Skip to main content
#pakistan #politics #geopolitics #imrankhan #pmln #pti #ppp #pecaact #nationalassembly #breakingnews #year2025 #adialajail #bushrabibi #bilawalbhutto #asimmunir #fieldmarshalasimmunir #afghanistan #pakistanafghanistanrelations #pakafghanconflict #afghanrefugees #india #raw #jafferexpress #breakingnews

'KYA KHOYA KYA PAYA' Jan | March 2025 | Special Transmission | 1st Jan 2026 | ARY NEWS

Category

🥇
Sports
Transcript
00:00ssall 2020
00:03jenversi se marge
00:06khabrn se jude aahum wakyaat
00:08kya hua
00:10aur kiishe hua
00:14190 million pound case
00:16bani pti ai ko sza
00:18190 million pound case
00:20case is wos siasii nuiyet ka
00:22naih hai
00:24establishment
00:26sخت khilaab ho
00:28hukumat ne commission binaya
00:30to phir dhekhenge
00:46bani pti ai nai gandapur ko pti ai khabr paktun khai ki sadaarat se htta diya
00:50pika act termini bill
00:54pika act termini bill
00:56bora se monzoo
00:58pika act
01:00pika act kiyo ay
01:02is liya aya ki bhai
01:04hamei tin qi basand naih
01:06foreign
01:24foreign
01:30foreign
01:32foreign
06:02I need to talk about this.
06:04That you.
06:06You have the thing.
06:46foreign
07:16خان صاحب is looking for a perfect deal
07:18perfect deal نہیں ہو سکتی
07:20جب آپ کے پتے
07:21سارے آپ کے اتنے اچھے نہ
07:23اور جتنے دوسرے گئے
07:24بانی پی ٹی آئی سے جب بھی
07:25کسی میڈیا کے لوگوں نے بات کی
07:26جب ٹرائل ہوتا تھا
07:27تو میڈیا کوئی جاستی اندر جانے گی
07:29وہ یہ کہتے تھے
07:30مجھے نہ ڈیل چاہیے نہ ڈیل چاہیے
07:31میں تو عدالتوں سے انصاف لوں گا
07:34ایک سانس میں یہ سانس تھا
07:36اور پارٹی ان کی قیریتی بانی کو ریا کرے
07:38میں نہیں سمجھتا
07:39کہ پچھلے ایک سال کا
07:40اگر آپ ٹنیور اٹھا کے دیکھیں
07:41تو شاید اس سے زیادہ قریب
07:43عمران خان صاحب کی رہائی
07:44وزریعہ مذاکرات ممکن ہو سکتی تھی
07:47اس کے بعد کبھی میرے خان میں
07:49کبھی کوئی ایسا موقع نہیں آیا
07:50کہ عمران خان صاحب کی رہائی ممکن ہو سکتی
07:51میں نے اس دن بھی ارز کیا
07:53کہ بھائی خان صاحب کی رہائی سے
07:54متعلق کوئی بات چیت نہیں ہے
07:56جتنی بات چیتوں کے حوالے سے
07:58خبریں آ رہی ہیں
07:59اس میں خان صاحب کی رہائی کی
08:01تو کوئی بات ہی نہیں ہے
08:02جنوری دو ہزار پچیس
08:05آنی پی ٹی آئی میں
08:07گنڈاپور کو پی ٹی آئی خیبر پختونخواہ
08:09کی صدارت سے ہٹا دیا
08:11جنید اکبر صدر مقرر
08:13میں سمجھتا ہوں یہ غلط فیصلہ تھا
08:18علی عمین گنڈاپور کو ہٹانے کا فیصلہ بھی لگا
08:21نہیں درست فیصلہ تھا یہ
08:23یہ فیصلہ اچھا تھا
08:23یہ فیصلہ پارٹی کی طرف سے اس لیے کیا گیا
08:28جو ہمیں سمجھ جائی
08:29وہ پارٹی کی امیدوں پر نہیں پورے اتر رہے تھے
08:31علی عمین گنڈاپور صاحب درمیار کا راستہ اختیار کرنا چاہ رہے تھے
08:34وہ عمران خان صاحب کو بار بار یہ مشورہ دے رہے تھے
08:37کہ ہم سڑکوں کے اوپر دباؤ ڈال رہے ہیں
08:39لیکن سٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر
08:41یا ان کو راضی کیے بغیر
08:42ہم آگے نہیں پڑھ سکیں گے
08:44تو میرا مشورہ یہ ہے
08:53کہ عمران خان صاحب اب کسی نہ کسی وقت
08:57علی عمین گنڈاپور صاحب کو تبدیل کر دیں گے
09:00KPK میں ایک بہت اہم دھڑا ہے
09:03جو کہ عاطف خان شہرام خان وغیرہ کا ہے
09:05جنید صاحب کا ہے
09:07اور اسی وجہ سے ہوا یہ
09:08کہ علی عمین گنڈاپور کو سائیڈ پہ کر کے
09:10جنید اکبر صاحب کو لگا دیا گیا
09:12تاکہ دونوں دھڑوں کو ایک طرح سے اپیز بھی کیا جائے
09:15اور وہ طریقہ کار
09:16جو عمران خان صاحب چاہتے ہیں سیاست کا
09:19اس کو آگے بڑھایا جا
09:20اور وہ طریقہ کار یقیناً جارہان ہے
09:22جنید اکبر کا
09:24یا خیال تھا
09:26کہ ہم پارٹی کو زیادہ موٹیویٹ کر لیں گے
09:29اسلامباز زیادہ لوگ لے آئیں گے
09:32یا عمران خان کی رہائی کے لیے
09:34تحریک مزید مضبوط ہو جائے گی
09:36مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا
09:38عمران خان صاحب کا خیال یہ تھا
09:40کہ جنید اکبر صاحب کو لے کے آتے ہیں
09:41وہ پیور پتھان ہے
09:43پتھان بلڈ ہے
09:44اور وہ تباہی پھلا دے گا
09:46تو پھر اس لیے انہوں نے
09:47گھنڈاپور صاحب کو ریموو کر کے
09:49ان کو سائٹ پر کر کے
09:50جنید اکبر صاحب کو لے کے آئے
09:51لیکن جنید اکبر صاحب کچھ بھی نہیں کر سکے
09:53وہ پتہ چلا
09:54کہ گھنڈاپور صاحب جو تھے
09:55وہ زیادہ بہتر فیصلہ کرتے تھے
09:57اور کچھ نہ کچھ تو کر رہے تھے
09:58جنید اکبر صاحب نے
09:59تو صرف دو چار تقریریں کی
10:00اس کے بعد چپ کر کے گھر بیٹھ کے
10:02مجھے لگتا ہے
10:03یمران خان کا اچھا فیصلہ ہے
10:04اس کی کئی وجوہات ہیں
10:05پہلی وجہ تو یہ ہے
10:06کہ علی منگنڈاپور وزیرعالہ بھی ہیں
10:08یعنی چیف اگزیکٹیو بھی ہیں
10:10اور مرکز کے ساتھ
10:12ایک حد سے زیادہ محاضر آئی
10:14کہ ان کے لیے
10:16اور صوبے کے لیے ٹھیک نہیں ہے
10:17دوسری بات
10:19علی منگنڈاپور کے وزیرعالہ
10:21بننے سے
10:23اب تک
10:24بہت سارے گروپ ہیں
10:26جو ان سے خوش نہیں ہیں
10:27جنوری دو ہزار پچیس
10:32بریسٹر گوہر
10:35اور علی امین گنڈاپور کی
10:37پشاور میں آرمی چیف سے ملاقات
10:39پارٹی کے مطالبات سامنے رکھے
10:41بریسٹر گوہر
10:43وہ ملاقات جس طرز پر تھی
10:49اس میں بائی فار کو ایسی بات چیت نہیں ہوئی تھی
10:53جس کے اوپر یہ کہا جا سکتا ہے
10:55کہ کوئی سیاسی گفتگو بہت زیادہ ہوئی
10:57اس پہ بس ایک
10:59اوپرچولٹی تلاش کرنے کی کوشش کی تھی
11:01گنڈاپور صاحب نے
11:02کہ کسی طرح آرمی چیف سے
11:03کوئی بات چیت ہو جائے
11:05اور تھوڑا سا ایک
11:06معاملات کو بہتر کرنے کا
11:09کوئی معاملات
11:10اس میں پیغام چلا جائے
11:11اس کے بارے میں
11:12یہ کہا جاتا ہے
11:14کہ کوئی بہت زیادہ
11:15بڑا کوئی بریک تھو نہیں تھا
11:17اگر وہ تھا بھی
11:18تو بڑا کوئی سرسری سی ایک ملاقات تھی
11:20جس کے اندر کوئی بہت بڑی
11:21کوئی ڈیل شیل وغیرہ کی
11:22کوئی ایسی باتیں جو ہے
11:23وہ نہیں ہوئی تھی
11:24حال بتا یہ ہے
11:25کہ بیریسٹر گوھر کی
11:26اس ملاقات سے
11:27بیریسٹر گوھر کو
11:27بہت بڑا ایک کانفیڈنس بوس مل گیا تھا
11:29کہ میرا ایکسس جو ہے
11:30وہ وہاں تک ہے
11:31اس کے علاوہ
11:32کوئی میرا نہیں خیال
11:34کہ یہ کوئی
11:34ایسی کوئی بہت بڑی
11:35بریکنگ نیوز تھی ہے
11:36اس میں کوئی
11:37بریک تھو نہیں ہوا تھا
11:38کوشش ضرور تھی
11:39بہت قین تھے
11:40برسٹر گوھر خان صاحب بھی
11:41اور علی منگنڈا پور صاحب بھی
11:43کیونکہ دونوں یہ شخصیات
11:44ایسی تھی جو
11:44چاہتی تھی
11:45اور ابھی بھی چاہتے ہیں
11:46کہ خان صاحب کا کوئی بھلا ہو
11:47یہ پیکا جیسے بل ہوتے ہیں
12:12یہ بہت بڑی بے فکوفی ہوتی ہے
12:15پیکا ایکٹ کیوں آیا
12:16اس لیے آیا
12:16کہ بھائی
12:17ہمیں تنقید بسند نہیں
12:19پیکا بل
12:19پاکستان کی تاریخ میں
12:21ایک سیاہ باب کے طور پر دیکھا جائے
12:23گوہر نہ صرف اس زمانے میں
12:24بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے زمانے کے اندر بھی
12:27جو جو صحافیوں کے اوپر
12:29قدغنے لگائی جا رہی تھی
12:30یہ ایک تواتر سے ہم
12:32طریقہ کار دیکھ رہے ہیں
12:33ایک تسلسل ہے
12:34صحافیوں کی آوازوں کو بند کرنے کا
12:37آپ جناب
12:38کہتے ہیں ان کو دبا دو
12:39آپ نے دبا دیا
12:40ہوتا کیا ہے
12:42پھر لوگ سارے جاتے ہیں
12:43سوشل میڈیا کے دارے
12:45اور جب سوشل میڈیا
12:46آپ کی پرائیم بھی
12:47سورس آف انفرمیشن بنتا ہے
12:48تو پھر وہ آپ کی پرائیم بھی
12:49سورس آف انیلیسز بھی بن جاتا ہے
12:51جب جو زمانہ قبل از پیکا تھا
12:53وہ کونسا کام ہے
12:54جو حکومت نہیں کر پاتی تھی
12:56یا کیا نہیں ہوتا تھا
12:57حکومت کے پاس بھی جسٹیفکیشنز ہیں
13:00جسٹیفکیشن یہ ہے
13:02کہ جو ہمارا سوشل میڈیا ہے
13:03ہمارا جو ریگلر میڈیا ہے
13:05ٹی وی ہے
13:05یا چینلز ہیں
13:06اس کے اوپر تو پیمرا بیٹھا ہوا ہے
13:09اس کے اوپر سب ملکی کی اداروں کی
13:11جو ہے نظر ہے
13:13ایف آئی اے ہے
13:14اور اداریں ہیں
13:15تو ہم تو ایک لفظ بھی
13:17کی بھی کوئی غلطی کریں
13:19تو ہماری پکڑ ہوتی ہے
13:20ٹھیک ہے
13:21اور اس پکڑ میں
13:23وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے
13:25پیکا جو قانون ہے
13:27وہ شروع سے لے کے آخر تک
13:29وہ چاہے پاکستان تحریک انصاف
13:31نے جب اس کو پاس کیا
13:33یا عمل کرنے کی کوشش کی
13:34یا موجودہ حکومت
13:35اس کو پاس کر کے
13:37عمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے
13:38سو تاریخ جو ہے
13:41ہمیشہ اس کو اچھے الفاظ سے
13:42یاد نہیں کرے گی
13:44آپ دیکھئے گا
13:44کہ مستقبل کے اندر
13:46جب بھی پیکا آرڈنس
13:47اور موجودہ حکومت کا ذکر آئے گا
13:50تو حکومت کو تنقید کا ہی
13:52سامنا کرنا پڑے گا
13:52پیکا ایکٹ سے میرا خیال میں
13:53تو صحافیوں کو کسی قسم کے
13:55کوئی فائدہ نہیں ہوا
13:55بلکہ ایک تلوار جو ہے
13:56وہ سر کے اوپر لٹکا دی گئی
13:58اور ہم نے اس سے دیکھا
13:59کہ اس کو استعمال کرتے ہوئے
14:01کئی صحافیوں کو
14:02جو ہے وہ ایکچولی
14:02ٹارگٹ بھی کیا گیا
14:03اور جب یہ
14:04بل ایکچولی لائے جا رہا تھا
14:06تو اسی بات کا خدشہ تھا
14:07کہ اس کو صحافیوں کی
14:08زبابندی کے لیے
14:09جو ہے وہ استعمال کیا جائے گا
14:10اور آج پوری دنیا کے اندر
14:12جو آزادی صحافت کے لیے
14:14آوازیں بلند ہوتی ہیں
14:15اس کے اندر پیکا ایکٹ کی
14:17ایکزامپل کو
14:17کوٹ کیا جاتا ہے
14:19کہ فریڈم آف سپیچ کے لیے
14:20جو ہے وہ اس ایکٹ
14:21کا استعمال کیا جاتا ہے
14:22پاکستان کے اندر
14:23ہمارے جو صحافی ہیں
14:25وہ آزاد نہیں
14:28بلکہ صحافتی آزادی سے بڑھ کر
14:30جو ہے نا وہ مادر پیدر
14:31آزادی کی اوپر پہنچ چکی ہیں
14:32کسی کی اوپر بھی جو ہے وہ
14:34حملہ آور ہو جاتی ہیں
14:35کسی کی بھی پگڑی اچھال دیتی ہیں
14:37اپنے آپ کو کانون سے
14:39بالاتر سمنا شروع پڑی ہیں
14:40تو یہ روش درست نہیں ہے
14:42ریاست یا حکومت
14:44جب اس طرح کے لاز لاتی ہے
14:46تو وہ اپنی کریڈیبلٹی کے خلاف لاتی ہے
14:49اس کے نتیجے میں
14:51مخالف آوازیں مضبوط ہوتی ہیں
14:52اور اپنے حق کی آوازیں کمزور ہوتی ہیں
14:55اس ملک میں جب بھی کوئی حکومت آتی ہے
14:58چاہے وہ جمہوری ہو
14:59یا غیر جمہوری ہو
15:00وہ elected ہو نہ یا non elected ہو
15:03وہ صحافیوں کو پابند کرنا چاہتے ہیں
15:06کیونکہ کوئی تنقید اس ملک میں سننا نہیں چاہتا
15:09آپ جب لوگوں کو یہاں سے وہاں مجبور کریں گے
15:12تو پھر آپ کے اصول کے مطابق
15:13سوشل میڈیا نہیں چلے گا
15:15سوشل میڈیا اپنے اصول اور اپنی نیٹس کے مطابق چلے گا
15:18اس کو اگر یہ سمجھتے ہیں
15:19کہ ہماری آواز بند کر کے
15:21کوئی حکومت کا دورانیاں بڑھ جائے گا
15:23تو بھائی ہماری آواز سے دورانیاں کم ہوتا ہے
15:25نہ بڑھتا ہے
15:26اسی لئے اس کو لائے گیا تھا
15:27کہ کسی طرح وہ لوگ جو سوشل میڈیا کے اوپر
15:30حکومتی سائٹ کی بات نہیں مانتے
15:33یا ان کو تکلیف دیتے ہیں
15:34یا ان کے بیانیے سے ان کو تکلیف ہوتی ہے
15:36تو اس پیکا ایکٹ کا استعمال کرتے ہوئے
15:37ان کی زبابندی کی جائے گا
15:38پیکا ایکٹ دراصل اصل چہرہ ہے
15:41پپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کا
15:43اور اس کا مقصد ایک ہی
15:53لیکن وہ یہ تو کہہ سکتے ہیں نا کہ یہ غلط ہوا ہے
15:55تو بس اتنا ہی انہوں نے کیا
15:57اور جب بھی کبھی انہیں آزادی کا موقع ملے گا
16:02اس کو تبدیل کرنے کا موقع ملے گا
16:05کریں گے
16:06جو آنے والا سال ہے دوہزار چھبیس
16:07میں ایک حال میں اس پیکا ایکٹ کے ذریعے
16:10بہت سے صحافیوں کی زبابندی مزید کی جائے گی
16:12جنوری دوہزار پچیس
16:15قرآد علی شاہ کے بدلے
16:17بڑیم نواز دے دے
16:19کراچی کے تاجروں کا مقالبہ
16:21ایک چاکپلوسی کی بات تاجروں کا بیانیاں نہیں
16:24ترجمان سندھ حکومہ
16:26کراچی کے تاجر چغلی نہ کھائیں
16:30کسی کو وزیرعالہ سے مسئلہ ہے
16:32تو مجھ سے بات کریں
16:33ہم دودھ کے دھلے نہیں
16:35لیکن اچھے ہیں پلاول
16:37ان کا خیال ہے
16:42ہمارے سے بہتر تو کوئی کارکردگی
16:44کسی کے ہے ہی نہیں اس ملک میں
16:45سندھ پر ابھی پتہ نہیں کتنوں سال ہو گیا ہے
16:48نسلسل ان کی گورنمنٹ بان رہی ہے
16:50whether one likes it or not
16:52پیپلس پارٹی نے بیان کا بہت برا منایا
16:54اتنا برا منایا کہ باقیتہ بلاول بھٹو صاحب
16:56نے بھی آکے اس کا تذکرہ کیا
16:58برا منانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی
16:59زبان خلق کو نقا رہے خدا سندھیں
17:02پنجاب میں واقع ہی
17:03کوئی بھی گورنمنٹ ہو اس نے بہتر پرفاب کیا ہے
17:06صحت بن جمہوریت کے اندر
17:07ایسے معاوزنیں ہی ہونے چاہیے
17:09ایک ہیلڈی کامپٹیشن ہی ہونا چاہیے
17:12معاوزنہ ہم کیا کریں دیکھیں
17:13بیسیکلی یہ جس زمانے اور عہد میں
17:16ہم رہ رہے ہیں یہاں پہ
17:17جتنا حکومتی نظم و نصق ہے
17:19یہ اشرافیہ دوست ہے
17:20تو معاوزنہ اس لیے کیا کہ پنجاب میں منصوبیں
17:23انعانس ہو رہے ہیں اور ان کے اوپر
17:25عمل درامت ہو رہے ہیں
17:26اگر کوئی کمپیر کر رہا ہے تو اس پہ آپ کو
17:28کوئی پرسن لینے کی ضرورت نہیں ہے
17:30اس پہ آپ کو سوچنا چاہیے کہ تقابل کیوں
17:33بنتا ہے یہ معاوزنہ کیوں بنتا ہے
17:34ایک آدمی کراچی سے چلتا ہے اور لاہور پہنچتا ہے
17:36تو جب تک وہ سندھ کے علاقوں میں ہوتا ہے
17:38تب تک منظرنامہ اطراف کا
17:41اور نیچے روٹ کا اور
17:42الگ کیوں ہوتا ہے اور سکھر کے بعد
17:44سندھ کے بعد ایک نیا منظرنامہ کیوں شروع جاتا ہے
17:46جو کہ پچھلے منظرنامہ سے بہتر ہوتا ہے
17:48تو جہاں تک پنجاب کی کارکردگی ہے وہ
17:50اشتہارات میں تو آپ کو کافی حد تک نظر آ رہی ہے
17:52لیکن اس کے علاوہ پنجاب کے اندر
17:54اگر آپ دیکھیں جو کیسان ہے
17:56وہ یہ کہتا ہے کہ ہمیں دو ہزار
17:58ارب روپے کا نقصان صرف گندم میں ہوا ہے
18:00کراچی میں کونسی انڈسٹی جو ہے وہ
18:02پنپری یہ ہے کراچی میں تو
18:04پانی کی نہیں مر رہا کراچی میں تو
18:06ڈمپر جو ہیں ڈیلی لوگوں کو مار رہے ہیں
18:08کراچی میں تو مین آل میں بچے گر رہے ہیں
18:11میں کہاں کس کس چیز کا رونا رو
18:20کہ اس ملک کے اندر اگر آپ سندھ کے اندر جائیں
18:26اور مہا پر تعلیم کے
18:28صحت کے ان تمام اشاریوں کے اوپر غور کریں
18:31تو اس وقت سب سے زیادہ پاکستان کے اندر
18:34سندھی قوم کے ساتھ جو زیادتی ہے
18:35وہ یہی ہے کہ نہ تعلیم میں ان کو آگے
18:38اس طرح سے فیسلیٹیٹ کیا گیا
18:40نہ صحت کے معاملے کے اندر
18:41اور جن شہروں میں وہ رہتے ہیں
18:43اب بیسک نیسیسٹیز نہیں ہیں
18:45پھر یہ جو مین ہول کے اندر بچوں نے کتنا شروع کیا ہوئے
18:47وہاں پہ وہ ایک بڑی افسوسناک صورتحال ہے
18:50پولوشن میں کراچی کو دیکھ لیں
18:51کبھی پانی نہیں ہوتا
18:52وہاں پہ کبھی بجلی نہیں ہوتی
18:53کبھی جو میوسپل کمیٹی کے سٹاف ہے
18:56وہ آپ کو نہیں نظر آتا
18:58کیوں جب وہاں بارش آتی ہے
19:00تو طرح پانی نہیں آتا
19:00جتنی یہاں بارش آتی ہے
19:01تو زیادہ پانی آجاتا ہے
19:02کیوں جب وہاں تیز ہوایت سلتی ہے
19:04تو اس طرح بل بورٹ گرنے سے لوگ نہیں مر جاتے
19:06کیوں کٹر میں گرنے سے لوگ
19:08اس طرح نہیں مر جاتے
19:09سرہ کراچی میں
19:09جب ہم جاتے ہیں کراچی میں
19:11اور وہ اپنا ایرپورٹ سے اتر کے
19:13آفسس جاتے ہیں
19:15کوئی چیز ایسی جو آپ سمجھتے ہیں
19:18کہ جناب بڑا کام کمال ہو گیا ہے
19:20جو کسی اسرامبال
19:22اور کراچی پشاور
19:23کسی جگہ نظر نہیں ہے
19:24دوست آج تک
19:26there is nothing going right
19:28and you insist
19:29عام ٹھیک ہے
19:29اور حامل ٹھیک ہے
19:30جو کراچی کے لوگوں کا جو پہیوئر ہے
19:33اور ethics اور values میں
19:34تو دس اور آٹھ کا فرق ہے
19:36یعنی لاہوری
19:37ہر لحاظ سے
19:39دس پہ ہوں گے
19:40اور کراچی کے لوگ اسی پہ ہوں گے
19:42لیکن جو development دیکھیں
19:43اور باقی چیزیں دیکھیں
19:45تو کراچی دس پہ ہے
19:46اور لاہور نو پہ ہے
19:48تو بڑا نوے پہ ہے
19:49تو بڑا فرق ہے یہ
19:50اتنا فرق نہیں ہونا چاہیے تھا
19:52اب urban city
19:52urban nightmare بن چکے ہیں
19:54اب لاہور
19:55دنیا کے دوسرے تیسرے
19:57گندے ترین شہر میں آتا ہے
19:58اس وقت تو
19:59سب سے بڑا خرابی جو آپ نے
20:01پاکستان کے لوگوں کے ساتھ کی ہے
20:03وہ یہ ہے کہ
20:04عوام
20:05سنٹرک
20:06عوام کے
20:08اردگرد
20:09پالسیاں بنانا بات کر دیا
20:10اگر لوگ
20:12کارکردگی کی بنیاد پر
20:13comparison کر رہے ہیں
20:14تو اس کو غنیمت جانیے
20:15اس کو اچھا جانیے
20:16کہ لوگوں نے پیمانا
20:17کوئی اور نہیں بنایا
20:18چونکہ
20:19اس کا
20:19comparison
20:20sentiment
20:21ایموشنلزم کے بجائے
20:22performance پر ہی ہونا چاہیے
20:24اور اگر آپ اچھی performance دکھائیں گے
20:26تو خود داریف کریں گے
20:28فروری دو ہزار پچیز
20:37اب لانگ مارچ میں کسی سے بات نہیں ہوگی
20:41آئندہ پارٹی کے لانگ مارچ میں یہ فرق ہوگا
20:44کہ پہلے قیادت اداروں کے ساتھ رابطے میں تھی
20:47جنید اکبر
20:47آٹھ فروری سے متعلق جنید اکبر کی زیرے صدارت اجلاس
20:53گنڈا پور سمیت بی ٹی آئی کے کئی ارکان خائے
20:56بیان دینا آسان ہے
21:01اس کا implement کرنا
21:03اور جب اتنی فٹیغ ہوئی ہوتی
21:06ان سال سے رگڑے پڑھ رہے ہوں
21:07تو اتنا آسان نہیں ہوتا انقلاب لانا
21:10اس میں کوئی دور آئی نہیں
21:12کہ وہاں پہ اختلاف تھا
21:13اور پھر اختلاف کے بعد
21:14عمران خان صاحب نے جنید اکبر صاحب کو
21:17وہاں کی صدارت دی
21:18اور جس کا بنیادی مقصد یہ تھا
21:20کہ اب کسی قسم کے رابطے نہ ہوں
21:22بلکہ اتجاج کے اوپر توجہ دی جائے
21:24جنید اکبر بڑے ٹھیک تھا
21:25گھڑلے سے آئے تھے پریشر ڈال رہے تھے
21:28اور وہ تیزی میں تھے
21:30لیکن ان کو زیرو بھی عمران خان نے کیا
21:32کیونکہ پی ٹی آئی میں جو ہیرو ہوگا
21:34وہ عمران خان کی نظر میں زیرو کیا جائے گا
21:37عمران خان صاحب کو
21:38علی امین سے جو گلہ شکوا تھا
21:40کہ وہ لوگ جن کے ساتھ
21:42ہمارے اس قسم کے اس وقت معاملات ہیں
21:43حکومت کے لوگ
21:44آپ ان کے ساتھ رابطے میں کیوں ہیں
21:46آپ حضرہ سے کیوں ملتے ہیں
21:47کیا جنید اکبر خان صاحب اور دیگر لوگ
21:50نہیں چاہتے کہ ان کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے بحال ہو
21:53تحریک انصاف کے رابطے بحال ہو
21:55چاہتے ہیں
21:56خود خان صاحب چاہتے ہیں
21:57جب جماعتوں میں خاص طور پر
21:59لیڈرشپ جیل کے پیچھے ہوا کرتی ہے
22:01تو اس طرح ہم دیکھتے ہیں
22:02کہ قیادت تھوڑی تتر بکتر نظر آتے ہیں
22:05تحریک انصاف کے اندر
22:06ہم ایک واضح طور پر نظر آ رہا ہے
22:08کہ جو وفاق کے اندر سیاست کی جا رہی ہے
22:10اس کا مود
22:11اس کی زبان
22:12اس کا لب و لہجہ
22:14بالکل مختلف ہے
22:15اس سیاست سے
22:16جو کہ خیبر پختونخواہ کے اندر کی جا رہی ہے
22:18یہ جو کانسپٹ ہے نا
22:19کہ کوئی کال دے دے گا
22:20اور لاکھوں لوگ شرکوں میں آ جائیں گے
22:22اس نہ ہوتا نہیں
22:22ایک پارٹی سٹرکچر ہوتا ہے
22:24پارٹی سٹرکچر نہیں ہے
22:25پارٹی کی جو لیڈرشپ ہے
22:27وہ بکلا ہے
22:29مختلف نویت کے
22:30وہ لیڈرز ہیں
22:31وہ موبیلائزز نہیں ہے
22:33پولٹیکل جو اینیملز تھے
22:34سیاست میں
22:35وہ کہاں ہیں
22:36جو عمران خان صاحب کا سینئے پولٹیکشنز تھے
22:38یا غائب ہو گئے
22:39یا طائب ہو گئے
22:40پی ٹی آئی کی اندرونی گروہ بندی
22:43جنید اکبر صاحب کے آنے کے باوجود
22:46علیوی گنڈاپور صاحب کا
22:47ادلاس میں شریک نہ ہونا
22:48بہت ساری اور دیکھر وجوات ہو سکتی ہیں
22:51لیکن مین وجہ یہ تھی
22:53کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی نے
22:55اتنا بڑا سیاسی جوا کھیل لیا
22:56جو کہ ناکام ہو گیا
22:57جس کے بعد یہ ممکن نہیں رہا تھا
22:59پی ٹی آئی کے لیے
23:00کہ 26 نومبر کی طرز کا
23:02کوئی بھی اور اقدام برپا کر سکتی ہے
23:04اور جو کہ ہم نے دیکھا
23:05کہ ابھی جب میں ورہا بات کر رہا ہے
23:06پورا سال 2025 گزر گیا ہے
23:09اور پی ٹی آئی 26 نومبر طرز کا
23:12ایک بھی کام نہیں کر سکتی ہے
23:13فروری دو ہزار پچیس
23:16عربی چیف کو خط ملا
23:19نہ پڑھنے میں دلچسپی
23:21بانی پی ٹی آئی سیاستدانوں سے رجوع کریں
23:23سیکیورٹی ذرائع
23:25عربی چیف کو لکھا خط بے نتیجہ
23:30بانی پی ٹی آئی صدر
23:31اور وزیراعظم کو خط تحریر کریں گے
23:34شہبار شیف صاحب کو خط لکھنا
23:39مطلب وقت کا زیادہ
23:41آئی ڈونٹ ٹھنگ کہ یہ
23:42خطوں وطوں سے نہ بھی فرق پڑتا ہے نہ کچھ
23:46یہ ساری چیزیں بیکڈور
23:47بیکڈرون ڈیلز میں ہوتی ہیں
23:49یہ خطوں تو انہوں نے لکھیں
23:51اپنے آپ کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لیے
23:54ویسے یہ خط لکھا جانا میرے خیال میں
23:57اٹسیلف شوق کرتا ہے کہ اس وقت
23:58ہمارا نظام کے اس نہیج کے اوپر ہے
24:00پی ٹی آئی میں ہیں اور پی ٹی آئی کے معنی نے
24:02چار عدد خط لکھا رہے ان کو
24:04کہ میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں
24:06آخری خط کے جواب میں پی ٹی جی آئی اس بی آئی نے کہا
24:08کہ آئندہ آپ ہمیں خط نہ لکھیں
24:10کہ آپ لکھیں گے ہم پڑے بغیر
24:12اس کو ردی کی ٹوکری میں بھینک دیں گے
24:14وہ اپنی طرف سے ایک
24:16ایک ڈیسپریٹ موو ہوتی ہے
24:18جو عمران خان صاحب کی جانب سے کی گئی ہے
24:20وہ خط بیسکلی نام
24:22تو کسی کے ضرور تھے
24:24لیکن ایکچولی وہ صرف میڈیا اٹنشن
24:26کی خاطر جو ہے وہ لکھے گئے تھے
24:27میرے خیال میں یہ ایک کامیاب
24:30حکمت عملی رہی ہے پاکستان تحریک
24:32انصاب کی ان کی قیادت کی
24:33کہ وہ جو بھی بات کرتے ہیں
24:35وہ بات غلط یا صحیح
24:37اس کے اوپر بیس ہو سکتی ہے
24:38لیکن وہ اپنی بات کو
24:40وہ ہر جگہ کے اوپر پھیلا دیتے ہیں
24:42مناسب فورم چیف جسٹس ہی تھے
24:44لیکن دکھ اور تکلیف کی بات یہ ہے
24:48کہ چیف جسٹس نے ججز کمیٹی کو بھیجوا دیا
24:50مطلب جب بھی اس ملک میں
24:52کمیٹی کمیٹی کھیلی جاتی ہے
24:54مطلب معاملہ کو کھاتے ہیں
24:56چیف جسٹس کو خط لکھنے کا مقصد یہ ہے
24:58کہ جناب یہ خبر لگ جائے
25:00ہیڈ لین لگ جائے
25:01کہ بانی پی ٹی آئی نے
25:03چیف جسٹس جایہ افریدی کو خط لکھ دیا
25:05میرے خیال میں خان صاحب یہ کہتے ہیں
25:07کہ میرے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے
25:09وہ ماضی میں جو سابق وزرائی آزم ہیں
25:11ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا
25:13اور اسی چیز کو ہائلائٹ کرنے کے لیے
25:15جب بھی ان کو موقع ملتا ہے
25:16وہ کوئی بیان دیتے ہیں
25:18کوئی خط لکھتے ہیں
25:19یا کوئی آرٹیکل وغیرہ
25:20انٹرنیشنل میڈیا میں آپ نے دیکھا
25:21ان کے چھپتے رہے
25:22تو وہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے
25:24کہ وہ ان سارے معاملات کو ہائلائٹ کرنے
25:26حوجی قیادت کی طرف سے
25:28یا اسٹیبلشمنٹ جو بھی نام دے لیں آپ اس کو
25:30انہوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے
25:31کہ ہم آپ سے بات کرنے میں انٹرسٹیڈ نہیں ہیں
25:33یہ جب خط بھیجا گیا
25:35اس ٹائم پہ آرمی چیف کا جو ریسپونس آیا
25:37اس ریسپونس سے یہ واضح ہو گیا
25:39کہ جتنے مرضی خط لکھے جائیں
25:41جتنے مرضی روابط کے طریقہ کار دھونڈے جائیں
25:45جتنے مرضی بیک ڈور ڈیپلومسی کرنے کی کوشش کی جائے
25:49بات الٹیمیٹلی پولٹیکل لیڈر سے ہی کرنی پڑے گی
25:52یہ ایک ناریٹیف کی بھی وارفئر ہے
25:54جس کے اندر عمران خان صاحب یہ
25:56مجھے لگا ان کے خطوط کی وجہ سے
25:58کہ وہ یہ اسٹیبلش کرنا چاہ رہے ہیں
26:00کہ جتنے بھی فورمس سسٹم کے اندر موجود ہیں
26:03خواہ وہ حکومتی فورمس ہوں
26:05خواہ وہ عدالتی فورمس ہوں
26:07خواہ وہ طاقت کے محبر ہوں
26:08جیسے کہ آرمی چیف کا آفس ہے
26:10ہم نے ان سب کو اپنی اپنی گریونسز دکھائیں
26:12اور کوئی ریلیف نہیں ملا
26:14میرے خیال ہے کہ یہ پی ٹی آئے کے
26:15اور عمران خان صاحب کے ناریٹیف کا ایک حصہ ہے
26:17لہٰذا اس کے بعد پھر نیشنل سنبلی کے سپیکر
26:19ریاض صادق نے ایک انیشیٹیو دیا
26:21کہ دیکھیں
26:22اگر آپ نے پولیٹیکل سلوشن ڈھوننا ہے
26:25صورتحال کا
26:25تو آپ کو سیاستدانوں سے بات کرنی پڑے گی
26:27یہ مشورہ پوجی قیادت نے بھی دیا تھا
26:30ہم سے کہ اگر آپ باتچیت کرنا چاہتے ہیں
26:32تو پھر آپ سیاستی اپشن اپنائیں
26:34اور جو سٹرنگ گورنمنٹ ہے
26:36جس میں دو مینڈ سٹرنگ پارٹیاں ہیں
26:37پیپلز پارٹی اور نونگلک
26:39ان سے بات کریں
26:40ان کو بھی پتا تھا
26:41اس خط کا کوئی فائدہ نہیں ہے
26:43اس خط کو جہاں پہ بھیجا جا رہا ہے
26:45اور مجھے آج بھی بات یاد ہے
26:47کہ آرمی چیف سے
26:48اس وقت یہ سوال کیا گیا تھا
26:50ایک صحافی نے یہ سوال کیا تھا
26:51کہ عمران خان صاحب کی جانب سے
26:52جو ہے وہ آپ کو خط لکھے گئے ہیں
26:54کیا کہیں گے اس پہ اوپر آر
26:55تو اس وقت انہوں نے جواب دیا تھا
26:57کہ یہ خط مجھے محصول نہیں ہوئے
26:58لیکن اگر آئے بھی
26:59تو میں اسے وزیراعظم کی جانب
27:01جو ہے وہ میں بھیج دوں گا
27:02کیونکہ وہ اصل دفتر ہے
27:03جس نے ان چیزوں کو ہینڈل کرنا ہے
27:04تو جب وہ خط لکھے بھی گئے تھے
27:07مجھے اس وقت آئیڈیا ہو گیا تھا
27:08کہ اس کا حاصل بسور کچھ نہیں ہونا
27:09But at the same time
27:11یہ impression عمران خان صاحب کے ذہن میں
27:13اس لیے تھا
27:14کہ جانا ہے تو بات کرنی ہے فوج سے
27:16کیونکہ ان کے اپنے زمانے کے اندر بھی
27:18فوج ایک اہم کردار ادا کرتی تھی
27:20اور یہ حکومت بھی
27:22اس کے وزراء بھی
27:23یہ responsibility لینے کو تیار نہیں تھے
27:25بلکہ ہمیشہ یہ کہتے رہے
27:26کہ یہ hybrid نظام ہے
27:28اور hybrid نظام ہی پاکستان کے لیے بہتر ہوگا
27:30فروری دو ہزار پچیس
27:34پچیس ہزار پاکستانیوں نے
27:37دوری شریعت کے لیے
27:38کثیر سمایہ بیرون ملک منتقل کیا
27:41چیرمن نیر
27:42سینٹ کمیٹی
27:46سرکاری ملازمین پر
27:47دوری شریعت کی پابندی کا بل منظور
27:50گریٹ سترہ سے بائیس تک
27:52افسران اور ان کے اہل خانہ کی احساسیں
27:54پبلک کرنے کا فیصلہ
27:56کوئی چور بھی کہتا ہے کہ
28:00میں فلان اس جگہ سے لوٹ کے آئے ہوں
28:04فلان سے ڈاکا مارا ہے
28:05دیکھیں یہ ایویں ہیں
28:06یہ ڈکوصلے ہیں
28:08کہ احساسیں جناب فلان
28:09سب کے احساسیں پتا ہے ان کو
28:11آپ کے موجودہ جو وزیر دفاع ہیں
28:13وہ یہ کہتے ہیں کہ
28:14بیورو کریٹس نے پرتگال میں
28:15زمینیں خریدی ہوئی ہیں
28:17وہ پرتگال میں پیسے بھیج رہے ہیں
28:19تو کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ مسئلہ تو ہے
28:21میں سمجھتے ہوں اس ملک کے اندر
28:23بیوروکرسی ہی نہیں
28:24ہر اس ادارے
28:26کے لوگوں کے احساسیں پبلک ہونے چاہیے ہیں
28:30جو اس ملک کے اندر اقتدار کے
28:32اس پورے ٹرائکا کا حصہ ہے
28:34اس ملک میں سب سے بڑا
28:36یہی سسٹم ہونا چاہیے
28:37کہ ہر ایک کے احساسیں پبلک ہوں
28:39اور لوگوں کو حق حاصلوں کے وہ دیکھ سکیں
28:42اگر اس ملک کے
28:43اس شرافیہ کے احساسیں باہر نکل آئیں
28:49تو اس میں بھی ہمارے پاس ہم اپنی چوائسز کا استعمال کرتے ہیں
28:53شاید یہ سوفٹ ٹاکٹ ہے
28:54اس لیے اس پر بات کرنا آسان ہے
28:56ایک افسر کے پاس چار بنگلے ہیں
28:58جس کی ڈیڑھ لاکھ روپیہ تنخواہ ہے
29:00اس کے پاس ڈیڑھ ارب کے چار بنگلے ہیں
29:02ایک کراچی میں ایک لاہور میں ایک مشاور میں
29:04یہ تو قوم کو پتا ہونا چاہیے
29:05یہ انہوں نے اپنے احساسیں کیا ڈیکلئے کرنے
29:08اس ہمام میں سب ننگے ہیں
29:10اس حکومت سے یہ ایکسپیک کرنا
29:12کہ اس سب کے احساسیں پبلک کر دیں گے
29:14ہم اس کے اندر دعا گو ہیں
29:16لیکن یہ تقریباً ناممکن سا کام ہے
29:19یہ کوئی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا
29:22اس لیے کہ جب آپ
29:23ایس ایچو سے لے کے ڈی سی تک
29:24اور ڈی سی سے لے کے ڈی سی اور آر پیو تک
29:27اپنی مرضی سے لگوائیں گے
29:28تو اس کے احساسیں کیوں جاننا چاہیں گے آپ
29:31اس حکومت میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں
29:33جن کے احساس سے اگر بالکل پبلک ہو جائیں
29:35تو حکومت کو بڑی مشکلات ہوں گے
29:36آج بھی جب اس کی بازگشت آپ سن رہے ہیں
29:39تو صرف آئی ایم ایف کی وجہ سے ہے
29:41کیونکہ اس کی ریکوائرمنٹ ہے
29:42اور اب الٹی میٹلی جب آپ کو پتا چلا
29:45کہ اس کے بغیر جزارہ نہیں ہے
29:46تو آپ یہ کرنے پر نیم رضا بند ہوئے ہیں
29:49پوری رضا بندی ابھی بھی نہیں ہے
29:51لیکن اگر اس پر کام نہیں ہوا
29:53it means کہ گورنمنٹ نے تو
29:54اپنی شاید جو پالیسی تھی
29:56اس کو مناسب نہیں سمجھا
29:58کہ کسی کے سامنے وہ بتائے
29:59کہ انہوں نے کیوں اس پر آبند رابند نہیں کریا
30:01لیکن جو رکاوٹ ہے وہ essentially بیروکرائٹک ہو
30:04کوئی نہیں چاہتا
30:05کہ ان کی لوٹ مار کی جو بزار ہے
30:09اس پر کوئی رکاوٹ آئے
30:11they are all ends in blood
30:13ملی بغر
30:15بس جس پر نوٹس پیجنا ہوتا ہے
30:16جس سے حکومت نراض ہو جائے
30:18اس کے خلاف کجارے کے آ جاتی ہے
30:21سب کچھ ہو جاتا ہے
30:22یہاں تو لوٹ کا بزار گرم ہے
30:24سب سے بڑا مسئلہ اس وقت یہ ہے
30:27کہ لوٹ مار کے اوپر
30:29کوئی قدر نہیں ہے
30:30جتنا زیادہ لوٹ سکتے ہو
30:32لوٹو اور پھٹو
30:35فروری دو ہزار پچیس
30:38مجھے کیوں نکالا
30:41شیر افزل مروت کا پارٹی قیادت سے سوال
30:44سلمان راجہ کا مروت کی صلاحیت
30:47اور مروت کا راجہ کی حیثیت پر سوال
30:49شیر افزل مروت جیسا جو کارکن تھا
30:54پاک پارٹی کا ایک اساسہ تھا
30:56اس کو نکالنا
30:57اور ایک ایسی شخصیت کی وجہ سے نکالنا
31:00جو کہ کبھی بھی
31:01مضامتی سیاست نہیں کر سکتا
31:03یعنی سلمان اکرم راجہ
31:05سلمان اکرم راجہ صاحب جو ہیں
31:06وہ بیسکلی علیمہ خان صاحبہ کی مہربانی ہے
31:09علیمہ خان صاحبہ ان کو لے کے آئی تھی
31:10انہوں نے ان کو سیکرٹری جنرل بنایا تھا
31:12اور سلمان اکرم راجہ صاحب دنیا کے
31:14وائے سیکرٹری جنرل ہیں
31:15جن کا کوئی الیکشن نہیں ہوا
31:16میرے خیال میں یہ درست فیصلہ تھا
31:18شیر افزل مروت کا جو اوورال ہم دیکھ رہے ہیں
31:22کہ کانڈک بحیثیت ایم این اے
31:24پاکستان طریقہ انصاف کے
31:26اور بحیثیت پارٹی ورکر کے
31:28وہ کافی اس کے اندر مبہم تھا
31:30ابحام تھا
31:31وہ مختلف اوقات میں مختلف بات کرتے ہیں
31:33بحیثیت صحافی میں نے شیر افزل مروت کو
31:36بشرا بیوی اور عمران خان کے بارے میں
31:37کبھی غلط بات کرتے ہوئے نہیں سنا ہے
31:39شیر افزل مروت کی جو
31:41کراؤڈ پولنگ ابلیٹی ہے
31:43اس سے تو کوئی اختلاف نہیں ہے
31:44وہ کراؤڈ کے بڑے فیوریٹ ہوا کرتے تھے
31:46لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کو یہ پاور جو ملی تھی
31:50وہ عمران خان صاحب کی تھبکی سے ہی ملی تھی
31:52شیر افزل مروت صاحب اس سے خوش نہیں تھے
31:54اور وہ چاہتے تھے کہ ان کو فارق کیا جائے
31:56تو وہ سلمان اکر رائے صاحب کے خلاف
31:58روز سازش کرتے تھے
31:59عمران خان صاحب کے کان بھرنے کی کوشش کرتے تھے
32:02دوسرا گروپ بھی پڑا تگڑا تھا
32:03علیمہ خان صاحب کا باقی بہنوں کا
32:05کچھ اور لوگ بھی بہت مضبوط تھے
32:08انہوں نے عمران خان صاحب سے کہا
32:09کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کا بندہ ہے
32:10اور اگر آپ نے اس کو نہ نکالا
32:13تو یہ ساری اطلاع ساری انفرمیشن
32:15سپیشلی جو سیاسی کمیٹی کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے
32:17یہ اسٹیبلشمنٹ کو دیتا ہے
32:19اور اگر ان کو نہ ہم نے نکالا
32:21تو یہ سب کچھ کھول کے بیان کر دے گا
32:23اور یہ وعدہ ماہ گواہ بن جائے گا
32:24پرومی یہ تھا سلمان اکرم راجہ صاحب کو
32:26کہ جلسہ تھا سوابی میں
32:28ای بلیو کہ وہاں پر مروت مروت کے نارے لگ گئے
32:32اور اس وقت سلمان اکرم راجہ صاحب جو ہے
32:34وہ خطاب کر رہے تھے
32:36تو ان کو بڑی اپنی انسلٹ فیل ہوئی
32:38شیرف زل مروت وہ پرسنالیٹی ہے
32:40جو کہ موپھٹ پرسنالیٹی
32:42جن کو کہا جاتا ہے
32:43جو بڑے سوچے سمجھے بغیر بولنے کے عادی ہیں
32:46اور ساتھی ساتھ وہ بولتے ہیں
32:48جو ان کے دل میں ہوتا ہے
32:49تو شاید اس چیز سے بہت سارے لوگ درنے لگے
32:52شیرف زل مروت صاحب ایک بڑے دلچسپ آدمی ہے
32:54وہ دھو داری تلوار ہیں
32:55وہ سامنے سے بھی کاٹتے ہیں
32:56اور پیچھے سے بھی کاٹتے ہیں
32:57ان کا سمجھ نہیں آتی کہ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں
33:00اب وہ پارٹی کے اندر تھے
33:01لیکن انہوں نے پارٹی کے اندر ایک گروپ بنا لیا
33:03اور اپنی ہی پارٹی کو رون میں شروع کر دیا
33:05بالکل پورس کے ہاتھیوں کی طرح
33:07وہ کبھی آگے چل جاتے تھے
33:08کبھی پیچھے کی طرف بڑھ جاتے تھے
33:10یہ وہ آدمی ہے جس نے نو مہی کے بعد
33:12جب پوری پاکستان تحریک انصاف کی قیادت روپ پوچھتی
33:16جب وہ سمجھ لیں کہ منظر پر آنے کو تیار نہیں تھے
33:21اس ٹائم کی اوپر شیرف زل مروت نے
33:23پاکستان تحریک انصاف کا ناصر جنڈا اٹھایا تھا
33:26بلکہ گلی گلی کچھے کچھے
33:28ملک کے طول وارز کے اندر
33:30انہوں نے جلسے کیے ریلیز نکالی
33:32اس وقت بھی جلسے کر پا رہے تھے
33:35ورکرز کو موبیلائز کر رہے تھے
33:36تو بہت سے سوال اٹھتے تھے
33:38کہ ان کو یہ سپیس کیوں مہیا کی جاری ہے
33:41جو باقیوں کے پاس نہیں ہے
33:42پاکستان تحریک انصاف کو میرے خلال میں
33:44ان جیسا لیڈر دوبارہ مل نہیں سکا
33:46شیرف زل مروت صاحب جیسا
33:47ایک کراؤڈ پولر دوبارہ نہیں مل سکا
33:49کچھ حد تک یہ کام گنڈاپور صاحب کیا کرتے تھے
33:51لیکن اب آپ جانتے ہیں
33:53کہ گنڈاپور صاحب بھی
33:53وہ علاقہ غیر میں چلے گئے ہیں
33:56پاکستان تحریک انصاف کے
33:57نہیں جی بالکل میری نظر میں
33:59وہ شروع سے انہوں نے یہ ظاہر کر دیا تھا
34:02کہ شیرف زل مروت کی شخصیت کیا ہے
34:04اور وہ پارٹی کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں
34:06یا نقصان دے
34:07پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں
34:09میں اکثر ایک جملہ کہتا ہوں
34:10کہ یا یہ دوسروں سے لڑتے ہیں
34:12یا پھر یہ آپس میں لڑتے ہیں
34:14میرا خیال میں شیرف زل مروت صاحب کے ساتھ بھی
34:17یہی ہوا ہے
34:18شیرف زل مروت صاحب پہلے
34:19پاکستان تحریک انصاف کی وجہ سے دوسروں سے لڑتے رہے
34:22اور اس کے بعد جب ان کا کافی فیم آ گیا
34:25تو اس کے بعد پارٹی کے اپنے اندر
34:26لوگ ان سے رڑنا شروع ہو گئے
34:28میرا خیال ہے یہ عمران خان صاحب کا فیصلہ ٹھیک تھا
34:30کیونکہ اگر شیرف زل مروت صاحب
34:32اب تک پارٹی میں ہوتے تو پارٹی کا بیڑا گھر کو چکا ہوتا
34:35کیونکہ ان کے اندر یہ پوری خوبی موجود ہے
34:37کہ وہ اپنی ہی پارٹی کو دفن کر سکتے ہیں
34:39تو وہ میرا خیال ہے یہ عمران خان صاحب سے ٹھیک فیصلہ ہی ہوا ہے
34:42مارچ دو ہزار پچیس
34:52بولان میں جعفر ایکسپریس پر
34:56دہشتگردوں کا حملہ
34:57پچیس افراد جا بہا
34:59جوابی کاروائی میں
35:0133 دہشتگرد حلاق
35:03جعفر ایکسپریس کے واقعے نے
35:07گیم کے رولز تبدیل کر دیئے
35:09ترجمان پاک فوج
35:11دہشتگردی کے پیچھے منظم گٹ جو
35:15مخصوص اناثر کی پشپنائی حاصل ہے
35:18فوج دہشتگردی کے خلاف دھال
35:20منصوبہ سازوں اور سہولتکاروں کو
35:23جلد انصاف ٹکٹیرے میں لائے جائے گا
35:25آرمی چی
35:26پاکستان کو نرم نہیں
35:30سگی دیاست بنائیں
35:31ملک کی سلامتی سے بڑا کوئی ایجنڈا نہیں
35:34ہم گورننس کے خلاف
35:36خلا کو کب تک فوج اور شہدہ کے خون سے بھڑتے رہیں گے
35:40آرمی چی
35:41تمام غیر قانونی افغان باشندے
35:46اور افغان کارڈ ہولڈرز
35:4831 مارچ تک ملک چھوڑ دیں
35:50ورنہ ان کے خلاف ملک بدری کی کاروائی کی جائے گی
35:53وزارت داخلہ
35:54افغان شہریوں کو بہت پہلے واپس بجوا دینا چاہیے تھا
36:02طریقہ اکار جو موجودہ استعمال کیا جا رہا ہے
36:05اس کے اوپر بیس ہو رہی ہے
36:06پاکستان کے جو قوانین بھی یہ کہتے ہیں
36:09کہ آپ ان لوگوں کو جو کہ انٹرودرز ہیں
36:12ان کو یہاں سے پاکستان سے باہر نکالیں
36:14اس ٹائم پر دہشتگردی کے اندر
36:16جتنے دہشتگرد پکڑے جاتے ہیں
36:18اس کے اندر تقریباً 60 سے 70 فیصد
36:20اور کبھی کوئی اسی فیصد بھی دہشتگرد افغان شہری ہوتے ہیں
36:24ہر کسی کو آپ دہشتگرد نہیں کہہ سکتے
36:26ہر کسی کو آپ یہ نہیں کہہ سکتے
36:28بھئی 24 گھنٹے میں آپ اٹھو اور یہاں سے نکلو
36:30افغان پالیسی کے حوالے سے ہمارا ہر اقدام غلط تھا جو تاریخ نے ظاہر کیا
36:34افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا فیصلہ جو ہے وہ اجلت میں کیا گیا ہے
36:38لگ یہ رہے کیونکہ حکومت پاکستان کی بات افغان طالبان نے نہیں مانی
36:42تو اس کا جو غصہ ہے یا اس ناراضی کے جو اظہار ہے
36:46وہ آپ نے افغان مہاجرین کو یہاں سے دھکے لکے کر دیا
36:49ہسٹری بتاتی ہے
36:50تاریخ بتاتی ہے افغانستان کی
36:52کہ افغانستان نے کبھی بھی پاکستان کی خیر خائی نہیں کی
36:5765 میں جنگ ہوئی
37:00ادھر سے افغانستان کی طرف سے ہم پر حملہ ہوئی
37:0371 میں ملک ٹوٹا کابل میں جشن منائے گئے
37:07ہم پہ تین بار حملے کر چکے ہیں
37:10دیکھیں افغان ریفیوجیز کو پاکستانی حکومتوں نے
37:15اور ریاست نے ہمیشہ جو ہے اپنے فائدے کے لیے رکھا اس ملک میں
37:20اور جب نکالا بھی تو اسی کے لیے رکھا
37:22ایسا نہیں ہوتا آپ کی کچھ ذمہ داری ہے
37:25اور یہ جو افغان شہری ہیں یہ کس طرح پاکستان میں آئے تھے
37:28کیا یہ زبردستی آئے تھے ان کو یہاں پہ لائے گیا تھا
37:30یہ ایک حساس مسئلہ ضرور ہے اس کو ہینڈل ویڈ کیئر کرنا چاہیے
37:34لیکن کچھ حقیقتیں بھی ہیں
37:36کیا دنیا کا کوئی اور ملک اس طریقے سے
37:39اپنی سرزمین پر ہوسٹ کرتا ہے کسی اور کو
37:44اور پھر بہت ساری چیزیں ہم نے دیکھی ہے
37:46کہ کس طریقے سے پاکستان کے بہت سارے لائن آرڈر کے مسائل ہیں
37:49جو کس سے جڑے رہے ہیں
37:50ادھر وہ کئی سال سے یہاں ہیں
37:52ان کے بچے ہو گئے ہیں ان کے بچے ہو گئے ہیں
37:54ادھر شاید کیا کر لی ہیں وہ سائٹل ہو گئے ہیں
37:57اب ان کو نکالو گے
37:59ان کے لئے پزنی
38:01نہ وہاں کوئی جگہ ہے نہ ادھر جگہ ہے
38:03بہت سے ایسے افغانی ہیں
38:05جن کا لیگل سٹیٹس نہیں ہے پاکستان کے اندر
38:08کچھ جو ریفیوجیز ہیں
38:10ان کی ریپیٹریشن بھی
38:13ہمیں جو ہے وہ کرنی چاہیے
38:14ہمارے نمک میں وفا نہیں ہے
38:16اب ہمیں مزید نمک نہیں کھلانا چاہیے
38:19ہم ساروں کو واپس بھیجوانا چاہیے
38:21اور دہشتگردی اور افغانستان کے حوالے سے
38:25ہمیں زیرو ٹالرز رکھ لی چاہیے
38:26امریکہ میں بھی ہم جاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے
38:28پانچ سال رہتے ہیں ادھر بچہ پیدا ہو جاتا ہے
38:30تو اس کو نیشنیلٹی مل جاتی ہے
38:31یہاں تو اب دو تین نسلیں بڑی ہوگی ہیں
38:33بھئی اب اس کو کیسے ٹھیک کرو گے
38:34سو فیکٹرز بہت سے ہیں
38:36مگر افغان ریفیوجیز کے ساتھ
38:39جو دہشتگردی کے واقعات بڑے ہیں
38:41پاکستان میں میرا نہیں خیال
38:42ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق ہے
38:45اب میں اس طرح کی سویپنگ سٹیٹمنٹ نہیں دے
38:47ہوئی سویرے کرفیل کارجن کو نکال لو
38:50سب کو گرفتار کرو
38:52اور گیج دو
38:53یا بالکل ہی نا
38:55you have to look into it
38:57کہ کوئی ایسا قابل عمل حل ہو
39:00اور اتنا ریزنیبر ٹائم دیا جائے
39:02کہ وہ عزت عابلو سے واپس جا سکے
39:05ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے
39:07کہ جو ڈیوری لائن کے دونوں طرف قبیلیں ہیں
39:09وہ بات ایک جیسے قبیلیں ہیں
39:11آدھا قبیلہ ادھر ہے آدھا ادھر ہے
39:13قبرستان ان کے ادھر ہے
39:14باقی ان کے رہنے والے ادھر ہیں
39:16تمہیں یہ جو صدیوں پرانے ہیں
39:18ہزاروں سال پرانے ہیں
39:19بلکہ تہذیبی تمدنی
39:20اور ہمارے دینی رشتے ہیں
39:22ان کو بھلانا نہیں چاہیے تھا
39:23تو لگ یہ رائے کہ شہباز حکمان در
39:26رد عمل میں یہ کام کیا
39:27اور اجلت میں جب کیا
39:28تو اس کے اندر آپ دیکھتے ہیں
39:30کہ پاکستان میں اس معاملے پر
39:31جو اگوانستان کے حوالے سے
39:33نئی پولیسی اس پر اتفاق رائے نہیں ہیں
39:35ہم جب کہتے ہیں
39:36کہ جی اسلاموفوبیا بری چیز ہیں
39:37تو اگوانوفوبیا بھی
39:39اتنی بری چیز ہیں
39:40ہم جب کہتے ہیں
39:41کہ مغرب میں
39:42جو ہیں
39:42جو امیگرنٹ سے ان کے ساتھ
39:44برا سلوٹ نہیں ہونا چاہیے
39:45تو پھر ہمیں بھی نہیں کرنا چاہیے
39:47تو یہاں پہ
39:48میرے خانم میں زیادتی ہوئی ہے
39:50اور اس کا جو ہے
39:51پاکستان کو بہت مقصان ہوئی ہے
39:52مارڈ دو ہزار پچیز
39:56وزیراعلا کیپی نے
39:59اگوان مہاجرین
40:00واپسی کی مخالفت کر دی
40:02پاکستان میں
40:06انفورچنٹلی جو
40:07ایسے کام ہوتے ہیں
40:09کچھ جن کو سیاست سے
40:10بلکل دور رہنا چاہیے
40:11وہ بھی سیاست سے دور رہ نہیں پاتے
40:12اس لئے ہم جیب و غریب بات دیکھتے ہیں
40:14کہ ایک قومی نویت کا مسئلہ ہوتا ہے
40:16ایک ہی پارٹی
40:17جب حکومت میں ہوتی ہے
40:18تو اس کا موقع
40:19بلکل اسی شوبر کچھ اور ہوتا ہے
40:21اور وہی پارٹی ہے
40:22اور وہی مسئلہ ہے
40:24لیکن پارٹی کی پوزیشن تبدیل ہو گئی
40:26وہ حکومت سے اپوزیشن میں چلی گئی
40:27پارٹی کی پوزیشن تبدیل ہو جاتی ہے
40:29اپوزیشن کی وجہ سے
40:31پوزیشن تبدیل نہیں ہونی چاہیے
40:32پوزیشن تو اصول ہی ہونی چاہیے
40:34لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا
40:35سو یہ مسئلہ بھی انفورچنٹلی ایسا ہی رہا
40:38پاکستان تحریک انصاف
40:40ظاہر ہے
40:41اس کی تو مخالفت کی وجہ سمجھاتی ہے
40:44کہ وہ باتچیت سے دہشتگردی کا معاملہ
40:48حال کرنا چاہتی ہے
40:49اور وہ کہتی ہے کہ
40:51افغان جو ادھر ہیں
40:53ہمارے مہمان ہیں
40:54ان کو بھیجا جانا چاہیے
40:56مگر
40:56اف اینڈ بٹس بہت سارے ہیں
40:59تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام
41:01اور نہ صرف یہ دو جماعتیں
41:02بلکہ مضبطہ جماعت اسلامی بھی
41:03اور وہ تمام اگوان ایکسپرٹس
41:05جو کہ پول پلی بک کے قائل ہیں
41:07جو پاکستان اور اکوانستان کی
41:08وہ اس پولیسی پہ ناخوش ہیں
41:10وہ سمجھتے کہ پاکستان نے
41:12جو کچھ اچھا نام کبھایا تھا
41:14اکوانسائیٹی کے اندر
41:15اس کے سماج میں
41:16اس کو یقلق سے آپ نے
41:17جو ہے سفر کر دیا ہے
41:18اور وہ سمجھتے ہیں
41:20کہ جب آپ اجلت میں فیصلے کریں گے
41:22دیکھتے ہیں انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے
41:24باجرین کے ساتھ جو بھی آپ کر رہے ہیں
41:27وہ یہاں پہ کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں
41:28وہ یہاں پہ پیدا ہوئے ہیں
41:29ان کے عشداریاں یہاں پہ رہے ہیں
41:31جو کچھ کیا تو
41:32مرحبا یہ وجہ آتا ہے
41:33پھر حکومت تو کوئی ایسا قدم اٹھائنے سے پہلے
41:35کنسنسس بلڈنگ کرنی چاہیے
41:37یہ وہ نہیں کیا آپ نے
41:38تحریک انصاف
41:39ان کو سپورٹ حاصل ہے
41:42کچھ اس طرح کے لوگوں کی
41:45جو کہ افغان ہیں
41:47ان کے جو سٹریٹ پاور ہے
41:49اس میں وہ افغانز کو استعمال کر رہے ہیں
41:52ان کو تحریک انصاف سے مفاد ملتا ہے
41:56تحریک انصاف اور جے یو آئی ایف
41:58چونکہ ان کی کانسیچونسی خیبر پک کنہا کے اندر ہے
42:01اور دوہزار کلومیٹر سے زیادہ بورڈر لگتا ہے
42:06وہاں پہ درجنوں ایسے قبائل ہیں
42:09جو کہ سرحد کے اس پار
42:12اس پار ریائش پذیر ہیں
42:14روزانہ کانہ جانا ہے
42:15لہٰذا ایک ہمدردی کا انصر تو موجود ہے
42:19ان دونوں سے ایسی جماعتوں کے اندر
42:21لیکن ان دونوں کو آن بورڈ لے کے
42:24وفاقی حکومت کو چاہیے کہ ایک طریقہ کار تیع کریں
42:27اور بلکل ان کو جانا چاہیے
42:29وہ کیوں ایسا کر رہے ہیں جس میں نے ارز کیا
42:31کہ چونکہ ان کا بورڈ بینک ہے وہاں پہ
42:34ان کی کانسیچونسی ہے
42:35اس لیے وہ یہ بات کر رہے ہیں
42:36آپ نے ایک شاہی فرمان جاری کیا
42:38کہ ہم نے یہ تیع کر دیا
42:39اب سمجھنا چاہیے کہ
42:40کے پی کی برچستان کی سپتال بلکل مختلف ہے
42:43وہاں کی حکومتیں جو اپنے لوگوں کو جواب دیں
42:46تو وہاں کے لوگوں کے تو ان سے رشداری ہیں بھائی
42:49وہ تو پسند نہیں کریں گے
42:50کہ آپ ان کے بچچا کو بچیرے کو
42:52یا ان کے دامات کو
42:54یا ان کی بہو کو
42:55اٹھا کر کہیں کہ چلے جاؤ
42:57یہاں پہ یہ بھی ہوا کہ وہ بچے چھوٹے چھوٹے
42:59جن کو کہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی تھا نہیں
43:01آپ سے ان کو دکھیل دی ہیں وہاں پر
43:02ہمیں تو یہ کرنا چاہیے تھا
43:04کہ جو اس وقت اگوان طالبان نے محصول اتحال کیے
43:07کہ بچیوں کی تعلیم پر بابندی ہے
43:08تو میں اپنے دردگاہیں کھول دینی چاہیے تھی
43:11کہ ان کے بچے آ کے یہاں پر بچیاں پڑھ لیں ہمارے ہاں
43:13ہمیں چاہیے تھا کہ جی ہمارے وہ آئیں علاج مالجہ کر آئیں
43:16ہمارا جو پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹس کو
43:19ہم نے کیوں ختم کیا
43:20تو ایک بڑا سوال یہ نشان رہا ہے
43:21میرے خالفت پر کنسینسز نہیں ہے پاکستان
43:23سو اس کی جو مخالفت ہوئی
43:24میرا خیال ہے کہ اس کا سیاسی انگل زیادہ رہا
43:28اور اگرچہ ایسے معاملات پر
43:31قومی ایک جاتی ہونی چاہیے
43:32اس کا حکومت کو
43:33یوں سیریسنس کا ثبوت دینا چاہیے
43:35کہ اس مسئلے پر اپوزیشن کو بٹھا کر
43:37ان سے بات پننی چاہیے
43:38اعتماد ملینا چاہیے
43:40اور اپوزیشن کو اپنی سنجیدی کا ثبوت دینا چاہیے
43:42کہ اس مسئلے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے
43:45مخالفت بڑا مخالفت نہیں کرنی چاہیے
43:47پاکستان کے اپنے بہت بڑے مسائلیں
43:49بہت بڑا ملک ہے
43:50کبھی کبھی آپ کو کچھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں
43:54کر لینے چاہیے
Comments

Recommended