Skip to playerSkip to main content
Lams-e-Junoon – Episode 2 | Jab Nafrat Takra Gayi Mohabbat Se

Jab jazbaat aur zid aamne saamne aa jayein to har faisla mushkil ban jata hai. Is episode mein kahani ek naye aur dilchasp mor par pahunchti hai.

#Episode2 #LamseJunoonNovel #UrduRomance #EmotionalStory #PakistaniNovel #NovelSeries #LoveAndPain #UrduNarration #MustWatch #RomanticDrama
Transcript
00:00As-salamu alaykum viewers, how are you? I hope that you will be totally fine and you will be happy.
00:05God bless you, that Allah will be happy and you will be happy.
00:09I hope you will be happy and you will be happy.
00:13We will see what happens.
00:15If we end this novel, we will be happy.
00:20If you want to see what happens then.
00:24People need which you can read.
00:28This is for a time, but we will be happy.
00:34This is for a title.
00:47ڈی ایچ اے میں ٹرانسفر ہو کر آیا تھا اس نے مجرموں کے ناک میں دم کر رکھا تھا اس
00:53کی بہادری کے چرچے استدر تھے کہ بچے اسکول فنکشن میں ایسی پی شاہ میر ملکی بننا چاہتے تھے اکثر
00:59اسکولز میں بچے ایس پی شاہ میر ملک کا رول پلے کرتے ہوئے نظر آتے تھے اس لئے بیچارے ڈاکٹر
01:06کو تو ساری کاروائی بھول گئی تھی
01:10تو ٹھیک ہے اگر کاروائی یہ ضرورت نہیں ہے تو پھر فوراں سے پہلے اپریشن شروع کیجئے ایسی پی کی
01:15روکدار آواز ہسپٹل میں گنڈی
01:17جی سر سارا انتظام ہو چکا ہے بس آپ یہاں پر سائن کر دیں اس کے بعد ہم اپریشن شروع
01:22کر دیں گے
01:23ڈاکٹر اچھا ڈاکٹر اب چھلاوہ بنا ہوا ایسی پی کے آگے پیچھے گھوم رہا تھا
01:29اپریشن شروع ہو چکا تھا اور شامیر اپنی ماں اور بہن کے پاس بیٹھا وہاں نے تسلی دے رہا تھا
01:35اور اپنے رب سے بہت ساری دعائیں کر رہا تھا کہ اللہ تعالی اس کے پاپا کو تندرورت تھی
01:39اور صحت والی زندگی اطاق کریں اور ساتھ میں ان مجرموں کو پھانسی کے تکتے تک پہنچانے کا پلان بنا
01:45رہا تھا
01:45جن کی وجہ سے آج اس کی ماں اور بہن کنگ گیال سو رو رہی تھی
01:48اور اس کا باق زندگی اور موت کے بیچ میں جھول رہا تھا
01:51ایسی پی کو بہت دنوں سے دھمکیاں مل رہی تھیں مگر ایسی پی شامیر دھمکیوں سے ڈرنے والی چیز نہیں
01:57تھا
01:58اس لئے انہوں نے ٹارگٹ اس کے پاپا کو بنایا تاکہ ایسی پی شامیر کو ذرا ڈرا سکیں
02:04شامیر اس وقت ایک بہت ہی بڑا کیس ہنڈل کر رہا تھا
02:07ایک بہت ہی بڑے ذیمہ دار کا بیٹا تھا
02:09جس نے کہوں کہ ایک معصوم تھے لڑکی جو ایک غریب گھر سے تعلق رکھتی تھی
02:13اس کا ریپ کیا تھا
02:14اب وہ اپنے دب دبے اور پیسے سے اس کیس کو بند کروا کے اپنے بیٹے کو رہائی دلوانا چاہتا
02:19تھا
02:19مگر جب یہ نہ ہو سکا تو پھر ایسی پی کو رشوت دینے کی کوشش کی گئی
02:23مگر وہ ایسی پی شامیر ملک تھا جو بہت بازمیر تھا
02:27وہ بکاؤ چیز نہیں تھا
02:29پھر نوبت دھمکیوں پر آگئی اور جب وہ دھمکیوں سے بھی نہیں ڈرا تو اب تیسرا حربہ یہ ازمایا کیا
02:35تھا
02:36اس کے بعد پر اٹیک کروایا گیا تھا
02:38مگر وہ یہ بھون گئے تھے کہ ایسی پی شامیر ڈرنے والی چیز نہیں ہے
02:42بلکہ اس کے باپ پر اٹیک کروا کے انہوں نے اپنی موت کو دعوت دی ہے
02:46تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ڈاکٹرز آپریشن ٹھٹر سے باہر آئے
02:49اور انہوں نے یہ نیوز دی کہ آپریشن کامیاب رہا
02:51اور ملک دبائر اب خطرے سے باہر ہے
02:54اور ان کو وار میں شفٹ کیا جا سکتا ہے
02:56شامیر رفت بیگم اور میرب نے اللہ کے شکر ادا کیا
02:59اور رفت بیگم جلدی سے اٹھی
03:00اور وضو کر کے شکرانے کے نفل ادا کرنے لگی
03:03اور میرہ وہیں پر اپنے بھائی کے گاندے پر سر لگائے ہوئے
03:06پڑھ سکون ہو کر آنکھیں بند کیے ہوئے بیٹھی تھی
03:09اور شامیر اللہ کا شکر ادا کرنے کے بعد
03:12اب مجرموں کو موت کے تکتے تک لے جانے کا منصوبہ بنا رہا تھا
03:15ماضی
03:16رومی بیٹا تو کہاں ہے
03:18تیرے بابا کی طبیت بہت غراب ہے
03:19جلدی سے گھر آ
03:20تاکہ ہم ان کو ہاؤسپیٹل لے کر جا سکیں
03:23رومی کی ماں رومی کو فون کر کے
03:25اس کے باپا کو ہاؤسپیٹل لے جانے کا بول رہی تھی
03:28ہم ہی میں بعد تھوڑی دیر میں گھر پہنچ جاؤں گا
03:30مجھے تایا چان نے
03:31مجھے گھر کا سمان لینے کے لیے مارگیر بھیجا ہے
03:34رومی بیٹا جلدی آ
03:35تیرے بابا کے طبیت بہت زیادہ خراب ہے
03:37اور تجھے پتا ہے کہ تیرے سوا میں کس کو بولوں
03:39سب لوگ اپنے کاموں میں بہت مصروف ہیں
03:41ان کے پاس ہمارے لیے ٹائم نہیں ہے
03:43رومیو کی ماں روتے ہوئے
03:44اپنے بیٹے کو جلدی گھر آنے کا کہہ رہی تھی
03:47فون بند کر کے رومیو کی ماں بھاگتی ہوئی
03:49اپنی اپنی بڑی جٹھانے کے پاس کے جو مہک کی ماں تھی
03:53بابی جان رومیو کے بابا کے طبیت بہت خراب ہے
03:56پلیز آپ بھائی صاحب سے بولیں
03:57کہ وہ رومیو کے بابا کو ہاؤسپیٹل لے چلیں
04:00ان کی تو خود تبیہ ٹھیک نہیں ہے
04:02وہ بی پی کی دوا کھا کر فلحل آرام کر رہے ہیں
04:04جب اٹھیں گے تو بتا دوں گے
04:06تو بابی پلیز اب آسن کو پھیج دیں
04:08وہ ہمیں ہاؤسپیٹل تک چھوڑ دے
04:10اس سے آگے میں سب دیکھ لوں گے
04:12آسن رومیو کے بڑے تائے کے بیٹے کا نام تھا
04:14جمہک کا چھوٹا بھائی تھا
04:15نہیں وہ تو بالکل بھی نہیں جا سکتا
04:17میرا بچہ اب یہ بھی تو کالیج سے واپس آیا ہے
04:19وہ تو نہیں جا سکتا
04:21بہت تھکا ہوا ہے
04:21اور بول بھی رہا تھا
04:22کہ اس کے سر میں بہت درد ہے
04:24تو بابی سیدھا سیدھا بولیں
04:26نہ کہ آپ لوگوں نے ہمارے مدد کرنی ہی نہیں ہے
04:28آپ رومیو کے پاپا کو ہاؤسپیٹل
04:30ہمارے ساتھ لے کر جانا ہی نہیں چاہتے
04:31کچھ تو خدا ترسی کریں
04:33بابی آج دکھ آپ لوگوں نے
04:35جو کچھ بھی کیا ہمارے ساتھ
04:37ہم نے کبھی اس تک نہیں کی
04:38کبھی اپنے ساتھ ہوئی نائنصافیوں کا
04:40آپ سے گلہ شکوا نہیں کیا
04:41مگر آج صرف آپ سے
04:43تھوڑی سی مدد ہی تو مانگ رہی ہوں
04:44کہ میرے شہر کو ہاؤسپیٹل تک پہنچا دیں
04:47میرے ساتھ زیادہ پکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے
04:50اپنی اوقات اور حد یاد رکھو
04:52اور جب کہہ دیا ہے
04:53کہ تمہارے بھائی صاحب اٹھیں گے
04:54تو بول دوں گی
04:55کہ تمہارے شہر کو ہاؤسپیٹل پہنچا دیں
04:57تو پھر اتنی زبان درازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے
05:00بابی میں نے آج تک آپ سے کبھی زبان درازی نہیں کی
05:11آپ بھائی صاحب کو اٹھا دیں
05:12رومیہ کے پاپا کے سینے میں بہت درد ہو رہا ہے
05:15میں آپ کے آگے ہاتھ جھوڑتی ہوں
05:16کمی کیا کر رہی ہیں آپ
05:18کیوں ان لوگوں کے سامنے ہاتھ جھوڑ کر آپ خود کی توہنگ کروا رہی ہیں
05:21رومیہ جو مرکیل سے اپنے تائی جان کا سمان لے کر
05:24اپنی تائی جان کو پکڑانے کے لیے آیا تھا
05:26وہاں پر اپنی ماں کو ہاتھ جھوڑ کر
05:28گر گراتے ہوئے دیکھ کر ان کا خون کھول اٹھا تھا
05:31ہاں ہاں تمہارا غیرت مند بیٹا آ گیا ہے
05:33اب تم اسے لے کر ہسپیٹل چلی جاؤ
05:35رومیہ کے تائی نے رومیہ کو دیکھتے ہی
05:37تیندھ کھاتی ہی رومیہ کے سینے میں گھمبا
05:39تائی جان کبھی کو موقع حالی بھی جانے دیا کہ
05:42کبھی تو اپنی یہ تندھ مارنے والی عادت چھوڑ کر
05:44خدا کا خوف کرتے ہوئے چپ ہو جائے کریں
05:47رومیہ نے آج پہلی بار انچی آواز میں
05:49اپنی تائی سے بات کی تھی
05:51رومیہ کے تائی نے انچی آواز میں چھاتی پر
05:53ہاتھ مات کے وجہ ہی لورتوں کے طرح
05:54رونا شکل کر دیا تھا
05:57اس کی آواز انکر اس کا بیٹا آسم
05:59اور رومیہ کا تائی دونوں ہی روم سے باہر آگئے
06:01اور مہرک بھی امی
06:02کیا ہوا امی کیا ہوا بولتی
06:05بھی بھاگ کر اپنی ماں کے پاس آگئے
06:06یہ دیکھو میرے ساتھ رومیہ کس طرح سے
06:08بطمیزی کے ساتھ بات کر رہا تھا
06:10بس یہی عزت رہ گئی ہے اس گھر میں میری
06:12تمہاری حمد کہتے ہوئی میری ماں کے ساتھ
06:14بطمیزی سے بات کرنے کی
06:16آسم نے رومیہ کو کالر سے پکڑتے ہوئے
06:18کہا میں نے تائی جان سے کوئی بطمیزی نہیں کی ہے
06:21جو حقیقت ہے وہی بولی ہے
06:22اگر تائی جان کو وہ بطمیزی لگی ہے
06:24تو وہ تائی جان کی مرضی ہے
06:26رومیہ تمہاری اوقات ہی کیا ہے
06:28جو تم میری ماں سے زبان درادی کر رہے تھے
06:30مہک چھیکتی ہوئی رومیہ کے پاس آئی
06:32رومیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی
06:35رومیہ کو آسم کے کالر پکڑ کر لڑنے سے
06:37کہیں زیادہ دکھ مہک کی اس آباب سے ہوا تھا
06:39مہک اچھی طرح سے پتا تھا
06:41کہ رومیہ نے کبھی بھی اس کے ماں باپ سے بطمیزی نہیں کی
06:43اور مہک کی وجہ سے وہ تائی جان کے بہت سارے ظلم
06:46چپ چپ برداشت کر لیتا تھا
06:48مگر آج مہک نے یہ بول کر
06:57رومیہ کے دل میں ایک نشتر چبو دیا تھا
07:02رومیہ دفع ہو جاؤ میرے گھر سے
07:04اور دوبارہ میرے گھر میں قضم مت رکھنا
07:06اگر تم میری بیوی کی عزت نہیں کر سکتے
07:08تو تم میرے بھی کچھ نہیں لگتے ہو
07:11دفع ہو جاؤ یہاں سے
07:12اپنی ماں کو لے کر رومیوں کا
07:14تائیہ رومیوں کے موں پر ایک زوردار
07:16تھپڑ رسید کرتے ہوئے بول رہا تھا
07:19اور مہ کتنی ناگھواری کے ساتھ
07:20رومیہ کی طرف دیکھ رہی تھے جیسے کہہ رہی ہو
07:22کہ تم اسی لائک ہو
07:24آج اس کے تائیہ نے
07:25اس کو تھپڑ اور مہک
07:29علفاظوں نے رومیوں کے دل کے
07:30کئی ٹکڑے کر دیئے تھے
07:33رومیہ اپنی آنکھوں سے
07:34آنسوس آخرتے ہوئے اپنی ماں کا ہاتھ پکر کر
07:37ان کے گھر سے نکل گیا تھا
07:38یہ اہد در کے کہ آج کے بعد چاہے کچھ بھی ہو جائے
07:40وہ اپنے تائیہ کے گھر میں قدم نہیں رکھے گا
07:42اور آج وہ مہک کو ہمیشہ ہمیشہ
07:44کے لیے اپنے دل سے نکال کر جا رہا تھا
07:46رومیہ اپنے بابا کو اپنی ماں اور بہن کے ساتھ
07:49ہسپٹر لے کر پہنچا تو
07:50تب تک بہت دیر ہو چکی تھی
07:51ڈاکٹر نے کہا کہ ان کا دل
07:53کا بہت سیریس اٹیک ہوا ہے
07:55اور وقت پر نہ لانے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو گئی ہے
07:58رومیہ کیسے لگ رہا تھا
08:00جیسے اس کے سر سے آسمان کھینچ لیا گیا ہو
08:02آج رومیہ خود کو بے آسرا بے سہارا
08:04محسوس کر رہا تھا
08:06وہ اس قدر ٹوڑ گیا تھا
08:07کہ اس کا دل کر رہا تھا
08:08کہ وہ چھیک چھیک کر رہے
08:09مگر اپنی بہن اور ماں کو روتے ہوئے دیکھ کر
08:12رومیہ نے اپنے دل کو پتھر کا بنا لیا تھا
08:15اس نے اپنی آنکھ سے ایک آنسو بھی
08:17دمین پر گرنے نہیں دیا
08:18رومیہ نے اس دن دل میں ٹھان لیا تھا
08:21کہ وہ اپنی ماں اور بہن کا سہارا بنے گا
08:23اور آج کے بعد وہ کمزور نہیں پڑے گا
08:26اس دن کے بعد رومیہ نے اتنی محنت کی
08:28کہ دن رات ایک کر دیا
08:30رومیہ نے خود پر سکون کے دروازے بند کر لیے تھے
08:33زندہ دل رومیہ
08:34جو مہک کے ساتھ خوشیوں بھری زندگی گزارنا چاہتا تھا
08:37مگر اس پر ذمہ داریوں کا اس قدر بوٹ پڑ گیا
08:40کہ رومیہ صرف ایک کام کرنے والی مشین بند کر رہ گیا
08:43اور اس نے اپنے دل کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ
08:46کے لیے بند کر لیے تھے
08:48اس سے نفرت ہو گئی تھی
08:49اس پیار محبت کی کہانیوں تھے
08:52حال
08:53احمر کیسا ہے؟
08:54پہلے سے بہتر ہے
08:55رومان شاہ ہاؤسپٹل میں آیا تھا
08:57احمر کو دیکھنے کے لیے
08:58رومان شاہ تقریبا روز
08:59صبح و شام احمر کے پاس ہاؤسپٹل میں چکر لگاتا
09:03اس وقت وہ باہر کھڑا ہوا
09:04ڈاکٹر شازیب جو کہ رومان شاہ
09:07اور احمر کا بیس فرین بھی تھا
09:08اس سے احمر کا حال چال پوچھ رہا تھا
09:11کیا صورتحال ہے
09:12احمر خود سے ٹھیک ہونے کی کوشش کر رہا ہے
09:15رومان شاہ ڈاکٹر شازیب سے پوچھ رہا تھا
09:17ہاں تم نے جو اس کو لالج دیا ہے
09:19اب احمر صاحب اس لولی پوپ کو پکڑے ہوئے
09:22خود کو ٹھیک کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے
09:24ڈاکٹر شازیب ہاؤسپٹل میں احمر کے ہاتھ پر تعلی بجا کر بولا
09:28یعنی کہ میری ٹکنیک کام کر گئی ہے
09:30رومان شاہ خود کو شاباش دے رہا تھا
09:32بچو یہ پتا تو تب چلے گا نا
09:34جب احمر ٹھیک ہو جائے گا
09:36اور پھر وہ عریشہ کی واپسی کا مطالبہ کرے گا
09:39اور تم اس سے یہ کہو گے
09:40کہ تم نے تو صرف اسے ایک جھوٹا لالج دیا تھا
09:44تب کی تب دیکھی جائے گی
09:46فیلحال تو اس کامینے کا ٹھیک ہونا ضروری ہے
09:48یار کیا کرے ہم تینوں ایک دوسرے کے بینہ دھورے ہیں
09:51رومان شاہ ایک لمبی سانس لیتے ہوئے بولا
09:54چل آجا میرے آفیس تجھے کافی پلاتا ہوں
09:56ڈاکٹر شازیب رومان شاہ سے بول رہا تھا
09:59مگر مجھے تو پہلے احمر سے ملنا ہے
10:01اس سے تو نہیں مل سکتا
10:03کیونکہ اس وقت وہ نواب زیادہ آرام فرما رہا ہے
10:07کیونکہ اسے نیند کے دوائی دی ہوئی ہے
10:11ہاں دیکھ ضرور سکتا ہے
10:12آجا تجھے دکھا دیتا ہوں
10:14رومان شاہ ڈاکٹر شازیب احمر کے روم کی طرف چل پڑے
10:16رومان شاہ نے بڑی دکھ بھری نظروں سے بیڈ پر
10:19زرد تھی رنگت لیے پڑے ہوئے احمر کو دیکھا
10:22کیا حال بنا لیا ہے اس نے اپنا
10:24رومان شاہ احمر کو دیکھ کر بہت افسوس سے بول رہا تھا
10:27چل جا تو اور زیادہ پریشان نہ ہو
10:29انشاءاللہ یہ بلکہ ٹھیک ہو جائے گا
10:31کیونکہ اس کی ریپورٹ پہلے سے بہتر ہے
10:33ڈاکٹر شازیب رومان شاہ کے کندے کو
10:35تھپ تھپ آتے ہوئے سے تسلی دے کر
10:37اپنے آفسس میں لے کر آ گیا
10:39میرہ میں اس وقت ہسپٹل میں ہوں
10:41اس لئے بعد میں بات کروں گا
10:42بھائی پلیز میری بات سن لینا
10:44مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے
10:46میرہ آپ کو میری بات سمجھ نہیں آ رہی
10:48میں نے کہا میں اس وقت ہسپٹل میں ہوں
10:50ایک دوست کے ساتھ ہوں
10:51میری پیاری بہن جلدی سے فون کو بند کرو
10:54میں آپ سے تھوڑی دیر بعد بات کرتا ہوں
10:56رومان شاہ ڈاکٹر شازیب کے پاس
10:58اٹھ کر تھوڑا دور ونڈو کے پاس کھڑا ہو کر
11:00میرہ سے فون پر بات کر رہا تھا
11:02میرہ کب سے رومان شاہ کو فون کر رہی تھی
11:05اب وہ اس کا فون اٹین کر کے
11:07اس سے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا
11:09اور دور بیٹھا ہوا
11:10ڈاکٹر شازیب اپنی آفیس شیر پر
11:12بلیک شرڈ اور بلو جنز کے اوپر وائٹ کلر کا
11:14ڈاکٹروں والا کوٹ پہنے ہوئے گلے میں
11:17سٹو
11:19سکوپ ڈال کر
11:21اپنی سیڈ پر بیٹھے ہوئے
11:23اپنے ہونٹوں میں
11:24بال پین کو دبائے ہوئے مسکرار آتا
11:26ڈاکٹر شازیب میرہ کو بہت پسند کرتا تھا
11:29ڈاکٹر شازیب نے پہلی بار میرہ کو ہوسپٹل میں دیکھا تھا
11:32جب رومان شاہ کی امی کا
11:33بی پی شوٹ کر گیا
11:35اس وقت رومان شاہ اور میرہ اپنی ماں کو لے کر
11:37ہوسپٹل میں آئے تھے
11:38جہاں پر ڈاکٹر شازیب بھی رومان شاہ کی ماں کی
11:41عیادت کرنے کے لئے پہنچا
11:43ڈاکٹر شازیب کو میرہ پہلی نظر میں ہی
11:45بہت اچھی لگی تھی
11:46وہ بہت ماسوم اور نازک سی لڑکی تھی
11:48اور اپنے بھائی کی بہت چہیت تھی
11:50جب کبھی بھی رومان شاہ کی ماں بیمار ہوتی
11:53جن کا چیک اپ کرنا ہوتا تو اکثر میرہ
11:55ہوسپٹل میں بھی ان کے ساتھ ہوا کرتی تھی
11:57اور گھر پہ جاتا تب بھی میرہ
11:59اپنی ماں کے ساتھ ہی ہوتی تھی
12:00اس لئے اکثر ڈاکٹر شازیب کی میرہ پر نظر پڑتی رہتی تھی
12:05میرہ کبھی بھی خود سے
12:06ڈاکٹر شازیب سے بات نہیں کرتی تھی
12:08اور ڈاکٹر شازیب بھی میرہ کو بلاتے ہوئے ہچکچاتا تھا
12:11کیونکہ رومان شاہ ایک الگ مزاج کا بندہ تھا
12:13جسے یوں اپنے گھر کی عورتوں سے کھلے
12:15عام اپنے دوستوں کو ملانا
12:17یا خود دوستوں کے گھر کی عورتوں سے ملنا زیادہ پسند نہیں تھا
12:20ڈاکٹر شازیب اپنے یار کی اتحادت سے بخوبی واقع تھا
12:23اس لئے وہ خود بھی اپنی حدود اور دائرہ کروس نہیں کرتا
12:27مگر میرہ کے لئے اپنے دل میں
12:29پلتیوی محبت کو ڈاکٹر شازیب نہیں رکھتا
12:32اور آہستہ آہستہ وہ محبت
12:33اپنی جڑے مضبوط کرتی جا رہی تھی
12:36اس وقت بھی وہ میرہ کے فون آنے پر ہی مسکرہ رہا تھا
12:39ڈاکٹر شازیب جانتا تھا
12:40کہ رومان شاہ اپنی بہن سے بہت پیار کرتا ہے
12:43اس لئے اس کی بہن اکثر
12:45اس سے چھوٹی چھوٹی فرماشے کرتی رہتی تھی
12:47جنہوں کو پورا کرنا رومان شاہ اپنا فرد ہے
12:50اول سمجھتا
12:51مگر اس وقت وہ شازیب کا لحاظ کرتے ہوئے
12:54میرہ کا فون بند کرنے کا بول رہا تھا
12:56مگر بیچارہ پچھلے پندرہ منٹ سے سمجھا رہا تھا
12:59کہ فون بند کر دے
13:00مگر اب بھی اس کا فون چل رہا تھا
13:02آخر میں بیچارہ رومان شاہ اپنی بہن کے آگے ہار مانتے ہوئے
13:05اسے کہہ رہا تھا کہ ٹھیک ہے میری ماں
13:08مجھے لسٹ سینڈ کر دو میں لیتا ہوں گا
13:10جو بھی بولو گی مگر ابھی فون بند کر دو
13:12میرہ ایک فرنڈ میرا ویٹ کر رہا ہے
13:15ڈاکٹر شاہ زیب میرہ کے لئے کافی سیریس تھا
13:17وہ بہت جلد اپنی ماں باپ کے ہاتھوں
13:19میرہ کے گھر رشتہ بھیجنے والا تھا
13:21ڈاکٹر شاہ زیب اس لیے بھی ٹینشن فری تھا
13:23یہ اس سے پتا تھا کہ رومان شاہ کو اس رشتے سے کوئی خاص اعتراض نہیں ہوگا
13:28سوائے عمر کو لے کر
13:29کیونکہ رومان شاہ اور ڈاکٹر شاہ زیب ہم عمر تھے
13:31اور میرہ ان سے تقریباً آٹھ سال چھوٹی تھی
13:34مگر ڈاکٹر شاہ زیب کو یہ یقین تھا
13:36کہ وہ رومان شاہ کو سمجھا لے گا
13:38بس اسی وجہ سے وہ فیلحال میرہ کی پڑھائی مکمل ہونے تک چھپ تھا
13:43سوری ڈاکٹر صاحب
13:44اصل میں گھر سے فون تھا تو سننا بہت ضروری تھا
13:46رومان شاہ مادرت کرتے ہو
13:48واپس سیٹ پر آ کر بیٹھا
13:49اور آپس میں دونوں گھپیں مارتے ہوئے
13:51کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے
13:53آج تقریباً ملک زبیر کا ہاسپٹر سے
13:56ڈسچارج ہوئے پندرہ دن ہو گئے تھے
13:57اب وہ پہلے سے بہت بہتر تھا
13:59کیونکہ گولی ان کے دل کو چھوٹتے ہوئے گزری تھی
14:01تو اس لئے ان کا حرام کرنا بہت ضروری تھا
14:04فیلحال انہوں نے آفیس سے مکمل چھٹی کی ہوئی تھی
14:07آفیس کا ذرا زیادہ تر کام
14:09ان کا سیکرٹری ہی سنبھال رہا تھا
14:11مگر آج رومان شاہ اور ملک زبیر والی ڈیل کی
14:13کچھ اہم فائل تھی
14:14جن کو رومان شاہ اور ملک زبیر نے
14:16آپس میں ڈسکس کرنی تھی
14:17اس لئے ملک زبیر نے رومان شاہ سے
14:19بہت زیادہ ریکویسٹ کر کے
14:21اسے اپنے گھر آنے کو کہا
14:23کیونکہ اس وقت ملک مکمل
14:25بیڈ ریس پر تھا
14:26تو وہ گھر سے باہر نہیں جا سکتا تھا
14:28ویسے تو رومان شاہ اس طرح
14:29کسی کے بھی گھر جا کر
14:31یوں آفیس کے کام ڈسکس نہیں کرتا تھا
14:33لیکن ملک کی اس حالت کو
14:35مدر نظر رکھتے ہوئے
14:36رومان شاہ نے اس کے گھر
14:37آنے کی ہامیں بھری دی
14:41نفت بیگم آج میرا ایک
14:43سپیشل گیسٹ آنے والا ہے
14:44تو پلیز آپ بہت اچھے سے
14:45ڈینر کا انتظام کروا دیں
14:46کیونکہ جب وہ پارٹی میں آئے تھے
14:48تب بھی وہ کھانا کھائے
14:49بینا ہی چلے گئے تھے
14:50تو میں چاہتا ہوں
14:51کہ آج وہ ہمارے گھر سے
14:52ڈینر کر کے جائیں
14:53میرے لئے وہ بہت خاص ہیں
14:54اس لیے آپ اپنی نگرانی میں
14:56ڈینر تیار کروائیے گا
14:57ملک زبہر اپنی بیگم رفت
14:59کب ہو رہے تھے
14:59جی جی آپ بے فکر رہے ہیں
15:01میں اپنی نگرانی میں
15:02ڈینر تیار کرواؤں گی
15:03آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی
15:05فیلحال تو آپ تھوڑی در
15:06آرام کر لیں
15:06تب تک میں جا کر
15:07سب تیاریاں دیکھ لوں
15:09رومان شاہ ملک زبہر
15:10جب پیپرز میں
15:11کوئی ڈینر کے مسائل
15:12ڈسکس کر رہے تھے
15:13اس وقت ڈھیر
15:13ڈھیر سے دروازہ کھلا
15:15اور میرب روم کے اندر داخل ہوئی
15:16جس کو یہ نہیں پتا تھا
15:17کہ اس کے پاپا کے روم میں
15:18کوئی اور بھی موجود ہے
15:20وہ دن دناتے ہوئے
15:21روم کے اندر داخل ہوئی تھی
15:23مگر سامنے بیٹھے ہوئے
15:24بندے پر نظر پڑھتا ہی
15:25وہ اپنے جگہ پر
15:26اسٹیل ہو کر رکھی
15:27سامنے کرسی پر
15:28رومان شاہ بیٹھا ہوا تھا
15:30جس نے اس وقت
15:31فل وائٹ کلر کا
15:32کرتہ شلوار پہن رکھا
15:33اور گلے میں
15:34بلیک کلر کا سکولر
15:35اس ظالم کی پرسنیلٹی
15:37اتنی خوبصورت تھی
15:37کہ دیکھنے والا
15:38اس کو ایک بار تو دیکھے بنا
15:40نہیں رہ سکتا تھا
15:41میرب بیچاری تو
15:42ویسے ہی پہلے
15:43ملاقات سے ہی
15:44اس پر فیدہ تھی
15:45اسے دیکھ کر
15:45وہیں پر کھڑی
15:46اسے دیکھے جا رہی تھی
15:47کہ ملک دبیر نے آواز دی
15:49تو وہ سکتے کی حالت سے
15:50واپس آئے
15:51میرا بیٹا وہاں پر
15:52کیوں کھڑی ہو
15:52آگے آو کچھ کام تھا
15:54تو آپ کو
15:54نہیں بابا میں بعد میں آ جاؤں گی
15:56کچھ خاص کام نہیں ہے
15:57وہ اٹکتے اٹکتے
15:59صرف اتنا ہی کہہ پائی تھی
16:00اور روم کا دروازہ
16:01کھول کر باہر آگئی
16:02اور روم کا دروازہ
16:03بند کر دی
16:03اور اپنے دل پر
16:04ہاتھ رکھے ہوئے
16:05کتنی دیر دیوار کے ساتھ
16:07ٹیک لگائے ہوئے
16:07کھڑی رہی ہو
16:08ہاں تو رومان شاہ بولو
16:09ہم اس مسئلے کو
16:10کیسے حل کر سکتے ہیں
16:11ملک اور رومان شاہ
16:13آپ اپت میں
16:13کسی مسئلے کو
16:14ڈسکس کر رہے تھے
16:14مگر باہر کھڑی ہوئی
16:15میرب اور رومان شاہ
16:16کا نام پتہ چل گیا تھا
16:18اچھا جی
16:19تو اس بندے کا نام
16:19رومان شاہ ہے
16:20سوٹ کرتا ہے
16:21اس بندے پر
16:22اس کا نام
16:22جتنا ڈیشنگ خود ہے
16:23اتنا ہی ڈیشنگ نام
16:25رکھا ہوا ہے
16:26میرب اپنے دماغ میں
16:27ہی سوچ کر
16:27مسکرہ رہی تھی
16:30رومان کو چھوڑیے
16:31خالی شاہ ہی
16:32اس پر تو بہت سوٹ کرتا ہے
16:34شاہ تیار ہو جائیے
16:35میرب ملک
16:35آپ کی زندگی میں
16:36بہت جلد انٹری
16:37مارنے والی ہے
16:38پسند آگئے ہیں
16:39میرب کو
16:40اور جو چیز میرب ملک
16:41کو پسند ہوتی ہے
16:42اسے میرب
16:42اپنا بنا لیتی ہے
16:52اگر تو دعائیں سنتا ہے
16:54تو اس بندے کو
16:54میری قسمت میں لکھ دے
16:55میرب نے جب سے
16:57ہوج سنبھال آج پہلی بار
16:58اس نے دعا کر کے
16:59اپنے رب سے کچھ مانگا تھا
17:00کیونکہ میرب کو
17:01ہمیشہ ہر چیز
17:02تھالی میں سجی ہوئی ملی
17:03میرب آج
17:04اپنے دل کے ہاتھوں سے
17:05مجبور ہو کر
17:06اپنے رب سے
17:06رومان شاہ کو مانگ رہی تھی
17:08اس بات سے بے خبر
17:09کہ رومان شاہ
17:09کانٹروں سے بھرے ہوئے
17:10ایک جھاڑ کا نام ہے
17:11جیسے مل کر
17:12نازک سے میرب ملک
17:13نے زخموں سے چور ہو جانا ہے
17:15رومان شاہ کے جانے کے بعد
17:17میرب نے اپنے پاپا کے
17:18موبائل سے
17:18رومان شاہ کا نمبر
17:20نکال کر
17:20اپنے فون پر
17:21سینڈ کر کے
17:22اپنے پاپا کے فون سے
17:23وٹسپ چیٹ
17:24کلیر کر دی
17:25اب وہ اپنے بیٹ پر
17:26لیٹے ہوئے
17:26رومان شاہ کا نمبر
17:27اپنے فون میں
17:28سیف کر رہی تھی
17:29لیکن ہاتھ میرب نے
17:30اپنے پاپا کے فون سے
17:31رومان شاہ کے وٹسپ
17:32ڈی پی پکچر بھی
17:33اپنی طرف سینڈ کر دی تھی
17:34جسے اب وہ
17:35اپنے فون میں
17:36نمبر میں
17:37سیف کرنے کے بعد
17:38وال پیپر پر لگا رہی تھی
17:39اور رحمان شاہ
17:41کی پکچر کو
17:42اپنے فون کی
17:44سکرین پر لگاتے ہوئے
17:45اس پر اپنے لب رکھ کر
17:47اس کو محبت کا پہلا
17:48تحفہ پیش کیا
17:49I love you شاہ میرب
17:50آپ سے بہت پیار کرتی ہے
17:52میرب کو خود پر یقین
18:00کالج میں ہزاروں
18:01لڑکے اس پر مرتے تھے
18:02مگر میرب نے کبھی
18:03ان کو گھاس تک نہیں ڈالا
18:04اور آج وہ خود سے
18:05آگے بڑھ کر
18:06کسی لڑکے کو
18:07پرپوز کرنے والی تھی
18:08جت کی شان کے خلاف تھا
18:10مگر یہ تو سچ ہے
18:11کہ بندہ اپنے دل کے
18:12ہاتھوں سے مجبور ہو کر
18:13کبھی کبھی
18:14وہ کر گزرتا ہے
18:15جس کا کرنے کا
18:15اس نے کبھی سوچا بھی نہ ہو
18:18رومان بیٹا
18:18کم سے کم ناشتہ
18:20تو ڈھنگ سے کر لیا کرو
18:21امی جان پلید
18:22مجھے آفیس سے دیر ہو رہی ہے
18:23میں وہاں جا کر کچھ کھا لوں گا
18:25اب پریشان نہ ہوں
18:26رومان شاہ اپنی ماں کے
18:27ماتے پر اپنے لب لکھ کر
18:29چونکتے ہوئے
18:29اب اپنی ماں کا ہاتھ چمرا تھا
18:31بیٹا تم اپنے آفیس
18:33اپنے کاروبار میں
18:34مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی
18:36کہ کیوں تم ٹائم ٹیبل
18:38کتنے پابند ہو کر جاتے ہو
18:39جیسے کہ تم جا کر
18:41کسی اور کی نکری کرنی ہو
18:42اور تمہارا مالک نراض ہو جائے گا
18:44تو تمہارے لیٹ آنے پر
18:48میری پیاری امی جان
18:50کام تو کام ہوتا ہے
18:51پھر چاہے وہ اپنا ہو
18:52یا کہیں پر جا کر
18:53آپ کو نکری کرنی ہو
18:55جب تک
18:55یا پھر کہیں جا کر
18:57آپ کو نکری کرنی ہو
18:58جب تک انسان ٹائم کا
19:00وہ پابند نہ ہو
19:01وہ زندگی میں کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتا
19:03بندہ اگر وقت کی قدر نہیں کرتا
19:05تو وقت اس کی قدر نہیں کرتا
19:07بس رومان بیٹا
19:08تمہار بر مجھے اس طرح دلیلیں دے کر
19:10چپ کروا دیتے ہو
19:11اور تم خود کا ذرا بھی خیال نہیں رکھتے ہو
19:14میرے خیال سے اب تمہیں شادی کر لینی چاہیے
19:16تاکہ کوئی ایسی آ جائے
19:17جو تمہیں لگام ڈال کر
19:19تم سے زبردستی کر کے
19:20تمہارا خیال رکھے
19:22اس دنیا میں ابھی ایسی کوئی پیدا نہیں ہوئی
19:24امی جان جو رومان شاہ کو لگام ڈال سکے
19:27آپ کا بیٹا بیل لگام گھوڑا ہے
19:29جو اپنی مرضی سے اپنے اصولوں پر جیتا ہے
19:31مجھے پتا ہے کہ میرا بیٹا بیل لگام گھوڑا ہے
19:34مگر جب کوئی بہت پیار کرنے والی آ جائے گی
19:36تو وہ اس بے کے لگام گھوڑے کو
19:38اپنی محبت سے اپنی پیار کی لگامیں ڈال دے گی
19:42میری پیاری امی جان
19:43آپ کو کیا ضرورت ہے
19:44کہ آپ کسی اور کو لے کر آئے
19:46میری پیاری امی جان
19:47آپ خود ہی مجھے لگام ڈال دیں
19:49مجھے بہت اچھا لگے گا
19:50اگر میری پیاری امی جان
19:51مجھے لگام ڈال کر
19:52میری لگامیں کھنچیں گی
19:55اور رہی کسی اور کی بات
19:56تو اتنی کسی اور میں
19:57اتنی جورت نہیں ہے
19:59کہ وہ رومان شاہ کو لگام ڈال کر رکھ سکے
20:01اور ان پیار محبت کے فضول چکروں میں
20:03آپ مجھے نہ ڈالیں
20:04میرے پاس زندگی میں کرنے کے لیے
20:06ابھی اور بہت کچھ ہے
20:07ابھی بہت سارے ایسے اچیومنٹ ہیں
20:10جو میں نے حاصل کرنی ہے
20:12شادی ایک فضول کام ہے
20:13جس کے بعد انسان
20:14کسی کام کا نہیں رہتا
20:16تو اس لیے آپ اپنے کامیاب بیٹے کو
20:18ناکام مت بنائیں
20:19امی جان میری باتوں سے نراض نہیں ہونا
20:21پلیز سمجھنے کی کوشش کیجئے گا
20:23رومان شاہ جو بول کر
20:24اپنی ماں کا ماسہ چنکر
20:26اللہ حافظ بولتا ہوا
20:27گھر کا دروازہ کھل کر باہر نکل گیا
20:29رومان کی ماں اپنے بیٹے کو جاتے ہوئے دیکھ کر
20:32ایک ٹھنڈی سانس بھر کے
20:33سوچنے لگی
20:34کہ رومان شاہ تم کیا تھے
20:35اور کیا بن گئے ہو
20:36یہ تم نے اپنے اوپر کیسا کھول چڑھا لیا ہے
20:39تم تو وہ رہے نہیں جو تم تھے
20:41ماں ہوں
20:41اس لیے تمہارے دل کے اندر کے حالات سے
20:43بہت اچھی طرح سے واقف ہوں
20:45وہ گہری سوچ میں بیٹی سوچتے ہوئے چاہے
20:47کہ چھوٹے چھوٹے سپ لے رہی تھی
20:49سر آپ سے کوئی میڈم ملنے کے لیے آئی ہیں
20:52رومان شاہ جب بیٹھا ہوا فون پر
20:54ڈاکٹر شاہ دیب سے اہمر کا حال چل دریافت کر رہا تھا
20:57کیونکہ آج صبح وہ جب بہت جلدی آفیس آ گیا تھا
21:00کیونکہ اس کی آج کوئی میٹنگ تھی
21:01اس لیے وہ ہاسپیٹل اہمر کو دیکھنے نہیں جا سکا
21:04مگر اس کے دماغ میں مسلسل اہمر ہی چل رہا تھا
21:07واہ جی واہ کیا بات ہے
21:09رومان شاہ سے کوئی میڈم ملنے کے لیے آئی ہے
21:11آج دن کس طرف سے نکلا ہے
21:12رومان شاہ
21:13ڈاکٹر شاہ دیب جو فون پر رومان شاہ کے سیکرٹری
21:16دلور کے بات سن رہا تھا
21:17اب وہ ہستے پر رومان شاہ کی ٹانک کھنج رہا تھا
21:20رومان شاہ کے نزدیک رہنے والے
21:21سبی لوگوں کو اچھی طرح سے پتا تھا
21:23کہ رومان شاہ کو لڑکیوں سے الرجی ہے
21:25اور امیر لڑکیوں سے تو حد سے بھی
21:28زیادہ الرجی ہے
21:29اس لیے رومان شاہ کو ملنے کسی لڑکی کہانا
21:32ڈاکٹر شاہ دیب کو بہت کھٹک رہا تھا
21:33ڈاکٹر شاہ دیب کو پتا تھا
21:35کہ رومان شاہ تو ایسی کمپنیز کے ساتھ
21:37ڈیل بھی نہیں کرنا پسند کرتا تھا
21:39جن کی آنر کو لیڈی ہو
21:41تو اس لیے باہر جو بھی میڈم آئی تھی
21:43وہ کون تھی
21:43اور رومان شاہ سے ملنے کیوں آئی تھی
21:46شاہ دیب کو یہ جاننے کا بہت تجسس ہو رہا تھا
21:48دلاور جو کوئی بھی ہے
21:50ان سے جا کر بول دو
21:51کہ میں بہت بیزی ہوں
21:51میں نہیں مل سکتا
21:52سر میں پہلے ہی ان سے بول چکا ہوں
21:55کہ یہ سر بیزی ہیں
21:56وہ اس وقت کسی سے نہیں ملیں گے
21:58مگر وہ بہت زدی قسم کی لڑکی ہیں
22:00وہ بول رہی ہیں
22:00کہ میں رومان شاہ سے ملے بینا نہیں جاؤں گے
22:03رومان شاہ کے سیکرٹری دیلاور کو پتا تھا
22:05کہ رومان شاہ لیڈی سے بہت کم ہی ملتا ہے
22:07بلکل نہ ہونے کے برابر
22:09یار مل لو بیشاری سے ہو سکتا ہے
22:11اس کو کوئی ضروری کام ہو
22:12شاہ زیب جو فون پر ساری گفت کو سن رہا تھا
22:15وہ لکمہ دے رہا تھا
22:16رومان شاہ کو
22:17تجھے بڑی جتجو ہو رہی ہے
22:19اس لڑکی کا نام سن کے
22:20ایک کام کرتا ہوں
22:21تیری اس کے ساتھ میٹنگ کروا دیتا ہوں
22:23رومان شاہ سڑے وے لہجے میں بولا
22:25ہائے یار میں تو تمہارا بھلا سوچ رہا ہوں
22:28ہو سکتا ہے کہ اس لڑکی کو
22:30تُو پسند آ گیا ہو
22:31اور وہ بیشاری تجھے پرپوز کرنے کے لیے آئی ہو
22:34ڈاکٹر تو اپنا مو بند کر
22:35اور میرے خواہ سے تجھے جا کر
22:37اپنے مریضوں کو دیکھنا چاہیے
22:38یہ فضول تنخواہ جو سیڈ پر بیٹھ کر
22:40تو کھا رہا ہے
22:41میرے ساتھ گپیں مارنے کے وجہ
22:43جا کر
22:44بہتر ہے جا کر اپنے مریضوں کی دیکھ بھل کر
22:47رومان شاہ فون بند کر دیا
22:48دلاور تم یہاں پر کھڑے میرا مو کیا دیکھ رہے ہو
22:51میں نے کہا اس لڑکی کو جا کر بولو
22:53کہ میں نہیں مل سکتا
22:54تو مطلب نہیں مل سکتا
22:55رومان شاہ کا گسے والا لہجہ دیکھ کر
22:57دلاور بچارہ ڈرتے ہوئے نو دو گیارہ ہو گیا
23:00تو مطلب نہیں مل سکتا
23:02رومان شاہ کا گسے والا لہجہ دیکھ کر
23:04دلاور بچارہ ڈرتے ہوئے نو دو گیارہ ہو گیا
23:06رومان شاہ کچھ دیر کے لیے
23:08اپنی آنکھیں موندے ہوئے ماضی کی
23:09کچھ تلخ یادیں
23:10سوچ رہا تھا کہ دھار سے
23:21ڈالدھے ہو گئے خوبصورت چہرے پر غصہ اسے اور بھی خوبصورت بنا رہا تھا خوبصورت تو وہ اتنی تھی کہ
23:27دیکھنے والا دنگ رہ جائے مگر اس وقت میرب ملک کے مقابل میں رومان شاہ تھا جیسے لڑکیوں کی خوبصورتی
23:33بلکل بھی اپنی طرف مائل نہیں کرتی اور اوپر سے اس کا اتنا موڈرن کپڑے پہن کر آنا رومان شاہ
23:38کو زہر لگ رہا تھا کیا بتمیزی ہے آپ جو کوئی بھی ہیں اس طرح سے میرے آفیس میں آنے
23:43کا مطلب رومان شاہ اپن
23:46. . . . . .
24:17ڈالاور نے صاف صاف کہا تھا
24:18کہ اس نے میرب ملک کا نام
24:20رومان شاہ کو بتایا ہے
24:22مگر رومان شاہ کا پھر بھی یہی جواب ہے
24:25کہ وہ آپ سے نہیں ملنا چاہتا
24:27وہ بہت بیزی ہے
24:28میرب کو یہ سن کر آگ لگی
24:29کہ رومان شاہ اس کا نام سن کر بھی اس سے ملنے کو تیار نہیں
24:32دیکھو لڑکی دفع ہو جاؤ میرے آفس سے
24:34اور مجھے اس طرح کی بستمیزی
24:36بلکل بھی پسند نہیں ہے
24:38آئندہ میرے آفس میں اس طرح مت لے کر آنا
24:41شاہ آپ
24:42so you can't be rude and rude
24:43can you see?
24:44I can't know
24:45that you can't know
24:46and you can't know
24:49so I can't know
24:56that you can't know
24:57that you can't know
24:58because you can't know
25:00that you can't know
25:01but here's the name
25:04of my name
25:05and again I can't
25:06but I can't
25:09I can't know
25:10because I have to call
25:10you
25:10but I can't
25:14I can't
25:14I have to call
25:14forgive
25:15I have to call
25:37for what
26:07shut up
26:30shut up
26:41shut up
27:27shut up
27:45shut up
28:11shut up
28:14shut up
28:25shut up
28:55shut up
29:13shut up
29:36shut up
30:06shut up
30:06shut up
30:07shut up
30:36shut up
30:38shut up
31:29shut up
31:34shut up
31:36shut up
32:06shut up
32:10shut up
33:06shut up
33:30shut up
34:00shut up
34:03shut up
34:41shut up
35:04shut up
35:07shut up
35:33shut up
35:56shut up
36:47shut up
36:56shut up
37:26shut up
37:26shut up
38:14shut up
38:17shut up
38:46shut up
39:34shut up
39:47shut up
39:50shut up
39:59shut up
40:06shut up
40:09shut up
40:29shut up
40:32shut up
40:39shut up
40:41shut up
40:45shut up
41:10shut up
41:13shut up
41:14shut up
41:27shut up
41:29shut up
41:30shut up
41:50shut up
42:20shut up
42:46shut up
43:13shut up
43:14shut up
43:17shut up
43:28shut up
43:32shut up
43:32shut up
43:43shut up
44:07shut up
44:10shut up
44:16shut up
44:16shut up
44:17shut up
44:25shut up
44:46shut up
44:49shut up
45:20shut up
45:23shut up
45:36shut up
45:38shut up
46:10shut up
46:13shut up
46:43shut up
46:46shut up
46:46shut up
46:47shut up
46:48shut up
46:50shut up
46:52shut up
47:17shut up
47:45shut up
47:54shut up
48:11shut up
48:12shut up
48:13shut up
48:13shut up
48:15shut up
48:41shut up
48:51shut up
49:11shut up
49:12shut up
49:12shut up
Comments

Recommended