی اللہ عنہ کی والدہ ام سلیم جو حضرت عبداللہ بن ابی طلحہ کی بھی والدہ تھی
05:18تو انہوں نے حضرت انص رضی اللہ عنہ کی والدہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے چند درخت دیئے تھے
05:30یعنی وہی کہ یعنی صلی اللہ آپ اس سے استفادہ فرمائے
05:33پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ درخت حضرت ام ایمن کو عطا کر دیئے
05:39جو آپ کی باندھی تھی اور حضرت عسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی والدہ تھی
05:46سرکار نے ان کو دے دیئے انہوں نے
05:49یعنی حضرت ام سلیم نے آپ کو دیئے اور آپ نے ام ایمن کو دے دیئے
05:56کہ آپ استعمال کریں
05:57تو حضرت ابن شہاب کہتے ہیں
06:00کہ پھر مجھے حضرت انص بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی
06:04کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اہل خیبر کے ساتھ جنگ سے فارغ ہوئے
06:09یعنی وہ یہود پہ حملہ کیا خیبر کا قیلہ فتوہ
06:12تو بہت زیادہ مال غریمت وہاں سے ملا
06:13تو آپ مدینہ لوٹ گئے
06:16اور مہاجرین نے انصار کے دیئے ہوئے عطیات
06:20جو انہوں نے پھلوں کی صورت میں دیئے تھے لوٹا دیئے
06:25کہ جو دیئے تھے وچے تھے سب ان کو لوٹا دیئے
06:27ہمارے پاس اب آ چکا ہے ان کو دے دیئے
06:29تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی
06:31حضرت انص کی والدہ کو ان کے دیئے ہوئے درخت واپس کر دیئے
06:35یعنی ام ایمن سے لیئے اور ان کو واپس کر دیئے
06:39اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ایمن کو
06:43ان درختوں کے بدلے میں اپنے باغ سے درخت عطا کر دیئے
06:48اب سرکار نے دیئے دیئے
06:49ان باغوں سے لے لیں ان درختوں سے
06:51یہ ان کو واپس کر دیں
06:52اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ
06:55آریتاً چیز تھی
06:56یا اگر توفتاً بھی تھی تو بہرحال جب وہ
06:59خود کا فیل ہو گئے تو واپس کر دیا گیا
07:01بہتر چیز یہ ہوتی ہے
07:03کہ اگر کوئی ہمارے ساتھ احسان کرتا ہے
07:05اور اللہ تبارک و تعالی
07:07ہمیں خود کا فیل کر دیتا ہے
07:08تو اگر وہ چیز آپ کے پاس بہنی موجود ہے
07:11آپ لوٹا دیں اس کو
07:12بہت بہتر ہے یہ آریتاً لی ہے
07:14اس کے بعد واپس کر دی جائے
07:16یا اگر بہنی وہ چیز نہ لوٹائیں
07:18کہ ہو سکتا ہے سابنے والے کے دلازاری ہو
07:20تو پھر اس کے بدلے میں کوئی چیز
07:22اپنے مسلمان بھائی کو دے دینی چاہیے
07:25یہ بہترین چیز ہوتی ہے
07:27کہ بعض اوقات ہم کسی کا احسان لے لیتے ہیں
07:30اور احسان تلے دب کر
07:32پھر بعض اوقات
07:33جو خوددار قسم کا ہوتا ہے
07:35اس کی طبیعت میں
07:36ایک بوجھ اور دباؤ سا پیدا ہو جاتا ہے
07:39اس سے باہر نکلنے کا بہترین طریقہ یہ ہے
07:42کہ اس آدمی کا شکریہ بھی ادا کریں
07:44اور غیر محسوس طریقے سے
07:46کہ اس کو یہ بھی احساس نہ ہو
07:47کہ میں نے دیا تھا اس کا بدلہ دے رہے ہیں
07:49اس کے اوپر کوئی احسان کر کے
07:51اس بدلے کو چکا دیا جائے
07:54یہ سب سے بیس چیز ہوتی ہے
07:55نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
07:57اکثر یادت تھی
07:58کہ جب آپ کو کوئی توفہ دیتا
08:00تو آپ بھی اپنے پاس سے کوئی توفہ دے دیا کرتے تھے
08:04اور خود یہ حدیث میں بھی ہے
08:05رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
08:08کہ جس نے بھی دنیا میں مجھ پر کچھ احسان کیا
08:11میں نے اس کا بدلہ دنیا میں ہی اس کو دے دیا
08:14لیکن ابو بکر کے احسانات کا بدلہ
08:18خود اللہ تبارک و تعالی بروضی قیامت عطا فرمائے گا
08:22تو دیکھیں آپ یہ سرکار کی عارضی ہے
08:25کون ہے جو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان کر سکے
08:29لیکن سرکار کسی کی خدمت کو
08:31اپنے اوپر احسان سے تعبیر فرما رہے ہیں
08:34یہ آپ کی عارضی ہے انکساری ہے
08:36ہمیں بھی اس کو اختیار کرنا چاہیے
08:37اور سرکار اس کا بدلہ دے دیا کرتے تھے
08:40اس لئے ہمیں بھی اس عادت کو اپنانا چاہیے
08:43اگلے حدیث کے طرف آتے ہیں
08:46دو ہزار چھ سو اکتیس نمبر حدیث پاک ہے
08:49عدلت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ
08:53اس کے راوی ہیں
08:54وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
08:57نے اشارت فرمایا کہ چالیس خصلتیں ایسی ہیں
09:02خصلت منز عادتیں افعال آمال یہاں سب مراد ہو سکتا ہے
09:07کہ جن میں سب سے عالی خصلت دودھ دینے والی بکری کا عطیہ ہے
09:14یعنی کسی کو دودھ دینے والی بکری دے دی جائے
09:17جو دودھ دے رہی ہو وہ قیمتی مال ہوتا تھا عربوں میں
09:21اور وہ قیمتی مال ہی اپنے مسلمان بھائی کو دے دیا
09:23تو یہ چالیس بہترین خصلتوں میں سے ایک ہے
09:26سرکاہ نے فرمایا جو شخص ان خصلتوں میں سے
09:29کسی ایک خصلت پر
09:31اس کے ثواب کی امید
09:33اور اللہ کے وعدے کی تزدیق کے ساتھ عمل کرنے والا ہوگا
09:38تو اللہ تعالی اس کو اس خصلت پر
09:41عمل کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا
09:45یعنی چالیس عادات
09:47یہ چالیس افعال و عامال ایسے ہیں
09:49کہ اگر کوئی شخص اس نیت کے ساتھ کرے
09:51کہ مجھے ثواب ملے
09:53اور زبان سے تزدیق کرتا ہو
09:55کہ جو اللہ اس کا بدلہ آخرت میں اتا فرمائے گا
09:58اس کی تزدیق کرے
09:59کہ بھئی میں اس لئے کر رہا ہوں
10:00کہ اللہ پھلکہ سچا ہے
10:01اور اللہ طرح اس کا بدلہ آخرت میں اتا فرمائے گا
10:04اور پھر وہ ان خصلتوں میں سے کوئی ایک بھی اپناتا ہے
10:08تو سرکار اشارت فرماتے ہیں
10:10کہ اس پر عمل کی وجہ سے
10:12وہ شخص جنت میں داخل کر دیا جائے گا
10:15حسان نے کہا
10:16کہ ہم نے دودھ دینے والی بکری کے سوا
10:18اس کو گنا
10:20کہ چالیس خصلتیں کون کونسی ہیں
10:22تو وہ سلام کا جواب دینا ہے
10:25اور چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا ہے
10:28اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا وغیرہ ہے
10:33کہتے ہیں سو ہم پندرہ خصلتیں بھی شمار نہ کر سکے
10:36تو وہ اپنی ایک عارضی بیان کر رہے ہیں
10:39کہ سرکار نے چالیس گنوائی نہیں
10:41لیکن ایک ان میں سے بیان کی
10:42تو ہم نے کہا
10:43سوچا کہ کونسی کونسی ہوں گی
10:45تو جب ہم نے گنا شروع کی حدیث کی روشتی میں
10:48تو ہم پندرہ بھی شمار نہیں کر سکے
10:50لیکن یہ جو شارہین ہوتے ہیں
10:53یہ چونکہ
10:54مطبع یہ تو ایک صحابی
10:55یا تھے جو
10:56مطبع جو بھی قریب موجود لوگ تھے
10:59کہ اس وقت مستحضر نہیں تھی فوراں چیزیں
11:01لیکن بعد والے جو لوگ ہوتے ہیں
11:03وہ ساری حدیثیں سامنے رکھ کر
11:04بہت ساری حدیثیں پڑھیں سرکار نے کہیں
11:07کوئی فضلت بیان فرمائی کہیں
11:08کوئی فرمائی کہیں
11:09تو ہمارے اکابرین نے
11:11ان چالیس خصلتوں کو جمع کرنے کی کوشش کی
11:14کہ وہ کون کون سی ہو سکتی ہیں
11:16تو وہ مختلف جگہ پر پھر وہ روایات لے کر
11:19ان کو جمع کرنے کی سا یہ احسن کی گئی
11:22تو میں آپ کی خدمت میں ذکر کرتا ہوں
11:24کہ ہمارے بذرگوں نے کیا کیا لکھا
11:26چنانچہ شارہین کہتے ہیں
11:28کہ اس حدیث میں مذکور ہے
11:30کہ حسان نے کہا
11:31کہ ہم نے دودھ دینے والی بکری کو
11:33دینے کے سوا ان خصلتوں کو گنا
11:36یعنی دودھ دینے والی بکری کو دینا یہ ایک
11:38اور اس کے علاوہ کو گنا شروع کیا
11:41جس کی وجہ سے بندہ جنت میں داخل ہوتا ہے
11:43تو ہم پندرہ خصلتیں بھی نہ گن سکے
11:46تو شارہین فرماتے ہیں
11:48کہ حسان کا ان چالیس نیک خصلتوں کو نہ پانا
11:52اس بات کو لازم نہیں کرتا
11:54کہ کوئی اور ان چالیس خصلتوں کو پائی نہیں سکے گا
11:58بات ہوئی جو میں نے بھی ارس کی کہ
11:59وقت ان کے ذہن میں اچانک حاضر نہیں ہوئی ہوں گی
12:02لیکن ہو سکتی ہیں
12:03تو پھر یہ کہتے ہیں شارہین کہ
12:05مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے معاصر علماء نے
12:08ہم زمانہ علماء نے
12:09ایسی خصلتوں کو نکالا
12:11جن سے جنت ملتی ہے
12:13تو ان کا عدد چالیس سے زیادہ ہے
12:16اور وہ تمام خصلتیں
12:18احادیث سے ہی نکالی گئی ہیں
12:20تو اب اگر دیکھیں
12:21سرکار تو چالیس کے بارے میں فرما رہے ہیں
12:24اب اگر چالیس سے زیادہ حدیثوں کے اندر
12:26چیزیں آگئیں کہ ان پر عمل کریں گے
12:28تو جنت میں جائیں گے
12:29تو دو مفہوم ہو سکتے ہیں
12:30نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
12:32کلام کے
12:33کہ اگر آپ نے چالیس سے زیادہ نکالی ہیں
12:35تو ان میں سے چالیس سرکار فرما رہے ہیں
12:38خاص ہیں
12:39باقی وہ نہیں ہیں جن کو سرکار مراد لے رہے ہیں
12:42اگرچہ ان پر بھی جنت کی بشارت ہے
12:44اور یا پھر سرکار نے چالیس سے
12:46چالیس کا ہنسہ مراد نہ لیا ہو
12:48بلکہ یہ کہنا مقصود ہو
12:50کہ بہت ساری خصلتیں ایسی ہیں
12:52بہت سارے افعال و عامال ایسے ہیں
12:54کہ جو اللہ کی رضا کی خاطر اختیار کرے گا
12:56تو وہ عامال و افعال اس کو جنت تک پہنچا دیں گے
12:59اب وہ کون کون سے ہیں
13:01بذرگوں نے جمع کیا
13:02وہ یہ دیکھیں
13:03ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
13:07اس عمل کے بارے میں سوال کیا
13:08جو اس کو جنت میں داخل کر دے
13:11تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بتایا
13:14پہلا یہ کہ وہ غلاموں کو آزاد کرے
13:17دوسرا پھر اس کو بتایا
13:19کہ وہ زیادہ دودھ دینے والے جانور کو عطا کرے
13:23کسی کو تحفتن دے دے
13:24تیسرا بیان فرمایا
13:26کہ جو رشتے دار تعلق منقطع کرے
13:29اس سے تعلق جھوڑے
13:31چوتھا اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے
13:34تو بھوکے کو کھانا کھلاو
13:36پانچوہ پیاسے کو پانی پلاؤ
13:39چھٹا آخری خصلتوں میں سے
13:42سب سے عالی دودھ دینے والے جانور کا عطیہ ہے
13:45اور تعلق توڑنے والے رشتہ دار سے
13:48تعلق جوڑنا ان میں سے نہیں ہے
13:50کیونکہ وہ جانور کے عطیہ سے افضل ہے
13:53یعنی حدیث میں تو سرکار نے فرمایا
13:55سب سے افضل یہ ہے
13:56تو اس کا مطلب رشتہ دار سے تعلق نہ توڑنا
13:59تو اس سے بھی افضل ہے
14:00تو اس کا مطلب یہاں یہ مراد نہیں باقی چیزیں ہیں
14:02تو یہ چند چیزیں ہیں جو حدیث میں آئیں
14:04تو چھے چیزیں تو یہاں بیانویں
14:06ساتھوہ یہ کہ جو مسلمان ملے
14:09اس کو سلام کرے
14:10حدیث میں ہے جو کہے
14:12السلام علیک
14:13تو اس کے لیے دس نیکیں لکھے جاتی ہیں
14:16اور جو رحمت اللہ کا اضافہ کرے
14:19اسلام علیکم ورحمت اللہ
14:21تو اس کے لیے بیس نیکیں لکھے جاتی ہیں
14:23اور جس نے وبرکاتہو کا اضافہ کیا
14:27اس کے لیے تیس نیکیاں لکھے جاتی ہیں
14:30وَمِن مَفْرَتُّهُ
14:32KABY EAK HADIS MEN CHUKAAYA ABU DAUT KI RUAYETE TO MAKFIRATUHU KABY IZAFAH KER DAYTAYO
14:36CHALIS NAKIYON KI BISHARAT E ASSALAMU ALIKUM VRAHMATULLAHI VRAHMATULLAHI VRAHMATUH VRAHMATUH VRAHMATUH VRAHMAKFIRATUH
14:43TO YIS MEN CHALIS NAKIYON KI BISHARAT E AATWO AMAL HE CHHIKNE WALLEY KO JUABAB DAYNA
14:48اس کے متقارب حدیث ہے
14:51یعنی یہ قریب قریب اسی کے حدیث ہے
14:53چھیکنے والے کو جواب دینے کا مطلب یہ ہے
14:55کہ جب وہ چھیکتا ہے اور الحمدللہ کہے
14:58اور ہمیں اس کی آواز سن جائے
15:00تو جواب میں کہنا ہوتا ہے
15:02يَرْحَمُكَ اللَّهِ
15:03اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت فرمائے
15:06اگر ایک مذکر ہے
15:08ایک مرد تو يَرْحَمُكَ اللَّهِ کہیں گے
15:11اگر دو ہیں تو يَرْحَمُكُمَ اللَّهِ کہیں گے
15:14اور دو سے زیادہ مرد ہیں
15:16تو يَرْحَمُكُمُ اللَّهِ کہیں گے
15:18ایک عورت ہے
15:20تو يَرْحَمُكِ اللَّهِ کہیں گے
15:23اگر دو عورتیں ہیں
15:24تو يَرْحَمُكُمَ اللَّهِ کہیں گے
15:26جیسے مرد کے لئے ویسا عورت کے لئے
15:28اور دو سے زیادہ عورتیں ہیں
15:30تو يَرْحَمُكُنَّ اللَّهِ کہیں گے
15:34ایک میں نے بہن کو جزاک اللہ لکھا
15:37تو انہوں نے کہا
15:38میں تو جزاک اللہ لکھتی ہوں
15:39صاحب یا آپ نے جزاک اللہ کیوں لکھا ہے
15:41کہہ اس میں کوئی فرق ہے
15:42تو ان کو پھر میں نے پوری تفصیل بتائی
15:44کہ ایک مذکر کا احسان
15:46یعنی اس کے لئے دعا کرنا چاہے
15:48تو جزاک اللہ
15:49دو ہوں گے تو جزاکم اللہ
15:51دو سے زیادہ ہیں جزاکم اللہ
15:53ایک عورت ہے
15:55جزاک اللہ کہیں گے
15:56دو ہیں تو جزاکم اللہ کہیں گے
15:58دو سے زیادہ ہیں تو جزاکن اللہ کہیں گے
16:01ٹھیک ہے
16:02اسی طرح يَرَحْمُكَ اللَّهُ وَغَرْرَا کی تفصیل ہے
16:04تو یہ
16:05نوی نوی کیا ہے عمل
16:07حدیث میں ہے ایک شخص نے راستے سے کانٹو والی شاخ ہٹا دی
16:10تو اللہ تعالی نے اس کے اس فعل کی قدردانی کی
16:13چنانچہ اس کو بخش دیا
16:15یہ مختلف روایات میں آپ کو ذکر کر رہا ہوں
16:18دیکھیں اس میں بھی سرکار نے ایک عمل کا ذکر کیا
16:20اس کا مطلب ہے کہ راستے میں تکلیف دینے والی کسی چیز کو ہٹا دینا بھی
16:24دخول جنت کا سبب بن سکتا ہے
16:27اس لئے آپ اگر جارے راستے میں کوئی پتھر پڑا ہے
16:29اس کو سائیڈ میں کر دیں
16:31یہ نہ ہو کہ آپ کی سکوٹر اس سے ایک ڈس بیلنس ہو گئی
16:34یا آپ کو ٹھوکر مل گئی
16:35برا بھلا تو کہہ دیا لیکن وہیں پڑا رہندی آگے نکل گئے
16:39سائیڈ میں کر دیتے بھائی
16:40ایسی کیلے کا چھلکا پڑا ہوئے سائیڈ میں کر دی
16:43کوئی گڑھا وغیرہ ہے
16:45جیسے آج کل ہمارے کراچی میں بہت زیادہ گڑھیں ہیں روڈوں کے اوپر
16:49تو ان میں تھوڑی بہت مٹی وغیرہ پتھر وغیرہ ڈال کے
16:52اس کو برابر کر دیا
16:53تاکہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو
16:56ایسی بعض اوقت شاخیں ہوتی ہیں
16:58درختوں کی وہ روڈ پہ نکلی ہوتی ہیں
17:00کہ اگر اسکوٹر والا گزرے
17:01اور خصوصاً رات میں
17:03اور پتہ نہ ہو تو موں پہ اس کے جا کے لگے گی
17:05تو اس لئے اس کو کارڈ دینا
17:07تو اس طرح کوئی بھی چیز جب آپ سمجھتے ہیں
17:09کہ بائی سے عذیت و تکلیف ہے
17:11اس کو دور کریں گے
17:12تو یہ امید ہے
17:13کہ انشاءاللہ جنت میں
17:16اللہ تعالیٰ داخلہ عطا فرمائے گا
17:17لیکن ضمن یہ بھی میں ارز کر دیتا ہوں
17:20کہ یہ تکلیف دے
17:22تکلیف دے چیز کو ہٹانا
17:24بہت فضلیت کے بات ہے
17:26اور جنت میں دخول کا سبب ہے
17:27اب وہ بھائی بہن غور کریں
17:29جو تکلیف پہنچانے والی چیز کام کرتے ہیں
17:32جان بوجھ کا
17:33کچھرا پھیک دیں گے گھروں کے سامنے
17:35کسی کے سہن میں گندگی پھینک دیں گے
17:38کسی کے اوپر کیچڑ پھیک دیں گے
17:40پانی پھیک دیں گے کسی کے اوپر
17:42سپیڈ بریکر اتنے نامقول قسم کے بنائیں گے
17:45یوں کر کے
17:46کہ سکوٹر آئے تو یوں اچھل جاتی ہیں
17:49پیچھے بہنے بھی بعض وقت دیکھیں
17:50کہ اتنی ایک فٹ ہونچی اچھل جاتی ہیں
17:52بے خیالی میں کر جائیں نا
17:53اور گمان ہوتا ہے کہ شاید گری جائیں گے
17:55گود میں بچہ ہو
17:56تو وہ بیچاری اور ڈیس بیلنس ہو جاتی ہیں
17:58اس طرح کی سپیڈ بریکر بنانا
18:00اور ایک جگہ ہمارے علاقے میں ہے
18:03وہاں تو روڈ ہی کھو دی ہیں
18:04اتتے اتتے سے چھوٹے اور یوں
18:06اب وہ جو جائیں
18:08اس طرح جھٹکے لگتے ہیں گاڑی کو
18:10یعنی دس قدم کے بعد ایک اور
18:14پھر دس قدم کے بعد ایک اور
18:15پھر دس قدم کے بعد ایک اور
18:16لوجک معلوم کی تو پتا چلا
18:18جی ان کے بچے باہر کھیلتے ہیں
18:20تو وہ گاڑیاں تیز نکلتی ہیں
18:21اس لئے اب سب بھدکتے ہوئے جاؤ
18:23تاکہ ان کے بچے محفوظ ہو جائیں
18:25یہ طریقہ کا ٹھیک نہیں ہے
18:26عزیت میں ابتلا نہ کریں
18:28ورنہ اس کا آخرت میں
18:29وبال بھی ہو سکتا ہے
18:30وَآخْرُ دَعْوَانَا
18:31اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
Comments

Recommended