- 1 year ago
Apne Dukh Allah Ko Batao || Complete Bayan 2025 || By Moulana Saqib Raza Mustafai
Category
📚
LearningTranscript
00:00موسیبت
00:30اور جا کہا مالک میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے
00:33اللہ حکم
00:34گھر کے نجی معاملے بھی رب سے
00:37ڈسکس کرتے تھے
00:38اور کوئی جو ہے وہ ایسی چیز ہوتی
00:40وہ بھی رب سے ہی عرض کرتے تھے
00:42کہا میرے مالک میرے پیٹ میں درد کا احساس ہو رہا ہے
00:45دوائی کی پوری لینی ہے
00:46تو وہ بھی جا کے کوہ تور سے رب سے ہی لیتے تھے
00:49تو اللہ تعالیٰ فرمایا
00:50فلان جنگل میں چلے جاؤ وہاں
00:52اس شکل کے پتوں کی ایک بوٹی ہے
00:54اس کو توڑو نچوڑو اس کا پانی پیو
00:56تمہیں شفاہ مل جائے
00:57حضرت موسیٰ علیہ السلام گئے
00:59اور جا کے بوٹی کو توڑا نچوڑا پانی پیا شفاہ ہو گئے
01:03کچھ حرصہ بیتا
01:04دوبارہ اسی طرح کا درد جانگا
01:07اب نسکہ تو ذہن میں تھا
01:10کوہ تور پہ نہ گئے اس جنگل میں چلے گئے
01:13اور جا کے بوٹی کو توڑا
01:14اس کے پتے نچوڑے پانی نکالا
01:16پیا لیکن درد اور زیادہ بڑھ جاتا
01:19پھر دوبارہ آئے کوہ تور پہ
01:21کہا مالک
01:22میں نے اسی درد پہ دوبارہ وہی
01:26بوٹی کا پانی پیا ہے
01:28لیکن درد بڑھ گیا ہے
01:30کہا موسیٰ اب جو آئے ہو
01:32کوہ تور پہ پہلے ہی آ جاتے
01:33تو عرص کی مالک بوٹی بھی وہی
01:36اور درد بھی وہی
01:38فرمایا سب کچھ وہی ہے
01:40لیکن پہلے میرا حکم تھا
01:41اب میرا حکم ساتھ شامل نہیں تھا
01:43شفاہ بوٹے میں نہیں رکھی
01:45شفاہ تو میرے حکم میں رکھی ہوئی
01:46اس لئے ڈاکٹر کے پاس جاؤ
01:49حکیم کے پاس جاؤ
01:50لیکن شفاہ اللہ سے مانگو
01:51کہ شفاہ ہمیں دینے والا وہ ہے
01:53وہ ایک وسیلہ ہے
01:55ایک ظاہری طریقہ ہے
01:56حضور علیہ السلام
01:57اللہ اکبر کیا خوبصورت رشاد فرما رہے ہیں
02:01حسنو اموالکم بالزکاة
02:03اپنی اموال کو زکاة سے پاک کرو
02:06و دعو مرداکم بالصدقہ
02:09اور اپنے مریضوں کا علاج صدقے سے کرو
02:12حضور علیہ السلام نے رشاد فرمایا
02:15کہ بندہ کہتا میرا مال میرا مال
02:17اس کے مال تین ہیں
02:18ایک مال وہ جو اس نے کھایا
02:21اور ضائع کر دیا
02:22دوسرا اس کا مال وہ ہے جو اس نے پہنا
02:25اور قرآنہ کر دیا
02:26اور تیسرا اس کا مال وہ ہے جو اس نے آگے بھیج دیا
02:29فرمایا باقی اس کے وارثوں کا ہے
02:32اس کا نہیں ہے
02:33اس لئے ہم راہ خدا میں خرچ کرنے کا مزاج بنائیں
02:38اس سے مال گھٹتا نہیں ہے
02:39اس سے مال بڑھتا ہے
02:41بلکہ جب راہ خدا کے اندر ہم خرچ کرتے ہیں
02:44تو ہمارا جو دوسرا مال ہے
02:46وہ بھی پاک ہو جاتا ہے
02:47اللہ کے محبوب کا ایک فرمان سنیے
02:49جس کو حضرت حسن بسی رضی اللہ تعالیٰ نے وہ بیان کرتے ہیں
02:53حسنو اموالکم بززکاة
02:56وداوو مرداکم بصدقہ
02:59وستقبلو امواج الولائے بدعائے والتدر ہوئے
03:03فرمایا کہ اپنے مال کو
03:05اپنے اموال کو
03:07زکاة سے پاک کرو
03:09اور اپنے مریضوں کا علاج صدقے سے کرو
03:13اور جب مصیبتیں اور بلائیں تمہارا رخ کریں
03:17تو پھر دعا سے
03:19اور اللہ کے حضور زاری سے
03:21اللہ کی مدد چاہو
03:23آج ہم صدقے کا مزاج
03:27بہت کم کر چکے ہیں
03:29کسی زمانے میں ایسا ہوتا تھا
03:32کہ جب کوئی بیمار ہوتا تھا
03:33تو سب سے پہلا کام لوگ یہ کرتے تھے
03:35کہ صدقہ دیا کرتے تھے
03:36ڈاکٹر کے پاس پھر جایا کرتے تھے
03:39حکیم کے پاس پھر جایا کرتے تھے
03:41سب سے پہلے اس کی جان کا صدقہ دیا کرتے تھے
03:44صدقہ قضاء کو بدل دیتا ہے
03:46تقدیر کو بدل دیتا ہے
03:48صدقہ سے اپنے مریضوں کا علاج کا
03:51اصل ڈاکٹر کے پاس جانا
03:55علاج کروانا سنت ہے
03:57اس کی ممانت نہیں ہے
04:00لیکن یہ بات ہمیشہ ذرن میں رکھیے گا
04:03کہ ڈاکٹر کے پاس دوا ہے
04:04شفاہ نہیں ہے
04:05شفاہ اللہ کے دست کرم میں
04:07اس لیے جب بھی بیمار ہو جاؤ
04:10تو پہلے صدقہ کرو
04:12اور پھر ڈاکٹر کے پاس جاؤ
04:13اللہ اس صدقے کی شیخصانی نے لکھا ہے
04:16مطاف کے اندر کنکروں پر پہشانی رکھ کے
04:20ایک بندہ زاروں کے تار ہو رہا ہے
04:22اور کیا کہتا ہے
04:23اے اللہ مجھے معاف کر دے
04:26ورنہ قیامت کے دن
04:28مجھے نابی نہ اٹھانا
04:29تیرا کیا تیرے بندوں کا سامنا بھی نہیں کر پاؤں گا
04:33اتنے درد سے روتا ہے
04:35کہ چلنے والوں کے قدم رکھتے ہیں
04:38سر پہ کپڑا ڈالا ہے
04:40زاروں کے تار سسکیاں لے لے لے کے
04:42ہچکیاں لے لے کے روتا ہے
04:44کوئی اس کے پاس کھڑا ہو گیا
04:46اس کی کمر پہ ہاتھ پھیر کے کہتا ہے
04:50حوصلہ رکھ اللہ بڑا کریم ہے
04:52اللہ معاف کر دے گا
04:55خیر جب وہ شخص رو رو کے آہوزاری کر کے
04:59اپنے رب کی حضور یہ تمنائیں کر کے
05:02اٹھ کے جانے لگا
05:03تو اس شخص کو شوق تاکہ میں دیکھوں
05:05یہ ہے کون
05:06اتنا خوف خدا اتنا ڈر رہا ہے
05:10پتہ نہیں کون ہے
05:11کیا گناہ کر بیٹھا ہے
05:12لیکن جب
05:14اس صاحب نے سر اٹھایا
05:18تو اس کی چیخ نکل گئی
05:20فائضہ ہوا شیخ عبدالقادر جیلانی
05:23تو یہ زارو کتار رونے والا شیخ عبدالقادر جیلانی تھا
05:29ساری زندگی خدمت خلق میں بسر ہوئی
05:34اللہ کے حکام بجا لاتے ہوئے
05:36لیکن خوف خدا خشیت اللہ ہی قالم ہے
05:39حضرت جنید بغدادی کے پیر ہیں
05:42حضرت سرری سکتی رضی اللہ تعالیٰ کو
05:46رشتے میں مامو بھی لگتے ہیں
05:48تو حضرت جنید بغدادی کو
05:50حضرت سرری سکتی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
05:53ایک دن بسیعت کی
05:54حضرت جنید کہتے ہیں
05:56میرے پونٹ علی سے زمین سے رکھنے لگے
05:58فرمانے لگے بیٹا
06:00جب میں مر جاؤں تو میری
06:01قبر بغداد سے باہر بنانا
06:04میں نے پوچھا
06:06حضرت کیوں لوگ تو بغداد میں
06:08دفن ہونے کو ترستے ہیں
06:09کہا میری بدا عمالیوں کی وجہ سے
06:12بغداد کی مٹی
06:13میری لاش قبول کرنے سے
06:16نکار نہ کرتے ہیں
06:17اللہزینہ یبیتونہ لربہم
06:20سجدہ و قیامہ
06:22یہ وہ لوگ ہیں
06:23جو اپنی راتیں
06:25سجدے میں اور قیام میں بسر کرتے ہیں
06:27ہم تو چار نمازیں تسلسل سے پڑھ لیں
06:30تو بے نمازیوں کو حقیر سمجھنے لگ جائیں
06:33لیکن یہ کیا ہے
06:35زندگی ذکر و فکر میں گزرتی ہے
06:38سجدہ و قیام میں راتیں بسر ہوتی ہیں
06:41لیکن عرص کیا کرتے ہیں
06:43مالک ہم سے جہنم کا حضاب
06:45پھیرتے
06:46آؤ میں اور آپ
06:47اپنے گرے بان میں چھانکیں
06:49اپنے مند میں اتریں
06:50اللہ نے ہمیں کتنی نعمتیں عطا کی ہیں
06:53کیا کچھ نہیں عطا کیا
06:55ہماری راتیں کیا
06:57قیام اور سجدوں میں بسر ہوتی ہیں
06:59ہماری پانچ نمازیں بھی پوری ہیں
07:02اگر ہماری پانچ نمازیں بھی پوری نہیں
07:05اور سجدہ و قیام بھی ہمیں نصیب نہیں ہے
07:09تو پھر افسوس ہے ہمارے جنے
07:10جب کسی سے پیار پیدا ہوتا ہے
07:13تو پھر یہ آرزو مچلتی ہے
07:15کہ میں اس کے ہونکوں سے سنو
07:17کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں
07:20تو بندہ ہو کے
07:22پیار رب سے کرتا ہے
07:25تو پھر دل میں آرزو مچلتی ہے
07:27کہ پانوں میں کوئی نغم رس گولے
07:30اور کوئی مجھے کہے
07:33کہ تم پیار کرتے ہو
07:35تو وہ بھی تم سے پیار کرتا ہے
07:37تو زندگی کی ساری تھکن اتر جائے
07:39تو کہا کہ یہ سننا چاہتے ہو
07:42یہ آرزو ہے نا تمہاری
07:44تمہارے رت جگے
07:45تمہاری راتوں کی تنہائیوں میں سجدے
07:48تمہارا دن رات رگو قیام
07:50اور تمہارا اس کے حضور پیچو تاب اور استراب
07:54اور زندگی کا یہ سارا
07:56تمہارا لف و نشر
07:57اس کی ذات کی رضا کے لیے ہے نا
08:00تم چاہتے ہو
08:00کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو جائے
08:03کبھی کعبے کے چکر کاٹ رہے ہو
08:05کبھی پتھروں کو چوم رہے ہو
08:07بجرِ اسمت کو چوم رہے ہو
08:09کبھی ملتظم پہ لپٹ لپٹ کے آہوزاریاں کرتے ہو
08:12کبھی مطاف پہ پیشانی رگڑتے ہو
08:15اور کبھی حتیم میں روتے ہو
08:17تم اسی تڑپ میں ہونا
08:19یہی بتانا چاہتے ہو نا
08:20کہ ہم تجھ سے پیار کرتے ہیں
08:21یہی بتانا چاہتے ہو نا
08:23کہ ہم تجھ سے محبت کرتے ہیں
08:25کبھی سہری کے وقت
08:26مسلح بچھاتے ہو
08:27اور تمہارے آنسو مسلح میں جذب ہوتے ہیں
08:29اور مسلح بھیک جاتا تمہارے آنسو سے
08:33کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا
08:35لیکن تمہارے دلم سے یہ گھوک اٹھتی ہے
08:37جس کے لیے یہ آنسو جذب ہو رہے ہیں
08:39وہ تو دیکھ رہے نا
08:40تمہیں یقین ہوتا ہے
08:42لیکن محبت میں جب تقرار کی ہو ہے
08:45کہونا کہ مجھے تم سے محبت دے
08:47تو پھر یہ خو جو طبع کے اندر ہے
08:51بندہ سننا چاہتا ہے
08:53وہ بے تابیاں
08:54اسے تنگ کرنے لگ جاتی ہیں
08:55اس کے اندر اداسیاں پیدا ہوتی ہیں
08:57کہ یار میں تو اس سے پیار کرتا ہوں
08:59میں تو اس سے محبت کرتا ہوں
09:01وہ بھی کرتا ہوگا
09:03یہ تو یقیناً
09:04اس نے مجھے توفیق سجدہ نصیبی طبعی ہے
09:06لیکن میں بھی تو سننا چاہتا ہوں
09:09کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے
09:10میرے سجدوں کا مل ڈالا ہے اس نے
09:13اگر میں گلی گلی کی خاک چھانی
09:15اور نگر نگر گھوم کے
09:17اس کے حرم کے چکر کٹے
09:19اور دیوانہ وار گھوما
09:20تو وہ بھی تو کہے
09:21مجھے تیرے چکر عاشق زار نظر آ رہے ہیں
09:24اور میں تجھے پسند کرتا ہوں
09:26تو چکر کاٹتا ہے
09:28میرے حرم کا تواف کر رہا ہے
09:29میں تیرے اوپر رحمتیں نچاور کر رہا ہوں
09:31تو سننا چاہتا ہے بندہ
09:33وہ بھی کہے کہ ہاں
09:35تیری محبت قبول ہوئی
09:36تیری محبت مراد کو پہنچی
09:38تو آواز آئی
09:39تم یہ چاہتے ہو نا
09:41کہ وہ بھی تم سے محبت کا اظہار کرے
09:44اور اعلان کرے
09:45اور اس کی محبت کا تمہیں
09:47یقین تو ہے
09:51تو کہا کہ یہ اگر تم چاہتے ہو
09:55تو تم ایک طریقہ بتاتا ہوں
09:57تم محبت کا جواب چاہتے ہو
09:59تم ان سجدوں کا جواب چاہتے ہو
10:01تم تواف اور ان چکروں کا جواب چاہتے ہو
10:04تو تمہیں بتاتا ہوں
10:05میرے رسول کی چوکھٹ پہ آ
10:07اور ان کی اتباع کرو
10:10ان کی اتباع کرو
10:11تم نکلے تو محبت کرنے تھے
10:14تم عاشق زار بنے تھے
10:16لیکن یحبب قوم اللہ
10:18وہ خدا ہو کے تم سے محبت کرے
10:20اچھا یہاں میں ایک اور جملہ
10:23کہنا چاہوں اور وہ یہ
10:25کہ یہاں ذکر کیا گیا
10:27حضور کی اتباع کا
10:28تو اتباع سے قبل بھی محبت
10:30اتباع کے بعد بھی محبت
10:32قل انکنتم تحبون اللہ
10:36فتبعونی یحبب قوم اللہ
10:38یعنی اتباع سے پہلے بھی محبت
10:40اتباع کے بعد بھی محبت
10:42تو کوئی اتباع لالچ میں بھی ہوتی ہے
10:45کسی غلص میں بھی ہوتی ہے
10:47کہ میں اس کی بات مانوں
10:48تو مجھے یہ ملے گا
10:50لیکن کہا کہ
10:51تم نے میرے رسول کی اتباع
10:52ایسی کرنی ہے جس کے آگے بھی
10:54محبت ہو جس کے پیچھے بھی
10:55جب تم محبت کے دائرے میں
10:58رہ کے اتباع
11:00اور فرما بلتاری
11:01اور ان قیاد
11:02اور اتاق
11:04کے زمرے میں آ جاؤ گے
11:06تو پھر تم تو نکلے تھے
11:08رب سے پیار کرنے کے لیے
11:10لیکن وہ رب ہو کے خود کہتا ہے
11:11میں اب تم سے پیار کر
11:13اور درمیان میں اتباع
11:15میرے حضور کی آئی
11:16یہ مائک
11:18جس کمپنی نے بنایا ہے
11:20جب ہم مارکٹ سے خرید کے لائے تھے
11:23تو اس کے ساتھ
11:24ایک چھوٹی سی بک بھی آئی تھی
11:26جس میں یہ بتایا گیا تھا
11:29کہ اس کو ہم نے استعمال
11:30کیسے کرنا ہے
11:31خرابی کی صورت میں
11:34اس کی اصلاح کیسے ہوگی
11:35اور اگر اس کے مطابق
11:38ہم اس کو استعمال کریں
11:40جس طرح کی بیٹریز
11:42اس کے دن آنی چاہیے
11:43تو وہ ڈالیں گے
11:45تو دیر تک
11:46اس کے فوائد اور سبرات
11:48حاصل کرتے رہی ہیں
11:49لیکن اگر ہم اس کتاب کو
11:51جو اس کے ساتھ ہمیں ملی تھی
11:53جس کمپنی نے
11:54اسے بنایا ہے
11:56تو اس کا طریقہ استعمال
11:58ساتھ بتایا ہے
11:59اس کتاب کو پھاڑ کے پھینک دیں گے
12:01یا اس کو لپیٹ کے
12:03کہیں اچھی جگہ پہ رکھ دیں گے
12:05اور اس کو اپنی مرضی سے چلانا چاہیں گے
12:08تو پھر اپنی مرضی سے
12:11ہم اس سے فائدہ حاصل نہیں کر پائیں گے
12:14تھوڑا وقت فائدہ حاصل ہوگا
12:17لیکن نتیجہ
12:18کچھ بھی نہیں ہوگا
12:20جو کمپنی
12:21کوئی چیز تیار کرتی ہے
12:23تو اس کا طریقہ استعمال بھی
12:26ساتھ چھوٹی سید بک کی صورت کے اندر
12:28آپ کو دیتی ہے
12:30تو جس مالک نے حضرت انسان کو بنایا ہے
12:34اس نے ساتھ کتاب اللہ کو بھی بھیجا ہے
12:37اس کو پڑھتے جاؤ
12:39اور اپنی زندگی کو سوارتے جاؤ
12:41اس کے مطابق زندگی گزاریں گے
12:44تو زندگی سوکھی ہوگی
12:45اور اگر زندگی اپنی خواہش پہ گزاریں گے
12:49اور غلاف میں لپیٹ کے
12:51قرآن مجید کو اوپر رکھ دیں گے
12:53اور وہاں سے دیکھ کر کے
12:55اس کو آپریٹ نہیں کریں گے
12:58اس جسم کو
12:58تو پھر نتیجہ وہی ہوگا جو عمومی طور پہ متوقع ہیں
13:06تو اس لیے
13:07اتتمسق بکتاب اللہ
13:10اللہ کے بتائے ہوئے طریقہ حیات کے مطابق زندگی گزارنا ہو
13:16تو قرآن مجید کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چلا
13:19اگر تو مسلمہ بن کے جینا چاہتا ہے
13:31تو قرآن مجید کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا
13:34تو اس کتاب کے ساتھ تمسق اختیار کرنے کی
13:38تلقین کی
13:39اللہ کے محبوب نے اشارت فرمایا
13:42کہ میں تمہارے اندر دو بھاری چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں
13:46ان کو مضبوطی سے تھام لوگے تو کبھی بمرہ نہیں ہوگے
13:49اولہما کتاب اللہ
13:51ان میں سے پہلی چیز اللہ کی کتاب ہے
13:53فیہن الہدا والنور
13:55فخضو بے کتاب اللہ وستم سے کو بہی
13:58اس میں ہدایت ہے روشنی ہے
14:00اس کو مضبوطی سے پکڑ لو
14:02اچھی طرح سے تھام لو
14:04تم گمرہ نہیں ہوگے
14:05یار جو شخص نابینہ ہے
14:07اسے کیا پتا کہ یہ پھولوں کی بہاریں کیا ہوتی
14:11جو پیداشی نابینہ ہے
14:13اسے کیا پتا ہے
14:14کہ آسمان پر بزم کواقب کے رنگ کیا ہے
14:18اسے تطلی کے پروں میں
14:19قدرت کی سنائی کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے
14:22اسے مور کے پروں میں
14:24رنگوں کی مینہ کاری کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے
14:27اسے پھوٹتے جھرنوں بہتی ندیوں
14:30اور کوسے قضاء کی رنگینی
14:32اور دھنک کی شوخیوں کا
14:33لطف کیسے نصیب ہو سکتا ہے
14:35اس کو کیا پتا حسن کیا ہوتا ہے
14:38اس کو کیا پتا جمال کیا ہوتا ہے
14:40اسی طرح جس کے دل کی آنکھ اندی ہے
14:43اسے کیا پتا ہے
14:44کہ جمالِ خدا کیا ہوتا ہے
14:46اسے کیا پتہ ہے
14:48کہ سجدے کی لذت کیا ہوتی ہے
14:50اسے کیا پتہ ہے
14:51رکوع اور قیام کا مزہ کیا ہوتا ہے
14:53اسے کیا پتہ ہے
14:54کہ روزے کا سرور کیا ہوتا ہے
14:56تو اگر ہم اپنے دل کے میل اتاریں گے
15:00تو دل کی آنکھیں کھلیں گی
15:02تو پھر زندگی کا لطف آنا شروع ہوگا
15:04پھر پتہ چلے گا اسلام کیا ہے
15:06پھر پتہ چلے گا دین کیا ہے
15:09اللہ اکبر
15:10اس لئے قرآن کا
15:11جو دنیا میں اندہ رہا
15:18کل قیامت کے دن بھی نہ بینا اٹھائے
15:20اس سے ان آنکھوں کی بے نوری مراد نہیں ہے
15:23دل کی بے نوری مراد
15:24اقبال نے کہا تھا
15:26دل بینا بکر طلب خدا سے
15:28کہ آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
15:30آنکھ کا نور اور ہے
15:32دل کا نور اور ہے
15:33تو جس طرح آنکھ بے نور ہو جائے
15:36آنکھ پر دھن
15:37چالا ککرے
15:39اور سفید اور کالا موتیاں اتر آئے
15:42تو ہم سب کچھ پیچ کر کے بھی آنکھوں کا نور خریدنے کی کوشش کرتے ہیں
15:47تو یار کبھی
15:48اجڑے ہوئے دل کا بھی تو علاج کروا
15:50علاج تمہارے گھر میں پڑا ہے
15:52راتوں کی تنہائیوں میں اٹھ کے قرآن پڑو
15:55اور ساتھ رویا کرو
15:56دیکھنا دل کے محل اترنے شروع ہو جائیں گے
15:59اور دل کے پردے سے
16:01وہ غلاستیں جب اتریں گی تو پھر پتہ چلے گا
16:04کہ دل جمالِ یار کیسے دیکھتا ہے
16:06دل کی دنیا کیا ہے
16:08وچے ہی بھیڑے وچے ہی چھیڑے
16:10وچے ہی ونج مہانے ہو
16:12چودہ طبق دلے دے اندر
16:14تمبو وانگوں تانے ہو
16:15پھر پتہ چلے گا یہ دل دنیا کیا ہے
16:18پھر اس کی تڑپ
16:19اس کی بیچینی
16:20اس کا استراب
16:21زندگی کا حاصل بن جائے گا
16:24پھر زندگی کی بیچینی
16:25اور دل کی بیچینی
16:26اور دل کا
16:27محبوب کی یاد میں تڑپنا
16:29تمہیں سرور دے گا
16:30پھر تم ایک ایک عزب میں دل مانگو گے
16:33وہ مزا دیا تڑپ نے
16:35میری آرزو ہے یارب
16:36وہ مزا دیا تڑپ نے
16:38میری آرزو ہے یارب
16:41میرے دونوں پہلوں میں
16:42دلیں بے قرار ہوتا
16:43پھر سمجھ آئے گی
16:45کہ یہ دل کتنی قیمتی شئے ہے
16:47اللہ نے بدن میں آنکھیں بھی دو رکھی ہیں
16:49کان بھی دو رکھی ہیں
16:51ہاتھ اور پاؤں بھی دو رکھی ہیں
16:53لیکن دل ایک ہی رکھا ہے
16:54اور دل عرش اللہ ہے
16:56اللہ کا عرش ہے
16:57پھر پتا چلے گا
16:58تو آئیے
16:59دل سے زنگ اتاریں
17:01میل اتاریں
17:02دل مصفہ ہو
17:03دل خوبصورت بن جائے
17:05پھر دل کی کشکول پھیلا کے
17:07پھر عرز کریں
17:08ہر تمنہ دل سے رخصت ہو گئی
17:10اب تو آجا
17:11اب تو خلوت ہو گئی
17:13لیکن یہ میل کچیل سے اٹا ہوا ہوگا
17:15تو گندی جگہوں پہ محبوب تو نہیں آتے ہیں
17:18تو حسد
17:19حقد
17:19کینے
17:20بغض
17:21نفرتیں
17:22یہ ہم پالے رکھتے ہیں
17:23اپنی زندگی کو ہم نے خود بوجل بنایا ہوا ہے
17:26میاں حسد کرنے سے
17:28محسود کا کیا ہوگا
17:29ہم اپنے آپ کو تلخی میں مبتلا کیے ہوئے ہیں
17:32بغض رکھنے سے مبغوظ کا کیا ہوگا
17:35ہم اپنے آپ کو بوجھ میں مبتلا کی ہوئے
17:37تو اپنے دل سے یہ سارے بوجھ اتار کر کے
17:39جب دل کو مصفہ اور مزکہ کریں گے
17:42تو پھر دیکھئے کہ دل کے آئینے میں
17:44کیسے جمال یار دکھائی دیتا ہے
17:46تو اس دل کی اصلاح ہوگی
17:48کسرت کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے
17:51تو راتوں کی تنہائیوں میں اٹھ کے قرآن پڑھو
17:53دیکھنا کہ کیسے دل کے زنگ اترتے
17:56بعض لوگ بڑی عجیب خبر سناتے ہیں
17:58میاں تمہیں کیسے بتا
17:59وہ کہتا ہے میں رات اچانک نین نہیں آ رہی تھی
18:02تو ایک چینل کھولا
18:03تو اس میں یہ خبر چل گئی تھی
18:06تو میں نے کہا تجھے نین نہیں آ رہی تھی
18:08تجھے چینل کھولا کاش تُو قرآن کھول کے بیٹھ جاتا
18:11تجھے وہ دکھائی دیتا
18:13کہ تیرا اندر تیرا باہر روشن ہو جاتا
18:15تو راتوں کی تنہائیوں میں اٹھ کے
18:17قرآن مجید پڑھنے کا مزاج پیدا کریں
18:20اپنی صبح کا آغاز
18:22قرآن مجید کی تلاوت سے کریں
18:24اپنے دن کو سمیٹیں
18:25سونے کی تیاری کریں
18:27سورہ ملک سے اپنے معاملات کو سمیٹیں
18:30یہ چند دن کر کے دیکھ لیں
18:31اور اگر آپ کو معاشی مسائل ہیں
18:34مشکلات ہیں
18:35تو سورہ واقعہ اس کے لئے اکسیر ہیں
18:37صرف تین رکوع ہیں
18:39اتنی اکسیر
18:40کہ جس کی زندگی میں سورہ واقعہ آگئی
18:43وہ مشکلات میں مبتلا نہیں ہوتا
18:45اللہ اس کے لئے رزق کے دروازے کھول دے
18:47مدینہ کی گلی سے میرے حضور کا گزر ہوا
18:50ایک ایسا مکان بن رہا تھا
18:53جس طرز کے مکان کو حضور پسند نہیں کرتے
18:56تو پوچھا یہ کس کا مکان ہے
18:59کہا فلان ساری کا
19:00حضور گزر گئے
19:01کسی نے اس کو جا کے بتایا
19:03حضور تیری گلی سے گزرے تھے
19:05تیرے مکان کو دیکھا
19:07شاید حضور کو پسند نہیں آیا
19:08چہرہ بتا رہا تھا حضور کا
19:11کہ تیرا مکان اچھا نہیں رکھا
19:14انہوں نے قدال لیا
19:16اور مکان زمین کے برابر کرو لیا
19:19چند دن کے بعد حضور کا پھر گزر ہوا
19:23تو دیکھا کہ مٹی کا دھیر پڑا ہوا ہے
19:25ملبہ پڑا ہوا
19:26کہا اس شخص کو بلاؤ بلائیا گیا
19:29کہا میں گزرا تھا تیرا مکان بن رہا تھا
19:31اب مٹی کا دھیر پڑا ہے
19:32حضور میں نے گرا دیا
19:34فرمائے کیوں
19:35عرض کی سنا تھا آپ کو پسند نہیں
19:37سنا تھا آپ کو پسند نہیں
19:41میں اور آپ
19:42اپنی اندر رکھ رہے
19:43اور دیکھیں ہمارا کیا کیا حضور کو پسند
19:46محمد دی زیارت
19:49محمد دی رنگویج
19:50اٹھا گبازیاں جانے پیارا
19:52صل اللہ علیہ وسلم
19:56جب ان کے ہوئے
19:57تو پھر اپنی خواہش رہی کہاں
20:00اپنی رضا کو محبوب کی رضا میں
20:03فنا کر دینے کا نام ہی تو محبت ہے
20:05تیرے ہندیاں سندیاں محبوبا
20:08میں کافر ہوا جے میں ہوا
20:10اپنی نفی کرنے کا نام ہی تو محبت ہے
20:13لیکن
20:15میں اپنی خواہشات کا پتلا ہوں
20:18اور عاشق رسول بھی ہوں
20:19کیسی عجیب کہانی ہے
20:21میں اپنی آرزووں کا بندہ بھی ہوں
20:23اور عاشق رسول ہوں
20:24کیسی عجیب کہانی ہے
20:27جب ان کے ہو گئے پھر اپنا کچھ نہ رہا
20:30محبوب کی رضا میں
20:33اپنے آپ کو گم کرنے کا نام محبت ہے
20:36جب ان کے ہوئے
20:38تو پھر زندگی کا جمال
20:40زندگی کا نور نصیب ہوا
20:42زندگی کی حقیقتیں ہاتھ آگئے
20:45میں
20:46عاشق رسول کہلاتا ہوں
20:48حج اور عمرے بھی کرتا ہوں
20:51میں سوا لاکھ مرتبہ
20:53جو ہے وہ
20:54ہر ہفتے میں درود بھی پڑھتا ہوں
20:57میں محفل ملاد کرواتا ہوں
21:00پوری دنیا کے ناتخہ جمع کرتا ہوں
21:02لیکن حضور کی
21:04سنت چہرے پہ سجانے کی توفیق نہیں ہے
21:07مجھے حضور علیہ السلام کے
21:10بتائے ہوئے طریقے کو اختیار کرنے کے
21:12ضرورت نہیں ہے
21:13صاحب
21:14سوچیں
21:16کہیں آپ
21:17اپنے آپ سے دھوکہ تو نہیں کر رہے ہیں
21:19ان سے تو نہیں کیا جا سکتا
21:20ان سے دھوکہ کون کرے ہیں
21:23وہ تو جانتے ہیں کون کہاں کھڑا ہے
21:25میرے حضور بولے
21:27یاری لا توں پاک نبی سنگ
21:32اے پر پوری یاری
21:34یاری لا توں پاک نبی سنگ
21:38اے پر پوری یاری
21:40پھر درود قبول ہے تیرا لکھ نہ لو ایک بار
21:43پھر نہ لاکھ مرتبہ پڑھنا
21:46ایک باری پڑھ لینا وہ بھی قبول ہے
21:48اسحد و بلال انداللہ اشحد
21:52پھر بلال کا اسحد بھی قبول ہے
21:54وہ چیرہ اور چیرے کا تل نہیں دیکھتے
21:58بندے کا تل دیکھتے ہیں
22:00تو جب تم
22:02اپنے باطن کو حضور کے نام پہ لگاؤ گے
22:05تو پھر ایک ایک کمل ان کی سنت کی اتباہ پہ
22:08یہ صوفی کی علامات ہیں
22:10رنگ برنگے کپڑے پہن لینے سے صوفی نہیں بنتا
22:15مختلف رنگوں کے پٹکے باندھ لینے سے صوفی نہیں بنتا
22:21صاحب بھانگ گھوٹ کر پینے سے صوفی نہیں بنتا
22:24ڈھول کی تھاپک پر ناچنے اور رکس کرنے سے صوفی نہیں بنتا
22:29مختلف تصوف کی استلاحات کو یاد کر لینے سے صوفی نہیں بنتا
22:35محمد عربی کی غلامی سے صوفی بنتا ہے
22:38حضور کی چوکھٹ کی فقیدی سے صوفی بنتا ہے
Comments