یقیناً! موضوع: "کسی صدمے کے وقت سینہ کوبی کرنا ناجائز ہے" یہ ایک اہم اسلامی مسئلہ ہے جس پر قرآن و حدیث کی روشنی میں مختصر تفسیر درج ذیل ہے:
📖 تفسیر و وضاحت:
اسلام صبر، حوصلہ اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی عزیز کے انتقال یا صدمے کی حالت میں جزع و فزع (چیخ و پکار، بال نوچنا، کپڑے پھاڑنا، سینہ کوبی کرنا وغیرہ) کو نبی ﷺ نے ناجائز اور بعض صورتوں میں حرام قرار دیا ہے۔
✨ قرآن سے دلیل:
"وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ" (اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو) — سورہ البقرہ: 155-156
اللہ نے صبر کرنے والوں کو خوشخبری دی ہے، نہ کہ سینہ کوبی یا ماتم کرنے والوں کو۔
✨ حدیث سے دلیل:
"لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ" (وہ ہم میں سے نہیں جو رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کے نعرے لگائے) — صحیح بخاری
یعنی نبی ﷺ نے صدمے کے وقت جسمانی ردعمل کے طور پر سینہ کوبی یا چہرہ پیٹنے کو جاہلیت کا عمل قرار دیا، جو ایمان کے خلاف ہے۔
❌ نتیجہ:
سینہ کوبی کرنا، بال نوچنا، کپڑے پھاڑنا اور شور شرابہ کرنا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔ اس سے مرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ شخص خود گناہگار ہوتا ہے۔ اسلام صبر و سکون، دعا، اور میت کے لیے ایصال ثواب کا حکم دیتا ہے۔
Be the first to comment