- 10 minutes ago
Tafheem-ul-Quran تفہيم القرآن, “Towards Understanding the Qur’an”) is a renowned 6-volume translation and commentary of the Holy Qur’an authored by Maulana Syed Abul A‘la Maududi (1903–1979). Written between 1942 and 1972, it stands as one of the most influential modern works of Qur’anic exegesis.
Maulana Maududi combined classical scholarship with contemporary analysis, addressing themes of faith, morality, economics, politics, sociology, and history. His Tafseer explains Qur’anic verses with references to the Sunnah of Prophet Muhammad ﷺ, as well as the historical background of revelation.
This podcast series presents an AI-narrated Urdu audio version of Tafheem-ul-Quran, making Maududi’s monumental work more accessible to today’s listeners. The aim is to provide a deeper understanding of the Qur’an and its guidance in every aspect of life.
Tafheem-ul-Quran has been translated into multiple languages including English, Hindi, Bengali, Malayalam, Marathi, Pashto, and Sindhi. An abridged English version titled Towards Understanding the Qur’an was published by The Islamic Foundation in 2006, translated by Zafar Ishaq Ansari.
📌 Follow this series for a complete audio commentary of the Qur’an by Maulana Maududi.
Maulana Maududi combined classical scholarship with contemporary analysis, addressing themes of faith, morality, economics, politics, sociology, and history. His Tafseer explains Qur’anic verses with references to the Sunnah of Prophet Muhammad ﷺ, as well as the historical background of revelation.
This podcast series presents an AI-narrated Urdu audio version of Tafheem-ul-Quran, making Maududi’s monumental work more accessible to today’s listeners. The aim is to provide a deeper understanding of the Qur’an and its guidance in every aspect of life.
Tafheem-ul-Quran has been translated into multiple languages including English, Hindi, Bengali, Malayalam, Marathi, Pashto, and Sindhi. An abridged English version titled Towards Understanding the Qur’an was published by The Islamic Foundation in 2006, translated by Zafar Ishaq Ansari.
📌 Follow this series for a complete audio commentary of the Qur’an by Maulana Maududi.
Category
📚
LearningTranscript
00:00آج ہم سیدہ بلالہ مودودی کی جو شہرہ افاق تفسیر ہے تفہیم القرآن اس کے دیباچے کا ذرا گہرائی میں جائزہ لے رہے ہیں
00:09یہ وہ مقدمہ ہے جہاں مصنف خود ہمیں بتاتے ہیں کہ بھئی قرآن فہمی کے لیے اتنا کچھ پہلے سے موجود تھا
00:17اتنی تفاثیر اتنے ترجمے تو پھر انہیں ایک اور تفسیر لکھنے کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی
00:23دراصل اس دیباچے میں وہ جیسے خلا کی نشاندہ ہی کر رہے ہیں جسے وہ پر کرنا چاہتے تھے
00:30مطلب وہ کونسی ایسی تشنگی تھی جو وہ محسوس کر رہے تھے خاص طور پر جو جدید تعلیمیافتہ طبقہ ہے اس میں
00:37جی جی
00:38تو آج ہماری اس گفتگو کا مقصد صرف یہ جاننا نہیں کہ مودودی صاحب نے یہ کام کیوں شروع کیا
00:44بلکہ یہ بھی سمجھنا ہے کہ ان کا اصل محرک کیا تھا
00:48ان کا وہ خاص طریقہ جسے وہ ترجمانی کہتے ہیں وہ کیا چیز ہے اور کون سا طبقہ تھا جس کو وہ خاص طور پر ذہن میں رکھ کر یہ خدمت انجام دے رہے تھے
00:58تو آئیے اس پر بات کرتے ہیں
01:00تو سب سے پہلا سوال یہی ہے کہ تفیمل قرآن کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوئی جیسا کہ ہم نے کہا
01:07بہت کام تو پہلے سے موجود تھا اور مودودی صاحب نے خود بھی مانا ہے کہ بڑا قابل قدر کام ہو چکا تھا
01:13بلکل انہوں نے دیباچے کے شروع میں ہی یہ بات بہت واضح کی ہے کہ ان سے پہلے جو مفسرین گزرے ہیں جو مترجمین ہیں
01:21انہوں نے بہت ہی گران قدر خدمات انجام دیئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک ضرورت کی طرف اشارہ کیا جو انہیں لگ رہا تھا کہ بڑھتی جا رہی ہے
01:31اچھا
01:31وہ لکھتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں میں اور خاص طور پر جو نیا پڑھا لکھا طبقہ ہے ان میں قرآن کو سمجھنے کی خواہش تو بڑھ لی ہے
01:40مگر جو موجودہ لٹریچر تھا جو ترجمے تھے تفاصیر تھیں وہ اس طبقے کی ضرورت کو آپ کہلیں پوری طرح سے پورا نہیں کر پا رہی تھی
01:48یعنی ایک خاص طبقہ تھا جس کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی تھی
01:52جی انہوں نے بہت بہت واضح طور پر اپنا مخاطب بتایا وہ کہتے ہیں کہ میرا مقصد کوئی علماء کے لیے یا جو دینی علوم کے ماہر ہیں ان کے لیے ایک اور علمی تفسیر کا اضافہ کرنا نہیں ہے
02:03بلکہ میرا مخاطب وہ اوسط تعلیم یافتہ شخص ہے جو شاہد عربی زبان سے بہت گہری واقفیت نہیں رکھتا
02:11لیکن قرآن کا پیغام کیا ہے اس کی روح کیا ہے اس کا مدہ کیا ہے یہ سمجھنا چاہتا ہے
02:18وہ چاہتے تھے کہ جب یہ قاری قرآن پڑھے تو مطلب بلکل صاف صاف اس کے ذہن میں اترتا جائے اور وہ کتاب اللہ سے وہی اثر قبول کرے جو قرآن خود قاری پر ڈالنا چاہتا ہے
02:30تو یہ جو تشنگی تھی نا جو بڑھ رہی تھی اور موجودہ لٹریچر اسے ٹھیک سے بجھانی پا رہا تھا اس کو پورا کرنا انہوں نے اپنی ذمہ داری سمجھا
02:39یہ بات تو بہت اہم ہے کہ مقصد صرف معلومات دینا نہیں تھا بلکہ قرآن کا جو اثر ہے اس کو بھی منتقل کرنا تھا
02:48اچھا تو آئیے اس نکتے کو ذرا اور کھولتے ہیں وہ کونسی چیزیں تھیں جو مودودی صاحب کے خیال میں روایتی ترجموں میں خاص طور پر جو لفظ بلفظ ترجمے ہوتے ہیں ان میں قاری تک نہیں پہنچ پاتی
03:02کن مسائل کی طرف انہوں نے اشارہ کیا جے انہوں نے کئی بنیادی مسائلوں کی طرف توجہ دلائی
03:09سب سے پہلا اور شاید سب سے اہم وہ یہ سمجھتے تھے کہ لفظی ترجمے میں قرآن کی جو اصل عربی عبارت ہے
03:17اس کا عدبی حسن اس کا زور بیان اس کی بلاغت اور سب سے بڑھ کر اس کی گہری روحانی تاثیر وہ منتقل نہیں ہو پاتی
03:27وہ کہتے ہیں کہ قاری کو یا تو قرآن کی سطروں کی نیچے یا برابر میں ایک کولم میں ایک ایسی بے جان سی عبارت ملتی ہے
03:34جسے پڑھ کر نہ اس کی روح وجد میں آتی ہے نہ اس کے رنگٹے کھڑے ہوتے ہیں نہ آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں
03:41یعنی وہ کیفیت جو اصل عربی متن سے تاری ہوتی ہے وہ ترجمے میں کہیں کھو جاتی ہے
03:46بلکل بلکل مودودی صاحب نے اس کے لیے ایک مثال بھی دی کہ جیسے کسی دوا کے خوشک اجزاء تو آپ کو مل جائیں
03:57اثر کرتی ہے وہ غائب ہو وہ کہتے ہیں قرآن کی اصل عربی عبارت میں ایک ایسی سپریٹ بھری ہوئی ہے جو سخت سے سخت دل کو بھی موم کر دیتی تھی
04:07جس کی طاقت کا لوہا بڑے بڑے مخالفین بھی مانتے تھے وہ ترجمے کی چھلنی سے یوں سمجھے گزر ہی نہیں پاتی وہ اوپر ہی سے اوڑ جاتی ہے
04:17تو یہ عدبی اور روحانی حسن کا جو نقصان تھا یہ ان کے نزدیک بہت بڑا نقصان تھا
04:22اور پڑھنے کے انداز کا بھی کچھ مسئلہ تھا جس طرح ترجمہ عام طور پر پیش کیا جاتا ہے
04:27جی ہاں دوسرا مسئلہ انہوں نے یہ بتایا کہ ترجمہ جو ہے وہ عموماً یا تو بین السطور ہوتا ہے
04:34یعنی لفظ کے نیچے لفظ یا پھر ساتھ میں ایک کولم میں
04:38اب یہ طریقہ ٹھیک ہے کسی خاص لفظ کا مانا جاننے کے لیے تو شاید مفید ہو
04:43لیکن اس سے قرآن کو ایک مربوط کلام کے طور پر پڑھنے کا جو تسلسل ہے نا وہ بری طرح ٹوٹ جاتا ہے
04:50اچھا
04:51قاری قرآن کے پیغام میں پوری طرح ڈوب نہیں پاتا
04:54کیونکہ بار بار ایک غیر مانوس زبان کی عبارت یعنی اصل عربی مطن اس کے سامنے آتی ہے
05:00اس کی توجہ بٹاتی ہے
05:02وہ ایک رما دما کتاب کی طرح اسے پڑھی نہیں پاتا
05:05یہ تو ہوئی پیش کش کی بات
05:06لیکن خود قرآن کے اپنے اندازے بیان کے بارے میں بھی انہوں نے کچھ کہا جو ترجمے میں مشکل پیدا کرتا ہے
05:13یقینا یہ تیسرا اور بہت ہی اہم نکتہ تھا
05:16مودودی صاحب نے اس بات پر بڑا زور دیا
05:19کہ قرآن اصل میں کوئی لکھی ہوئی کتاب نہیں ہے
05:21جیسے عام کتابیں ہوتی ہیں
05:23یہ ایک تقریر ہے
05:24ایک خدبہ ہے
05:25جو تئیس سال کے عرصے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر موقع محل کی مناسبت سے نازل ہوتا رہا
05:32اب تقریر کی زبان اور تحریر کی زبان میں ظاہر ہے فرق ہوتا ہے
05:37تقریر میں بہت سی چیزیں لہجے پر ماحول پر سامنے والے کی سمجھ پر منصر ہوتی ہیں
05:43مثلاً کیا فرق ہوتا ہے
05:45مثلاً دیکھئے تقریر میں کئی بار مقرر کسی ایسے شک کا جواب دے دیتا ہے
05:50جو لوگوں کے ذہنوں میں ہوتا ہے مگر وہ پوچھتے نہیں
05:53سوال کا ذکر کیے بغیر ہی جواب شروع ہو جاتا ہے
05:56صحیح
05:57لہجے کے اتار چڑھاؤ سے پتا چل جاتا ہے کہ کونچی بات بیچ میں ویسے ہی کہی گئی ہے
06:01یعنی جملہ موت رضا ہے
06:03ماحول اور پسے منظر سے ہی کلام کا ربط سمجھا جاتا ہے
06:07پھر تقریر میں بولنے والا اور سننے والا بار بار بدلتا ہے
06:11کبھی اللہ تعالیٰ خود بات کر رہا ہے
06:12کبھی نبی کی زبان سے بات ہو رہی ہے
06:14کبھی غائب کا سیغہ ہے
06:16کبھی حاضر کا
06:17کبھی واحد
06:18کبھی جمع
06:18یہ ساری چیزیں تقریر میں جھان ڈالتی ہیں
06:21اسے پورا سر بناتی ہیں
06:22جی بلکل
06:23لیکن جب اسی تقریری انداز کو آپ لفظ بلفظ تحریر میں منتقل کرتے ہیں
06:28تو عبارت اکثر بے رب سی لگتی ہے
06:30بخریوی
06:32سمجھنے میں مشکل
06:33قاری کو لگتا ہے پتہ نہیں بات کہاں سے کہاں جا رہی ہے
06:35یہ تو واقعی ایک بڑا چیلنج ہے
06:37مطلب تقریر کی جو جان ہے
06:40اسے تحریر کے بے جان الفاظ میں کیسے سمویا جائے
06:42بلکل
06:43اور چوتھا مسئلہ تھا پسے منظر کا
06:45قرآن کی ہر آیت ہر صورت
06:48ایک خاص تاریخی سماجی پسے منظر میں اتری ہے
06:51خاص حالات تھے
06:52اس پسے منظر اور شان نزول سے
06:54اگر آپ بلکل الگ کر کے
06:56صرف لفظی ترجمہ پڑھیں گے
06:58تو بہت سی باتیں یا تو سمجھی نہیں آئیں گی
07:00یا ان کا غلط مطلب نکل سکتا ہے
07:01قاری قرآن کے اصل مدعا کو
07:05اس کی حکمت کو
07:06پوری طرح سمجھ نہیں پاتا
07:09اور پانچوہ نکتہ جو آپ نے پہلے بھی
07:11اشارتاً ذکر کیا
07:12وہ قرآن کی اپنی استلاحات کا ہے
07:14جی یہ بھی بہت اہم ہے
07:16قرآن بہت سے الفاظ کو
07:18ان کے عام لغوی معنے سے ہٹ کر
07:20خاص اسلامی استلاحی معنوں میں
07:23استعمال کرتا ہے
07:24جیسے مثال کے طور پر لفظ
07:26کفر کو ہی لے لیں
07:27یہ قرآن میں کئی الگ الگ مطلب سے
07:30استعمال ہوا ہے
07:31کہیں اس کا مطلب ہے مکمل بے ایمانی
07:34اور خدا کا انکار
07:36کہیں صرف کسی ایک حکم کو نہ ماننا
07:38کہیں ناشکلی
07:40کہیں صرف عملی نافرمانی
07:42اور کہیں دل میں عقیدہ نہ ہونا
07:44اب اگر ہر جگہ
07:46اس کا ترجمہ صرف انکار
07:48یا بے ایمانی کر دیا جائے
07:50تو ترجمہ شاید لغت کے حساب سے
07:52کسی حتہ ٹھیک ہو بھی
07:53لیکن قاری اصل مفہوم کی گرائی تک
07:56نہیں پہنچ پائے گا
07:57بلکہ وہ الجھن کا شکار ہو سکتا ہے
08:00غلط فہمی ہو سکتی ہے
08:01یہی حال ایمان
08:03اسلام
08:04تقوی
08:05سلات
08:06زکاة
08:06جیسی بہت سی بنیادی
08:08استلاحات کا ہے
08:09تو یہ وہ بنیادی مسائل تھے
08:12جن کی وجہ سے
08:12مودودی صاحب کو لگا
08:14کہ ایک نئے انداز کی ضرورت ہے
08:16اب آتے ہیں
08:17اس پہلو پر جو
08:18جو خاصا اہم ہے
08:19ان تمام مسائل کا حل
08:21انہوں نے کیا نکالا
08:23یہی پر وہ
08:24ترجمانی کا تصور سامنے لاتے ہیں
08:26یہ ترجمانی آخر ہے کیا
08:28اور یہ لفظی ترجمے سے
08:29کیسے مختلف ہے
08:30جی ہاں
08:31ان مسائل کے حل کے طور پر ہی
08:33مودودی صاحب نے
08:34ترجمانی کا طریقہ اپنایا
08:35انہوں نے یہ بھی
08:36بڑی وضاحت سے لکھا
08:38کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے
08:39کہ لفظی ترجمہ غلط ہے
08:40یا بیکار ہے
08:41اچھا
08:42بلکہ وہ
08:42شاہ ولیاللہ دہلوی
08:44شاہ عبدالقادر
08:45شاہ رفی الدین
08:46مولانا محمود الحسن
08:47ان سب بزرگوں کے
08:49جو لفظی ترجمے ہیں
08:50ان کی اہمیت
08:51اور افادیت کو
08:52کھلے دل سے مانتے ہیں
08:53وہ کہتے ہیں
08:54کہ جن مقاصد کے لیے
08:55لفظی ترجمہ چاہیے ہوتا ہے
08:57مثلا قرآن کے الفاظ
08:58کا بلکل سیدھا مطلب جاننا
09:00ان کے لیے یہ ترجمے بہترین ہے
09:02تو اگر لفظی ترجمہ
09:03اپنی جگہ ٹھیک ہے
09:05تو پھر ترجمانی کی ضرورت
09:07کیوں پڑی
09:07اس کا مقصد کیا تھا
09:09ترجمانی کا بنیادی مقصد یہ تھا
09:12کہ قرآن کی عبارت کو پڑھ کر
09:13مصنف نے
09:15یعنی انہوں نے خود
09:16جو مفہوم سمجھا ہے
09:18اور جو اثر قبول کیا ہے
09:19اسے ممکنہ حد تک پوری صحت
09:22اور دیانتداری کے ساتھ
09:24قاری کے لیے آسان
09:25روان اور بامہاورہ
09:27اردو میں منتقل کیا جائے
09:28یہاں زور صرف
09:30لفظی معنی پر نہیں تھا
09:32بلکہ مفہوم پر
09:33مدعا پر
09:34اور تاثیر پر
09:35تینوں پر تھا
09:37کوشش یہ تھی
09:38کہ ایک تو عبارت ایسی ہو
09:40کہ پڑھتے ہوئے یہ نہ لگے
09:41کہ یہ کسی دوسری زبان سے ترجمہ ہے
09:44بلکہ اردو کی اپنی فطری روانی ہو
09:46دوسرے
09:47تقریر کا جو فطری ربط اور بہاؤ
09:50اصل عربی میں ہے
09:51وہ تحریری اردو میں بھی محسوس ہو
09:53تیسرے
09:55کلام الہی کا جو مطلب اور مدعا ہے
09:57وہ بالکل صاف صاف واضح ہو جائے
09:59اور
09:59اور چوٹھے جہاں تک انسان کے بس میں ہے
10:02قرآن کا وہ شہانہ وقار
10:03وہ جلال
10:04وہ زور بیان
10:06بھی ترجمانی میں جھلکنے لگے
10:08یعنی یہ ایک طرح سے
10:09مفہوم اور روح کو زیادہ اہمیت دینا ہے
10:12لفظوں کی پبندی کے مقابلے میں
10:14لیکن اس میں تو یہ ڈر ہو سکتا ہے نا
10:17کہ ترجمہ کرنے والا
10:18اپنی طرف سے کچھ ڈال لے
10:20یا اصل مطن سے کہیں دور نکل جائے
10:22کیا مودودی صاحب نے
10:24اس پہلو پر غور کیا تھا
10:26یقینا
10:26یقینا
10:27یہ بہت نازک معاملہ تھا
10:29اور مودودی صاحب اس سے اچھی طرح واقف تھے
10:31انہوں نے خود لکھائے
10:32کہ معاملہ کلام الہی کا تھا
10:35اس لئے میں نے بہت ڈرتے ڈرتے ہی یہ آزادی بڑھتی ہے
10:38ان کا اصرار تھا
10:39کہ یہ آزادی بہت احتیاط سے استعمال کی گئی ہے
10:42اور پوری کوشش کی گئی ہے
10:44کہ قرآن کے اصل مطن کی جو حدود ہیں
10:46ان سے ذرا بھی آگے نہ بڑھا جائے
10:48مقصد قرآن کی تشریح کرنا نہیں تھا
10:51بلکہ قرآن جو کہہ رہا ہے
10:52اسے واضح کرنا تھا
10:54یہ ایک آزاد یا آپ کہہ لیں
10:56تشریحی ترجمانی
10:57ایکسپلینیٹری ٹرانسلیشن تھی
10:59نہ کہ تفسیر
11:00اچھا یہ فرق اہم ہے
11:02کہ یہ تفسیر نہیں
11:04بلکہ تشریحی ترجمانی ہے
11:06لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے
11:08کہ اگر ترجمانی میں اتنی آزادی ہے
11:11تو پھر وہ جو سیاکو سباک
11:13اور پسے منظر کی بات تھی
11:15جس کی کمی لفظی ترجمے میں محسوس ہوتی تھی
11:18وہ کیسے محفوظ رکھا گیا
11:20یہاں شاید ان دباچوں
11:22اور ہواشی کا کردار آتا ہے
11:23بلکل درست
11:24چونکہ ترجمانی خود
11:27اکیلے سارے پسے منظر اور ضروری تفصیلات
11:29کو اپنے اندر نہیں سم ہو سکتی تھی
11:31اس لیے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے
11:33دو اہم مددگار چیزیں استعمال کی گئیں
11:36ہر سورت کے شروع میں ایک تفصیلی دباچہ
11:38اور مطن کے ساتھ ساتھ
11:40ہواشی یعنی فٹ نوٹس
11:41یہ دباچے کس قسم کے ہوتے تھے
11:43ہر سورت کے شروع میں ایک مقدمہ
11:45یا دباچہ شامل کیا گیا ہے
11:47اس میں پوری تحقیق اور محنت کے ساتھ
11:49یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے
11:51کہ وہ سورت کب نازل ہوئی
11:52اس وقت کے تاریخی حالات کیا تھے
11:54مکہ یا مدینہ کا معاشرہ کیسا تھا
11:57اسلامی تحریک کس مرحلے پر تھی
11:59اور اس وقت مسلمانوں اور ان کے
12:01مخالفین کو کیا مسائل درپیش تھے
12:03اس کا مقصد یہ تھا
12:05کہ قاری جب سورت پڑھے
12:07تو وہ اس کے پورے پسے منظر
12:09سے واقف ہو
12:10اور آیتوں کا مطلب ان کے صحیح سیاکو
12:13سباک میں سمجھ سکے
12:14یہ دیواشے آپ یوں سمجھیں
12:16ہر سورت کو اس کے تاریخی کینوس پر
12:19رکھ کر دیکھنے میں مدد دیتے ہیں
12:21اور ہواشی یعنی فٹ نوٹس
12:24ان کا کیا مقصد تھا
12:25اور انہیں کہاں کہاں استعمال کیا گیا
12:27ہواشی کے بارے میں مودودی صاحب
12:29نے یہ وضاحت کی
12:30کہ وہ صرف دو طرح کی جگہوں پر لکھے گئے ہیں
12:33ایک تو وہاں جہاں انہیں لگا
12:35کہ ایک عام قاری جو شاید گہرے
12:37دینی علم یا عربی سے واقف نہیں ہے
12:39اس مقام پر کسی وضاحت کا محتاج ہوگا
12:42یا اس کے ذہن میں کوئی سوال اٹکے گا
12:45یا وہ کسی شک میں پڑ سکتا ہے
12:47ٹھیک
12:47اور دوسرے وہاں جہاں انہیں یہ ڈر ہوا
12:50کہ قاری اس مقام سے بس سرسری طور پر گزر جائے گا
12:53اور قرآن کے بیان کی جو اصل گہرائی ہے
12:56یا جو روح ہے
12:57وہ اس پر پوری طرح واضح نہیں ہو سکے گی
13:00کیا ان ہواشی میں
13:01بہت لمبی چوڑی علمی بحثیں بھی شامل تھی
13:04نہیں
13:05موضانی صاحب نے جان بوچ کر اس سے گریز کیا
13:07ان کی پوری کوشش یہ رہی کہ
13:09ہواشی مختصر ہوں اور صرف متعلقہ نکتے تک محدود رہیں
13:13ان میں کوئی ایسی فقہی
13:14کلامی یا فلسفیانہ بحث نہ چھیڑی جائے
13:17جو قاری کی توجہ قرآن کے اصل پیغام سے ہٹا کر
13:20فروئی مسئلوں کی طرف لے جائے
13:22مقصد صرف اور صرف قرآن کو سمجھنے میں مدد دینا تھا
13:25قاری کو علمی بحثوں میں الجھانا نہیں
13:28وہ چاہتے تھے کہ قاری کا رشتہ سیدھا قرآن سے جڑے
13:31یعنی دباچے تو پورا منظر نامہ سامنے رکھ دیتے ہیں
13:34اور ہواشی خاص خاص جگوں پر ضروری وضاحتیں دے دیتے ہیں
13:38تاکہ ترجمانی کے ساتھ مل کر ایک مکمل تصویر بن جائے
13:42جی بالکل
13:43ترجمانی متن کا بہاؤ اور روح دیتی ہے
13:46دباچے تاریخی اور موضوعی سیاق و سباق فراہم کرتے ہیں
13:50اور ہواشی مشکل جگوں
13:51یا اہم نقاط کی گرہیں کھولتے ہیں
13:54یہ تینوں مل کر اس مقصد کو پورا کرتے ہیں
13:56جو مصنف کے ذہن میں تھا
13:58یہ تو ہوئی تفہیم القرآن کی ساخت
14:00اور اس کے طریقے کی
14:01اچھا مودودی صاحب نے پڑھنے والوں کے لیے بھی
14:04کوئی رہنمائی دی
14:04کہ بھئی اس تفسیر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اٹھایا جائے
14:08جی ہاں بالکل
14:09انہوں نے دباچے کے آخر میں پڑھنے والوں کے لیے
14:12ایک طریقہ بھی بتایا
14:13تاکہ وہ اس کام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں
14:16انہوں نے چار قدم بتائے
14:18اچھا کیا تھے وہ
14:19پہلا قدم
14:20کسی بھی صورت کو پڑھنا شروع کرنے سے پہلے
14:23اس کا دباچہ غور سے پڑھا جائے
14:25اور جب تک وہ صورت پڑھتے رہیں
14:27بیچ بیچ میں اس دباچے پر دوبارہ نظر ڈالتے رہیں
14:31تاکہ پسے منظر ذہن میں تازہ رہے
14:33ٹھیک
14:33دوسرا قدم
14:34روز جتنا حصہ پڑھنا ہو
14:36اس کا پہلے کسی مستند لفظی ترجمے سے مطالعہ کر لیا جائے
14:40جیسے شاہ عبدالقادر کا
14:42یا مولانا محمود الحسن کا ترجمہ
14:44تاکہ اصل الفاظ اور ان کے سیدھے مانے سے کچھ واقفیت ہو جائے
14:48ٹیسرا قدم
14:49اس کے بعد تفہیم القرآن کی ترجمانی کو
14:52ہواشی کی طرف توجہ دیے بغیر
14:54ایک مسلسل عبارت کی طرح پڑھا جائے
14:57تاکہ پوری صورت یا اس حصے کا مضمون
14:59اس کا مرکزی خیال اور اس کا بہاؤ اور ربط
15:03اچھی طرح سمجھ میں آ جائے
15:04اچھا پہلے صرف ترجمانی پڑھے
15:06جی اور پھر چوتھا قدم
15:08آخر میں ایک ایک آیت کو تفصیل سے سمجھنے کے لیے
15:11ترجمانی کے ساتھ ساتھ
15:13اس سے مطالقہ ہواشی کا مطالعہ کیا جائے
15:15یہ جو مرحلہ وار طریقہ ہے
15:18اس کا مقصد کیا تھا
15:20یہ کچھ پیچیدہ سا نہیں لگتا
15:22بظاہر شاہد لگے
15:23لیکن اس کا مقصد یہ تھا
15:25کہ قاری قرآن کو کئی پہلوں سے سمجھ سکے
15:28لفظی ترجمے سے
15:29الفاظ کی بنیاد پتا چلے
15:31ترجمانی سے مفہوم کا بہاؤ اور روح ملے
15:34دیباچے سے سیاق و سباق واضح ہو
15:36اور ہواشی سے تفصیلات
15:38اور اہم نکتے روشن ہوں
15:40مودودی صاحب کو امید تھی
15:41کہ اس طرح مطالعہ کرنے سے
15:43ایک عام قاری کو جو عالم نہیں ہے
15:46قرآن مجید کی عالمانہ نہیں
15:48تو کم اس کم آمیانہ واقفیت
15:50ضرور حاصل ہو جائے گی
15:55تو ان سب باتوں کا حاصل کیا نکلا
15:58خلاصہ یہ ہے
16:00کہ تفہیم القرآن کا دیباچہ
16:02ہمیں بتاتا ہے
16:03کہ یہ تفسیر ایک بہت سوچی
16:06سمجھی کوشش تھی
16:07اس خلا کو پر کرنے کی
16:09جو جدید تعلیمیافتہ
16:11اردو جاننے والے تبقے
16:13اور قرآن کے براہ راست پیغام
16:16کے درمیان کہیں پیدا ہو گیا تھا
16:18اس کے لیے صرف یفزی
16:20ترجمے کو کافی نہیں سمجھا گیا
16:22بلکہ ترجمانی کا ایک نسبتا
16:24آزاد مگر بہت محتاط
16:26انداز اپنایا گیا
16:27جسے پھر صورتوں کے تفصیلی دیباچوں
16:30اور مختصر مگر جامع
16:31ہواشی سے سہارا دیا گیا
16:33تاکہ مفہوم پسمنظر اور تاثیر
16:36یہ تینوں پہلو جہاں تک
16:38ممکن ہو سامنے آسکیں
16:39بلکل اور اس دیباچے سے
16:41ایک اور چیز جو بہت نمائیہ ہو کر سامنے آتی ہے
16:44وہ ہے خود مصنف کی غیر معمولی
16:46لگن اور محنت
16:47وہ بتاتے ہیں کہ اس کام کا آغاز
16:49انہوں نے فروری 1942 میں کیا
16:51پانچ سال سے زیادہ عرصے تک
16:53یہ چلتا رہا پھر ملکی حالات
16:55اور ذاتی مصروفیات کی وجہ سے رکافتیں آئیں
16:58اور آخر کار
16:59اکٹوبر 1948 میں
17:01جب وہ گرفتار ہوئے
17:03تو جیل کی قید کے دوران انہیں وہ
17:05یکسوئی اور فرصت ملی کہ وہ اس کام پر
17:07نظرے سانی کر کے اسے چھپنے کے قابل
17:09بنا سکیں یہ تقریباً
17:11تیس سال پر پھیلا ہوا ایک لمبا سفر تھا
17:14واقعی یہ ایک بہت
17:15بڑے منصوبے کے پیچھے گہری سوچ
17:18اور بہت طویل محنت کی دستان ہے
17:20اس کے ساتھ ساتھ
17:21دیباچے کے آخر میں ان کا جو
17:23اجزو انکسار ہے وہ بھی
17:25قابل ذکر ہے اتنی محنت
17:27اور قاوش کے بعد بھی وہ
17:29پڑھنے والوں سے اور اہل علم
17:32سے درخواست کرتے ہیں
17:33کہ اگر انہیں اس کام میں کوئی غلطی نظر آئے
17:36کوئی کمی محسوس ہو
17:37یا کسی پہلو سے تشنگی لگے
17:40تو وہ انہیں ضرور بتائیں
17:41تاکہ آئندہ ایڈیشنز میں
17:43اس کی اصلاح کی جا سکے
17:45اور اس خدمت کو زیادہ سے زیادہ
17:46مفید بنایا جا سکے
17:48یہ علمی دیانت داری
17:50اور اپنی بشری کمزوریوں کا اطراف
17:52یہ بھی اس دیباچے کا ایک اہم پہلو ہے
17:55اس میں جو بات غور کرنے کی ہے
17:57وہ یہ ہے
17:57کہ یہ دیباچہ صرف ایک تفسیر کا
18:00مقدمہ نہیں ہے
18:01یہ تو زبان، ترجمہ، متن اور قاری
18:05کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے
18:07اور کسی پیغام کو خاص طور پر
18:09ایک مقدس پیغام کو
18:10ایک ثقافت سے دوسری ثقافت میں
18:13منتقل کرنے میں جو مشکلات آتی ہیں
18:15ان پر غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے
18:18بلکل
18:19یہ ہمیں دکھاتا ہے
18:20کہ ترجمہ صرف لفظوں کا کھیل نہیں
18:22بلکہ مفہوم، روح اور اثر
18:24کو منتقل کرنے کا
18:25ایک بہت ہی پیچیدہ اور ذمہ دارانہ عمل ہے
18:29صحیح کہا
18:29اور یہی سے ہمارے لیے آج کا
18:31ایک سوچنے والا نکتہ نکلتا ہے
18:33کسی بھی گہرے، فکری، عدبی
18:36یا مقدس مطن کے صرف الفاظ نہیں
18:39بلکہ اس کی اصل روح
18:41اس کا ثقافتی پس منظر
18:43اور اس کا جو مطلوبہ اثر ہے
18:45اسے کسی دوسری زبان
18:47اور دوسرے ذہن تک پہنچانے کا
18:48یہ جو چیلنج مودودی صاحب نے محسوس کیا
18:51اور جس کا حل انہوں نے
18:52ترجمانی کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی
18:55یہ آج ہمارے لیے کیا مائنے رکھتا ہے
18:58جب ہم دوسری ثقافتوں کو
19:00دوسرے نظریات کو
19:02یا تاریخ کے مختلف
19:03ادوار کے لٹرچر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
19:06تو کیا صرف لفظی سطح پر
19:08یا ستھی طور پر چیزوں کو لینا
19:10ہمیں ان کے گہرے پیغام
19:11ان کی حقیقی روح
19:13اور ان کی پیچیدگیوں سے محروم تو نہیں کر دیتا
19:15کیا گہرائی میں اترنے کے لیے
19:17ہمیں بھی کسی نہ کسی قسم کی
19:19ترجمانی کی ضرورت نہیں پڑتی
Be the first to comment