Skip to playerSkip to main content
  • 2 days ago
Tafheem-ul-Quran تفہيم القرآن, “Towards Understanding the Qur’an”) is a renowned 6-volume translation and commentary of the Holy Qur’an authored by Maulana Syed Abul A‘la Maududi (1903–1979). Written between 1942 and 1972, it stands as one of the most influential modern works of Qur’anic exegesis.
Maulana Maududi combined classical scholarship with contemporary analysis, addressing themes of faith, morality, economics, politics, sociology, and history. His Tafseer explains Qur’anic verses with references to the Sunnah of Prophet Muhammad ﷺ, as well as the historical background of revelation.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30قرآن کے اہم نقاط موجود ہیں
00:31ہمارا مقصد صرف ان آیات کا ترجمہ پڑنا نہیں
00:35بلکہ مودودی صاحب کی فکر کی روشنی میں
00:38ان کے اندر جو گہرے مانی ہیں
00:40جو انتباہات ہیں
00:41خوش خبریاں ہیں
00:42ان کو سمجھنا ہے
00:44اور یہ دیکھنا ہے کہ یہ آج ہمارے لئے کیا مانے رکھتے ہیں
00:47جی بالکل
00:48اور یہ رکو توحید
00:50رسالت
00:51خاص طور پر قرآن کی حقانیت
00:53اور آخرت
00:55ان بنیادی عقائد کو بڑے ہی منطقی
00:57اور آپ کہیں کہ موثر انداز میں پیش کرتا ہے
01:00مودودی صاحب کی تشریح جو ہے
01:02وہ اس منطق اور اثر کو سمجھنے میں
01:05ہماری مدد کرے گی
01:06تو آئیے شروع کرتے ہیں اس جائزے کو
01:08اچھا
01:09اس رکو کا آغاز ہی بڑا دلچسک ہے
01:12آیت اکیس میں
01:13یا ایوہن ناس
01:15یعنی اے لوگو
01:16کہہ کر تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے
01:19یہ کسی خاص قوم
01:21یا مذہب کے پیروکاروں کے لئے نہیں ہے
01:23بلکہ پوری انسانیت کے نام پیغام ہے
01:26لیکن یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے
01:29کہ اگر پیغام سب کے لئے ہے
01:32تو کیا سب اس سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں
01:34مودودی صاحب اس نکتے پر کیا کہتے ہیں
01:37جی یہ بہت اہم سوال ہے
01:39مودودی صاحب وضاحت کرتے ہیں
01:41کہ دیکھیں دعوت تو عام ہے
01:43لیکن اس سے ہدایت پانا
01:45یا نہ پانا
01:46یہ دو چیزوں پر مناصر ہے
01:48پہلی چیز تو خود انسان کی اپنی طلب ہے
01:51اس کی نیت اس کی آمادگی
01:53کہ وہ حق کو قبول کرنے کے لئے
01:55تیار ہے بھی یا نہیں
01:57اور دوسری چیز ہے
01:58اللہ کی توفیق
01:59یعنی ہدایت کا راستہ تو
02:01اللہ دکھا دیتا ہے
02:02لیکن اس پر چلنے کی توفیق بھی
02:05اسی کی طرف سے ملتی ہے
02:06اور یہ توفیق وہ فرماتے ہیں
02:08انہی کو ملتی ہے
02:09جو خود اس کے طالب ہوں
02:12اچھا
02:12یعنی یہ دو طرف آماملہ ہے
02:14جی بلکل ایسا ہی ہے
02:16گویا دروازہ سب کے لئے کھلا ہے
02:18مگر اندر وہی آئے گا
02:20جو طلبگار بھی ہو
02:21اور جسے آپ کہلیں
02:22مالک خانہ اجازت بھی دے
02:24صحیح
02:25یعنی پہلا قدم انسان کو
02:27خود اٹھانا پڑتا ہے
02:29اچھا
02:29اس عالمگیر دعوت کے فوراں بعد
02:32آیت بائیس میں
02:33اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت
02:34یعنی پالنے والے اور مالک ہونے
02:37کے بڑے ٹھوز دلائل دیتا ہے
02:38زمین کو فرش بنا دیا
02:40آسمان کو چھت
02:41بارش سے رزق
02:43یہ تو ایسی چیزیں ہیں
02:44جن کا ہم روز مشاہدہ کرتے ہیں
02:46کیا مودودی صاحب کے نزدیک
02:48ان مثالوں میں کوئی خاص حکمت پوشیدہ ہے
02:51جی بالکل
02:52مودودی صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے
02:54کہ یہ دلائل اس لئے پیش کیے گئے ہیں
02:55کہ یہ وہ حقیقتیں ہیں
02:57جن کا انکار کرنا ممکن ہی نہیں
02:59حتیٰ کہ عرب کے وہ مشرقین بھی
03:01جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک ٹھراتے تھے
03:04وہ بھی دل سے مانتے تھے
03:05کہ زمین و آسمان کا خالق
03:07بارش برسانے والا
03:08اور رسک دینے والا تو اللہ ہی ہے
03:10قرآن گویا ان کے اپنے اندر
03:12جو چھپاوا اقرار ہے نا
03:14اسی کو جگا رہا ہے
03:15تو یہ ایک طرح سے ان کے
03:17اپنے ہی عقیدے کے تضاد کو واضح کرنا ہوا
03:20جی بالکل بالکل
03:21اسی لئے آیت کا اگلا حصہ
03:24فوراں ایک منطقی نتیجہ پیش کرتا ہے
03:26فلا تجعلوا للہ اندادا
03:29وانتم تعلمون
03:30پس جب تم یہ جانتے ہو
03:32تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھہراؤ
03:35مودودی صاحب انداد
03:37یعنی مد مقابل کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں
03:39کہ اس کا مطلب صرف بتوں کو پوجھنا ہی نہیں
03:42بلکہ اللہ کے جو اختیارات ہیں
03:44صفات ہیں
03:45یا حقوق بندگی ہیں
03:46ان میں کسی اور کو اس کے برابر سمجھنا
03:49یا شریک کرنا ہے
03:50چاہے وہ اختیارات خاکمیت کے ہوں
03:52یا غیب دانی کے
03:53یا دعا سننے اور مدد کرنے کے
03:56وہ کہتے ہیں
03:57کہ بندگی کی کونسی قسمیں خالص اللہ کے لیے ہیں
04:00یہ قرآن آگے خود تفصیل سے واضح کرے گا
04:02بنیادی نکتہ یہ ہے
04:04کہ جب خالق اور رازق صرف اللہ ہے
04:06تو عبادت اور بندگی کا حق دار بھی صرف وہی ہے
04:09ٹھیک
04:09اللہ کی ربوبیت کے ان واضح دلائل کو قائم کرنے کے بعد
04:14گفتگو قدرتی طور پر قرآن کی حقانیت کی طرف مڑتی ہے
04:18آیات 23 اور 24 میں تو
04:21ایک آپ کہیں کہ
04:22زبردست چیلنج دیا جا رہا ہے
04:25اگر تمہیں شک ہے
04:27کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے
04:29تو اس جیسی ایک صورت ہی بنا لاؤ
04:31اور اپنے تمام مددگاروں کو بھی بلالو
04:34مودودی صاحب نے اس چیلنج کے پسے منظر کے بارے میں کچھ بتایا ہے
04:38جی
04:39مودودی صاحب یاد دلاتے ہیں
04:40کہ یہ چیلنج کوئی نیا نہیں ہے
04:42یہ مکہ میں بھی کفار کو دیا جا چکا تھا
04:45اب مدینہ میں جہاں اسلام کو ایک نئی قوت اور مرکزیت حاصل ہو رہی تھی
04:50اس چیلنج کو دہرائی جا رہا ہے
04:52یہ گویا اللہ کی طرف سے ایک خجت تمام کرنا ہے
04:55کہ اگر یہ انسانی کلام ہوتا
04:57تو تم جو اپنی زبان دانی اور فصاحت و بلاغت پر اتنا ناز کرتے ہو
05:02اس جیسا کلام ضرور بنا سکتے
05:04لیکن تم نہیں بنا سکے
05:06اور پھر چیلنج کے ساتھ ہی ایک پیشگوئی بھی ہے
05:09بلکہ ایک طرح کا فیصلہ ہے
05:11فَإِنْلَمْ تَفَلُوا وَلَنْ تَفَلُوا
05:14پس اگر تم نے ایسا نہ کیا
05:17اور تم ہرگز نہیں کر سکتے
05:19یہ ہرگز نہیں کر سکتے کہنا تو بہت بڑی بات ہے
05:22یقیناً مودودی صاحب کے نزدیک یہ محض ایک دعویٰ نہیں
05:27بلکہ یہ اللہ کے علم غیب پر مبنی اعلان ہے
05:31کہ انسانیت قیامت تک اس چیلنج کو پورا کرنے سے آجز رہے گی
05:36اور اس اعلان کے فوراً بعد ایک سخت انتباع ہے
05:39فَتَّقُ النَّارَ اللَّتِ وَقُودُهَ النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
05:43وَعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ
05:46تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندن بنیں گے انسان و پتھر
05:50جو تیار کی گئی ہے منکروں کے لیے
05:52یہاں پتھر کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے
05:55اس میں کیا نکتہ ہو سکتا ہے؟
05:57کوئی خاص وجہ؟
05:58جی مودودی صاحب اس پتھر الہجارہ
06:02کے حوالے سے ایک بہت لطیف اشارے کی طرف توجہ دلاتے ہیں
06:05وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عام پتھر بھی ہو سکتے ہیں
06:09جو آگ کو مزید بھڑکائیں گے
06:11لیکن یہ بھی ممکن ہے
06:13کہ اس سے مراد خاص طور پر وہ پتھر کے بتھ ہوں
06:16جن کی یہ لوگ دنیا میں پوجا کرتے تھے
06:19گویا وہ معبود جن سے یہ امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے
06:23وہ خود بھی بیبس ہو کر ان کے ساتھ جہنم کا ایندھن بنیں گے
06:27یہ ان کی پوجا کی بے حقیقی
06:29اور ان معبودوں کی مکمل بیبسی کا ایک
06:32آپ سمجھے علامتی اظہار بھی ہے
06:35ہم یہ تو بہت سخت وعید ہے
06:38انکار کرنے والوں کے اس انجام کے ذکر کے بعد
06:42آیت پچیس میں فوراں ہی رخ اہل ایمام کی طرف مڑتا ہے
06:47اور انہیں خوشخبری دی جاتی ہے
06:48وَبَشِّرِ اللَّذِينَ آمَنُوا وَأَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
06:53جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے
06:56ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں
06:59یہاں پھلوں کا ذکر بھی بڑا دلچسپ ہے
07:02کہ وہ دنیا کے پھلوں جیسے ہوں گے
07:04اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے
07:06جی مودودی صاحب اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
07:10کہ جنت کے پھل جب پیش کیے جائیں گے
07:12تو اہل جنت انہیں دیکھ کر پہچانیں گے
07:15کہیں گے اوتینا من قبلو
07:17ایسے ہی پھل تو ہمیں پہلے
07:19یعنی دنیا میں دیے جاتے تھے
07:21یہ مشابہت جو ہے نا
07:23یہ شکل و صورت میں ہوگی
07:25جیسے آم، انار، انگور، سنترے وغیرہ
07:28اس شناسائی سے ان کی اجنبیت دور ہوگی
07:31اور خوشی بڑھے گی
07:32لیکن جہاں تک لذت اور ذائقے کا تعلق ہے
07:35وہ دنیا کے پھلوں سے
07:37کہیں کہیں زیادہ بہتر اور آلہ ہوں گے
07:40اچھا
07:41گویا، صورت جانی پہچانی
07:43مگر سیرت یعنی لذت وہ بے مثال ہوگی
07:47واہ، اور اسی آیت میں
07:49ازواج متحرہ
07:51یعنی پاکیزہ ساتھیوں کا بھی ذکر ہے
07:54مودودی صاحب نے اس کی کیا تشریح کی ہے؟
07:57جی، ازواج جماح زوج کی
07:59جس کا مطلب ہے جوڑا
08:01یعنی شوہر یا بیوی
08:02متحرہ کا مطلب ہے پاکیزہ
08:05ہر قسم کی ظاہری و باطنی نجاست اور گندگی سے پاک
08:09مودودی صاحب اس کی وضاحت میں
08:11ایک اہم نقطہ اٹھاتے ہیں
08:12جو دنیاوی رشتوں کے آخرت میں انجام سے متعلق ہے
08:16وہ فرماتے ہیں
08:17کہ اگر دنیا میں شوہر نیک تھا
08:20مگر بیوی بد
08:21یا بیوی نیک تھی
08:22مگر شوہر بد
08:23تو آخرت میں ان کا یہ رشتہ قائم نہیں رہے گا
08:27بلکہ نیک فرد کو
08:28اس کے عمل کے مطابق پاکیزہ ساتھی ملے گا
08:31البتہ
08:32اگر دنیا میں میاں بیوی دونوں نیک تھے
08:34اور اہل جنت میں شامل ہوئے
08:36تو آخرت میں ان کا وہی رشتہ قائم رہے گا
08:39اور وہ عبدی
08:40پاکیزہ محبت کے ساتھ ہمیشہ رہیں گے
08:44یہ ان کے لیے ایک اضافی انام ہوگا
08:46یہ تو واقعی ایک مکمل تصویر ہے جزا کی
08:49اچھا اب آیت چھبیس پر آتے ہیں
08:52جو اکثر
08:53سوالات کو جنم دیتی ہے
08:56اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
08:57کہ وہ مچھر
08:58یا اس سے بھی حقیر چیز کی
09:00مثال دینے میں نہیں شرماتا
09:03ان اللہ لا يستحی
09:05ان يضرب مثلم
09:07ما بعوذتم فما فوقہا
09:09یہ بات کیوں کہی گئی
09:11کیا اس وقت اس پر کوئی اعتراض ہو رہا تھا
09:14جی ہاں
09:15مدودی صاحب بتاتے ہیں
09:16کہ قرآن جب اپنی تعلیمات کو واضح کرنے کے لیے
09:19کبھی مکڑی کی مثال دیتا
09:21کبھی مکی کی
09:21یا جیسے یہاں مچھر کا ذکر آیا
09:23ایسی مثالیں دیتا تھا
09:25تو مخالفین خاص طور پر
09:27منافقین اور کفار
09:28وہ تنز کرتے تھے
09:29وہ کہتے تھے
09:30کہ بھئی یہ کیسا کلام الہی ہے
09:32جس میں اتنی چھوٹی اور حقیر چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے
09:35یہ تو اللہ کی شان کے خلاف ہے
09:37تو اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کا جواب دیا
09:40بلکل
09:41اللہ تعالیٰ نے واضح کیا
09:43کہ دیکھیں
09:49اس مقصد کے لیے جو مثال سب سے زیادہ موضوع ہو
09:52وہی استعمال کی جائے گی
09:54چاہے وہ بظاہر کتنی ہی چھوٹی
09:56یا بڑی کیوں نہ ہو
09:57اصل چیز مثال کی جسامت نہیں
09:59بلکہ اس سے حاصل ہونے والا سبق
10:02اور حکمت ہے
10:03آیت کا اگلا حصہ اسی بات کو مزید کھولتا ہے
10:06فَأَمَّا اللَّذِينَ آمَنُوا
10:08فَيَعْلَمُنَا أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ
10:11وَأَمَّا اللَّذِينَ كَفَرُوا
10:13فَيَقُولُونَ مَازَا عَرَادَ اللَّهُ بِحَاذَا مَثَلًا
10:16یعنی جو ایمان والے ہیں
10:19وہ تو جان لیتے ہیں
10:20کہ یہ مثال حق ہے ان کے رب کی طرف سے
10:23اور اس میں ضرور کوئی حکمت ہے
10:25مگر جو کافر ہیں
10:26وہ تنزن یا الجن سے کہتے ہیں
10:28کہ ایسی مثال سے
10:30اللہ کا آخر مطلب کیا ہے
10:31اچھا
10:32اور پھر اسی آیت میں یہ بھی کہا گیا
10:35کہ
10:35اللہ اس کے ذریعے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے
10:42اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے
10:43یہ بات سمجھنے میں کچھ مشکل لگتی ہے
10:46کیا اللہ خود گمراہ کرتا ہے
10:48حکمت کو سمجھتے ہیں
10:50اور ان کا ایمان بڑھتا ہے
10:52وہ ہدایت پاتے ہیں
10:53لیکن جو لوگ پہلے اسی حق کے مخالف ہیں
10:56جن کے دل ٹیڑے ہیں
10:57جو سمجھنا ہی نہیں چاہتے
10:59وہ انہی مثالوں پر اعتراض کرتے ہیں
11:01ان میں الچتے ہیں
11:03اور حق سے مزید دور ہو جاتے ہیں
11:05اس طرح وہ اپنی ہی کجروی کی وجہ سے
11:08گمراہی میں پڑھتے ہیں
11:09اللہ کا قانون یہ ہے
11:11کہ وہ ہدایت کے طالب کو ہدایت دیتا ہے
11:13اور گمراہی کے خواہشمند کو
11:15اسی راستے پر آپ کہلیں
11:17بھٹکنے دیتا ہے
11:18اور پھر آیت کا فیصلہ کن حصہ آتا ہے
11:21وَمَا يُدِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ
11:24اور وہ گمراہ انہی کو کرتا ہے
11:27جو فاسق ہیں
11:28تو گمراہی کا سبب خود انسان کا فاسق ہونا ہے
11:31یہ فاسق کون لوگ ہیں
11:33اگلی آیت یعنی آیت ستائیس میں
11:36شاید اسی کی وضاحت ہے
11:38مودودی صاحب نے اس کی کیا تعریف بیان کی ہے
11:40مودودی صاحب کی تشریح کی روشنی میں وہ یہ ہیں
11:43اول
11:44الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَحْدَ اللَّهِ بِمْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ
11:49وہ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں
11:53دوم
11:55وَيَقْتَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ اَنْ يُوْصَلَى
11:58اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے
12:02انہیں کاٹتے ہیں
12:03اور تصوم
12:04وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ
12:07اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں
12:09یہ تینوں نکات بہت اہم لگ رہے ہیں
12:11ان کی تھوڑی وضاحت ہو جائے
12:14خاص طور پر مودودی صاحب کے نکتے نظر سے
12:16یہ اللہ کا اہد سے کیا مراد ہے
12:19دیکھیں
12:20مودودی صاحب کے نزدیک
12:21اہداللہ سے مراد وہ بنیادی اور فطری اہد ہے
12:25جو ہر انسان نے اپنے خالق سے کیا ہے
12:29یہ وہ اہدالعست کہلاتا ہے
12:31جس کا ذکر سورہ آراف میں بھی ہے
12:34جب اللہ نے تمام انسانی روحوں سے پوچھا تھا
12:38کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں
12:40اور سب نے اقرار کیا تھا
12:42یہ اہد ہر انسان کی فطرت میں شامل ہے
12:45کہ وہ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرے
12:48تو فاسق وہ ہے
12:49جو اس بنیادی فطری اہد کو جان بوچ کر توڑتا ہے
12:54اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرتا ہے
12:57اور دوسرا نکتہ جن رشتوں کو جوڑنے کا حکم ہے
13:01انہیں کاٹنا یہ کون سے رشتے ہیں
13:03کیا صرف خونی رشتے
13:05نہیں یہ بہت وسی مفہوم رکھتا ہے
13:07مودودی صاحب کے مطابق
13:09اس میں صرف خونی رشتے یا رشتداریاں ہی نہیں
13:12بلکہ وہ تمام انسانی
13:15سماجی
13:16اخلاقی
13:16اور تمدینی تعلقات شامل ہیں
13:19جنہیں اللہ نے قائم رکھنے
13:21اور مضبوط کرنے کا حکم دیا ہے
13:23یہ تعلق میاں بیوی کا ہو
13:25والدین اور اولاد کا
13:27پڑوسیوں کا
13:28ایک انسان کا دوسرے انسان سے
13:30ایک قوم کا دوسری قوم سے
13:32حاکم اور ریایہ کا
13:33غرض ہر وہ تعلق
13:35جس کی بنیاد اللہ کے بتائے ہوئے
13:37اصولوں پر ہونی چاہیے
13:39اور مودودی صاحب یہاں
13:40ایک اور اہم بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں
13:42کہ کاٹنا
13:43یعنی قطع کرنا
13:44صرف تعلق توڑنا ہی نہیں
13:46بلکہ غلط بنیادوں پر
13:48تعلق قائم کرنا
13:49یعنی ناجائز
13:50اور غیر شریع تعلقات
13:52استوار کرنا بھی
13:53اسی زمرے میں آتا ہے
13:54اچھا یہ تو اہم نکتہ ہے
13:57جی کیونکہ ان دونوں کا نتیجہ
13:59ایک ہی ہے
14:00فساد اور بگاڑ
14:02اچھا تو یہ بہت جامہ
14:03تاریف ہوئی
14:04یعنی صرف تعلق
14:05ختم کرنا نہیں
14:06بلکہ غلط تعلق
14:07قائم کرنا بھی
14:08فساد کا باعث
14:10بن سکتا ہے
14:10اور تیسرا نکتہ
14:12زمین میں
14:13فساد پھیلانا
14:14مودودی صاحب کے نزدیک
14:15یہ پہلی دو باتوں
14:17کا لازمی نتیجہ ہے
14:18جب انسان
14:20اللہ سے اپنا اہد
14:21توڑ دیتا ہے
14:21یعنی اس کی ہدایت سے
14:23مو موڑ لیتا ہے
14:24اور اللہ کے قائم کردہ
14:26انسانی اور سماجی رشتوں
14:28کو کاٹتا یا بگاڑتا ہے
14:29تو اس کا نتیجہ
14:31زمین میں
14:32فساد
14:32بگاڑ
14:33ظلم
14:34اور بینصافی کی صورت
14:35میں ہی نکلتا ہے
14:36تو فاسق وہ ہے
14:38جو ان تینوں کاموں
14:39کا مرتقب ہو
14:40اور آیت کا اختتام
14:42ان کا انجام بتاتا ہے
14:44اولائی کا ہم الخاسرون
14:46حقیقت میں
14:47یہی لوگ نقصان
14:48اٹھانے والے ہیں
14:49دنیا میں بھی
14:50اور آخرت میں بھی
14:52تو بنیادی طور پر
14:53مودودی صاحب
14:54کہہ رہے ہیں
14:55کہ فاسق وہ ہے
14:56جو خدا سے
14:57اپنا وعدہ توڑے
14:58لوگوں سے
14:59رشتے خراب کرے
15:00چاہے وہ
15:01توڑ کر ہوں
15:01یا غلط جوڑ کر
15:03اور نتیجہ تن
15:04دنیا میں
15:04بگاڑ پیدا کرے
15:05بات تو سیدھی سی ہے
15:07لیکن کتنی
15:08گہری اور وسیل
15:09مانی ہے
15:10بلکل
15:11یہ تعریف
15:12ہمیں اپنی انفرادی
15:13اور اجتماعی زندگیوں
15:14کا جائزہ لینے پر
15:15مجبور کرتی ہے
15:16اس رکوع کے آخر میں
15:17آیات
15:18اٹھائیس
15:19اور انتیس
15:20ایک بار پھر
15:20انسان کو
15:21اس کی حقیقت
15:22یاد دلائی جا رہی ہے
15:23اور اللہ کی قدرت
15:25اور علم کا بیان
15:26تم اللہ کے ساتھ
15:32کفر کا رویہ
15:33کیسے اختیار کرتے ہو
15:35حالانکہ
15:35تم بے جان تھے
15:37اس نے تمہیں
15:37زندگی بکشی
15:38پھر وہی
15:39تمہیں موت دے گا
15:40پھر وہی
15:41تمہیں دوبارہ
15:41زندگی بکشے گا
15:42پھر اسی کی طرف
15:43تمہیں پلت کر جانا ہے
15:45یہ تو ایک
15:46مکمل دائرہ
15:47حیات بیان کر دیا گیا ہے
15:48جی
15:49یہ انسان کو
15:50اس کی ابتداء
15:51اور انتہا
15:52یاد دلا کر
15:53اللہ کی قدرت
15:54اور اپنے انجام
15:55کی طرف متوجہ
15:56کیا جا رہا ہے
15:57کہ تم تو کچھ بھی
15:58نہیں تھے
15:59ایک بے جان مادہ
16:00اللہ نے تمہیں
16:01زندگی جیسی
16:02عظیم نعمت دی
16:03پھر وہ تمہیں
16:04موت دے کر
16:04واپس اسی حالت
16:06میں لے جائے گا
16:06مگر بات یہاں
16:07ختم نہیں ہوتی
16:08وہ تمہیں
16:09دوبارہ زندہ کرے گا
16:10حساب کتاب کے لیے
16:11اور آخرکار
16:12لوٹنا اسی کی طرف ہے
16:14اب اس حقیقت
16:15کو جاننے کے بعد
16:16اللہ کا انکار
16:17یا نافرمانی
16:18یہ کیسے ممکن ہے
16:25لیے پیدا کرنے
16:26اور سات آسمان
16:28بنانے کا ذکر ہے
16:29یہ سات آسمان
16:30اس سے کیا مراد ہے
16:32مودودی صاحب
16:33اس بارے میں
16:33کیا کہتے ہیں
16:34سات آسمان
16:35یا سبا سماوات
16:36کی حقیقی نویت
16:38کے بارے میں
16:38مودودی صاحب
16:39موتاد رویہ
16:40اختیار کرتے ہیں
16:41وہ کہتے ہیں
16:42کہ ختمی طور پر
16:43کچھ کہنا مشکل ہے
16:44یہ کائنات کے ساتھ
16:46الگ الگ طبقات
16:47یا نظام بھی ہو سکتے ہیں
16:48یا زمین
16:49جس کائناتی نظام
16:50کا حصہ ہے
16:51اس کے ساتھ
16:52مختلف کرے
16:53یا حلکے بھی
16:54ہو سکتے ہیں
16:54اصل بات
16:56جو اس ذکر سے
16:57مقصود ہے
16:57وہ اللہ کی
16:58عظیم قدرت
16:59اس کی حکمت
17:00اور اس کی
17:01وسط تخلیق
17:02کا اظہار ہے
17:03اور آیت کا اختتام ہے
17:05وَهُوَ بِكُلِّ شَيْئِنْ عَلِيم
17:07اور وہ ہر چیز
17:08کا علم
17:09رکھنے والا ہے
17:10یہ اختتامی جملہ
17:12بھی بہت
17:12بہت مانے خیز
17:13لگتا ہے
17:14یقینات
17:14مودودی صاحب
17:15اس سے دو
17:16بڑے اہم نتیجے
17:17اخص کرتے ہیں
17:18پہلا
17:19یہ کہ
17:19اس خدا کے
17:20مقابلے میں
17:21کفر و بغاوت
17:22کی جررت
17:22کیسے کی جا سکتی ہے
17:23جو تمہاری
17:24ہر حرکت
17:25ہر نیت
17:26ہر سوچ
17:27سے واقف ہے
17:27جس سے
17:28کائنات کی
17:29کوئی چیز
17:29چھپی ہوئی نہیں ہے
17:30اور دوسرا یہ
17:31کہ جب
17:32ہدایت
17:32اور رہنمائی
17:33کی ضرورت
17:34ہو
17:34تو اس خدا
17:35کو چھوڑ کر
17:35جو تمام
17:36حقیقتوں
17:37کا علم
17:37رکھتا ہے
17:38جو علم
17:38کا اصل
17:39سرچشمہ
17:39ہے
17:40اور
17:40کہاں
17:40بھٹکتے
17:41پھر ہوگے
17:41اس سے
17:42مو موڑنے
17:43کا نتیجہ
17:43سوائی
17:44جہالت
17:44اور گمراہی
17:45کی تاریکیاں
17:46میں بھٹکنے
17:46کے اور
17:47کچھ
17:47نہیں
17:47نکل
17:47سکتا
17:48تو آج
17:49کے
17:49اس گفتگو
17:49کا
17:50اگر
17:50ہم خلاصہ
17:50کریں
17:51تو
17:51صورت
17:52البکرہ
17:52کے
17:52یہ
17:52تیسرا
17:53رکو
17:53ایک
17:53مکمل
17:54دعوت
17:54ہے
17:55یہ
17:55اللہ کی
17:56وہدانیت
17:56اور
17:57ربوبیت
17:57کے
17:57دلائل
17:58سے
17:58شروع ہوتا
17:58ہے
17:59قرآن
17:59کی
18:00سچائی
18:00پر
18:00ایک
18:00چیلنج
18:01پیش
18:01کرتا
18:01ہے
18:01پھر
18:02ایمان
18:03اور
18:03عمل
18:03صالح
18:04پر
18:04جنت
18:04کی
18:04خوش
18:04خبری
18:05دیتا
18:05ہے
18:05اور
18:06انکار
18:06پر
18:07جہنم
18:07کی
18:07وحید
18:08سناتا
18:08ہے
18:08جی
18:09اور
18:10اس
18:10دوران
18:10یہ
18:11مثالوں
18:12کی
18:12حکمت
18:12کو
18:12واضح
18:13کرتا
18:13ہے
18:13اور
18:13خاص طور پر
18:14فاسق
18:15کی
18:15جو
18:15تعریف
18:16ہے
18:16یعنی
18:16اللہ کا
18:17اہد
18:17توڑنے
18:17والے
18:18انسانی
18:19تعلقات
18:19بگاڑنے
18:20والے
18:20اور
18:20زمین
18:21میں
18:21فساد
18:21پھیلانے
18:22والے
18:22اس کی
18:23ایک
18:23جامعہ
18:23تعریف
18:24متعین
18:24کرتا
18:24ہے
18:25اور
18:25بتاتا
18:26ہے
18:26کہ
18:26اصل
18:26نقصان
18:27اٹھانے
18:27والے
18:27یہی
18:28لوگ
18:28ہیں
18:28بلکل
18:29اور
18:29یہی
18:30سے
18:30ایک
18:30سوچ
18:31اُبھرتی
18:31ہے
18:31جسے
18:32ہم
18:32اپنے
18:32سننے
18:33والوں
18:33کے
18:33لئے
18:33چھوڑ
18:34جاتے
18:34ہیں
18:34مودودی
18:35صاحب
18:35کی
18:35تشریح
18:36کے
18:36مطابق
18:36اللہ
18:37کے
18:37حکم
18:38کردہ
18:38رشتوں
18:38کو
18:39کاٹنا
18:39یا
18:40بگارنا
18:40فسق
18:41اور
18:41فساد
18:42کا
18:42باعث
18:42ہے
18:42تو
18:43سوال
18:43یہ
18:43پیدا
18:44ہوتا
18:44ہے
18:44کہ
18:44ہم
18:45ارد
18:45گرد
18:46نظر
18:46دوڑائیں
18:46اپنی
18:47ذاتی
18:47زندگی
18:48میں
18:48اپنے
18:48خاندان
18:49میں
18:49اپنے
18:49معاشرے
18:50میں
18:50حتی
18:50کہ
18:51عالمی
18:51سطح
18:51پر
18:52وہ
18:52کون
18:53سے
18:53تعلقات
18:54یا
18:54رشتے
18:55یا
18:55نظام
18:56ہیں
18:56جنہیں
18:56اللہ
18:57نے
18:57جوڑنے
18:57کا
18:58حکم
18:58دیا
18:58تھا
18:58لیکن
18:59وہ
18:59آج
18:59کٹے
19:00وے
19:00یا
19:00بگڑے
19:01وے
19:01نظر
19:01آتے
19:02ہیں
19:02اور
19:02اگر
19:03ایسا
19:03ہے
19:03تو
19:04انہیں
19:04دوبارہ
19:05صحیح
19:17کرتا ہے
Be the first to comment
Add your comment

Recommended