Skip to playerSkip to main content
🖤 Aks Novel Episode 8 | Urdu Novel Audio 🖤

Kuch kahaniyan sirf mohabbat ki nahi hotin, balkay dard, khamoshi, raaz aur dil ke un jazbaat ki hoti hain jo kabhi lafzon mein bayan nahi ho sakte. ✨

Aks Novel ke Episode 8 mein kahani ke jazbaat aur gehre mod ko mehsoos karein. ❤️‍

Agar aapko Urdu novels, romantic stories aur emotional love stories pasand hain, to video ko end tak zaroor dekhein.

❤️ Video pasand aaye to: 👍 Like karein 💬 Apni rai comments mein batayein 🔔 Channel ko Subscribe karein aur bell icon press karein.

Aapki support hamare liye bohat important hai! ❤️

Shukriya for watching! 🌹

#AksNovel #AksNovelEpisode8 #AksNovelUrdu #UrduNovel #UrduNovels #UrduNovelAudio #NovelEpisode8 #RomanticNovel #EmotionalStory #UrduStories #LoveStory #PakistaniNovels #UrduKahani #NovelLovers #DarkRomance

Transcript
00:28As-salamu alaykum.
00:30Hello, Shirdi نے اکسی کے ساتھ رسمی Hello High کا تباتلہ کیا جو ان کے درمیان اب تک ہونے والی
00:35واحد گفتگو رہی تھی.
00:37اور پھر وہ خاموشی سے خود بھی لائبریرین کے انتظار میں ڈیکسی کے سامنے کھڑا ہو گیا.
00:42وہ پہلے موقع تھا جب وہ دوسرے کے اتنے قریب کھڑے تھے اور دونوں کو ہی بہت جلدی تھی.
00:48ورنہ شاید وہ دونوں وہاں کھڑے لائبریرین کے انتظار کرنے کی بجائے لائبریرین میں گھوم پھر کا کوئی اور کتاب
00:54دیکھ لیتے.
00:56تقریباً پانچ منٹ ایک دوسرے کے برابر بے وقوفوں کی طرح کھڑے رہنے کے بعد شیردلیں بلا آخر اکس کی
01:03طرف مڑ کر کہا.
01:04یہ ڈیکس کب سے کھالی ہے؟
01:05اکس اس کے سوال پر چونکی.
01:07جب سے میں یہاں کھڑی ہوں وہ ایک لمحے کے لیے ہر بڑائی اور پھر شیردل نے کہا.
01:11اور آپ یہاں کب سے کھڑی ہیں؟
01:13وہ پہلا موقع تھا جب شیردل کو اتنے قریب سے اکس مراد علی کو دیکھنے کا موقع ملنا تھا.
01:18اس کی سکین انفیکشن ختم ہو چکی تھی اور اسے دیکھتے ہوئے شیردل کو اندازہ ہوا کہ وہ اتنی انٹرکٹیو
01:25نہیں تھی جتنا وہ اسے سمجھ رہا تھا.
01:27آپ کے آنے سے چند منٹ پہلے ہی آ کر کھڑی ہوئی ہوں میں.
01:30اکس نے کہا.
01:31بہت زیادتی ہے یہ تو پندرہ منٹ ہو گئے ہیں.
01:34شیردل نے متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا.
01:37اب کہاں سے دھون کر لاؤں؟
01:39لائبریری کا سارا سٹاف ہی غائب ہو گیا ہے.
01:41وہ بڑھ بڑھا رہا تھا.
01:43آپ نے کتاب ریٹرن کروانی ہے؟
01:45اکس نے اس سے کہا.
01:46ہاں اور صرف اتنے سے کام کے لیے بھی آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے مجھے.
01:50شیردل نے اسے جواب دیا.
01:52اکس نے مسکراتے ہوئے ان سات منٹوں کو پندرہ اور آبادہ گھنٹے میں تبدیل ہوتے سنا تھا.
01:58آپ مجھے دے دیں کتاب.
02:00میں ریٹرن کروا دوں گی.
02:01جب اسٹاف میں سے کوئی آئے گا تو.
02:04شیردل نے چونکر اسے دیکھا.
02:05وہ بڑے شستہ انداز میں اسے آفر کر رہی تھی.
02:07ایک غیر متوقع آفر.
02:09وہ چند لمحوں کے لیے حیران ہوا.
02:11پھر اس نے کہا.
02:12تینکیو.
02:13آپ کو جلدی نہیں ہے کیا؟
02:15بہت زیادہ جلدی نہیں ہے.
02:17وہ مسکرائی تھی.
02:18وہ بھی مسکرائی تھی.
02:19برسو پگھلنے لگی تھی.
02:20شیردل نے اپنی کتاب اس کے پاس کاؤنٹر پر چھوڑ دی.
02:23اور خود وہاں سے چلا گیا.
02:25حق سے اس کی دوسری ملاقات ایک ویکنڈ اکیڈمی کے گراؤنڈ میں
02:29صبح صویرے جوگنگ کے دوران ہوئے تھی.
02:31ان کے بہت کم بیج میٹ چھوٹی کے دن
02:34سورجی کے نکلنے سے بھی پہلے اس طرح کی کسی جسمانی سرگرمی میں
02:38مصروف پائی جاتے تھے.
02:40شیردل نشہ کی حد تک رننگ اور جوگنگ کا عادی تھا.
02:44اور حق سے صبح صویرے تلوہ آفتاب کو دیکھنے
02:47اور اس وقت چہل قدمی کی.
02:49شیردل اس کو اکثر رننگ کے دوران وہاں دیکھا کرتا تھا.
02:53لیکن عام دنوں میں اس وقت کچھ دوسرے
02:58کومنگ بھی وہاں پائے جاتے تھے.
02:59اور شیردل کو پہلے کبھی موقع ملا بھی
03:01تو اسے اکس کو مخاطب کرنے میں دلچسپ بھی نہیں تھی.
03:04لیکن لائپریری والے واقعے کے بعد
03:06اس نے پہلی بار رننگ کے دوران
03:08اکس کو کیلے دیکھا تھا.
03:10اور وہ اس کو دیکھتے ہوئے رک گیا تھا.
03:13بہت حمد ہے آپ کی.
03:14یہ سنڈے کو بھی نکلی ہوئی ہیں.
03:16شیردل نے اس کے قریب رکھتے ہوئے
03:17الیکس لیک کے بعد کہا.
03:19آپ سے کم ہی حمد ہے.
03:21میں تو صرف ہلکی بھلکی چہل قدمی کے لیے نکلی ہوں.
03:23آپ کی طرح ڈھائی تین میل کی رننگ تو نہیں کر سکتی.
03:27سنڈے کو.
03:28شیردل نے بہت حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا.
03:30وہ واقعے ڈھائی تین میل رننگ کیا کرتا تھا.
03:32اور اکسے کے موں سے یہ بات اسے بہت حیران کن لگی تھی.
03:36یہ تب ہی ہو سکتا تھا جب وہ اسے ٹریک کے چکر لگاتے بقائدگی تھے دیکھتی رہی ہو.
03:41اس کے چہرے اور آنکھوں میں یہ اقدم شاید اتنی حیرانی آئی تھی
03:44کہ اکسے بھی پوچھے بغیر نہیں رہ سکی تھی.
03:47کیا ہوا؟
03:48کچھ نہیں.
03:49شیردل نے مسکراتے پر ٹالا.
03:50چلیں پھر آپ چہل قدمی کریں اور میں اپنی تین میل پورے کرتا ہوں.
03:54اس نے رننگ دوبارہ سٹارٹ کرتے ہوئے اکسے سے کہا.
03:57چند منٹوں کے بعد ٹریک کے بینڈ پر اس نے اپنے اقب میں اکسے کو دیکھنے کی کوشش کی.
04:02وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی.
04:04وہ حیران رہ گیا تھا وہ اتنی جلدی کہاں خائب ہو سکتی تھی.
04:07اس کے چلنے کی رفتار اتنی زیادہ تو نہیں تھی
04:09کہ وہ منٹوں میں وہاں سے اپنے ہوسٹل پہنچ جاتی.
04:13باقی رننگ کرتے ہوئے وہ مسلسل اس جگہ پر اکسے کو کھوجتا رہا.
04:18جہاں وہ اس سے ملا تھا.
04:19لیکن اس سے نظر نہیں آئی.
04:20اور پھر اچانک اس نے اسے ایک درست کے ساتھ پشتر ٹکائے کھڑے دیکھا تھا.
04:25وہ اپ ٹریک پر اسی طرف تھا جس طرف وہ پہلے اکسے سے مل چکا تھا.
04:28ایک عجیب سے تمانیت کا احساس ہوا تھا اسے.
04:31جیسے اکسے کو ڈھونڈ لینے پر رننگ کرتے ہوئے وہ وقتن فوقتن نظریں اٹھا کر اس کو دیکھتا رہا.
04:37اور وہ اسی طرح درست کے ساتھ ٹکی کھڑی تھی.
04:40ٹریک پر اس کی طرف بڑھتے ہوئے شہردل کو احساس ہوا کہ وہ کچھ دور کسی چیز کو دیکھنے میں
04:45مگن تھی.
04:46اس نے بھاگتے بھاگتے اکسے کی نظروں کا تحقیب کیا.
04:49ٹریک کے بل مقابل روش کے دوسری طرف نظر آنے والے لون کی ایک باہر کے پاس بلی اپنے کچھ
04:55بچے لیے پھر رہی تھی.
04:58شہردل نے ٹریک پر بھاگتے ہوئے اس سے بات کرنے کی شدید خواہش کے باوجود بھی اس درخت کو کراس
05:03کیا جس کی دوسری طرف وہ کھڑی تھی.
05:05میں ڈراؤپ کر دوں آپ کو ایک ہفتے کے بعد ان کی تیسری ملاقات ہوئی تھی.
05:09وہ بھی ایک ویکن تھا سپہر کے قریب شہردل اپنے گھر کا ایک چکر لگانے کے لیے نکلا تھا.
05:14جب اس نے اکیڈمی کے داخلی دروازے کی طرف جاتے ہوئے اکسے کو دیکھا.
05:17اس نے گاڑی رکھ کر اسے آفر کی.
05:19نہیں تینکیو اس نے انکار کیا.
05:22اوکے شہردل نے اثرا نہیں کیا.
05:23وہ شاید اس انکار کے بارے میں سوچتا تک نہیں اگر اکیڈمی کے گیر سے باہر نکلتے ہوئے بیک بیو
05:28میرر میں وہ مجتبہ فرکان کی.
05:30گاڑی کو اس کے قریب آ کر اسے اور اسے اس کی گاڑی میں بیٹھتا نہ دیکھ لیتا.
05:34خفقی کا ایک شدید احساس تھا جو سے ہوا تھا.
05:36اس کے لیے شہردل کے ساتھ جانا قابل قبول نہیں تھا.
05:39مجتبہ کی گاڑی میں جانے میں کوئی اثراز نہیں تھا.
05:42اکسے سے ایک بار پھر پوری طرح چڑھا تھا وہ.
05:46اکیڈمی کے سب سے خوبصورت لڑکی آلیہ نائم اور سب سے ہوت لڑکی اکس ہے.
05:49اس رات میرس میں بیٹھا چند دوسرے کامنز کے ساتھ گپ شپ کر رہا تھا جب ان کی ساتھی لڑکیوں
05:58کا ذکر شروع اور نافر نے تفسرہ کیا.
06:00شہردل کو جیسے کرنٹ لگا تھا اور اس کرنٹ کی والٹیج میں اس وقت کچھ اور اضافہ ہوا جب اس
06:06نے وہاں بیٹھے باقی تینوں کامنز کو بھی نافر سے متفق پایا.
06:10آلیہ نائم کو بیوٹی کوئن ماننے میں اسے بھی تحمل نہیں تھا لیکن اکس کو ہوتسٹ وومن ماننے میں اسے
06:16تدبذب تھا.
06:19اکس سب سے ہوت ہے کامان اس نے جیسے مزاق اڑانے والے انداز میں کہا تو تمہیں کون ہوت لگتی
06:24ہے؟
06:25نافر نے جوابن اس سے کہا شہردل نے دو منٹ میں اپنے کامنز کی تمام لڑکوں کی سکریننگ کی اور
06:34پھر غیر محسوس طور پر وہ اکس کے نام پر حق کر رکھا.
06:37ہوت وہ اب بھی جیسے کچھ نہ ماننے والے انداز میں اس کو دا موس وانٹڈ وومن کے میار پر
06:42پرخ رہا تھا.
06:45اور بالکل اس لمحے اکس مراد علی نے میسٹ میں قدم رکھا تھا اور اکیڈمی میں کھے ہفتے گزارنے کے
06:50بعد اس دن پہلی بار شہردل کو بتا چلا کہ اکس اپنے کامن میں پاپولر نہیں تھی.
06:56وہ اس کامن کے تمام لڑکوں میں پاپولر تھی اور اس کی وجہ اس کی پہلی پوزیشن سے بڑھ کر
07:00بھی کچھ تھی.
07:01نافی اگر کہہ رہا تھا کہ اس کی فگر وہاں موجود لڑکیوں میں سب سے اچھی تھی تو وہ غلط
07:06نہیں کہہ رہا تھا.
07:07شہردل نے اتنے ہفتوں میں پہلی بار اس کا سر سے پیر تک جائزہ لیا تھا.
07:11وہ ان لڑکیوں میں ایسے تھی جو کچھ بھی پہن لیتی ان پر اچھا لگتا تھا.
07:14کامن کی کچھ دوسری لڑکیوں کی طرح وہ میک اپ زیادہ نہیں کرتی تھی.
07:19لہل کی شہردل کی ایک لپسٹری کو اور بڑے نفاست تھے پینپ کیے ہوئے شانوں سے کچھ نیچے تک جاتے
07:26گھنے بال جو سٹیپس میں کٹے ہوئے تھے جنہیں وہ صرف وہاں سوشل ایویننگز میں کھلے رکھتی تھی.
07:33اس کا سنگھار تھی اور یہ اس کی شاندار فگر تھی جو اسے باقی تمام لڑکیوں میں غیر محسوس طور
07:40پر ممتاز کیے ہوئے تھی.
07:41اس دن وہاں بیٹھے ہوئے شہردل کو پہلی باہروں سے دیکھتے دوسرے لڑکی عجیب انداز میں چھپے تھے.
07:47وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اکس مراد علی کے حوالے تھے اس طرح کی ویلنگز وہاں موجود تمام وہاں
07:53موجود تقریباً ہر اس لڑکے کی تھی جو پہلے سے کہیں انٹرسٹڈ نہیں تھا.
07:58اکس نے گاڑی سے اترتے پہ سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برامدے میں دروازے
08:02کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شہردل اور شہربانوں کی پشتہ نظر آ رہی تھی.
08:07ایک دوسرے کے ساتھ کرے وہ کمیشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کر رہے تھے جن کی گاڑی اس
08:12وقت پورچ میں داخلی برامدے کے بلکل سامنے کری تھی.
08:14خود اس کی گاڑی پورچ کے چھت سے باہر تھے نظر آئینے سے ہٹا کر اس نے ایک لمحے کے
08:19لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی بندہ باندھی ہو رہی تھی.
08:23پانی کی ہلکی پھوار نے اس کے چہرے بالوں اور لباس کا ذرا سا نم کیا اور برامدے میں کمیشنر
08:29اور اس کی بیوی سے ملتے ہوئے شہرب دل نے بلکل اس لمحے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا.
08:33وہ سیاہ موٹیوں سے ایمبرویڈرک فیٹنگ والا سیاہ شفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو
08:42کچھ اور بھی متناسب کر رہا تھا.
08:44عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جھوڑے کی شکل میں
08:51اس کی گردن کی پیچھے سمٹے اس کی پسلی اور لمبی گردن کو نمائع کیے ہوئے تھے.
08:56دائیں گندے پر اس ٹول کی شکل میں تیر شدہ ڈپٹا ڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا خوبصورت
09:05سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی.
09:06شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا وہ کمیشنر
09:12اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی.
09:13اس لئے کمیشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے ترکت تیزہ اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں
09:18برامدے میں رک گئے تھے.
09:20کمیشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برامدے سے نکل کر اس کی گھاری کی طرف بڑھا اس کی
09:25طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیئے میں پڑھا ٹیشو پیپر ٹیٹرولا تھا.
09:30ڈرائیور سے کچھ کہتے ہوئے آگ سے جب تک پلٹی اس کے سامنے تھا دونوں بیکتیار ایک دوسرے کو دیکھ
09:35کر مسکرائے.
09:35بلیک ڈینر سوٹ کے ساتھ ایک سورکس ٹریپٹ ٹائی لگائے سلور کف لینگس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی
09:42پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھا.
09:47اکیڈمی میں کوئی اور کامرڈ اپنی ڈرسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا تھا.
09:53اکس مراد علی نے اپنے اتنے سال کے سرویس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا
09:58تھا.
09:58اکس نے گہری مسکرات کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا.
10:03ہوا کے ایک جھنکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑھایا.
10:05اکس کی نظر بھٹکی اس کی ٹائی کو بیک سیار اور اڑنے سے روک دینے کی کوئش کو اس نے
10:10اتنی ہی بیک سیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابری تھی.
10:13دونوں کے ذرمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہو رہا تھا.
10:18وہی رسمی جملے اور وہی انکہے مفہو وہ ہمیشہ کی طرح اس کی چہرے پر نظریں جمعے ہوئے بات کر
10:23رہا تھا.
10:24اس کے چہرے پر نظریں جمعے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو رہا تھا
10:28کہ اس کے چہرے پر موجود کونسی شایر کس کو مان کر رہی تھی.
10:32اس کی کانوں کی لوگوں میں دمک سے سفید موتین کے سٹرڈز
10:35اس کی شفاو چمکدار سیاہ آئی لائنر سے سجی آنکھوں کو
10:38یا اس کی آنکھیں سرک لپسٹک سے رنگے ہونٹوں سے
10:42چھلکتی دودیا دانتوں کی کتار کو
10:44جو اس کی مسکرہت کو اور بھی دلکش کر رہی تھی.
10:47بارش کی فوار کے ننے ننے کترے
10:49اور اس کے کتروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے.
10:52ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا
10:56وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کر دے.
10:59صرف ایک لمحے کے لیے پھر اس نے نظر چرائی تھی.
11:02جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں
11:04اکس کی طرح بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کہا
11:06تم نے بڑھا رسک لیا.
11:08اکس نے کسی سوال کے بغیر وہ ٹشو تھام کر
11:10اسی غیر محسوس انداز میں چہرہ
11:12اور سر تھپ تھپ آتے ہوئے کچھ حیرانی تھی
11:14اسے پوچھا. کیا؟
11:15وہ دونوں پس ساتھ چل رہے تھے.
11:17بارش میں گاڑی سے نکل آئیں.
11:18قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کچھ سنجید کی تھی کہا
11:21تو وہ الجی.
11:22اگر میک اپ بہن جاتا تو
11:24اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں
11:26شرارت لہر آئی تھی.
11:27جس جاننے کے پاوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنر
11:30اور لپسٹک کے سوا شاہد ہی کچھ لگائی ہوئے تھی.
11:33ہاں رسک تو تھا
11:34میک اپ صاف ہو جاتا تو
11:36تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے.
11:38جتنا بھی گھور رہے تھے.
11:39اکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کو بڑی نفاث سے تلپیٹ کر
11:42پرس میں بڑی بیر نیازی تے
11:43رکھتے ہوئے کہا.
11:44جواب ایسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا تھا.
11:47اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے سیار ست جکا کر
11:49اپنی مسکرار چپائی.
11:51وہ باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے
11:53اور وہ اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا.
11:55کمیشنر کی بیوی کے ساتھ بات کرتی.
11:57شہربانو آکتی کے استقبال کے لیے
11:59چند قسم آگے بڑھائی تھی.
12:01شہربانو
12:02اکس مراد علی
12:03ایک رب میں شیر دل نے باری باری دونوں
12:05کوئی دوسرے سے مطارف کروایا.
12:07دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاکو سباک نہیں تھا.
12:10پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو
12:11اس سے کہیں زیادہ جانتی تھی
12:12جتنا شیر دل نے ان کا طارف کروایا تھا.
12:15سفیر شفون کے کلیوں والے کرتے
12:17اور چھوڑی دار پجامے میں شہربانو
12:19ایک بار بھی ڈھول لگ رہی تھی.
12:20دودھیہ رنگس، یہاں لمبی،
12:22خامدار پلکے ننی تھی نوک والی
12:23تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہون.
12:26اکس کے ہونٹوں پر مجد مسکرار
12:28کچھ اور گہری ہوئی تھی.
12:29اس کو دیکھ کر
12:30شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی
12:32نہیں مل سکتی تھی.
12:33وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی.
12:36اس کی طرف بڑھتے ہوئے اکس نے سوچا تھا.
12:38شہربانو نے اس سے پہلے
12:39اکس مراد علی کا نام سنا تھا
12:41یا اس کو شیر دل کی گروپ
12:42فوٹوگرافز میں دیکھا تھا.
12:44جہاں وہ لاکھ گور کرنے کے باوجود
12:46بھی اس کی شکل و صورت اور حلیے میں
12:48وہ خواہ چھت کھوجنے میں ناکام رہی تھی
12:50جو اس کے ذہن میں کتی خدشے
12:51یا اندیشے کو جنم دیتی.
12:53لیکن آج اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی
12:55وہ اکس مراد علی تھے
12:56بری طرح خائف ہوئی.
12:58کیوں ہوئی؟
12:59یہ اسے کئی دن سمجھ نہیں آیا.
13:00نہ اسے شیر دل سے کوئی خدشہ تھا
13:03نہ آج اس مراد علی
13:04اس حسن و جمال کی مالک تھے
13:05جس سے اسے کوئی احساس کم تری ہونے لگتا
13:08لیکن اس کے باوجود
13:09اسے یہ اندازہ ہو گیا تھا
13:11کہ آج اس مراد علی کو نظر انداز کرنا
13:16بہت مشکل تھا
13:17اور اس کو پسند نہ کرنا
13:18اس سے بھی زیادہ دشوار
13:20برامدے کی انٹرنس پر
13:21ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے
13:22وہ دونوں شہربانوں کو
13:23کسی فوٹو فریم کا حصہ لگے تھے
13:25ایک پرفیکٹ پکچر
13:26دراز کذ
13:27اٹریکٹیو
13:28پوری اعتماد
13:29سمارٹ
13:29سیاہ لباس میں
13:30ملبوس
13:31وہ ایک ایسا کپل لگے تھے
13:32جو گھر سے نکلتے ہوئے
13:33پرفیکٹ میچنگ کر کے آئے تھے
13:35کوئی بھی ایک نظر میں دیکھ لیتا
13:37کہ آکسے کے ہونٹوں کی
13:38لپسٹک کا رنگ
13:39شیر دل کی ٹائی کے رنگ کا
13:40ایک حصہ لگ رہا تھا
13:42شہربانوں نے بھی نوٹس کیا تھا
13:43ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے
13:45کسی رشتے اور تعلق کے بغیر
13:46بھی ان دونوں کی
13:47باڈی لنگویج میں
13:48ایک عجیب سی کمیسٹری تھی
13:49ایک عجیب سا ربط
13:50اور تعلق جس کو
13:51نہ چھپانے کی کوشش تھی
13:52نہ دکھانے کی
13:53لیکن پھر بھی وہ
13:54چھپ چھپ کر دیکھ رہا تھا
13:56شہربانوں
13:57الجی تھٹکی
13:58اور پھر چانے کے باوجود
14:00وہ آکسے سے
14:00ویتی گرم جوشی کے
14:01مظاہرہ نہیں کہہ سکی
14:04جو وہ دوسرے
14:14ہاتھ کے لمس کی حدت
14:15اور نرمی کو
14:16بے ایک وقت
14:16محسوس کیا
14:17دونوں کی نظریں ملیں
14:19آپ کیسے ہیں
14:20اس نے اکسے کو
14:21کہتے سنا
14:21اس کی آواز کی ملائمیت
14:23نے شہربانوں کے وجود
14:24کی سرزمہری کو
14:25عجیب انداز میں
14:26پگھلایا
14:26I'm fine
14:27I'm fine
14:28How are you
14:29اس نے جوابن
14:30اپنی مصطلحات کو
14:30کچھ گرم جوش کرنے کی
14:32کوشش کی
14:32I'm good too
14:33اکس نے جوابن
14:34ایک دیمی مصطلحات کے
14:35ساتھ کہا
14:39شہربانوں نے
14:40ایک عجیب سا اتمنان
14:40محسوس کیا
14:41اور اس ووٹو فریم
14:42کے ایک حصے کو
14:43ہٹتے دیکھ کر
14:44شہربانوں سے
14:45بہت سنا ہے
14:46میں نے آپ کے بارے میں
14:47اکس نے شہربانوں سے کہا
14:50اچھا
14:50میں نے آپ کے بارے میں
14:51کبھی نہیں سنا
14:51اکس اس کی بات پر
14:52مسکراتی
14:53شہربانوں نے
14:54کچھ جتانے کی
14:54کوشش نہیں کی تھی
14:55اس نے وقتی شہربانوں سے
14:57اکس سمراد علی کے
14:57نام کے سواب کے بارے میں
14:58کچھ نہیں سنا تھا
14:59اس کے باوجود
15:00وہ اتنا احساس
15:01ضرور رکھتی تھی
15:02کہ اکس سمراد علی
15:03شہربان علی
15:03کو وہ بلیک ہول ہے
15:04جسے کھوجنا
15:05صبر آزمہ
15:06اور خود آزیتی
15:07کسی وقت کچھ نہیں
15:09شہربانوں کو
15:10کسی بلیک ہول میں
15:11کوئی دلچسپی نہیں تھی
15:12شہربان علی کے ساتھ
15:13اس کی ادوازی
15:14زنگی مثالی تھی
15:15اس نے زندگی میں
15:16کبھی کوئی آئیڈیل
15:16نہیں بنایا تھا
15:17لیکن شہربان علی کے ساتھ
15:29شہربانوں کو
15:30اس کی مصروفیات کے علاوہ
15:31کوئی شکایت نہیں ہوئی تھی
15:32وہ ان عورتوں میں سے نہیں تھی
15:34جو شہر کی زندگی
15:35اور ہر سرگرمی کو
15:36قابل در اندازی
15:38سمجھتی تھی
15:40شہربانوں نے
15:41اسے ایک عورت
15:41بیوی کے دور پر
15:42بہت سپیس دی تھی
15:43اور شہربانوں نے
15:44بھی وہی سپیس
15:45اس کو دی تھی
15:46شہربانوں نے
15:46اب اس کا تھا
15:47اور جب تک
15:47وہ اس کا تھا
15:48اسے یہ جاننے میں
15:49بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی
15:51کہ اس سے پہلے
15:51کون کون
15:52شہر دل کو
15:53اپنا بنانا چاہتا تھا
15:54یا شہر دل کسی کو اپنا
15:56اور صرف یہ ایک بات
15:58اور سوچ تھی
15:59جس پر ہمیشہ
16:00اس کے دل کی دھرکن
16:01ایک لمحے کے لیے رکھتی تھی
16:02جس کو وہ ہمیشہ
16:03سر سے جھڑک دیتی تھی
16:04اس کا دل یہ کبھی
16:05نہیں مان سکتا تھا
16:06کہ شہر دل
16:07اس سے پہلے کبھی
16:08کسی سے محبت کرتا تھا
16:09کر چکا تھا
16:10یہ کر سکتا تھا
16:12یہ خیال بھی
16:12اس کو جسم میں
16:14ٹھکنے والی میخوں کی
16:15ٹھکنے والی میخوں کی طرح
16:17لگتا تھا
16:18شہر دل کی زندگی میں
16:19بہت لڑکی آئی ہوں گی
16:20لیکن محبت
16:21وہ اس نے صرف
16:22مجھ سے کی
16:23مجھ سے کی
16:24تو مجھ سے شادی کی
16:25ورنہ وہ کسی سے
16:26شادی بھی
16:27کسی سے بھی شادی کر سکتا تھا
16:29کوئی لڑکی شہر دل
16:30کو انکار تو نہیں کر سکتی تھی
16:32پسا نہیں
16:32کیا کیا طویلیں
16:33اور جواز دے کر
16:34وہ خود کو یہ یقین
16:35دلاتی تھی
16:36کہ محبت نام کی شہر
16:37شہر دل نے
16:38صرف اسی کے لئے
16:39محسوس کی ہوگی
16:40واقعی سب کچ
16:41کچھ بھی نہیں تھا
16:42اور شہر دل نے
16:43دواجی زندگی کی
16:44اتنے سالوں میں
16:45اپنے رویہ سے
16:46جیسے سے کہ
16:47اس بلی کے سامنے
16:48آنکھیں بند کی
16:49کبوتر جیسے
16:50اعتماد اور یقین پر
16:51مہر تحضیق
16:53سبت کر دی تھی
16:54جو اس نے شہر بھانو کی
16:55مہاں کی
16:55ان تمام پیشنگوئیں
16:57اور علانات کو
16:57غلط ثابت کر دیا تھا
16:59جو شرمین نے
16:59شہر دل کے ساتھ
17:01شادی کی ضد پر
17:01اسے شہر دل
17:03اور اس کی فیملی
17:03کے حوالے سے بتائی تھی
17:05دلہ کی تمام
17:07ایڈمنسٹریشن
17:07ہال کمرے میں
17:08اپنی اپنی فیملی
17:09اس کے ساتھ
17:09شہر دل کے گھر پر
17:10ہونے والے
17:10اس دینر کے لئے
17:11موجود تھی
17:12اور کمیشنر
17:13اور ان کی بیو
17:14وہ آخری مہمان
17:14تھے
17:14جنہیں پہنچنا تھا
17:16اکس وہاں
17:17بہت پہلے آ چکی ہوتی
17:18اگر کمیشنر
17:19اور ان کی بیوی
17:20نے ایک ہی شہر
17:20سے جانے کی وجہ
17:21تھے
17:21اسے اپنے ساتھ
17:22جانے کی دعوت
17:23نہ دی ہوتی
17:24دینر کے دوران
17:25شہربانوں کی نظریں
17:26وقتن فوقتن
17:27اکسے پر بھٹکتی رہی
17:28وہ اکس مراد علی
17:29کو سننا چاہتی تھی
17:30جیسے
17:31اسے جاننا چاہتی تھی
17:32لیکن اکس مراد علی
17:33نے سارا وقت
17:34سے بہت خاموشی تھی
17:35وہاں ہاتھ میں
17:36ڈرنچ چچائے لیے
17:37مسکراتے
17:38دوسروں کی باتیں
17:38سنتے ہوئے گزارا تھا
17:40چند ایک بار
17:41ان دونوں کا آمنہ
17:41سامنا ہوا
17:42شہربانوں نے
17:43ایک مہمان
17:43نواز میزبان کی طرح
17:44اس سے کھانے وغیرہ
17:45کی حوالے سے پوچھا
17:46اکسے نے ایک محضب
17:48مہمان کی طرح
17:48اپنی سیری کا
17:50اظہار کیا
17:51شہربانوں
17:52کسی اور کی طرح
17:52متوجہ ہو گئی
17:53گوٹو کو کہیں تھی
17:54کہیں چلی جئی
17:55ڈرنچ کی اختتام پر
17:56مہمانوں کو
17:57رخصت کرتے ہوئے
17:58شہربانوں اور
17:58اکسے کا ایک پر
17:59پھر آمنہ سامنا ہوا
18:00شہربانوں اب
18:01اس سے پہلے کی طرح
18:02نہیں ملی تھی
18:02وہ ایک گرم جوش
18:04میزبان کی طرح
18:04اس سے گلے ملی تھی
18:05اکس مراد علی کی پورچ
18:07سے نکلتی بھی
18:07گاڑی کو دیکھتے ہوئے
18:09کہ ہربانوں کا اندازہ
18:10نہیں تا کہ وہ
18:10چند ہفتوں میں
18:11اکسے سے دوبارہ
18:12وہاں ایک مہمان
18:13کے طور پر ملے گی
18:14اور وہ
18:14اس سے میزبان کے
18:16طور پر
18:18کریٹ میں سے
18:19ایک ایک آم نکال کر
18:20وہ ساتھ ساتھ
18:21اس پر لگے
18:21اس ٹیکر چیک کر رہی تھی
18:23جس آم پر
18:23اس ٹیکر نظر نہ آتا
18:24وہ ایک لہتے
18:25کے لئے رکھ کر
18:28آم کو گمہ پھر آ کر
18:29اس کا سٹیکر
18:29تلاش کرنے کی کوشش کرتی
18:31پھر اس ٹیکر کو
18:32آم کے کسی نہ کسی حصے پر
18:33موجود پا کر
18:34وہ جیسے
18:35مطمئن ہو جاتی
18:36صبح سکول جانے سے
18:37پہلے ریڈی پر
18:37پھلوں کو سجانا
18:38اور ترتیب سے رکھنا
18:39اس کے پسند دیتا
18:41کاموں میں سے ایک تھا
18:42لیکن آج چھٹی کیا دن تھا
18:43اور چھٹی کے دن
18:43وہ خیر دن کے ساتھ آتی
18:45پھٹ پاس پر
18:45ایک سٹوڈ پر بیٹھتی
18:46اپنا سبق یاد کرتے
18:47پھلوں کے ترتیب کو
18:49بگننے نہ دیتی
18:50کسی بھی کہا کہ آنے پر
18:51وہ بہت
18:52انداز میں کہا کہ
19:04پھر تراتو پر رکھ دیتی
19:05جس پر خیر دن
19:06پھل تول رہا ہوتا
19:06اور جب وہ کھاک چلا جاتا
19:08تو وہ نہیں سیرے سے
19:08بچے ہوئے پھلوں کو
19:09ترتیب دیتی
19:10پھلوں کی بڑی بڑی
19:11دھیریوں کو گھنٹے
19:13گھٹتے دیکھنا
19:14اور اس کا
19:15جیسے ایک پسند دیدہ
19:16مشکل آتا
19:17خیر دن نے کیا کمائے
19:18اور کیا بچایا
19:19سے زیادہ چڑیا
19:19کو خوشیت بات کی ہوتی تھی
19:21کہ اس کی ریڈی کا پھل
19:22ضرور بکھتا
19:24اور شام تک
19:25ختم ہو جاتا
19:25بلکل دال کی
19:26اس دیکھ کی طرح
19:27جو صبح لب لب بھری ہوتی
19:28اور خیر دن کے لیے
19:29اسے ہلانا بھی مشکل ہوتا
19:31لیکن شام تک
19:31وہ اس طرح خالی ہو جاتی
19:32کہ بعد دفعہ خیر دن کو
19:34اسے ٹیڑا کر کے
19:35چماش کے ساتھ
19:36اس کے پہندے کو
19:36کھرچ کھرچ کر
19:37بھی اسی اپنے
19:38کسی گاہ کی فرمائش پر
19:40اس کا پیالہ بھرنا پڑتا
19:41خیر دن دال سے
19:42جتنا کماتا تھا
19:43پھلوں سے اتنا
19:44نہیں کماتا تھا
19:45لیکن چڑیا گا
19:46دال کے بیزنس سے
19:47زیادہ پھلوں کی
19:47اس رنگین
19:48ریڈی میں دلچسپی تھی
19:49جسے وہ خود سجاتی تھی
19:51وہ جیسے
19:51اس کا کینوز تھی
19:53جس پر وہ
19:54مختلف رنگوں
19:54اور شکلوں کے پھلوں سے
19:55اپنی کریٹیوٹی کا
19:57اظہار کرتی تھی
19:58اور ریڈی
19:59اس خود پات پر
20:00خیر دن کی دال
20:01مشہور اور مقبول
20:02ہو جانے سے پہلے
20:03اس خود پات کی
20:03سب سے خوبصورت
20:04پھلوں کی ریڈی تھی
20:05جس پر پہلی نظر
20:06ڈالنے کے بعد
20:07کوئی پھل خریدنے
20:08کی خواہش نہ رکھنے
20:09کے باوجود بھی
20:09ایک دوسری ستائشی
20:10نظر ضرور ڈالتا تھا
20:13کسی نے کبھی
20:14اس ریڈی پر
20:14بدنظمی اور
20:15بے ترتیبی نہیں دیکھی
20:16تھی نہ ہی گندگی
20:17اور اس میں خیر دن
20:18کے اپنے سلیکے کے
20:19ساتھا چڑیا
20:20کہ مزاج کی
20:20نفاست کا بھی
20:21عمل داخل تھا
20:22شروع شروع میں
20:23خیر دن صرف
20:24پھلوں کی ریڈی لے کر
20:25ہی سپر ٹپات پر
20:26کھڑا ہوا تھا
20:26لیکن چند ہفتوں میں
20:28ہی اسے اندازہ ہو گیا
20:29تھا کہ صرف
20:29پھلوں کی ریڈی کے ساتھ
20:30گھر کر خرچہ چلانا
20:31مشکل تھا
20:32آس طور پر
20:33اب جب کچھ بھی
20:33مفتن نہیں تھا
20:34چند ہفتوں میں
20:35ہی خیر دن نے
20:35اسی پھلوں کی آدھی ریڈی
20:37کو حالی کرتے
20:38پھر وہاں
20:38اس دال کا
20:39دیکھچاہ رکھ لیا
20:40تھا جس کے لئے
20:41وہ ڈی
20:41ڈی سی ہاؤس میں
20:42مشہور تھا
20:43اور اس کی دال
20:44کچھ دنوں کے اندر
20:45اس کی توقعات سے
20:45بھی زیادہ بکنے لگی تھی
20:47چند ہفتے گزرتے ہی
20:48اسے اس دال کے دیکھچے
20:49کا دیکھ میں
20:50تقلیل کرنے کی
20:50ضرورت محسوس ہونے لگی
20:52اور اس کے ساتھ
20:53ہی اس نے پھلوں کی
20:54ریڈی کو بھی
20:54ختم کرنے کا
20:55فیصلہ کر لیا
20:55کیونکہ صبح صبح
20:56منڈی جا کر
20:57پھل لانا
20:57اور دال پکانا
20:58بہت دیکھت طلب کام تھے
21:00لیکن چڑھیا کی آنکھوں
21:01اور شہرے پر
21:03اتر تھی مایوسی
21:03اسے اس کے فیصلے پر
21:04عمل درامند نہ کرا سکی
21:06خیردین نے
21:06اپنی زندگی کی
21:07مشاکت کچھ بڑھا لی تھی
21:08لیکن پھلوں کی
21:09وہ ریڈی
21:10اس نے ختم نہیں کی
21:11البتہ اب
21:11اس ریڈی سے
21:12دال کا بیزنس
21:13اس نے ایک دوسری
21:13ریڈی پر منتقل کر لیا تھا
21:15اور ایک نو عمر لڑکا
21:16اس نے اپنے ہاتھ
21:17بٹانے کے لیے بھی
21:18رکھ لیا تھا
21:18خیردین کی رہائش
21:19اپنے پھٹ پاس
21:20ملکہ رہائشی علاقے میں تھی
21:21اور اسکول سے
21:22واپس آنے کے بعد
21:23چڑھیا خیردین کے پاس
21:24آ کر
21:24اس کی ریڈی پر بیٹھ جاتی
21:26وہ وہیں اپنے
21:27اسکول کا ہوموک بھی کرتی
21:28اور اس کی ریڈی کی حفاظت
21:29تو نگرانی بھی
21:30جب تک خیردین نے
21:31اپنا ہاتھ بٹانے
21:32اور ادھر ادھر کے
21:33کاموں کے لیے
21:34وہ لڑکا نہیں رکھا تھا
21:35چڑھیا ہی تب تک
21:36خیردین کا چھوٹا تھی
21:37جو اس کا ہاتھ بٹانے کے
21:39ساتھ سا سڑکوں پر
21:39لوگوں اور گھاریوں کے
21:40شعور سے
21:41بے نیاز اور بے پروا
21:42اپنا سبق یاد بھی کرتی
21:43اور لکھنے والا ہوموک بھی
21:45اس کے آس پاس ہونے والا
21:46کوئی شعور
21:47اس کے فوکس
21:47اور توجہ کو بانٹنے
21:48میں ایک کام جاب نہیں ہوتا تھا
21:50خود پاس پر بیٹھ کر
21:51ہی چڑھیا نے
21:52اپنے آپ کو آس پاس کی
21:53شور مچاتی دنیا کو
21:54شاہ ٹاک کرنا سیکھا
21:56بلکل اسی طرح
21:57جس طرح اس نے اس رات
21:57اپنے زندگی کی
21:58سب سے بھی ہانے کو
21:59تکلیر دا
22:01تجربے پر ایک
22:02منٹل بلوک لگایا تھا
22:05اور جب تک وہ اس پر
22:06منٹل بلوک نہیں لگا
22:07سکھی چڑھیا
22:08تب تک ذہنی طرح پر
22:09مفلوج ہوتی رہی
22:10نو سال کی اس بچی نے
22:11بڑوں کی دنیا کا
22:12جن سے نام کا آسے
22:14بہت غلط عمر میں دیکھا تھا
22:15اسہ سیب نے اس کی
22:16بچوں کی دنیا کی
22:18ساری خوبصورتی رنگینی
22:19کو پلچ چھپکتے میں
22:20غائب کر دیا تھا
22:21چند ہولناک گھنٹوں نے
22:23اس کی زندگی میں
22:24نیپام بم سے زیادہ
22:26تباہی برپا کی تھی
22:28زندگی وہ
22:29ایر
22:32ٹیل
22:32یہ کیا لکھا ہوں
22:35زندگی وہ
22:37ایری ٹیل نہیں تھی
22:38جو وہ گزار رہی
22:39سفیری ٹیل نہیں تھی
22:40جو وہ گزار رہی تھی
22:41جس کی ایک جھلک
22:43اس کو لرزا کر رکھ دیا تھا
22:45وہاں اس رات
22:45اس کے ساتھ کیا ہوا تھا
22:46یہ سوال چڑیا کو
22:47گھنگا کر دیتا تھا
22:48وہ کوشش کے باوجود
22:50کچھ یاد نہیں کر پائی تھی
22:51صرف تاریخی اور
22:52اپنی گردن پر
22:52کسی کے ہاتھوں کی گریفت
22:54ایبا کی ہے
22:55زیانی چیخیوں
22:55اور اس ساری تکلیف سے
22:56زیادہ تکلیف
22:57وہ اپنی اریانی
22:58اپنی برہنہ جسم کا تصور
23:00اور اس کے بعد
23:00چڑیا کا ذہن مقلود ہو جاتا
23:03وہ کامتے جسم
23:04اور بینچے ہونٹوں کے ساتھ
23:05سرد جسم
23:06اور پھٹی آنکھوں کے ساتھ
23:07ماں کو دیکھتی
23:09بے آواز
23:09اور بے حصہ حرکت
23:10روتی جاتے
23:11اور اس کے جسم پر
23:11تھنڈے پسینے آتے
23:12اور اس کی ماں
23:13اس کی حالت دیکھنے کے بعد
23:14بلک بلک کر روتی جاتی
23:15اس نے چڑیا سے
23:16کچھ بھی پوچھنا چھوڑ دیا تھا
23:18جس حالت میں خیر دین نے
23:19اسے ڈی سی ہاؤس میں دیکھا تھا
23:21اس کے بعد
23:21کسی سوال جواب کے بغیر بھی
23:23وہ جانتا تھا
23:24وہاں کیا ہوا تھا
23:24چڑیا کے ساتھ کیا ہوا تھا
23:26حلیمہ کی طرح
23:27وہ چڑیا سے
23:28کبھی کچھ نہیں پوچھ سکا تھا
23:29وہ سوال
23:30یا کوئی بھی سوال
23:31وہ خیر دین کی عمر پر کی کمائی سے
23:34کھڑی کی ہوئی
23:35ایک شاندار عمارت تھی
23:36جسے اس حالت میں
23:37اس گھر میں دیکھ کر
23:39خیر دین پلک چھپکتے میں
23:40خود ڈھے کیا تھا
23:41کوئی ظلم ہوا تھا
23:43اس پر
23:44اس حوال جواب کیا رہ گئے تھے
23:46کس نے
23:46کرنے سے کم کرنے سے
23:48اس نے حضیانی جنونی انداز میں
23:49صرف ڈی سی کو مارنے کی کوشش کی تھی
23:52نزیجہ وہی ہوا تھا
23:53جو ہو سکتا تھا
23:54چند منٹوں میں
23:55ڈی سی کے حفاظی حملے نے
23:57اسے دو دو کوپ کرتے پر
23:58پلس سیچیشن پہنچا دیا تھا
23:59جہاں اگلے دو دن
24:00اگلے دو دن
24:02تشدد کا نشانہ بنتا رہا
24:03رات و رات اس کی بیٹی کو
24:04چڑیا اور کوارٹر کے
24:05سمان کے ساتھ
24:06ڈی سی ہاؤس سے باہر
24:07پھنکوا دیا گیا تھا
24:08رات کے بعد آخری
24:09چند گھنٹے چڑیا نے
24:10اپنی ماں کے ساتھ
24:10ڈی سی ہاؤس سے باہر
24:11پھنکوا آئے
24:12وے ان کے سمان کے دھیر پر
24:13اپنی روتی بھی ماں سے
24:15لپٹے ایک عجیب خوف
24:16و درشت کے عالم میں
24:17گزار دیا تھے
24:17فجر کی نماز کے بعد
24:18دن ہونے پر
24:19اس کی ماں
24:20سمان کے دھیر کو
24:21وہیں چھوڑے
24:22اسے ساتھ لیے
24:22وہاں سے کیوی فرلانگ
24:23دور ایک پی سی او سے
24:24اپنے کسی جاننے والے
24:26کو فون کر کے
24:27وہاں پہنچنے کا
24:27کہہ کر جب تک
24:28واپس آئی
24:29سمان کے دھیر سے
24:30بہت کچھ رابطے سے
24:30گزرنے والے
24:31اٹھا کر لے جا چکے تھے
24:32اس سمان کا
24:33ماتم شریعہ کی
24:34ماتم کرتی
24:35اگر ماتم کرنے کے لیے
24:36اس کے پاس
24:37کوئی اور سمان نہ ہوتا
24:39اگلے چند گھنٹوں میں
24:40اس جاننے والے نے
24:42اس سمان کو اٹھا کر
24:43انہیں اپنی چھت کے
24:44نیچے پناہ تو دے دی تھی
24:45لیکن خیر دن کے لیے
24:46وہ کچھ بھی
24:47کرنے کی قابل نہیں تھا
24:48وہ بھی کسی کالج میں
24:49اردلی تھا
24:50اور ڈی سی کے حکم پر
24:51بند
24:51اور ڈی سی کے حکم
24:53پر بند کیے
24:54جانے والے خیر دن کے لیے
24:55وہ کیا کرتا
24:56ایف آئی آر میں
24:57خیر دن پر
24:57ڈی سی کے گھر میں
24:58چوری کے الزام کے ساتھ
24:59چوری کرتے ہوئے
25:00پکڑے جانے پر
25:00ڈی سی پر خاتلانہ
25:01حملہ کرنے کا بھی
25:02الزام تھا
25:04اور ایک آلہ سرکاری
25:05افیتر کے جہان
25:06اور مال پر ہاتھ
25:07ڈالنے کا نتیجہ
25:07جو ہو سکتا تھا
25:08وہی ہوا تھا
25:09شہر کا کوئی بھی
25:10وکیل فیس لیے
25:11بغیر خیر دن کے لیے
25:12دمانت کی کوششوں کا
25:13اقصہ بننے کا
25:14تیار نہیں تھا
25:15اور بے بسی
25:16اور کم پسری
25:17کم اور قسم بھرسی
25:19کی اس انتہا پر
25:20ایک ایک لمحے
25:21اس نو سالہ بچی کے دین پر
25:22آن منٹ نکو چھوڑ گیا تھا
25:24دو دن کے بعد
25:25ڈی سی ہاؤس کے عملے
25:26نے ڈی سی کی طرف سے
25:27مسحلت کی کوششوں
25:28کا آغاز کیا
25:29اور خیر دن
25:30نے بینا چوچ رہا
25:31اس مسحلت نامے پر
25:32دستخط کر دیئے تھے
25:33وہ اچھی طرح جانتا تھا
25:34کہ جیل کے اندر
25:34چلے جانے کے بعد
25:35پیچھے کچھ پاکی نہیں
25:36بچنا تھا
25:37جو حلیمہ وچڑیا
25:38کو سہارا دیتا
25:39اس کے لیے ہی
25:40تھانے سے باہر آنا
25:41عشر ضروری تھا
25:42یہ دیکھنے کے لیے
25:43وہ چڑیا اور اپنی
25:44زندگی کے ملپے کے
25:44ڈھیڑ سے کیا کیا
25:45بچا سکتا تھا
25:46ڈی سی خیر دن کے ساتھ
25:48مقدمہ فورٹ نہیں کر سکتا
25:49تھا اگر مقدمے میں
25:50خیر دن چڑیا کے حوالے سے
25:51کچھ الزمات لگا دیتا
25:53تو کچھ ثابت نہ ہونے
25:54کی صورت میں بھی
25:54وہ الزمات
25:56اتنے خطرناک ضرور تھے
25:57کہ ایک لائک فائک
25:57ڈی ایم جی
25:58افیسر کی تاکھنام
25:59اور تابناک کریئر
26:01ڈوبونے کے لیے کافی تھے
26:03اور ڈی سی
26:04اس بات اچھی طرح واقع تھا
26:05محلی بدنوانی کے
26:06الزمات کا دفعہ کیا جا سکتا تھا
26:08اور وہ ایسے الزمات ہوتے تھے
26:09جن کو اگر غلط ثابت کر دیا جاتا
26:11تو ہر معاملے میں
26:12بائزت طور پر نکل آنا ممکن تھا
26:14لیکن اخلاقی جرائم سے
26:15مدلعہ کا الزمات
26:16اگر کور تک چلے جائیں
26:18تو پھر بے قصور ثابت ہونے کے
26:20باوجود الزمات
26:21اور شکوکش آبات کی گرد
26:22بہت عرصے تک نہیں بیٹھتی
26:24وہ دھول فرقین کو
26:25گرد علود رکھتی ہے
26:27ڈی سی بے خوف نہیں تھا
26:29چلیا کے حوالے سے
26:30کسی الزم کی گونج
26:31اس کی کریئر سے پہلے
26:32اس کی دوازی دندگی
26:33کو تباہ کرنے کا باعث منتی
26:34اپنی فیملی میں
26:35اسے بہت شرمندگی
26:36اور کفت کا سامنا کرنا پڑتا
26:38اس کے لئے خیر دن سے
26:39خاموش مساہلت اور
26:40اس سے کہیں زیادہ ضروری تھی
26:42جتنی خیر دن کے لئے
26:43اس کے ساتھ
26:44خیر دن اس کے جیسی
26:45دہانت رکھتا تھا
26:46اپنے کارڈ سے زیادہ
26:47سمجھداری سے کھیلتا
26:48مساہلت نامہ
26:49اپنی شرائط پر کرتا
26:50لیکن وہ ڈی سی
26:50اور اس کے پیچھے
26:51تمام انتظامی
26:53مشینری کے دباؤ
26:54اور دھمکیوں کے سامنے
26:54ٹھہر نہیں سکا
26:55ڈی سی نے اس کے خلاف
26:56ایف آئی آر
26:57واپس لے لی تھی
26:57لیکن اسے ملازمت سے
26:59برخواف کر دیا تھا
27:00اور اس کے خلاف
27:01دی جانے والی
27:02رپورٹ میں
27:04لگائے گئے
27:04لظامات واپس نہیں لیے تھے
27:05خیرد دن کی صرف
27:06نوکری نہیں گئی
27:07پینشن اور ریٹائرمنٹ
27:08پر ملنے والے
27:09تمام فنز بھی
27:09چلے گئے تھے
27:11لیکن بس یہ ہوا تھا
27:12کہ وہ تیسرے دن
27:13صبح صورے
27:13اپنے جسم پر چھوٹوں
27:14کے کچھ چھوٹے
27:15بڑے نشان لیا
27:16حلیمہ اور چڑھیا
27:16کے پاس پہنچ گیا تھا
27:19زندگی میں پہلی بار
27:20چڑھیا ہمیشہ کی طرح
27:21ہستی کھل کھلاتی
27:22بھاگتی خیرد دن
27:22کے پاس نہیں جا پائی تھی
27:24جو کچھ ہوا تھا
27:25اس کی وجہ سے ہوا تھا
27:26کوئی قصور نہ ہونے
27:27کہ باوجود دو
27:28وہ نو سالہ بچی شدید
27:29احساس جمع کا شکار تھی
27:31وہ جن کے گھر پر
27:31ٹھہرے ہوئے تھے
27:32وہاں
27:33وہ جس سرکس کا
27:34ایک جانور تھی
27:35جس کی کہانی دن میں
27:36کئی بار اس کے سامنے
27:37حلیمہ جو اس گھر کی عورتیں
27:38وہاں آنے والے پاس پروس
27:39کوئی عورتوں کو
27:41سناتی
27:41وہ وہاں موجود ہوتی
27:42تو سر جھکائے
27:43کسی بود کی طرح
27:44سب کچھ سنتی جاتی
27:45وہ رات پھر
27:46اسی تکلیف کے ساتھ
27:47اس پر گزرتی
27:48اسی خوف اور عذیت
27:49اور بے بسی کے احساس
27:51وہ دوبارہ گزرتی
27:52اور دو دن کے درجنوں
27:53بار دھرائے جانے والے
27:55اس منٹل ٹورچر کے بعد
27:56ایک لمحہ وہ آ گیا تھا
27:57جب نو سال کی
27:58اس بچی نے
27:58اپنے لئے شدید نفرت
27:59محسوس کی تھی
28:00وہ دو دن میں ہی
28:01احساس جن کی دوسری سیڑی
28:03پر آ گئے تھی
28:03ہمدردی کی جملے
28:04تر سبری نظریں
28:05کردنے والے سوالات
28:06ان میں تھے کسی چیز
28:08نے اسے
28:08ٹرومٹائز بچی پر
28:10کوئی اچھا اثر نہیں
28:10ڈالا تھا
28:11اس کے ساتھ
28:12یہ سب کچھ
28:13اس لیے ہوا
28:13کہ وہ اچھی بچی
28:14نہیں تھی
28:14ان دو دنوں میں
28:16اپنے حواظ کو
28:17بحال کرنے کی
28:17پہلی کوشش کے دوران
28:18یہ پہلا نتیجہ تھا
28:19جو چڑیا نے نکالا تھا
28:21جو اچھے بچے ہوتا
28:22ان کے ساتھ
28:22یہ سب کچھ نہیں ہوتا
28:23اور ان کی وجہ سے
28:24ان کے نانا کا
28:25تکلیف بھی نہیں پہنچتی
28:26خیردن کو پہلی بار
28:27تکلیف اور
28:27زخموں کی وجہ سے
28:29لڑکھڑاتی قدموں سے
28:30گھر کے اندر
28:30داخل ہوتے دیکھ کر
28:31خوشی کے احساس
28:32کے باوجود
28:33آنسوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ
28:34چڑیا نے دوسرا
28:35نتیجہ نکالا تھا
28:38وہ چھوٹا سا گھر تھا
28:39وہ وہاں چھپ نہیں سکتی تھی
28:40لیکن وہ چھپنا چاہتی تھی
28:41وہ خیردن کے سامنے
28:42آنا نہیں چاہتی تھی
28:43اگر نانا نے کچھ پوچھا
28:44تو اگر نانا نے
28:46ڈانٹا تو
28:46نانا اب مجھے
28:47بہت برا سمجھتے ہوں گے
28:49خدشات اور وہموں سے
28:50زندگی میں
28:50اس کا پہلا تاروخ
28:51بھی اسی عمر میں ہوا
28:52چڑیا چپ چاہت
28:53فیلیاں چڑھ کر
28:54چھت پر چلی گئی تھی
28:55دو کمروں کی
28:56وہ چھوٹی سی چھت
28:57کار کبار سے
28:58اٹیوی تھی
28:58اور اس کار کبار میں
28:59کوشش کباؤ جو
29:00چڑیا کوئی ایسی جگہ
29:01تلاش نہیں کر سکی
29:02جہاں وہ چھپ جاتی
29:03اور چھت پر آنے والے
29:04کوئی بھی شخص
29:05اسے پہلی نظر میں
29:07یہ نہ ڈھونڈ لیتا
29:08وہ چھت پر کھڑکی
29:09کا ایک ٹوٹاوا
29:10پٹر دیوار کے ساتھ
29:11لگا ہوا تھا
29:12جس کے پیچھے
29:13پھٹی پرانی بوریوں میں
29:14اسے ایک پر چڑھ کر
29:15بیٹھ گئی
29:15اور اس دن وہاں
29:16بیٹھوئے ہوتے ہیں
29:17اس سامان میں
29:18چند چھوٹی بڑی چھکلیاں
29:19ایک چوہا
29:19بڑی بڑی دو مکنیاں
29:21اور ایک لال بے کے ساتھ
29:22چند دوسرے کیڑے مکوڑے بھی دیکھے
29:24اور زندگی میں
29:25پہلی بار وہ گم سن
29:26کسی خوف کے بغیر
29:27ان تمام چیزوں کو
29:27اپنے ہاتھ پاس
29:29اور ارد گرد حرکت
29:31کرتے دیکھتی رہی
29:32صرف چند دن پہلے
29:32وہ ساری چیزیں
29:33اس کے خوف کا منواہ تھی
29:35خوف نام کی کیفت
29:36تو ان غیر انسانی چیزوں
29:37کے ساتھ منصوب کر کے
29:38محسوس کرتی تھی
29:40صرف چند دن میں
29:41خوف نے
29:42اپنا منبب ادل لیا تھا
29:43خوف نے اب اپنے آپ کو
29:44انسانی شکل میں
29:45ڈھال لیا تھا
29:46اب اس کی
29:47دم پر چار پاؤں
29:49آنکھیں
29:50آٹھ ٹانگیں
29:51سرخ گریس
29:52یا چمکیلہ
29:53قرائیت امیز
29:54ننگا وجود نہیں ہوتا تھا
29:55جس کے ساتھ
29:56وہ رنکر
29:57اڑ کر دیواروں
29:58درختوں سے
29:59چپکتا دوڑتا پھڑتا تھا
30:02اب اس کا خوف
30:08خوبصورت لبات پہنتا تھا
30:09اور دو ٹانگوں پر چلتا تھا
30:11وہاں بیٹھے
30:12ان سارے کیڑے مکڑوں
30:13کو دیکھتے ہوئے
30:13چڑیا نے اپنے آپ کو
30:14اس کے
30:16قبیل کا حصہ
30:17محسوس کیا
30:17ان سب کے ساتھ
30:18ایسا کیا ہوا تھا
30:19کہ وہ یہاں
30:20اس چھت پر
30:20سمان میں چھپے بیٹھے ہیں
30:22چڑیا نے باری باری
30:23ان سب کو دیکھتے ہوئے
30:24بے حد ہم دردی سے سوچا
30:25نیچے گھر کے اندر
30:26بیٹھے پانی پیتے ہوئے
30:27خیر دن نے
30:28چند ہی منٹوں میں
30:28چڑیا کے ادھر مجودگی
30:29محسوس کہلی تھی
30:31چڑیا کی
30:32دنڈیا مچی تھی
30:33اور وہ نہیں ملی تھی
30:34کسی نے اسے چھت پر جاتے دیکھ
30:35اور وہاں جاکا
30:36ڈھونڈا
30:36اور وہ وہاں بھی نہیں تھی
30:38خیر دن پانی کا گلاہ چھوڑتا
30:40وہ پہ حد حواظ بخ تکی
30:41کہ عالم خود
30:42اسے چھت پر
30:42ڈھونڈنے پہنچا تھا
30:43چھت خالی تھی
30:44وہ چڑیا کے نانا نہ ہوتا
30:46تو اسے بھی
30:46چھت خالی ہی نظر آتی
30:48پر اس نے چڑیا
30:48اس خالی چھت پر بھی
30:49تلاش کرنا شلو کر دیا تھا
30:52چند منٹ لگے تھے
30:53اس کھڑکی کے
30:54اس ٹوٹے پٹ کے
30:55پیچھے سانس رکھے
30:56بے حصو حرکت
30:56بیٹھی چڑیا تک پہنچتے
30:58جو چھت پر خیر دن کے
30:59بار بھر پکارنے پر بھی
31:00برستی آنکھوں کے ساتھ
31:02اسی طرح چھپی بیٹھی رہی تھی
31:04پھر اس نے ایک سائے کو
31:05سورج کی روشنی کو
31:05درکتے دیکھ کر
31:07سر اٹھایا تھا
31:08خیر دن کبھی چڑیا کو
31:10اتنا بڑھا نہیں
31:11لگا تھا
31:12جتنا اسے اس دن لگا تھا
31:13بڑی داڑی
31:15ویشہ دادہ آنکھیں
31:16اور مل کے جئے کپڑے
31:17وہ اپنے نانا کو پہچان نہیں سکی
31:20وہ اتھولی ہے کہ
31:21کسی شخص سے کبھی واقف نہیں رہی تھی
31:22لیکن وہ پھر بھی
31:23خیر دن کو سر اٹھا کر دیکھتی رہی
31:25آنسوں سے بھری آنکھوں کے ساتھ
31:27اس کا اور خیر دن کا آخری آنس سامنا
31:29اس رات تب ہوا تھا
31:30جب اس نے اپنی چادر کے ساتھ
31:32اس کے برہنہ جسم کا لپیٹا تھا
31:34لیکن اس رات روتی پہ لگتی
31:35چڑیا سے اس نے کچھ کہا نہیں تھا
31:37خیر دن کے دل کو کسی چیز نے آری لے کر کٹا تھا
31:41یہ چڑیا کی آنسوں سے بھری آنکھیں
31:42اور ڈرہ سہمہ
31:43کامتا وجود نہیں تھا
31:45یہ آنکھوں میں جھلکنے والی ندامت تھی
31:47جس نے خیر دن کو مارا تھا
31:48کسی ندامت کچھ بھی کہے بغیر
31:52اس نے دونوں ہاتھ بڑھا کر
31:53چڑیا کو بوری سے اٹھا کر
31:55اپنی گود میں لے لیا
31:58پھر اس نے فرش پر بیٹھتے ہوئی
31:59چڑیا کو اپنے ساتھ لپٹا لیا
32:01نہ وہ رویا تھا
32:02نہ اس نے چڑیا سے کچھ کہا تھا
32:03نہ اس نے چڑیا سے کچھ پوچھا تھا
32:05وہ اسے بہت دیر تک اپنی تینے سے لپٹائے
32:07رہا تھا
32:08یوں جیسے اس کی تخلیف کو
32:09اسپنج کی طرح
32:13اس کے وجود سے نیچوڑ کر
32:14خودجذب کر لینا چاہتا ہو
32:15یوں جیسے کسی کی اکھڑتی سانس کو
32:18بحال کرنے کے لیے سے
32:19اکسیجن کی سپلائی دینے کی کوشش
32:21کری جا رہی ہو
32:22اور اس کی اس گرم جوش آگوش
32:24نے دونوں کام کیے تھے
32:26وہ تھٹھرتا کامتا
32:27سکرتا سہمان ننہ وجود
32:29جان بلبلی کی اس کیفیو سے
32:31نکلنے لگا تھا
32:33اس کی آنکھوں سے بھری آنکھیں
32:34خود بخود خوش کھونے لگی تھی
32:36چڑیا کو اس کا نانا
32:38دوبارہ مل گیا تھا
32:40اس سے علاق کر کے خیرزی نے
32:41سب سے پہلے اس کے بکھرے
32:42تو الجھے بال سلجھائے تھے
32:43ان ہیر پن کو
32:45ان کے بالوں سے نکالا تھا
32:46جو ان دین دنوں میں
32:47اس کے بالوں کو سلجھانے سے
32:48زیادہ الجھانے کا کام کر رہی تھی
32:50پونی میں پڑا
32:53پڑا
32:53ربر بینڈ پونی کے آخری سیرے پر
32:56آ چکا تھا
32:56تو چڑیا کے آدے سے زیادہ بال
32:58اس کی گریفتے سے آزاد
32:59بے ترطیب لٹوں کی شکل
33:01اختیار کر چکے تھے
33:02اس شات پر بیٹے خیرزی نے
33:03سب سے پہلے اس کے بکھرے بالوں کو
33:05سلجھائے
33:05اس کی چھوٹی سی پونی نوہ چھٹیا
33:07گون کر
33:07اس کی باقی لٹوں کو
33:08ہیر پن کے ساتھ
33:10دوبارہ جمعیا
33:10وہ جیسے چڑیا کو
33:11اب زندگی کا ایک اور
33:12بڑا گرد دے رہا تھا
33:14موہ پر چور کھانے کے بعد
33:15اندھے مو گرنے کے بعد
33:16ہتھیار ڈالنے کے بجائے
33:17اٹھ کر دوبارہ کھڑے ہونے کا
33:19اپنے پیروں پر
33:20اپنی حمد اور اپنی مرضی سے
33:21بالکل وہیں
33:22کھڑے ہونے کا
33:23یہاں گرائے گئے ہوں
33:24تو یہ تھی
33:25اکس مراز علی
33:26بڑی کیوریسٹی تھی
33:27اس سے ملنے کی مجھے
33:29آج بھی لاخر موقع مل ہی گیا
33:30رات پر دنر ختم ہونے کے بعد
33:31سونے کے لئے کپڑے
33:32تبدیل کرنے کے بعد
33:34شہر بانو نے
33:34واپس بیڈروم میں آتے ہوئے
33:35شہر دل سے کہا
33:36وہ بھی کپڑے تبدیل کر کے
33:37بھی کچھ دیر پہلے ہی
33:38آ کر بستر پر لیٹا تھا
33:40اور اس وقت
33:41اپنے سیل فون پر
33:42بڑی برک کرفتاری کے حال میں
33:44اپنے ٹیکٹ
33:45میسیجز دیکھنے
33:46اور ان کے جواب بھیجنے میں
33:47مصروف رہا
33:48اس نے شہر بانو کا تفسرہ سنا تھا
33:49لیکن اس تفسرے کے جواب میں
33:51کچھ نہیں کہا
33:52شہر بانو اپنے بستر پر
33:53سونے کے لیے
33:54لیٹنے کی بجائے کربٹ لے کر
33:55شہر دل کے پاس آگئے
33:56اور اس کے سینے پر ستر رکھتے
33:58اس نے مزید کہا
33:58اچھی ہے
33:59شہر دل نے جواب دیئے بغیر
34:01اس کے گز اپنا بازو
34:02ہمائل کر لیا
34:03لیکن وہ اب بھی
34:05اپنے سیل فون کے ساتھ ہی
34:06مصروف تھا
34:06شہر بانو کے لگا
34:07اس نے شاید
34:08آکتے کے بارے میں
34:09اس کا تفسرہ نہیں سنا
34:10شہر دل کے سیل فون والی
34:11کلائی اور نیچے بازو کی کونی
34:13تک پھیلے ہوئے تھے
34:14آپ بالوں کے گھنے روئیں
34:15کو اپنے ہاتھ کی
34:16نرم پوروں سے سلجاتے ہوئے
34:18شہر بانو نے ایک بر
34:19پھر اپنا تفسرہ دھرایا
34:20اس بر جواب آ گیا تھا
34:22ہم
34:23شہر بانو نے یہ ذرا سا سر
34:25اٹھا کر شہر دل سے کہا
34:26شہری اب تم مجھ سے بات کرو گے
34:29یا ابھی بھی کمیشنر
34:30کو ٹیکس کرتے رو گے
34:31اس کے انداز میں خف گی تھی
34:33میں سن رہا ہوں یار
34:34شہر دل نے مسکرا کر
34:36بہلانے والے انداز میں
34:37سیل فون سے اس کے ناک کی نوک
34:39تھپ تھپ آئی
34:40وہ ایک بار پھر فون کی طرف
34:41متوجہ ہو گیا تھا
34:42لگتا ہے تمہارے چیف نے
34:43نیا نیا ٹیکس کرنا سیکھا ہے
34:45پچھلے دو دن سے
34:46اس نئی مسئبتیں ناک میں
34:48دم کیا ہوا ہے
34:48شہر بانو وقت
34:49شہر دل اور کمیشنر کے
34:51درمیان رابطے کے
34:51ایسے ایک اور
34:52ذریعے سے تنگ آگئے تھی
34:54جو دو دن پہلے شروع ہوا تھا
34:55شہر دل اس کی بات پر
34:57مسکرا دیا
34:57چیف نے بلیک بیری لیا ہے
34:59نیا نیا
35:00اور ابھی اس کے فنکشن
35:01نہیں سمجھ پا رہا
35:02آج جنر پر بھی
35:03وہی سمجھاتا رہا ہوں
35:04انہیں
35:05اور ابھی وہی سمجھا رہا ہوں
35:06شہر بانو اس کے
35:07سوشل ورک کے بارے میں
35:08جان کا زیادہ خوش نہیں ہوئی تھی
35:10دو دن سے
35:12بھابی کو کیے جانے والے
35:14سارے میچزز بھی
35:22کم سے کم بھابی کو
35:24کوئی پرائیویٹ میسیج نہ کریں
35:25شہر بانو کا بیک سیار ہزی آگئی
35:27وہ کمیشنر کی ٹکنولوجی کے
35:29حوالے سے ان کمپیٹنس کے بارے میں
35:30آگاہ تھی
35:31تم نے یہ کہہ دیا ان سے
35:33اس نے ہستے پر شہر دل سے پوچھا
35:35ہاں کہا
35:35لیکن اس طرح نہیں کہا
35:37شہر دل بھی جواباً نسکرایا
35:38اب تک پہنچ نہیں گئے ہوں گے
35:40اس نے کمیشنر کے
35:42اپنے شہر میں پہنچنے کے
35:43حوالے سے پوچھا
35:44نہیں
35:44لیکن پہنچنے والے ہیں
35:46شہر دل اب بھی ٹیکس کر رہا تھا
35:47اب بس کرو نا
35:48شہر بانو جلائی
35:50ون لاس ٹیسٹ
35:52شہر دل نے بے ساکتہ کار پر
35:53چند لفوں کے بعد
35:54سیل فون بیڈ سائی ٹیبل پر ارد دیا
35:55کیا کہہ رہی ہیں دی تم
35:57شہر بانو کے گرد
35:58اپنے بازو ہائے حمائل کرتے ہوئے
36:00اس نے کہا
36:02اکسی کی بارے میں بات کر رہی دی
36:04شہر بانو نے
36:05بے سیار سر اٹھا کر
36:06شہر دل کی آنکھوں میں آنکھیں
36:08ڈال کر کہا
36:10یہ ہوں کیا ہوتا ہے
36:12اور کیا کہوں
36:12تاریخ تو تم پہلے ہی کہا رہی ہو
36:14شہر دل ہوں اس کے آئے تھا
36:15وہ جتنی اٹریکٹیو ہے
36:16میں حیران ہوں
36:17اب تک سنگل کہتے ہیں
36:18شادی کیوں نہیں کی
36:19اس نے ابھی تک
36:20وہ شہر دل سے یہ سوال
36:21نہیں کہنا چاہتی تھی
36:22لیکن اسے سمجھ نہیں آیا
36:23یہ سوال کیسے اس کی سبان پر آیا تھا
36:26رات کے پچھلے پہ
36:27جیسے اس کا لاشاور بولنے لگا تھا
36:29شہر دل کے شہرے سے
36:30چند انچ دور
36:31اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے
36:32اس نے شہر دل کو جیسے
36:33کسی دام ملانے کی کوشش کی تھی
36:35وہ اس سوال کا جواب
36:37اس کی زبان سے نہیں
36:37جیسے اس کی آنکھوں میں
36:38پڑھنا چاہتی تھی
36:40شہر دل اسے آنکھیں نہیں چرا سکا
36:42وہ اس سے کہ اتنے قریب تھی
36:44کہ آنکھیں چرا کر بھی
36:45اسے دوبارہ
36:46اس سے آنکھیں ملانی پڑتی
36:47اس کا ذاتی مسئلہ ہے
36:49میں انہیں کبھی پوچھا نہیں
36:50بے تاثر لہجے میں شہر دل نے
36:52اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے
36:53اپنے لاشاور کو بولنے نہیں دیا
36:55اس کی اور اکسے کے درمیان ہونے والا
36:57ہر سوال جواب صرف
36:58دو سامعین اور دو لوگوں کے لئے تھا
37:01اکس اور شہر دل کے لئے
37:02وہ اپنی اور اکسے کی
37:04کوئی ذاتی گفتگوک کے ہی نہیں دوراتا تھا
37:06کسی تیسرے چوتھر شخص کے سامنے نہیں
37:08یہ ان کے رشتے اور تعلق کا
37:10ایک انسیٹ رول تھا
37:12ایک دوسرے کا کوئی رات کسی سے شیر کرنا
37:15تو خیر ناممکنات میں سے تھا
37:17تم اور وہ
37:18تو آپس میں کافی کلوز ہو شاید
37:20تم نے بھی کبھی نہیں پوچھا
37:22لاشاور نے پھر ایک اور سوال کیا
37:24جو شاور چھپائے ہوئے تھا
37:26نہیں وہ فرکن چھپکا ہے
37:28بغیر شیر دل کو دیکھتی رہی
37:29وہ بھی اسی طرح دیکھ رہا تھا
37:31یہ بھی وہ جواب نہیں تھا
37:33جس کی اسے تبکت تھی
37:35نہ اس جواب کی
37:36نہ اسی کے اتنے مقتصر ہونے کی
37:38لاشاور اگلا سوال کرنے کے لیے
37:40تیار بیٹھا تھا
37:41جب اس نے شیر دل کو کہتے سنا
37:43I love you شیبی
37:44وہ اب اسی کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھے
37:47حق سے مراد علی سیکنڈز میں
37:49کہیں غائب ہو گئی تھی
37:50سو بار کہو
37:51اس نے مسکراتے ہوئے شیر دل کی تھوڑی
37:53کو اپنے ہونٹوں سے چھوٹے ہوئے کہا
37:55صرف سو بار شیر دل ہنسا
37:57تم زیادہ بار کہنا چاہتے ہو
37:59وہ اتنے شیر دل کے سینے پر
38:01اپنی عجیب سرشاری کی عالم میں
38:03اپنا ماسہ ٹکائے ہوئے
38:04اسے چھڑا
38:05نہیں تو
38:05شیر دل مسکراتے ہوئے سنجید ہوا
38:07نہیں
38:07وہ ایک دم اس سے الگ ہوئی
38:09ہاں وہ پھر ہسی
38:10تو پھر کہو
38:11after you ma'am
38:12وہ پھر ہسی
38:13I love you شیر دل
38:15شیر دل مسکراتے ہوئے
38:16میں نے تمہارے لابا کسی دوسرے مر سے محبت نہیں کی
38:19کر ہی نہیں سکتی
38:20اس کی گال چھوٹے ہوئے
38:21وہ اسی سرشاری کی عالم میں
38:22کہہ رہی تھی
38:23اور تم
38:24وہ جیسے اب وہی سب کچھ
38:25اس کی سبان سے سننا چاہتی تھی
38:27وہ نہیں جانتی تھی
38:28اس نے اپنے سوال سے
38:29شیر دل کو کیسی مشکل میں ڈال دیا تھا
38:31وہ دانستگی میں
38:32وہ ناز
38:33وہ ناز
38:34دانستگی میں
38:35اپنے اور اس کے بیج
38:36اکس مراد علی کو لے آئی تھی
38:38I love you شیوی
38:39شیر دل ایسے نازک مرحلوں سے
38:41بہت بار گزرا تھا
38:42اکس مراد علی سے
38:43بہت بار برچ کر
38:44گزرنے کی کوشش کی تھی
38:46اس نے
38:46لیکن اکس کو اپنے دل میں
38:47اس جگہ سے ہٹائے بغیر
38:49اور ہیلائے بغیر
38:50جہاں وہ تھی
38:50تو میری زندگی کی
38:52دو خوبصورت اور قیمتی
38:53ترین چیزوں میں سے ایک ہو
38:54I am incomplete without you
38:57شہر بانو مسکراتی
38:58وہ ہمیشہ اسے یہی کہا کرتا تھا
39:01اور وہ جانتی تھی
39:02وہ دوسری قیمتی
39:02اور خوبصورت چیز کون تھی
39:04مثال شیر دل
39:06دنیا کا کوئی مرد
39:07شیر دل جیسا نہیں تھا
39:08ہو ہی نہیں سکتا تھا
39:09اس کے سینے پر سر رکھے
39:10آنکھیں موندتے
39:11ہوئے شہر بانو نے سوچا
39:13وہ ٹھیک سوچ رہی تھی
39:13دنیا کا کوئی مرد
39:15شیر دل جیسا نہیں تھا
39:16ہو ہی نہیں سکتا تھا
39:17وہاں سے دو سو پچاس کلومیٹر دور
39:19اپنے گھر کے بیڈروم میں
39:21اپنے پر سے شیر دل کا دیا
39:23وٹی شوپے پر نکالتا ہوئے
39:24اکس مراد علی نے بھی
39:26یہی سوچا تھا
39:28تیری ہے زمین تیرا آسمان
39:30تو بڑا مہربان
39:31تو بکشش کر
39:32سبھی کا ہے
39:33تو سبھی تیرے ہیں
39:34خدا میرے
39:35تو بکشش کر
39:36باربیڈول کا دل خوشی تھے
39:38بلیوں اچھر رہا تھا
39:39وہ اگر اس وقت
39:40اسمبلی ایریا میں
39:40کھڑی نہ ہوتی
39:41تو چھلانگیں لگاتی
39:42جا کر چریہ سے لپڑ جاتی
39:44کہ ہفتوں کے بعد
39:45اس دن اس نے
39:46کمبائنڈ
39:47کمبائنڈ اسمبلی کے دوران
39:48پہلی بار دوبارہ
39:49چریہ کو دیکھا تھا
39:50اور وہ
39:51اور اسے وہ سب
39:52گاتے سنا تھا
39:52جسے گاتا سنتے ہوئے
39:54وہ پہلی بار
39:55چریہ کی عشق میں
39:56گرفتار ہوئی تھی
39:57وہ آواز ویسی ہی
39:58میٹھی تھی
39:59میٹھی مذر پرسوز
40:00ملائم اور پرحصر
40:01اور اسمبلی ایریا
40:02آج بھی اسی ٹرانس میں تھا
40:03جس ٹرانس میں
40:04چریہ کی آواز
40:05انہیں لے جاتی تھی
40:07اس دن بریک کے
40:08دوران بھار بیڈول
40:08بہت دن چریہ کی
40:09منتظر رہی
40:10بریک گزر گئی
40:11چریہ نہیں آئی
40:11اور جب وہ نہیں آئی
40:12تو وہ جیسے
40:13کچھ بے قراری کے
40:14عالم واتروم
40:15جانے کا بہانہ کر کے
40:16خود اس کی
40:17کلاس میں چلی ہی آئی تھی
40:18بار بیڈول
40:19کو اس کی کلاس
40:20کے دروازے میں
40:20نمودار ہوتے
40:21جب سب سے پہلے
40:22چریہ کی دوست
40:23نے دیکھا تھا
40:23وہ ہمیشہ کی طرح
40:24دروازے کے سامنے
40:25سے ایک بار گزری تھی
40:27دو بار گزری تھی
40:28اس نے اپنی آمد
40:29اور موجودگی
40:29کا احساس
40:30چریہ کو دلانے
40:31کی کوشش کی تھی
40:31ہمیشہ وہ یہی
40:32کیا کرتی تھی
40:33چریہ اسے بار بار
40:34اپنے دروازے کے
40:35سامنے سے گزرتے
40:36دیکھ کر
40:37کلاس ٹیچر سے
40:37کوئی بہانہ
40:38کر کے باہر آ جاتی
40:39تھی لیکن
40:39آ جیسا نہیں ہوا تھا
40:40بار بیڈول
40:41بار بار دروازے
40:42کے سامنے سے
40:43گزرت تھی رہی
40:44اور اپنی دوست
40:44کے احساس
40:45دلانے کے باوجود
40:46بھی
40:46چریہ نے ایک بار
40:47بھی گزر مرکہ
40:48دروازے کی طرف
40:48دیکھنے کی کوشش
40:49نہیں کی تھی
40:50نہ دروازے کی طرف
40:52دیکھنے کی کوشش
40:52نہ کلاس سے باہر جانے
40:53کا تردد
40:54کسی بدھ کی طرح
40:55بیٹھی وہ سامنے
40:56بلیک بورڈ کو دیکھتی
40:56رہی
40:57اور اپنے نوٹ بک میں
40:58کلاس ورگ
40:59اتارتی رہی
40:59ٹیچر کے
41:00ووڈ ساپ کرنے کے بعد
41:02بھی وہ گردن سیدھی
41:03کیے بلیک بورڈ
41:04کو بے مقصد دیستی رہی
41:05اور تک تک دیکھتی رہی
41:06جب بار بیڈول نے
41:07اس کی
41:07بہتنائی محسوس کر کے
41:08بڑی مایوسی کے عالم
41:10میں دروازے کے سامنے
41:11سے بار بار گزرنا
41:11چھوڑ دیا
41:12اور جب اس نے
41:13دروازے کے سامنے
41:14سے گزرنا چھوڑ دیا
41:14تو چریہ نے گردن
41:15مور کر پہلی بار
41:16دروازے کو
41:17رنجیدگی کے عالم
41:18میں دیکھا
41:20وہ کتنی بار
41:20دروازے کے سامنے
41:21سے گزری تھی
41:22دروازے کی طرف
41:23متوجہ نہ ہونے
41:23کے باوجود
41:24چریہ بتا سکتی تھی
41:26اور اب جب وہ
41:27باہر نہیں تھی
41:27تو کلاس کے اندر
41:28بیٹھے بیٹھے چریہ
41:29یہ بھی جانتی تھی
41:30وہ اور بار بیڈول
41:31کبھی فرنٹ نہیں
41:32بن سکتی تھی
41:32نہ وہ اور بار بیڈول
41:34نہ وہ اور ایبک
41:35بار بیڈول کی صبح
41:36جتنی خوشی اور
41:37سرچاری کے علم
41:38میں گزری تھی
41:39واقعی کا دن
41:40اتنی ہی اداسی میں
41:40گزرا تھا
41:41چریہ نے اس سے
41:42بات نہیں کی تھی
41:43اور اس بات
41:44نہ کرنے کی وجہ
41:45بار بیڈول کی
41:46سمجھ سے باہر دی
41:47اس نے اس دن
41:47گھر جا کر
41:48اپنی ممی کو
41:48سب سے پہلے
41:49چریہ کے بارے میں
41:50ہی بتایا تھا
41:51اس کی ممی چریہ کی
41:52واپسی کے بارے میں
41:53جانکہ چونکی تھی
41:54پھر اس نے
41:54موضوع بدلنے کی
41:55کوشش کی تھی
41:56لیکن وہ موضوع
41:56بدل نہیں سکھی تھی
41:58چریہ نے اس سے
41:59بات کیوں نہیں کی
41:59بار بیڈول کی
42:00زندگی کا اہم ترین
42:01لنچ ڈینر ہومورگ
42:03کہیں بہت پیچھے
42:04رہ گئے تھے
42:05اپنے باپ کی
42:05گھرانے پر بھی
42:06بار بیڈول نے
42:07اس سے سب سے پہلے
42:08چریہ کے بارے میں
42:08ہی بتایا تھا
42:09اور اس کے باپ کا
42:10رنگ جیسے فک ہو گیا
42:11تھا اور کچھ دیر
42:12چپ کا چپ بیٹھا
42:13رہ گیا تھا
42:14پھر اس نے بار بیڈول
42:15کو بہت تہک کمانا
42:16انداز میں کہا
42:17تو مائندہ کبھی
42:18چریہ سے نہیں ملوگی
42:19اور نہ ہی اس سے
42:19بات کرو گی
42:20نہ ہی اس کی
42:21کلاس میں جاؤ گی
42:22بار بیڈول
42:23باپ کا مو دیکھتی
42:24رہ گی تھی
42:24اسے باپ سے یہ
42:25سننے کی توقع نہیں
42:26تھی لیکن کیوں
42:27بار بیڈول نے
42:28حیران نظروں سے
42:29اپنے مقصود انداز میں
42:30باپ سے پوچھا
42:30وہ اسے کوئی جواب
42:32دیئے بغیر کچھ
42:33جنجلہر کے علامے
42:34وہاں سے چلا گیا
42:35چریہ کی واپتی
42:35کب ہوئی تھی
42:36اور کیوں ہوئی تھی
42:37اس کے لیے ایک نیا
42:38درد سر تھا
42:39خیر دین کے ساتھ
42:40مسالت کی شرطوں میں
42:41تھے ایک شرط یہ بھی
42:42تھی کہ وہ اب
42:42دوبارہ
42:44شہر نہیں آئے گا
42:45اوچریہ کی واپس آنے
42:46کا مطلب تھا
42:46کہ خیر دین
42:47ان شرائط کی خراب
42:48وردی کر رہا تھا
42:48لیکن بہت چلاکی
42:49اور ایک المندی
42:50دکھاتے دکھاتے بھی
42:51وہ ایک بے وکوفی
42:52کر گیا تھا
42:53کہ اتنے خیر دین
42:53کو بلیک میل کرنے
42:54کے لیے اس کے پاس
42:55کچھ نہیں چھوڑا تھا
42:56اس کی نوکری ختم ہو چکی تھی
42:57پینشن روک لی تھی
42:58اسے کسی بھی قسم کی
43:00سرکاری نوکری کے لیے
43:01ناہل قرار دے دیا گیا تھا
43:02اور اب اگر وہ خیر دین
43:03کو ایک بار پھر سے
43:04شہر چھوڑ دینے پر
43:05مجبور کرنے کی
43:06کوشش کرتا تو
43:07کسی چیز کی دھمکی
43:08دے کر کرتا
43:10مقدمے کا نئے سیرے سے
43:11آگاد اسے یقین تھا
43:12کہ دباؤں میں خیر دین
43:13نہیں آ سکتا تھا
43:14لے دیں کے باقی یہی بچا تھا
43:26کسی ایم این اے
43:27یا ایم پی اے کے پاس
43:28چلے جاتے ہیں
43:29تو اس کا دھڑن تختہ
43:30ہو سکتا تھا
43:31وہ جس کو
43:32اس نے بڑی صفائی
43:33لیکن بہت مشکل سے
43:34بوتل میں بند کیا تھا
43:35وہ دوبارہ آزاد ہو جاتا
43:36اور اس سے زیادہ
43:37کوفناک ثابت ہوتا
43:39جسنا وہ بوتل میں
43:40بند کرتے ہوئے تھا
43:40اس رات کے واقعات کی
43:42بات گشت
43:42وہ کان بند کیے ہوئے
43:44بھی بہت جگہوں پر سن رہا تھا
43:46اور اس کی وجہ
43:47ڈی سی ہاؤس کا حملہ تھا
43:48وہ ڈی سی کو
43:49سرب کرتے تھے
43:49لیکن ان کی ہمدردیاں
43:51خیردین کے ساتھ تھیں
43:52اور ڈی سی
43:52اس حقیقت سے واقع بھی تھا
43:54اور خائف بھی
43:56طاقت ہے
43:56وہ ان سب کو
43:57رسیاں تو ڈالے ہوئے تھا
43:58لیکن وہ
43:59لوئر میڈر کلاس سے آنے والے
44:00اس زمان تحت
44:01عملے کی نفسیات سے واقع تھا
44:02مالیوں اور
44:03ڈرائیوروں
44:03چوکی داروں
44:04خان ساماؤں
44:06اور ویٹرز
44:06اور دوسرے ملازموں میں
44:08پر مشتمل جی طبقہ
44:09کسی بھی افیسر کے لیے
44:10آس دین کا سامت
44:11ثابت ہو سکتا تھا
44:12ان کے بعد
44:13کسی بھی افیسر کی ساکھ
44:14کو خراب کرنے کے لیے
44:15زبان جیتا
44:15خاطر ناکہ تھیار تھا
44:16جس کا وار کبھی
44:17خطا نہیں جاتا تھا
44:19خیردین کے معاملے کی
44:20بات گشت کو
44:20ڈی سی
44:21صرف ڈی سی ہاؤس
44:22تک رکھنے کے لیے
44:22سرطور کوشش کر رہا تھا
44:24لیکن وہ جانتا تھا
44:24اندرونے کھانا شہر
44:26کہ جسے بہت سارے
44:27انتظامی افیسر کو
44:28اپنے مہتحت عملے کے
44:29توسط سے خیردین
44:30اور اس کے درمیان
44:31جھگری کی اصل نویت
44:32کا پتہ تھا
44:33اور اس تمام صورت حال میں
44:34خیردین کا دوبارہ
44:36نمودار ہو جانا
44:36اس کے لیے گلے کی
44:37ہڈی کے برابر تھا
44:38جسے وہ اگل سکتا تھا
44:40نہ نگل سکتا تھا
44:41اپنے ڈیسپیریشن
44:44اپنے ڈیسپیریشن میں
44:45اس نے خیردین پر
44:47ایک اور وار کرنے کی
44:48کوشش کی تھی
44:48اسے اندازہ نہیں تھا
44:49کہ اس کا وہ وار
44:50اس کے لیے کتنا
44:51تباہ کن ثابت ہونے والا تھا
44:52اس سارے مسئلے سے
44:53اتنی اور شہری سے
44:54جان چھڑا لینے کے بعد
44:55اس نے درنستگی میں
44:56اپنے ہاتھوں سے
44:57دوبارہ اپنے لی
44:57وہ جال بچھایا تھا
44:58جو اس کو لے
44:59ڈوبنے والا تھا
45:02میں بہت خوش ہوں
45:03اس نے فون پر چہیک
45:04تباہ اکس کو وہ بتایا
45:05and actually
45:06I'm happy for you
45:07تم آنا چاہتی تھی نا
45:08اس سریٹ پر
45:09تم زہر لگتے ہو
45:10اس طرح کی
45:11منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے
45:12شہردل
45:13صاحب صاحب کہو
45:14تمہاری دلی مراد بر آئی ہے
45:15بلکہ کیا کہوں
45:16لوٹری نکل آئی ہے تمہاری
45:18وہ اکسے کی بات پر
45:19برا منائے
45:20بغیر ڈھٹائی سے آسا تھا
45:21وہ جانتا تھا
45:21وہ جنجلائی ہوئی ہوگی
45:23صوبے میں غیر متوقع
45:24انتظامی اکھار پچھار کا
45:25طفان آیا تھا
45:26اور وہ دونوں
45:27بھی اس کی ضد میں آئے تھے
45:28اکسی کی پوسٹنگ
45:29شہردل سے زیادہ بڑے
45:30شہر میں تھی
45:31جو ڈویجن کا درجہ بھی
45:32رکھتا تھا
45:32اور اس کی وہاں
45:33تو شہردل کی تھیٹ پر
45:35تبدیلی کم از کم
45:35پرفیشنلی اکسے
45:36کوچھیں نہیں لے سکتی تھی
45:38یہ شہردل جانتا تھا
45:40اور وہ اس صورتحال سے
45:41محضوظ ہوا تھا
45:41وہ ڈی ایم جی کے قابل
45:43ترین آفیسرز میں سے تھے
45:45اور آپس کے تعلق کے
45:46باوجود پرفیشنلی
45:48ان دونوں کے درمیان
45:48کانٹے کا مقابلہ رہتا تھا
45:50ہمیشہ
45:51شہردل کا خیال تھا
45:53کہ اکسے بہت مواقع پر
45:54بہت جگہوں پر
45:55خوش قسمت رہی تھی
45:55اور قسمت کا ہی غیر
45:56متوقع ساتھ
45:58اکسے کے کریئر
45:58گراف کے مسلسل
45:59اوپر کی طرف
46:00سفر میں ایک سٹرونگ فیکٹر تھا
46:02اور اکسے کے بارے میں
46:03یہ رائے رکھنے والا
46:04وہ اس کے بیچ میٹس میں
46:06سے واحد نہیں تھا
46:07اور اب خوش قسمتی کی دیوی
46:09کا چند لمحوں کے لئے
46:09شہردل پر مہربان ہونا
46:11اس کے لئے نامت غیر
46:13مترقبہ بھی تھا
46:14دیکھو تم کو بھی خوش ہونا
46:18دیکھو تم کو بھی
46:19خوش ہونا چاہیے
46:20اپنے شہر میں پوسٹنگ کا
46:21موقع مل رہا ہے
46:22تمہیں کم ازاز کی بات ہے
46:24کیا
46:24وہ اسی طرح ہستے و اتمران سے
46:26کہہ رہا تھا
46:26شہردل تم کبھی مجھے
46:27اپنے سے کسی بہتر پوسٹ
46:29پر دیکھ نہیں سکتے
46:30اس نے شہردل کے بہلاوے سے
46:32بہلنے کی بجائے کہا
46:33تم دیکھ سکتی ہو
46:34شہردل نے جواباً کہا
46:36ہاں
46:36ریالی شاٹ آب
46:37اگ سے تمہیں شرب نہیں آئی
46:39اس طرح کی بات کرتے ہوئے
46:40تمہیں کہا پہلے یہ
46:42چلو ٹھیک ہے
46:45یہاں فون رکھ رہی
46:47چلو ٹھیک ہے میں فون رکھ رہی ہوں
46:49وہ بے حد
46:49اور خلاف معمول سنجیدہ
46:51تم کیا واقعی میری سیٹ پر آنا
46:53نہیں چاہتی تھی
46:54شہردل کو
46:55اس کے لہجے میں پہلی بار
46:56تشویش ہوئی تھی
46:57نہیں
46:57اس کا جواب دکٹو تھا
46:59کیوں
46:59وہ بھی سنجیدہ ہو
47:00یہ پہلی بار تھا
47:01کہ اس نے آگ سے گو
47:02کسی ٹاسک یا پوسٹ کے حوالے سے
47:04اتنا
47:08ریلونٹ دیکھا تھا
47:08بہت ساری وجوہ آتا
47:09کوئی ایک تو بتا دو
47:11وہ واقعی حیران تھا
47:12چلو خیر اب کیا ہو سکتا ہے
47:14پوسٹنگ ہو گئی ہے
47:15تو سیٹ تو سمال نہیں پڑے گی
47:17شہردل کو محسوس ہوں
47:18اس نے بات بدلی تھی
47:19ترسٹ می
47:20اس پوسٹنگ اور ٹرانسفر میں
47:21میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے
47:22تم کو پتا ہے
47:23میں کبھی
47:24ٹینئور پوری کیے
47:26بغیر ان امرجنسی
47:27ٹرانسفر کے حق میں نہیں رہا
47:28میں نے تو پتا نہیں
47:29کیا کیا شروع کروایا ہے
47:30یہاں
47:31اس بجڑ کے بعد
47:32ہر چیز کا کریٹٹم لے جاؤ گی
47:34شہردل
47:34ایک ہی جملے میں
47:35سنجیدہ ہو
47:36اور پھر فکر مند
47:37اکس کو ہسی آئی
47:38اور وہ جانتی تھی
47:39یہ فکر مندی
47:40مصنوع نہیں تھی
47:40شہردل کو
47:41ٹرانسفر آرڈر آتے ہی
47:42سب سے پہلے
47:43یہی پشتاوہ لگا ہوا تھا
47:44کہ اس کی محنت کا پھل
47:45کوئی اور کھانے والا تھا
47:46ایک سال میں
47:47ایسے بھی کیا تیر مار لیا ہوں گے
47:48تم نے
47:49ہنسلہ رکھا کرو
47:50دل بڑھا کرو
47:51اپنا
47:52اس کے تفسرے کا
47:53نظر انداز کرتا ہے
47:54شہردل نے
47:54اسے اچانک خیال
47:55آنے پر پوچھا
47:59اکس تم نے
48:00کنونٹیرین ہو
48:01اکس تم کنونٹیرین
48:03کنونٹیرین ہو
48:04وہ اس کے سوال پر
48:05چند لگوں کے لیے
48:06تھڑکی ہے
48:06پھر اس نے کہا
48:07ہاں
48:07تم کیوں پوچھ رہے ہو
48:08مثال کے اسکول
48:10جا تھا
48:11وہاں پرنسپل آفیس میں
48:12رول آف آنر پر
48:13تمہارا نام دیکھا
48:14پہلے تو
48:14کبھی میں نے
48:15غور نہیں کیا تھا
48:16اس بار اتفاقا
48:17اسے دیکھتے ہوئے
48:18تمہارے نام پر
48:18نظر پڑ گی میری
48:19شہردل نے اسے بتایا
48:21ویسے تمہیں
48:21اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے
48:22بتا رہا ہوں
48:23کہ تمہارا ریکارڈ
48:24ابھی تک
48:24ٹوٹا نہیں ہے
48:26آگر اس کی بات پر
48:27مسکر آ دی
48:27اچھا نہیں ٹوٹا
48:28ٹوٹ جائے گا
48:29ہر ریکارڈ
48:30کسی نہ کسی نشانے
48:31کی ذت میں ہوتا ہے
48:31کون پرنسپل ہے
48:32آج
48:34کل وہاں
48:35اس نے دلچسپی لیتے ہوئے
48:36کہا
48:36سسٹر ایگنس ہے
48:39گریٹ
48:39تو مثال
48:40کو بھی
48:41تم نے وہیں
48:42ایڈمٹ کروایا ہوا ہے
48:43اس نے پوچھا
48:43ہاں
48:44شہردلوں کا
48:45نونٹ کے علاوہ
48:46کہیں اور بھیڑنے پر
48:47تیار نہیں ہوئی
48:48ورنہ میں کچھ
48:49اور ٹرائے کرنا چاہتا تھا
48:50اس کے لیے
48:51اکس دلچسپی لیتے ہوئے
48:52اس کی بات سنتی رہی
48:53وہ مثال کے ساتھ
48:54شہردل کی گہری جذباتی
48:55وبستگی سے واقع تھے
48:57مثال
48:58شہردل کی کمزوریوں میں سے
48:59ایک تھی
48:59اور وہ
49:00ان موضوعات میں سے
49:01ایک تھی
49:01جس پر بات کرتا ہے
49:02شہردل کسی کو بھی
49:04بور کر سکتا تھا
49:05اکس کے علاوہ
49:06وہ دلچسپی تھی
49:07شہردل کی باتیں
49:08سنتی رہتی
49:08تو رسکی باتیں
49:09سنتے ہو
49:09اسے اکثر احساس ہوتا
49:11کہ وہ قابل رشت
49:11حد تک اچھا باپ تھا
49:13اور وہ کئی بار
49:14شہردل کو یہ بتائے
49:15بغیر نہیں رہ سکی
49:16وہ ہر بار جوابا
49:17مسکرہ دیتا تھا
49:18تمہیں پاتا ہے
49:19سب سے بڑا فائدہ
49:19تمہیں میری سیڈ پر آ کر
49:21کیا ہونے والا ہے
49:21شہردل بات کرتے کرتا ہے
49:23اچانک والا
49:24اکس کو
49:24موضوع گفتگو کی
49:25اسے
49:26ابرپٹ تبدیلی سے
49:27حیرانی نہیں ہوئی
49:28وہ جب سے شہردل کو جانتی
49:30تو ایسا ہی تھا
49:31ایک ایشو پر بات کرتے کرتے
49:32اس کی ذہنی رو
49:34پتہ نہیں کہاں پلٹا کھا جاتی
49:36بہت سنجیدہ باتیں کرتے ہوئے
49:37وہ اچانک درمیان میں
49:38ایک انتہائی احمقانہ بات
49:40بڑی سنجیدگی سے کر دیتا
49:41اور کبھی انتہائی احمقانہ
49:43باتیں کرتے ہوئے
49:44سنیری حروف میں لکھے جانے والی
49:45کوئی بات کہہ دیتا
49:46اکس اس کے چہرے اور ذہن کو
49:48کسی
49:49فیزک کی طرح پڑتی تھی
49:51کیا
49:51تمہیں ایک شاندر گھر ملنے والا ہے
49:54well decorated
49:55well maintained
49:55شیئر بانو اور میں نے جان لگا دیا
49:57اس دودھ بنگلے کو
49:58اس حالت میں پہنچانا میں
50:00جس میں تم نے یہیسے دیکھا ہوگا
50:01اچھا مقتصر جواب آیا
50:03اور بڑی مزے کی بات بھی ہے
50:05گھر کے بارے میں
50:06شیئر دیل کو جانا
50:07اس پر ایک اور انکشاف کرنے کا خیال ہے
50:09کیا
50:09حاکس نے اسی انداز میں
50:11excited ہوئے بغیر کا
50:12اس دھر کے بارے میں
50:13بہت ساری myths ہیں
50:14پہلی یہ کہ یہاں بونے ہیں
50:15اور دوسری یہ کہ
50:16یہاں رہنے والا
50:17کوئی کپل اکٹھا نہیں رہ سکتا
50:18وہ ضرور الگ
50:19یا کتی ہاتھے کا شکار ہو جاتے ہیں
50:22اگر چیف نے یہ کام کروانے کی
50:23بڑی کوشش کی ہے
50:24لیکن کچھ ہوا نہیں
50:25ورنہ کچھ ہو جاتا
50:26تو میری پوری خواہش ہوتی
50:28کہ تم اور
50:29جواد مل ہی بھی
50:29شادی کے بعد دیتی گھر میں رہتے
50:31اس کے انتہائی سنجید کی سے
50:32کہ ہی بات پر کھل کھلا گھرا دے
50:34تم کتنے مین ہو
50:36شیئر دیل
50:36ہمیشہ سے تھا
50:37اس نے برجتہ کہا
50:38ویسے یہ پہلی مت
50:39کوئی مت نہیں ہے
50:40یہاں واقعی کچھ نہ کچھ ہے
50:43لیکن وہ کسی کو بھی
50:44نقصان نہیں پہنچاتا
50:45شیئر دیل کو
50:46اس سے بات کرنے کے بعد
50:47اچانک خیال آیا تھا
50:48کہ شاید اس نے
50:49کسی ماکوف الفطرت چیز
50:50کا ذکر کر کے
50:51کچھ گلتی کی تھی
50:52کیونکہ آگ سے
50:53وہ اس گھر میں کیلہ رہنا تھا
50:54لیکن پھر اسے خیال آیا تھا
50:55کہ وہ گلتی
50:56کوئی اتنی سنگین نہیں تھی
50:57وہ جس ورہ سے
50:58بات کر رہا تھا
50:59اس نے کم از کم
51:01اپنے سامنے اکیڈمی
51:02کے تمام عرصہ
51:03کہ دوران کسی چیز
51:04سے خائف نہیں دیکھا تھا
51:05اس کا نرم و نازف
51:06سرابہ آہنی اصاب
51:07رکھتا تھا
51:08وہ اسے اکیڈمی میں
51:09پہلی پر متاثر بھی
51:10ایسی ہی کسی چیز سے
51:11ہوا تھا
51:12اکیڈمی کے دنوں میں
51:13کسی سٹیڈی ٹور
51:14کے سلسلے میں
51:14وہ لوگ قلعے
51:15روح تاس گئے تھے
51:17وہاں سے واقسی پر
51:18انہوں نے ایک سرکاری
51:18رسٹ ہاؤٹ میں لنچ کیا تھا
51:20لنچ اب یہ رہی نہیں ہوا تھا
51:21اور اس کی انتظامات
51:22دیکھنے کے لیے ہی
51:23کچن میں دوسرے کامن
51:26کامنرز کے ساتھ
51:27اس نے کچن کا ویزر کیا تھا
51:28اور کچن سے ملحقہ
51:29ڈائننگ ہال میں گھومتے
51:30وہ انہیں پتا چلا
51:32تو وہاں کی ازادی تھی
51:33اور سیول سرویس اکیڈمی میں
51:34زیرہ تربیت
51:44اس رسٹ ہاؤٹ میں
51:45گھومنے پھننے کی ازادی
51:46بے تقلقی میں سے
51:47یہ پڑھ تھا
51:48کہ وہ ان دونوں کی طرح
51:50پوچھتے کہ پیچھے ہاتھ
51:51باندھ کر ایدھر سے
51:51ایدھر نہیں جا رہے تھے
51:52ورنہ انہوں نے کامت کام
51:53اس رسٹ ہاؤٹ میں
51:54انسان نامی شہصے
51:55تو کوئی خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا
51:57جسے تمنان و سکون سے
51:58وہ تمام چھوئے
51:59ان سب کی موجودگی کے باوجود
52:01اپنی روز مرک کی سرگرمی میں
52:03مشغول تھے
52:04ان پر کام نرز کی
52:05کو رشت کر رہا تھا
52:06اور رشت کی اس قیفت کے دوران ہی
52:08مرد کام نرز میں سے
52:10کسی نے ان چوہوں میں سے
52:11کسی ایک کو پکڑ کر
52:12لڑکیوں کو خوف دزا کرنے کا
52:13منصوبہ بنایا تھا
52:15شہدل ویسے تو
52:16اس طرح کے پریکٹیکل جوکس میں
52:18شامل نہیں ہوتا تھا
52:19لیکن اس دن یہ آگ سے
52:20کو دوسری لڑکیوں کے ساتھ
52:21رسٹ ہاؤٹ میں
52:21ڈرتا ہوا بھاگتے ہوئے
52:22دیکھنے کی خواہش تھی
52:23جس نے اسے بھی
52:24اس پریکٹیکل جوک
52:26کا حصہ بنا دیا تھا
52:27چند چوہوں پر
52:28رشت کے ملازمین کی
52:29مدد سے بڑی آسانی سے
52:30کپڑا ڈال کر کابو پایا گیا تھا
52:32اور اس کے بعد انہیں
52:33ایک تھیلے نما بیک میں
52:34منتقل کر دیا گیا
52:35لانچ کے بعد جب سب لوگ
52:37سویڈ ڈیش سے محضوظ ہو رہے
52:38تو دیکھ کام نرز نے
52:39بڑے دمنان کے عالم میں
52:40ٹیبل کے ایک ہونے پر
52:41بڑی احتیاط سے
52:43بڑی احتیاط سے
52:43باری باری دو تین چوہیں
52:45چھوڑ دیئے تھے
52:45دائننگ ہال میں
52:46دو تین ڈائننگ ٹیبلز کو
52:47جو اور کے بہت لمبی چوڑی
52:49کھانے کی ٹیبلز سجائے گئی تھی
52:50جس کے ایک سیرے سے
52:51چوہوں نے بھاگنا شروع کیا
52:53شروع کی چند قدموں کے بعد
52:55انہوں نے ٹیبل کے اطراف سے
52:56نکلنے کی کوشش کی
52:57لیکن دون اطراف میں
52:58لوگوں کی کتاروں کو دیکھ کر
53:00وہ کسی رکاوٹوں والی
53:02ریس میں شریک کھلا رہی
53:03کی طرف بلکل سیدھا
53:04بھاگنے لگے تھے
53:05ڈونگوں چمچوں پلیٹوں
53:06ڈیشت کی
53:07رکاوٹوں کو برکر
53:08افتاری اور ہشاری سے
53:09پھلانگتے ہوئے
53:10ان چوہوں کے اچانک
53:11کہیں سے نمودار ہو جانے پر
53:12وہاں بیٹھے
53:12باکستان کے مستقبل کی
53:14اسٹیبلشمنٹ کو پہلے
53:15سکتا ہوا
53:16پھر ان میں سے
53:16سراس مگی
53:17پھیلی اور پھر
53:19ہڑ بونگ
53:20اور چھکو پکار
53:21کا غازو
53:21اور بھانگنے
53:22اور بھاگنے والوں میں
53:23پہلی صرف میں
53:24وہ مرض کامنر
53:25تھے جنہیں
53:26اس منصوبے سے
53:27لا علم رکھا گیا تھا
53:28خواتین سے تو خیر چوہ
53:29نظر آنے پر
53:30اس کے علاوہ
53:30کسی اور رد عمر کی
53:31توقع کی نہیں جا سکتی تھی
53:34کرسیاں الٹی
53:35چمچ پلیٹیں
53:37اور گلاس گھراتی
53:38بیگز اور سینڈرز
53:39کو پھینکتی
53:40ربٹوں سے
53:40علجتی
53:41چھکو پکار کے
53:42کورس کے ساتھ
53:43ایک منٹ سے بھی
53:44کام مرسے میں
53:45تمام خواتین
53:46کامنرز کامنرز
53:46کامنرے سے باہر تھی
53:47مرض کامنرز
53:48ان سے پہلے ہی
53:49بھاگ چکے تھے
53:50ہال میں اب حسی سے
53:51دھورے ہوتے ہوئے
53:52ٹیبل کے ایک سیرے پر
53:53کھڑے دو
53:53چند کامنرز تھے
53:54جو اس پریکٹیکل
53:55جوک کے خالق تھے
53:56یہ ٹیبل کے بلکہ درمیان
53:57ایک کرسی پر
53:58کسٹرڈ پوڈنگ کا
53:59ایک پیالہ ہاتھ میں
54:00لیے بیٹھی
54:00اکس مراد علی تھی
54:01جس کے سامنے سے
54:02اب وہ چوہے
54:03بھاگتے پر گزرے
54:04تو اس وقت
54:05کسٹرڈ پوڈنگ کے آخری
54:06چند چمد لے رہی تھی
54:08جب وہ اس نے
54:09ٹیبل کے دہینی طرف
54:10چیخوں کو کار کے ساتھ
54:11افراد تفریق دیکھی
54:11اور اس افراد تفریق کے
54:13نویت جاننے کے لیے
54:13ٹیبل پر کچھ آگے
54:15کو جھک کر کر در موڑ کر
54:16انہوں نے دہینی طرف کی
54:17میز کے حصے کو دیکھا
54:18اور تب اس نے
54:19پہلی با ٹیبل پر
54:20بے حد تیزیز حرکت کرتی
54:21ان منہنی
54:23چیزی چیزوں
54:25اور ان چیزوں کے
54:26بیک گرانڈ میں
54:26کھڑے حسی سے بے حال
54:28شیر دل
54:28اور چند دوسرے
54:29کامنرز کو دیکھا
54:30سورہ تیل کو سمجھے
54:31بگا ہے جو پہلا کام
54:32اس نے کیا تو
54:33انہائے سرات
54:34اور سکون کے ساتھ
54:34سوری جش کا اپنا پیالہ
54:35اٹھانا
54:36اسے اندازہ نہیں تھا
54:38کہ اس کی حرکت
54:39نے کسی کو حیرانی تھا
54:40پہلا جھڑکہ دیا تھا
54:41جہاں پلیٹیں
54:42چمچ پلیٹیں
54:43اور گلاس گرائے
54:44اور چھوڑ کر
54:44بھاگا جا رہا تھا
54:46وہاں وہ بڑے
54:46تمنان کے ساتھ
54:47میز پر بھاگتے
54:48چوہوں کو
54:48کسٹر پوڈن کھاتے
54:49وے دیکھنے لگی تھی
54:50یوں جیسے وہ
54:52جیسے وہ
54:55مبلڈن کے
54:55سینٹر کورٹ میں
54:56رائل گیلری میں
54:57بیٹھی گرینڈ
54:58اسلام کا
54:59وہ فائنل دیکھ رہی تھی
55:00شیر دل
55:01اس کے سنداز کے لیے
55:02اس سے اچھی
55:03انالوگی
55:04انالوگی نہیں
55:05لا سکتا تھا
55:06اکس نے
55:06اس کی امیدوں پر
55:07گھڑوں پانی ڈالا تھا
55:08اس کے سامنے
55:09ٹیبل پر پڑے
55:09کسٹر پوڈن کے
55:10ایک باول کو
55:10خود کو
55:12سپائٹر مین
55:13سمجھنے والے
55:13ایک چوہے نے
55:14پھلانگنے کی کوشش
55:15کے اور اس کوشش
55:15کا دران وہ
55:16اس پر پلیٹ سے
55:17گھڑپ سے
55:18باول کے اندر گرا
55:19جس پر سے
55:19وہ ہوا میں
55:20شلانگ لگا
55:20کے بلاند ہوا
55:21اور پوڈن کے
55:21چند چیٹے
55:22باہر آ کر گرے
55:23اور وہ بز
55:24ہواسی کی آلہ میں
55:25اس پوڈنگ سے
55:25نکلنے کے لیے
55:26پوری طرح
55:26ہاتھ مہمانے لگا
55:28جو اس وقت
55:29اس کے لیے
55:29دلدل ثابت ہو رہی
55:30تھی اور اس کے
55:30سامنے بیٹی شہد
55:31کی دلدل نے
55:32بے حد ہمدرزی
55:33سے اسے دیکھا تھا
55:34اپنے ہاتھ میں
55:35پکڑے پیالے میں
55:36موجود پوڈنگ کا
55:37آخری چمر بڑے
55:37سپور سکون انداز
55:39میں موہ میں
55:39ڈالتے ہوئے
55:39شیر دل نے
55:40اکس کو
55:40پوڈنگ کا پیالا
55:42میز پر رکھتے ہوئے
55:42دیکھا پھر اسی
55:43سکون کے ساتھ
55:44اس نے ہاتھ بڑھا کر
55:45سرونگ سکون کے ساتھ
55:47لج لجی
55:49پوڈنگ سے
55:50نبردازمہ چوہے
55:51کو بول سے نکالا
55:52اور بہتحاد
55:53احتیاط کے ساتھ
55:53ٹیبل پر چھوڑ دیا
56:05اسی دکیل کر
56:06ہال سے
56:06چہل قدمی کے انداز میں
56:07بہر گئی تھی
56:08وہ اپنے جس
56:09کمپورجر کے لیے
56:10گروپ کو
56:11ٹاسک کے دوران
56:12مشہور تھی
56:12وہ کمپورجر
56:13آج بھی
56:14حواس باقتگی میں
56:16تبدیل نہیں ہوا تھا
56:17شیر دل کو
56:17اگر اکس مراد علی
56:18کو ایک چوہا
56:19دیکھ کر
56:20بھاگتا نظر آنے
56:21کی تمنہ تھی
56:21تو وہ تمنہ
56:22پوری نہیں ہوئی تھی
56:24اپنے حواس اور
56:25اسہ پر قابو رکھنے
56:26کا
56:26اس سے بے سرین
56:27ڈسپلے شیر دینے
56:28کسی عورت میں
56:29نہیں دیکھا تھا
56:30آج کے لیے
56:31اتنا ہی نیکس اپیسر
56:32لیچر پھیر آنگی
56:33تب تک کے لیے
56:33اللہ حافظ
Comments

Recommended