00:00اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30قرآن کے اہم نقاط موجود ہیں
00:31ہمارا مقصد صرف ان آیات کا ترجمہ پڑنا نہیں
00:35بلکہ مودودی صاحب کی فکر کی روشنی میں
00:38ان کے اندر جو گہرے مانی ہیں
00:40جو انتباہات ہیں
00:41خوش خبریاں ہیں
00:42ان کو سمجھنا ہے
00:44اور یہ دیکھنا ہے کہ یہ آج ہمارے لئے کیا مانے رکھتے ہیں
00:47جی بالکل
00:48اور یہ رکو توحید
00:50رسالت
00:51خاص طور پر قرآن کی حقانیت
00:53اور آخرت
00:55ان بنیادی عقائد کو بڑے ہی منطقی
00:57اور آپ کہیں کہ موثر انداز میں پیش کرتا ہے
01:00مودودی صاحب کی تشریح جو ہے
01:02وہ اس منطق اور اثر کو سمجھنے میں
01:05ہماری مدد کرے گی
01:06تو آئیے شروع کرتے ہیں اس جائزے کو
01:08اچھا
01:09اس رکو کا آغاز ہی بڑا دلچسک ہے
01:12آیت اکیس میں
01:13یا ایوہن ناس
01:15یعنی اے لوگو
01:16کہہ کر تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے
01:19یہ کسی خاص قوم
01:21یا مذہب کے پیروکاروں کے لئے نہیں ہے
01:23بلکہ پوری انسانیت کے نام پیغام ہے
01:26لیکن یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے
01:29کہ اگر پیغام سب کے لئے ہے
01:32تو کیا سب اس سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں
01:34مودودی صاحب اس نکتے پر کیا کہتے ہیں
01:37جی یہ بہت اہم سوال ہے
01:39مودودی صاحب وضاحت کرتے ہیں
01:41کہ دیکھیں دعوت تو عام ہے
01:43لیکن اس سے ہدایت پانا
01:45یا نہ پانا
01:46یہ دو چیزوں پر مناصر ہے
01:48پہلی چیز تو خود انسان کی اپنی طلب ہے
01:51اس کی نیت اس کی آمادگی
01:53کہ وہ حق کو قبول کرنے کے لئے
01:55تیار ہے بھی یا نہیں
01:57اور دوسری چیز ہے
01:58اللہ کی توفیق
01:59یعنی ہدایت کا راستہ تو
02:01اللہ دکھا دیتا ہے
02:02لیکن اس پر چلنے کی توفیق بھی
02:05اسی کی طرف سے ملتی ہے
02:06اور یہ توفیق وہ فرماتے ہیں
02:08انہی کو ملتی ہے
02:09جو خود اس کے طالب ہوں
02:12اچھا
02:12یعنی یہ دو طرف آماملہ ہے
02:14جی بلکل ایسا ہی ہے
02:16گویا دروازہ سب کے لئے کھلا ہے
02:18مگر اندر وہی آئے گا
02:20جو طلبگار بھی ہو
02:21اور جسے آپ کہلیں
02:22مالک خانہ اجازت بھی دے
02:24صحیح
02:25یعنی پہلا قدم انسان کو
02:27خود اٹھانا پڑتا ہے
02:29اچھا
02:29اس عالمگیر دعوت کے فوراں بعد
02:32آیت بائیس میں
02:33اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت
02:34یعنی پالنے والے اور مالک ہونے
02:37کے بڑے ٹھوز دلائل دیتا ہے
02:38زمین کو فرش بنا دیا
02:40آسمان کو چھت
02:41بارش سے رزق
02:43یہ تو ایسی چیزیں ہیں
02:44جن کا ہم روز مشاہدہ کرتے ہیں
02:46کیا مودودی صاحب کے نزدیک
02:48ان مثالوں میں کوئی خاص حکمت پوشیدہ ہے
02:51جی بالکل
02:52مودودی صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے
02:54کہ یہ دلائل اس لئے پیش کیے گئے ہیں
02:55کہ یہ وہ حقیقتیں ہیں
02:57جن کا انکار کرنا ممکن ہی نہیں
02:59حتیٰ کہ عرب کے وہ مشرقین بھی
03:01جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک ٹھراتے تھے
03:04وہ بھی دل سے مانتے تھے
03:05کہ زمین و آسمان کا خالق
03:07بارش برسانے والا
03:08اور رسک دینے والا تو اللہ ہی ہے
03:10قرآن گویا ان کے اپنے اندر
03:12جو چھپاوا اقرار ہے نا
03:14اسی کو جگا رہا ہے
03:15تو یہ ایک طرح سے ان کے
03:17اپنے ہی عقیدے کے تضاد کو واضح کرنا ہوا
03:20جی بالکل بالکل
03:21اسی لئے آیت کا اگلا حصہ
03:24فوراں ایک منطقی نتیجہ پیش کرتا ہے
03:26فلا تجعلوا للہ اندادا
03:29وانتم تعلمون
03:30پس جب تم یہ جانتے ہو
03:32تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھہراؤ
03:35مودودی صاحب انداد
03:37یعنی مد مقابل کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں
03:39کہ اس کا مطلب صرف بتوں کو پوجھنا ہی نہیں
03:42بلکہ اللہ کے جو اختیارات ہیں
03:44صفات ہیں
03:45یا حقوق بندگی ہیں
03:46ان میں کسی اور کو اس کے برابر سمجھنا
03:49یا شریک کرنا ہے
03:50چاہے وہ اختیارات خاکمیت کے ہوں
03:52یا غیب دانی کے
03:53یا دعا سننے اور مدد کرنے کے
03:56وہ کہتے ہیں
03:57کہ بندگی کی کونسی قسمیں خالص اللہ کے لیے ہیں
04:00یہ قرآن آگے خود تفصیل سے واضح کرے گا
04:02بنیادی نکتہ یہ ہے
04:04کہ جب خالق اور رازق صرف اللہ ہے
04:06تو عبادت اور بندگی کا حق دار بھی صرف وہی ہے
04:09ٹھیک
04:09اللہ کی ربوبیت کے ان واضح دلائل کو قائم کرنے کے بعد
04:14گفتگو قدرتی طور پر قرآن کی حقانیت کی طرف مڑتی ہے
04:18آیات 23 اور 24 میں تو
04:21ایک آپ کہیں کہ
04:22زبردست چیلنج دیا جا رہا ہے
04:25اگر تمہیں شک ہے
04:27کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے
04:29تو اس جیسی ایک صورت ہی بنا لاؤ
04:31اور اپنے تمام مددگاروں کو بھی بلالو
04:34مودودی صاحب نے اس چیلنج کے پسے منظر کے بارے میں کچھ بتایا ہے
04:38جی
04:39مودودی صاحب یاد دلاتے ہیں
04:40کہ یہ چیلنج کوئی نیا نہیں ہے
04:42یہ مکہ میں بھی کفار کو دیا جا چکا تھا
04:45اب مدینہ میں جہاں اسلام کو ایک نئی قوت اور مرکزیت حاصل ہو رہی تھی
04:50اس چیلنج کو دہرائی جا رہا ہے
04:52یہ گویا اللہ کی طرف سے ایک خجت تمام کرنا ہے
04:55کہ اگر یہ انسانی کلام ہوتا
04:57تو تم جو اپنی زبان دانی اور فصاحت و بلاغت پر اتنا ناز کرتے ہو
05:02اس جیسا کلام ضرور بنا سکتے
05:04لیکن تم نہیں بنا سکے
05:06اور پھر چیلنج کے ساتھ ہی ایک پیشگوئی بھی ہے
05:09بلکہ ایک طرح کا فیصلہ ہے
05:11فَإِنْلَمْ تَفَلُوا وَلَنْ تَفَلُوا
05:14پس اگر تم نے ایسا نہ کیا
05:17اور تم ہرگز نہیں کر سکتے
05:19یہ ہرگز نہیں کر سکتے کہنا تو بہت بڑی بات ہے
05:22یقیناً مودودی صاحب کے نزدیک یہ محض ایک دعویٰ نہیں
05:27بلکہ یہ اللہ کے علم غیب پر مبنی اعلان ہے
05:31کہ انسانیت قیامت تک اس چیلنج کو پورا کرنے سے آجز رہے گی
05:36اور اس اعلان کے فوراً بعد ایک سخت انتباع ہے
05:39فَتَّقُ النَّارَ اللَّتِ وَقُودُهَ النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
05:43وَعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ
05:46تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندن بنیں گے انسان و پتھر
05:50جو تیار کی گئی ہے منکروں کے لیے
05:52یہاں پتھر کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے
05:55اس میں کیا نکتہ ہو سکتا ہے؟
05:57کوئی خاص وجہ؟
05:58جی مودودی صاحب اس پتھر الہجارہ
06:02کے حوالے سے ایک بہت لطیف اشارے کی طرف توجہ دلاتے ہیں
06:05وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عام پتھر بھی ہو سکتے ہیں
06:09جو آگ کو مزید بھڑکائیں گے
06:11لیکن یہ بھی ممکن ہے
06:13کہ اس سے مراد خاص طور پر وہ پتھر کے بتھ ہوں
06:16جن کی یہ لوگ دنیا میں پوجا کرتے تھے
06:19گویا وہ معبود جن سے یہ امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے
06:23وہ خود بھی بیبس ہو کر ان کے ساتھ جہنم کا ایندھن بنیں گے
06:27یہ ان کی پوجا کی بے حقیقی
06:29اور ان معبودوں کی مکمل بیبسی کا ایک
06:32آپ سمجھے علامتی اظہار بھی ہے
06:35ہم یہ تو بہت سخت وعید ہے
06:38انکار کرنے والوں کے اس انجام کے ذکر کے بعد
06:42آیت پچیس میں فوراں ہی رخ اہل ایمام کی طرف مڑتا ہے
06:47اور انہیں خوشخبری دی جاتی ہے
06:48وَبَشِّرِ اللَّذِينَ آمَنُوا وَأَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
06:53جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے
06:56ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں
06:59یہاں پھلوں کا ذکر بھی بڑا دلچسپ ہے
07:02کہ وہ دنیا کے پھلوں جیسے ہوں گے
07:04اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے
07:06جی مودودی صاحب اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
07:10کہ جنت کے پھل جب پیش کیے جائیں گے
07:12تو اہل جنت انہیں دیکھ کر پہچانیں گے
07:15کہیں گے اوتینا من قبلو
07:17ایسے ہی پھل تو ہمیں پہلے
07:19یعنی دنیا میں دیے جاتے تھے
07:21یہ مشابہت جو ہے نا
07:23یہ شکل و صورت میں ہوگی
07:25جیسے آم، انار، انگور، سنترے وغیرہ
07:28اس شناسائی سے ان کی اجنبیت دور ہوگی
07:31اور خوشی بڑھے گی
07:32لیکن جہاں تک لذت اور ذائقے کا تعلق ہے
07:35وہ دنیا کے پھلوں سے
07:37کہیں کہیں زیادہ بہتر اور آلہ ہوں گے
07:40اچھا
07:41گویا، صورت جانی پہچانی
07:43مگر سیرت یعنی لذت وہ بے مثال ہوگی
07:47واہ، اور اسی آیت میں
07:49ازواج متحرہ
07:51یعنی پاکیزہ ساتھیوں کا بھی ذکر ہے
07:54مودودی صاحب نے اس کی کیا تشریح کی ہے؟
07:57جی، ازواج جماح زوج کی
07:59جس کا مطلب ہے جوڑا
08:01یعنی شوہر یا بیوی
08:02متحرہ کا مطلب ہے پاکیزہ
08:05ہر قسم کی ظاہری و باطنی نجاست اور گندگی سے پاک
08:09مودودی صاحب اس کی وضاحت میں
08:11ایک اہم نقطہ اٹھاتے ہیں
08:12جو دنیاوی رشتوں کے آخرت میں انجام سے متعلق ہے
08:16وہ فرماتے ہیں
08:17کہ اگر دنیا میں شوہر نیک تھا
08:20مگر بیوی بد
08:21یا بیوی نیک تھی
08:22مگر شوہر بد
08:23تو آخرت میں ان کا یہ رشتہ قائم نہیں رہے گا
08:27بلکہ نیک فرد کو
08:28اس کے عمل کے مطابق پاکیزہ ساتھی ملے گا
08:31البتہ
08:32اگر دنیا میں میاں بیوی دونوں نیک تھے
08:34اور اہل جنت میں شامل ہوئے
08:36تو آخرت میں ان کا وہی رشتہ قائم رہے گا
08:39اور وہ عبدی
08:40پاکیزہ محبت کے ساتھ ہمیشہ رہیں گے
08:44یہ ان کے لیے ایک اضافی انام ہوگا
08:46یہ تو واقعی ایک مکمل تصویر ہے جزا کی
08:49اچھا اب آیت چھبیس پر آتے ہیں
08:52جو اکثر
08:53سوالات کو جنم دیتی ہے
08:56اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
08:57کہ وہ مچھر
08:58یا اس سے بھی حقیر چیز کی
09:00مثال دینے میں نہیں شرماتا
09:03ان اللہ لا يستحی
09:05ان يضرب مثلم
09:07ما بعوذتم فما فوقہا
09:09یہ بات کیوں کہی گئی
09:11کیا اس وقت اس پر کوئی اعتراض ہو رہا تھا
09:14جی ہاں
09:15مدودی صاحب بتاتے ہیں
09:16کہ قرآن جب اپنی تعلیمات کو واضح کرنے کے لیے
09:19کبھی مکڑی کی مثال دیتا
09:21کبھی مکی کی
09:21یا جیسے یہاں مچھر کا ذکر آیا
09:23ایسی مثالیں دیتا تھا
09:25تو مخالفین خاص طور پر
09:27منافقین اور کفار
09:28وہ تنز کرتے تھے
09:29وہ کہتے تھے
09:30کہ بھئی یہ کیسا کلام الہی ہے
09:32جس میں اتنی چھوٹی اور حقیر چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے
09:35یہ تو اللہ کی شان کے خلاف ہے
09:37تو اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کا جواب دیا
09:40بلکل
09:41اللہ تعالیٰ نے واضح کیا
09:43کہ دیکھیں
09:49اس مقصد کے لیے جو مثال سب سے زیادہ موضوع ہو
09:52وہی استعمال کی جائے گی
09:54چاہے وہ بظاہر کتنی ہی چھوٹی
09:56یا بڑی کیوں نہ ہو
09:57اصل چیز مثال کی جسامت نہیں
09:59بلکہ اس سے حاصل ہونے والا سبق
10:02اور حکمت ہے
10:03آیت کا اگلا حصہ اسی بات کو مزید کھولتا ہے
10:06فَأَمَّا اللَّذِينَ آمَنُوا
10:08فَيَعْلَمُنَا أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ
10:11وَأَمَّا اللَّذِينَ كَفَرُوا
10:13فَيَقُولُونَ مَازَا عَرَادَ اللَّهُ بِحَاذَا مَثَلًا
10:16یعنی جو ایمان والے ہیں
10:19وہ تو جان لیتے ہیں
10:20کہ یہ مثال حق ہے ان کے رب کی طرف سے
10:23اور اس میں ضرور کوئی حکمت ہے
10:25مگر جو کافر ہیں
10:26وہ تنزن یا الجن سے کہتے ہیں
10:28کہ ایسی مثال سے
10:30اللہ کا آخر مطلب کیا ہے
10:31اچھا
10:32اور پھر اسی آیت میں یہ بھی کہا گیا
10:35کہ
10:35اللہ اس کے ذریعے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے
10:42اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے
10:43یہ بات سمجھنے میں کچھ مشکل لگتی ہے
10:46کیا اللہ خود گمراہ کرتا ہے
10:48حکمت کو سمجھتے ہیں
10:50اور ان کا ایمان بڑھتا ہے
10:52وہ ہدایت پاتے ہیں
10:53لیکن جو لوگ پہلے اسی حق کے مخالف ہیں
10:56جن کے دل ٹیڑے ہیں
10:57جو سمجھنا ہی نہیں چاہتے
10:59وہ انہی مثالوں پر اعتراض کرتے ہیں
11:01ان میں الچتے ہیں
11:03اور حق سے مزید دور ہو جاتے ہیں
11:05اس طرح وہ اپنی ہی کجروی کی وجہ سے
11:08گمراہی میں پڑھتے ہیں
11:09اللہ کا قانون یہ ہے
11:11کہ وہ ہدایت کے طالب کو ہدایت دیتا ہے
11:13اور گمراہی کے خواہشمند کو
11:15اسی راستے پر آپ کہلیں
11:17بھٹکنے دیتا ہے
11:18اور پھر آیت کا فیصلہ کن حصہ آتا ہے
11:21وَمَا يُدِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ
11:24اور وہ گمراہ انہی کو کرتا ہے
11:27جو فاسق ہیں
11:28تو گمراہی کا سبب خود انسان کا فاسق ہونا ہے
11:31یہ فاسق کون لوگ ہیں
11:33اگلی آیت یعنی آیت ستائیس میں
11:36شاید اسی کی وضاحت ہے
11:38مودودی صاحب نے اس کی کیا تعریف بیان کی ہے
11:40مودودی صاحب کی تشریح کی روشنی میں وہ یہ ہیں
11:43اول
11:44الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَحْدَ اللَّهِ بِمْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ
11:49وہ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں
11:53دوم
11:55وَيَقْتَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ اَنْ يُوْصَلَى
11:58اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے
12:02انہیں کاٹتے ہیں
12:03اور تصوم
12:04وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ
12:07اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں
12:09یہ تینوں نکات بہت اہم لگ رہے ہیں
12:11ان کی تھوڑی وضاحت ہو جائے
12:14خاص طور پر مودودی صاحب کے نکتے نظر سے
12:16یہ اللہ کا اہد سے کیا مراد ہے
12:19دیکھیں
12:20مودودی صاحب کے نزدیک
12:21اہداللہ سے مراد وہ بنیادی اور فطری اہد ہے
12:25جو ہر انسان نے اپنے خالق سے کیا ہے
12:29یہ وہ اہدالعست کہلاتا ہے
12:31جس کا ذکر سورہ آراف میں بھی ہے
12:34جب اللہ نے تمام انسانی روحوں سے پوچھا تھا
12:38کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں
12:40اور سب نے اقرار کیا تھا
12:42یہ اہد ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے
12:45کہ وہ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرے
12:48تو فاسق وہ ہے
12:49جو اس بنیادی فطری اہد کو جان بوچ کر توڑتا ہے
12:54اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرتا ہے
12:57اور دوسرا نکتہ جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم ہے
13:01انہیں کاٹنا یہ کون سے رشتے ہیں
13:03کیا صرف خونی رشتے
13:05نہیں یہ بہت وسی مفہوم رکھتا ہے
13:07مودودی صاحب کے مطابق
13:09اس میں صرف خونی رشتے یا رشتداریاں ہی نہیں
13:12بلکہ وہ تمام انسانی
13:15سماجی
13:16اخلاقی
13:16اور تمدینی تعلقات شامل ہیں
13:19جنہیں اللہ نے قائم رکھنے
13:21اور مضبوط کرنے کا حکم دیا ہے
13:23یہ تعلق میاں بیوی کا ہو
13:25والدین اور اولاد کا
13:27پڑوسیوں کا
13:28ایک انسان کا دوسرے انسان سے
13:30ایک قوم کا دوسری قوم سے
13:32حاکم اور ریایہ کا
13:33غرض ہر وہ تعلق
13:35جس کی بنیاد اللہ کے بتائے ہوئے
13:37اصولوں پر ہونی چاہیے
13:39اور مودودی صاحب یہاں
13:40ایک اور اہم بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں
13:42کہ کاٹنا
13:43یعنی قطع کرنا
13:44صرف تعلق توڑنا ہی نہیں
13:46بلکہ غلط بنیادوں پر
13:48تعلق قائم کرنا
13:49یعنی ناجائز
13:50اور غیر شریع تعلقات
13:52استوار کرنا بھی
13:53اسی زمرے میں آتا ہے
13:54اچھا یہ تو اہم نکتہ ہے
13:57جی کیونکہ ان دونوں کا نتیجہ
13:59ایک ہی ہے
14:00فساد اور بگاڑ
14:02اچھا تو یہ بہت جامہ
14:03تاریف ہوئی
14:04یعنی صرف تعلق
14:05ختم کرنا نہیں
14:06بلکہ غلط تعلق
14:07قائم کرنا بھی
14:08فساد کا باعث
14:10بن سکتا ہے
14:10اور تیسرا نکتہ
14:12زمین میں
14:13فساد پھیلانا
14:14مودودی صاحب کے نزدیک
14:15یہ پہلی دو باتوں
14:17کا لازمی نتیجہ ہے
14:18جب انسان
14:20اللہ سے اپنا اہد
14:21توڑ دیتا ہے
14:21یعنی اس کی ہدایت سے
14:23مو موڑ لیتا ہے
14:24اور اللہ کے قائم کردہ
14:26انسانی اور سماجی رشتوں
14:28کو کاٹتا یا بگاڑتا ہے
14:29تو اس کا نتیجہ
14:31زمین میں
14:32فساد
14:32بگاڑ
14:33ظلم
14:34اور بینصافی کی صورت
14:35میں ہی نکلتا ہے
14:36تو فاسق وہ ہے
14:38جو ان تینوں کاموں
14:39کا مرتقب ہو
14:40اور آیت کا اختتام
14:42ان کا انجام بتاتا ہے
14:44اولائی کا ہم الخاسرون
14:46حقیقت میں
14:47یہی لوگ نقصان
14:48اٹھانے والے ہیں
14:49دنیا میں بھی
14:50اور آخرت میں بھی
14:52تو بنیادی طور پر
14:53مودودی صاحب
14:54کہہ رہے ہیں
14:55کہ فاسق وہ ہے
14:56جو خدا سے
14:57اپنا وعدہ توڑے
14:58لوگوں سے
14:59رشتے خراب کرے
15:00چاہے وہ
15:01توڑ کر ہوں
15:01یا غلط جوڑ کر
15:03اور نتیجہ تن
15:04دنیا میں
15:04بگاڑ پیدا کرے
15:05بات تو سیدھی سی ہے
15:07لیکن کتنی
15:08گہری اور وسیل
15:09مانی ہے
15:10بلکل
15:11یہ تعریف
15:12ہمیں اپنی انفرادی
15:13اور اجتماعی زندگیوں
15:14کا جائزہ لینے پر
15:15مجبور کرتی ہے
15:16اس رکوع کے آخر میں
15:17آیات
15:18اٹھائیس
15:19اور انتیس
15:20ایک بار پھر
15:20انسان کو
15:21اس کی حقیقت
15:22یاد دلائی جا رہی ہے
15:23اور اللہ کی قدرت
15:25اور علم کا بیان
15:26تم اللہ کے ساتھ
15:32کفر کا رویہ
15:33کیسے اختیار کرتے ہو
15:35حالانکہ
15:35تم بے جان تھے
15:37اس نے تمہیں
15:37زندگی بکشی
15:38پھر وہی
15:39تمہیں موت دے گا
15:40پھر وہی
15:41تمہیں دوبارہ
15:41زندگی بکشے گا
15:42پھر اسی کی طرف
15:43تمہیں پلت کر جانا ہے
15:45یہ تو ایک
15:46مکمل دائرہ
15:47حیات بیان کر دیا گیا ہے
15:48جی
15:49یہ انسان کو
15:50اس کی ابتداء
15:51اور انتہا
15:52یاد دلا کر
15:53اللہ کی قدرت
15:54اور اپنے انجام
15:55کی طرف متوجہ
15:56کیا جا رہا ہے
15:57کہ تم تو کچھ بھی
15:58نہیں تھے
15:59ایک بے جان مادہ
16:00اللہ نے تمہیں
16:01زندگی جیسی
16:02عظیم نعمت دی
16:03پھر وہ تمہیں
16:04موت دے کر
16:04واپس اسی حالت
16:06میں لے جائے گا
16:06مگر بات یہاں
16:07ختم نہیں ہوتی
16:08وہ تمہیں
16:09دوبارہ زندہ کرے گا
16:10حساب کتاب کے لیے
16:11اور آخرکار
16:12لوٹنا اسی کی طرف ہے
16:14اب اس حقیقت
16:15کو جاننے کے بعد
16:16اللہ کا انکار
16:17یا نافرمانی
16:18یہ کیسے ممکن ہے
16:25لیے پیدا کرنے
16:26اور سات آسمان
16:28بنانے کا ذکر ہے
16:29یہ سات آسمان
16:30اس سے کیا مراد ہے
16:32مودودی صاحب
16:33اس بارے میں
16:33کیا کہتے ہیں
16:34سات آسمان
16:35یا سبا سماوات
16:36کی حقیقی نویت
16:38کے بارے میں
16:38مودودی صاحب
16:39موتاد رویہ
16:40اختیار کرتے ہیں
16:41وہ کہتے ہیں
16:42کہ ختمی طور پر
16:43کچھ کہنا مشکل ہے
16:44یہ کائنات کے ساتھ
16:46الگ الگ طبقات
16:47یا نظام بھی ہو سکتے ہیں
16:48یا زمین
16:49جس کائناتی نظام
16:50کا حصہ ہے
16:51اس کے ساتھ
16:52مختلف کرے
16:53یا حلکے بھی
16:54ہو سکتے ہیں
16:54اصل بات
16:56جو اس ذکر سے
16:57مقصود ہے
16:57وہ اللہ کی
16:58عظیم قدرت
16:59اس کی حکمت
17:00اور اس کی
17:01وسط تخلیق
17:02کا اظہار ہے
17:03اور آیت کا اختتام ہے
17:05وَهُوَ بِكُلِّ شَيْئِنْ عَلِيم
17:07اور وہ ہر چیز
17:08کا علم
17:09رکھنے والا ہے
17:10یہ اختتامی جملہ
17:12بھی بہت
17:12بہت مانے خیز
17:13لگتا ہے
17:14یقینات
17:14مودودی صاحب
17:15اس سے دو
17:16بڑے اہم نتیجے
17:17اخص کرتے ہیں
17:18پہلا
17:19یہ کہ
17:19اس خدا کے
17:20مقابلے میں
17:21کفر و بغاوت
17:22کی جررت
17:22کیسے کی جا سکتی ہے
17:23جو تمہاری
17:24ہر حرکت
17:25ہر نیت
17:26ہر سوچ
17:27سے واقف ہے
17:27جس سے
17:28کائنات کی
17:29کوئی چیز
17:29چھپی ہوئی نہیں ہے
17:30اور دوسرا یہ
17:31کہ جب
17:32ہدایت
17:32اور رہنمائی
17:33کی ضرورت
17:34ہو
17:34تو اس خدا
17:35کو چھوڑ کر
17:35جو تمام
17:36حقیقتوں
17:37کا علم
17:37رکھتا ہے
17:38جو علم
17:38کا اصل
17:39سرچشمہ
17:39ہے
17:40اور
17:40کہاں
17:40بھٹکتے
17:41پھر ہوگے
17:41اس سے
17:42مو موڑنے
17:43کا نتیجہ
17:43سوائی
17:44جہالت
17:44اور گمراہی
17:45کی تاریکیاں
17:46میں بھٹکنے
17:46کے اور
17:47کچھ
17:47نہیں
17:47نکل
17:47سکتا
17:48تو آج
17:49کے
17:49اس گفتگو
17:49کا
17:50اگر
17:50ہم خلاصہ
17:50کریں
17:51تو
17:51صورت
17:52البکرہ
17:52کے
17:52یہ
17:52تیسرا
17:53رکو
17:53ایک
17:53مکمل
17:54دعوت
17:54ہے
17:55یہ
17:55اللہ کی
17:56وہدانیت
17:56اور
17:57ربوبیت
17:57کے
17:57دلائل
17:58سے
17:58شروع ہوتا
17:58ہے
17:59قرآن
17:59کی
18:00سچائی
18:00پر
18:00ایک
18:00چیلنج
18:01پیش
18:01کرتا
18:01ہے
18:01پھر
18:02ایمان
18:03اور
18:03عمل
18:03صالح
18:04پر
18:04جنت
18:04کی
18:04خوش
18:04خبری
18:05دیتا
18:05ہے
18:05اور
18:06انکار
18:06پر
18:07جہنم
18:07کی
18:07وحید
18:08سناتا
18:08ہے
18:08جی
18:09اور
18:10اس
18:10دوران
18:10یہ
18:11مثالوں
18:12کی
18:12حکمت
18:12کو
18:12واضح
18:13کرتا
18:13ہے
18:13اور
18:13خاص طور پر
18:14فاسق
18:15کی
18:15جو
18:15تعریف
18:16ہے
18:16یعنی
18:16اللہ کا
18:17اہد
18:17توڑنے
18:17والے
18:18انسانی
18:19تعلقات
18:19بگاڑنے
18:20والے
18:20اور
18:20زمین
18:21میں
18:21فساد
18:21پھیلانے
18:22والے
18:22اس کی
18:23ایک
18:23جامعہ
18:23تعریف
18:24متعین
18:24کرتا
18:24ہے
18:25اور
18:25بتاتا
18:26ہے
18:26کہ
18:26اصل
18:26نقصان
18:27اٹھانے
18:27والے
18:27یہی
18:28لوگ
18:28ہیں
18:28بلکل
18:29اور
18:29یہی
18:30سے
18:30ایک
18:30سوچ
18:31اُبھرتی
18:31ہے
18:31جسے
18:32ہم
18:32اپنے
18:32سننے
18:33والوں
18:33کے
18:33لئے
18:33چھوڑ
18:34جاتے
18:34ہیں
18:34مودودی
18:35صاحب
18:35کی
18:35تشریح
18:36کے
18:36مطابق
18:36اللہ
18:37کے
18:37حکم
18:38کردہ
18:38رشتوں
18:38کو
18:39کاٹنا
18:39یا
18:40بگارنا
18:40فسق
18:41اور
18:41فساد
18:42کا
18:42باعث
18:42ہے
18:42تو
18:43سوال
18:43یہ
18:43پیدا
18:44ہوتا
18:44ہے
18:44کہ
18:44ہم
18:45ارد
18:45گرد
18:46نظر
18:46دوڑائیں
18:46اپنی
18:47ذاتی
18:47زندگی
18:48میں
18:48اپنے
18:48خاندان
18:49میں
18:49اپنے
18:49معاشرے
18:50میں
18:50حتی
18:50کہ
18:51عالمی
18:51سطح
18:51پر
18:52وہ
18:52کون
18:53سے
18:53تعلقات
18:54یا
18:54رشتے
18:55یا
18:55نظام
18:56ہیں
18:56جنہیں
18:56اللہ
18:57نے
18:57جوڑنے
18:57کا
18:58حکم
18:58دیا
18:58تھا
18:58لیکن
18:59وہ
18:59آج
18:59کٹے
19:00وے
19:00یا
19:00بگڑے
19:01وے
19:01نظر
19:01آتے
19:02ہیں
19:02اور
19:02اگر
19:03ایسا
19:03ہے
19:03تو
19:04انہیں
19:04دوبارہ
19:05صحیح
19:17کرتا ہے
Comments