- 29 minutes ago
- #aksnovel
- #urdunovel
- #episode9
Aks Novel Episode 9 | Urdu Romantic & Emotional Story | راز، محبت اور خاموشیاں
🖤 Aks Novel Episode 9 | Urdu Novel Reading
کچھ رشتے لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے، اور کچھ راز انسان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیتے ہیں۔
دیکھیے Aks Novel کی Episode 9، جہاں جذبات، رشتوں اور کہانی کے نئے موڑ ایک دلچسپ داستان کا حصہ بنتے ہیں۔
📖 اگر آپ کو اردو ناولز، جذباتی کہانیاں اور رومانوی داستانیں پسند ہیں، تو اس ایپیسوڈ کو ضرور دیکھیں۔
💬 آپ کو اس ایپیسوڈ میں سب سے زیادہ کیا پسند آیا؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
❤️ ویڈیو پسند آئے تو اسے لائک کریں اور مزید اردو ناولز کے لیے فالو کرنا نہ بھولیں۔
آپ کی محبت اور سپورٹ کا بہت شکریہ!
#AksNovel #UrduNovel #Episode9
#AksNovel #UrduNovel #AksNovelEpisode9🖤 Aks Novel — Episode 9 | Urdu Novel Story
Kuch kahaniyan sirf lafzon se nahi, balki khamoshiyon, jazbaat aur un raazon se banti hain jo dil mein chhupe rehte hain.
Aks Novel ke Episode 9 mein kahani ke naye pehlu explore karein aur kirdaron ke jazbaat ko samajhne ki koshish karein. Kya har sach saamne aana zaroori hota hai? Ya kuch raaz waqt ke saath hi khulte hain?
✨ Is episode mein aapko milega: 🖤 Emotional storytelling 🌙 Dilchasp kahani aur gehre jazbaat 📖 Urdu novel reading ka ek naya safar 💭 Aise lamhe jo aapko sochne par majboor kar dein
💬 Aapki Rai: Aapko Aks Novel ki kahani ka sabse dilchasp pehlu kya lagta hai? Comments mein zaroor batayein!
👍 Video pasand aaye to Like karein. 🔔 Mazeed Urdu novels aur upcoming episodes ke liye Channel Subscribe karein aur Bell Icon on karna na bhoolein.
Shukriya hamari Urdu novel community ka hissa banne ke liye! ❤️
#AksNovel #UrduNovel #Episode9
🖤 Aks Novel Episode 9 | Urdu Novel Reading
کچھ رشتے لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے، اور کچھ راز انسان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیتے ہیں۔
دیکھیے Aks Novel کی Episode 9، جہاں جذبات، رشتوں اور کہانی کے نئے موڑ ایک دلچسپ داستان کا حصہ بنتے ہیں۔
📖 اگر آپ کو اردو ناولز، جذباتی کہانیاں اور رومانوی داستانیں پسند ہیں، تو اس ایپیسوڈ کو ضرور دیکھیں۔
💬 آپ کو اس ایپیسوڈ میں سب سے زیادہ کیا پسند آیا؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
❤️ ویڈیو پسند آئے تو اسے لائک کریں اور مزید اردو ناولز کے لیے فالو کرنا نہ بھولیں۔
آپ کی محبت اور سپورٹ کا بہت شکریہ!
#AksNovel #UrduNovel #Episode9
#AksNovel #UrduNovel #AksNovelEpisode9🖤 Aks Novel — Episode 9 | Urdu Novel Story
Kuch kahaniyan sirf lafzon se nahi, balki khamoshiyon, jazbaat aur un raazon se banti hain jo dil mein chhupe rehte hain.
Aks Novel ke Episode 9 mein kahani ke naye pehlu explore karein aur kirdaron ke jazbaat ko samajhne ki koshish karein. Kya har sach saamne aana zaroori hota hai? Ya kuch raaz waqt ke saath hi khulte hain?
✨ Is episode mein aapko milega: 🖤 Emotional storytelling 🌙 Dilchasp kahani aur gehre jazbaat 📖 Urdu novel reading ka ek naya safar 💭 Aise lamhe jo aapko sochne par majboor kar dein
💬 Aapki Rai: Aapko Aks Novel ki kahani ka sabse dilchasp pehlu kya lagta hai? Comments mein zaroor batayein!
👍 Video pasand aaye to Like karein. 🔔 Mazeed Urdu novels aur upcoming episodes ke liye Channel Subscribe karein aur Bell Icon on karna na bhoolein.
Shukriya hamari Urdu novel community ka hissa banne ke liye! ❤️
#AksNovel #UrduNovel #Episode9
Category
🎈
FunTranscript
00:29ڈی سی ہاؤس
00:30اسے ان کا خیال آنے لگا
00:31وہ ایلس سی جسے
00:33اس کے ونڈر لینڈ سے نکال دیا گیا تھا
00:36اور لاکھ شانے کے باوجود بھی
00:38وہ اس ونڈر لینڈ میں
00:39دوبارہ نہیں جا سکتی تھی
00:41کیونکہ وہ اس ونڈر لینڈ کے رستہ بھول چکی تھی
00:44اور اس کے ساتھ ساتھی
00:46اس ونڈر لینڈ سے باہر نہیں
00:47آ سکتے تھے
00:48لاکھ کوشش کے باوجود بھی چڑھیا
00:50اب کسی طرح بھی اس ونڈر لینڈ
00:52اور اس میں بچنے والے
00:54اپنے ساتھ ساتھیوں کا
00:55کوئی تصوراتی رابطہ
00:58اور تعلق بھی نہیں ڈھونڈ سکتی تھی
01:00چڑھیا وہ پاس ورڈ
01:02بھول گئی تھی
01:04جسے استعمال کر کے
01:05وہ اپنے تصورات کی
01:07ان خوبصورت دنیا میں
01:08دوبارہ رسائی حاصل کر سکتی
01:10وہ ساتھ بنے کام پر گئے تھے
01:13اور ان کی ادم مجودگی میں
01:14سنو وائٹ زہر والا سامپ
01:16سنو وائٹ زہر والا سیپ
01:18کھا کر سو گئے تھی
01:19چڑھیا نے اپنی فیری ٹیل کا خاتمہ بھی نہیں کیا تھا
01:22اپنے ساتھ ساتھی بونوں سے
01:25بے پناہ شکایتیں رکھنے کے باوجود
01:26وہ کیوں ان کی مدد کو نہیں آئے تھے
01:29انہوں نے کیوں اس کو
01:30اکیلا چھوڑ دیا تھا
01:32انہوں نے کیوں اس کے ساتھ
01:34وہ سب کچھ ہونے دیا جو ہوا تھا
01:36اگلے شکووں کی ایک لمبی فیرز تھی
01:38جنہیں دل میں لیے چڑھیا بہت دیر تک
01:41ان ساتھوں سے خفا رہی تھی
01:42لیکن پھر وہ گلے شکوے آہستہ آہستہ خود ہی ختم ہو گئے تھے
01:46وہ اب صرف بے حد رنجیدگی سے
01:48انہیں مس کرتی تھی
01:50اس کی تصوراتی دنیا میں
01:52آپ کو جیتا جاگتا ساتھی نہیں تھا
01:54اور اس تنہائی نے چڑھیا کہ اکیلا ہی نہیں
01:56خاموش بھی کر دیا تھا
01:58اکیلے پیٹھ کر اپنے آپ
01:59اور کنٹا منٹا سے باتیں کرنے کا
02:02سلسلہ ختم ہو گیا تھا
02:03ان کے ساتھ کھیل کود اور ان کو
02:08اپنے پورے دن کی
02:09سرگرمیوں کا بتا کر
02:12سلسلہ بھی ختم ہو گیا تھا
02:14خیر دین حلیمہ چڑھیا اور وہ
02:16بچہ کچھا سمان لیے تھانے سے رہائی
02:18کے اگلے ہی دن اپنے گاؤں
02:20واپس چلا گیا تھا جہاں اس کی
02:22اور چڑھیا کی رسوائی کی داستان
02:24اس کی عمر سے پہلے پہنچ چکی تھی
02:27شہر میں اب اردلیوں
02:29نائب کاسدوں
02:32مالیوں
02:32چوکی داروں کے علاوہ کے طور پر
02:35سرکاری داروں میں گاؤں کے بہت سارے
02:37لوگ کام کر رہے تھے اور خیر دین کے لیے
02:38یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ ان تمام واقعات
02:41کو گاؤں اور وہاں موجود
02:42اپنے خاندان تک پہنچنے سے روک پاتا
02:44چھپا سکتا اور ایسا
02:46ممکن ہوتا تب بھی خیر دین اپنے خاندان
02:49سے ہی کبھی نہیں چھپانا چاہتا
02:51وہ اپنی خونی رشتوں کے
02:52کندوں پر سر رکھ کر رونا چاہتا تھا
02:54اس عذیت تخلیف کو ان کے ساتھ
02:56بانٹنا چاہتا تھا جو وہ کسی کے ساتھ
02:59بھی نہیں بانٹ پایا تھا
03:00گاؤں پہنچنے کے بعد خیر دین کا پہلا
03:03کام اپنے گھر کے دروازے پر لگی
03:04وہ تختی اتارنے کا تھا جو پچھلے
03:07کئی دہائیاں سے اس کے گھر کے دروازے
03:09پر سجی گاؤں میں اس کے
03:11خاندان کی عزت اور پہچان کا باعث
03:12تھے اور اس تختی کے اترتے ہی گاؤں
03:15میں خیر دین کے نام اور خاندان
03:17کا دب دبا بھی ختم ہو گیا تھا
03:18اور اب پھر سے کمی کمین ہو گیا تھے
03:21وہ کمی کمین جو شاہ کے کتے
03:29مرکاری نوکری اور اس نوکری کے ساتھ
03:30ملنے والی تمام مراد گھوا کر خیر دین
03:33زندگی میں پہلی بار خالی جیب
03:34اپنے گاؤں اور گھر پہنچا تھا
03:37ویورز آپ لوگوں سے بہت بہت
03:39معذرت اگر آپ کو یہ بیچ میں برڈز کی
03:41آواز آ رہی ہونا تو
03:42کیونکہ مجھے تو آ رہی ہے پتہ نہیں
03:44ریکارڈنگ میں یہ آواز آتی ہے کہ نہیں آتی ہے
03:46اگر آئے تو پلیز اس چیز کو اگنور کر دی جائے
03:49وہ میرا گارڈن آس میں اس طرح کے برڈز آتے ہیں
03:51اور بہت لاؤڈ شور کرتے ہیں
03:53یہاں پہ
03:55اگر آ رہی ہے تو اس کو اگنور کر دی
03:58چلیں شروع کر دی
04:00ساری عمر وہ جب بھی چھوٹی پر
04:01خیر آتا رہا اس کے کے گھر
04:03ملنے کے لیے آنے والوں کا تانتہ
04:05بندہ رہتا گاؤں کے لوگ
04:07اور قریب اور دور کے رشتہ دار
04:09اس کے پاس چھوٹے مٹے کاموں کے لیے یوں رکھے
04:11چٹھیاں لے کر آتے جیسے وہ ڈی سی کا
04:19تک واقعی ایک ایک کر کے
04:20ان تمام درخواستوں پر عمل درامت
04:23کے لیے اپنے صاحب اور صاحب کے جاننے والے
04:25دوسرے صاحبوں سے زفارش کرواتا
04:27پھرتا
04:28اور خیر دین کے کہنے پر کام
04:31ہوتا تھا تو گاؤں میں خیر دین کے
04:33خاندان کے سر پر ایک اور کلگی کا
04:34اضافہ ہو جاتا تھا اب وہی خیر دین
04:37لٹے پٹے حال میں واپس آیا تھا
04:39اس سے ملنے کے لیے آنے والوں کا
04:41تنتہ اب بھی اسی طرح
04:42بندہ ہوا تھا لیکن اب وہ سب
04:44لوگ تماشایوں کا روپ دھار کر وہاں آئے تھے
04:47یہ دیکھنے اور سننے کے لیے کہ
04:48خیر دین آسمان تھے زمین پر
04:51کس طرح آیا تھا اور زمین پر آنے
04:53کے بعد اس کی حالت کیا تھی
04:54خیر دین جس طبقے سے تعلق رکھتا تھا
04:56وہاں صاحب سیری کا کھیل دیکھ کر
04:58خوش ہونے والوں کی تعداد
05:00کی بڑی تعداد تھی جن کے لیے
05:04دور میں
05:04سب سے آگے بھاگنے والے کو
05:06فینشنگ لائن کے قریب پہنچنے سے
05:09پہلے مو کے بل گر سے دیکھ کر
05:10تالی بجا کر اٹھنے والوں کی
05:12تعداد اور رسے کی شاندار
05:15رفتار اور کارکردگی کو دیکھ کر
05:17داد اور تحسین
05:19دینے والوں سے کہیں زیادہ تھی
05:20خیر دین اب ان جیسا ہو گیا تھا
05:22ان سب کی طرح اور یہ عمر بائی سے
05:24اتمنان تھا چار جملے اس سے ہم دردی
05:26اور ڈی سی اور حکومت پر
05:28ملامت کے بعد وہ سب جسے ایک احساس
05:30کے ساتھ خیر دین سے مل کر
05:32رکھتت ہوئے وہ یہی تمنان تھا
05:34ان کے اس یقین میں اضافہ ہوتا
05:36کہ لاکھ پڑھ لکھ لو کچھ نہیں ہوگا
05:38ان کے طبقے کے حالات نہیں بدلتے
05:40اور نہیں بدلیں گے وہ خدمت
05:42اور ذلت کے لیے پیدا ہوئے تھے اور
05:44یہی دو کام کرتے مر جائیں گے
05:45اب خیر دین کو ہی لے لو
05:48ساری عمر سرکار کی خدمت کر کے
05:50اتنا پڑھ لکھ کے بھی کیا
05:52مل گیا اسے خود بھی خوار ہوا
05:54اور بچی کی زندگی بھی برباد کر دی
05:56اس سے تو اچھا تھا کہ گاؤں میں
05:57اپنی بھٹی پر بیٹھتا
05:59یا زمیندار کا مزارہ بن جاتا
06:02یا پھر اپنی ہی خاندانی زمین پر
06:04کاش سگری کر لیتا
06:05دال روٹی تو اس سے بھی چل جاتی
06:07خیر دین ان سب کے لیے
06:08اپنی زندگی کو بہتر کرنے کے لیے
06:10جد و جہد نہ کرنے کے
06:11حق میں دی جانے والے ایک سینری
06:13مثال بن گیا تھا
06:15آہستہ آہستہ خیر دین کے گھر آنے والے
06:17لوگوں کی تعداد میں کمی ہونا شروع ہو گئی
06:19اور اس کمی کے ساتھ ساتھ خیر دین کے
06:21خاندان والوں میں بھی اس کے اور
06:23حلیموہ چڑیہ کے لیے دکھائی جانے والی
06:25ابتدائی ہمدردی اور گھرم جشری
06:27بھی ختم ہوتی گئی تھی
06:29خیر دین اس سے پہلے ساری عمر انہیں دینے والا
06:31تھا اب ان سے لینے والا بن کر
06:33پلٹا تھا ایک کمرے اور دو وقت
06:35کے لیے روٹی کے علاوہ خاندان والوں کے پاس
06:37خیر دین کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا
06:39اور خود خیر دین کی سمجھ میں نہیں
06:41آ رہا تھا کہ وہ گھو میں کیا کرے
06:43یا کیا کر سکتا تھا
06:45بھٹی پر وہ نہیں بیٹھ سکتا تھا نہ تو
06:47اسے اس کام کا تجربہ تھا اور نہ ہی
06:49ساری زندگی سرکاری نکری کرنے کے بعد
06:51وہ اس مشکت والے کام کے قابل رہا تھا
06:54واحد کام جو وہ وہاں کر سکتا تھا
06:56وہ کاشتگاری تھی
06:57اور اس کے لیے زمین چاہیئے تھے
06:59اس کے ماں باپ کی طرف سے وراست میں ملنے والی
07:01زمین کا رقبہ اس کے تمام بھائی
07:03وہ مشترکہ تو پر کاش کرتے تھے
07:05زمین کا وہ چھوٹا سا ٹکڑا
07:07اس مشترکہ خاندانی کاشتگاری کے نتیجے میں
07:09صرف اس قابل ہو سکا تھا
07:11کہ پورے خاندان کو سال بھر کا اناج دے دیتا
07:14یا پھر اپنی سبزی پیدا کر دیتا
07:17جو اس کے بھائی ہر روز قریبی شہر کی ملنی میں
07:19ریڑے پر لازگر بیچ آتے
07:21اور اس سے ملنے والی رقم تھے
07:23ان کے اور زمین کے خراجات پورے ہوتے رہتے
07:25سبزی کی فروک سے ملنے والی
07:27وہ رقم پہلے ہی بہت سارے حصوں میں
07:29تقسیم ہونے کے بعد بھی کبھی بھی
07:31ہر روز کسی کی حصے میں آنے والے
07:33چند سو سے زیادہ نہیں بڑی تھی
07:37اور ان چند سو میں سے بھی
07:39کچھ اور کمی کرنے کے لیے
07:41خیردین کو حصہ دار بنانے کا فیصلہ
07:43خاندان کے ہر شخص سے لی مشکل تھا
07:45وہ اس حصہ داری کے وجہ سے
07:47اس بات پر حمادہ تھے
07:48کہ خیردین کی تین وقت کی روٹی
07:50مسلم بھائیوں کے چولوں پر تقسیم کر دی جاتی
07:53خیردین ہے سرکاری نوکری کے دوران
07:55گاؤں میں ہی تھوڑی اور زمین شریعتی تھی
07:57لیکن اپنی ماں باپ کی محبت
07:59اس نے زمین کے اس ٹکرے کو پی
08:00اپنے بھائیوں کو کاشتہ کاری کے لیے سانف دیا تھا
08:03زمین کا وہ ٹکڑا اس کے بھائیوں کے
08:04زیر استعمال ہونے کے باوجود
08:06اس کے اپنے نام تھا
08:07گاؤں میں واپس آجانے کے چاند آفتوں میں ہی
08:10خیردین کو یہ احساس ہو گیا تھا
08:12کہ خاندانی زمین میں سے فوری طور پر
08:14کسی قسم کا کوئی مائلی وفائدہ
08:16ملنے والا نہیں تھا
08:17لیکن وہ اپنی ملکیت تھی
08:19زمین کو اپنے در استعمال لے آتا
08:21تو فوری طور پر اس کے بہت سارے مائلی
08:23مسائل حل ہو سکتے تھے
08:24اپنے بھائیوں سے اتنے ایک شام
08:26وہ اس سے زمین کو واپس لینے کی خواہش
08:28کا اظہار کیا
08:29اور اگلے دن وہ جس گھر میں رہ رہا تھا
08:31وہ اس کے خونی رشتوں کا نہیں رہا تھا
08:34ایک ہی رات میں ان سب کی نظریں بذل گئی تھے
08:36خیردین نے ایسی بیگانگی
08:38اور بے رکھی پہلے نہیں دیکھی تھی
08:39وہ خیردین کو ایک گھر میں رکھنے پر تیار تھے
08:42لیکن ان میں سے کوئی بھی
08:43خیردین کو اس کی زمین واپس کرنے پر تیار نہیں تھا
08:47وہ اس کا جائز حق ہوتا
08:48نہ ہوتا
08:49خیردین جن حالات سے گزر آتا
08:51ان میں سے اس کے لئے یہ ایک اور صدمہ
08:54اور دھچکہ تھا
08:55اپنوں سے ملنے والے زخم
08:59زخم تھور
09:00تھور کے زہر کی طرح ہوتے ہیں
09:04شہر سے خیردین مر کے آیا تھا
09:06اور خاندان والا نے
09:07اور خاندان والا نے اسے دفن کر دیا تھا
09:10ایسا بوجھ اس نے کبھی زندگی میں نہیں اٹھایا تھا
09:13ایسا موتاج اور کمزور خیردین کبھی نہیں پڑا تھا
09:16وہ اپنے بھائیوں سے زمین کا مطالبہ کر سکتا تھا
09:18لیکن ان سے لے نہیں سکتا تھا
09:21کیونکہ ان کے ساتھ ان کے بیٹے کھڑے سے
09:23اور بھتیجوں
09:24کی اس لمبی فوج
09:26اسے خیردین ٹکر نہیں لے سکتا تھا
09:28زندگی میں وہ پہلا موقع تھا
09:29جب خیردین کو ایک بیٹا نہ ہونے کی حصلت ہوئی تھی
09:32بیٹے شاید ایسے موقعوں کے لئے ہی مانگے جاتے ہیں
09:35خیردین روز زمین پر جاتا
09:37بھائیوں اور بھتیجوں کے مو نہ لگنے
09:39لگانے کے باوجود
09:40دیٹوں کی طرح ان کے ساتھ کام کرتا
09:42پھر شہر جا کر سبزی بیٹتا
09:43اور اس ساری مشکت کے عوض کوئی اسے پچاس سو پکڑا دیتا
09:47وہ چند نوٹ ہاتھ میں لے کر خیردین خون کے آنسو روتا
09:50اور اس پر چڑیا اور حلیمہ کی ذمہ داری نہ ہوتی تو وہ مر جاتا
09:54لیکن کبھی اس طرح حق کے بجائے بھیک نہ مل لیتا
09:57لیکن اس کی زندگی میں موجود دو عورتوں نے اسے بہت کمزور کر دیا تھا
10:01مجبور کمزور اور بے بس
10:05چڑیا اپنے نانا کی اس بے بسی کی داستان کی آئینی شہد تھے
10:09ایک بچہ انسانوں کے عروج اور زوال کی یہ سائیکل کو نہیں سمجھتا
10:12اپنے اردگیردے سب کچھ ایسا کچھ اچھا دیکھ کر وہ ہی سمجھتا ہے
10:16کہ بس دنیا ایسی ہی اچھی ہوتی ہے
10:19اور ایسی ہی رہے کی
10:20اور اپنے آپ کو برے حالات میں بھی دیکھ کر اس کی سوچ یہ ہی ہوتی ہے
10:24چڑیا نے اس گاؤں میں خیردین کا عروج اور زوال
10:26عروج اور زوال سے واقف ہوئے بغیر دیکھا تھا
10:29اور خیردین کے ساتھ
10:30اس نے اپنے عروج اور زوال بھی دیکھا تھا
10:32وہ خیردین کے ساتھ چھٹی پر گاؤں آتی
10:35تو وہاں اس کا بھی شاندار استقبال ہوتا تھا
10:38وہ جتنے دن وہاں رہتی شاہنہ انداز میں رہتی
10:40کیونکہ وہ خیردین کے نمازی تھی
10:42انگلیش میڈیم اسکول میں پڑھتی تھی
10:44اور خیردین کی طرح انگریزی بول سکتی تھی
10:47اور ہمیشہ فرس چاہتی تھی
10:48وہ فراک پہنتی تھی
10:50اور اپنے خاندار کے تمام بچوں سے زیادہ اچھی
10:52اور مہنگی چیزیں تھی اس کے پاس
10:55ریبن سے گھڑی تھی
10:56بالیاں تھی بوٹ بھی تھی
10:58اور وہ دوسرے بچوں کی طرح مسواک اور دنداسے سے
11:01دانت صاف نہیں کرتی تھی
11:02ٹوت پیسٹ کرتی تھی
11:04اور وہ اپنے بالوں کو دیسی سابن سے رگر رگر کر نہیں دھوتی تھی
11:07بلکہ شیمپو کرتی تھی
11:09وہ اپنے بالوں میں برش کرتی تھی
11:10اور پاورٹر اور کریم لگاتی تھی
11:12وہ چاول ہاتھ سے نہیں کھاتی
11:14چمچ سے کھاتی تھی
11:15شیشے کے گراس میں پانی پیتی تھی
11:17اور اس کے پاس ایسے کھلونے تھے
11:18جو گاؤں میں کبھی کسی نے دیکھے تک نہیں تھے
11:20خیردین نے چڑیا کو مین صاحب کی طرح پالا تھا
11:23اور چڑیا اور چڑیا کے رہن سین پورے خاندان کے بچوں کو
11:26اس پر رشک کرنے پر مجبور کر دینے کیلئے کافی تھا
11:29اور اب وہ مین صاحب ایک تماشے کی صورت میں ان کے بھیج واپس آئی تھی
11:33اور اس کے بارے میں عجیب عجیب باتیں دنوں میں
11:35ہر جگہ پھیل گئے تھیں
11:37اور انہیں پھیلانے میں خیردین کے اپنے خاندان کا زیادہ حصہ تھا
11:40چڑیا کے سامنے بچے چڑیا کے بارے میں اس کو دیکھتے ہو سرگوشیاں کرتے
11:44یا اسے عجیب مسکرات کے ساتھ دیکھتے
11:46اسے اپنی جیسا بلکہ اپنی سے زیادہ بوری حالت میں دیکھتا خان
11:50دیکھنا خاندان کے بچوں سے زیادہ ان بڑوں کے خوشی و تسکین پہنچا رہا تھا
11:56جو اس سے پہلے اسے دیکھ کر اپنے بچوں کے حوالے سے مزید حسرتوں کا شکار ہو جاتے تھے
12:03وہاں آنے کے چند دن کے بعد ہی خیردین نے اسے گاؤں کے اسی سکول میں دوبارہ داخل کروا دیا
12:07جہاں سے اس نے اپنی تاریم کا آغاز کیا تھا
12:10چڑیا اس دن پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی
12:12اسے کانونٹ سے بہت پیار تھا جامع پڑ رہی تھی
12:16وہاں اس کی فرنڈ تھیں فیورٹ ٹیچر تھیں اور باروی ڈول بھی تھی
12:19اس کی تصوراتی دنیا پہلے ہی جیتے جاگتے کے اداروں سے محروم ہو چکی تھی
12:24تب اس کی حقیقی دنیا بھی ان تمام لوگوں سے محروم ہو گئی تھی
12:27جن سے وہ پیار کرتی تھی
12:29وہاں کے سکول میں گزارے ہوئے چند ہفتے چڑیا کی زندگی کا ایک اور بہت تکلیف دا تجربہ تھا
12:35وہ چھوٹا سا گاؤں چڑیا کے ساتھ ہونے والے واقع سے آگاہ تھا
12:38اور اسکول میں آنے والا ہر بچہ بھی چڑیا کو جیسے اسی حوالے سے پہچاننے اور اس میں دلچسپ بھی
12:43لینے لگا تھا
12:44پہلے ہی دن اس کی ایک ٹیچر نے اسے سٹاپ روم میں بلوا کر وہاں تمام ٹیچر کا زمیان
12:48ڈی سی ہاؤس میں ہونے والے واقعے کے بارے میں اسے کریزنا شروع کر دیا
12:52وہ خوب سے اسی طرح گنگ ہو گئی تھی
12:54جیس طرح اس واقعے کے بارے میں کسی کے بھی اس حوالوں سے ہو جاتی تھی
12:58اور اس کی خموشنی نے جیسے ان ٹیچر کو ایریٹیٹ کیا تھا
13:01کیریا پہلے دن ہی اپنی ٹیچر پر ایک برا تاثر چھوڑ کر آئی تھی
13:06جو اس کے اس سکول میں آخری دن تک قائم رہا تھا
13:09اس کی ٹیچر کا بات جیسے صرف ایک ابتداء تھی
13:12اس کے بعد کے ہفتوں میں چڑیا نے اپنی ہم عمر بچے اور ٹیچر کے طرف سے
13:17بدترین جنسی سوالات اور ہرائسمنٹ کا سامنا کیا تھا
13:21اس کو اپنی کلاس کی بچوں سے لے کر بڑی کلاسیز کی بچوں تک
13:25ہر ایک کو چڑیا سے اس واقعی کی تفصیلات جاننے کے لیے
13:27کی عجیب سب تجسس اور برچینی رہتی تھی
13:30وہ کسی فری پیڈر یا لنچ بریک کے دوران اسکول کے میدان میں
13:34بڑی کلاسیز کی بچوں سے چھپتی پھرتی
13:36جو اسے گروپ کی شکل میں گھیر لیتی
13:38اور پھر ان سے انتہائی بہودہ سوالات کرنا شروع کر دیتی
13:41ایسے سوالات جن پر چڑیا کبھی خوف ددا ہوتی
13:43تو کبھی شرم سے سروح اور کبھی وہ پھر پھر کرو دیتی
13:46اس اسکول میں اس کا کوئی دن ایسا نہیں گزرا تھا
13:50جب وہ دن میں کم اکم ایک بار کسی بچی
13:53یا ٹیچر کی وجہ سے رونا پڑتی ہو
13:56اور اسکول میں اس کے ساتھ جو کچھ ہو رہا تھا
13:58وہ خیر دن نہیں جانتا تھا
13:59چڑیا جو ہمیشہ اپنے اسکول میں ہونے والی ہے
14:01کہ ایک بات خیر دن کو بتایا کرتی تھی
14:04اب اس سواقے کے حوالے سے کچھ بھی خیر دن کو بتانے سے
14:06ڈرتی اور جھچکتی تھی
14:07اسکول سے اب اسے خیر دن کے بجائے حلیمہ لینے آتی تھی
14:11اور وہ حلیمہ کے سامنے اترے چہرے کے ساتھ
14:13اسکول سے برامت ہوتی اور خاموشیتت کے ساتھ
14:16گھر کے رستے پر چل پڑتی
14:18پورے دن میں وہ پہلا موقع ہوتا تھا
14:19جب وہ حراسیت کیفیت سے باہر آتی تھی
14:22اور جب وہ سر اٹھا کر رستے میں آنے والے
14:24کسی شخص کو دیکھ سکتی تھی
14:26سارو نظرین جھکائی نہیں چلتی پھرتی تھی
14:28حلیمہ نے بیٹی کے اترے چہرے کو دیکھ کر
14:30پریشان ہونا یا سوال کرنا چھوڑ دیا تھا
14:33زندگی میں اب اتنے مسئلے ہو گئے تھے
14:35کہ چڑیا کی ازاتی اور ناخوشیت جیسا مسئلہ
14:37بہت پیچھے چلا گیا تھا
14:40چڑیا سکول والے عقوبت خانے سے
14:42گھر والے چھوٹے سے عقوبت خانے میں آ جاتی
14:45جہاں باقی کا سارا دن وہ اس کمرے میں ہی
14:47بیٹھے بیٹھے گزار دیتی جس میں حلیمہ
14:49اور خیر دن کی رہائش تھے
14:51وہ وہیں ہومک کرتی وہیں کھانا کھاتی
14:53اور پھر وہیں اپنے کھلرنے
14:54یا کہانیاں کی کتاب نکال کر بیٹھ جاتی
14:57اور اس طرح ایک اور دن گزر جاتا
14:58خیر دن شام کو گھر آتا اور اتنا تھکا ہوا ہوتا
15:01کہ اس کے لئے چڑیا یا حلیمہ سے
15:03بات کرنے کے لئے بھی وقت نہیں ہوتا تھا
15:06اسکول کی پڑھائی اتنی آسانتی
15:07کہ خیر دن کو پہلے کی طرح
15:09اسے پڑھانے کی جد و جہد میں
15:11خود کو حلقان نہیں کرنا پڑتا تھا
15:13وہ اب بھی چڑیا کی ہر چیز کو خیال کرتا تھا
15:15اس کی کھانے پینے کا لباس کا
15:17اب بھی وہی اس کی پونی
15:19یا چٹکیا کر کے سے اسکول چھوڑ کر آ جاتا تھا
15:21لیکن بات اس میں فرق یہ آیا تھا
15:23کہ اب اس نے اپنی
15:25پرواہ کرنی چھوڑ دی تھی
15:26وہ بالوں کو نہیں رنگتا تھا
15:28اب نہ ہی کپڑے اسری کر کے پہنتا تھا
15:31نہ اپنی داری وقائدگی سے مڈواتا تھا
15:33اور چڑیا کو خیر دن پر ترس آتا تھا
15:35اسے لگتا تھا خیر دن کے سولیے کی دمہ دار بھی
15:37وہی ہے
15:38اس نے اپنی نانا کو اتنا برا کر دیا تھا
15:40سب کچھ شاید اسی طرح چلتا رہتا
15:42کہ چڑیا زندگی میں پہلی بار امتحان میں فیل نہ ہو جاتی
15:45اور اس کی ناکامی خیر دن کے لیے
15:47جیسے ہارٹ اڈیک سے کم نہیں تھی
15:49وہ بے جکینی کے علم میں
15:51ریزلٹ کارڈ میں تقریباً ہر مضمون کے نیچے
15:53لگی سرخ لگیر کو دیکھتا رہا
15:55تمہیں امتحان کا نتیجہ لینے
15:58وہی سکول گیا تھا
15:59اور ریزلٹ کارڈ کو دیکھ کر ہونے والی
16:01بے جکینی اس کے پیپر کو دیکھ لینے کے
16:03واوجود بھی قائم رہی تھی
16:04اس کے برابر کھڑی چڑیا تھا جکائے
16:06نظر پاؤں پر جمائے ہوئے
16:08اس کے کسی سوال کا جواب نہیں دے رہی تھی
16:11اور اس کی کلاس کچھر خیر دن کو
16:12چڑیا کی شکایت پر شکایت لگا رہی تھی
16:15خیر دن کم تم اس کو لیے
16:16سکول سے آ گیا تھا
16:18اس نے رستے میں چڑیا سے کچھ نہیں پوچھا تھا
16:20گھر آ کر اس نے گھوانے کے بعد
16:22پہلی بار چڑیا سے سکول کے حوالے سے بات کی
16:24تم پڑھنا نہیں چاہتی چڑیا
16:26چڑیا نے نفی میں سار ہلا دیا
16:28خیر دن کو یقین نہیں آیا
16:29تم پڑھو گی نہیں تو کیا کرو گی
16:31چڑیا پہ تاثر چہرے کے ساتھ
16:33خیر دن کو دیکھتی رہی
16:34میں نے تم پر کتنی محنت کی ہے چڑیا
16:36اس نے جیسے بے بس سے انداز میں
16:38چڑیا سے زیادہ خود سے کہا تھا
16:40یہ سکول مجھ اچھا نہیں لگتا
16:42بہت دیر کے سوال اور جواب کے بعد
16:44چڑیا کے موزے بلا آخر نکلا
16:45کیوں؟
16:46خیر دن حیران ہوا
16:47یہاں سب مجھ سے غلط سوال کرتے ہیں
16:50اس کی آنکھیں آنسوں سے بھار گئیں تھیں
16:52خیر دن دھک سے رہ گیا تھا
16:54اچھا تو یہ اندازہ ہی نہیں تھا
16:55کہ اس چڑیا کو اسکول میں ایسا کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے
16:58اس نے چڑیا سے غلط سوالوں کی نویت دریافت نہیں کی تھی
17:01اسے اندازہ تھا وہ سوال کہتے ہوں گے
17:03اس رات خیر دن نے بیٹھ کر ایک بر پھر سوچا تھا
17:06اسے کرنا کیا ہے وہ وہیں گاؤں میں رہے
17:08یا پھر شہر کو پلٹ جائے
17:09اور شہر کو پلٹ جانے کا مطلب
17:11اس محیدے کی خلاف وردی تھی
17:12جو وہ ڈی سی کے ساتھ تر کہا تھا
17:14چڑیا اس کی زندگی کا فوکس تھا
17:16اس نے آج تک جو کچھ کیا تھا
17:18چڑیا کے لئے ہی کیا تھا
17:19اس کو آگے بھی جو کچھ کرنا تھا
17:21چڑیا کے لئے ہی کرنا تھا
17:24باربیڈول نے چند ایک بار ہوم وقت کرتے ہو
17:26اپنی ممی کو اپنی طرح متوجہ کرنے کی کوشش کی
17:29لیکن وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکی
17:31اس کی ممی فون پر اس کی دازی سے بات کر رہی تھی
17:34اور بات کرتے ہوئے مکمل طور پر مگھن دیں
17:36جی ممی بس ایک ہفتے تک شفٹ ہو جائیں گے
17:39باربیڈول کی ممی نے مسکراتے ہوئے اپنی ساتھ سے کہا تھا
17:41چلو اچھا ہے
17:43حبیب نے سیکرٹری کے پیچھے پڑھ کر پوسٹنگ کروائی ہے
17:46اس بار اور وہ بھی صرف تمہاری وجہ سے
17:49ورنہ حبیب کہاں اس چیز پر بلیف کرتے ہیں
17:51کہ ایک جگہ پر مدد پوری کیے بغیر کسی دوسری جگہ
17:54ٹرانسفر کروائی جائے
17:55اس نے ساتھ کی باقی بات پر دھیان نہیں دیا تھا
17:58میری وجہ سے
17:59میری وجہ سے کیوں ممی
18:00اس نے ساتھ سے کہا
18:01تم نہیں تو کہا تھا ٹرانسفر کے لیے
18:03تم کمفورٹیبل نہیں تھی گھر میں
18:05انہی بونوں وغیرہ کی وجہ سے
18:07کہہ رہا تھا کہ گھر میں پھر کچھ جی بگری واقعات ہونے لگے ہیں
18:10اس کی سمجھ میں نہیں آئے کہ اپنی ساتھ کو کیا جواب دے
18:13وہ اس وقت حیرت کی ایک شدید جھٹکے کا شکار تھی
18:16اس کے شہر نے یہ امپریشن دے کر
18:18کہ اس کے ستر سے اپنے ٹرانسفر کے لیے سفارش کروائی تھی
18:22کہ اسے اس گھر میں مسائل ہو رہے تھے
18:24حالانکہ وہ پرابلم دا پرانی حباث ہو چکی تھی
18:27وہ ان سب چیزوں کے ساتھ اپنے آپ کو ایجسٹ کر چکی تھی
18:30یہ اب اس کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی
18:32اور ابھی حال ہی میں تو ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا
18:36جس کی شکایت اس نے اپنے میاں سے کی ہو
18:38پھر اس کے شہر کو اچانک اس طرح بیٹھے بٹھائی
18:40کیا ضرورت پڑی تھی
18:41کہ اس نے اپنے بیوی کا نام استعمال کیا
18:44اس نے ساتھ سے کوئی تردید نہیں کی تھی
18:47اور موضوع بدل کر بات کرنے لگی
18:49لیکن وہ بری طرح علج گئی تھی
18:51اور جب دس منر بعد فونڈ رکھ کر
18:53وہ باروی ڈول کی طرح متوجہ ہوئی
18:54تو باروی ڈول بھی بیہت بیزار بیٹھی تھی
18:56ممی آئی نیڈ ٹو ٹیل یو سم تینگ
18:58اس نے فونڈ سے فری ہوتے
19:00ہوئی ماں کو اپنی طرح متوجہ ہوتے دیکھ کر کہا
19:03ہاں بتاؤ
19:04اس کی کلاس ورک کی نوٹ بک اٹھاتے ہو
19:06اس کی ممی نے اس سے کہا
19:07بابا آج اسکول آئے تھے
19:09وہ نوٹ بک پر نظر دوڑاتے ہوئے چونگ گئی
19:13بابا آئے تھے
19:14اس نے حیرانی سے باروی ڈول سے پوچھا
19:16اس نے سر ہلایا
19:17لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے
19:18ان کو ملنا چاہیے تھا نا ممی
19:20باروی ڈول نے سے بتایا
19:22اور پھر ساتھ ہی شکایت کی
19:23تم سے نہیں ملے
19:25تو پھر تمہیں کس نے بتایا
19:26اس نے سنجیدگی سے باروی ڈول سے پوچھا
19:28مجھے ٹیچر نے بتایا
19:33وہ باروی ڈول کی بات پر کچھ لمحے ہل نہیں سکی
19:37پھر اس نے بے یقینی سے کہا
19:42باروی ڈول نے سر ہلاتے ہوئے کہا
19:47وہ اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھ کر رہ گئے
19:50اور ممی پاپا نے سسٹر سے کہا
19:53کہ چڑیا کو سکول سے نکال دیں
20:00باروی ڈول نے روانی سے لیکن کچھ بچینی سے کہا
20:03فاطمہ نے ایبک کو اپنی ڈیبیٹ کا اغاز کرنے کے لیے
20:07سٹیج کی سیڑیاں چڑھتے ہوئے دیکھا تھا
20:09اس کا نام آناؤنس ہونے سے لے کر
20:11اب تک وہ اس پر اپنی نظریں نہیں ہٹا پائی تھی
20:14اپنی ڈیبیٹ کا کاغذ ہاتھ میں لیے
20:16وہ ایک بود کی طرح بیٹھی
20:18اس کی تین منٹ کی ڈیبیٹ سنتی رہی تھی
20:20جس کے دوران ہال کئی بار تالیاں سے گنجا تھا
20:23اور کئی دفعہ حاضرین کے چہروں پر مسکرہٹیں آئیں تھیں
20:26صرف وہ تھی جس نے نہ تالی بجائی تھی
20:28نہ وہ مسکرہٹی تھی
20:29وہ گم سم اسے دیکھتی رہی تھی
20:30وہ اس ٹیج سے تالیاں کی گونج میں نیچے اترا تھا
20:33اور اپنی ٹیم کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا
20:38فاطمہ کو اب اپنے اردارے کی ٹیم کو لیڈ کرنا تھا
20:41اور اب اس کے ٹیم کی باری تھی
20:43اور میسے بان ٹیم ہونے کی حیثی ہے سے
20:46وہ تالیاں سے گونجی تھے
20:47ہال میں اپنا نام لے جانے پر
20:49اپنی کرسی سے اٹھے تھے
20:50اس کے ارادے
20:51اس کے ادارے کے سٹوڈنٹس اور ٹیچرز کی تالیاں
20:55بجاتے ہاتھوں میں پہلے سے بھی زیادہ جوش آ گیا تھا
20:58وہ اپنے ادارے کی سب سے بہت سرین ڈیبیٹرٹس ہی
21:01اور جہاں وہ ہوتی وہاں پہلی پوزیشن
21:03کہیں اور نہیں جا سکتے تھے
21:04تو آج بھی وہ سارے اس ہال میں
21:06اسی اندھے اعتماد اور ریکین کے ساتھ بیٹھے تھے
21:09صرف سیڑیاں چڑھتی فاطمہ تھی
21:12جو اس اعتماد اور ریکین سے محروم تھے
21:16اپنے تنوے جسم کو حطل امکان ریلیکس کرنے کی کوشش کرتے
21:19بس میں پہلی بار اس آئینے کو دیکھا
21:21وہ اب بھی ویسے ہی وہاں کھڑا تھا
21:23اپنے اسی استقبالی خیر مقدمی انداز میں
21:26اسی غرور اور تندنے کے ساتھ
21:28اسی پر پوری سراریز میں لپٹے جتنے پہلی بارے سے اپنی طرف اتوجہ کیا تھا
21:33برامدی میں قدم بڑھاتے ہوئے اس نے آئینے پر ایک نظر اور دولائی تھی
21:37اس گھر میں اس کی آمد چھبی سال بعد نہیں دی
21:39اور ان چھبی سالوں کو اس نے جیسے
21:41ایک مونو سیکن میں ایک انکولیٹ کر لیا تھا
21:44گھر کے اندرونی دروازے کو اس کے انتظار میں کھڑے ملازم نے کھولتے ہوئے سے سلام کیا تھا
21:48اس نے سانس رو کر اس دروازے سے اندر قدم رکھا تھا
21:58اس گھر کی تفصیلاتے سے اگر کر رہا تھا
22:00ایک لمحے کے لیے اس کا ذل چاہا وہ اسے روک دے
22:02اسے گھر کے طرف کی ضرورت نہیں تھی
22:05وہ گھر اسی کی یاداشت کا انمنٹ حصہ تھا
22:08جسے کھرج کھرج کر مٹا دینے کی ہر کوشش نکام رہی تھے
22:12ہاں میں پہنچ کر چند لمحوں کے لیے اسے
22:14سوری
22:15ہال میں پہنچ کر چند لمحوں کے لیے اس کے قدم فریض ہو گئے تھے
22:19وہ سیڑھیاں اب اس کے سامنے تھی
22:21سیڑھیاں چیخیں اور وہ
22:22وہاں کچن کا دروازہ ہے
22:26پی اے کا جملہ
22:27اسے جیسے کرنٹ کی طرح لگا تھا
22:28جو اسے ہال میں واپس لے آیا تھا
22:31اس نے چونک کر ان سیڑھیاں سے نظریں ہٹائیں
22:33اور پی اے کو دیکھا
22:34پانی مل سکتا ہے
22:35اپنے اصحاب اور حواظ پر بیک وقت
22:38قابو رکھنے کی کوشش میں اس نے لگاتار بولتے پی اے کو ٹھوکا
22:41پی اے فوری طور پر اس کی پیاس بچھانے کے اندازامات میں مصروف ہو گیا
22:45اسے اپنے گرد جو خاموشی چاہیے تھی
22:47وہ چند منٹوں کے لیے ہی سے ہی لیکن مل گئے تھی
22:49جس ہمیں سے گزرتی خوف کی ایک لہر کو
22:52اس نے جیسے خود کو ساکت رکھتے ہوئے ارد کیا
22:55غیر محسوس انداز میں اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینجتے ہوئے
22:59اس نے ایک نظر اپنی کلائی پر ڈالی
23:00اس کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے
23:02اسی غیر محسوس انداز میں ہاتھ جھٹکتے
23:05نظریں چلاتے ہوئے اتنے پانی کا وہ گلاس تھاما
23:07جو اس کے سامنے ایک ٹری میں پیش کیا گیا تھا
23:09اس نے ایک اور سانس میں وہ گلاس خالی کیا تھا
23:12وہ گھر اسے کسی طرح حیب زدہ کرنے والا تھا
23:16یہ اس کے لیے کوئی چمبے کی بات نہیں تھی
23:18اس نے وہاں پوسٹ نہ ہونے کی مقدور بھر کوشش کی تھی
23:22مگر کامیابی نہیں ہوئی
23:24وہ اسے اب زدہ کر چھبیس سالوں کے بعد جیسے
23:27اسے ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ رہا تھا
23:29مجھے گھر کو ایک نظر دیکھنا ہے
23:31پی اے نے اس کے پانی کا گلاس رکھتے ہیں
23:34دوبارہ بولنا شروع کیا ہی تھا
23:35جبکہ اس نے اسے ٹوک دیا
23:37اور قدم آگے بڑھا دیئے
23:39مہتحد عملے نے کچھ حیران نظروں کا تبادلہ کیا
23:41لیکن پھر کچھ کہے بغیر اس کے ہمراہ ہو لیے
23:44گھر بہت تبدیل ہو چکا تھا
23:46لیکن وہاں موجود پرانی چیزوں میں سے کوئی بھی ایسی نہیں تھی
23:49جسے اس نے ایک نظر میں نہ پہچان لیا ہو
23:51اسے رہائشی عمارت کا جائزہ لینے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی
23:55اس گھر نے اس کی زندگی میں آئیڈیل اور آئیڈیلیزم نام کی چیز کو چھین لیا تھا
24:00اور بہت سارے سوال دے دیئے تھے
24:02جنہیں اس کا دماغ بہت سالوں تک کھوجتا رہا
24:05علجتا رہا نکام ہوتا رہا
24:07اور پھر جب بلاخر اسے جواب ملا
24:09تو بے یقینی کہ ایک عجیب سی کیفیت نے اگلے کئی سالوں سے اپنے حصار میں رکھا
24:14اور بے یقینی وہ واحد شہ نہیں تھی جو بہت عرصے اس کے ہمراہ رہی تھی
24:18ایک نقابل بیان عذیت بھی
24:20شرم اور دکھ کا ایک عجیب احساس بھی
24:22اور ان تمام احساسات کے درمیان وہ ایک چہرہ بھی جو اپنی آنکھوں میں خوف اور دہشت لیا سے دیکھ
24:28رہا تھا
24:29صرف چند سیکنڈ کے لیے ملنے والی وہ نگاہ جس کا تصور بھی اسے تھنڈے پسینے دلانے کے لیے کافی
24:34تھا
24:34اوپر والے فلور کے تقریباً تمام کمرے لاؤڈ تھے
24:37اس نے کسی کمرے کو نہیں کھلوایا
24:39وہاں اب ایسا کچھ نہیں تھا جسے دیکھنے کی اسے خواہش تھی
24:43اس گھر کا ماسٹر بیٹروم بھی لاؤڈ تھا
24:45اور صرف وہ واحد کمرہ تھا جس کے دروازہ کے باہر اس کے قدم چند لمحوں کے لیے فریض ہوئے
24:50تھے
24:50ایک لمحے کے لیے اس کمرے میں جاننے کی شدید خواہش نے اسے آہم کی رہا تھا
24:54پھر اس نے اسی رفتار سے اس خواہش کو جھٹک دیا
24:57باہر چلتے ہیں
24:58اس نے جیسے منٹوں میں امارت کے اندرونی جائزے کو مکمل کرتے ہوئے کا
25:02وہاں اندر کھڑے بہت سی چیزوں اور یادوں کا ایک سلاب تھا جو اسے باہر لیے جا رہا تھا
25:09اس نے اپنے وجود کو غرق ہونے سے بچانے کی جیسے ایک اور کوشش کی تھی
25:13امارت کے اردگید موجود لون پہلی نظر میں اسے ویسا ہی لگا تھا
25:17اور دوسری نظر نے اسے وہ خاردار جھاڑیاں کھوکھلے ہوتے تنے اور سکھے ہوئے پیڑ
25:21وضع دکھانے شروع کر دیئے تھے جو بظاہر اسے تراش خوراش کے دم پر کھڑے تھے
25:26جو یقیناً اس کی عامر سے ایک دن پہلے کی گئی تھی
25:29چپی سال پہلے وہ لون اس حالت میں نہیں تھا
25:32نہ وہ لون نہ وہاں کے درخت اور پودے اور نہ ٹہنس کا وہ کوٹ
25:35جس پر آخری میج یقیناً سالوں پہلے کھلا گیا تھا
25:39سب کچھ وہ سیدھا اور خستہ حال تھا
25:41ان تکلیف دائیادوں کی طرح جو اس کے اندر سرکنڈوں کی طرح سر نکالے
25:45ہماں وقت موجود رہنے کے باوجود
25:47ایک لمبے عرصے سے وہ کارٹ اور چھبن کو کھو چکی تھی
25:51جس نے اس کے بچپن کے ایک بڑے حصے کو بے حد بے رہمی سے
25:54لہو لہان اور مسخ کیا تھا
25:58اس طرح سرونٹ کوارٹرز ہیں
26:00پی اے نے اسے کسی رہنمائی کا انتظار کیے وغیر لہان کے عقبی حصے میں کسی سے دھائے ہوئے جانور
26:05کی طرح جاتے ہوئے دیکھ کر کچھ حیرانی کے ساتھ کہا
26:08اس کو ڈی سی کے انداز میں اس ہمارت کے لئے ایک عجیب اسی فیملیریٹی نظر آ رہی تھے
26:14پتا ہے اس کے انداز میں واقعی ایک عجیب سے معنوسیت تھے
26:18اس گھر کے لئے کوئی اس کی آنکھوں پر بندی پٹی باند دیتا
26:22تب بھی اس کے لئے عمارت کے عقبی حصے میں جگہ جانا دشوار نہ ہوتا
26:25اس کے قدم اب جس رستے پر سے وہاں اس کی زندگی کی بہترین اور بہترین جادیں بکھری تھیں
26:32کیچن کیا کبی دروازے سے کئی فرلانگ دور عمارت کے بالکل حقب میں وہاں
26:36اب وہ کوارٹر نہیں تھا جہاں چند لبہوں کے لئے اس نے اپنے آپ کو اسی شاک اور بیبسی کی
26:42حالت میں پایا
26:43جو اس نے 26 سال پہلے اس رات محسوس کیے تھے
26:45وہ کلوجر اب نہیں ہوا تھا
26:48جس کی خواہش اس نے وہاں تک لے آئی تھی وہ عصیب اب بھی اس کی وجود کے اندر ہی
26:52رہنے والا تھا
26:54حالتالیاں سے گونج رہا تھا
26:55ایبک فرنٹ رو میں اپنے اس مباسے کے دوسرے مقررین کے ساتھ بیٹھا
27:00اس سیج کی سیریاں چرتی فاطمہ کو دیکھ رہا تھا
27:03وہ پہلی بار ایچیسن کی ٹیم میں شامل ہو کر کسی انٹر کالجٹ
27:08کالجٹ
27:10کسی انٹر کالجٹ مقابلے میں شریک ہونے آیا تھا
27:13کنیڈ کی ٹیم ہمیشہ تھی ایک سخت حریف رہی تھی ان کے لیے
27:17اور ہوم کراؤنڈ اور ہوم کراؤنڈ کے اضافی
27:20ایڈوانٹیج کے ساتھ وہ اس بل کچھ اور بھی ڈیڈلی ہو سکتی تھی
27:24اس کے برابر پیٹھے اس کے ٹیم میٹ اکبر علی نے اسے
27:27اسٹیج پر چرتیوی فاطمہ کے بارے میں انفارم کرنا شروع کیا
27:30وہ کنیڈ کالجٹ کا ایک تھی
27:33کم سے کم اکبر کی باتوں سے تو اس نے یہی اندازہ لگایا تھا
27:36وہ بہت سے مقابلوں میں اس لڑکی کے ہاتھوں ٹرافک ہوا چکا تھا
27:39فالک شکافتالیوں کی گونج میں اس سے اوارٹھ دس گس دور
27:43اس کے تقریباً بالمقابل اس لڑکی نے روستروم سنبھا لیا تھا
27:47ہال میں اب پینڈروپ سائلنس ہو گئی تھی
27:49اس لڑکی پر نظریں جمعائے ایبک کے ہونٹوں پر بے ایک مسکرہ رہی گی
27:53یہ وہ پروٹوکول تھا جو آڈینس سے
27:56جو آڈینس سے ایک چیمپین ڈیویٹر کو دیتا تھا
27:59اس لڑکی کی تقریب میں اس کی دلچسپی تجسل کچھ اور بڑھ گیا تھا
28:02وہ اب روستروم پر لگا مائک ٹھیک کر رہی تھی
28:06اور اس وقت پہلی بھر ایبک نے اسے نروس محسوس کیا
28:09اور اگر ایسا تھا تو ایک حریف کے طور پر
28:11یہ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے کی ہی سب سے اچھی خبر تھی
28:14وہ اتنا ہی مین تھا جتنا کسی بھی مقابلے کے حریف
28:17ایک دوسرے کے لیے ہو سکتے تھے
28:19حاصل پر دی صورت میں جب وہ مرد مقابل سنف نازک ہو
28:23اور اس کی کامیابی کے قوی امکانات ہو
28:25ایبک وہاں نیچے بیٹھے
28:27اگر کسی بات کا اندازہ نہیں ہوا تھا
28:29تو وہ یہ تھا کہ اس لڑکی کی نروس نیت کی وجہ وہ خود تھا
28:33وگر اس چیز سے نیچے بیٹھا
28:35اس پر نظریں جمعے
28:36اس کی حرکات و سکنات کا جہزہ لینے میں مصروف تھا
28:38تو وہ روستروم کے سامنے کھڑی
28:40اس کو نہ دیکھنے کے باوجود
28:41اس کے وجود سے کسی پہاڑ میں
28:44دبے آتش فشان کی طرح بخبر تھی
28:46ایبک نے مبادثے کے آگاز میں
28:47چند ہی جملوں کے بعد
28:48اسے پہلی بار یک دم خاموش ہوتے دیکھا
28:51وہ بازی طور پر تقریر بھولی تھی
28:53اور اس سے پہلے کہ وہ غلطی نوٹس ہوتی
28:55کنیڑ کی ٹیم اور ہال میں بیٹھی آڈینس
28:57نے تالیاں بیٹنا شروع کر دیا تھا
28:59کسی مقرر کی غلطی کو
29:01کو کور اپ کرنے کا
29:03سب سے بہترین طریقہ
29:04ایبک اور وہاں بیٹھے دوسرے اپولوجی
29:06تو مقررین میں خوشی کی ایک لہر سی دوڑی تھی
29:08تقریر بھولنا اور شروع کے چند سیکنڈ میں
29:11ہی بھولنا کیسی مقرر کے لیے
29:12کتنا ڈی مورلائزنگ تھا
29:15وہ سب جانتے تھے
29:16فاطمہ کے تقریر میں سب کا انماغ پہلے ہی تھا
29:18اب اشتحاق بھی بڑھ گیا تھا
29:20تالیوں کی ثمتی گونج میں ایبک نے فاطمہ کو
29:22تقریر کا دوبارہ آغاز کرتے سنا
29:23وہ پھر شروع سے تقریر کر رہی تھی
29:26بجائے اسی جملے سے شروع کرنے کے بجائے
29:28جہاں سے وہ بھولی تھی
29:29جس کا مطلب تھا اس کی تین منٹ کی تقریر
29:31اب چند سیکنڈ کے ضائع ہونے سے
29:33تین منٹ سے اوپر ہی جانے والی تھی
29:35ایک بہت درمیان میں کہیں بہت شاندار پرفارم کرتے ہوئے
29:38تیز رفتاری سے ان چند سیکنڈ کو
29:40کور نہ کر لیتی تو
29:41کنیٹ کی ٹیم یکدم ٹین سے نظر آنے لگی تھی
29:44ان کی ٹیم پرفارمس کا آغاز
29:46کیپٹن کی غیر متوقع بری پرفارمس سے ہوا تھا
29:48دی سیکنڈ کے بعد ان کی کیپٹن
29:50ایک بار پھر پہلے کی طرح اٹکی تھی
29:52پھر دوبارہ چند دموں کی خاموشی ہوگی
29:55ایوک نے بہت ریلیکس انداز میں
29:56اپنی سریٹ کے تار ٹیک لگا لی
29:58ویسا ہی تمنان وہاں بیٹھے تمام شرکہ
30:00کی وڈی لینگویج میں چھلکنے لگا تھا
30:02اس لیول کے مقابلے میں تقریر کے دوران
30:04دوبارہ بھولنا ایک بار اٹکنا آپ کو
30:06ٹاپ تھری پوزیشن سے باہر کرنے کے لیے
30:08بہت کافی تھا اور فاطمہ پوزیشن
30:10کی دور سے باہر تھی تقریر کے اقتصام
30:13تک وہ دو اور غلطیاں بھی کر چکے تھے
30:14اور ہر غلطی کے بعد اس کے نرویسنس
30:16بڑھتی گئی تھی ایبک نے اسی کی
30:18باقی کی تقریر زیادہ دلچسپی کے بغیر
30:20سنی تھی اسے کنیڑ کی دوسری
30:22ڈیبیٹر کا انتظار تھا فاطمہ جس شاندار
30:24تقبال کے تاتھ اسٹیج پر آئی تھی
30:26اتنی خاموشی کے تاتھ وہ اپنی تقریر
30:28ختم کرنے کے بعد اسٹیج سے ہٹی تھی
30:30وہ پنڈ روب سائلنس جو ایک
30:32چیمپنڈ ڈیبیٹر کو پروٹوکال کے طور پر
30:34دی گئی تھی وہ اب اس کی غیر متوقع
30:36خراب پرفومنس پر بے یقینی کی
30:38کیفت استیار کر گئی تھی فاطمہ جس کے
30:40کندور سر کے ساتھ
30:42بے حد خاموشی کے تاتھ اسٹیج سے
30:54ایسی ہی کسی ڈیبیٹ
30:57یا
30:59مقابلہ خطابت میں کہیں
31:01اس نے خود ہی اپنے آپ کو
31:03جواب دینے کی کوشش کی
31:04کسی مقابلے کے علاوہ وہ کنیڑ کی
31:06کسی لڑکی سے کہاں مل سکتا تھا
31:08لیکن مسئلہ سے یہ تھا کہ ایبک نے
31:10بہت کام تقریری مقابلوں میں کسی تماشاہی
31:12کے طور پر شرطز کی تھی اگر اس نے فاطمہ
31:14کو کسی جگہ ایک مقرر
31:15کے طور پر دیکھا ہوتا تو وہ اس سے کسی نہ کسی
31:18حد تک یاد ہوتی اور اس سب کے
31:20باوجود اس لڑکی کا چیرہ سے بہت
31:22شناسہ لگا تھا کیا ہو گیا
31:24تم کو آج اپنی سیر سنبھالتے ہیں
31:26اس نے ساتھ والی سیر پر بیٹھی نووین
31:28کو کہتے سنا فاطمہ جواب
31:30نہیں دے سکی اس ٹیٹ پر اب نووین
31:32کا نام لیا جا رہا تھا وہ اس کا
31:34کندہ تھپک کر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی
31:36فاطمہ گن سمو اس کو اس ٹیٹ پر چڑھتا دیکھتی
31:38رہی کیا ہوا میسی
31:40زنیلہ غفران
31:42کے پاس آکھ چند لمحوں کے لیے بیٹھ گئی
31:44تھی ان کے لہجے میں مجیسی کے ساتھ
31:46تشویش بھی تھی انہوں نے کبھی فاطمہ
31:48کو اس سے پہلے سٹیج پر آج جیسی حالت
31:50میں نہیں دیکھا تھا فاطمہ کے پاس
31:52اپنی اتخلاف کا عرض کردگی کے لیے کوئی
31:54اسکیوز نہیں تھا
31:56وہ سر جھکائے بیٹھی رہی وہ نووین
31:58صلاح الدین کا دن تھا اس نے سٹیج پر
32:00وہ قصر پوری کر دی تھی جو فاطمہ نے
32:02چھوڑی تھی کنیٹ ٹروفی
32:04ایبک اور اکبر کی ٹیم کے ہاتھوں
32:06ہارا تھا لیکن پہلی پوزیشن
32:08نووین نے لے لی تھی فاطمہ نے ایبک
32:10کو دوسری پوزیشن لیا اکبر کے ساتھ
32:12شیلڈ اور ٹروفی لینے کے لیے دوبارہ سٹیج پر آتے
32:14دیکھا ہر بار اسے دیکھتے ہوئے وہ
32:16درد کی ایک سمندر سے گزر رہی تھی
32:18وہ مقابلہ وہ ٹروفی وہ تقریر
32:20کچھ مہنی نہیں رکھتی تھی اس کے لیے
32:21اس کے ندیک اہم صرف ایک شیئر تھی
32:23اور اسے پہچاننا نہ جائے
32:25وہ اسے شناکت نہ کرے
32:28اس نے تین منٹ کی وہ تقریر
32:29جیسے ایک شناکت پریڈ کے دوران
32:32ایک خواہش کے ساتھ ایڑیاں رگڑتے رگڑتے
32:34گزارے تھے وہ فاطمہ کی
32:35زندگی کی آخری انٹر کالجٹ
32:38ڈیبیٹ تھی
32:40تم کیوں چاہتے کچھ
32:42ریا سکول چھوڑ دے سوال اتنا اچانک
32:44اور ڈرٹ تھا کہ کچھ دیر کے لیے وہ جواب
32:46بھی نہیں دے سکا وہ ابھی کچھ دیر
32:48پہلے ہی ڈینر کے بعد اپنے بیڈروم میں سونے
32:49کے لیے آئے تھے جب اس نے اپنی بیوی کے
32:51موں سے یہ بات سنی کوئی تردید
32:54یا جھوڑ فی الحال خطرناک ثابت ہوتا
32:56خاص طور پر جب اس سے یہ پتا تھا
32:57پتا نہیں تھا کہ اس کی بیوی کا یہ بات کس سے
32:59بتا چلی ہے اور وہ کس حد تک کیا
33:02جانتی تھی پہلا شک اسے باربیڈول
33:04پر ہوا تھا اور اگر وہ اسی کی بیوی
33:06کی سورس آف انفرمیشن
33:08تھی تو پھر محاملہ خطرناک نہیں ہوا تھا
33:10میں نہیں چاہتا کہ وہ اس سکول
33:12میں پڑے جہاں میری بیٹی پڑھتی ہے
33:13اس نے کسی سوال جواب کے بغیر اپنی بیوی
33:16سے کہا تھا اس کی بیوی کے لیے
33:18اس کا جہاں اتنی آسانی
33:20سے اس سوال کا سیدھا جواب دے دینا
33:21غیر متوقع تھا وہاں جواب
33:24اس سے زیادہ شاکنگ تھا اور چند
33:26لمحوں کے لیے بھی یقینی تو اپنے شوہر کا چہرہ
33:27دیکھ کے رہ گئے چند مہینے پہلے تک
33:29یہی شخص خیر دین کو ڈیوٹی آورز
33:32کے دوران اپنی نواسی کو سکول دانے
33:33جانے کی اجازت دیئے ہوئے تھا
33:35اور اب یک دم یہ کیوں
33:38اس نے اس شوق سے جیسے
33:39باہر نکلتے ہوئے اس سے پوچھا
33:41میں نہیں چاہتا وہ میری بیٹی سے ملے
33:43جواب اب بھی اتنا ہی احمقانہ تھا
33:45تم اگر یہ چاہتے ہو کہ ہماری بیٹی
33:47اس سے نہ ملے تو تمہیں یہ بات اپنی بیٹی
33:49کو سمجھانی چاہیے جڑیا کو
33:51اس کے لیے سکول سے نکالنے کی ضرورت نہیں ہے
33:55ٹھیک ہے میں اس پر غور کروں گا
33:58اس کی سمجھ میں نہیں آیا
34:00وہ اپنے شوہر سے کیا کیا ہے وہ آج زندگی میں
34:01دوسری بار اسے بے تکی اور احمقانہ
34:03باتیں کرتا نظر آیا تھا پہلے بھی
34:05یہ خیر دین کا معاملہ تھا جس پر اس نے
34:07اپنے شوہر کو بد حواس پایا تھا اور آج پھر
34:09یہ اس کی نواسی کا مسئلہ تھا جس پر
34:11اسے اپنے شوہر کچھ عجیب بکھلایا
34:13نظر آیا تھا تم مجھ سے اپنا پروبلم
34:15شیئر کیوں نہیں کر رہے اور بلہ آخر
34:17جیسے اس بلی چوہے کے کھیل
34:19سے تنگ آ گئی تھی یا پھر اس معاملہ کو
34:21خود حل کرتے کا تو اس کی حمد جواب دیکھی تھی
34:23کیا شیئر کروں تم سے
34:25اس کے سوال نمہ اعتراض پر عجیب
34:27سے انداز میں تھٹکا تھا وہ صرف
34:29تم جانتے ہو کہ تم کیا شیئر نہیں
34:31کر رہے مجھ سے لیکن معاملہ صرف
34:33خیر دن کا چور ہونا اور چڑیا کا
34:35اس کی نواسی ہونا نہیں ہے اور چند
34:37لمحے جیسے ہونکوں کی طرح
34:39اپنی بیوی کا چہرہ دیکھتا رہا کیونکہ
34:41اسے اپنی بیوی کی بات سمجھ ہی نہ آ پائی ہو
34:43یا سمجھ میں آنے کے بعد
34:45بھی وہ یہ تسلیم نہ کر پا رہا ہو
34:47کہ اس کی بیوی اتنے واضح الفاظ میں
34:48اس پر شکوک و شبہت کا اظہار کرے گی
34:51کیا مطلب ہے تمہارا
34:52کیا کہنا چاہ رہی ہو تم
34:54ایک ہے ٹیپیکل مرد کی طرح
34:56اس نے جواب نہ دے دینے پر بلند آواز میں
34:58چلا کر اسے خائف کرنے
35:00اور موضوع سے ہٹانے کی کوشش کی
35:02چند لمحوں کے لئے اس کی بیوی کی آواز ہی نہیں نکل سکی
35:05وہ زندگی میں پہلی بار
35:06اس پر چلایا تھا
35:08اور کس بات پر چلایا تھا
35:10اس نے شدید بیوزتی محسوس کی تھی
35:11میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ تم مجھ سے سچ بولو
35:14وہ اس بار اور ڈرٹ ہو گئی
35:16اس کے شہرے اس کے شہر کا چہرہ سرخ ہو گیا
35:18سچ کیا جھوٹ بول رہا ہوں میں تم سے
35:21اس نے اب بھی چلاتے ہوئے ہی کہا تھا
35:23یہ میں تم سے جاننا چاہ رہی ہوں
35:25کہ تم کیا جھوٹ بول رہے ہو مجھ سے
35:26اس نے بھی اسی انداز میں چلاتے ہوئے شہر کا جواب دیا
35:29شادی کے اتنے سالوں میں آج پہلی بار
35:32وہ ایک دوسرے پر یوں چلا رہے تھے
35:33مجھے پورا حق ہے کہ میں سے کسی شخص کی اولاد
35:36کو اپنی بیٹی سے دور رکھوں
35:37جس سے مجھے نقصان پہنچا ہو
35:38اس کے شہر نے ایک بار پھر اپنی اسی بات کو
35:41ترمیم شدہ الفات میں دور آتے ہوئے کہا
35:43تم نے ممی کو کہا ہے کہ وہ پاپا سے
35:45کہہ کر تمہاری ٹرانسفر یہاں سے کروا دیں
35:47کیونکہ میں یہاں نہیں رہنا چاہتی
35:49وہ بول نہیں دکھا یہ ایک ہیر متوقع وار
35:51تھا اس کی بیوی کی طرف سے
35:52میں نے تم سے کب کہا کہ پاپا کو کہہ کر یہاں سے
35:55اپنی ٹرانسفر کروا
35:56وہ اب بھی اسی انداز میں بول رہی تھی
35:58وہ اپنے شہر کے بدلتے تیور
35:59اسے بوری طرح خفا کر رہے تھے
36:01تم سے کس نے کہا
36:03اس کے شہر کی آواز یک دم کمزور ہوئی
36:05جو اب معلوم ہونے کے باوجود
36:08اس نے پتا نہیں کیا سوچ کر
36:09اپنی بیوی سے پوچھا تھا
36:10چیزیں اگر کھلنے پر آتی ہیں
36:12تو کھلتی کی کیوں چلی جاتی ہیں
36:13اس سے ایک جنجلال کے ساتھ سوچا تھا
36:16ممی نے بتایا ہے مجھے اور کون بتائے گا
36:18میں نے پاپا سے بہت پہلے بات کی تھی
36:20رہنسر کی اب نہیں کی
36:21اس کے شہر نے کہا وہ اب اپنے
36:23بیٹ سائی ٹیبل کی دراز میں کچھ
36:25دھوننے بیٹ گیا تھا
36:27جھوٹ کا سہار سارا مسئلہ یہ ہوتا ہے
36:29کہ ہر وہ جگہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ جاتا تھا
36:32بڑے جھوٹ چھوٹے جھوٹ
36:34پھر ان سے چھوٹے
36:35اس خاندان کا کوئی ایک فرض بھی میس ہو جائے
36:37تو پورا خاندان جھوٹ جھوٹ پکارنے لگتا ہے
36:40اس کے ساتھ بھی آج یہی ہو رہا تھا
36:42ایک جھوٹ کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بعد
36:44اب اسے اس کے پورے خاندان کی ضرورت پڑھ گی تھی
36:47جھوٹ جھوٹ کی
36:48اس پکار کو دبانے کے لئے
36:50میں نے تم سے کبھی نہیں کہا کہ تم یہاں سے ٹرانسفر کرو
36:53اس کی بیوی نے اس کی بات کے جواب میں کہا
36:55اس گھر میں اثرات ہیں
36:56تمہیں ایشو تھا
36:57تم ہی ہر وقت مجھے قصے سناتی رہتی تھی
37:00کہ آئیوں ہوا اور آئیوں ہوا
37:02اور اس کا شہر ایک بر پھر اس پر الٹ پڑا
37:04اسے اب اس قصے کو لبیٹنے کی کوئی زودصورت نظر نہیں آ رہی تھی
37:08میں نے تمہیں ہزار سٹوری سنائی ہوں گی
37:11لیکن کبھی بھی تمہیں ٹرانسفر کرنے کے لئے نہیں کہا
37:14اس کی خفقی کو شہر کی تیز آواز نے ایک بر پھر بڑھایا
37:17میں اپنی بیٹی کی بیٹی سے یہاں سے جانا چاہتا ہوں
37:19میں نہیں جاتا اس گھر میں اس کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچے
37:22اس کے شہر نے ایک بر پھر اپنا بیان بدلا
37:25وہ ایک بر پھر اپنے شہر کی شکل دیکھ رہی تھی
37:27ایک سال ہو رہا ہے اس گھر میں ہمیں
37:29تمہیں آج خیال آیا ہے کہ یہاں تمہاری بیٹی کیوں کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے
37:33اس نے بہت تلخی سے اپنے شہر سے کہا
37:36وہ سے سچ نہیں بتا رہا تھا کم از کم اس کے لئے
37:38اسے مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں تھی
37:41لیکن وہ چھپا کیا رہا تھا
37:42اس کا سر پہر بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا
37:45کافی بحث کا چکا
37:46میں تمہارے ساتھ
37:47اب مزید نہیں
37:48تم اپنے کام سے کام رکھو اور مجھے یہ مت بتاؤ
37:50کہ مجھے کس معاملے میں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں
37:53تمہاری ساری زندگی پاکستان سے باید گزری ہے
37:56تمہیں کیا پتا پاکستان میں کیسے رہ جاتا
37:57اور کس مسئلے کو کیسے حل کیا جاتا ہے
37:59اس کے شہر نے بلاخر ضرچ ہوتے ہوئے کہا
38:02ایک چیز انسانیت ہوتی ہے
38:03اور اسے سمجھنے اور پریکٹس کرنے کے لئے
38:05مجھے کسی خاص جگہ رہنا ضروری نہیں ہے
38:07اس نے اسی تلخ انداز میں
38:09اپنے شہر سے کہا تھا
38:11وہ ابھی اب اتنی ہی زچ ہونے لگی تھی
38:13اس سے
38:16اس پزل سے جو حل ہونے پر ہی
38:18نہیں آ رہا تھا
38:19کیا مطلب ہے تمہارا
38:20اس کا شہر پھر تھٹکا
38:21تمہیں ایک آٹھ نو سال کی بچی کو
38:23ایک بڑے کی کسی غلطی پر سزا نہیں دے سکتے
38:26اس نے دو ٹوک انداز میں اپنے شہر سے کہا
38:28وہ بھی چور ہے
38:29وہ بھی اچھی لڑکی نہیں ہے
38:31وہ چند لہمیں بول نہیں سکی
38:32تب بھی تو بھی
38:34اس کی خاموشی زیادہ در قائم نہیں رہی تھی
38:36اس کے لہجے کی قطعیت نے
38:37اس کے شہر کو عجیب طرح سے
38:39سلکھایا
38:40تم چڑیا کوئی
38:41اتنی سائٹ کیوں لے رہی ہو
38:42تم کو نوکروں کے بچوں اور ان کی سائٹ کی سے
38:44کوئی واقفیت نہیں ہے
38:45اس کے شہر نے اپنی بیوی کی طرف داری کو
38:47بدلنے کی کوشش کی
38:49مجھے دلچسپی ہے بھی نہیں
38:51کسی کی سائٹ کی سمجھنے یا جاننے میں
38:53مجھے اگر دلچسپی ہے
38:54تو صرف ایک چیز میں
38:55اور وہ یہ کہ
38:56تم چڑیا کو اس اسکول سے نکالنے کی کوشش کرنا
38:59بند کر دو
38:59ہیر دن نے چوری کی ہے
39:01یا جو بھی کیا ہے
39:02اب اس چپٹر کو بند ہو جانا چاہیے
39:04کیونکہ یہ میری بیٹی کیوں
39:06ایفیکٹ کر رہا ہے
39:07تم اپنی بیٹی کو اپسٹ کر رہے ہو
39:09ان تمام چیزوں سے
39:10میں اپنی بیٹی کو اپسٹ کر رہا ہوں
39:12وہ جیسے بے یقینی میں بولا
39:13میری اکلوتی اولاد ہے وہ
39:15میں اسے اپسٹ کروں گا
39:16میں ہاں سے اپسٹ کروں گا
39:18میں جو بھی کر رہا ہوں
39:19اس کے تحفظ کے لیے کر رہا ہوں
39:21مجھے تمہاری کسی بات کی سمجھ نہیں آ رہی
39:23میں یہ جانتی ہوں
39:24کہ تم کچھ چھپا رہے ہو
39:25کیوں چھپا رہے ہو
39:26صرف یہ نہیں پتا مجھے
39:28نہ ہی مجھے یہ سمجھ جا رہا ہے
39:29کہ خیر دن کا حوالہ چڑھیا کو
39:31میری بیٹی کے لیے اتنا خطرناک
39:32کیوں بنا رہا ہے
39:33کہ تم اسے اس اسکول میں بھی دیکھنا نہیں چاہتے
39:36جہاں تمہاری بیٹی ہے
39:38میں اب اس ایسیو پر تم سے کوئی بات نہیں کروں گا
39:40اس کا شور یکدم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا
39:42تمہیں سونا ہے سو جو
39:44بیٹنا ہے پیٹ جو
39:45لیکن میرا دماغ چاٹنا بند کر دو
39:47وہ بے حد درستگی سے کہتا
39:49وہ کمرے سے نکل گیا تھا
39:50وہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی تھی
39:52اسے پتا تھا وہ اب
39:53اوپر اپنی سٹڈی میں جا کر درنک کرے گا
39:55اور ایک دو گھنٹے کے بعد آ کر چپ چاپ سو جائے گا
39:58غصے اور ڈپریشن میں وہ آج شاید زیادہ پیے گا
40:01لیکن وہ اس موڑ میں نہیں تھی
40:02کہ اسے منانے کی کوشش کرتی
40:04جا اس کا غصہ تھنڈا کرنے کی کوشش کرتی
40:06شادی کتنے سالوں میں یہ ضرورت
40:08اسے کبھی پڑی بھی نہیں دی
40:09وہ کبھی خفا بھی ہوتا
40:11تو بہت دیر تک اپنی خفگی برقرام نہیں رکھ پاتا تھا
40:13وہ اس کی کمزوری تھی
40:15وہ اس سے بات کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا
40:17شادی کتنے سالوں میں
40:18اس نے کبھی بے مقتد اپنے شہر کے ساتھ
40:21جگڑے کیے بھی نہیں تھے
40:22یہاں تک کہ اس نے کبھی اپنے شہر کے
40:24ریگولر ڈرنک کرنے کو بھی کبھی قابل اعتراض نہیں سمجھا تھا
40:28وہ ساری عمر امریکہ میں رہی تھی
40:29اور اس کی فیملی جتنی ازاد خیال تھی
40:31اس میں شراب کوئی ایک سوشل ڈرنک کے طور پر
40:34اسپٹنس تھی
40:35اس کا شہر ویسے بھی شراب پی کر
40:37کبھی اتنا آؤٹ نہیں ہوا تھا
40:38کہ اسے اور اس کی عزواجی زندگی کو
40:40کسی قسم کا خطرہ ہو جاتا
40:43اب یہ پہلی بار ہو رہا تھا
40:44کہ وہ اپنے شہر کے رویے سے ناخش ہو رہی تھی
40:46اور وہ بھی اس حد تک کہ اسے اپنے شہر کے ساتھ
40:49جھگڑنا پڑ رہا تھا
40:50اور ایشو بظاہر کوئی نظر نہیں آ رہا تھا
40:52اسے نہیں پتا اس کا شہر دوبارہ
40:54اس کی بیٹی کے سکول گیا یا نہیں
40:55لیکن دو دن بعد اس نے ناشتے کی ٹیبل پر
40:58اسے اپنے ٹرانسور کی خوشخبری سنا دی تھی
41:00اس نے بے حد خاموشی تھی
41:01کچھ بھی کہے بغیر ناشتہ کرتے ہوئے
41:03یہ خبر سنی اور کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا
41:06اس کے شونے چند منٹ چاہے
41:07کسی پلیتے ہوئے جیسے اس کے تاثرات جھانچنے کی کوشش کے
41:10اس کا چیرہ بے حد
41:12بے تاثر تھا
41:13اسکول لیونگ سرٹیفیکیٹ
41:15اسکول لیونگ سرٹیفیکیٹ
41:17میرا پی اے لے آئے گا
41:19اس نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اختلا جملہ بولا
41:21اس بار وہ ناشتہ کرتے ہوئے تھٹکی
41:23اس حدایت کا مفہم تھا کہ وہ یہ نہیں چاہتا تھا
41:26کہ وہ بار بھی ڈول کے سکول جاتی
41:27میں سکول جا کر یہ کام خود کروں گی
41:29یہ اس کا پہلا سکول ہے ٹھیک ہے
41:31وہ زیادہ دی جہاں نہیں رہی لیکن ہمیں
41:33جانے سے پہلے گوڈ ویل گیسچر
41:35کی طور پر اس کی ٹیچر سے مل کر ان کا شکریہ
41:37ادا کرنا چاہیے
41:38تم چاہتی ہو میں بھی ساتھ جاؤں
41:40اس کے شوہر نے جوابن کہا
41:41تمہاری مرضی ہے میں تمہیں مجبور نہیں کروں گی
41:43لیکن میں ضرور جاؤں گی
41:44اس نے اپنے شوہر کو کسی قسم کا مشورہ دینے کی بجائے کہا
41:47میں بھی جاؤں گا وہ حیران ہوئی
41:49اس نے اپنے شوہر سے کم از کم اس جواب کی توقع نہیں تھی
41:52لیکن اس نے ساتھ ہی تمنان کا سانت بھی لیا تھا
41:55وہ ایک ہفتے کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ
41:56اپنے بیٹی کا سکول چھوڑنے کا سیٹیفیکٹ لینے ہی تھی
41:59وہ دونوں بہت دیر تک پرنسپل آفیس کے ویٹرز روم میں بیٹے رہے تھے
42:03لیکن سسٹر ایگنس نے انہیں ملاقات کے لئے اندر نہیں بلوائے تھا
42:07اس کے شوہر کا ایک پارہ
42:09ایک بار پھر آسمان کا چھونے لگا تھا
42:12وہ ساتھ نہ ہوتی تو اس دن اس کے شوہر اور سسٹر ایگنس کے درمیان
42:15ایک اور چھگڑا ہوتا
42:16سسٹر ایگنس نے ان سے ملاقات نہیں کی دی
42:18لیکن اس کی حضارت پر اس کے ماں تاہت عملے نے اس کی بیٹی کا سیٹیفیکٹ
42:22پھوری طرح بنا دیا تھا
42:23وہ دونوں سسٹر ایگنس سے ملاقات کا انتظار کر کر کے
42:26اٹھ کے وہاں سے آگئے تھے
42:27اور بھائی نکلتے ہی اس کے شوہر نے بہت خف گئی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
42:31تم نے دیکھ لیا نا کیسا ایٹیٹیوڈ ہے سسٹر کا
42:39اس کا شوہر وافی پر تمام راستے بکتا جھکتا گیا تھا
42:48وہ خموشی تھے اس کی باتیں سنتی رہی تھی
42:50وہ اپنی بیٹی کے سکول میں ایڈمیشن کے دوران
42:52اور بعد میں کئی بات سسٹر ایگنس سے مل چکی تھی
42:55اور وہ اسے ہر بار بہت اچھی لگی تھی
42:57وہ ویسی ہی ایک نن تھی جیسی نن سے وہ خود کچھ عرصے پڑی تھی
43:03مشفق دوستانہ صافگو اور رسول پرست
43:05اب اگر وہ اپنا سکول چھوڑ کر جانے والی
43:07ایک بچی کے والدین تھے
43:09ان کی لاکھ کوشش کے باوجود بھی ملنے پر تیار نہیں ہوئی تھی
43:12تو اندازہ کر سکتی تھی
43:13کہ ان کا اور اس کے شوہر کا جھگڑا کی سر تک ہو گیا ہوگا
43:17وہ خموش بیٹھی بوجل دل کے ساتھ
43:20اپنے شوہر کی باتیں سنتے ہوئے
43:21سسٹر ایگنس کی خفگی دور کرنے کے لیے
43:23ایک آخری کوشش کرنے کا سوچتی رہی
43:25اس شہر سے جانے سے پہلے
43:27اس نے فون پر سسٹر ایگنس سے رابطہ کرنے کی
43:29ایک آخری کوشش کی تھی
43:30ایک کوشش بھی سمر آو اور ثابت نہیں ہوئی تھی
43:36اسکول چھوڑ کر جانے سے پہلے
43:37باربی ڈول نے بھی چڑیا سے ملنے بات کرنے
43:39اور اس سے یہ بتانے کی بار بار کوشش کی تھی
43:42کہ وہ لوگ وہاں سے جا رہے تھے
43:43اپنے باپ کی تمام تقیدوں اور تنبیہوں کے باوجود بھی
43:46لیکن وہ اس میں نکام رہی تھی
43:48چڑیا پہلے جیسی چڑیا نہیں رہی تھی
43:50وہ باربی ڈول کو میلوں دور سے بھی دیکھ کر راستہ بدل جاتی تھی
43:53اور اگر وہ کسی بات بات جھنجل آتی تھی
43:55تو وہ سے بھی یہ تھی
43:56کہ بار بی اس کی طرف کیوں آتی تھی
43:58اپنا وقت اب اس کی کلاس روم کے باہر بار بار
44:00چکر لگانے میں کیوں ظاہر کرتی تھی
44:03بار بی ڈول اس کی کلاس کے چکر لگانا شروع کرتی
44:05اور چڑیا کلاس کے اندر بیٹھی
44:07ٹینس ہونا شروع ہو جاتی
44:09رائٹنگ بورڈ پر لکھی جانے والی چیزیں
44:10سمجھنا یک دم اس کے لئے مشکل ہونے لگتا
44:13ٹیچر کی آباس ان کا بات سمجھنا
44:15ایک اور دشوار کام ہوتا
44:16اور کلاس میں بیٹھی اپنی دوست کے جملوں کو نظر انداز کرنا
44:19اس سے بھی بڑا
44:21اس سے بھی بڑا جو بار بی ڈول کو
44:23کہیں نمودار ہوتے دیکھتے ہیں
44:24اسے بڑے اشتیاق سے بتاتی
44:25بار بی ڈول آگئی ہے
44:26اور پھر یہ جملہ بار بی ڈول کے ہر چکر پر بولا جاتا
44:29تم بار بی ڈول سے ناراض ہو گیا
44:31شروع کی چند دنوں کے بعد ہی
44:33اس کی دوست نے اس کا بدلہ روئیہ
44:35نوٹس کر لیا
44:36تو وہ میری فرنڈ نہیں ہے
44:37پھر میں اس سے کیوں ناراض ہوں گی
44:39اس نے جواباً بر سوچ گیا
44:40اور اس کے جواب نے
44:42اسے کی دوست کو مزید حیران کیا
44:44لیکن تم نے مجھے خود بتایا تھا
44:45کہ بار بی ڈول تمہیں اچھی لگتی ہے
44:47تم نے اسے دوست بنا لیا ہے
44:49چلیا نے اپنی دوست کی بات کا جواب خاموشی سے دیا
44:51تو وہ اپنی دوست کو یہ نہیں بتا سکتی تھی
44:53کہ اس سے کیلئے بار بی ڈول کے نظر آنے پر
44:56اسے نظر انداز کرنا مشکل ترین
44:58اور بے حد صبر آزما کام تھا
44:59وہ اپنے نانا کی ہدایت پر عمل کر رہی تھی
45:02جو اب بار بی ڈول سے
45:04اس کا کسی بھی طرح کا رابطہ نہیں چاہتے تھے
45:06اور وہ نو سالہ بچی روز اس کو لاکر
45:08دل اور دماغ کو
45:09کی ایک عجیب سی کشم کشم
45:13بچے بڑوں جیسے کبھی نہیں ہو سکتے
45:14ان کی زندگی کی تکلیف
45:16عذیت حادثہ یا ٹراؤما
45:17کچھ بھی ان کو بڑوں جیسا ساکتے دل
45:20اور آنفورگیونگ
45:21معاف نہ کرنے والا نہیں کرتا
45:23کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں
45:25کسی بھی علاقشہ اور ہی کوشش کے بغیر
45:27چڑیا بھی شاید یہی کرتی ہو
45:29نہ چاہنے کے باوجود وہ بار بی ڈول سے بات کرنا شروع کر دیتی
45:32اگر تب بھی بار بی ڈول کا باپ
45:33اس کی زندگی میں ایک بار پھر
45:35ایک سیاہ کے دار کے ساتھ نمو دار نہ ہوتا
45:37آج کے لئے اتنا ہی نیکس اپیسر لے کر پھر آنگے
45:40تب تک کے لئے اللہ حافظ
Comments