Skip to playerSkip to main content
Tafheem-ul-Quran . “Towards Understanding the Qur’an”) is a renowned 6-volume translation and commentary of the Holy Qur’an authored by Maulana Syed Abul A‘la Maududi (1903–1979). Written between 1942 and 1972, it stands as one of the most influential modern works of Qur’anic exegesis.
#tafheemulquran

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اچھا اکثر جب ہم قرآن مجید کھولتے ہیں تو ایک احساس ہوتا ہے کہ یہ عام کتابوں جیسی نہیں ہے
00:07جی بالکل
00:08مزامین اچانک بدل جاتے ہیں کبھی تاریخ کبھی ہدایت سب ایک ساتھ کوئی وہ باب بندی بھی نظر نہیں آتی
00:16صحیح
00:17شروع میں یہ چیز تھوڑی الجن پیدا کرتی ہے نا
00:20ہاں یہ عام تجربہ ہے
00:21تو آج ہمارے سامنے سید ابو العالی مودودی کی مشہور زمانہ تفسیر تفہیم القرآن اس کا مقدمہ ہے
00:29اور یہ مقدمہ آپ کہہ لیں ایک طرح سے کلید ہے خاص طور پر ان الجنوں کو سلجھانے کے لیے جو قرآن کے اس منفرد انداز کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں
00:39بلکل یہ سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے
00:42یہ ہمیں بتاتا ہے کہ قرآن کو آخر پڑھنا کیسے ہے سمجھنا کیسے ہے
00:46صحیح
00:47تو آج اس گفتگو کا مقصد یہی ہے کہ اسی مقدمے کی روشنی میں وہ بنیادی باتیں سمجھیں جو قرآن فہمی کی راہ میں امید ہے مددگار ثابت ہوں
00:56ٹھیک ہے آئیے پھر اس پر ذرا تفصیل سے بات کرتے ہیں
00:59ضرور
00:59تو سب سے پہلی بات جو قاری کو محسوس ہوتی ہے وہ یہی قرآن کا بظاہر کیا کہیں گے غیر روایتی انداز ہے
01:07جی غیر روایتی
01:09ہم کتابوں سے ایک خاص ترتیب کے عادی ہوتے ہیں مطلب ایک موضوع شروع ہو تفصیل سے بیان ہو پھر ختم ہو ابواب ہو انوانات ہو
01:18جی ہاں ایک الینگ نیئر فلو ہوتا ہے
01:21ہاں قرآن میں یہ چیز نہیں ملتی ایمان کی باتیں ہیں اخلاقی نصیحتیں ہیں قانون ہیں پچھلی قوموں کے قصے ہیں کہیں دعوت دی جا رہی ہے کہیں ڈرائیا جا رہا ہے سب ساتھ ساتھ چلتا ہے
01:34بلکل ایک انٹرووون ٹیپسٹری کی طرح اور کبھی کبھی ایک ہی بات مختلف طریقوں سے دہرائی بھی جاتی ہے
01:41جی تکرار بھی ہے
01:42اس سے قاری کو یعنی جو نیا ہو اسے لگ سکتا ہے کہ شاید یہ کلام مرتب نہیں ہے
01:49ہاں یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے
01:51لیکن مودودی صاحب یہیں پہلا نکتہ اٹھاتے ہیں کہ یہ بے ترتیبی یا ادم تسلسل نہیں ہے
01:57نہیں بلکل نہیں
01:58بلکہ یہ قرآن کا اپنا ایک خاص انداز بیان ہے جو اس کے نازل ہونے کے مقصد اور طریقے سے جڑا ہوا ہے
02:07سوچ بچار کر کے لکھ دیو
02:08ہاں ہاں
02:09اسے سمجھنے کے لیے اس کی اصلیت اس کا مقصد اور اس کا جو نزول کا پس منظر ہے کانٹیکسٹ اس کو سمجھنا نہ گزیر ہے
02:16تو پس منظر کیا ہے اس کا
02:18دیکھیں وہ اس کی بنیاد یوں سمجھاتے ہیں
02:21اللہ تعالیٰ وہ کائنات کا خالق ہے مالک ہے حاکم ہے
02:25ٹھیک
02:25اس نے انسان کو زمین پر اپنا نائب یعنی خلیفہ بنایا ہے
02:29اسے علم دیا
02:30سوچنے سمجھنے کی صلایت دی
02:32اچھے برے کی پہچان دی
02:34اور انتخاب کی آزادی بھی دی
02:35یعنی ذمہ داری دی ہے
02:37جی ہاں ذمہ داری
02:38اور یہ دنیا جو ہے یہ ایک امتحانگاہ ہے
02:41انسان کی ذمہ داری یہ ہے
02:43کہ وہ اللہ کو ہی اپنا حاکم مانے
02:45اس کی دی ہوئی ہدایت پر چلے
02:47جسے اسلام کہتے ہیں
02:48اور اپنی نظر آخرت کی کامیابی پر رکھے
02:51صحیح
02:52یہ ہدایت اللہ نے پہلے انسان
02:54حضرت آدم علیہ السلام ان کو دی تھی
02:56پھر جب بھی انسان اس سے دور ہوا
02:58بھٹکا
02:58اللہ نے اپنی نبیوں کے ذریعے سے تازہ کیا
03:01اچھا
03:01یعنی انبیاء کا سلسلہ اسی لیے تھا
03:05جی بلکل
03:05اور اسی سلسلے کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
03:09جن پر یہ قرآن نازل ہوا
03:11اچھا یعنی انسان کی حیثیت
03:13زمین پر اللہ کے نائب کی ہے
03:15اور یہ زندگی ایک امتحان ہے
03:18جس میں رہنمائی کے لیے قرآن آیا
03:20یہ ہے بنیادی نکتہ
03:22جی ہاں
03:23اور جب یہ پسے منظر سمجھ میں آ جائے
03:25تو پھر قرآن کا انداز جو نہ وہ زیادہ بامانی لگنے لگتا ہے
03:28کیسے
03:29ایسے کہ یہ ایک ایسی ہستی کا کلام ہے
03:32جو اپنے نائب کو
03:33یعنی انسان کو ہدایات دے رہی ہے
03:35اسے اس کی ذمہ داریاں یاد دلا رہی ہے
03:38امتحان میں کامیابی کا راستہ بتا رہی ہے
03:40تو ظاہر ہے اس کا انداز کام درسی کتاب جیسا تو نہیں ہوگا
03:43سہی سہی
03:44اچھا اس پسے منظر کے بعد
03:46مدودی صاحب قرآن کے موضوع
03:48اس کے مرکزی خیال اور مقصد کو
03:51بہت واضح طور پر بیان کرتے ہیں
03:53جی یہ بہت اہم ہے
03:54ان کے مطابق قرآن کا موضوع اصل میں
03:57انسان ہے
03:58لیکن اس زاویے سے
04:00کہ انسان کی حقیقی کامیابی
04:03یا ناکامی کس چیز میں ہے
04:04فلاح یا خسران
04:07مرکزی مضمون
04:09یا سینٹرل تیم
04:10وہ یہ ہے کہ انسان
04:13نے اللہ کائنات
04:15اپنی زندگی اپنے مستقبل
04:17ان سب کے بارے میں جو
04:19نظریات بنا لیے ہیں نا
04:20اپنی کام علمی سے یا اندازوں سے
04:23یا خواہشات کی بنیاد پر
04:25جی جی وہ غلط ہے
04:26اور خود اسی کے لیے نقصان دے ہیں
04:29اصل حقیقت اور
04:31صحیح رویہ وہ ہے جو
04:33اللہ نے وحی کے ذریعے بتایا ہے
04:35بلکل واضح
04:36اور قرآن کا مدہ یا مقصد
04:38وہ ہے انسان کو
04:40اسی صحیح رویہ کی طرف بلانا
04:42اور اللہ کی اس ہدایت کو
04:45بلکل صاف صاف پیش کرنا
04:47جسے انسان یا تو بھول گیا
04:49یا اس میں رد و بدل کر کے
04:51خراب کر دیا
04:51صحیح
04:52تو اس سب کا کیا مطلب ہے
04:54مطلب یہ نکلا
04:55کہ قرآن میں جو کچھ بھی ہو
04:57چاہے وہ عقائد ہوں
04:58عبادات ہوں
04:59اخلاقیات ہوں
05:00قانون تاریخ
05:02یا قائنات پر غور و فکر کی دعوت
05:04وہ سب اسی ایک مرکزی مقصد
05:07کی طرف لے جاتا ہے
05:08یعنی سب کچھ مربوط ہے
05:09ہاں
05:10یہ مرکزی خیال ہی
05:12ان تمام متنوے مضامین کو
05:14ایک جیسے تسبیح کے دانے ہوتے ہیں
05:17اس طرح پرو دیتا ہے
05:19بلکل
05:20اور قرآن کی انداز کو سمجھنے میں
05:22ایک اور بہت اہم پہلو ہے
05:24وہ ہے اس کا بتدریج نازل ہونا
05:26تدریجی نزول
05:27اچھا
05:28یعنی یہ ایک ساتھ نہیں آیا
05:30نہیں
05:31بلکل نہیں
05:31یہ کتاب ایک ہی وقت میں نازل نہیں ہوئی
05:34یہ تو تقریباً
05:35تئیس سال کے عرصے میں
05:36تھوڑا تھوڑا کر کے
05:37حالات اور ضروریات کے مطابق نازل ہوئی
05:40تئیس سال
05:41جی
05:42یہ بلکل ایسے ہی ہے
05:43جیسے کوئی دہریک چل رہی ہو
05:44اور اس کے رہنما کی طرف سے
05:46قدم قدم پر ہدایات آ رہی ہو
05:47جیسے جیسے ضرورت پیش آ رہی ہو
05:49یہ بات تو انداز بدل دیتی ہے پورا
05:52یقیناً
05:53اور یہاں ایک دلچسپ نکتہ سامنے آتا ہے
05:55وہ یہ کہ مکی اور مدنی دور کے حالات
05:58بلکل مختلف تھے
05:59ہے نا
06:00جی بلکل
06:01اور اس کا اثر
06:02ان ادوار میں نازل ہونے والی آیات کے انداز
06:05اور مباد پر بھی صاف نظر آتا ہے
06:07اچھا
06:07کیا فرق ہے
06:09دیکھیں مکی دور میں جب اسلام کی دعوت شروع ہوئی
06:11تو بنیادی زور کس چیز پر تھا
06:13توہید
06:14رسالت
06:15آخرت
06:16ان عقائد کو دلوں میں بٹھانے پر
06:18ہاں بنیادیں مضبوط کرنے پر
06:20بلکل
06:21اور سخت مخالفت تھی
06:22تو دلائل مضبوط تھے
06:24انداز بڑا پرجوش تھا
06:26اور اکثر مختصر صورتوں میں بات کی گئی
06:28اخلاقی اصولوں اور پچھلی قوموں کے انجام سے
06:32سبق سکھانے پر بھی توجہ تھی
06:33ٹھیک
06:34پھر جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ گئے
06:36اور وہاں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد پڑی
06:39تو اب ظاہر ہے ایک معاشرے اور ریاست کو چلانے کے لیے
06:42قوانین اور تفصیلی ہدایات کی ضرورت پیش آئی
06:44ہاں اب عملی زندگی کے مسائل تھے
06:47جی
06:47تو اس مدنی دور میں لمبی صورتیں نازل ہوئیں
06:50جن میں عبادات
06:51معاملات
06:52معاشرت
06:53سیاست
06:54معیشت
06:54جنگ و امن
06:55ان سب کے قوانین بیان ہوئے
06:57منافقین کا مسئلہ سامنے آیا
06:59اہل کتاب سے معاملات ہوئے
07:01ان سب پر ہدایات آئیں
07:02اچھا
07:03یہاں انداز زیادہ ٹھہرا ہوا ہے
07:05تعلیمی ہے
07:06اور بعض اوقات
07:07آپ کہہ سکتے ہیں
07:08حکمرانی کا انداز ہے
07:09یعنی مکی دور میں
07:11گویا بنیاد رکھی جا رہی تھی
07:13اور مدنی دور میں
07:14اس پر پوری امارت کھڑی کی گئی
07:16بلکل
07:17آپ اسے اس طرح سمجھ سکتی ہیں
07:18بہت خوبصورت مثال ہے
07:19دونوں ادوار کا مواد مل کر ہی
07:22اسلام کی ایک مکمن تصویر بناتا ہے
07:24اچھا
07:24اب یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے
07:27جی
07:27اگر قرآن اس طرح
07:28تئیس سال میں
07:29حالات کے مطابق نازل ہوا
07:31یعنی سٹیپ بائی سٹیپ
07:32تو پھر آج ہمارے پاس
07:34جو قرآن ہے
07:35اس کی ترتیب
07:36وہی کیوں نہیں
07:37جس ترتیب سے یہ نازل ہوا تھا
07:39بہت اہم سوال ہے
07:41یعنی نزولی ترتیب
07:42کیوں نہیں اپنائے گئی
07:43جی
07:43مدودی اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں
07:46کہ نزولی ترتیب
07:47اس وقت تک کارامت تھی
07:49جب تک دعوت اور تحریک
07:50اپنے ابتدائی مراحل میں تھی
07:52جب دین مکمل ہو گیا
07:53اور قرآن ایک مستقل
07:54ہدایت نامے کے طور پر
07:56امت کے حوالے کیا گیا
07:57تو اب ضرورت اس بات کی تھی
07:59کہ تمام ہدایات
08:00ایک جامع شکل میں موجود ہوں
08:02تاکہ امت آسانی سے
08:03ان سے رہنمائی لے سکے
08:05بلکل
08:05تاکہ امت جب چاہے
08:07جس موضوع پر چاہے
08:08آسانی سے رہنمائی حاصل کر سکے
08:10موجودہ ترتیب
08:11جس میں مکی اور مدنی
08:13دونوں طرح کی صورتیں اور آیات
08:15ایک خاص حکمت کے تحت جمع ہیں
08:16وہ اسلام کا ایک مکمل
08:18اور متوازن نقشہ پیش کرتی ہے
08:20اگر نزولی ترتیب رکھی جاتی
08:22تو کیا ہوتا
08:23تو ہر آیت کو سمجھنے کے لیے
08:25اس کے پورے پس منظر کو جاننا
08:26وہ کب نازل ہوئی
08:28کیوں نازل ہوئی
08:29یہ سب جاننا ضروری ہوتا
08:30یہ تو بہت مشکل ہو جاتا
08:32عام قاری کے لیے
08:33بلکل
08:34اور یہ قرآن کے مقصد
08:36یعنی آسان رسائی
08:37اس کے خلاف ہوتا
08:39اور سب سے بڑھ کر
08:40مودودی صاحب اس بات پر
08:42بہت زور دیتے ہیں
08:43کہ یہ جو موجودہ ترتیب ہے
08:46یہ کسی انسان کی
08:47بنائی ہوئی نہیں ہے
08:48نہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے
08:51جی
08:51یہ اللہ تعالی کی رہنمائی میں
08:54خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
08:56نے قائم فرمائی تھی
08:57جب بھی کوئی وحی آتی
08:59آپ بتا دیتے تھے
09:00کہ اسے کس صورت میں
09:02کن آیات کے درمیان رکھنا ہے
09:04جی ہاں
09:05کاتبی نے وحی کو ہدایت دے دی جاتی تھی
09:07تو یہ ترتیب توقیفی ہے
09:09یعنی اللہ کی طرف سے مقرر کردہ
09:12بلکل
09:13اور اس بات پر یقین
09:14اس لیے بھی پختہ ہونا چاہیے
09:16کہ قرآن کے حفاظت کی جو تاریخ ہے
09:18وہ دنیا میں اپنی مثال آپ ہے
09:20اچھا اس بارے میں کیا بتاتے ہیں
09:22مودودی صاحب بتاتے ہیں
09:23کہ اس کے دو بہت مضبوط ذریعے تھے
09:26ایک تو کتابت
09:27یعنی وحی کا فوراں لکھ لیا جانا
09:30نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
09:31نے اس کا خاص احتمام کیا تھا
09:33کاتب مقرر تھے
09:34جی
09:35دوسرا
09:35اور شاید اس سے بھی زیادہ موصر ذریعہ تھا
09:39حفظ
09:39یعنی سیکڑوں
09:41پھر ہزاروں صحابہ کا
09:43اسے حرف بہ حرف یاد کر لینا
09:44نماز میں تلاوت فرض ہونے کی وجہ سے
09:47یہ مسلمانوں کی زندگی کا لازمی عصہ تھا
09:50ہاں یہ تو ہے
09:51حفظ کی روایت بہت مضبوط رہی ہے
09:53بہت زیادہ
09:55پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
09:57وفات کے فوراں بعد
09:58حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
10:01دور خلافت میں
10:02جب جنگیں یمامہ میں
10:03بہت سے حفاظ صحابہ شہید ہوئے
10:05تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
10:08یہ مشورہ دیا
10:09کہ اسے ایک مکمل کتابی شکل میں جمع کر لیا جائے
10:12تو یہ پہلا جمع قرآن تھا
10:14جی
10:14سرکاری سطح پر پہلا
10:17یہ کام انتہائی احتیاط سے
10:19حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نگرانی میں ہوا
10:22جو خود کاتب وحی بھی تھے اور حافظ بھی
10:25ٹھیک
10:26پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں
10:28جب اسلامی سلطنت بہت پھیل گئی
10:31اور مختلف علاقوں کے لوگوں کے پڑھنے کے انداز میں
10:34یعنی لہجوں میں
10:35فرق آنے لگا
10:36تو خدشہ ہوا کہ کہیں اختلاف نہ پیدا ہو جائے
10:39ہاں یہ ایک حقیقی مسئلہ ہو سکتا تھا
10:42جی
10:42تو اسی پہلے والے مستند نسخے کی
10:45جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں
10:47تیار ہوا تھا
10:48اس کی نقول تیار کروائی گئی
10:50قریش کے لہجے پر
10:52اور تمام صوبائی مراکز میں بھیج دی گئیں
10:54اور حکم دیا گیا کہ آئندہ صرف اسی میعاری نسخے کی پیروی کی جائے
10:58اور باقی تمام نسخے اگر کوئی ہوں
11:01تو وہ ختم کر دیے جائیں
11:02یعنی اس پورے عمل کا مقصد
11:04قرآن کو بالکل اسی طرح محفوظ کرنا تھا
11:07جس طرح وہ نازل ہوا تھا
11:08اور اختلافات سے بچانا تھا
11:10جی بالکل یہی مقصد تھا
11:12اور مودودی صاحب پورے اعتماد سے کہتے ہیں
11:15کہ آج جو قرآن دنیا بھر کے مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے
11:18وہ لفظ بلفظ وہی ہے
11:20جو چودہ سو سال پہلے نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا
11:24اور یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے
11:27جس پر کوئی سنجیدہ علمی اعتراض ممکن ہی نہیں
11:30سبحان اللہ
11:31یعنی اس کی حفاظت کا اللہ نے خود انتظام فرمایا ہے
11:35یقیناً
11:35اچھا جب قرآن کی نویت
11:37اس کا انداز
11:38پسے منظر
11:39اور تاریخ حفاظت
11:41یہ سب سمجھ میں آ جائے
11:43تو پھر سوال یہ ہے
11:44کہ اسے ٹھیک طرح سے سمجھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے
11:47مودودی صاحب اس کے لیے کچھ عملی مشورے بھی دیتے ہیں
11:51جی بالکل
11:52وہ مطالعہ قرآن کے طریقے پر بھی بات کرتے ہیں
11:56تو سب سے پہلا اور ان کے نزدیک
11:58سب سے اہم مشورہ کیا ہے
12:00پہلا اور سب سے اہم مشورہ تو یہ ہے
12:03کہ مطالعہ کرتے وقت
12:05اپنے ذہن کو پہلے سے موجود سوچوں
12:07پسند نا پسند
12:09اور تاثبات سے ممکنہ حد تک خالی رکھا جائے
12:12یعنی اوپن مائنڈ کے ساتھ پڑھا جائے
12:14جی بالکل
12:15قرآن کو سمجھنے کی خالص نیت سے کھولا جائے
12:18یہ نہ ہو کہ آپ پہلے سے کوئی نظریہ بنا کر بیٹھے ہوں
12:21اور قرآن میں بس اس کی تائید دھونڈ رہوں
12:23یہ تو مشکل کام ہے
12:25ذہن کو خالی کرنا
12:26مشکل ہے لیکن ضروری ہے
12:28دوسرا مشورہ ہے بار بار پڑھنا
12:31اچھا ایک بار کافی نہیں
12:32نہیں ایک دو بار پڑھ لینا کافی نہیں
12:35کم از کم دو بار پورے قرآن کو صرف اس نیت سے پڑھا جائے
12:39کہ یہ کتاب مجموعی طور پر کیا کہتی ہے
12:41کیا نظام فکر عمل پیش کرتی ہے
12:44صرف سمجھنے کی نیت سے
12:45جی اور اس دوران جو سوالات ذہن میں اٹھیں
12:49انہیں نوٹ کر لیا جائے
12:50اور جواب کے لیے جلد بازی نہ کی جائے
12:52آگے پڑھتے رہنا چاہیے
12:54اکثر جوابات خود قرآن میں ہی آگے جا کر مل جاتے ہیں
12:58صبر کے ساتھ پڑھنا ہے
13:00جی صبر کے ساتھ
13:01تیسرا قدم پھر تفصیلی متعلیہ کا ہے
13:04اس میں کیا کرنا ہے
13:05اس مرحلے میں موضوعات کے تحت آیات کو جمع کر کے غور کیا جا سکتا ہے
13:10مثال کے طور پر قرآن کس قسم کے انسان کو پسند کرتا ہے
13:14کسے ناپسند
13:16کامیابی اور ناکامی کے ازباب کیا بتاتا ہے
13:19اچھا یعنی thematic study
13:21جی thematic study
13:23مختلف شعبہ زندگی
13:25مثلا خاندان
13:26معاشرت
13:27معیشت
13:28سیاست
13:29قانون
13:29ان کے بارے میں کیا بنیادی اصول دیتا ہے
13:32ان نکات کو نوٹ کرنا چاہیے
13:34چوتھا درجہ پھر گہری تحقیق کا ہے
13:37جی
13:37اگر کسی خاص مسئلے پر
13:40کسی خاص موضوع پر قرآن کی تعلیمات جاننی ہوں
13:43تو بہتر ہے
13:44کہ پہلے اس موضوع پر دوسری معلومات حاصل کی جائیں
13:47مطلب باہر سے پڑھا جائے
13:49ذہن میں واضح سوالات قائم کیے جائیں
13:52اور پھر ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں قرآن کا مطالعہ کیا جائے
13:56یعنی پہلے سوالات وضع کریں
13:58پھر جواب تلاش کریں
13:59جی
14:00اس سے مطالعہ زیادہ مرکوز اور نتیجہ خیز ہوگا
14:03یہ تو ہوگے علمی طریق ہے
14:05جی لیکن ان سب سے بڑھ کر
14:08مودودی صاحب
14:09ایک اور بات پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں
14:12وہ کیا ہے
14:12جسے وہ سلوکِ قرآنی کہتے ہیں
14:15یعنی عملی جدوجہد
14:17سلوکِ قرآنی
14:19اس کا کیا مطلب ہے
14:20ان کا کہنا ہے کہ قرآن صرف پڑھنے
14:23یا تحقیق کرنے کی کتاب نہیں ہے
14:25یہ ایک دعوت اور ایک تحریک کی کتاب ہے
14:28اچھا
14:29اسے صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے
14:31اس کی روح کو پانے کے لیے
14:33اس کی دعوت کو لے کر اٹھنا
14:35اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا
14:37اور اس راہ میں پیش آنے والے تجربات سے گزرنا
14:40ضروری ہے
14:41یعنی صرف علمی مطالعہ کافی نہیں
14:44اس کے پیغام کو اپنی زندگی میں
14:46اور سماج میں نافذ کرنے کی کوشش کرنا بھی
14:48قرآن فہمی کا لازمی حصہ ہے
14:50جی ہاں لازمی حصہ ہے
14:52یہ تو واقعی ایک انقلابی سوچ ہے
14:56یقیناً مودودی کے نزدیک
14:58جب انسان خود
14:59اس دعوت کو لے کر میدان عمل میں اترتا ہے
15:02اسے وہی مسائل اور تجربات پیش آتے ہیں
15:05جو نزولی قرآن کے وقت پیش آئے تھے
15:07تب قرآن کی آیات
15:09اپنے اصل مانا اور روح کے ساتھ
15:11اس پر آشکار ہوتی ہیں
15:12گویا قرآن خود بولنے لگتا ہے
15:14یعنی تجربے سے سمجھ آتی ہے
15:17بالکل عملی تجربے سے
15:18اچھا ایک اور سوال جو
15:21اکثر ذہنوں میں آتا ہے
15:22وہ قرآن کے بظاہر مقامی رنگ کے بارے میں ہے
15:25قرآن اکثر
15:27عربوں سے بات کرتا ہے
15:28عرب تاریخ اور محول کی مثالے دیتا ہے
15:31تو کیا اس سے یہ مطلب نکلتا ہے
15:33کہ یہ صرف عربوں
15:35یا اسی زمانے کے لئے تھا
15:36یہ سوال بھی بہت اہم ہے
15:38اور مودودی اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں
15:41تو پھر یہ مقامی رنگ
15:42وہ کہتے ہیں کہ قرآن نے
15:44جن بنیادی اصولوں کے دعوت دی ہے
15:46جیسے اللہ کی وحدانیت
15:48تمام انسانوں کی برابری
15:50انصاف کا قیام
15:52اخلاقی پاکیزگی
15:53وہ سب افاقی اور عالمگیر ہیں
15:55ٹھیک ہے
15:56مقامی پس منظر
15:58مثالیں
15:59اور زبان کا استوال اس لئے تھا
16:01کہ پہلے مخاطب
16:02وہ لوگ تھے
16:03عرب
16:04اور ان تک بات موثر طریقے سے پہنچانی تھی
16:07ظاہر ہے آپ جس سے بات کر رہے ہیں
16:09اسی کی زبان
16:10اسی کی محاورے میں کریں گے
16:12تو بات زیادہ سمجھ آئے گی
16:14تو یہ انداز وقت ضرورت تھی
16:17پیغام کی عالمگیریت پر
16:19اثر انداز نہیں ہوتی
16:20بلکل
16:21کوئی بھی عالمی تحریک
16:22پہلے کسی ایک مقام سے ہی شروع ہوتی ہے
16:25اور وہاں کی زبان
16:26اور محاورے میں ہی بات کرتی ہے
16:28قرآن کی اصل آفاقیت
16:30اس کے پیغام اور اصولوں میں ہے
16:32جو ہر دور
16:33اور ہر قوم کے انسانوں کیلئے ہیں
16:35شرک پر تنقید
16:37صرف عرب کے بتوں پر نہیں
16:39ہر قسم کے شرک پر لاغو ہوتی ہے
16:41توحید کے دلائل آفاقی ہیں
16:44صحیح
16:45اسی طرح ایک اور نقطہ ہے
16:46کہ اگر قرآن مکمل ہدایت ہے
16:48تو اس میں زندگی کے تمام ماملات
16:51جیسے ریاست کیسے چلے گی
16:53معیشت کے تمام زوابط کیا ہوں گے
16:55ان سب کی پوری تفصیلات کیوں نہیں ملتی
16:58جی یہ بھی ایک عام سوال ہے
17:00یہاں تک کہ نماز جیسی اہم عبادت کی پوری ترقیب بھی قرآن میں
17:04یعنی سٹیپ بائی سٹیپ نہیں ہے
17:06اس پر مودودی صاحب وضاحت کرتے ہیں
17:09کہ قرآن بنیادی طور پر اصولوں
17:12یعنی فنڈمنٹل پرنسپلز
17:13اور کلیات
17:15یعنی جنرل گائیڈ لائنز کی کتاب ہے
17:16اچھا جوزیات کی نہیں
17:18جی
17:19ہر چھوٹی بڑی جوزیات کی تفصیل
17:21اس میں نہیں ہے
17:22اس کی حکمت ہے
17:23اور وہ کیا ہے
17:24وہ یہ
17:25کہ یہیں پر نبوت کا کردار سامنے آتا ہے
17:28اللہ نے صرف کتاب نہیں بھیجی
17:30صرف کتاب نہیں
17:31بلکہ اس کتاب کو سمجھانے والا
17:34اور اس پر عمل کر کے دکھانے والا
17:36ایک رسول بھی بھیجا
17:37اچھا
17:38یعنی رسول کا کام تشریح
17:41اور عملی نمونہ پیش کرنا تھا
17:43بلکل
17:43نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت
17:46یعنی آپ کے اقوال
17:47آپ کے افعال
17:48آپ کی تقریر
17:50یعنی جن کاموں کو آپ نے ہوتے دیکھا
17:52اور منع نہیں فرمایا
17:54وہی قرآن کے اصولوں کی
17:56عملی تشریح و تفصیل ہے
17:57تو قرآن اور سنت
17:59مل کر ہدایت مکمل کرتے ہیں
18:01جی ہاں
18:02قرآن اور سنت
18:03لازم و ملزوم ہیں
18:04دین کی تکمیل
18:05ان دونوں سے مل کر ہوتی ہے
18:07صرف قرآن سے
18:08ہر تفصیل تلاش کرنا
18:10یہ اس پورے منصوبے کو
18:12نہ سمجھنے کے مترادف ہے
18:13جس کے تحت
18:14اللہ نے ہدایت دی ہے
18:16بلکل واضح ہو گیا
18:17اچھا آخر میں
18:18ایک بہت اہم موضوع ہے
18:20وہ ہے اختلاف رائے کا
18:21جی یہ بھی بہت نازک مسئلہ ہے
18:23قرآن ایک طرف تو
18:25دین میں پھوٹ ڈالنے
18:26فرقہ بندیاں کرنے کی
18:28سخت مضمت کرتا ہے
18:29جی تفریقے سے منع کرتا ہے
18:31لیکن دوسری طرف
18:33ہم دیکھتے ہیں
18:34کہ صحابہ کرام
18:35اور بعد کے علماء میں بھی
18:37بہت سے معاملات میں
18:38خاص طور پر قرآن کی
18:40تفسیر اور قانون کے مسائل میں
18:42اختلاف رائے پایا جاتا ہے
18:44تو ان دونوں باتوں میں
18:46مطابقت کیسے پیدا کی جائے
18:48یہاں مدودی صاحب ایک
18:49نہائیت اہم فرق واضح کرتے ہیں
18:51جو سمجھنا بہت ضروری ہے
18:53وہ کیا فرق ہے
18:54ایک ہے مضموم اختلاف
18:56یعنی برا اختلاف
18:57جسے قرآن تفرقہ کہتا ہے
18:59یہ وہ اختلاف ہے جو
19:00ذاتی خواہشات
19:01زد
19:02گروہِ اصابیت
19:03یا دوسروں کو
19:05کافر یا گمراہ قرار دینے کی بنیاد پر ہو
19:07اپنی بات منوانے کے لیے ہو
19:09یعنی جس سے امت میں انتشار پھیلے
19:12بلکل
19:12ایسا اختلاف امت کے اتحاد کو پارا پارا کرتا ہے
19:16اور قرآن سختی سے اس سے منع کرتا ہے
19:18اور دوسرا اختلاف
19:19دوسرا اختلاف وہ ہے جو صحت مند اور جائز ہے
19:22یہ اختلاف مخلصانہ علمی تحقیق
19:25اور اجتہاد کی بنیاد پر ہوتا ہے
19:27اجتہاد
19:28اجتہاد یعنی کسی مسئلے کا حل
19:30قرآن و سنت کی روشنی میں
19:32تلاش کرنے کی پوری مخلصانہ کوشش کرنا
19:35یہ اختلاف عام طور پر فروئی
19:38یعنی سیکنڈری مسائل میں ہوتا ہے
19:40جبکہ دین کے بنیادی اصولوں پر
19:43سب متفق ہوتے ہیں
19:44اچھا
19:44یعنی اصولوں پر اتفاق ہو
19:47فرو میں اختلاف ہو سکتا ہے
19:49جی
19:49ایسا اختلاف نہ صرف جائز ہے
19:51بلکہ بعض اوقات ناگزیر بھی ہوتا ہے
19:54اور امت کی علمی ترقی کی علامت ہے
19:57لیکن یہ ایک اہم سوال اٹھاتا ہے
19:59کہ ان دونوں میں فرق کیسے کیا جائے
20:02عملی طور پر
20:03ہاں
20:04یہ فرق کرنا بعض اوقات
20:06واقعی مشکل ہو سکتا ہے
20:07تو اس کا پیمانہ کیا ہے
20:09مودودی کے نزدیک
20:10اس کا پیمانہ نیت کا خلوص ہے
20:12اصولوں پر اتفاق ہے
20:14اور امت کے مجموعی اتحاد کو
20:16نقصان نہ پہنچانے کا جذبہ ہے
20:18کیا اختلاف کرنے والا دوسرے کو گمراہ
20:21یا دائرہ اسلام سے خارش تو نہیں سمجھ رہا
20:24کیا وہ اپنی رائے کو حتمی
20:25اور دوسروں کی رائے کو باطل سمجھتا ہے
20:27نیت اور رویجہ ہیم ہے
20:30بلکل
20:30نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی
20:33صحابہ کے درمیان بعض معاملات میں
20:35اختلاف رائے ہوا
20:37لیکن چونکہ نیتیں نیک تھیں
20:39اور مقصد اللہ کے حکم کو سمجھنا تھا
20:42اس لیے آپ نے اسے برا نہیں جانا
20:44بلکہ بعض صورتوں میں
20:46اسے رحمت قرار دیا
20:47سہی سہی
20:48تو خلاصہ یہ ہوا
20:50کہ سید مودودی تحفیم القرآن کے
20:52اس مقدمے میں ہمیں یہ سمجھاتے ہیں
20:54کہ قرآن کا جو منفرد انداز ہے
20:57وہ بے معنی نہیں ہے
20:58بلکہ اس کے نزول کے خاص مقصد
21:00اور طریقے کا نتیجہ ہے
21:02اس کی موجودہ ترتیب
21:04اللہ کی ہدایت سے ہے
21:05اور اس کی حفاظت کا بے مثال انتظام کیا گیا ہے
21:09اسے سمجھنے کے لیے
21:10ہمیں اپنے ذہن کو
21:11پہلے سے قائم شدہ خیالات سے پاک کرنا ہوگا
21:15بار بار گہرائی سے متعلق کرنا ہوگا
21:17اور سب سے اہم
21:19اس کے پیغام پر عمل کرنے
21:21اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی
21:23جدوچہد میں شریک ہونا ہوگا
21:24یعنی سلوکِ قرآنی اختیار کرنا ہوگا
21:27بلکل درست خلاصہ کیا آپ نے
21:29اور یہی پر وہ حتمی غور طلب نکتہ آتا ہے
21:32جس کا ذکر میرے خیال میں ضروری ہے
21:35جی فرمائیے
21:36مدودی صاحب کا اسرار ہے
21:37کہ قرآن کی اصل روح تک پہنچنے کے لیے
21:40محض علمی یا فکری مشک کافی نہیں
21:43بلکہ اس کی دعوت اور تحریک کا
21:45عملی حصہ بننا
21:47یعنی سلوکِ قرآنی اختیار کرنا لازمی ہے
21:50ہم
21:50اب آج کے دور میں
21:52ہم جیسے لوگ جو شاید کسی منظم
21:54اجتماعی تحریک کا براہ راست حصہ نہ ہوں
21:57ان کے لیے اس سلوکِ قرآنی کا کیا مطلب ہو سکتا ہے
22:00ہاں یہ اہم سوال ہے
22:02کیسے ہم اپنے مطالعے کو
22:04محض ایک علمی سرگرمی سے بڑھا کر
22:06ایک زندہ
22:07عملی تجربہ بنا سکتے ہیں
22:09کیسے ہم قرآن کے پیغام کو
22:11اپنی ذاتی زندگی
22:13اپنے معاملات
22:14اپنے تعلقات
22:15اور اپنے سماجی دائرے میں
22:16نافذ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں
22:18یعنی اس جدو جہد کو
22:20اپنے زندگی میں کیسے لائیں
22:21جی
22:21یہ وہ سوال ہے جو
22:23اس مقدمے کو پڑھنے کے بعد
22:24ہر قاری کو
22:26ہر سننے والے کو
22:27اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے
22:28اور شاید
22:29اسی میں قرآن فہمی کی
22:30اصل قلید پوشیدہ ہے
22:31موسیقی
22:33موسیقی
Comments

Recommended