**خوفناک سای
#horror
#Story#urduline
#Scarystory
ہ**
رات کا سنّاٹا تھا، ہوا میں ایک عجیب سی وحشت تھی۔ احمد گاؤں کے سنسان راستے سے گزر رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہو۔ وہ بار بار مڑ کر دیکھتا، مگر اسے کچھ نظر نہ آتا۔ اچانک، اسے ایک درخت کے سائے میں کوئی لمبا سا وجود کھڑا دکھائی دیا—ایک ہیبت ناک سایہ، جو دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھنے لگا۔
احمد کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس کے قدم خودبخود تیز ہونے لگے۔ سایہ بھی اسی رفتار سے قریب آ رہا تھا۔ خوف کے مارے اس کے بدن میں کپکپی طاری ہو گئی۔ اچانک سایہ اس کے بالکل قریب آ گیا۔ احمد نے ہمت کر کے پیچھے دیکھا تو ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ اس کے سامنے کھڑا تھا، آنکھوں میں دہکتے ہوئے سرخ شعلے!
احمد چیخنے ہی والا تھا کہ ڈھانچے نے سرگوشی کی:
"تم بچ نہیں سکتے..."
اگلی صبح گاؤں والوں کو احمد بے ہوش حالت میں راستے میں پڑا ملا۔ جب وہ ہوش میں آیا تو وہ بس ایک ہی جملہ دہرا رہا تھا:
"وہ آ رہا ہے... وہ آ رہا ہے..."
Comments