- 2 days ago
- #todayinhistory
Discover what happened on January throughout history, highlighting a variety of historical moments from around the world.
#todayinhistory
You’ll know about:
📜 Major historical events
🎉 Celebrated holidays and festivals
🎂 Notable birthdays of famous people
🕯️ Significant deaths that took place on this day
#todayinhistory
You’ll know about:
📜 Major historical events
🎉 Celebrated holidays and festivals
🎂 Notable birthdays of famous people
🕯️ Significant deaths that took place on this day
Category
📚
LearningTranscript
00:00اعوذ اللہ من شیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم میں ہوں عزر نیاز اور پروگرام ہے آج تاریخ کے آئینے میں پانچ جنوری
00:10یا اللہ تیرا شکر کہ تو نے آج کا دن دکھایا مولا کریم ہمارے آج کے دن کو وزشتہ کل سے بہتر کر دینا اور ہمارے آنے والے کل کو آج کے دن سے بہتر کر دینا
00:24رب اغفر ورحم وانتا خیر الرحیم
00:27پانچ جنوری میں جو آج گفتبو ہوگی وہ کئی ایک معروف واقعات ہیں جیسے ایران نے مصر کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کر لیے
00:40پرویز مشورہ صاحب کا واج پائی کے ساتھ جو پانچ جنوری دوہزار دو کو کھٹمنڈو میں مسافہ ہوا تھا اس کی اس وقت بھی بڑی جناب دھوم مچی تھی
00:50بہترابی تاریخ کا حصہ ہے امریکی خاتون پہلی جو ہے وہ گورنر بنی اس کا ذکر ہوگا
00:57کولمبیا نے پاناما کی آزادی کو تسلیم کیا اگر ولادت دیکھی جائے تو پاکستان پیپل پارٹی کے بانی رہنما
01:04زلفقار علی بھٹو کی پدائش کا دن ہے اور کچھ بارتی اداکارہ ہے دپیکہ اس کا ہے تاج محل تعمیر کرنے والے جناب
01:13معروف مغل شہنشاہ شاہ جہان کا یوم پدائش ہے اور پاکستان کے معروف ہوئے ایک مذہبی سکالر
01:21معالم دین زہد الراشدی ان کا ولادت کا دن ہے وفات میں جناب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں
01:29ریڈیو ٹی وی اور فوک مسیح کی ایک مشہور عوامی گروہ کا رسول بادشاہ انتقال کر گئے
01:35ان کا ذکر ہے اور مسود الرحمان عثمانی پاکستانی اسلامی سکالر پانچ جنوری دوہزار چوبیس کو انتقال کر گئے
01:42بلونت سنگھ ہندوستانی سکھ رہنما وہ جناب دوہزار چوبیس میں انتقال کر گئے
01:49اور ایک پاکستان کے ناد خان حافظ تاحل بلال چشتی زلہ جھنگ میں دل کا دورہ پڑھنے سے انتقال کر گئے
01:57اور یہ اچھا اس میں بڑی مزے کی بات ہوئی ہے جی جو آپ کو آئے گف ہوئی ہے
02:02پانچ جنوری دوہزار پچی کو ان جو یہ ناد خان تھے ان کا انتقال ہوا
02:08اور ہمارا جو آنے والا پاکست ہے جس کو ہم نے اے اے اے سے بنایا ہے وہ پریشان ہو گیا
02:14کہ یہ وکی پیڈیا سے غلطی ہو گئی ہے غلطی نہیں ہوئی یہ ایک سال پرانی بات ہے
02:20ان کا خیال تھا کہ شاید یہ ابھی آنے والے دنوں کی بات کر دی اس نے اور وہ انتقال کر گئی
02:26اس کو کیسے پتا چل گیا کوئی ان کے پاس کو ٹائم مشین ہے
02:28تو اس سے اندازہ ہوا کہ جب بھی آپ اے اے اے سے کوئی چیز بنائیں
02:33یا دوسرے پر اس کو ذرا چیک ضرور کر لیں
02:36چیٹ جی پی ٹی والوں نے تو لکھنا بھی شروع کر دیا ہے
02:39اور باقیوں نے بھی کہ بھائی جو ہماری انفرمیشن ہوتی ہے
02:42اس میں ایرر ہو سکتا ہے تو کہیں بھی کوٹ کرنے سے پہلے اس کو چیک کر لیں
02:47لیکن ہمارے جو بھائی صاحبان ہیں اور جو بہن صاحبان ہیں
02:51انہوں نے جو ہے اس کو وکی پیڈیا کی غلطی شمار کر دیا
02:57جبکہ غلطی نہیں آپ سنیں گے تو آپ کو مزا آئے گا
03:01تو چلے پروگرام کو شروع کرتے ہیں اور ایک بات
03:04آج کی تاریخ کا جو سب سے اہم واقعہ ہے
03:07وہ میرے نزدیک تو پاکستان پیپل پارٹی کے بانی رہنماد
03:12ظلفقار علی بھٹو کی پدائش کا دن ہے
03:14شاہ جہان بھی اپنے دور کے بڑے آدمی تھے
03:18اور انہوں نے تاج محل جو ہے تعمیر کرایا
03:21لیکن میں چاہوں گا کہ بھٹو صاحب کی زندگی پر
03:25میں آخر میں تھوڑی سی ذاتی گفتگو کروں
03:28تو پروگرام شروع کرتے ہیں جی
03:30آج تاریخ کے آئینے میں
03:32خوش آمدید آج ہم اچھا ایک بڑا دلچسپ تجربہ کرنے والے ہیں
03:36ہم نے تاریخ کا صرف ایک دن چنا ہے
03:38پانچ جنوری اور اس کے بارے میں جاننے کے لیے
03:41ہمارا واحد ذریعہ ہے
03:42اردو وکیپیڈیا کا ایک صفہ
03:44تو سوال یہ ہے کہ کیلنڈر کا صرف ایک دن
03:47ہمیں تاریخ کے بارے میں کیا سکھا سکتا ہے
03:49اور یہ تجربہ مطلب شروع ہوتے ہی
03:53ایک بہت عجیب موڑ لے لیتا ہے
03:54اس صفے پر پیدائش وفات اور واقعات کی
03:58ایک لمبی فیرستو ہے
03:59لیکن اس میں ایک ایسی چیز لکھی ہے
04:02جو ناممکن لگتی ہے
04:04ایک مشہور ناتخواں ہے
04:06حافظ تاہر بلال چشتی صاحب
04:08ان کی وفات کی تاریخ لکھی ہے
04:11پانچ جنوری دو ہزار پچیس
04:13یعنی مستقبل کی تاریخ
04:15بلکل یہ کیسے ہو سکتا ہے
04:18کہ یہ کوئی غلطی ہے
04:19کسی کی شرارت ہے
04:20یا کسی کے پاس ٹائم مشین ہے
04:23اس ایک سوال نے
04:25ہمارے آج کے مشن کو بلکل واضح کر دیا ہے
04:28اس صفے پر دی گئی باقی معلومات کو پرکتے ہیں
04:31اور دیکھتے ہیں کہ تاریخ کیا ہے
04:33اسے کیسے لکھا جاتا ہے
04:34اور اس ڈیجیٹل دور میں
04:36ہم کسی بھی لکھیوی بات پر
04:38کتنا بھروسہ کر سکتے ہیں
04:39جی چلے
04:40اسی سوال کو ذہن میں رکھتے ہوئے شروع کرتے ہیں
04:43اس صفے پر جو واقعات درج ہیں
04:46ان میں سے کچھ ایسے ہیں
04:48جنہیں ہم آسانی سے پرک سکتے ہیں
04:50مثال کے طول پر
04:511925 میں
04:53امریکہ میں ایک بہت بڑا واقعہ پیش آیا
04:55مسز نیلی ٹیلر روس
04:58وائیو منگ کی گورنر بن کر
05:00امریکہ کی تاریخ کی پہلی خاتون گورنر بنی
05:03یہ بظاہر ایک سیدھی سی حقیقت لگتی ہے
05:07ایک اہم سنگے میل
05:09لیکن جب ہم اسے اس نظر سے دیکھتے ہیں
05:12کہ معلومات کی گہرائی کیا ہے
05:14تو میرا سوال یہ ہے
05:16کہ کیا یہ واقعی ایک انقلابی تبدیلی تھی
05:19یا یہ صرف ایک علامتی جیت تھی
05:21اور خواتین کو حقیقی سیاسی ٹاکت حاصل کرنے میں
05:25مطلب کئی دہائیاں لگ گئی
05:27بہت اہم نکتہ ہے
05:28دیکھیں یہ دونوں باتیں درست ہیں
05:30یہ ایک بہت بڑی علامتی جیت تھی
05:33اس وقت امریکہ میں خواتین کو ووٹ کا حق ملے
05:37صرف پانچ سال ہوئے تھے
05:38تو ایک خاتون کا گورنر بننا
05:40یہ پیغام تھا کہ سب سے اونچے دروازے بھی
05:44اب کھٹ کھٹ آئے جا سکتے ہیں
05:45صحیح
05:46لیکن آپ کی بات بلکل درست ہے
05:48کہ اس کے بعد بھی عملی طور پر
05:51خواتین کو سیاسی نظام میں
05:53برابر کی نمائندگی حاصل کرنے میں
05:55تقریباً ایک صدی لگ گئی
05:57تو یہ واقعہ ایک طویل سفر کا آغاز تھا
06:00منزل نہیں
06:01یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تاریخ میں
06:03فتح کے لمحات اکثر ایک بہت
06:06لمبی جدوجہد کا حصہ ہوتے ہیں
06:08اچھا
06:09اسی صفحے پر ایک اور چھوٹا سا جملہ ہے
06:11جو بہت سادہ لگتا ہے
06:12انیس سو نو میں کولمبیا نے پاناما کی آزادی
06:15کو تسلیم کیا
06:16یہ پڑھنے میں تو ایک معمولی سی صفارتی خبر
06:19لگتی ہے لیکن
06:21مجھے شک ہے کہ اس ایک جملے کے پیچھے
06:23کوئی بہت بڑی کہانی چھوپی ہوئی ہے
06:25جی بلکل آپ کا شک بلکل درست ہے
06:28یہ جملہ صرف دو ملکوں کا
06:30معمولہ نہیں
06:30اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کی
06:33شترنج کی بسات بچھی ہوئی تھی
06:34اس کہانی کا مرکزی کردار ہے
06:37پاناما کنال
06:38بیسویں صدی کے آغاز میں
06:40امریکہ اس کنال کو تعمیر کرنا چاہتا تھا
06:42جو بہرولاقائل اور بہرے اوکیانوس
06:45کو جوڑ دی
06:45اور یہ ایک بہت بڑا آپ کہیں
06:48کہ تزویراتی اور معاشی منصوبہ تھا
06:50اس وقت پاناما کولمبیا کا حصہ تھا
06:52اور کولمبیا کی حکومت نے
06:54امریکہ کو وہ شرائط نہیں دی
06:56جو وہ چاہتا تھا
06:57تو امریکہ نے
06:58تو امریکہ نے پاناما میں
07:00الہدگی پسند تحریک کی حمایت کی
07:02اور انیس سو تین میں پاناما نے
07:05کولمبیا سے آزادی کا اعلان کر دیا
07:07اس کے فوراں بعد
07:09نئی پاناما حکومت نے
07:10امریکہ کے ساتھ وہ معاہدہ کر لیا
07:13جو امریکہ چاہتا تھا
07:14تو انیس سو نو میں
07:17کولمبیا کا پاناما کی آزادی
07:19کو تسلیم کرنا
07:20دراصل اس حقیقت کو تسلیم کرنا تھا
07:23کہ وہ یہ جنگ ہار چکا ہے
07:25اور عالمی سیاست کا پانسہ پلٹ چکا ہے
07:27یہ ایک چھوٹا سا جملہ
07:29عالمی طاقتوں کی تاریخ
07:31بدلنے کی صلاحیت کی
07:32ایک بہت بڑی مثال ہے
07:34تو عالمی طاقتیں اس طرح
07:36تاریخ کا رخ موڑتی ہیں
07:38لیکن کبھی کبھی تاریخ کا دھارہ
07:40واقعات سے نہیں
07:42بلکہ ان شخصیات سے بدلتا ہے
07:44جو ایک خاص دن پیدا ہوتی ہیں
07:46اور پانچ جنوری کی تاریخ
07:48اس حوالے سے بہت اہام ہے
07:50پندرہ سو بانوے میں
07:52اسی دن مغل شہنشاہ شاہ جہاں پیدا ہوئے
07:55تاج محل والے شاہ جہاں
07:56جی اور شاہ جہاں کا ذکر آتے ہی
07:59ذہن میں سنہرہ دور
08:01اور تاج محل کی خوبصورتی آتی ہے
08:04یہ غلط بھی نہیں ہے
08:05ان کے دور میں فن تعمیر
08:07مصوری اور ثقافت
08:09واقعی اپنے اروج پر پہنچے
08:11لیکن اگر ہم گہرائی میں جائیں
08:13تو کچھ مورخین
08:14ایک بہت دلچسف سوال اٹھاتے ہیں
08:17وہ کہتے ہیں
08:18کہ شاہ جہاں کا دور
08:19بظاہر مغلیہ سلطنت کی
08:21شان و شوقت کا اروج تھا
08:23لیکن یہی وہ دور بھی تھا
08:26جب سلطنت کے وسائل کا
08:28ایک بہت بڑا حصہ
08:29ان عظیم و شان تعمیرات پر
08:31خرچ ہو رہا تھا
08:32تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے
08:35کہ تاج محل جیسی شاہکار
08:37امارتوں کی قیمت آنے والی نسلوں
08:39نے معاشی کمزوری کی صورت میں عدا کی
08:41یہی وہ بحث ہے جو مورخین کرتے ہیں
08:44یہ اتنا سادہ نہیں
08:46کہ خان یا نا میں جواب دیا جائے
08:48یہ فن، سیاست اور معاشت
08:50کا ایک بہت پیچیدہ رشتہ ہے
08:52یہ امارتیں صرف فن کا نمونہ نہیں تھی
08:55یہ مغل سلطنت کی طاقت
08:57اور عظمت کا ایک سیاسی بیان بھی تھی
08:59لیکن یہ بھی حقیقت ہے
09:01کہ ان پر اٹھنے والے اخراجات
09:04نے شاہی خزانے پر
09:05بہت بڑا بوجھ ڈالا
09:07جس کے اثرات شاید اورنگزیب کے دور میں
09:10اور اس کے بعد
09:11زیادہ واضح طور پر نظر آئے
09:13تو شاہ جہاں کی کہانی
09:15صرف محبت کی داستان نہیں
09:17یہ شاہی ترجیحات
09:19اور ان کے طویل مدتی
09:21معاشی نتائج کی بھی کہانی ہے
09:22یہ واقعی ایک بالکل مختلف زاویہ ہے
09:25اور اسی تاریخ پر
09:27لیکن کئی صدیان آگے
09:29انیس سو اچھائیس میں
09:31ایک اور ایسی شخصیت پیدا ہوئی
09:32جس نے برے سگیر کی تاریخ پر
09:35گہرے نکوش چھوڑے
09:36زلفقار علی بھٹو
09:37اگر ہم اسے بڑے منظر نامے سے جھوڑیں
09:40تو بھٹو صاحب پاکستانی سیاست کی
09:43شاید سب سے زیادہ کرشماتی
09:45اور متنازہ شخصیت ہیں
09:46ان کا اثر صرف ان کی پولیسیوں تک
09:49محدود نہیں
09:50بلکہ انہوں نے پاکستان کی سیاست کا
09:53پورا اندازی بدل دیا
09:54اور ان کی میراس آج بھی
09:56اتنی متنازہ کیوں ہیں
09:57دیکھیں بات یہ ہے
09:59کہ ان کے اقدامات کے اثرات
10:01بہت گہرے اور
10:03اور دو روخے تھے
10:04ایک طرف انہوں نے ملک کو
10:06ایک متفقہ آئین دیا
10:08ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی
10:10اور مسلم دنیا کو لاہور میں
10:12اسلامی سربراہی کانفرنس کے
10:14پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا
10:15جی
10:15دوسری طرف ان کی نیشنلائزیشن کی
10:18پولیسیوں نے معیشت کو نقصان پہنچایا
10:21اور ان کے دور میں سیاسی مخالفین سے
10:23سختی سے نمٹا گیا
10:24ان کی شخصیت اتنی بڑی تھی
10:27کہ آج بھی پاکستان کی سیاست
10:29ان کی حمایت
10:30یہ مخالفت کے مہور کے گرد گھومتی ہے
10:33ان کا ورسہ ایک ایسی پہیلی ہے
10:35جسے پاکستان آج تک حل کر رہا ہے
10:38یہ کتنا دلچسپ ہے
10:39کہ ایک ہی تاریخ ہمیں
10:41ایک مغل بادشاہ سے جوڑتی ہے
10:43جس نے سنگ مرمر سے اپنی محراز بنائی
10:45اور ایک ایسے عوامی رہنما سے
10:48جس نے نظریات اور سیاست سے
10:49اپنی محراز چھوڑی
10:50لیکن اس فہرست میں کچھ اور نام بھی ہیں
10:53جو سیاست اور سلطنت سے بلکل مختلف ہیں
10:55پانچ جنوری انیس سو چھیافی کو
10:58مشہور بھارتی اداکارہ دیپے کا پڑکون پیدا ہوئیں
11:01اور اسی تاریخ کو انیس سو پچاس میں
11:04پاکستان کے ایک معروف مذہبی سکولر
11:06مولانا زاہد الراشدی بھی
11:08یہ تو بلکل مختلف دنیاوں کے لوگ ہیں
11:11اور یہ تنوہ ہی
11:13اس تاریخ کی اصل خوبصورتی ہے
11:15یہ ہمیں بتاتا ہے
11:17کہ تاریخ صرف بادشاہوں اور
11:19سیاست دانوں کی کہانی نہیں ہے
11:21اگر آپ ان دو شخصیات کو
11:23ایک ساتھ دیکھیں
11:24دیپے کا پڑکون جو جدید گلوبلائز سینما
11:27کی آئیکون ہے اور مولانا زاہد الراشدی
11:30جو روایتی اسلامی علوم
11:32کے ایک بڑے عالم ہے
11:33تو یہ دونوں مل کر آج کے
11:35جنوبی ایشیا کی تصویر بناتے ہیں
11:37یہ جدیدیت اور روایت
11:40کے وہ دو دھارے ہیں جو
11:41ایک ساتھ بہ رہے ہیں
11:43ایک ہی معاشرے میں لوگ سینما بھی دیکھتے ہیں
11:46اور مذہبی رہنمائی بھی حاصل کرتے ہیں
11:48یہ تضاد نہیں بلکہ اس کھتے کی پہچان ہے
11:50اب ذرا حال کی طرف آتے ہیں
11:52اسی صفحے پر
11:54دوہزار دو کا ایک واقعہ درج ہے
11:56جو جنوبی ایشیا کے لیے بہت اہم تھا
11:59کٹمنڈو میں گیاروی
12:00سارک کانفرنس کے دوران
12:02جو کہ جنوبی ایشیای ممالک کی
12:04ایک علاقائی تنظیم ہے
12:05پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف
12:08اور بھارتی وزیر آزم
12:10اٹل بیہاری واجپائی کے درمیان
12:12ایک تاریخی مسافحہ ہوا
12:14یہ اس وقت ہوا جب دونوں ملک
12:16جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے
12:18جی اور یہ واقعہ
12:20صفارتی علامت نگاری کی ایک بہترین
12:22مثال ہے اس وقت ماحول
12:24اتنا کشیدہ تھا کہ لگ رہا تھا
12:26کوئی بھی چنگاری آگ لگا سکتی ہے
12:29ایسے میں
12:30یہ ایک مسافحہ
12:31ایک ہاتھ ملانے کا عمل
12:33دنیا بھر کی سب سے بڑی خبر بن گیا
12:36اس نے فوری طور پر کشیدگی کو
12:38کم کر دیا لیکن اگر ہم
12:40اس کا گہرائی سے تجزیہ کریں
12:41تو یہ ہمیں صفارتکاری کی طاقت
12:44اور اس کی حدود دونوں دکھاتا ہے
12:46وہ کیسے؟ طاقت اس طرح
12:48کہ اس نے ایک ناگزیر نظر آنے والے
12:50تصادم کو ٹال دیا
12:51اس نے دنیا کو پیغام دیا کہ
12:53باتچیت کا دروازہ بند نہیں ہوا
12:55لیکن حدود اس طرح
12:57کہ اس مسافحہ کے باوجود
12:59پاکستان اور بھارت کے بنیادی مسائل
13:01جیسے کشمیر کا مسئلہ
13:03وہ وہیں کے وہیں رہے
13:04تو یہ ایک ماسٹر کلاس تھی
13:06کہ کس طرح ایک علامتی اشارہ
13:08وقتی طور پر بہران کو ٹال سکتا ہے
13:11لیکن یہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے
13:13کہ دیر پا امن کے لیے
13:15صرف علامتوں سے بڑھ کر
13:17ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے
13:19اس کا اثر اہم تھا
13:21لیکن دیر پا نہیں تھا
13:22اور تاریخ کا پیہ چلتا رہتا ہے
13:24لوگ آتے ہیں
13:25اپنا کردار ادا کرتے ہیں
13:27اور چلے جاتے ہیں
13:28اسی صفحے پر پانچ جنوری کو
13:30وفات پانے والوں کا بھی ذکر ہے
13:32دو ہزار بارہ میں
13:33خیبر پختونخواہ کے
13:34مشہور عوامی گلوگار
13:35رسول بادشاہ کا انتقال ہوا
13:37رسول بادشاہ جیسے فنکار
13:39ہماری ثقافت کے خاموش موررخ ہوتے ہیں
13:42ان کی موسیقی
13:43جسے ہم لوگ موسیقی کہتے ہیں
13:45وہ کہانیاں
13:46روایات اور احساسات
13:48سنبھال کر رکھتی ہے
13:49جو شاید تاریخ کی
13:51سرکاری کتابوں میں
13:52کبھی جگہ نہ پائیں
13:53بلکل
13:53وہ اپنے گانوں کے ذریعے
13:55ایک پوری نسل کے دکھ سکھ
13:57خوشیاں اور امیدیں
13:58ریکارڈ کر رہے ہوتے ہیں
13:59تو جب ایسا کوئی فنکار
14:01دنیا سے جاتا ہے
14:02تو صرف ایک انسان نہیں جاتا
14:04بلکہ علاقہ یاد داشت کا
14:06ایک پورا کتب خانہ
14:07بند ہو جاتا ہے
14:08بلکل
14:08اور یہ سلسلہ
14:09آج بھی جاری ہے
14:10ماخز میں
14:11دو ہزار چوبیس کی
14:12کچھ حالیہ وفات
14:13کا بھی ذکر ہے
14:13جیسے پاکستانی
14:15اسلامی سکولر
14:16مسود الرحمان
14:16اسمانی
14:17اور ہندوستانی
14:18سکھ رینما
14:19بلون سنگھ نندگڑ
14:20یہ اندراجات
14:21بتاتے ہیں
14:22کہ تاریخ
14:22ہر روز
14:23لکھی جاری ہے
14:24یہی ویکی پیڈیا
14:25جیسے
14:26پلیٹ فوم کی
14:26نویت ہے
14:27یہ ایک زندہ
14:29دستاویز ہے
14:29جو ماضی
14:30اور حال
14:31کو ایک ساتھ
14:32لے کر چلتی ہے
14:33تو اس ساری
14:33گفتگو کے بعد
14:34ہم وہیں واپس آتے ہیں
14:36جہاں سے
14:36ہم نے شروع کیا تھا
14:38وہ ناممکن اندراج
14:39حافظ طاہر
14:40بلال چشتی صاحب کی
14:42دو ہزار پچیس میں
14:43وفات کی پیشنگوئی
14:44اتنی ساری
14:46قابل اعتبار
14:46معلومات کے بیچ میں
14:47یہ ایک واضح طور پر
14:49غلط بات
14:50ہمیں کیا سکھاتی ہے
14:51یہ ہمیں شاید
14:52اس پورے صفحے کا
14:53سب سے اہم سبق
14:54سکھاتی ہے
14:55یہ ہمیں یاد
14:56دلاتا ہے
14:57کہ ویکی پیڈیا
14:58یا انٹرنیٹ
14:59پر موجود
14:59کوئی بھی معلومات
15:01حتمی سچائی نہیں ہے
15:02یہ ایک ساریف
15:03کے ذریعے
15:04ترمیم شدہ
15:05پلیٹ فوم ہے
15:05تو یہ اندراج
15:07کسی کی سنگین
15:08غلطی ہو سکتی ہے
15:09کسی نے شرارتن
15:10اسے شامل کر دیا ہوگا
15:12یا شاید
15:12کوئی عجیب
15:13و غریب مزاق
15:14کیا ہوگا
15:15لیکن اس کی وجہ
15:16کچھ بھی ہو
15:17یہ ایک سرخ جھنڈی ہے
15:19یہ ہمیں چیخ کر
15:20کہہ رہا ہے
15:21کہ مجھ پر
15:22آنکھیں بند کر کے
15:23بھروسہ مت کرو
15:24ہر معلومات کی
15:26تنقیدی جانچ کرو
15:27تو ایک طرح سے
15:28یہ غلطی ہی
15:29صفحے کی
15:30سب سے قیمتی چیز ہے
15:31یہ ہم ایک
15:32ذمہ دار کاری
15:33بننے پر
15:33مجبور کر دیے
15:34اور ظاہر ہے
15:35ہم حافظ صاحب کی
15:36لمبی اور صحت مند
15:37زندگی کے لیے
15:37دعا گوئیں
15:38اور امید کرتے ہیں
15:39کہ ویکی پیڈیا
15:40کا یہ صفحہ
15:40کئی دہائیوں
15:41تک غلط ثابت
15:42ہوتا رہے
15:42آمین
15:43یہ ڈیجیٹل دور میں
15:45معلومات کو
15:46پرخنے کا
15:46ایک عملی سبق ہے
15:47یہ ہمیں سکھاتا ہے
15:49کہ ذرائع پر
15:50سوال اٹھانا
15:51کتنا ضروری ہے
15:52چاہے وہ
15:53کتنے ہی
15:53مستند کیوں نہ لگے
15:54تو آج کی
15:55ہماری یہ گہری
15:56چھانبین
15:57ہمیں کہاں لے کر آئی
15:58ہم نے پانچ جنوری
15:59ایک دن کو
15:59بنیاد بنا کر
16:00مغلوں کے فن
16:01تعمیر اور
16:02معیشت پر بات کی
16:03امریکی سیاست میں
16:04خواتین کے سفر
16:05کو دیکھا
16:06جنوبی ایشیا کی
16:07پیچیدہ سفارتکاری
16:08کو سمجھا
16:08اور آخر میں
16:10ڈیجیٹل دور میں
16:11سچ اور جھوٹ
16:12کی پہچان
16:12کے سوال تک پہنچے
16:14اور اس سارے جائزے سے
16:15ایک بات بہت
16:16واضح طور پر
16:17سامنے آئی ہے
16:17تاریخ صرف
16:19واقعات اور
16:20تاریخوں کا
16:20مجموعہ نہیں ہے
16:21یہ انگینت
16:22لوگوں کی زندگیوں
16:23ان کے کاموں
16:24ان کے خوابوں
16:25اور ان کے فیصلوں
16:26کا ایک ایسا جال ہے
16:27جو ایک دوسرے سے
16:29جڑا ہوا ہے
16:29ایک دن کا مطالعہ
16:31دراصل پوری
16:32انسانی تاریخ
16:33کے ایک چھوٹے سے
16:34نمونے کا مطالعہ ہے
16:35اور جاتے جاتے
16:36سننے والوں کے لیے
16:37ایک سوچ چھوڑے جاتے ہیں
16:38ویکی پیڈیا کا یہ صفحہ
16:40شاہ جہاں اور
16:41زلفکار علی بھٹو کو
16:42ایک تاریخ
16:43پانچ جنوری سے جوڑتا ہے
16:45لیکن شاید ان کے درمیان
16:46اصل رشتہ تاریخ کا نہیں
16:48بلکہ میراس
16:49یا لیگسی کے تصور کا ہے
16:51دونوں نے ایسی چیزیں بنائیں
16:53جن کے بارے میں
16:54وہ امید کرتے تھے
16:55کہ وہ ہمیشہ قائم رہیں گی
16:56ایک نے سنگ مرمر سے
16:58دوسرے نے سیاسی نظریات سے
16:59اور آج
17:00صدیان گزرنے کے بعد بھی
17:02ہم ان دونوں کی چھوڑی ہوئی
17:03میراس کی قیمت
17:04اور اس کے نتائج پر
17:05بحث کر رہے ہیں
17:06یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے
17:09کہ ہمارے اپنے دور کے
17:11واقعات کا جوڑنے والے
17:12غیر مری دھاگے کیا ہیں
17:14آج ہونے والے دو
17:16بلکل مختلف واقعات کے درمیان
17:18سو سال بعد مورخ
17:20کون سا ایسا گہرا تعلق
17:22دریافت کریں گے
17:23جو آج ہمیں نظر نہیں آ رہا
17:25یہ تھا آج
17:27تاریخ کے آئینے میں
17:28بٹو صاحب پر تھوڑی سی گفتگو کرتا ہوں
17:31پاکستان کے سابق
17:33وزیر آزم
17:34ظلفقار علی بٹو جو ہیں
17:36وہ لارکانہ سندھ میں پیدا ہوئے تھے
17:39ان کے والد سر شاہ نواز بٹو
17:41مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی
17:44اور جونہ گر کی ریاست میں دیوان تھے
17:46پاکستان میں آپ کو قائد عوام
17:48یعنی عوام کا رہبر اور
17:49بابا آئینے پاکستان بھی کہا جاتا ہے
17:52آپ پاکستان کی تاریخ کے
17:54مقبول ترین وزیر آزم تھے
17:55اور بہت پڑے لکھے تھے
17:58ظلفقار علی بٹو نے
17:59انیس سو پچاس میں برکلے یونیورسٹی
18:02کلیفورنیا سے سیاسیات میں
18:04گریجویشن کی
18:05انیس سو باون میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے
18:07اصول قانون میں
18:08ماسٹر کی ڈگری لی
18:10اسی سال
18:11میٹل ٹیمپل لندن سے بیریسٹری
18:14کا انتحان پاس کیا
18:15قانوندان تھے
18:16پہلے ایشیای تھے
18:18جنہیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی میں
18:20ساؤتھ ایمپین میں
18:21بینرکامی قانون کا
18:22استاد مقرر کیا گیا
18:24کچھ عرصہ مسلم لا کالج
18:25کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر
18:27رہے انیس سو تریپن میں
18:28سندھ ہائی کوٹ میں
18:30وقالج شروع کی
18:31زبردست سیاستدان تھے
18:33بٹو جمہوری حکومت میں
18:34صدر پاکستان سکندر مرزا کے
18:36وزیراعظم فیروز خانون کے
18:38کابینہ میں وزیر تجارت
18:39اور ایوب خان کے زمانے میں
18:41انیس سو چوون سے
18:42وزیر دہا کے منصب پر فائز تھے
18:45بلکہ صدر ایوب کی کابینہ میں
18:47تو وزیر تجارت
18:48اقلیتی امور
18:49وزیر سنت و قدرتی وسائر
18:52امور کشمیر
18:53اور وزیر خان جا رہے ہیں
18:56دسمبر انیس سو
18:58سٹھ سٹھ میں
19:00پاکستان پیپل پارٹی کی بنیاد رکھی
19:02انیس سو ستر کے عام انتخاب
19:04آپ نے پیپل پارٹی نے
19:06مغری پاکستان میں
19:06نمائی کامیابی حاصل کی
19:08اور دسمبر انیس سو قطر میں
19:10جنرل یحیٰ خان نے
19:12پاکستان کی حکومت جو تھی
19:14وہ مسٹر بھٹو کو سوم دی
19:17وہ دسمبر انیس سو قطر تا
19:19تیرہ اگست انیس سو تحتر
19:21صدر مملکت کے عہدے پر فائد رہے
19:23بھٹو صاحب کے لیے
19:25یہ بھی ایک عزازی ہوگا
19:27کہ وہ تقریبا سارے عہدے
19:28انہوں نے انجائے کیے
19:29وہ صدر بھی رہے
19:30وزیر آزم بھی رہے
19:31مارشل ایڈمنسٹریٹر بھی رہے
19:34اور چودہ اگست انیس سو تحتر
19:36کو نئے آئین کے تحاد
19:38وزیر آزم کا حلف اٹھایا
19:39انیس سو ستتر کے عام انتخابات میں
19:42دھاندلیوں کے سباب ملک میں
19:44خانہ جنگی کیسی کیفیت پیدا ہو گئی
19:46پانچ جلائی انیس سو ستتر
19:48کو جنرل محمد زیاو الحق
19:50نے مارشلہ نافذ کر دیا
19:51گریفتاری ہو گئی جی
19:54استمبر انیس سو ستتر میں
19:56مسٹر بھٹو نواب محمد
19:58احمد خان کے قتل کے الزام میں
20:00گریفتار کر لئے گئے
20:02اور آٹھ مارچ انیس سو اٹھتر
20:04کو ہائی کوٹ نے انہیں سزائے موت
20:06کا حکم سنایا چھے فروری انیس سو
20:08ناسی کو سپریم کوٹ نے
20:09ہائی کوٹ کے فیصلے کی توزیق کر دی
20:12چار اپریل کو انہیں
20:13راولپنڈی جیل میں
20:15سزائے موت دے دی گئی
20:17سندھ میں چار اپریل کو ان کی
20:20شہادت کے دن
20:21صوبہ بھر میں جو ہے وہ عام تاتیل
20:24ہوتی ہے
20:24اچھا یہ بٹو صاحب جو ہیں ان کی زندگی
20:28کے بہت ہی اتار چڑھاؤ کے
20:30بھی گزرے ہیں جس میں
20:32ایک بات جو سب سے اہم
20:34ہے وہ تو انیس سو ستر ہی کے
20:36مسائل ہیں جب میڈیا
20:37پاکستان اور بنگلہ دیش
20:40کے مسائل شروع ہوئے اور بنگلہ دیش
20:42جو ہے وہ الگ ہو گیا
20:43بہت سارے ہمارے تجزیہ کار
20:46اس کی وجوہات جو ہیں
20:48کچھ لوگ
20:50اس کو بٹو صاحب پر بھی ڈالتی
20:52ہیں کہ جی انہوں نے کہا اور
20:54یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جی حفوج کو
20:56چاہیے تھا کہ اس میں دخل انتازی کرتی
20:58کیونکہ دخل انتازی کرتی رہتی ہے تو
21:00یہاں بھی دخل انتازی کر لیتی تو کیا
21:02حرج تھا میں نے ذاتی طور پر
21:04کئی انٹرویو کیے جس میں جب یہ
21:06پوچھا کہ کیوں نہیں کیا گیا تو انہوں نے
21:07کہا جی کہ ہم اپنے جو چیف ہوتا
21:10ہے جو اس کی آرڈر
21:12کے پاباند ہوتے ہیں دوسری فوج
21:13اس میں کوئی دخل انتازی نہیں کر سکتی
21:16تو اس طرح سے جو اس کا
21:18ملبا ہے وہ ڈالا جاتا ہے
21:20یا یا خان پر کہ ان کی وجہ سے
21:22یہ کچھ ہوا
21:23یا یا خان کے بارے میں تو ہم جی ضروریت نہیں
21:26کہہ سکتے ہیں کہ ان بچاروں کو کیا پتا
21:27وہ ہوش میں ہوتے تو انہوں نے پتا ہوتا
21:29اور دوسری جو سب سے اہم بات ہے
21:32وہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار
21:34دینے کی ہے میرے خال میں یہ
21:35ان کی زندگی کا سب سے بڑا کام تھا
21:38جو انہوں نے کیا
21:39اور
21:40وٹو صاحب کے بارے میں
21:43نیٹ کے اوپر
21:45یہ وکی پیڈیا اس وقت میرے سامنے ہے
21:47ہنری کسنجر
21:49کا ایک جملہ
21:52لکھا ہوا ہے
21:53اور یہ اس وقت کہا جب
21:55بھٹو صاحب نے بینکوں کو
21:57قومیا لیا تھا
21:58تو
21:59کہا یہ جاتا ہے کہ
22:01بینک جو ہے اس وقت جو دنیا کے
22:03یا جو لوبی تھی
22:05امریکن اور جیوز
22:07ان کے تسلط میں تھے
22:09ہمارے بینک بھی
22:09تو انہوں نے اس کو بہت برا منایا
22:12اور ہنری کسنجر نے کہا تھا
22:14then we will make a horrible example
22:18of you
22:19ہنری کسنجر
22:211976
22:22کہ ہم آپ کو
22:24ایک دہشتناک
22:27مثال بنا دیں گے
22:28کہ ان کی پھانسی کے پیچھے
22:30جو ہے یہ واقعہ تھا
22:32میرا نہیں خیال
22:34کہ ایسا ہو سکتا ہے
22:36ہو سکتا ہے
22:37ہنری کسنجر صاحب کا جو
22:38کہا ہے وہ
22:39لیکن کچھ
22:41اللہ کے اپنے منصوبے بھی
22:42ہوتے ہیں
22:43اور
22:44لیکن میرا خان میں جو انہوں نے
22:47کئی ایک ایسے اقدام کی
22:49ایک قانون بنانے کا اقدام
22:50جو ہے وہ ان کا
22:51ان کی زندگی کا بہت بڑا آئین
22:53سازی جو تھی بڑا کام تھا
22:55اس طرح جو جہوری پروگرام ہے
22:57ہمارا
22:57ایٹمی پروگرام جو ہے
22:59اس کی بنیاد بھی
23:00بھٹو صاحب نے رکھی
23:02میں نے ایکیو خان کا انٹرویو کیا ہے
23:05انہوں نے بھی اس بات کی
23:06تصدیق کی
23:07جب ویسے تاریخ ہوتا
23:08یہ شروع انہوں ہی نے کیا تھا
23:11اور بقول ایکیو خان صاحب کے
23:12کہ جتنے بھی بعد میں لوگ آئے
23:14زیاء الحق صاحب تک
23:16سب نے اس کو
23:17بلکل بھی چھیڑنے کی کوشش نہیں کی
23:19اور اس کو اسی طریقے سے جاری رکھا
23:22اور اسی وجہ سے
23:23جو ہے وہ
23:24جو ہے وہ کچھ کر پائے ہم نے
23:26بھٹو صاحب کی ایک تقریر
23:28یہاں نیٹ پہ موجود ہے
23:29اور انہوں نے کہا
23:30کہ جب جاگیردار
23:31ایک دوسرے سے لڑتے ہیں
23:33تو عوام پیچھے رہ جاتی ہیں
23:35کوئی ترقی نہیں ہوتی
23:36کوئی کارخانہ نہیں لگتا
23:38کوئی سڑک تعمیر نہیں ہوتی
23:39بد ترین اندھیرہ اور غربت چھائی رہتی ہے
23:42صرف گنتی کے لوگ ترقی کرتے ہیں
23:45یا کچھ حال ہوتے ہیں
23:47آپس کی لڑائیاں
23:48عام آدمی کا استحصال
23:50معاشی اور سماجی ترقی سے
23:52بے گانگی ہے
23:53بہراجی بھٹو صاحب کی جو مراث ہے
23:56وہ موجودہ پیپل پارٹی ہے
23:58بھٹو کے بعد پیپل پارٹی
23:59آمرانہ اور نیم آمرانہ
24:01تسلط کے خلاف
24:02مسلسل جد و جہد کرتی رہی
24:04حکومت میں بھی آئی
24:05لیکن کرپشن اور خراب
24:07حکمرانی کی لپیٹ میں آگئی
24:08سیاسی مسئلت کے تحت اسٹیبلشمنٹ
24:10کی لائن اختیار کرنے پر
24:12تنقید کا نشانہ بھی بنتی رہے
24:14بے نظیر بھٹو اور بھٹو کے
24:16عدالتی قطر کے معاملے
24:18اشروں تک حل نہیں ہو سکے
24:20تاریخ میں بھٹو
24:22مضاحمت اور مقبول لیڈرشپ
24:25کی علامت کے طور پر رہیں گے
24:26پیپل پارٹی یا بھٹو کی بجائے
24:28بے نظیر بھٹو کے ورسے کو مانتی ہے
24:35حلات نے انہیں لا تعلق بنا دیا
24:37بھٹو کی پیپل پارٹی
24:39کا عوامی رنگ تھا ہفتے
24:41دہ دن میں وہ عوام سے رجوع کرتے
24:43تھے رفتہ رفتہ یہ رنگ پھیکا
24:44پڑتا چلا گیا
24:45بھٹو کی پارٹی میں جاگیردار
24:48کارکنوں
24:50اور پارٹی سے ڈرتے تھے
24:52اب یہ طبقہ پارٹی کو ڈراتا ہے
24:55پیپل پارٹی اب بھی ملکی سطح پر
24:57سیاسی قوت ہے لیکن پالیسیوں
24:59سے لگتا ہے کہ وہ اپنی بقا کی جنگ
25:00لڑ رہی ہے
25:01فیض صاحب نے ان کے لیے
25:05شیر کہے تھے
25:06اور میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں
25:08ان کا ایک شیر
25:09کہ دیا تھا صبح مسررت
25:12نے ایک چراغ ہمیں
25:14اسی کو تم نے سر شام
25:16کھو دیا لوگو
25:18آگا شورش کاشمیری تمام
25:20عمر بھٹو صاحب کے
25:22بترین نقادوں میں سے تھے
25:24لیکن بھٹو نے جرت کرتے ہوئے
25:26کاریانیوں کو جب غیر مسلم
25:28اقریت قرار دیا تو شورش
25:30کاشمیری نے
25:31ظلفکار علی بھٹو کو
25:32جنتی قرار دیتی ہوئے کہا تھا
25:35ایک بات میں یہاں کہنا چاہوں
25:37کہ جب انہوں نے سائن کیا
25:38تو بہت سے لوگوں کی رائے ہے
25:40کہ جب انہوں نے سائن کیا
25:42تو کہا تھا
25:42کہ میں اپنی موت پر دستخط کر رہا ہوں
25:45شورش کاشمیری نے لکھا
25:48ناموس مصطفیٰ کے
25:50نگہدار زندہ باد
25:52میرے امم کے
25:54حاشیہ بردار زندہ باد
25:57نوے برس کا ایک کذیہ کیا ہے تیہ
26:02بادا گسار احمد مختار زندہ باد
26:05سر کر لیا ہے ختم نبوت کا مارکہ
26:09زندہ دلان لشکر احرار زندہ باد
26:13جھکتا نہیں ہے پرچم دین حدا کبھی
26:17رکتی نہیں ہے دین کی
26:20للکار زندہ باد
26:21عزبس کے ذلفکار علی
26:24بین عام ہے
26:25خنجر ہوا ہے
26:27قافلہ سالار زندہ باد
26:29اہلِ وفا کے دل میں
26:31پیمبر کی ہے لگن
26:33اہلِ وفا کے عشق کی
26:35رفتار زندہ باد
26:37برطانمین یادِ
26:39نبوت کا ارتحال
26:41نرغے میں آ گئے ہیں سیاہکار
26:44زندہ باد
26:45بھٹو کا نام زندہ و جعوید ہو گیا
26:48شورش شکست کھا گئے
26:51اشرار زندہ باد
26:53محسن نقوی نے قائد عوام کو
26:55اخراج عقیدت پیش کرتی ہوئے کہا تھا
26:57علی کی ذلفکار تھا
26:59وطن کا افتخار تھا
27:00وہ زندگی کے گلستان میں
27:02بے خزاں بہار تھا
27:04وہ رہنمائے مملکت
27:06وطن کا تائیدار تھا
27:08سرِ عدو کے واسطے
27:09وہ تیغِ بینِ عام تھا
27:11وہ قائد عوام تھا
27:12وہ قائد عوام تھا
27:14برحال
27:15اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا عَلَيْهِ رَاجِهُمْ
27:18ہم سب اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
27:21ازر نیاز کو اجازت دیجئے
27:23اللہ حافظ
Be the first to comment