Skip to playerSkip to main content
#cousin_marriage #sairastories #bold_romantic #audionovelurdu #digitalbookslibrary #urdunovel #loveurdunovel #novelinurdu #novels #romanticnovel
#pakeezahstory
#urduromanticnovelonforcedmarriage 
#audionovelurdu #digitalbookslibrary #khanstudio #novelpoint #novelwalibaji #sairastories #yamanevanovel #novels
#simislife
#sairastories

#UrduRomanticNovel
#UrduKahani
#Novels
#Simislife
#khuwabonkajahan #romanticnovel #romanticurdunovel #urdunovel #cousin_marriage #bold_romantic #novelinurdu #loveurdunovel #ytstudo #viralurdunovel2024 #newurdinovel
#conpletenovelromantic
#hearttouchingnovelsinurdu
‎#pakeezahstory
#urduromanticnovelonforcedmarriage 
#audionovelurdu #digitalbookslibrary #khanstudio #novelpoint #novelwalibaji #sairastories #yamanevanovel #novels
#simislife
#sairastories

#UrduRomanticNovel
#UrduKahani
#Novels
#Simislife
#khuwabonkajahan #romanticnovel #romanticurdunovel #urdunovel #cousin_marriage #bold_romantic #novelinurdu #loveurdunovel #ytstudo #viralurdunovel2024 #newurdinovel
#conpletenovelromantic
#hearttouchingnovelsinurdu

"Copyright Disclaimer under Section 107 of the copyright act 1976, allowance is made for fair use for purposes such as criticism, comment, news reporting, scholarship, and research. Fair use is a use permitted by copyright statute that might otherwise be infringing. Non-profit, educational or personal use tips the balance in favour of fair use.

pakeezah stories, moral stories, emotional stories, real sachi kahaniyan, heart touching stories, romantic stories, love stories, true story, written story, text story, new moral story, top urdu kahani, digest stories, bed time stories, soothing voice story, short stories, saas bahi kahaniyan, suvichar kahaniyan, achay vichar kahani, kahani ghar ghar ki, daily stories, teen ortain teen kahaniyan, 3 ortain 3 kahaniyan, hindi motivational stories, voice, Chota Dulha, romantic novels, romantic novels in urdu, urdu novels, urdu novel, romantic urdu novels, urdu romantic novels, romance novels in urdu, story, urdu story, story in urdu, love, love story, love story in urdu, romantic novels to read, urdu romantic novel, novels, novel, hindi stories, hindi kahani, hindi story, most romantic novels, best urdu novels
urdu novels online
read urdu novels online
 novels point
Gold Studio, Jannat ka pattay, Novel Point, Novel ka khazana, Urdu Complete Noval, Urdu Novel Platforn, Urdu Novel World, Urdu Novel library, Urdu novel Bank, Urdu novel shiddat e Ishq, Urdu novel story, best urdu novels, novel TV, novel addiction, novel by noor asif, novel forever, novel library, novel urdu library, novels in urdu, romantic novels in urdu, romantic urdu novels, sabaq Amooz kahanian, top urdu novels, urdu novel World, urdu novels, urdu novels online

#khuwabonkajahan #romanticnovel #romanticurdunovel #urdunovel #cousin_marriage #bold_romantic #novelinurdu #loveurdunovel #ytstudo #viralurdunovel2024 #newurdinovel
#pakeezahstory #audionovelurdu #khanstudio

Category

People
Transcript
00:00:00السلام علیکم ویورز کیسے ہیں آپ سب لوگ
00:00:03آئی ہوپ کہ آپ سب لوگ بالکل ٹھیک ہوں گے
00:00:05اور اپنے لائف میں خوش ہوں گے
00:00:07تو آئیے شروع کرتے ہیں آج کے نوول
00:00:09انتہائی عشق کی نیکس اپیسوڈ
00:00:11جو کہ بنتی ہے تھرٹین
00:00:13تیرہویں اپیسوڈ بنتی ہے
00:00:14اور اس کے لکھنے والی رائٹر کا نام ہے
00:00:18عریشہ
00:00:18بہتی کمال کا نوول ہے بہت مزے کا نوول ہے
00:00:21آپ لوگ اس کو پڑھیں گے تو بہت
00:00:22مزا آنے والا ہے دیکھیں یہ نوہ ہے
00:00:30سنیں گے تو ایک انٹریس بن جائے گا
00:00:32آپ کا تو آپ کو پڑھنے اور سننے میں بہت زیادہ مزا آئے گا
00:00:34اور پتہ بھی نہیں چلے گا
00:00:35کہ یہ نوول کتنا لمبا ہے
00:00:37تو آئیے شروع کرتے ہیں آج کا نوول
00:00:40نیکس اپیسوڈ جی
00:00:41تو اب ہم شروع کر رہے ہیں پریزنٹ تھے
00:00:44حال آ گیا یہاں پہ
00:00:45پہلے پچھلی کہانی چل رہی تھی
00:00:47کہ بیکگرونڈ میں کیا ہوا
00:00:48تو اب وہ پریزنٹ میں موجود ہیں
00:00:51حال میں موجود ہیں تو آئیے شروع کرتے ہیں
00:00:53اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بے رہے تھے
00:00:57اپنے گھر بار تباہ ہونے کی کہانی سنتے وہ
00:00:59وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا
00:01:01لیکن پھر بھی خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا
00:01:03جبکہ دل نے تو خود کو سنبھالنے کی کوشش بھی نہ کی
00:01:06وہ ٹوٹتے بکھرتے دادو سائن کی سینے سے آ لگی
00:01:10کہنے کو کہانی ختم ہو چکی تھی
00:01:11لیکن پھر بھی بہت کچھ باقی تھا
00:01:14وہ خاموش نظروں سے دادو سائن کو دیکھ رہا تھا
00:01:18جیسے سے یقین تھا ابھی بہت کچھ بتانا باقی ہے
00:01:21دادو سائن ایک نظر اس کے چہرے پر دیکھا پھر بولی
00:01:24تائشہ کو یقین ہے یہ سب کچھ منیر اور اس کے بھائی سغیر نے کیا ہے
00:01:28اس واقعے کے بعد وہ لوگ غائب ہو چکے تھے
00:01:31کہاں گئے کوئی نہیں جانتا تھا
00:01:33لیکن ہم لوگ پولیس میں کیس کرنا چاہتے تھے
00:01:36جب ایک گون والوں کا کہنا تھا
00:01:38کہ انہوں نے بحرام کو آگ لگاتے دیکھا ہے
00:01:41جبکہ کچھ لوگ دائم کو اشک کی نظر سے دیکھتے ہوئے
00:01:45اسے بھی قانون کے حوالے کر کے اس کا بچپن تباہ کر چکے تھے
00:01:48اس وقت مجھے ان سب باتوں کا ہوش نہیں تھا
00:01:51پتا تھا تو بس اتنا کہ میرا سب کچھ تباہ ہو چکا ہے
00:01:54دائم کے بارے میں تو میں نے سوچا ہی نہیں
00:01:58میں اپنے رشتوں کو کھو کر ٹوٹ چکی تھی
00:02:00میں تمہیں بھی نہیں بچا پائی بحرام
00:02:02میں تمہارے لیے لڑ بھی نہیں پائی
00:02:04احمد شاہ بہت لڑا
00:02:06لیکن گاؤں والے تمہارے خلاف ہو چکے تھے
00:02:08اور دائم کے بھی
00:02:10لیکن بعد میں ایک بات میں نے سوچی
00:02:12کہ مانا کے حق لگانے والا منیر اور صغیر تھے
00:02:16لیکن مقدم کو گولیوں سے چھلنی کرنے والا کون تھا
00:02:19دادو سائی نے کہتے ہو ایک نظر بحرام کی طرف دیکھا
00:02:23جس کے چہرے پر حیرانگی تھی
00:02:25یہ تو صرف منیر اور صغیر ہی بتا سکتے ہیں
00:02:28دادو سائی اور ان سے میں اپنے طریقے سے پوچھوں گا
00:02:32مجھے یقین ہے میرے دادو سائی کو آگ میں جلائے
00:02:35کے بعد اسی نے میرے باپ پر گولیاں چلائی ہوں گی
00:02:38اور آپ فکر نہ کریں وہ ہر بات کا حساب دے گا
00:02:41میں اس کے خلاف ثبوت ڈھونڈوں گا
00:02:44میں گاؤں واپس لاؤں گا
00:02:46کیونکہ میرے اپنوں کو بورباد کر کے
00:02:48میرا خاندان تباہ کر کے
00:02:49جس طرح سے وہ لوگ آزادی سے گھوم رہے ہیں
00:02:52انہیں اس طرح سے چین کی زندگی جینے نہیں دوں گا
00:02:55یعنی میرے خاندان کی موت کا حساب چکانا ہوگا
00:02:57وہ انتہائی غصے سے کہتے ہوئے وہاں سے اٹھا تھا
00:03:01جبکہ دل اب بھی دادو سائی کی سینے سے لگی رو رہی
00:03:05وہ بھی چاہتی تھی کہ اس کے ماں باپ کے گناہ گاروں کو
00:03:07سخت سے سخت سے سزا لے
00:03:09جس کے لئے وہ بھی بحرام کے ہر قدم پر اس کے ساتھ تھی
00:03:13کل صبح وہ لوگ یہ گھر بدر رہے تھے
00:03:15بحرام نے اپنا گھر لیا تھا جس کا نام اتنے
00:03:17دل بحرام رکھا تھا
00:03:19جب وہ اپنی دل اور دادو سائی کو لے کر جانا چاہتا تھا
00:03:23وہ گھر اس نے دل کے نام کیا تھا
00:03:25اور شادی کے بعد گھر ہی وہ
00:03:27اسے تحفے میں دینے والا تھا
00:03:28یہ ساری باتیں
00:03:29اتنے دادو سائی نے یہاں سے گاؤں جانے سے پہلے بتائی تھی
00:03:33گن کا اس نے کوئی اثر نہ لیا
00:03:36لیکن اسے پتا تھا کہ کل وہ لوگ یہاں سے جا رہے ہیں
00:03:39ذریش کی آنکھیں
00:03:41ذریش کی آنکھ کھلی تو وہ پوری طرح سے
00:03:44شازم کی باہوں میں کید تھی
00:03:45اپنی گردن پر اس کی گرم سانسوں کا دہکتا
00:03:50لمس محسوس کرتے ہوئے کل کی رات
00:03:52کسی فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے
00:03:54چلنے لگی
00:03:55جسے سوچ کر وہ شرماتی ہوئی
00:03:58اسی کی سینے میں چھپ گئی
00:03:59آپ تو میری سوچ سے زیادہ بے شرم ہیں
00:04:02شازن سائی وہ اس کی بند دھنی پلکوں کو دیکھتے ہوئے
00:04:04سوچ رہی تھی
00:04:05جبکہ چہرے پر سکون کے ساتھ
00:04:09ایک خوبصورت مسکرات موجود تھی
00:04:10وہ ہمیشہ سے اپنی
00:04:12لک جازم کی طرح ہی رکھتا تھا
00:04:15وہ ہمیشہ سے
00:04:16اپنی لک جازم کی طرح ہی رکھتا تھا
00:04:18وہ کبھی بھی اپنے بھائی سے
00:04:19الگ نہیں دیکھنا چاہتا تھا
00:04:21وہ چاہتا تھا کہ اگر وہ دونوں جڑواں ہیں
00:04:23تو دنیا کا پتہ چلے کہ وہ دونوں جڑواں ہیں
00:04:25یہی وجہ تھا کہ جب جازم نے
00:04:28جم جوائن کی تو وہ بھی اس کے ساتھ گیا
00:04:30ان دونوں کی ہلکیل کی داڑی کے ساتھ
00:04:32ہلکیل کی موچھیں بھی برکل ایک جاتی تھے
00:04:34جس کی وجہ سے ان دونوں میں
00:04:36فرق کرنا انتہائی مشکل تھا
00:04:37اگر ان دونوں میں کچھ الگ تھا
00:04:39تو وہ ان کا ڈریسنگ سٹائل
00:04:41شازم کو جازم کی بورنگ ڈریسنگ پسند نہیں تھی
00:04:44اسی لیے اس معاملے میں وہ اس سے الگ تھا
00:04:46جبکہ اس کی جوب بھی اسے پسند نہیں تھی
00:04:48وہ بہت غور سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی
00:04:51جب اچانک اپنی کمر پر
00:04:53اس کا ہاتھ محسوس ہوا
00:04:54اس نے پہلے اپنی کمر کی طرف اور پھر شازم کے
00:04:56مسکلاتے چہرے کی طرف دیکھا
00:04:58شازم سہیں چھوڑیں مجھے
00:05:00اور اٹھ کے باہر چلیں سب انتظار کر رہے ہوں گے
00:05:02وہ ایک بار پھر سے اس رات کے مور میں
00:05:04آتے دیکھ کر بولی
00:05:06انتظار کرتے ہیں تو کرتے رہیں
00:05:09دولہ اور دولن وی آئی پی ہوتے ہیں
00:05:11اپنی مرضی سے کمرے سے باہر نکلتے ہیں
00:05:13اسی لیے تم بے فکر ہو جاؤ
00:05:15ان کے بارے میں سوچنا چھوڑ دو
00:05:17اور میری بارے میں سوچو
00:05:18وہ اسے مزید اپنے قریب کرتے ہوئے
00:05:20مدہوش لہجے میں بولا
00:05:22اور اسے پوری طرح سے اپنی باہوں میں قید کر لیا
00:05:25وہ پوری کی پوری اس کی باہوں میں قید
00:05:27اپنی ہوش کھونے لگی
00:05:28جبکہ وہ اس کی گردن کے بعد
00:05:31اس کی آنکھوں پر اپنا لمب سے چھوڑتا
00:05:32اس کے لبوں پر جھکا تھا
00:05:34تب اچانک کسی نے باہر سے دروازہ کھٹ کھٹ آیا
00:05:37وہ بدمزہ ہوکا دروازے کو گھوننے لگا
00:05:40چلیں وی آئی پی دولہ تھا
00:05:42باہر سے بلاوہ آ گیا
00:05:43درش کھل کھلاتے ہوئے اس کے قریب سے اٹھنے لگی
00:05:46تو میں تمہیں بات میں ٹھیک کرتا ہوں
00:05:48وہ اپنا مزاق بننے پر
00:05:50اسے گھورتے ہوئے دروازے کی طرف گیا
00:05:52جبکہ درش ہستے ہوئے فریش ہونے جا چکی تھی
00:05:55وہ تائشہ اور مہمانوں کے ساتھ
00:05:57باتوں میں مصروف خوبصورت سے نکری نکری لگ رہی تھی
00:06:00اس کا خوبصورت چہرہ
00:06:01اسے کل سے زیادہ حسین بنا رہا تھا
00:06:04زائلہ کب سے اس کے چیرے پر نظر
00:06:07نہ لگائے
00:06:08نہ لگائے اسے دیکھنے میں مصروف تھی
00:06:10وہ بہت آسانی سے اس کے اور اپنے درمیان
00:06:12فرق محسوس کر سکتی تھی
00:06:14اسے اس طرح سے
00:06:15خوش دیکھا زائلہ کو اپنے ہاتھ میں کبھی محسوس ہونے لگی
00:06:19وہ اٹھ کر اندر چلے گی
00:06:20جبکہ تائشہ اس کی اداسی کو جازم کی غیر مجودگی
00:06:23کے قنام دیکھ کر
00:06:25جازم کے کان ٹھیک سے
00:06:27کھینچنے کا فیصلہ کر چکی تھی
00:06:28امہ سائی کتنی جلدی واپس سے بھی جا رہی ہیں
00:06:31زمل نے باہر آ کر کہا
00:06:33شادی کو بھی مشکل دو روز ہی تو گزرے تھے
00:06:35اور اب تو تائشہ نے بتایا تھا
00:06:37کہ وہ آج شام کو ہی
00:06:39گاؤں سے نکل رہے ہیں
00:06:40کیونکہ کل تمہیں دیکھنے کے لیے کچھ مہمان آنے والے ہیں
00:06:44آجشہ نے سکون سے
00:06:45اس کے سر پر دھماکہ کیا
00:06:47اب کیسے بلا لیا ہے آپ نے
00:06:49زمل کو خبر پسند نہیں آئی تھی
00:06:51جبکہ تائشہ نے بہت محبت سے
00:06:53درش کو کمرے میں جانے کے لیے کہا تھا
00:06:56دیکھو زمل اپنی عمر دیکھو
00:06:58بہت ہوگی مستی
00:06:59اور بہت دکھا دیا میں نے تمہیں اپنا لات
00:07:01میری بات دھوڑ سے سنو
00:07:03تین ماہ بعد انتیس سال کی ہو جاؤ گی تم
00:07:06اور اس عمر میں لڑکیاں گھر نہیں بیٹھتی
00:07:09بہت سوچ سمر کا فیطلہ کیا ہے
00:07:11میں نے اور اب اس معاملے میں
00:07:13تمہاری ایک بات بھی نہیں سنوں گی
00:07:15تائشہ کا لہجہ حتمی تھا
00:07:17دیکھیں اممہ سائی میرے کچھ خواب ہیں
00:07:20جی نہیں جنہیں میں پورا
00:07:22کرنا چاہتی ہوں جو شادی کر کے
00:07:24تم کبھی جو شادی کر کے تو
00:07:25کبھی پورے نہیں ہوں گے
00:07:27اس کی بات سنگر زمل کو بھی اچھا کھاتا غصہ
00:07:29چڑھ چکا تھا اسی لئے وہ
00:07:31بینہ لحاظ کے بولی جس طرح سے
00:07:34تمہارے کچھ خواب ہیں نا زمل
00:07:35اسی طرح سے تمہیں لے کر میرے بھی ہیں
00:07:38کچھ خواب میرے بھی
00:07:40کچھ حرمان ہیں میں بھی تمہیں دولن
00:07:42بنے دیکھنا چاہتی ہوں جب تم چھوٹی
00:07:44تھی تو میں اپنے
00:07:45ہاتھ ہاتھوں سجاتی تھی دولن
00:07:48کی طرح اور کہتی تھی کہ ایک دن
00:07:50تمہیں میں
00:07:51سچ میں دولن بناوں گی
00:07:53لیکن تم اپنی زد پر قائم ہو
00:07:55تمہارے دونوں چھوٹے بھائیں کی شادی
00:07:58ہو چکی ہے اور اب تم بھی
00:07:59کوئی جھوٹی معصوم بچی نہیں ہو
00:08:01میں نے فیصلہ کر لیا اور اب تمہیں میری بات
00:08:04ماننی ہوگی مجھے کوئی فرق نہیں
00:08:06پڑتا کہ تمہارے خوابوں کا کیا ہوتا ہے
00:08:08خواب دیکھنے کی ایک عمر ہوتی ہے
00:08:10اور جہاں پر میں تمہاری شادی
00:08:12کر رہی ہوں وہاں تمہاری زندگی سوارنے
00:08:14کے ساتھ ساتھ سارے خواب بھی پورے
00:08:16ہوں گے اس بات کے
00:08:17گارنٹی لیتی ہوں
00:08:19لیکن اس شادی سے تم انکار
00:08:22نہیں کر سکتی تاشا اب
00:08:24بن نرمی سے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی
00:08:26اب میرے سے زبردستی نہیں کر سکتی
00:08:28میں اپنی مرضی کی مالک ہوں
00:08:30امہ سائن یہ دور جہالت نہیں ہے
00:08:32یہاں لوگ شادی کے نام پر بیٹیوں کو
00:08:34زندہ دفن کر دیتے ہیں
00:08:35وہ گستا ہوئی ہاں صحیح کہہ رہی ہو
00:08:38یہ دور جہالت نہیں ہے یہ آج کا دور ہے
00:08:40یہاں بیٹیاں زندہ دفن نہیں ہوتی
00:08:42بلکہ بیٹیوں کی آزادی کے نام پر
00:08:44ماں باب زندہ درگور ہو جاتے ہیں
00:08:46اور یاد رکھو زمل اگر اب
00:08:48تم نے شادی سے انکار کیا
00:08:50تو مرا مو دیکھو گی
00:08:51اس کے گستاک لہجے پر تائشہ بھی غصے سے
00:08:54کہتی اٹھ کر کمرے میں چلی گی
00:08:56جبکہ وہ اپنی ماں کی بات سن کر
00:08:58سکتے میں آ چکی تھی
00:08:59وانی جب سے واپس آئی تھی
00:09:01کبھی زائلہ فپس آئیں کے بارے میں بات کرتی
00:09:04تو کبھی زمل فپس آئیں کے بارے میں
00:09:06وہ اس سے اتنی باتیں شیئر کر چکی تھی
00:09:08کہ نشال کنفیوز ہو چکی تھی
00:09:10کہ وانی چار دن کے لیے گئی تھی
00:09:12یہ چار سال کے لیے
00:09:13کہ اس کی باتیں ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی
00:09:16یہ سوچ کر وہ بہت خوش تھی
00:09:17کہ وانی مہا سکون سے رہی ہے
00:09:19لیکن اس کی بات پر ہس ہس کے پاغل ہو رہی تھی
00:09:22ایسے سب لوگ کے نام یاد ہو چکے تھے
00:09:25تب سے فیورٹ اس کا شازم تھا
00:09:27جو دھولہ بنے ہوئے
00:09:28اسے زیادہ پیارا لگ رہا تھا
00:09:29کیونکہ وہ مسکر آ رہا تھا
00:09:31جبکہ جازم دھولہ بن کر بھی
00:09:33سب پر گصہ کر رہا تھا
00:09:34یہ بات اسے وانی نے بتائی تھی
00:09:36لیکن وانی کو دیکھ
00:09:37اس بات
00:09:38وانی کو دکھ اس بات کا تھا
00:09:40کہ اس کی زائلہ فپس آئیں کا دھولہ جازم تھا
00:09:42اور یہ بات اس نے زائلہ کو بھی بتائی تھی
00:09:45کہ اس کا دھولہ بلکہ بھی اچھا نہیں ہے
00:09:47لیکن زائلہ نے اسے بتایا
00:09:48کہ اسے اپنا دل
00:09:50دل بہت پسند ہے
00:09:52وہ اب وہ بہت جلدی جازم کو بھی دھولہ بنائے گی
00:09:58وہ تب سے ہی بہت اکسائٹڈ ہو چکی تھی
00:10:00یہ سوچ کر اس کے بیس فرنڈ کی دھولن
00:10:03کون ہوگی
00:10:05لیکن واپسی پر جب یہی ساری باتیں
00:10:08اس نے یاسم کے ساتھ شیئر کی
00:10:09تو اس نے کہا کہ تم اپنی ماں کو مناؤ
00:10:11تمہاری ماما سے زیادہ پہلی
00:10:13کوئی دھولن نہیں ملے گی
00:10:14تمہارے بیس فرنڈ کو
00:10:16اور اگر ایسا ہو گیا
00:10:17تو تمہارا بیس فرنڈ اور تمہاری ماما
00:10:19ورلڈ کے بسٹ کپل ہوں گے
00:10:20وہ اسے سمجھاتے کے بولا تھا
00:10:22اور اب یہی ساری باتیں
00:10:23وہ اپنی ماں کو بتا رہی تھی
00:10:25تاکہ اس کی ماں
00:10:27اس کے بیس فرنڈ کی دھولن بن جائے
00:10:28اور بہت انہوں
00:10:29ورلڈ کے بسٹ کپل بن جائے
00:10:30یہ ساری بکواس کس نے کی ہے
00:10:32تمہارے سامنے
00:10:33وہ جو اس کے اتنے دنوں کے بعد
00:10:35واپس آنے پر اس کے نخریں اٹھاتے ہو
00:10:36اس کے لیے نورز بنا رہی تھی
00:10:38اس کے بعد ہم کا جھٹکہ کھا کر
00:10:40مری
00:10:41مری
00:10:42لیکن تب ہی اسے سیڑوں سے تردہ دیکھا
00:10:44یعنی کہ یہ ساری باتیں
00:10:45پوری بلاننگ کے ساتھ کی جا رہی تھی
00:10:47تاکہ وانی کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ ہو
00:10:49تو تھپڑ اس کے ہاتھ کا کھانا
00:10:52کھا چکی تھی
00:10:53اور یاسم کو یقین تھا
00:10:55کہ غصہ تھپڑ لگانے میں بھی
00:10:57میں بھی وہ زیادہ دیر نہیں لگائے گی
00:10:59یہی وجہ تھی کہ آج وہ کہیں نہیں جا تھا
00:11:02اور اس کے اس طرح سے غصے پر بولنے پر
00:11:03وانی نے فوراں سیڑیاں کی طرف اشارہ کیا
00:11:06کیسے لگا تھا کہ وہ پانی پر غصہ کریں گی
00:11:09کہ وہ پانی پر غصہ کریں گی
00:11:11لیکن وہ پانی پر غصہ کرنے کی وجہ
00:11:13بہت محبر سے سمجھانے لگی
00:11:14دیکھو بیٹھا ایسا ممکن نہیں
00:11:16آپ کے بابا فوت ہو چکے ہیں
00:11:17اور آپ کی ماما کے دلہ وہی تھے
00:11:19اور آپ کی ماما صرف انہی کی دلن ہے
00:11:22کسی اور کی نہیں
00:11:23اور نہ ہی اب وہ دوبارہ کبھی دلن بن سکتی ہے
00:11:25کیونکہ آپ کی ماما ایک بیوہ عورت ہے
00:11:27وہ کافی بلند آبات میں بول رہی تھی
00:11:29یہ کنین اس کا مقصد وانی کو سمجھانا نہیں
00:11:32بلکہ یاسم کو بتانا تھا
00:11:33کہ جو وہ سوچ رہا ہے
00:11:35ایسا ممکن نہیں
00:11:36اس کے نظروں کا مفہوم وہ بہت پہلے ہی سمجھ چکی تھی
00:11:40وہ نادان بچ میں تو ہرگز نہیں تھی
00:11:42وہ نادان بچی تو ہرگز نہیں تھی
00:11:44کس نے کہا کہ ایک بیوہ عورت
00:11:46کسی کے دولن نہیں بن سکتی
00:11:47ایسے وہی شخص کا دل ہوتا ہے
00:11:49جو دنیا سے رخصت ہو گیا
00:11:51ہر انسان کو اپنی زندگی کو مکمل جینے کا حق ہوتا ہے
00:11:54کسی کے مرنے پر صبر کیا جاتا ہے
00:11:56اس کے ساتھ مرا نہیں جاتا
00:11:58جس طرح سے وہ وانی کو سمجھا رہی تھی
00:12:00بلکل اسی انداز میں اس کے قریب آ کر کہنے لگا
00:12:03اس کا مقصد بھی وانی کو بتانا ہرگز نہیں
00:12:05وہ اسے اس کے زندگی کی خوبصورتی سمجھا رہا تھا
00:12:09آپ پہلے ہی میری بیٹی کے سامنے بہت بکواس کر چکی ہیں
00:12:12مزید نہ کریں تو بہتر ہوگا
00:12:13وہ انتہائی غصے سے بولی
00:12:15جبکہ اس کا غصے سے سرک شہرہ دیکھا
00:12:17یاسم نہ چاہتے ہوئے بھی مسکر آیا
00:12:19میں نے بکواس نہیں کی
00:12:21بلکہ اپنی بیٹی کے ذریعے
00:12:22ایک چھوٹا سا بیغام آپ تک پہنچایا ہے
00:12:24آپ وقت لے سکتی ہیں
00:12:25لیکن انکار نہیں کر سکتی
00:12:27وہ حق جتا رہا تھا
00:12:28مستر یاسم حیدر شاہ
00:12:30وہ آپ کی نہیں میری بیٹی ہے
00:12:31اور بہتر ہوگا کہ آپ میری بیٹی سے دور رہیں
00:12:33روک سکتی ہو مجھے
00:12:35اس کے تیور دیکھ کر وہ مسکرہ کر بولی
00:12:37جبکہ نشال کا سمجھ نہیں آ رہا تھا
00:12:39کہ یہ شخص اس پر اس طرح سے کم کیسے جتا رہا ہے
00:12:42کیوں وہ اس کے خلاف کچھ کر
00:12:44کیوں اس کے خلاف کچھ کر نہیں پا رہی
00:12:47اس سے پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا تھا
00:12:49اگر یہ شخص اس کے ساتھ زبردستی بھی کرے
00:12:51تو وہ بھی تو بھی وہ اپنا
00:12:52بچاؤ نہیں کر سکتی تھی
00:12:54میں پولیس کیس کروں گی وہ غصے سے بولی
00:12:57یہاں قریب تھانے میں جازم جنیت خان
00:12:59میری سگی پھوپو کے بیٹے
00:13:00اور میری بہن کے شہر صاحب انسپیکٹر ہیں
00:13:02اگر آپ چاہیں تو یہاں تھانے جا سکتی ہیں
00:13:05وہ آپ کی مدد کریں گے
00:13:06لیکن ہمارے نکاح میں گواہ کے طور پر ضرور شامل ہو جائیں گے
00:13:09چٹاک وہ اپنی تمام تر حمد جمع کرتے ہو
00:13:12اس کے چہرے پر اپنے ہاتھ کا نشان چھوڑ چکی تھی
00:13:15اب توہہ دو چکی تھی
00:13:16وہ سیدہ نکاح پہ آ چکا تھا
00:13:18جبکہ اس کے ہاتھ کا تھپڑ کھا کے
00:13:20وہ اپنا گال مسل کر رہ گیا
00:13:22کیا بات ہے
00:13:23دل خوش کر دیا
00:13:23آپ نے اپنی حفاظت کر سکتی ہیں
00:13:26آپ ہاتھ کمال کا
00:13:27آپ کا ہاتھ کمال کا بھاری ہے
00:13:28لیکن ہونے والے شہر پر ہاتھ نہیں اٹھاتے
00:13:31بات اخلاقی میں شامل ہوتا ہے
00:13:33وہ بھی مسکرہ رہا تھا
00:13:34جبکہ نشال کو جب کچھ سمجھ نہ آیا
00:13:37تو غانی کو زبردستی اٹھا کر اندر چلی گی
00:13:39اسے اس شخص پر بہت گصہ آ رہا تھا
00:13:41زبردستی اس کے پیچھے پڑ گیا تھا
00:13:44اب مسائی مصروف ہوتا ہوں میں یہاں پر
00:13:46اسے اپنے ساتھ لے کے جاؤں
00:13:48اکیلی کہاں ہے
00:13:50وہ آپ ہیں شازم ہے
00:13:52زرش ہے زمل ہے
00:13:53کتنے لوگ ہیں
00:13:54وہاں بات ایسے ہی
00:13:56ایسے ڈرامے کرنے کی عادت
00:13:57بس اسے ایسے ہی ڈرامے کرنے کی عادت ہے
00:14:00جاظم نے غصر ناگواری سے کہا
00:14:02اس کی شادی کے دن ہی کتنے ہوئے ہیں
00:14:04کہ تم اس طرح سے مشن کے لیے نکل گئے ہو
00:14:06اسے اس وقت تمہاری ضرورت ہے
00:14:08پورا دن وہ ادھر ادھر گھومتی رہتی ہے
00:14:10بیچاری
00:14:11اس لیے تو تمہیں اس کا کام کی اجازت نہیں دیتی
00:14:14کہ اپنی شادی شدہ زندگی کو بگاڑ لو
00:14:16میں اپنی بہو کو پھر اس حالت میں دیکھ سکتی ہوں
00:14:18لیکن اپنی لادلی بھتیجی کو
00:14:20ہرگز نہیں
00:14:21یا تو تم واپس آؤ
00:14:22یا پھر اسے وہاں بلالو
00:14:24امہ سائیں ایسا ممکن نہیں ہے
00:14:25وہ تیشہ کے زد پر اسے سمجھاتے ہوئے بولا
00:14:27میں کچھ نہیں جانتی
00:14:30وہ آ رہی ہے
00:14:30بات کرو اسے
00:14:31اس نے کچھن سے باہر نکلتی
00:14:33زائلہ کی طرف اشارہ کیا
00:14:34جو اس کے اشارے پر اس کا فون تھام چکی تھی
00:14:36ہلو
00:14:37اس نے موبائل پر نام دیکھ کے بغیر ہی
00:14:39اسے کام سے لگا لیا
00:14:41کیوں کر رہی ہو تم یہ سب کچھ
00:14:44تمہیں تو خوش ہونا چاہیے
00:14:45وہاں کلے چھوڑ دیا ہے
00:14:46تمہیں اب سب کے سامنے بھولی بھالی بن کر
00:14:48ہم دردیاں سمیٹنا بند کرو
00:14:50سمجھے تم سکون سے رو
00:14:52ورنہ اپنے گھر چلی جاؤ
00:14:53جہاں پہلے رہتی تھی
00:14:54لیکن یہ اداسی کے ڈرامے بند کرو
00:14:56تمہاری وجہ سے ڈسٹرب ہو رہا ہوں میں
00:14:59اب اممہ ساہی کو مطمئن کرو
00:15:00ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
00:15:02وہ انتہائی غصے سے بولا تھا
00:15:04شاید تائشہ اس کی اچھی خاصی کلاس لے چکی تھی
00:15:06اس نے تائشہ کو دیکھتے ہوئے
00:15:08مسکرانے کی کوشش کی
00:15:09ہاں تو میں کیا کروں
00:15:10کوئی اس طرح تھوڑی کرتا ہے
00:15:12اپنی بیوی کے ساتھ
00:15:13آپ جلدی سے واپس آئیں
00:15:14اچھا نہ بابا نہیں
00:15:15اچھا نہ بابا نہیں ہوتی
00:15:18جاظم کچھ تو شرم کریں
00:15:20میں کمرے میں جا کے آپ سے بات کرتی ہوں
00:15:22اور تائشہ کے سامنے شرمانے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے
00:15:25جاظم کو جھٹکے پر جھٹکا دے رہی تھی
00:15:27پوپس آئیں آپ یہ فون اپنے پاس رکھیں
00:15:29میں کمرے میں جا کر انتے بات کرتی ہوں
00:15:31کہہ رہے تھے
00:15:32کہ کب سے مجھے کمرے میں فون کر رہے ہیں
00:15:34اور میں یہاں باہر بھی فون نہیں اٹھا پائی
00:15:37وہ فون پر کال کارتے ہوئے
00:15:39اس کا فون اسے لٹا کر کمرے کی طرف چلی گئے
00:15:42جبکہ تائشہ نے اسے خوش رہنے کی آد دعا دی
00:15:45اور جاظم ابھی تک دوسری طرف فون کو گھو رہا تھا
00:15:48وہ کیا بول کر گئی ہے
00:15:49جاظم کا سمجھ نہیں آیا
00:15:50یا شاید اس کی باتوں کو ضرور سے زیادہ سمجھ چکی تھی
00:15:53جب سے بہرام یہاں سے گیا تھا
00:15:56تب سے ہی ان دونوں میں بات چیئے تقریباً بلکر ہی بنتی
00:16:00وہ اسے کھانے کے لیے بلاتا تو اٹھ کر کھانا کھائے لیتی
00:16:02باقی ان دونوں میں اقریباً کوئی بات نہیں ہوتی تھی
00:16:05صبح اٹھی تو اسے اپنا خیال رکھنے کو کہہ کر
00:16:08اپنے کام نپٹانے چلا جاتا
00:16:09اگر دل چاہتا تو سارا دن سوتے ہوئے گزار دیتی
00:16:13ورنہ ٹیوی دیکھتی رہتی
00:16:14اور پھر جب اسے بھی دل بھٹ جاتا تو باہر جانے کا سوچتی
00:16:17صرف سوچتی
00:16:18دائم نے اسے کہا تھا کہ صرف ہوتل کے حدود تک
00:16:21وہ باہر جا سکتی
00:16:22اگر چاہتی تو باہر جا سکتی تھی
00:16:24لیکن چڑیا جتنا دل لے کر جا نہیں سکتی تھی
00:16:27لیکن یہ بات اس نے دائم کا نہیں بتائی تھی
00:16:29کہ اسے باہر اکیلے
00:16:31گانے میں ڈر لگتا ہے
00:16:32اس دن دائم نے اسے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا
00:16:35اسے بتایا تھا کہ وہ اس کے لئے کتنی اہم ہے
00:16:36بس اس دن کے بعد ان دونوں میں
00:16:38جیسے کہ بات ہی نہیں ہوئی تھی
00:16:40اس سے تو ایسا لگتا تھا
00:16:42جیسے اس سے ظاہر محبت کر کے
00:16:44اسے بلکل ہی بھول گیا ہے
00:16:45وہ تو یہ سوچ کر خوش تھی
00:16:47کہ وہ یہاں میرپور میں اسے گھومانے پھرانے لے کر آیا ہے
00:16:50لیکن اب اسے پتا چلا
00:16:51کہ وہ تو یہاں کام کے سلسلے میں آیا ہے
00:16:54وہ بھی اسے تب پتا چلا جب واضی جہاں آیا
00:16:56اور اس سے کہا کہ آج جلسے پر جانا ہے
00:16:58مطلب صاف تھا کہ وہ یہاں اپنا کام
00:17:00اپنے کام کے لئے آیا تھا
00:17:02اپنے جلسے پورے کرنے کے لئے
00:17:03جانو آج کل بہت بور ہو چکی تھی
00:17:05اس سے بات نہیں کر رہی تھی
00:17:07وہ آتا تو سونے لگ جاتی
00:17:09پھر وہ زبردستی اٹھا کر اسے کھانا کھلاتا
00:17:11جسے کھا کر وہ پھر اٹھ کر سونے چلی جاتی
00:17:13لیکن اس سے کوئی بات نہیں کرتی
00:17:15وہ چاہتی تھی کہ دائم اس سے خود بات کرے
00:17:17جبکہ دائم چاہتا تھا کہ وہ خود
00:17:19اس سے اپنے دل کی باتیں شیئر کرے
00:17:21دائم سمجھ نہیں پا رہا تھا
00:17:23کہ وہ اس کی محبت کو قبول کر رہی ہے
00:17:24یہ واپس جانا چاہتی ہے
00:17:26جبکہ جانو تھا ہی یہ سوچ رہی تھی
00:17:29کہ وہ اس سے اپنی محبت کا اظہار کر کے
00:17:31سب کوئی بھول چکا ہے
00:17:32اس کا خیال تو بہت رکھتا تھا
00:17:33لیکن اس کے باوجود بھی اس سے بات نہیں کر رہا تھا
00:17:38آج وہ واپس آیا
00:17:39تو کھانا آرڈر کر کے نہانے چلا گیا
00:17:40جب دروازے پر دستہ گئی
00:17:42تب ہی وہ نہا کر باہر نکلا
00:17:44لیکن اس سے پہلے جانو دروازے تک پہنچ چکی تھی
00:17:46دروازہ کھلا تو باہر واجد کا مسکراتا
00:17:48چہرہ دیکھ کر وہ مسکرائی
00:17:50اچھا ہوا واجد لالا آپ آگے
00:17:52آپ کو پتا ہے میں کتنا بہر ہو رہی تھی
00:17:54یہاں تو کوئی ہے ہی نہیں باتیں کرنے کے لیے
00:17:56اور جو ہے وہ مو بنا کر بیٹھا ہوا ہے
00:17:58بس کھانا آرڈر ہو چکا ہے
00:18:00ہم تینوں مل کر میرا مطلب ہے
00:18:02دونوں مل کر کھانا کھاتے ہیں
00:18:03اس رہے تو گنگا پیرا ہے کچھ سنتا گولتا ہی نہیں ہے
00:18:07اپنے بارے میں یہ بات سن کر
00:18:08اس سے جھٹکا لگا تھا
00:18:10وہ تو خود اس سے بات نہیں کر رہی تھی
00:18:11اور اب واجد سے اس کی جھوٹی شکایت لگا رہی تھی
00:18:14آپ کو پتا آج صبح بیٹھ سے اٹھتے ہوئے
00:18:16میرا پیر چادر میں پھنس گیا
00:18:17میں اتنی بری طرح سے گری
00:18:19وہ بتا تو واجد کر رہی تھی
00:18:21لیکن سنا اس سے رہی تھی
00:18:22جسے وہ سن کر پریشان ہوتا
00:18:25فوراں اس کے سا زمین پر بیٹھ گیا تھا
00:18:27جانو سائے تو میں چوٹ لگی ہے
00:18:29تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا
00:18:30کہاں گری تم
00:18:31کہاں چوٹ لگی ہے
00:18:32بتاؤ مجھے
00:18:33میں ڈاکٹر کو فون کرتا ہوں
00:18:35وہ اسے پیر
00:18:35ہاتھ پیر چیک کرتا
00:18:37فون اٹھانے لگا
00:18:37جبکہ وہ اسے نظر انداز کر دی
00:18:39واجد سے بولی تھی
00:18:40واجد لالا مجھے چوٹ نہیں لگی
00:18:42وہ تھوڑا سا درد ہوا تھا
00:18:43اس وقت یہاں بازو میں
00:18:44وہ اپنا بازو واجد کو دکھا رہی تھی
00:18:46جب اگلے ہی لمحے دائم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
00:18:48کہاں چوٹ لگی ہے
00:18:50دکھاؤ مجھے یہاں درد ہو رہا ہے
00:18:52وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا
00:18:53اس کا نظر انداز کرنا بھی
00:18:55وہ نظر انداز کر دیا
00:18:56مجھے کسی کی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے
00:18:59واجد لالا کہہ دیں
00:19:01اور نہ ہی میں کسی سے بات کرنے کے موڈ میں ہوں
00:19:03انتہائی بورنگ انسان ہے
00:19:04مجھے رہنا ہی نہیں ہے ان کے ساتھ
00:19:06کتنی خوش تھی
00:19:07میں گھومنے آئی تھی
00:19:08اور یہاں ان کے جلسے ہی ختم نہیں ہو رہے
00:19:09واجد لالا ان سے کہہ دیں
00:19:11کہ میرا ہاتھ چھوڑے
00:19:12میں بلکل ٹھیک ہوں
00:19:13اور زمین سے اڑکر اوپر بیٹھیں
00:19:14وہ ابھی بھی بلکل نخرے دکھانے کی موڈ میں تھی
00:19:17جبکہ واجد پریشان نظروں سے
00:19:19کبھی دائم کو
00:19:19تو کبھی ہورم کو دیکھتا
00:19:21کافی دیر کوئی آواز نہیں آئی
00:19:23پھر دائم کی آواز کمرے میں گنجی
00:19:25واجد آؤٹ
00:19:26اور اس کی آواز کے ساتھ
00:19:27ہی واجد بوتل کے جن کی طرح غائب ہو گیا
00:19:29مطلب حد ہو گئی
00:19:31نہ خود مجھ سے بات کرنی ہے
00:19:32نہ کسی دوسرے کو کرنی دینی ہے
00:19:33ہٹے راستہ چھوڑیں
00:19:34سونا ہے مجھے
00:19:36وہ عورتہ اس کے قریب سے اٹھی
00:19:37جب دائم نے اسے پہڑ کا
00:19:38فوراً اپنے قریب کھینچ لیا
00:19:40تم ناراض کیوں ہوں
00:19:41یہ بتانا پسند کرو گی
00:19:43وہ اسے بالکل اپنے قریب رکھے
00:19:44نرم لہجے میں پوچھ رہا تھا
00:19:46یہ بات الگ تھی
00:19:47کہ اس کی جگہ جہاں کوئی اور ہوتا
00:19:49تو اس وقت تک
00:19:50وہ اس کے نخرے اٹھانے کی وجہ
00:19:51اسے دنیا سے اٹھوا دیتا
00:19:52میں ناراض کیوں ہوں
00:19:54میں واجد لالا کو بتا چکی ہوں
00:19:55جانو سائیں تم خود
00:19:56اتنے دنوں سے
00:19:57مجھ سے بات نہیں کر رہی تھی
00:19:58مجھے لگا
00:19:59اس سب کو قبول کرنے کے لیے
00:20:00تمہیں وقت چاہیے
00:20:01میں تو وقت دے رہا تھا
00:20:02اور اپنی صفائی پیش کرنے لگا
00:20:05اور ریلی
00:20:06یہ کونسا طریقہ ہے
00:20:07وقت دینے کا
00:20:08کہ مو بنا کر اٹھ کر چلے گئے
00:20:09مو بنا کر رات کو
00:20:10کھانا کھائے سو گئے
00:20:12اور اس طرح سے وقت دیا جاتا ہے
00:20:13اور آپ نے جھوٹ بولا
00:20:15مجھ سے
00:20:16وہ جلالی موڑ میں بولی تھی
00:20:18میں نے کونسا جھوٹ بولا
00:20:20تم سے وہ پریشان ہوا
00:20:21کیا یہ جھوٹ نہیں تھا
00:20:22کیا آپ مجھے یہاں گھومانے پھیرانے لائے ہیں
00:20:24یہاں پر تو آپ کے کامی ختم نہیں ہو رہے
00:20:26کبھی ایک جگہ جلسہ
00:20:28کبھی دوسری جگہ جلسہ
00:20:29اگر آپ کو جلسوں میں ہی جانا تھا
00:20:31تو مجھے کیوں ساتھ لائے
00:20:32وہ انتہائی غصے سے سرخ ناک پھلا کر بولی
00:20:35غصے سے اس کے کاغ گال بھی پھول چکے تھے
00:20:40اور اس وقت اتنی پیاری لگ رہی تھی
00:20:42کہ اگر وہ اچھے موڑ میں ہوتی
00:20:43تو یقین ہے میں اس کے گالوں کی سرخی کو
00:20:44اپنے لبوں سے محسوس کرتا
00:20:47تو میں گھومنے جانا ہے نا
00:20:48چلو آؤ میرے ساتھ
00:20:49میں ابھی تمہیں گھوما کے لاتا ہوں
00:20:51کل کوئی کام نہیں
00:20:52سب جلسے جلوس
00:20:53ایک طرف میری بیوی کو میری ضرورت ہے
00:20:55میری بیوی کا مور آف ہے
00:20:56میری جانو سائیں کا
00:20:57ہر اکم سر آنکھوں پر
00:20:59ہم ابھی گھومنے جائیں گے
00:21:00دینر بھی باہر ہی کریں گے
00:21:01لیکن اس سب سے پہلے
00:21:03ہم ہسپیٹل چلیں گے
00:21:04تم صبح گری ہو نا
00:21:06تمہیں چوٹ لگی ہے نا
00:21:07تو انتہائی محبت سے
00:21:08پھر سے اس کا ہاتھ ٹرولنے لگا ہے
00:21:10ڈھونڈی ڈھونڈے
00:21:11ڈھونڈے ڈھونڈے
00:21:12ارے ڈھونڈے شاباش
00:21:13کہیں نا کہیں تو
00:21:14کوئی چوٹ نظر آ ہی جائے گی
00:21:15کوئی پرانی کہیں نشان ہوگا
00:21:17وہ خود ہی اپنے ہاتھ
00:21:19کو ٹرولنے لگی
00:21:20کہ شاید اسے
00:21:22کوئی چھوٹی موٹی چوٹ نکل آئے
00:21:23اور ڈھونڈے کے پاس چلی جائے
00:21:25لیکن پھر اس کا ہاتھ پکر کر
00:21:26تقریباً کھینٹی و انداز میں
00:21:27بیٹھ کے پاس لائے
00:21:28میں یہاں سے یہاں گری ہوں
00:21:30اس نے بیٹھ سے زمین کی طرف
00:21:31اشارہ کیا
00:21:32کوئی آسمان سے زمین پر نہیں گری
00:21:34کہ مجھے کوئی بہت بڑی چوٹ لگے گی
00:21:36حد ہوتی ہے کسی بات کی
00:21:38میں چینج کر کے آتی ہوں
00:21:39آپ تک تک
00:21:40اس جگہ ٹھیک سے دیکھ لیں
00:21:42ہو سکتا ہے
00:21:42آپ زبردفتی
00:21:43مجھے کوئی چوٹ لگانے میں کامیاب ہو جائیں
00:21:45وہ اسے ڈانتا ہے
00:21:47وہ واشروم میں بند ہوگی
00:21:48جبکہ دائم سچ میں بیٹھ سے لے کر
00:21:50زمین تک
00:21:51جگہ کا ٹھیک سمائنہ کیا تھا
00:21:54کہ وہاں سے گرنے سے چوٹ لگ سکتی ہے
00:21:56سوڑی دیر میں وہ خوبصورے سے
00:21:57پرپل کلر کے کپڑوں میں باہر آئی
00:21:59میں نے دیکھا ہے
00:22:00جانوزائیں یہاں سے چوٹ لگ سکتی ہے
00:22:02تمہیں ڈاکٹر کی ضرورت ہے
00:22:04جھٹکہ لگا ہوگا
00:22:05اور جھٹکہ بھی طبیعت کے لیے اچھا نہیں ہوتا
00:22:07ہم پہلے ڈاکٹر کے پاس چلیں گے
00:22:09تم نیچے آؤ
00:22:10میں گاڑی سٹارٹ کرتا ہوں
00:22:12وہ کہتا ہوا نیچے چلا گیا
00:22:14جبکہ جانوزائیں اس کی چوڑی پوشت کو گھورتے
00:22:17اس کے پیچھے بھاگتی بھی آئی تھی
00:22:19وہ تیار ہو کر باہر آئی
00:22:22اس کا بالکل بھی ارادہ نہیں تھا
00:22:24لیکن کل تائشہ کی بات نے اس کے اندر
00:22:26تک کو ہلا کر رکھ دیا تھا
00:22:28کہ اس کی ماں کیسے اس کے موں
00:22:29اس کے سامنے اپنے مرنے کی بات کر سکتی تھی
00:22:32کیا وہ جانتی نہیں تھی
00:22:33کہ باپ کی جدائی کے بعد اس کے بچے کیسے حال میں ہیں
00:22:36اگر اس کی شادی اس کے لیے اتنی ہی اہم تھی
00:22:38تو اسے شادی پر کوئی اتراز نہیں تھا
00:22:41اور ویسے بھی وہ لوگ سب اسے دیکھنے آئے تھے
00:22:43کون سا آج ہی رشتہ پکا کرنے والے تھے
00:22:46اس لیے وہ تائشہ کی بات مانتے ہوئے
00:22:48چاہی کی ٹریل لے کر باہر آئی
00:22:50جب سامنے ہی شادی والے
00:22:51اس خوبطورت نجوان کو بیٹھے دیکھا
00:22:53یہ ہے میری بیٹی زمل تائشہ نے محبت سے کہا
00:22:56جب اس عورت نے اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا
00:22:59وہ خموشی سے اس عورت کے پاس آ کر بیٹھ گئی
00:23:01وہ لڑکا بڑی دلچسپ
00:23:02یہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
00:23:04جیسے وہ اگنور کر گئی
00:23:06بہن ہم تو شادی کی انگوٹی پہنانے آئے ہیں
00:23:13ہمیں آپ کی بیٹی ہر لحاظ سے پسند ہے
00:23:15وہ عورت مسکراتے ہوئے
00:23:17اس کا ہاتھ تھام کر انگوٹی پہنانے لگی
00:23:19جبکہ ان کی اس حرکت پر دمل نے
00:23:21تائشہ کی طرف دیکھا اور پھر
00:23:22فریدہ بیگم کی طرف جو ایسے ہاتھ
00:23:24میں ایک انگوٹی پہنانے کے لئے
00:23:26پہلی انگوٹی اتار رہی تھی
00:23:27بیٹا کی انگوٹی تو اتر ہی نہیں رہی
00:23:30فریدہ بیگم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
00:23:32یہ انگوٹی اتنی آسانی سے
00:23:34تھوڑی نہ اترے کی یہ تو گبرنے سے پہنائی تھی
00:23:36محبت کی نشانی کے لئے
00:23:38کوئی بات نہیں ہے امی دوسرے ہاتھ میں پہنا دیں
00:23:40شارک نے اس کی مشکل آسان کی
00:23:42نہیں بیٹا شادی کی انگوٹی
00:23:44اسی ہاتھ میں اسی انگلی پہ پہنائی جاتی ہے
00:23:46اس انگلی کی نص دل تک جاتی ہے
00:23:49فریدہ بیگم نے سمجھاتے ہوئے
00:23:51کہا اور پھر ایک فیصلہ کرتے ہوئے
00:23:52اسی انگوٹی کے ساتھ اس انگوٹی کو پہنانا دیا
00:23:55اب اس انگوٹی کے ساتھ
00:23:57اس انگوٹی کا بھی بہت سیار رکھنا
00:23:58فریدہ بیگم نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے
00:24:00محبت سے کہا جبکہ وہ غصے سے
00:24:02اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا
00:24:04اس کی ماں نے اس سے کہا تھا
00:24:06کہ وہ لوگ صرف اسے دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں
00:24:09لیکن یہاں تو رشتہ بھی پکا ہو چکا تھا
00:24:11اسے اس وقت سب سے زیادہ غصت و گبر پر آ رہا تھا
00:24:14جو اسے پیار محبت کے وعدے کرتا رہا
00:24:16اور اب جب اصل وقت آیا تھا
00:24:19اب اسے اہم ترین کام نکل آئے تھے
00:24:21ایک بار وہ اس کے ہاتھ لگ جائے
00:24:23اتنی آسانی سے تو اسے بخشنے والی نہیں دی
00:24:25تھوڑی زیر مزید باتیں کر کے
00:24:27وہ سب لوگ آہستہ آہستہ چلے گئے
00:24:29لیکن اس کے بعد عمل انگوٹھی نکال کے
00:24:31تائشہ کے حوالے کی تھی
00:24:32کہ وہ واپس ان لوگوں کے حوالے کر دے
00:24:34وہ ہرگز یہ شادی نہیں کرے گی
00:24:36وہ صرف اپنی ماں کی بات کا مان رکھتے ہیں
00:24:39ان کے سامنے آئی تھی
00:24:40نہ کہہ رشتہ پکا کروانے
00:24:41لیکن تائشہ نے بھی کہہ دیا تھا
00:24:45کہ دو ماں کے بعد اس کی شادی ہے
00:24:46جس کے لیے مکمل تیار رہنا چاہیے
00:24:48اب وہ اس کی کوئی بات نہیں مانے گی
00:24:50تقریبا دو ماں میں جازم کمیشن کمپلیٹ ہو جانا تھا
00:24:59جبکہ زمل نے کوئی بھی جواب نہ دیا
00:25:04بس صبح ہی اپنے کام پر واپس جانے کا فیصلہ کر چکی ہے
00:25:07دل آج بہت دنوں کے بعد یونیورسٹی آئی تھی
00:25:10نوکری چھوڑنے کے بعد وہ پڑھائی پر زیادہ دھیان دینے لگی
00:25:13لیکن اسے ڈر تو ان لوگوں سے لگتا تھا
00:25:15جو آج کل ہر لڑکی کو ٹارگر کیے ہوئے تھے
00:25:17وہ ہر آنے جانے والی لڑکی کو تنگ کرتے
00:25:20اس کی سہیلی کو تنگ کتنی بار تنگ کر چکے تھے
00:25:23ایک دو بار تو وہ خود ان کا شکار بن چکی تھی
00:25:25لیکن گھر میں یہ ساری باتیں
00:25:26اس نے کبھی کسی کو نہیں بتائی تھی
00:25:28لیکن اب اس نے سنا تھا کہ ان لڑکوں میں
00:25:30کچھ اور لڑکیں شامل ہو چکے ہیں
00:25:32جو پہلے سے زیادہ نہ صرف بتتمید ہیں
00:25:34بلکہ برہودہ انداز میں لڑکیوں کو ٹرچ کرتے ہیں
00:25:36اسی لئے بہتر ہے کہ چھوٹی کا وقت ہوتے ہی
00:25:38وہ جلدی سے جلدی یونیورسٹی سے نکل جائے
00:25:41ویسے تو اس نے صبح ڈرائیور سے کہا تھا
00:25:44کہ وہ اسے لینے کے لیے وقت پر آ جائے
00:25:45لیکن اس کے باوجود بھی وہ نہیں آیا
00:25:47اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ لڑکے اس کے پاس نہ پہنچ جائے
00:25:49اس کی تحلی کافی دیر اس کے ساتھ بیٹھی رہی
00:25:52لیکن پھر اس کی گاڑی آئی تو وہ بھی چلے گئی
00:25:54ان دنوں کے گھر کے راستے بہت مختلف تھے
00:25:57کچھ اس کے گھر والوں کی سختی تھی
00:25:58جس کی وجہ سے وہ اس کو کوئی عفت تک نہ دے سکی
00:26:02دل کے علاوہ اب یونیورسٹی میں بہت سارے لوگ تھے
00:26:06لیکن پھر بھی وہ کافی زیادہ ڈری ہوئی تھی
00:26:08وہ اٹھ کر باہر گاڑی دیکھنے لگی
00:26:10جب ان لڑکوں کے آوارہ
00:26:12یونیورسٹی میں داخلے
00:26:15جب کچھ آوارہ لڑکے یونیورسٹی میں داخل ہوئے
00:26:17اور اسے دیکھنے لگے
00:26:18وہ فوراں ہی اپنی کلاس کی طرف چلی گئے
00:26:20لیکن یہاں آ کر اسے یہ لگا کہ وہ اس طرف آ کر
00:26:22گلتی کر چکی ہے
00:26:23کیونکہ اس طرف کوئی بھی نہیں تھا
00:26:25وہ جیسے ہی واپس جانے کے لیے مڑی تو سامنے ہی
00:26:27وہ لڑکے اسے دیکھ کر شہدانی انداز میں مسکر ہے
00:26:30وہ خوب زردہ ہو کر
00:26:31مزید آگے بڑھنے لگی
00:26:32لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اس طرف جا کر وہ مزید
00:26:35غلطی کر رہی ہے وہ لڑکے بھی اس کے پیچھے
00:26:37بھاگے شاید ان کو نہیں پتا تھا
00:26:39کہ وہ اس طرف کوئی نہیں ہے
00:26:41اس نے جیسے اپنی کلاس میں قدم رکھا
00:26:43پیچھے وہ لوگ بھی اس کے طرف آئے
00:26:44کلاس میں کوئی بھی نہیں تھا
00:26:46دل کو ان سے ڈر لگنے لگا
00:26:48یہ تو وہ جانتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ
00:26:50کوئی بھی حد سے گریوی حرکت نہیں کریں گے
00:26:52کیونکہ یہ یونی تھی
00:26:54اس کا انجام وہ لوگ بھی جانتے تھے
00:26:56لیکن یہاں آ کر وہ بری طرح پھنس چکی تھی
00:26:58وہ جل سے جل جہاں سے نکلنا چاہتی تھی
00:27:00لیکن یقیناً وہ لوگ اسے چھوڑنے والے نہیں تھے
00:27:03کہنے کو ان کا مقصد صرف
00:27:05صرف لڑکیوں کا تنگ کر کے
00:27:06تھوڑی دیر کا مزہ لینا تھا
00:27:07لیکن اس کی وجہ سے وہ نہ جانے کتنی لڑکیوں کے
00:27:10زندگی برباد کر چکے تھے
00:27:12ہائی ڈارلنگ کیسی ہو
00:27:13ہمیں ویرکم کر رہی ہو یہاں آ کر
00:27:15تمہارا انداز اچھا ہے بلانے کا
00:27:17انہی میں سے ایک لڑکا ہے اس کی طرف بڑھتے ہوئے
00:27:19انتہائی گھٹیاں انداز میں مسکراتا ہے
00:27:21اس کے بلکل قریب آ چکا تھا
00:27:23پلیس مجھے جانے تھے دل نے منت کی
00:27:25لیکن وہ اس کے سندار پر کہکا لگا اٹھے
00:27:28پر جانے من ہم تمہیں زیادہ تنگ نہیں کریں گے
00:27:31بس تھوڑی دیر تک وہ اس کے گال کو انگلے سے چھوٹے
00:27:33وے اپنا ہاتھ اس کے دبٹے کی طرف
00:27:34بڑھانے لگا
00:27:36تب ہی پیون نے اچانک آ کر
00:27:39اسے باہر ڈرائیور آنے کی خبر دی
00:27:40جبکہ پیون کے آتے ہی وہ فوراں باہر کی طرف بھاگ گئی تھی
00:27:43چھوٹیار چڑیہ نکل گئی
00:27:46پکڑ اس سالے کو بہت جلدی تھی
00:27:55دیکھا تو تھا لیکن بہرام نے اس دور کو
00:27:58بلکل ہی دل سے یا جانوں سے بات کرنے سے منع کر رکھا تھا
00:28:01اس نے خموشی سے آگے بڑھ گیا
00:28:03جبکہ دل سارے راستے بری طرح سے روتی رہی
00:28:07گھر آئی تو بہرام نے اسے روتے ہوئے دیکھا
00:28:09کیا ہوا ہے دل تم پریشان ہو
00:28:11یاکھیں وہ اس کی سرک آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
00:28:14جب وہ اسے نظر انداز کر کے جانے لگی
00:28:16لیکن بہرام نے اس کا ہاتھ تھام کر
00:28:18اسے اپنی طرف کھنچا
00:28:19ہوا کیا ہے وہ غصے سے بولا کچھ نہیں ہوا
00:28:22برائے میرے بانے کر کے جان چھوڑ دیں میری
00:28:24ہر بس میرے سر پر مسلط نہ رہا کریں
00:28:26وہ غصے سے کہتی اپنے کمرے میں چلی گی
00:28:28جبکہ بہرام نے بس اتنا ہی کہا تھا
00:28:30کہ کچھ تو ہوا ہے وہ
00:28:32جو وہ اسے چھپا رہی ہے جس کا پتہ وہ لگا کرے گا
00:28:35اگلے دن بھی وہ صبح صبح ہی اٹھ کر
00:28:38اٹھ کے گی لیکن یونیورسٹی نہیں
00:28:40یانا چاہتی تھی دادو سائیں
00:28:42آج کل وہ بیمار رہنے لگی تھی
00:28:43اس کے پیپرز قریب سے اس لیے وہ نہیں چاہتی تھی
00:28:46کہ وہ یونیورسٹی سے چھٹی کرے
00:28:49لیکن کل کے واقعے کے بعد
00:28:50اس کا بالکل بھی یونیورسٹی جانے کا
00:28:52دل نہیں کر رہا تھا
00:28:54دل بہت خوف زدہ تھی لیکن اپنی پریشانی
00:28:57دادو سائیں بہرام کے سامنے بیان
00:28:59نہیں کرنا چاہتی تھی
00:29:00مگر اس سب جاننے کے بعد بھی بہرام
00:29:02اگنور کر رہی بہرام کو اگنور کر رہی تھی
00:29:05جیسے پہلے کرتی تھی
00:29:07جسے لے کر بہرام پریشان تھا
00:29:10دادو اگرے مہنے اس کی رکھتی کرنا چاہتی تھی
00:29:12وہ چاہتی تھی کہ جیسے ہی دل کے پیپر ختم ہو
00:29:14اسے ہمیشہ کے لیے بہرام کے حوالے کر دیں
00:29:17جبکہ دل کا رکھا انداز بہرام کو پریشان کر رہا تھا
00:29:20وہ یونیورسٹی سے آئی تو کافی گھبرائی ہوئی
00:29:22ان لڑکوں کو دیکھ رہی تھی
00:29:23جو اسے کہیں بھی نظر نہ آئے
00:29:25اس کی دہلی حادیہ بہت خوشی تھی
00:29:29اس کی قریب آئی تھی
00:29:29یہ تمہارا شہر تو کمارک ہے
00:29:31تمہیں پتا ہے کل اس نے کیا کیا
00:29:33وہ گنڈے ہیں نا
00:29:35وہ ہی جو کالج میں آتے ہیں
00:29:36ان کی ایسی دھلائی کی
00:29:39کہ ساری زندگی یاد رکھیں گے
00:29:41ابھی بھی اسپیزال میں پڑے ہیں
00:29:42ارے وہ لمبے کاتولے لڑکا یاد ہے نا
00:29:45تجھے تمہارے شہر نے اس کی انگلیاں جلا دیں
00:29:47اس کی بات پر اچانت دل کو یاد آئے
00:29:49کل اسی لڑکے نے اس کو چھوا تھا
00:29:51اچھا سبق سکھایا
00:29:53اس نے سب کو
00:29:54اس کی ذہلی حادیہ خوشی تھی بول رہی تھی
00:29:56تم سے کس نے کہہ دیا
00:29:57کہ یہ سب کچھ میرے شہر ہی ہیں
00:29:59نہیں یہ بھی تو ہو سکتا ہے
00:30:01کسی اور نے کیا ہو
00:30:02اس کے یقین پر دل پر رشانی سے بولی
00:30:04جی نہیں
00:30:06سب کچھ تمہارے شہر نے ہی کیا ہے
00:30:07اور اس نے یہ بھی کہا ہے
00:30:09کہ اگر کوئی پولیس کیس کرنا ہو
00:30:11تو بحرام شاہ کے نام پر کرنا
00:30:13اور ایندہ میری دل کو چھونا
00:30:15تو دور دیکھنے کے لئے بھی آنکھوں میں
00:30:17روشنی کے لئے ترسو گے
00:30:19حادیہ خوشی تھی بتا رہی تھی
00:30:20ویسے کمال کا ہے تمہارا شہر
00:30:22کس نے دھرلے تھی کہہ دیا
00:30:23کہ بحرام مقدم شاہ کے نام پر کیس کر دینا
00:30:26لیکن دل سے دور رہنا
00:30:27وہ ابھی بحرام کی تعریفوں کے گنگاہ رہی تھی
00:30:30جبکہ دل بینا کچھ بولے
00:30:31کلاس روم میں چلی گی
00:30:33ارے تم کچھ نہیں کہو گی
00:30:34تمہارا شہر تم سے کتنا پیار کرتا ہے
00:30:36اس نے تمہارے لیے
00:30:37اتنے بڑے گنڈوں سے پنگا لے لیا
00:30:39اس کی تحرید تقریباً اس کے پیچھے بھاگتی ہوئی آئی
00:30:41کوئی احسان نہیں کیا
00:30:43انہوں نے نکاح ان کے نکاح میں ہوں
00:30:45میں ان کے نکاح میں ہوں
00:30:47ان کو کوئی احسان نہیں کیا
00:30:50انہوں نے نکاح میں ہیں ان کے
00:30:52اتنا تو کریں گے
00:30:53ہے نا وہ ایٹیٹیوڈ سے کہتی
00:30:55آگے پر چکی تھی
00:30:56جبکہ اس کی بات کا مطلب
00:30:58اس کی تھیلی کو سمجھ نہیں آیا تھا
00:31:00کیوں کیا ہے آپ نے وہ سب کچھ
00:31:02کیوں کیا آپ نے وہ سب کچھ
00:31:04وہ گھر آتے ہی غصے سے بولی
00:31:05جبکہ بہرام اس کے غصے میں مسکرا دیا
00:31:08تمہیں کیا لگتا ہے
00:31:09میں نے کیوں کیا ہوگا یہ سب کچھ
00:31:11اس کے سوال پر وہ آگے سے سوال کرنے رہا
00:31:14جس سے دل کا غصہ مزید بڑھ گیا
00:31:15کیونکہ موقع مل گیا تھا
00:31:17آپ کو دوسروں کو مار پیٹ کر کے
00:31:19اپنی طاقت دکھانے کا
00:31:20یہی وجہ ہوگی
00:31:21اس کے انتہائی غصے سے کہنے پر
00:31:23وہ کھل کر مسکرایا
00:31:26میری دل کبھی غلط نہیں ہو سکتی
00:31:29وہ آنکھ دبا کر بولا
00:31:30آج کے بعد آپ کو بھی میری یونی آنے کی
00:31:32کوئی ضرورت نہیں ہے
00:31:33اور بہتر ہوگا مجھ سے بھی دور رہے
00:31:35اور وہ اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے
00:31:38وون کر کے اندر کی طرف جانے لگی
00:31:39جب اگلے ہی لمحے بہرام نے
00:31:41اس کا بازو تھامو
00:31:41اور اسے دیوار کے ساتھ لگاتے ہوئے
00:31:43اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے
00:31:45چھوڑے مجھے
00:31:46وہ اپنا مکمل زور لگاتے ہوئے
00:31:48اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی
00:31:49جو کہ ناممکن سی بات ہی
00:31:51کوئی وجہ تو ہوگی دل
00:31:52کیوں مجھ سے اتنی خفا ہو
00:31:54اب تو ساری حقیقت میں تمہارے سامنے آ گئی ہے
00:31:57پھر مجھ سے اس طرح سے دور رہنا
00:31:59مجھے اندرزر انداز کرنا
00:32:00اس بات کی کیا وجہ ہے
00:32:02وہ شکوہ لبوں پر لے آیا
00:32:04وجہ یہ ہے کہ مجھے پسند نہیں ہے
00:32:06اب راستہ چھوڑ دے میرا
00:32:07وہ اندہی غصے سے کہتی
00:32:08اپنا آپ پھر سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی
00:32:11مطلب تم یہ کہنا چاہتی
00:32:12کہ پچھلے پندرہ سال سے
00:32:14تم میرے نکاح میں ہو
00:32:15اور میں تمہیں پسند نہیں
00:32:16اس کے اس طرح سے کہنے پر
00:32:18وہ مسکر آیا تھا
00:32:19جیسے دل نے کوئی مزاق کیا ہو
00:32:21یا کوئی لطیفہ صنایا ہو
00:32:22جی یہی وجہ ہے کہ پندرہ سال
00:32:24آپ کے نکاح میں رہنے کے باوجود بھی
00:32:26مجھے آپ سے محبت نہیں ہوئی
00:32:28میرے دل میں آپ کے لئے
00:32:29کوئی جذبات نہیں ہے
00:32:30اب راستہ چھوڑنا پسند کریں گے
00:32:32اب آگے کیا سوچا ہے تم نے
00:32:34وہ اس کے سوال کو نظر انداز کرتے
00:32:36میں سوال کرنے لگا
00:32:37کس بارے میں بات کر رہے ہیں آپ
00:32:39وہ اس کے سوال پوچھنے لگی
00:32:41ہمارے نکاح کے بارے میں
00:32:43اس رشتے کے بارے میں
00:32:44وہ بالکل سیریس انداز میں بولا
00:32:45اس رشتے کے بارے میں کیا سوچنا ہے
00:32:47میں آپ کے نکاح میں ہوں
00:32:48ایک ماہ بعد ہماری رکھتی ہے
00:32:50بس بات ختم
00:32:51اس کا خاتمی انداز
00:32:53بہرام کو مسکرانے پر مجبور کر دیا
00:32:55اس کے دماغ میں آخر چل
00:32:57کہہ رہا تھا
00:32:58بس بات ختم
00:32:59وہ مسکراتے پر اس کے لفاظ دورانے لگا
00:33:01جی ہاں وہ کہہ کر جانے لگی
00:33:03جب بہرام نے ایک بار پھر سے
00:33:04اسے بازو سے تھام کر
00:33:06اپنے قریب کھینج لیا
00:33:08میں سے بہرام شاہ
00:33:09اگر بات اتنی آسانی سے کنتم ہوتی
00:33:11تو نکاح اور شادی جیسے بندن میں
00:33:13بندنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی
00:33:15اصل زندگی تو شادی کے بعد شروع ہوتی ہے
00:33:17جس میں بہت کس سمجھنا و برداشت کرنا پڑتا ہے
00:33:20اپنے دماغ سے یہ بات نکال دو
00:33:22کہ ایک مہینے کے بعد
00:33:23رخصیتی کے بعد
00:33:23بات ختم ہو جائے گی
00:33:25اصل بات تو رخصیتی کے بعد شروع ہوگی
00:33:27جب تو میری دولن بن کے
00:33:28میری سیج سجاؤ گی
00:33:30وہ بے باق ہوا
00:33:31آپ کی فضول باتیں ختم ہو چکی ہیں
00:33:33تو میں جا سکتی ہوں
00:33:34اپنے سرخ
00:33:35روتے گانوں کانوں اور گالوں کو
00:33:38وہ ہاتھ سے لگاتے پوچھنے لگی
00:33:40جبکہ چہرہ اس کی باتوں سے تپنے لگا تھا
00:33:42میں تو کب کا تبہ چھوڑ چکا ہوں
00:33:44شاید تم میری باتیں سننے کے لئے ہی رکی ہو
00:33:46وہ دل کشی سے مسکراتا ہو
00:33:48اسے دکھنے لگا
00:33:49جیسے وہ ازاد کی ہوئے کب سے
00:33:50اسے اپنی باتوں میں لگائے ہوئے تھا
00:33:52جبکہ اپنا آپ اس کے حسار میں
00:33:54نہ محسوس کرتے
00:33:55وہ اگلے ہی لمحے وہاں سے جانے لگی
00:33:57وہ تو کب سے اس کے قریب
00:33:58اس لیے کھڑی تھی
00:33:59کیونکہ اسے لگ رہا تھا
00:34:01کہ وہ بہرام نے اسے پکڑا ہوا ہے
00:34:03جیسے اسے قید کیا ہو
00:34:04ہاں قید ہی تو کیا ہوا تھا
00:34:06لیکن اپنی باہوں میں نہیں
00:34:07بلکہ اپنی محبت میں
00:34:09جیسے وہ قبول نہیں کرنا چاہتی تھی
00:34:11اپنے کمرے کے دروازے پر
00:34:12اس نے پلٹ کر دیکھا
00:34:13وہ وہیں کھڑا
00:34:14اسے مسکراتے ہوئے
00:34:15اسے دیکھ رہا تھا
00:34:16جبکہ اس کا مسکراتا چیرہ دیکھتے ہوئے
00:34:19وہ پیر پھٹکتی ہوئی
00:34:20پھٹکتی ہوئی
00:34:21ہوں کرتی اندر چلی گئی
00:34:23جبکہ اس کے بچکانہ انداز پر
00:34:25بہرام کہکہ لگاتے ہوئے
00:34:26دادو سائیں کے کمرے کی طرف
00:34:27بڑھ گیا
00:34:28وہ واپس آ چکی تھی
00:34:31اور صبح سے ہی
00:34:32گبر کو ہر اس جگہ
00:34:33ڈھونڈ رہی تھی
00:34:34جہاں وہ اس سے پہلے
00:34:35مل چکا تھا
00:34:35وہ سب سے پہلے
00:34:36اس بیلڈنگ میں گئی
00:34:37جہاں وہ رہتا تھا
00:34:39اس کے بعد جہاں جہاں
00:34:40اسے لگا
00:34:41کہ اسے مل سکتا ہے
00:34:42وہاں وہاں گئی
00:34:43لیکن گبر کی
00:34:44کسی کو کوئی خبر نہیں تھی
00:34:46اسے یہاں دو دن گزر چکے تھے
00:34:48وہ اپنا کام کرنے کے بجائے
00:34:50مسلسل گبر کو ڈھونڈ رہی تھی
00:34:52آج کل اس کی تلاش شارک
00:34:53شارک نہیں
00:34:55بلکہ گبر ہو چکا تھا
00:34:56آخر لوفر آدمی غائب
00:34:58کہاں ہو گیا ہے
00:34:59جیل میں بھی ہو سکتا ہے
00:35:00جازم کو فون کرتی ہوں
00:35:02ہو سکتا ہے
00:35:02وہ اس کے بارے میں کچھ جانتا ہو
00:35:04اور اب تو ویسے بھی
00:35:05وہ اسی شہر میں ہے
00:35:06لیکن میں جازم کو
00:35:08وجہ کیا بتاؤں گی
00:35:09وہ گبر کو ڈھونڈتے ہوئے
00:35:10سڑک کے کنارے سے
00:35:12جا رہی تھی
00:35:12جبکہ مسلسل
00:35:14خود سے بڑھ بڑھاتے ہوئے
00:35:15اس کی نظر سامنے کی طرف گئی
00:35:17پہشان نے میں
00:35:18ایک سیکن نہیں لگا تھا
00:35:19وہ تقریباً بھاگتے ہوئے
00:35:21اس کے پاس آئی
00:35:21اور بینہ بولے
00:35:24اور بینہ لوگوں کا لحاظ کیے
00:35:27ایک کے بعد دوسرا
00:35:28دوسرے کے بعد تیسرا
00:35:29تیسرے کے بچوں تھا
00:35:30پانچوہ چھٹا
00:35:31تپڑ لگاتی چلی گئی
00:35:33جبکہ وہ مسلسل
00:35:34اسے دیکھتے ہوئے
00:35:35بینہ کچھ بولے
00:35:36اس کی مار کھا رہا تھا
00:35:37اوارہ لوفر لفنگے
00:35:39آدمی شادی ہو رہی ہے میری
00:35:41منگنی کی انگوٹھی یہ دیکھ
00:35:42دیکھ رہے ہو
00:35:43میرے گھر والے
00:35:44میری شادی کروا رہے ہیں
00:35:45وہ اپنی انگلی میں مجود
00:35:46اس کی انگوٹھی کے لوا
00:35:47خان کے نام کی انگوٹھی
00:35:49اسے دکھاتے ہوئے بولی تھی
00:35:59مل کو پریشانی ہوئی
00:36:00کہاں جا رہے ہو تم
00:36:01بات کر رہی ہوں نا
00:36:03میں
00:36:03تم اسے اداس کیوں ہو
00:36:05تم ایسے اداس کیوں ہو
00:36:06شبکہ ٹھیک تو ہے
00:36:07کیا ہوا
00:36:08تو میں وہ پریشانی سے پوچھنے لگی
00:36:10جبکہ وہ اسے اگنور کرتا
00:36:12آگے کی طرف جانے لگا
00:36:14اوہ ہیلو
00:36:15تم مجھے اگنور کیوں کر رہے ہو
00:36:16آخر چاہتے کیا ہو
00:36:17وہ انتہائی غصے سے بولی
00:36:19جب گبر اس کی طرف دیکھ کر
00:36:21اس کی نظروں میں نظریں ڈال کر بولا
00:36:23تو جاننا چاہتی ہے نا
00:36:25میں چاہتا ہوں
00:36:27میں چاہتا ہوں کہ
00:36:28تو اس آدمی سے شادی کر لے
00:36:29جس کا رشتہ تیرے لی آیا ہے
00:36:31کیونکہ میرے جیسے
00:36:32چھڑک چھاپ گنڑے کے ساتھ
00:36:33تیرا کوئی جوڑ نہیں ہے
00:36:35ہرے ہفتے کے ساتھ
00:36:36ان تو جیل میں گزارتا ہوں
00:36:37میں تجھے کہاں لے کر پھرتا رہوں گا
00:36:40کیا بکواس کر رہے ہو تم
00:36:41میں تمہارے لیے
00:36:42اپنے گھرولوں سے لڑ رہی ہوں
00:36:44اور تم
00:36:45ہاں میں بھی نہیں چاہتا
00:36:47کہ تم میرے لیے کسی سے بھی لڑ
00:36:49بسنتی شارع خان
00:36:52اس کے بارے میں جاننا
00:36:53خواب ہے نا تیرا
00:36:54پچھلے کتنے ہی سالوں سے
00:36:56تو اس کے پیچھے باغ رہی ہے
00:36:57تو اب وہ تجھے مل سکتا ہے
00:36:59وہ شخص جس کے ساتھ
00:37:00تیری منگنی ہوگا
00:37:01وہ شارع کو جانتا ہوگا
00:37:04بسنتی تیرا بھائی جانتا ہوگا
00:37:06میرا
00:37:06تیرا کوئی مستقبل نہیں ہے
00:37:08اور جس کا کوئی مستقبل نہیں
00:37:10اس کو حال میں ہی چھوڑ دینا چاہیے
00:37:13چھٹا
00:37:14ایک گھٹیا انسان
00:37:15مجھے پہلے ہی سمجھانا چاہیے تھا
00:37:17کہ تم سے میرا ساتھ
00:37:18تم صرف میرے ساتھ
00:37:20ٹائم پاس کر رہے ہو
00:37:21تمہارے جیسا
00:37:22گھٹیا انسان
00:37:23کسی سے محبت کر ہی نہیں سکتا
00:37:25لیکن تم نے
00:37:26اپنی جھوٹی محبت کا ڈراما
00:37:27میرے ساتھ کیا
00:37:28میرے ساتھ
00:37:30کیا تھا
00:37:31تمہیں تو میری زندگی میں آئے
00:37:33آ کر مجھے چھوڑ دوگے
00:37:36مجھے زمل جنید خان کو
00:37:38ارے تم کیا
00:37:39مجھے چھوڑ دوگے
00:37:40سڑک چھاپ گبر
00:37:41میں تمہیں خود چھوڑ رہی ہوں
00:37:42تمہارے گھٹیا
00:37:43تمہارے جیسا گھٹیا
00:37:45شخص اسے شادی کرنے سے بہتر ہے
00:37:47کہ میں اس خان سے شادی کر لوں
00:37:49اور اب میں ایسا ہی کروں گی
00:37:52لیکن یہ مت سوچنا
00:37:53کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گی
00:37:54تمہارے ساتھ تو میں وہ کروں گی
00:37:56جو تم جیسے عوارہ
00:37:57بغیرت گنڈوں کے ساتھ کیا جاتا ہے
00:37:59وہ غصے سے آنکھیں دکھاتے
00:38:00وہی سے پلڑ گئی تھی
00:38:01اس کے سامنے رونے کا کوئی فائدہ نہیں تھا
00:38:04اور نہ ہی وہ اس شخص کے سامنے رونا چاہتی تھی
00:38:06اس کی نظروں میں خان کا چہرہ لہر آیا تھا
00:38:11ڈیسینڈ ہینڈسوم
00:38:12بڑی بڑی سیاہ چلاک آنکھیں
00:38:13نرم سا لہجہ
00:38:15غبرو پرسنیلٹی
00:38:16وہ ہر لحاظ سے گبر سے بہتر تھا
00:38:18لیکن وہ اپنے دل کا کیا کرتی
00:38:20جیسے یہ انتہائی گندہ
00:38:21اگر وہ کسی اور کے سامنے دونوں کا مقابلہ کرتے
00:38:26تو شاید وہ کوئی اور ہنسس کے پاگل ہو جاتا
00:38:29اس نے ایک نظر مڑ کے دیکھا
00:38:31گبر اب بھی ویسے ہی
00:38:32اب بھی وہیں کھڑا
00:38:34اسے دور جاتا ہوا دیکھ رہا تھا
00:38:36میں تجھے کبھی معاف نہیں کروں گی گبر
00:38:38اور تمہارے سامنے خان سے شادی کر کے دکھاؤں گی
00:38:40بہت شوق ہے نا تمہیں میرا مستقبل بنانے کی
00:38:43اب میرا مستقبل بنتے ہوئے
00:38:45تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھو گے
00:38:46وہ غصے سے گھورتے ہوئے بولی
00:38:49اور اس سے نگاہیں پھیر کر آگے کی طرف جانے لگی
00:38:51سوڑے سے فاطلے پر رکھ کر
00:38:53اسے دیکھا
00:38:54اٹھے قدموں واپس آئی
00:38:56اور ایک اور زوردار تھپڑ اس کے موں پر مارا
00:38:59تم اس کے لائک ہو
00:39:00وہ اس سے کہتی پھر پلٹ کر وہاں سے چلی گی
00:39:03جبکہ گبر کی نظروں نے
00:39:05دور تک اس کا پیچھا کیا تھا
00:39:07اس نے ہوسٹل پہنچتے ہی
00:39:10سب سے پہلے اپنے فون سے تائشہ کو فون کیا تھا
00:39:13اور کہا تھا کہ آپ کو جہاں میری شادی کرنی ہے
00:39:15میں کرنے کے لئے تیار ہوں
00:39:17اب میں وہ ہی کروں گی جو آپ میرے سے کہیں گی
00:39:19وہ کہہ کر فون بند کر چکی تھی
00:39:21جبکہ دوسری طرف تائشہ کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا
00:39:24لیکن وہ اس کی
00:39:25اس بات پر بہت خوش تھی
00:39:26آخر اس کی بیٹی اس کی بات مان چکی تھی
00:39:29ایک ماہ کے لئے
00:39:31اس سے
00:39:32ایک ماہ کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی
00:39:35اور کون سی بات ہو سکتی ہے
00:39:37کہ اس کی بیٹی شادی کے لئے
00:39:39مان گئی
00:39:40اس نے فورا جازم کو فون کر کے یہ خوش خبری سنائی تھی
00:39:43اور اپنی بہن کی طرف سے
00:39:45گرین سگنل ملتے ہی
00:39:46اس نے شارک کو فون کیا تھا
00:39:47یقینا یہ بات اس کے لئے بھی بہت بڑی خوش خبری ہوگی
00:39:51جس کی صرف تصویر دیکھ کر
00:39:53وہ اگلے ہی دن اس کی شادی پر جا پہنچا تھا
00:39:55جبکہ اس کے پاس
00:39:56بلکو بھی ٹائم نہیں تھا
00:39:58اب تو یہ خبر سن کر بے ہوش ہو جائے گا
00:40:00دنیا کی نظروں میں وہ سیریز
00:40:02قسم کا انسان
00:40:09جتنا خوبصورت ہے
00:40:10اس کا دل اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے
00:40:13وہ کام کے وقت کام جبکہ
00:40:15واقعہ وقت سب کے ساتھ
00:40:18بہت اچھا ریلیشنشپ رکھتا تھا
00:40:19بڑے سے بڑے سے لے کر
00:40:21چھوٹے سے چھوٹے افیسر تک
00:40:23وہ سب کی نہ صرف عزت کرتا تھا
00:40:25بلکہ بہت محبت سے بات کرتا تھا
00:40:27جازم کو تو یہ پہلی ملاقات میں
00:40:30ہی بلکل پرفیکٹ انسان لگا تھا
00:40:32اور جب وہ اس کی بہن کے لئے رشتہ لے کر گیا
00:40:34اس نے دل سے دعا مانگی تھی
00:40:36کہ اس کی بہن اس رشتے کے لئے ہاں کر دے
00:40:38اور اب جب وہ ہاں کر چکی تھی
00:40:40تو جازم کی خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ تھی
00:40:42لیکن نہ جانے کیوں
00:40:44شارک اس کا خون نہیں اٹھا رہا تھا
00:40:46پھر اپنے سر پہ ہاتھ مارتا
00:40:48خون ٹیبل پر پھینک دی
00:40:50پھینک گیا
00:40:50میرا بھی دماغ خراب ہے
00:40:53اس وقت وہ بہت بیزی ہوگا
00:40:55میں اسے بعد میں فون کروں گا
00:40:56اس کا خون کب سے بج رہا تھا
00:40:58جبکہ وہ گہری نیند میں سو رہا تھا
00:41:00جب وانی نے آ کر اس کے موپر
00:41:02اپنے تھنڈے تھنڈے ہاتھ رکھے
00:41:03وہ ایک جھڑکے سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا
00:41:05یقینا وہ ہاتھ برف سے نکال کر لائی تھی
00:41:08دوست آپ کا فون بج رہا ہے
00:41:10اسے اٹھے دیکھ کر وہ فوراں بولی
00:41:12جبکہ اس کے تھنڈے ہاتھ محسوس کر کے
00:41:15وہ پریشان ہو گیا تھا
00:41:16وانی آپ کے ہاتھ اتنے تھنڈے کیوں ہیں
00:41:18اسے لگا تھا کہ وہ شاید بیمار ہے
00:41:20اس لئے اس کے ننے ہاتھ تھام کر
00:41:22فکرمندی سے پوچھنے لگا
00:41:24میں نیچے سے برف کھا کے آئی ہوں
00:41:26اس نے فوراں اپنا کارنامہ سنایا
00:41:28وانی بیٹا ہے ایسے برف نہیں کھاتے
00:41:31گلہ خراب ہو جاتا ہے
00:41:32آپ کی ماما نے آپ کو منع نہیں کیا
00:41:34اسے نشال کی لاپروہی پر غصہ آیا تھا
00:41:37نہیں ہوتا
00:41:38ماما خود کھاتی ہیں
00:41:40تھنڈی تھنڈی برف
00:41:41اس نے مزے کی ہوتی ہے
00:41:42آپ نے کبھی کھائی ہے
00:41:43اتنا مزہ آتا ہے
00:41:44ہاتھ تھنڈے ہو جاتے ہیں
00:41:45ایک دم برف کے جیسے
00:41:47وہ اپنے ہاتھ دوبارہ
00:41:48اس کی گالوں پر رکھتے ہوئے بولی
00:41:50اس کے معصوم انداز نے
00:41:51جہاں اسے مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا
00:41:54وہی نشال کا راز کھلنے پر
00:41:56وہ کھل کر ہنسا
00:41:57بری عادت ہے
00:41:58آپ کی ماما کو
00:41:59آپ کی ماما نے
00:42:00آپ کو بھی ڈالی ہے
00:42:02بہت کلاس لینی ہوگی
00:42:03آپ کی ماما کو
00:42:04بہت مشکل ہے
00:42:05تظہار نہ
00:42:06وہ مسکراتے ہوئے سے بتا کر
00:42:08فون اٹھانے لگا
00:42:09لیکن دوست
00:42:10وانی نے معصومے سے
00:42:11کچھ کہنے کی کوشش کی
00:42:12جب یاسم نے اسے ٹوک دیا
00:42:14میں نے آپ سے کہا
00:42:15کیا کہا تھا
00:42:16اب سے آپ مجھے دوست نہیں
00:42:18بلکہ بابا سائن کہہ کر بلائیں گی
00:42:20آپ
00:42:21اپس سوری
00:42:22میں بھول گئی
00:42:23وہ اپنے ماں سے برہات مارتے ہوئے بولی
00:42:25جبکہ وہ اس کی ادا پر مسکر آیا
00:42:27لیکن دوست
00:42:28میں نہ
00:42:29صرف آپ کے سامنے ہی
00:42:30آپ کو بابا سائن کہہ کر بلاؤں گی
00:42:32ممہ کے سامنے نہیں
00:42:33ممہ ڈانٹیں گی
00:42:35مجھے وہ مو بنا کر بولی
00:42:37ڈانٹ کھا کر
00:42:38دکھائے
00:42:39ڈانٹ کر دکھائے آپ کی ممہ آپ کو
00:42:41آپ کے بابا کس لیے ہیں
00:42:42بلکل پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے
00:42:45وہ اس کے ننے ہاتھ چوم کر بولا
00:42:47لیکن دوست میری ممہ تو کہتی ہے
00:42:49کہ میرے باپ
00:42:50فوت ہو چکے ہیں
00:42:52اور جو لوگ خوت ہو جاتے ہیں
00:42:53ہمیشہ کے لیے
00:42:54اللہ جی کے پاس چلے جاتے ہیں
00:42:56وہ اپنی کنفیشن دور کرنے کے لیے
00:42:58اس سے پوچھنے لگی
00:42:59ہاں بلکل ایسا ہی ہے
00:43:00لیکن اللہ جی نے آپ کے بابا کو
00:43:02آپ سے لے لیا
00:43:04اسی لیے انہوں نے مجھے یہاں بھیجا ہے
00:43:06اب سے میں آپ کا بابا بن جاؤں
00:43:08وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا
00:43:10جب اگلے ہی لمبے نشال اندر داخل ہوئی
00:43:12آپ مجھے سمجھایا
00:43:14سمجھایا یہ ساری آپ کی پڑھائیوی پٹیاں ہیں
00:43:17آپ میری بیٹی مجھ سے دور کر رہے ہیں
00:43:20اب جانتے بھی ہیں
00:43:21اب کیا کر رہے ہیں
00:43:23آپ ایک یتیم بچی کو زبردستی
00:43:25ایک لفظ اور نہیں نشال
00:43:27خبردار جے تم نے میری بچی کو یتیم کہا
00:43:29میں ہوں اس کا باپ
00:43:30میری بیٹی ہے یہ
00:43:31اور بہت جلد تم بھی اس بات کو قبول کر لوگی
00:43:34بہتر ہوگا کہ خود کو تیار کر لو
00:43:36ورنہ آگے یہ سب باتیں تمہارے لیے مشکل پیدا کر دیں گی
00:43:39یاسم حیدر شاہ عشق کی راہ میں نکل چکا ہے
00:43:42اور عشق کی راہ میں
00:43:44یا جیت کر واپس آیا جاتا ہے
00:43:45یا مر کر
00:43:46فنا ہوا جاتا ہے
00:43:47لیکن ناکام نہیں پلٹا جاتا
00:43:49وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے
00:43:51انتہائی غصے سے بولا
00:43:53جبکہ اس کے انداز پر ایک پل کے لیے نشال بھی سہم سی گئی
00:43:57لیکن اس وقت اس کا فون پھر بجا
00:43:59اس سے مصروف دیکھ کر وہ وانی کا ہاتھ تھام کر
00:44:02اسے زبردستی نیچے لے جانے لگی
00:44:04جب فون اٹینڈ کرتے ہوئے وہ بھی وانی کا دوسرا ہاتھ تھام کر
00:44:08اسے اپنی طرف کر چکا تھا
00:44:10جی بابا سائی کیسے ہیں آپ
00:44:12حیدر کا نمبر دیکھ کر اس نے حیرت سے پوچھا
00:44:15جبکہ سارا دھیان نشال پر تھا
00:44:17یاسم میں بات کر رہی ہوں
00:44:19فون سے آنے والی بات پر
00:44:20یاسم اگلے ہی لمحے وانی کا ہاتھ چھوڑ چکا تھا
00:44:23لبکہ وانی نشال کے ساتھ جانے کو تیار نہ تھی
00:44:26اسی لئے نشال کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتی
00:44:29اپنے دوست کی جانے بھاگی
00:44:31وہ اسے سکت نظروں سے گھوڑ رہی تھی
00:44:33جس کا وانی کوئی اثر نہیں لے رہی تھی
00:44:36جبکہ نور کی آواز سنتے ہی
00:44:38یاسم کا پورا جسم کان
00:44:39پورا جسم کان
00:44:42بن چکا تھا
00:44:43آج اگر کوئی اس سے پوچھتا
00:44:45کہ خوشی کیا ہے
00:44:47زندگی کیا ہے تو وہ کہہ سکتا تھا
00:44:49اس کی ماں کی آواز جس سے سنتے ہی
00:44:51اس کے آنکھوں میں آنسو آگے تھے
00:44:53اٹھائیس سالہ زندگی میں اس نے پہلی بار
00:44:55اس کے لبوں سے اپنا نام سنا تھا
00:44:57امہ سائی حکم کرے
00:44:59وہ اپنی آنکھوں سے آنسو کا کترہ صاف کرتے ہوئے
00:45:01نرم لہجے میں بولا
00:45:02ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی بہت حسین خواب دیکھ رہا ہے
00:45:06جس میں اس کی ماں نشال وانی
00:45:08اس کے سب اس کے ساتھ ہیں
00:45:10مجھے ایک فیصلے کے لیے تمہاری اجازت درکار ہے
00:45:12نور کی آواز اس کے کانوں میں پڑی
00:45:14امہ سائی اجازت آپ حکم کریں
00:45:16آپ کی ہر بار میرے سر آنکھوں پر
00:45:19آپ ایک بار کہیں تو سہی
00:45:20کہ میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں
00:45:22وہ جدبات سے بوجھل انداز میں بولا
00:45:24جبکہ اس کی اس طرح سے کہنے پر
00:45:26نور کو اپنے دل پر ایک بوجھ سامحسس ہوا
00:45:29تم واپس آؤ یاسم
00:45:30یا میں تم سے یہاں بات کروں گی
00:45:33بس تم آ جاؤ
00:45:34اب جو بھی بات ہوگی سامنے بیٹھ کر ہوگی
00:45:36نور نے کہا
00:45:37جبکہ وہ وہاں میں
00:45:38جبکہ وہ ہاں میں سر ہلاتا
00:45:40واپس آنے کا یقین دلا کر
00:45:41فن بند کر جگہ تھا
00:45:43وہ نے کب سے اپنی ماں کی گھوریوں کو اگنور کرے
00:45:45اسے روتے ہوئے دیکھ رہی تھی
00:45:47اچانک اپنے ننے ہاتھوں سے
00:45:49اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے
00:45:51اس کی پریشانی کی وجہ جاننے کی کوشش کرنے لگی
00:45:54جبکہ ہی اس نے
00:45:55بینا کچھ بھی سوچے سمجھے
00:45:57اسے اپنے سینے میں بھیج لیا
00:45:59میرا بچہ میری جان
00:46:01I love you
00:46:02وہ انتہائی شدہ سے بولا
00:46:03جبکہ وانی نے اسے
00:46:04I love you too کہتی
00:46:05اس کی ترک آنکھیں دیکھ کر بھی پریشان تھی
00:46:07نور فون بند کیے
00:46:09نہ جانے کتنی دیر اسی فون کو دیکھتی رہی
00:46:12جبکہ حیدر اس کے ساتھ کھڑا
00:46:14اس کے آنسوں سے بھیگا ہوا چیرہ
00:46:15صاف کر رہا تھا
00:46:17حیدر صاحب ہی بتائیں
00:46:18اسے کیا پسند ہے
00:46:19میں اس کی پسند کا کھانا بناؤں گی
00:46:21میں اس کے کمرے کو صاف کرواتی ہوں
00:46:23اپنے آنسوں سے چھپاتے ہوئے
00:46:25وہ مسکر آ کر کمرے صبح نکر گئی
00:46:27آج اٹھائی سال کے بعد
00:46:29اپنی خواہش پوری ہوتے دیکھ کر
00:46:30حیدر کی خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہ تھا
00:46:33لیکن یہ کوئی نہیں جانتا تھا
00:46:34کہ یہ خوشی کتنے لمحات کے لیے ہے
00:46:36زائلہ اور تائشہ دونوں شاپنگ کے لیے آئے تھے
00:46:39کافی زاری شاپنگ کرنے کے بعد
00:46:41ان دو لوگوں کا واپس آنے کا ارادہ ہوا
00:46:43ابھی وہ مارکر سے بھائی نکلے ہی تھی
00:46:45کہ تائشہ کو پھر کچھ عاد آ گیا
00:46:47اور وہ اسے وہیں رکنے کا کہتے ہوئے اندر چلی گئی
00:46:50اسے باہر اکیلہ کھڑا دیکھ کر
00:46:52ایک لڑکا سامنے چائے کے ڈبے
00:46:54ڈابین و ہوتل سے نکل کر
00:46:55اس کے ساتھ کرسی رکھ کر بیٹھ گیا
00:46:57دوب کی وجہ سے لوگ نہ ہونے کے برابر تھے
00:47:01وہ اس لڑکا کو گھورتے ہو
00:47:03فوراں پیچھے ہٹ کر کچھ فاطلے پر کھڑی ہوئی
00:47:05لیکن عجیب لڑکا تھا پیچھے ہی پڑھ چکا تھا
00:47:07اس سے بچنے کے لیے وہ مارکر کے اندر جانے لگی
00:47:09جب وہ اچانک اس کے راستے میں کھڑا ہو گیا
00:47:11غصے سے دائلہ کا چہرہ سرخ ہونے لگا
00:47:14وہ بار بار اندر کی طرف دیکھنے لگی
00:47:16یہاں آس پاس کوئی بھی نہیں تھا
00:47:18وہ تو تنہائی میں آ کر کھڑی ہوئی تھی
00:47:20اسے کیا پتا تھا کہ یہ وارا لڑکا اس کے پیچھے پڑ جائے گا
00:47:23اور اب عجیب تھا اس کا راستہ روکے ہوئے تھا
00:47:26وہ بار بار مارکر کی طرف دیکھنے لگی
00:47:28کہ تائشہ وہاں سے باہر نکلے
00:47:30اب تو اسے اس لڑکے سے خوف بھی آنے لگا تھا
00:47:33اسے اس وقت خود پر غصہ آ رہا تھا
00:47:36جو اس کا مقابلہ نہیں کر پا رہی تھی
00:47:38کیا وہ اتنی کمزور ہو گئی تھی
00:47:40کہ اس لڑکے کو اپنے راتے سے رکھنے کا موقع دے دیا
00:47:42اس سے پہلے کہ وہ لڑکا مزید کو بتتمیزی کرتا
00:47:47پاس سے گزری کچھ عورتوں کے ساتھ
00:47:48وہ بھی ان کے پیچھے آئی
00:47:49وہ لڑکا عورتوں کو دیکھتے ہوئے پیچھے ہڑ گیا
00:47:52اور اپنی کرسی اٹھا کر سوڑے فاصلے پر مجود
00:47:54ہوتل میں عورہ لڑکوں کے ساتھ بیٹھ گیا
00:47:57یقیناً وہ اسی کے ساتھ ہی تھے
00:47:59وہ کب سے اس کا تماشا دیکھ رہے تھے
00:48:01اس وقت وہ تائشہ کے ساتھ خاموشی تھے
00:48:02گھر واپس آ کے لیکن اندر سے دل کر رہا تھا
00:48:05کہ وہ اتنا روئے کہ حد کر دے
00:48:07آخر لڑکیاں اتنی کمزور کیوں ہوتی ہیں
00:48:09کہ ایسے عورہ لڑکوں کا مقابلہ تک نہیں کر پاتی
00:48:12کاش وہ آج اس لڑکے سے کچھ کہ پاتی
00:48:14تو یقیناً دوبارہ ایسی حرکت کرنے کی حمد نہیں کرتا
00:48:17ایسی ہو جٹھانی میڈم
00:48:19تم تو یار مو ہی نہیں لگاتی
00:48:21یہ ساسو ماں نے منہ تو نہیں کر رکھا
00:48:24وہ ذریع شرارتی انداز میں بولی
00:48:26تو ذریعہ مسکرائی
00:48:28نہیں مجھے کسی نے نہیں منہ کیا ہوا
00:48:30اور کسی نے کہا ہے
00:48:32کہ میں تم سے بات نہیں کرتی
00:48:34تو کس نے کہا ہے کہ میں تم سے بات نہیں کرتی
00:48:36تمہیں مو نہیں لگاتی
00:48:38تم خود ہی کمرے سے باہر نہیں نکلتی
00:48:40وہ تو ہر شادم گلتی سے
00:48:42آفیس چلا گیا تو تمہیں بھی باہر نکلنے کی توفیق ہوئی
00:48:45ذائلہ نے لطیف سا تنز کیا
00:48:47تو وہ شرمائی
00:48:48ہاں یار اب تجھے کیا بتاؤں
00:48:50کہاں پھات گئی ہوں میں
00:48:51تمہارا دیور دیور نہ بڑی توپ چیز ہے
00:48:54اللہ اللہ کر کے آج سے آفیس دروانہ کیا ہے
00:48:57اب یہ گھنٹے میں واپس ٹپکتا ہوگا
00:49:00دیکھنا تم
00:49:00ہر اسے چھوڑو تم بتاؤ
00:49:02اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو
00:49:03کوئی مسئلہ ہے کیا
00:49:04لگتا ہے پالر والے
00:49:06پالر والے نہیں گئی
00:49:08نئیندویلی دولن کو
00:49:09اس سے بڑا اور کوئی غم نہیں ہوتا
00:49:11میں جانتی ہوں
00:49:12ساسو مانے ظلم کی انتہا کرتے ہو
00:49:14کہ میں پالر میں قدم نہیں رکھنے دیا ہوگا
00:49:17کہا ہوگا میرے بیٹے کی تنخواہ کو
00:49:19فضول خرچی میں مت لگاؤ
00:49:20یہی کہا ہے نا
00:49:22وہ اسے دبردستی ہاں
00:49:24کہنے پر مجبور کر رہی تھی
00:49:25ایسا کچھ نہیں ہوا یار
00:49:27ساسو ماہ اتنی بھی بری نہیں ہے
00:49:29اپنے بیٹے کو وہ میرے حوالے کر چکی ہیں
00:49:31تو اس کا بٹوا بھی میرا ہی ہے
00:49:34مسئلہ بس یہ ہے
00:49:35کہ ہر شاپنگ مال کے باہر
00:49:36ایک ہوارا لڑکا مجھے
00:49:38بہت بری طرح سے تنگ کر رہا تھا
00:49:39اور یقین کرو میں ایسے کچھ بھی نہیں کہہ پائی
00:49:42کچھ بھی نہیں
00:49:42یار مجھے سمجھ نہیں آتا
00:49:44کہ ہم لڑکیاں ایسے لوگوں کے خلاف
00:49:46کچھ بول کیوں نہیں پاتی
00:49:47تمہیں پتا ہے
00:49:48مجھے اس سے اتنا خوف آ رہا تھا
00:49:50کہ میں بیان نہیں کر سکتی
00:49:51نہ چاہتے ہوئے بھی
00:49:52ذائلہ کی آنکھیں نم ہونے لگیں
00:49:54جب تائشہ کو کچھن سے نکلتے دیکھ کر
00:49:56فوراں آنکھیں صاف کی
00:49:57تاسو ماہ آپ نے مجھے تو
00:49:59آفر ہی نہیں کی
00:50:00شاپنگ پر چلنے کی
00:50:01میں نے بھی تو چیزیں لینی تھی
00:50:03یہ کیا بات ہوئی
00:50:04ایک تو بہو کو اٹھا کر لے گئی
00:50:06وہ بہت جو
00:50:08بتیجی بھی ہے
00:50:10ہاں جی فرق تو ہوگا ہی نا
00:50:12آخر وہ
00:50:13ہنی جو ہے اور ایک میں ہوں
00:50:16جو صرف بہو کی
00:50:17بہو ظلم کی انتہا ہو گئی
00:50:19وہ اوور ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی
00:50:21نہ بیٹا نہ صبح
00:50:22اس کے انکار پر
00:50:23تمہیں کہنے کمرے میں آئی تھی
00:50:25جب تم نے کہا کہ
00:50:26تمہیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے
00:50:28اور ایسی دوب میں باہر نکل کر
00:50:29اپنا نیا نویلہ دولہ
00:50:31پن حراب نہیں کرنا چاہتی
00:50:33تائشہ رہ صبح کی ایک ایک بات
00:50:38ہاں تو وہ تو صبح کی دھوک
00:50:40چلی کہا تھا نا
00:50:41اب تو چر سکتی ہیں نا
00:50:43میرے ساتھ
00:50:44کہلیں مجھے شاپنگ پر جانا ہے
00:50:45بلکہ آپ رہنے دیجئے
00:50:47آپ اتنے مزے کی بریانی برہ رہی ہیں
00:50:49اسے بنائیں
00:50:50میں اور زائلہ تب تک آتے ہیں
00:50:51وہ جلدی سے کمرے سے اپنی
00:50:53کیادر لیتے ہوئے
00:50:54زبردستی زائلہ کا ہاتھ تھام کر
00:50:56اسے اپنے ساتھ لے آئی
00:50:57تم کیا کرنے والی ہو
00:50:58زائلہ نے گھبرا کر پوچھا
00:50:59وہ شاپنگ کے لیے تو
00:51:00ہرگز نہیں آئی تھی
00:51:01یہ بات تو اچھے سے جانتی تھی
00:51:03دیکھو زندگی میں
00:51:04افسوس ناک چیز تھی
00:51:05افسوس نام کی چیز نہیں ہونی چاہیے
00:51:08تمہیں افسوس ہے نا
00:51:09کہ تم صبح اس لڑکے کو
00:51:10کچھ نہیں کہہ پائی
00:51:11پر اب وہ لڑکہ
00:51:12شاید صبح سے نہ جانے
00:51:13کتنی عورتوں
00:51:14لڑکیوں کو تنگ کر چکا ہوگا
00:51:15ان کی عمر کا لحاظ کیے بغیر
00:51:17میری پیاری جتھانی طہبہ
00:51:19چلو میرے ساتھ
00:51:19ہم اس لڑکے کو مزہ چکھانے جا رہے ہیں
00:51:21یقین کرو آج کے بعد
00:51:23نہ وہ لڑکا کبھی
00:51:24کسی لڑکے کو تنگ نہیں کرے گا
00:51:25اور تمہارا افسوس بھی ختم ہو جائے گا
00:51:27میں نہیں چل رہی واپس
00:51:29چلو یار کیوں بیکار میں پنگا لے رہی ہو
00:51:31وہ اس کا ہاتھ تھام کر
00:51:32واپس لے کر جانے لگی
00:51:34بہادر بنو زائلہ
00:51:35کوئی عام لڑکی نہیں
00:51:36عام لڑکی نہیں ہوں
00:51:38انسپیکٹر جازم جنید خان کی بیوی ہو
00:51:41اور مجھے دیکھو
00:51:42وہ شازم جنید خان کے ایک آفس والے کی بیوی ہو کر
00:51:45تم سے زیادہ ہمت ہے مجھ میں
00:51:46وہ اسے گھورتے ہوئے بولی
00:51:48لیکن مجھے پتا ہے
00:51:49تم یہ ہمت شازم جنید خان کی بیوی بننے کے بعد نہیں
00:51:52پہلے سے رکھتی ہو
00:51:53مجھ میں جازم خان جنید کی بیوی بننے سے پہلے بھی
00:51:56اتنی ہمت نہیں تھی
00:51:57اور نہ ہی اب ہے
00:51:58مجھ سے شازم جنید خان
00:52:00ایک بار جو فیطلہ کر لے
00:52:02وہ پتھر پر لکیر ہوتا ہے
00:52:03اب شرافت ہے میرے ساتھ چلو
00:52:05ورنہ میں اکیلی چلی جاؤں گی
00:52:06وہ وون کرتے ہو
00:52:08بولی وہ یہاں سے زائلہ اکیلے گھر نہیں جا سکتی تھی
00:52:10یہ نہیں تھا کسے گھر جانے میں ڈر لگتا تھا
00:52:13مسئلہ یہ تھا کہ تاشاہ اتنے
00:52:14وجہ پوچھیں گے
00:52:15اور اس کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی
00:52:17تھوڑی دیر میں وہ دونوں مارکن پر پہنچ چکی تھی
00:52:20جہاں تھوڑے ہی فاصلے پر وہ لڑکے
00:52:22اب بھی کرسیاں لگائے
00:52:23ہر آنے جانوری لڑکی کو ٹارگٹ کی ہوئے تھے
00:52:26درش نے اس کا ہاتھ چھڑا
00:52:28مسکراتے ہوئے آکے پڑھیں
00:52:29ان کے پاس آ رکھی
00:52:30اس خوبصورت لڑکی کو اپنی طرح آتے دیکھ
00:52:32لڑکا مسکرائے اور اسے تنگ کرنے کے بارے میں
00:52:34سوچنے لگا جبکہ باقی لڑکے
00:52:36وہیں ٹیبل کے آگے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے
00:52:38دوپہر اس جگہ دھوپ ہونے کی وجہ
00:52:40تو یہاں کوئی نہیں تھا لیکن اس وقت
00:52:42اس کے علاوہ باقی تمام ٹیبل پر بھی
00:52:45بہت سارے لوگ بیٹھے ہوئے تھے
00:52:46درش نے ایک نظر سارے مردوں کو دیکھا
00:52:49شاید یہ تھا ہی عوارہ لڑکوں کا
00:52:50ہوتل اور پھر اگلے ہی لمحے
00:52:52اس لڑکے کو گردن سے پکڑا ٹیبل پر لگا دیا
00:52:55اور اس کی حرکت پر پاس کھڑے
00:52:57تمام لڑکے کھڑے ہو گئے
00:52:59درش ہاتھ اٹھا کر ذرا سا مسکرائے
00:53:01لڑکے نے اٹھنے کی کوشش کی
00:53:02اور اگلے ہی لمحے اتنے ایک زہر دار
00:53:04تھپڑ اس کے موں پر مارا
00:53:05آگے بڑھنے کی غلطی کی تو
00:53:07سب کو اندر کروا دوں گی
00:53:09انسپیکٹر جازم جنید خان جیٹ ہے میرا
00:53:11اس نے اکڑ کے کہا جبکہ اس سے کچھ فاصلے پر کری
00:53:14ذائلہ پریشان ہو جائی تھی
00:53:15اس کے شوہر کے نام پر اکڑ رہی تھی
00:53:19اور ذائلہ اسے ڈر رہی تھی
00:53:20لانت ہے مجھ پر وہ بل بڑھاتے ہوئے آگے بڑھی
00:53:23آجاؤ میری ہیروین
00:53:25اپنا بدلہ لے لے
00:53:26یہ سے ذائلہ سے کہا جب وہ گستے سے
00:53:28اپنے بازو کی آستین پیچھے کرتے ہوئے
00:53:30تھپڑ لگانے لگی
00:53:32تو ذرش نے اسے روک لیا
00:53:33بہت ہمت ہے تیرے ہاتھ میں
00:53:34دھائی کلو کا ہاتھ ہے تیرا
00:53:36نہیں نا تو جھوٹا تار
00:53:38اور شروع ہو جاؤ
00:53:39ذرش نے اسے بتایا
00:53:41اور اس پر عمل کرتے ہوئے
00:53:42اس نے فوراں جھوٹی نکال رہی
00:53:44اور اس آدمی کو شروع ہو گئی
00:53:46وہ جب یہ اٹھنے کی کوشش کہتا ہے
00:53:47ذریز اور در تھپڑ اس کے مو پر دے مارتی
00:53:49پاک کھڑے لوگ مسلسل یہ نظارہ دیکھ کر پریشان ہو رہے تھے
00:53:53جبکہ کچھ فاطلے پر کھڑی عورت ہس رہی تھی
00:53:56جبکہ ایک کی آواز آئی
00:53:58بیٹا اور مارو ایسے
00:53:59یہ کل میری بیٹی کو تنگ آ رہا تھا
00:54:01آنٹی نے قریب آتے ہوئے کہا
00:54:02ارے آنٹی جی اس نیک کام میں آپ بھی مارا ساتھ دیں
00:54:05اور اپنی بیٹی کو بھی بلائیں
00:54:06ایسے لوگوں کی نیچ حرکتوں سے
00:54:17جنم دیا ہے
00:54:18ذریش نے کہتے ہوئے سے آگے کی طرف دھکا دیا
00:54:21چور تو بہن گلتی ہو گئی
00:54:22اور کتنا مارو گی وہ تقریبا محنت سے کرتے ہوئے بولا
00:54:25شکل سے کسی شریف گھر کا لگ رہا تھا
00:54:28یقین ان برے دوستوں کی صحبت کا اثر تھا
00:54:30لیکن ذریش اس کی ماں بننے کا فرض نبھاتے ہوئے
00:54:33اسے اکل سکھا رہی تھی
00:54:34وہ نہ صرف اسے اس کے گھر لے کر گئی
00:54:37بلکہ اس کی ماں سے اچھے خاصے
00:54:38تھپڑ پڑھوانے کے بعد
00:54:40وہ باپ سے بھی اچھی خاصے مار دلوائی
00:54:42ایسے لوگوں کو ایسے ہی انجام ہوتا ہے
00:54:44دیکھنے میں 21 سال کا لڑکا تھا
00:54:47اور لڑکیوں کا جینا حرام کر کے رکھا ہوا تھا
00:54:49آج کل کی لڑکے سے
00:54:51بری توبت کی وجہ سے ایسے کام کر رہے تھے
00:54:53جن کے ماں بک کو پتا ہی نہیں ہوتا
00:54:55کہ آخر دن میں ان کے بیٹے ہوتے کہاں ہیں
00:54:57اور ایسے لڑکوں کو تربیت کی ضرورت ہے
00:54:59اب دوبارہ ایسی حرکت کی
00:55:01نہ تو جیل جاؤ گے
00:55:02یاد رکھنا
00:55:03اگلی بار اس سے برا انجام ہوگا
00:55:05ذریش اسے بون کرتے ہوئے
00:55:06زائلہ کا ہاتھ تام کر
00:55:07واپس لے آئی
00:55:08زائلہ کو لگا تھا یہ بات
00:55:11وہ گھر میں کسی کو نہیں بتائے گی
00:55:12لیکن ایسا نہیں ہوا
00:55:13اس نے گھر جا کر کہا
00:55:14کہ اس کو کوئی تنگ کر رہا تھا
00:55:16اور زائلہ نے نہ صرف اسے تھپڑ مارا
00:55:18بلکہ بہت ساری عورتوں نے مل کر اسے مارا
00:55:21اور اسے اس کے گھر چھوڑ کے آیا
00:55:23اور اس کے ماں باپ کو بھی اس کی روٹین کے بارے میں بتایا
00:55:25تائشت زائلہ کے واری واری جا رہی تھی
00:55:27کہ اس کی بتیجی کتنی بہادر ہے
00:55:29وہ یہی ساری باتیں
00:55:31اتنے خون پر ناظم کو بھی بتائی تھی
00:55:33جبکہ شعظم نے ذریش سے کہا
00:55:35تھوڑی سی حمد تم بھی دکھا لیتی
00:55:37دیکھو میری بھابی کتنی بہادر ہے
00:55:39تمہاری ساری باتیں اور غصہ صرف میرے لیے ہی ہے
00:55:42کیا جو پر ذریش کو غصہ آیا
00:55:47اور کہا آپ ذرا کمرے میں چلے
00:55:53پتا ہے تمہارا تشدو صرف میرے لیے ہے
00:55:55آج صبح سے وہ اس کے سارا شہر گھما رہا تھا
00:55:58پچھلے ایک ہفتے سے وہ لوگ اسلام آباد گئے ہوئے تھے
00:56:00وہ صبح کے وقت جلسے پر جاتا
00:56:02اور پھر سارا دن واپس آ کر اس کے ساتھ گزارتے ہوئے
00:56:05اس کے نخرے اٹھاتا
00:56:06اسے تو جیسے اس کی زندگی کی ہر خوشی مل گئی تھی
00:56:09اس کی جانوس آئیں اس کے ساتھ بہت خوش تھی
00:56:12یہ نہیں تھا کہ اسے اس کے اپنوں کی یاد نہیں آتی تھی
00:56:15آتی تھی لیکن اس کے ساتھ شہر نہیں کہتی تھی
00:56:17تھوڑی دیر اداس ہو کر بیٹھ گئی
00:56:19لیکن جب دائم اس سے بات کرتا
00:56:21تو وہ مسکرا کر پھر سی اپنی شرارتی انداز میں واپس آ جاتی
00:56:26وہ آئسہ آئسہ اس کی محبت کو قبول کر رہی تھی
00:56:29اور شاہ بین لمحات کا انتظار کر رہا تھا
00:56:31کہ کب وہ خود اس سے اپنی محبت کو اظہار کرے گی
00:56:34کہیں نہ کہیں محبت کا کوئی پھول تو اس کے دل میں بھی کس چکا تھا
00:56:38اور اسے یقین تھا کہ بہت جلد وہ پھول اپنی خوشبو بھی بکھرے گا
00:56:41آج دوپہر میں اس نے پھول کی دوسری طرف سے جانو سائن کا آواز دی
00:56:45جب پاس کھڑی کچھ لڑکیاں آسنے لگیں
00:56:47اور اس کے بعد اس نے کہا تھا خبردار مجھے جانو سائن کہہ کر بکارا
00:56:51بس حورم ہی کہو
00:56:52اسے اچانک ہی اپنا اصل نام یاد آ گیا تھا
00:56:56جس پر دائم نے مسکراتے ہوئے سر کو خم کر دیا
00:56:59لیکن جہاں بھی جانو سائن کا مو سیدھا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا
00:57:04کیونکہ دو تین بار اس کے نام سے بکار نے
00:57:06اور وہ آگے سے بولی ہی نہیں تھی
00:57:08اور اب اس نے کہا تھا کہ وہ خود اس کا کوئی اٹھا سا نام رکھ لے
00:57:12اور دائم شاہ نے اس کا نام جانشاہ رکھا تھا
00:57:15جس پر وہ شرماتے ہوئے ہاں میں سارے لگی
00:57:18مطلب کہ اس کا یہ نام اسے قبول تھا
00:57:20وہ دن کے بعد وہ اسے ملتان لے جانے
00:57:23دو دن کے بعد وہ اسے ملتان لے جانے والا تھا
00:57:25اور اس نے بتایا تھا کہ ان کے ملتان جاتے ہی
00:57:28بڑی اممہ سائن ان کے گھر آ جائیں گی
00:57:30جیسے لیکن جانو سائن بہت خوش تھی
00:57:33اور اس کی خوشی میں دائم بہت خوش تھا
00:57:35شام میں ہوتل آ کر وہ بیٹ پر لیٹے ہوئے
00:57:37اسے باتیں بتانے لگی
00:57:39شام مجھے تھاڑی پہننی ہے
00:57:41میں تمہیں کل ہی تھاڑی لے دوں گا
00:57:43تم کل ہی پہن لینا
00:57:44لیکن صرف اس کمرے میں
00:57:46میں تمہیں وہ پہن کر کہیں باہر نہیں جانے دوں گا
00:57:49دائم نے کہتے ہوئے آنکھیں موند لیں
00:57:51جبکہ وہ فوراں سر ہی لانے لگی
00:57:52جیسے اس کے علاوہ اس نے کسی کے سامنے پہنی ہی نہیں تھی
00:57:55شام مجھے ہیل والی سینڈر بھی لے کے دیجئے گا
00:57:59جنہیں میں پہن کر پانچ فٹ سے چھے
00:58:01یا سات فٹ کی ہو جاؤں
00:58:02اس نے فوراں ایک دور فرماج کی
00:58:04ٹھیک ہے ڈھونڈنی پڑیں گی
00:58:06لیکن کچھ نہ کچھ کر لیں گے
00:58:08اس نے کہتے ہوئے پھر آنکھیں موند لیں
00:58:10وہ ابھی تک جاگتے ہوئے کوئی نئی بات سوچ رہی تھی
00:58:13دائم کو پتا تھا کہ وہ اتنی جلدی
00:58:15تو ہر گرد نہیں سوئے گی
00:58:16جب تک تقریباً ایک گھنٹہ اس سے
00:58:18اپنی بہت ساری بات نہیں کر لیتی
00:58:20تب تک اس کے سونے کے کوئی چانسز نہیں تھے
00:58:23اس نے ملتان واپس جاتے ہی
00:58:25فوراں نے اس کی سٹڈیز
00:58:27کو شروع کروانے کا فیصلہ کیا تھا
00:58:29اور اس بات کو لے کا جانو سائیں
00:58:31بھی بہت خوش ہو گئی تھی
00:58:32دائم ابھی سونے کی کوشش کر ہی رہا تھا
00:58:34کہ اسے پھر سے آواز سنائی دی
00:58:36شاہ آپ سو گے کیا
00:58:38اور ہرم نے ذرا سا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا
00:58:40دب اچانا کہ اس کے لبوں پر مسکرار پھیل گئی
00:58:44وہ صرف اسی کے معاملے میں نرم دل تھا
00:58:46یقیناً اس کی جگہ کوئی اور ہوتا
00:58:48تو نیند خراب کرنے کی سزا ضرور بگتتا
00:58:50نہیں شاہ جانے شاہ کو ہو
00:58:52وہ اس کی طرف کروٹ لے کر پوچھنے لگا
00:58:54مجھے توتہ چاہیے
00:58:57ایک نئی فرمائش بیان ہوئی
00:58:58توتہ وہ بس ایک لفت پر ٹہر گیا
00:59:00ہاں توتہ پیرٹ گرین کلر کا ہوتا ہے
00:59:03آپ نے کبھی نہیں دیکھا
00:59:04اب وہ بقاعدہ اس کے پاس بیٹھ کر پوچھنے لگی
00:59:07شاہ اس کے انداز پر مسکرائیا
00:59:09تو وہ تو شکر تھا
00:59:11کہ اس کی شیو اس کے ڈمپل شپا لیتی تھی
00:59:13اور نہ شاہ تو اس کے معصوم چہرے
00:59:15کی ایکسائیٹمنٹ کبھی نہ دیکھ پاتا
00:59:17مٹھو ہوتا ہے بہت پیارا ہوتا ہے
00:59:19گرین کلر کا اکتی چونچ ریڈ کلر کی ہوتی ہے
00:59:21آپ نے جیل میں کبھی نہیں دیکھا ہوگا
00:59:24بہرام کے جانے کے بعد
00:59:26اس دن وہ اسے ایک ایک بات بتا چکا تھا
00:59:28یہ بھی کہ وہ دس سال جیل میں گزار کے آیا ہے
00:59:30میری دادی سائیں کے پاس تھا
00:59:33میں سو مرچیں اور انگور کھلایا کرتی تھی
00:59:35لیکن ایک بار وہ
00:59:36اوور ایکٹنگ کی وجہ سے
00:59:37اوور ایٹنگ کی وجہ سے مر گیا
00:59:40دل دیدہ نے کہا کہ میں نے
00:59:42اس کو زیادہ کھلا دیا
00:59:43جیسے دیدہ مجھے کہتی ہے نا
00:59:47کہ تم فیٹی انگور کھاؤ
00:59:50وہ میری ساری باتیں مانیں گی
00:59:52اسی طرح سے میں نے
00:59:54اس کو کہا کہ تم
00:59:55فیفٹی انگور کھاؤ تو تم جو کہو گے
00:59:57میں کروں گی
00:59:58اور مٹھو کو تو زبردستی نہیں کرنی پڑی
01:00:01اس نے تو خود اپنی مرضی سے
01:00:02فیفٹی انگور کھائے تھے
01:00:04ساری بات مانتا تھا
01:00:07پھر میں نے دیدہ کو دوبارہ
01:00:09مٹھو لانے کو بولا لیکن انہوں نے نہیں لایا
01:00:11آپ مجھے لادیں گے نا
01:00:13اب وہ اس سے پوچھتے ہوئے
01:00:15اس کے شرٹ کے بٹنوں کے ساتھ کھے رہی دی
01:00:17شاہ قدیل چاہا کہ پوری دنیا
01:00:19لا کر اس کے قدموں میں رکھ دے
01:00:20شاہ نے آہستہ سے اس کا سر تھام کے
01:00:22اس کے اپنے سینے پر رکھا
01:00:24جانے شاہ تم ریکویٹ نہیں آرڈر کیا کرو
01:00:26میں کل ہی لا دوں گا
01:00:28لیکن ایک شرط ہے
01:00:29تم اسے کبھی فیفٹی انگور کھانے کو نہیں بولو گی
01:00:32وہ آہستہ آہستہ اس کے بالا میں انگلیاں چلاتے ہوئے بولا
01:00:35آئی پرامیس
01:00:36وہ اس کے سینے پر سر اٹھاتے ہوئے
01:00:37اپنی گردن کی نس دو گلیوں میں پکڑے
01:00:40پکڑتے ہوئے وعدہ کرنے والے انداز میں بولی
01:00:44شاہ بے ایک تیار مست رہا
01:00:45تو مجھے پاگل کر دو گی جانے شاہ
01:00:47وہ اسے اپنے سینے میں بھیٹے ہوئے شدت سے بولا
01:00:50دادا سائیں آپ یہاں کیا کر رہی ہیں
01:00:53میں نے آپ کو بیٹھ سے اٹھنے سے منع کیا تھا نا
01:00:55اب میری کوئی بات بھی نہیں سنتی
01:00:57کیوں نہیں سنتی ہیں
01:00:59دل نے نے کچن میں قدم رکھتے دیکھ کر کہا
01:01:01دل سائیں میرا دل چاہ رہا تھا
01:01:03کہ آج میں بہرام کے لیے کچھ سپیشل بناوں
01:01:05بہت دن سے ٹھیک سے کھانا نہیں کھا رہا ہے
01:01:08وہ اسی لیے سوچا کہ آج خود اپنے ہاتھوں سے
01:01:11اس کے لیے کچھ بناوں
01:01:12چکن کڑاہی اسے بہت پسند ہے
01:01:14دادا سائیں سمان نکالتے ہوئے کہا
01:01:16تو کیا مجھے چکن کڑاہی بنانے نہیں آتی
01:01:19دادا سائیں آپ ایک بار کہیں
01:01:20تو صحیح میں بنا دوں گی
01:01:22آپ بیٹھیں یہاں
01:01:23بلکہ نہیں
01:01:24آپ اپنے کمرے میں جا کر آرام کریں
01:01:26تب تک میں چکن کڑاہی تیار کرتی ہوں
01:01:27لیکن آپ اسے نہیں کھائیں گی
01:01:30ڈاکٹر نے آپ کو مسالے والا کھانا کھانے سے منع کیا ہے
01:01:33آپ کے لیے میں کچھ ہلکہ بھلکہ سا بنا دوں گی
01:01:35اب احرام سائیں کے لیے بس ابھی چکن کڑاہی تیار کر رہی ہوں
01:01:39لیکن شرط یہ ہے کہ آپ ابھی اور اسی وقت
01:01:41اپنے روم میں جا کر رست کریں گی
01:01:44وہ انہیں کندوں سے تھامتے ہوئے سیدھی ان کے روم میں چھوڑ آئی
01:01:47اور وہ بھی اس کی ضد کے سامنے ہارتی ہوئی
01:01:50اپنے کمرے میں آ کر بیٹھ گئی
01:01:51دل نے کچن میں قدم رکھتے ہی
01:01:53چکن کڑاہی کا سمان نکالا جب اچانا
01:01:56کہ اس کے دماغ میں شرارت ہے
01:01:58بہت شوق ہے جن آپ کو دادو سائیں کے ہاتھ کی چکن کڑاہی کھانے گا
01:02:01اینہ تو چکن کڑاہی میں کھلاؤں گی
01:02:03ساری
01:02:05ہیرو پنتی جاتی بھی نظر آئے گی
01:02:08دل نے سوچتے ہوئے سارے مثالیں نکال کر کاؤنٹر پر رکھے
01:02:11اب مزہ آئے گا جناب کو
01:02:13ساری زندگی چکن کڑاہی کا نام نہیں لیں گے
01:02:17دل نے ہاتھ سے تعلی بچاتے ہوئے شرارتی انداز میں کہا
01:02:20جبکہ کچن سے باہر سے گزتے بہرام نے چانک
01:02:23اس کا یہ معصوم سا انداز دیکھا تھا
01:02:25آج کل وہ اپنے آپ میں ہی رہنے لگی تھی
01:02:27دل چاہتا تو خوشی سے بنگرے ڈالتی
01:02:29ونہا خاموش ہو کر مو بنا کر بیٹھے جاتی
01:02:32اسے تو ایک آنک دیکھنا پسند نہیں کرتی تھی
01:02:34نہ جانے کیا وجہ تھی
01:02:36وہ پہلے کی طرح نہیں رہی تھی
01:02:38جب سب سچ جاننے کے بعد بھی
01:02:40دل نے اس کے ساتھ اپنا رویہ نہیں بدلا تھا
01:02:42خیر جو کچھ بھی تھا
01:02:45کم از کم وہ اگلے مہینے ہونے والی
01:02:47رکھتی کے لیے اپنا مائنڈ سیار کر چکی تھی
01:02:49بہرام اسے لے کر بہت خوش تھا
01:02:51اسے اسی طرح سے خوش چھوڑ کر وہ اپنے کمرے میں آ گیا
01:02:54دل چاہا کہ جانن سائن سے بات کرے
01:02:56کتنی ہی دیر وہ اپنے فون پر اس کی تصویب دیکھتا رہا
01:02:59لیکن جانتا تھا کہ وہ اس سے بات کرنا پسند نہیں کرے گی
01:03:02اس حادثے میں دائم بھی بے قصور تھا
01:03:04اور بہرام بھی
01:03:05بہرام اپنے بچپن کے اس رویہ کی وجہ سے دائم سے شرمندہ تھا
01:03:09لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ دائم نہ تو اسے پسند کرتا ہے
01:03:12اور نہ ہی اسے بے قصور سمجھتا ہے
01:03:15اور اب تو جانن سائن اس کی بیوی ہے
01:03:17وہ کچھ بھی نہ سہی لیکن دائم کی نظروں میں
01:03:20اس نے جانن سائن کے لیے بے انتہا محبت دیکھی تھی
01:03:22یاسم صبح صبح ہی گھر واپس آ چکا تھا
01:03:26جب سے نور سے اس نے بات کی تھی
01:03:28تب سے دل چاہ رہا تھا کہ بس کیسے بھی نور کے پاس پہنچ جائے
01:03:32اس کے بس میں ہوتا تو شاید اڑ کر اپنی ماں کے پاس پہنچ جاتا
01:03:35جبکہ دوسری طرح نور بھی ساری رات نہیں سوئی تھی
01:03:38اتنی سال اس نے یاسم سے بات نہیں کی تھی
01:03:41اسے ایک ایسی گلتی کی سزا دیتی رہی
01:03:44جس میں وہ خود بھی بے گناہ تھی
01:03:46اور اس کی اولاد بھی بے گناہ تھی
01:03:48قصور کس کا تھا
01:03:49اس شخص کا جو اسے برباد کرتے ہی مارا گیا
01:03:52خود تو مر گیا لیکن اس کے لیے جیتی جاگتی نشانی چھوڑ گیا
01:03:56جسے دیکھ دیکھ کر اسے وہ بھیانک رات یاد آتی
01:03:59جب اس کے ساتھ وہ ظلم ہوا
01:04:01کیا قصور تھا ایک معصوم کا جو اس کی زندگی اس طرح سے برباد ہوئی
01:04:05اگر حیدر اس کے ساتھ نہیں ہوتا
01:04:06تو شاید وہ کبھی جی بھی نہ پاتی
01:04:08شاید کبھی ٹھیک سے بھی ٹھیک بھی نہیں ہو پاتی
01:04:12وہ تو اپنا دماغ کی توازن مکمل کھو چکی تھی
01:04:14وہ حیدر کا ساتھ تھا
01:04:16جسے زندگی دے گیا
01:04:18اسے خوش رہنے کی وجہ دے گیا
01:04:19ورنہ وہ تو زندگی کے ہر خوشی کو کھو چکی تھی
01:04:23اور ان خوشیوں میں اسے پتا چلا
01:04:25کہ وہ ماں بننے والی ہے
01:04:26حیدر کے ساتھ اس کا ایسا کوئی رشتہ نہیں تھا
01:04:29تو شکرین یہ بچہ اسی ظلم کی نشانی تھی
01:04:31جس سے وہ بھلا دینا چاہتی تھی
01:04:34لیکن سب کچھ بھلا رہنا آسان نہیں ہوتا
01:04:36اور نور کے لئے بھی آسان نہیں تھا
01:04:38اس نے ہر ممکن کوشش سے یاسم کو ختم کرنے کی کوشش کی
01:04:42حیدر نے کہا کہ وہ اسے اپنا نام دے گا
01:04:45اسے اپنی پہچان دے گا
01:04:46لیکن نور کو تو اس کا وجود پسند نہیں تھا
01:04:49وہ اپنے ہوئے ظلم کی نشانی کو دنیا میں نہیں لانا چاہتی تھی
01:04:53اللہ نے اس کے سامنے بھی بہت سارے ازمائشیں رکھی تھی
01:04:56یاسم بھی اس کے لئے ایک ازمائشی تھا
01:04:59جسے وہ نہ صرف دنیا میں لائی
01:05:01بلکہ حیدر نے اسے اپنی پہچان بھی دی تھی
01:05:03حیدر کے لئے وہ اس کی پہلی اولاد تھا
01:05:06لیکن نور کے لئے کچھ بھی نہیں
01:05:07وہ اس کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی
01:05:09اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی
01:05:12اگر نور کے بس میں ہوتا تو اسے دنیا سے غائب کر دیتی
01:05:15اور حیدر سے ہمیشہ یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے
01:05:18جس کی اولاد ہے جسے وہ خود بھی نہیں کر سکتی
01:05:21دیر سے ہی تھی لیکن اس بات کو سمجھ چکی تھی
01:05:23اس نے خود ہی اس کے لئے ایک لڑکی پسند کی تھی
01:05:26جسے وہ اس کی شادی کرنا چاہتی تھی
01:05:29وہ بہت وقت سے یاسم سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی
01:05:32لیکن اس کے پاس جیسے کہ بہانہ ہی نہیں تھا
01:05:35اپنی ہی اولاد سے بات کرنے
01:05:38اپنی ہی اولاد کو مخاطب کرنے کے لئے
01:05:40اس لئے نور نے اس کی شادی کے بار میں سوچتے ہوئے سے گھر بلایا
01:05:43اور وہ بھی اور وہ آ بھی گیا تھا
01:05:46اس کے پاس ایک بار پکارنے پر
01:05:49کھانا تیار ہو چکا تھا
01:05:50اس نے ٹیبل پر کھانا لگایا
01:05:52اور دادو سائن کو کمرے میں ہی کھانا دے کر آئی
01:05:54مجھے وہ جلدی کھانا کھاتی تھی
01:05:57جبکہ بہرام نے کمرے سے نکلتے نکلتے ہی دست کر دیئے
01:06:00نہ جانے ایسا کون سا اہم ترین کام سار انجام دے رہے تھے
01:06:03جناب جو کھانے تک کا ہوشنا تھا
01:06:05اسے کمرے سے بھائی نکلتے دے کر
01:06:07وہ خاصی انچی آواز میں بولی
01:06:08جبکہ بہرام بینہ کچھ کہے
01:06:10سیدھا آ کر کرسی گھسید کر بیٹھ گیا
01:06:12ارے واہ چکن کڑا ہی
01:06:14آج تو عید ہو گئی
01:06:15اس نے مسکراتے ہوئے فوراں چکن کڑا ہی اپنے پلیٹ میں نکالی
01:06:18جبکہ وہ بھی اپنا کھانا رکھتے ہو اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئے
01:06:22جب بہرام نے اس کے پلیٹ دیکھی
01:06:23یہ کیا دل تم چکن کڑا ہی نہیں کھا رہی
01:06:26اس نے دل کی پلیٹ میں چاول دے کر پوچھا
01:06:29بڑی جلدی نہیں بھول گئے آپ
01:06:31میں چکن نہیں کھاتی
01:06:32دل نے شکایتی نظروں سے اسے دیکھ کر کہا
01:06:35تو بہرام خاموش ہو گیا
01:06:36وہ واقعی ہی یہ بات بھول
01:06:38کیسے بھول گیا تھا
01:06:39اس کی تو ہر بات اس کے لئے عزیز تھی
01:06:41مجھے لگا بہت وقت گزر گیا ہے
01:06:43اب تو بہت کچھ بدل چکا ہے
01:06:45شاید تمہیں پسند ہوگا
01:06:46بہرام نے اپنی شرمندگی میں ٹھاتے ہوئے کہا
01:06:49جی بہت کچھ بدل چکا ہے
01:06:51میں بھی اور آپ بھی
01:06:52وہ سے سخت نظروں سے گھوٹے ہوئے دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہو گئی
01:06:57لیکن بہرام نے جیسے ہی کھانے کا پہلا نوالہ لیے سے گھور کر رہا گیا
01:07:01وہ شرارتی نظروں سے بھرپور اس کا نظارہ کرتے ہوئے مسکرہ رہی دی
01:07:05کیا وہ بہرام آپ کے آنکھیں سرکی ہو رہی ہیں
01:07:07شاید وہ اس کی ضبط کا امتحان لے رہی دی
01:07:10لگتا ہے کھانا تم نے بنایا ہے
01:07:12ورنہ دادو سا ہی اتنی مچیں کبھی تیز نہیں کرتی
01:07:15بہرام نے کہا لیکن کھانے سے ہاتھ رکا نہیں تھا
01:07:18نہ جانے اب اس کے دل کا
01:07:20دل کو کونٹ سی بات بری لگ جائے
01:07:22کیوں تیز مچ کھانے کا ہنسلہ نہیں رکھتے آپ
01:07:25انداز میں چیلنج تھا
01:07:26بہرام شاہ اپنا دل نکال کر
01:07:28اپنی ہتھیل دل کی ہتھیلی پر رکھنے کا ہنسلہ رکھتا ہے
01:07:31میسیس بہرام شاہ یہ تو صرف کھانا ہے
01:07:34جس کے بچ کھانا سوال پر وہ ہستے پہ پانی کے گلاس اٹھانے لگا
01:07:37اس کے اٹھانے سے پہلے ہی دل نہ صرف وہ گلاس اٹھا چکی تھی
01:07:42بلکہ خطا کرتے ہوانے ٹیبل پر بھی رکھ چکی تھی
01:07:45اس کی سرکر پر بہرام کھل کرن تھا
01:07:47ٹیبل پر اور پانی موجود نہ تھا
01:07:49مطلب صاف تھا وہ اسے چیلنج کر رہی دی
01:07:52وہ بینہ کچھ بولے دوبارہ سے کھانا کھانا شروع کر چکا تھا
01:07:56دادو سائیوں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے باہر آئیں
01:07:58جب ان دونوں کو ٹیبل پر بیٹھا دیکھ کر مسکر آئیں
01:08:03کیسی کڑائی بنائی ہے میری پوتی نے
01:08:05بہرام سائی نماز کے اسٹائل میں ڈپٹا لپیٹے مسکر آتے ہوئے
01:08:08اسے پوچھ رہی تھی
01:08:09آپ کی پوتی کوئی کام غلط کرتی ہے بھلا
01:08:13وہ کھاتے ہوئے مسکر آ کر بولا
01:08:15جبکہ دل اب پریشان ہو چکے تھے
01:08:16وہ کیسے اتنی تیز لڑکی کا
01:08:18لڑکی مرچی کا کھانا کھا رہا تھا
01:08:21کہ اس کا مو نہیں چل رہا تھا
01:08:23دل کو پریشانی ہونے لگی
01:08:24جبکہ وہ مسکر آتے ہوئے اسی کو دیکھ کر کھا رہا تھا
01:08:27جبکہ اس بار وہ شرمندگی سے نظریں چکا گئی
01:08:30جبکہ دادو تھا ہی نماز ادا کرنے کے لیے کمرے میں جا چکی تھی
01:08:33بہرام کافی دیر گوھر سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا
01:08:36لیکن کھانے سے ہاتھ نہیں رکھے
01:08:38آخر اس کی دل نے پہلی بار اتنی محبت سے اس کے لیے کچھ بنایا تھا
01:08:42وہ نہ کھا کر اس کی نقدری تھوڑی نہ کر سکتا تھا
01:08:46دل اسے ایسے ہی کھانا کھاتے دیکھ کر
01:08:49اٹھ کر اس کے لیے پانی لے کر آئی
01:08:50اور ٹیبل پر رکھنے کی بجائے اس کا ہاتھ تھام کر
01:08:53ہاتھ میں پکڑا بھی دیا
01:08:54جیسے کہہ رہی ہے کہ خدا کے لیے پانی پیو
01:08:56اور مجھے شرمندہ کرنا بند کرو
01:08:58بات تو ہنسلے کی ہو رہی تھی
01:09:00میسید کیا تم اتنا ہنسلہ بھی نہیں رکھتی
01:09:03کہ مجھے اپنا ہی بنایا وہ کھانا کھاتے دیکھ
01:09:05تھکو وہ پانی کا گراس واپٹ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا
01:09:08جبکہ آنکھیں سرکھ ہو چکی تھیں
01:09:10بہرام تھا ہی میں صرف مزاک کر رہی تھی
01:09:12دل نے بتانے کی کوشش کی
01:09:13لیکن اب شاید بہرام سننے کے موڑ میں نہیں تھا
01:09:16لیکن میں مزاک نہیں کر رہا
01:09:18وہ کہتے ہو مزید نمالے لینے لگا
01:09:20جبکہ اس سے زیادہ برداش
01:09:22کرنا دل کے بس میں نہ تھا
01:09:23وہ پیر پٹکتی ہی تھے
01:09:25اس کے حال پر چھوڑ کر کمرے میں چلیئے
01:09:27یا اللہ یہ آدمی پاگل ہے
01:09:29میں اسے کیسے رکھوں
01:09:30مجھے بھی کیا ضرورت پڑی تھی
01:09:31ایسی شرارت کرنے کی
01:09:32پانی تک نہیں پی رہے
01:09:34کیا ان کا مو نہیں جل رہا ہوگا
01:09:36وہ پیچانی سے کمرے میں ٹہلتے
01:09:38مسلسل بڑھ بڑھا رہی دی
01:09:39لیکن اسے روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی
01:09:42کیا آپ مجھے دادو سائن کو
01:09:44اس کے بارے میں بتا دینا چاہیے
01:09:45نہیں نہیں وہ بہت ڈانٹیں گی
01:09:47تو میں پھر کیا کروں
01:09:49اتنی مرچی کھا چکے ہیں
01:09:50پانی سے تو نہیں جائے گی
01:09:52کچھ میٹھا بنا کے لے جاتی ہوں
01:09:53اس کے لیے ورنہ مو کے ساتھ
01:09:55میزہ بھی جلا کر بیٹھے ہوں گے
01:09:57اور ایک چھوٹی سی سوری بھی بول دوں گی
01:09:59آخر غلطی کی ہے
01:10:00تو سوری بولنے میں
01:10:01کیسی شرم
01:10:02کیا مجھے ان کے لیے ایسا کرنا چاہیے
01:10:04اس نے کمرے کے دروازے پر
01:10:06قدم رکھتے ہوئے سوچا
01:10:07ہاں تو میں تو صرف
01:10:09اپنے غلطی کے ازالہ کر رہی ہوں
01:10:10اور غلطی ہو جائے
01:10:11تو معافی ماننے میں
01:10:12کوئی حرج نہیں ہوتا
01:10:13وہ خود سے کہتے ہوئے
01:10:14کمرے سے باہر نکلی
01:10:15اب بہرام باہر کرسی پر موجود نہ تھا
01:10:18لیکن پانی کا غلط اب بھی وہیں بڑھتا
01:10:20مطلب اس نے ابھی تک پانی نہیں پیا
01:10:22اور اپنی پلیٹ میں ڈالی چکن
01:10:24کراہی وہ ختم کر گیا تھا
01:10:26جی آج کے لیے اتنا ہی
01:10:28باقی جو نیکس اپیسوڈ ہے
01:10:30وہ مقل لے کر آپ کی خدمت میں
01:10:31حاضر ہوں گی
01:10:32تب تک کے لیے
01:10:33اللہ حافظ
Comments

Recommended