Skip to playerSkip to main content
  • 2 minutes ago
Shan e Auliya - Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani RA - Talk Show - 20 Sep 2026 - ARY Qtv
Transcript
00:00Shah Jila, Baman, Zaro, Parishah, Madhah, Nuri, Nuri, Nabi, Sayyidu, Sultanah
00:24معزز سامین السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:29میں اور آپ اس وقت اپنے محبوب چینل کیو ٹی وی کے پروگرام شان اولیہ میں
00:37شان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کے عنوان سے گفتگو کا عزاز حاصل کر رہے ہیں
00:46تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ جنہیں صرف ان کے نام سے نہیں پہچانا جاتا
00:55بلکہ ان کا نام ایک پورے آہد کی شناخت بن جاتا ہے
01:01بلکہ ہر آہد کے لوگ ان کے ساتھ نسبت سے ہی عزاز پاتے ہیں اور یاد رکھے جاتے ہیں
01:10ان میں سے کچھ لوگ تو اپنی زندگی میں معروف و مشہور ہو جاتے ہیں
01:15اور کچھ لوگ بعد از ویسال ان کا شہرہ ہوتا ہے انہیں جانا پہچانا اور مانا جاتا ہے
01:23لیکن کچھ ایسی شان کے حامل لوگ ہوتے ہیں کہ صدیان گزر جائیں
01:30تہذیبیں بدل جائیں نسلیں بدل جائیں زبانوں میں تغیر و تبدل آ جائے
01:37لیکن ان کا نام اور ان کی محبت اللہ تعالیٰ اس کو دھوام عطا فرماتا ہے
01:43وہ اسی طرح باقی رہتی ہے تابندہ رہتی ہے
01:48ان عظیم شان ہستیوں میں سے ایک شخصیت جن کا آج ہم تذکرہ کرنے لگے ہیں
01:55وہ سلطان الولیاء شہباز الامقانی کندیل نورانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی والحسینی ہیں
02:05برے صغیر کا بچہ ہو یا افریقہ کا مسلمان
02:10کوئی عراق کا رہنے والا ہو یا انڈونیشیا کا
02:13عربی ہو یا عجمی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ کا نام نامی جب آتا ہے
02:21تو عقیدت محبت ولایت علم اور روحانیت کا ایک پورا تصور ابرتا ہوا اس کے سامنے آتا ہے
02:30آج ہم اس پہلو پر بات کریں گے کہ ایسی شان اور ایسی عظمت کا حصول کیوں کر ممکن ہوتا
02:38ہے
02:38اور پھر اس شان و عظمت کو دوام کس طرح میسر آ سکتا ہے
02:43کسی بھی صاحب شان شخصیت کی کردار اور شان کے عروج میں
02:50چند بنیادی چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں
02:55اسی سے اس کی پرسنیلٹی کی گرومنگ ہوتی ہے
02:58اور اس گرومنگ کے بعد وہ شان اور مراتب کے درجات کو تیہی کرتا چلا جاتا ہے
03:05سائیکالوجسٹ آج کے جدید بھی اس بات پر متفق ہیں
03:10کہ اگر یہ چند خصوصیات کسی کو ابتدان حاصل ہو جائیں
03:15تو پھر شان عظمت اس کا مقدر ٹھہرتی ہے
03:19ان میں سے پہلی بات کہ اگر کسی کا حسب و نسب اچھا ہو
03:25God gifted اسے حسب بھی اچھا مل جائے اور نسب بھی اچھا مل جائے
03:31تو شان اس کا مقدر ٹھہتی ہے
03:34دوسرا کہ اگر کسی کو بچپن میں اچھے والدین کی صحبت میسر آجائے
03:42تربیت میسر آجائے
03:43بچپن کا جو محول ہے وہ spiritual environment ہو
03:47روحانی محول ہو
03:48تو وہ بچہ اس کی زندگی کا مقدمہ بچپن میں ہی شان سے تعبیر کیا جاتا ہے
03:57سالیساً اگر کسی کو والدین کے ساتھ ساتھ اساتیزہ بھی اچھے مل جائیں
04:04جو اس کی اکیڈمک تربیت اچھی کر سکیں
04:07اس دور کے تقاضوں کے مطابق اسے تیار کر سکیں
04:11تو یہ بچہ ابتدان ہی اس کی personality بہت گروم ہو جاتی ہے
04:16اور یہ معاشرے میں رفیو شان ہو کر ظاہر ہوتا ہے
04:20رابعاً کہ اگر اسے مرشد کامل مرشد کامل میسر آجائے
04:28اور ایسا مرشد کامل کہ اس کے hands on explorers ہوں
04:33وہ ویجنری ہو اور ظاہر کے ساتھ ساتھ اسے باطن کی آنکھ سے دیکھنے کا سلیکہ بھی سکھائے
04:40تو یہ شخصیت ایسی ہوتی ہے
04:42کہ جو اپنے شان میں انفرادیت کی حامل ہو جاتی ہے
04:47ہم بات کرتے ہیں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ کی
04:52تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی personality grooming کے لیے
04:56آپ کو یہ چاروں بنیادی اصول اور یہ چاروں بنیادی جو خد و خال تھے
05:02وہ عطا فرمائے کہ حسب و نصب بھی عالی ہے
05:05والدین بھی عالی ہیں
05:07اساتذہ بھی عالی ہیں
05:09اور پھر شیخ جن کی صحبت میسر آتی ہے
05:12وہ بھی ویجنری ہیں
05:14زمانے کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں
05:16جان دعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت
05:19اور اس شریعت کے احیاء کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے
05:23آپ کی personality کو groom کرتے ہیں
05:25ہم پہلی جہد پر بات کرتے ہیں
05:28حسب و نصب
05:29یہ کتنی اہمیت کا حامل ہے
05:31اور اس سے شانے کتنی میسر آتی ہیں
05:34نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی
05:38منبع باراقات ہے
05:40منبع روحانیت ہے
05:42اخلاق ہے
05:43اور فضیلت و اقدار کا منبع
05:45ذاتِ رسالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
05:48اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم
05:50کی تمام شانوں کا فیضان ہی کائنات میں تقسیم ہوا
05:54اور انہی شانوں کا فیضان
05:57نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بھی تقسیم ہوتا ہے
06:00اور اس تقسیم کے دو دارے ہیں
06:03ایک صحابہ اکرام ردوان اللہ اہل مجمعین
06:06اور دوسرے اہل بیتِ اتحار
06:09فیضانِ نبوت کی یہ تقسیم
06:13صحابہ اکرام ردوان اللہ اہل مجمعین کے واسطے سے بھی ہوئی
06:16اور اہلِ بیتِ اتحار کے واسطے سے بھی ہوئی
06:19صحابہ اکرام نے فیضانِ رسالت کو حاصل کیا
06:23اور اسے پھر امت میں تقسیم کیا
06:25اور اہلِ بیتِ اتحار انہوں نے فیضانِ ذات کو حاصل کیا
06:30اور فیضانِ ذات کے ساتھ ساتھ ان کا طرح امتیاز یہ بھی تھا
06:34کہ انہیں فیضانِ رسالت بھی نصیب ہوا
06:37گویا کہ
06:38اہلِ بیعت کی یہ خصوصی شان ہے
06:41کہ فیضانِ شانِ محمدی
06:43صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں
06:45سلسلے اپنے نیچرل
06:47فلو کے ساتھ ان میں موجود ہیں
06:49فیضانِ ذات کے دو
06:51دارے
06:52یعنی اہلِ بیعتِ اطحار میں سے جو فیضان
06:55تقسیم ہوتا ہے امتِ رسولِ عربی
06:57صلی اللہ علیہ وسلم میں
06:58اس کے بھی پھر دو دارے ہیں
07:00وہ جنابِ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے
07:03سیدہ امامِ حسن کے ذریعے
07:05اور سیدہ امامِ حسین کے ذریعے
07:07کچھ حسنی ذرائع سے
07:08کچھ حسینی ذرائع سے
07:10لیکن ایک موقع ایسا بھی آتا ہے
07:14کہ جہاں حسنی اور حسینی
07:16دونوں دارے اکٹھے ہو جاتے ہیں
07:18اور جس ذات میں آ کر
07:20یہ دونوں مرتقز ہوتے ہیں
07:22وہ ہمارے ممدو
07:24حضرتِ شیخ عبدالقادر جیلانی
07:26علی رحمہ کی ذاتِ والا ببرکات ہے
07:29اب رہتی دنیا تک
07:30جسے بھی
07:31ولایت ہو
07:33علم ہو
07:34روحانیت ہو
07:35معرفت ہو
07:36طریقت کا فیضانِ نبوی میسر آئے گا
07:39اس فیضان کا سرچشمہ
07:41ذاتِ غوثِ عاظم
07:43رحمت اللہ علیہی تہہرے گی
07:44اور اس کے بارے میں خود آپ ارشاد فرماتے ہیں
07:47وَقُلُّ وَلِيِّن لَهُ قَدَمٌ
07:50وَإِنِّي
07:51عَلَى قَدَمٍ نَبِيِّ بَدْرِ الْكَمَال
07:54نَبِيٌّ حَاشمی
07:56مَكِّي حِجَازِ هُوَ جَدِّ بِهِ نِلْتُ الْمَوَالِ
08:00کہ میرے
08:02تمام کمالات کا منبع
08:04میرا وہ حسب و نصب بھی ہے
08:07کہ جو حسنی بھی ہے
08:08اور حسینی بھی ہے
08:10علوو شان دیکھئے
08:12کہ جب اس مقام کو
08:13اقابر نے دیکھا
08:15علماء نے دیکھا
08:17اور وہ لوگ کے جن کی بات کو
08:20تسلیم کیا جاتا تھا
08:21انہوں نے دیکھا تو وہ کیا کہنے لگے
08:23فتوحات مقیہ میں شیخ محی الدین ابن عربی کیا فرماتے ہیں
08:28فرماتے ہیں
08:29کہ حسبی نصبی اس مقام پر شیخ عبدالقادر فائز ہیں
08:34کہ جمیع الاقتاب والاوتاد والابدال تحت عبدالقادر
08:41و عبدالقادر قائدهم جميعا
08:44فرماتے ہیں
08:45کہ تمام اقتاب
08:46عبدال
08:47اعتاد
08:48یہ جناب شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ کے ماتحت ہیں
08:52حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی
08:54تمام راستوں میں
08:55وہ معرفت کے ہوں
08:56وہ شریعت و طریقت کے ہوں
08:58وہ علم کے ہوں
08:59وہ ظاہری ہوں
09:00یا باطنی ہوں
09:01ان میں ان تمام کے قائد نظر آتے ہیں
09:04اور اسی طرح
09:05حضرت شیخ ابو نجیب
09:07عبدالقادر سہروردی آپ کی شان میں
09:09جب رتب اللسان ہوتے ہیں
09:11تو کیا فرماتے ہیں
09:18فرماتے ہیں
09:19کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی
09:21حسب و نصب کے اعتبار سے
09:24اپنی شان میں ایسے منفرد ہیں
09:26کہ ان کا کوئی ثانی ہی نظر نہیں آتا
09:29اور ایسی خصوصیات ان کو حاصل ہیں
09:32کہ آپ جس کو چاہتے ہیں
09:33فیضان نبوت میں سے عطا کرتے ہیں
09:36جسے چاہتے ہیں
09:37اسے اس کے مقام پر رکھتے ہیں
09:39اور جسے چاہیں
09:40یہ قدرت بھی ملی ہے
09:42کہ اس سے جو ملا ہے
09:44اس کو سلب بھی کر لیں
09:45حضرت شیخ سید احمد قبیر
09:48الرفاعی فرماتے ہیں
09:50اپنے بانجے جناب ابو فرہ عبدالرحیم
09:52سے بات کر رہے تھے
09:53نسائے کرتے ہوئے فرمایا
09:55اے فرزن اس دور میں
09:58اتنی روحانی طاقت
10:00کسی کو عطا نہیں ہوئی
10:01جتنی شیخ عبدالقادر جیلانی
10:04کو عطا ہوئی ہے
10:04اور اسی طرح
10:05حضرت مجدد الفیسانی علی رحمہ
10:08جب آپ کی شان بیان کرتے ہیں
10:10تو کیا فرماتے ہیں
10:11فرماتے ہیں
10:36آپ فرماتے ہیں
10:38نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
10:40کے فیوزات کی بات ہو
10:41آپ کی بارکات زہریہ
10:43اور باطنیہ کی بات ہو
10:44اکتاب ہوں
10:46بدلہ ہوں
10:47نجابہ ہوں
10:48جسے بھی میسر آئے گی
10:50وزرت شیخ عبدالقادر جیلانی
10:52کی نسبت سے میسر آئے گی
10:53اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے
10:55اور پھر کوڑ کرتے ہوئے
10:57حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ
10:59کے ان جملوں کو لے کے آتے ہیں
11:01کہ سورج اگلوں کے چمکے تھے
11:04لیکن وہ چمک کے ڈوبے ہیں
11:06اف کے نور پر آج بھی
11:08جس کا سورج چمک رہا ہے
11:10اس کا نام حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ہے
11:13حسبی اور نسبی
11:15یہ شان انفرادی طور پر
11:19اللہ تعالیٰ نے شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ کو عطا فرمائی
11:22اسی حسبی نسبی شان میں
11:24ایک خصوصیت تقوی تھی
11:27کہ جو موروسی طور پر
11:29اللہ تعالیٰ نے شیخ عبدالقادر جیلانی کو عطا فرمائی
11:32اور یہی آپ کی علووہ شان کا ایک عالی سبب بنتی ہے
11:36اب اس حسبی نسبی تقوی کو دیکھئے کیسا ہے
11:40کہ والد محترم کا نام
11:42ابو سال موسیٰ دوست جنگی ہے
11:46اور والدہ کا نام
11:48ام الخیر فاطمہ ہے
11:50اور والد ماجد کی
11:51کیفیات کیا ہے
11:53اور والدہ کی کیفیات کیا ہے
11:55اس کے بارے میں
11:56تمام اس بات پر متفق ہیں
11:58کہ ابوہ حسنی والام حسینیت
12:03فہو السید القریم ابن القرام
12:07کہ پقیزہ نسل اور نجیب الطرفین ہونا
12:10یہ آپ کی قبولیت الہیہ اور شان علوو کا پہلا زینہ ہے
12:16اب اس تقوی کی کچھ نظیرات میں آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا
12:21حضرت ابو سالی موسیٰ دوست جنگی
12:27آپ تقویٰ کے اس مقام پر فائز ہیں
12:29تربیت اتنی عالی ہے
12:31کہ ایک دن چل رہے ہیں
12:33تو چلتے چلتے
12:34بھوک نے کچھ ستایا
12:36تو نہر کے کنارے تھے
12:38ایک سیب پر نظر پڑی
12:40اسے اٹھایا اور اٹھانے کے بعد
12:42ایک بائٹ لے لی
12:44جب بائٹ لی تو فوراں خیال آ گیا
12:46کہ یہ کس کا سیب ہے
12:48اور کہاں سے آیا ہے
12:50کس کی اجازت سے اس کو تناول کر رہے ہو
12:53بس یہ خیال کا آنا تھا
12:55سیب ہاتھ میں لیا
12:56اور تلاش میں چل پڑے
12:59کہ اس کا مالک کون ہے
13:00تاکہ میں اس مالک کے پاس پہنچوں
13:04اور اس کی تلافی کر سکوں
13:06یا اس کا جو بنتا ہے
13:08وہ انہیں پیش کر سکوں
13:09تاکہ مجھے کل قیامت کے دن
13:12اس کا جواب نہ دینا پڑے
13:13دیکھئے ذرا
13:14والدین کا طاہر ہونا
13:17صرف حرام نہیں
13:18بلکہ شبوحات
13:20اور شبوحات میں بھی
13:22غیر واضح چیز سے پرہیز کرنا
13:24حضرت ابو صالح موسیٰ دوست
13:26جنگی علی رحمہ کی
13:27فطرت میں گندہ ہوا ہے
13:29جب اس مقام پر پہنچتے ہیں
13:31کہ جہاں سے یہ محسوس ہوا
13:34کہ یہ است باغ کا سیب ہے
13:37تو فوراں رکے
13:39باغ کے مالک کو تلاش کیا
13:41اور جا کے ان سے عرض گزار ہوئے
13:44کہ یہ سیب آپ کے باغ کا لگتا ہے
13:46اور میں نے بلا اجازت
13:48ندی میں چلتا ہوا آ رہا تھا
13:50ایک بائٹ لے لی ہے
13:52اور میں یہ چاہتا ہوں
13:53کہ اس کا معافضہ آپ کو دے دوں
13:55تو وہ دیکھنے والی آنکھ بھی
13:57قیامت کی نظر رکھتی تھی
13:58انہوں نے جب دیکھا
14:00کہ ایسا بندہ
14:01کہ جس کی طہارت کا عالم یہ ہے
14:04کہ وہ غیر واضح چیز سے بھی
14:07پرہیز کرتا ہے
14:08تو پھر ان کے لیے
14:09سزا بھی وہ تجویز کی
14:11جسے کہا جاتا ہے
14:13کہ جس نے سبق یاد کیا
14:15اس کو چھٹی نہ ملی
14:16کہا کہ اس کا معافضہ یہی ہے
14:18کہ آپ کو
14:19اپنے آپ کو وقف کرنا پڑے گا
14:22ایک طویل عرصہ
14:23اس باق کی خدمت کرنی پڑے گی
14:25اور اس کے ساتھ ساتھ
14:27میری ایک بیٹی ہے
14:28اس کے ساتھ
14:29آپ کو نکاح کرنا پڑے گا
14:31پہلی شرط پوری کی
14:33دوسری شرط کے لیے
14:35ابھی اپنے آپ کو پیش کر دیا
14:36اب جب دوسری شرط کے لیے
14:38پیش کیا
14:39تو یہ تھا وہ سمرہ
14:41طہارت کا
14:42پاکیزگی کا
14:44حرام سے بچ جانے کا
14:46کہ اللہ تعالی نے جو آپ کو
14:47زوجہ عطا فرمائی
14:49وہ جناب عبداللہ سامعی کی
14:51وہ نور نظر ہے
14:52لخت جگر ہے
14:54کہ جن کا نام
14:55ام الخیر
14:56خیر کی اصل
14:58اساس
14:58جس سے خیر کے سوتے پھونٹتے تھے
15:01وہ جناب فاطمہ
15:02رحمہ اللہ ہیں
15:04کہ آپ کوئے اقد میں آتی ہیں
15:06اور پھر آپ کے اس حسین امتزاج سے
15:09پروردگار عالم
15:11جو نور نظر عطا فرماتا ہے
15:13اس کا نام شیخ عبدالقادر جیلانی ہے
15:16اس پر
15:17لوگوں نے یہ بات کی
15:20کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ
15:23آپ کے والد ماجد
15:26ایک
15:27سیب
15:28اس سے بچتے ہوئے
15:30اور اس کا معاوضہ دینے کے لیے
15:32معذرت کرنے کے لیے باغمان تک پہنچے
15:35اور پھر باغمان کے لیے
15:37اپنی زندگی کو
15:39وقف کر لیا
15:40فتوہ لینے کے لیے نہیں
15:41بلکہ
15:42تقوی ان کا یہ تقاضہ کرتا تھا
15:45اس تقوی نے ان کو یہاں تک پہنچایا
15:47تو تقوی کا انعام
15:49رب تعالی نے
15:49ام الخیر
15:50اور پھر ام الخیر سے عبدالقادر جیلانی کی صورت میں
15:54عطا فرمایا
15:55آج کی جدید دنیا میں
15:57ایک بہت اہم پیغام ہمارے سامنے آتا ہے
16:00کہ اسمال ایتھیکل ڈیسیجن
16:02کہ یہ جو چھوٹے چھوٹے
16:04اخلاقی اقدار ہوتی ہیں
16:07جب انہیں کوئی بندہ بحال کرتا ہے
16:09تو یہ شیپ دی جنریشن امپیکٹ
16:11یہ آگے پوری نسل پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں
16:16اور اس کی اثر اندازی دیکھئے
16:18کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ
16:20شیر خارغی کے عالم میں
16:23روزے کا رمضان کا احترام کرتے ہیں
16:26عام لوگوں کی نظر تو شاید صرف عبدالقادر جیلانی پر رکھتی ہے
16:31لیکن حقیقت یہ ہے
16:32کہ یہ وہ باطن کی تربیت تھی
16:35جو شکم مادر میں
16:36طہارت اور تقوی کی وجہ سے
16:38اللہ تعالیٰ نظرت شیخ عبدالقادر جیلانی کو عطا فرمائی تھی
16:42کہ شیر خارغی میں
16:43ظہور ایسا ہو رہا ہے
16:45کہ جس میں تقوی کی خوشبو آ رہی ہے
16:48اگر اس تناظر میں
16:49حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ کی
16:52اس شان کو دیکھا جائے
16:53تو اسے سمجھنا بہت آسان رہتا ہے
16:56شاہ جیلان بمنے
17:02داروں پر شاہ مددے
17:10نور این نبی سید و سلطا
17:45اب دوسرا مرحلہ
17:47کہ جب بات آگے بڑھتی ہے
17:49سیکنڈ فیز زندگی کا
17:51پہلا فیز تو
17:52حسبی نسبی والدین کی تقوی کی تربیت ہے
17:56اور سیکنڈ فیز کیا ہے
17:58کہ جب وہ
17:59اپنی ذاتی عملی زندگی میں آتے ہیں
18:01تو تقوی ان کے پیش نظر رہتا ہے
18:05عقل حلال ان کے پیش نظر رہتا ہے
18:08اور کیفیات کیا ہیں
18:09یہاں بھی دو فیزز ہیں
18:10پہلی فیز میں
18:11جب والدہ ماجدہ
18:13انہیں عملی تربیت کے لیے
18:16اور علم کے زیور سے آراستہ ہونے کے لیے
18:19اجازت مرحمت کرتی ہیں
18:20تو یہ سچائی
18:22اور یہ پرہزگاری کا پہلا سبق کیا پڑھاتی ہیں
18:25کہتی ہیں
18:30بیٹا جو کچھ مرضی ہو جائے
18:33تم نے کبھی جھوٹ نہیں بولنا
18:34یہ میری وسیعت ہے
18:35اور اسے اپنے پلے سے باندھ لینا
18:37حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ نے
18:40اسے
18:42مضبوطی سے تھام لیا
18:43اور چند دینار جو لیے تھے
18:46وہ اپنے سلوکے میں سلوائے ہوئے تھے
18:49راستے میں پہنچے
18:50کسی نے روک لیا
18:52اور وہ جو کریمنل
18:53جنہوں نے روکا پوچھا
18:55تمہارے پاس کیا ہے
18:56تو کہنے لگے میرے پاس دینار ہیں
18:58لیکن ملنے پہ بھی
19:00تلاش تلاش کرنے پر بھی تلاش نہیں کر پائے
19:02تو بلاخر بات
19:03ڈاکوں کے سردار تک پہنچی
19:05وہ آیا
19:06اور کہا
19:07کیا ہے آپ کے پاس
19:08کہا میرے پاس تو دینار ہیں
19:10کہا کہا ہے
19:11کہا یہاں چھپے ہوئے ہیں
19:12خودی راز افشاں کر دیا
19:14بتا دیا
19:14وہ کہنے لگا
19:15عجیب بات ہے
19:16اگر تم چاہتے
19:18تو ہمیں نہ بتاتے
19:19ہمیں معلوم نہ پڑتا
19:21تمہارے دینار محفوظ رہ جاتے
19:23آپ فرماتے دینار تو محفوظ رہ جاتے
19:25لیکن جو ماں کو زبان دی ہے
19:27وہ کیسے محفوظ رہتی
19:28میری والدہ ماجدہ
19:30جب گھر سے نکلا تھا
19:31انہوں نے مجھے وسیعت کی تھی
19:33بیٹا جھوٹ نہیں بولنا
19:35اس سے سبق کیا ملتا ہے
19:37کہ truth
19:38سچائی
19:39ایک ایسا بنیادی سبق ہے
19:41کہ جس پر
19:43no compromise
19:44یہ ایسی value ہے
19:45جس پر کسی قسم کا
19:47compromise نہیں کیا جا سکتا
19:48اور جو معاشرے
19:50اس بات پر
19:51یکجا ہو جائیں
19:53کہ وہ سچائی کی
19:54values کو گرنے نہیں دیں گے
19:56اس پر compromise نہیں کریں گے
19:59تو یقین کیجئے
20:00پوری society بھی
20:01criminal ہو جائے
20:02تو یہ ایک اچھائی ہی
20:04انہیں بہتری میں
20:05بدلنے کے لیے
20:06کافی ہوتی ہے
20:07دیکھیں حضرت شیخ
20:08عبدالقادر جیلانی
20:09علیہ الرحمہ نے
20:09اپنے
20:10سچ پر
20:11compromise نہیں کیا
20:13نتیجہ کے نکلا
20:14پروردیگار
20:15عالم نے
20:16پورے کے پوری
20:17اس criminal society
20:19کے دلوں کو
20:20بدل کے رکھ دیا
20:21اور صرف
20:21بدلا نہیں
20:22بلکہ وہ دوسروں کے لیے بھی
20:24حادی بن گئے
20:25رہبر بن گئے
20:26راہ دکھانے والے
20:28جو پہلے راستے
20:29روکتے تھے
20:29اب لوگوں کو
20:30راستوں
20:31راستے دکھانے لگے
20:32منزلوں تک
20:33پہنچانے لگے
20:34تو یہ
20:35زندگی کا
20:36وہ پہلا عملی
20:37سبق تھا
20:38کہ جو حسبی نسبی
20:40اس شان سے
20:41میسر آیا
20:42جو عزت شیخ
20:43عبدالقادر جیلانی
20:44علیہ الرحمہ کو
20:44گوڈ گفٹیڈ
20:45عطا ہوئی
20:46اور پھر صرف
20:47مرحلہ یہاں نہیں ہے
20:48بلکہ
20:49جب آپ جیلان سے
20:51بغداد کی طرف
20:52جا رہے ہیں
20:53تو عملی زندگی
20:54کہ ان مراحل میں
20:55مشکلات دیکھئے
20:56کیسی ہے
20:57کہ طالب علم ہیں
20:58اور
20:59جو کچھ موجود تھا
21:01وہ سب کچھ
21:01خرچ ہو گیا
21:02فرماتے ہیں
21:03فاقی آگئے
21:04پتوں پہ
21:05گزارا کرنا پڑا
21:06کئی مراحل
21:07ایسے آئے
21:08کہ کئی کئی دن
21:09مجھے فاقہ
21:10کشی کاٹنی پڑی
21:11یہاں تک فرمایا
21:13کہ مجھ پر
21:13ایسی سختیاں آئیں
21:14اگر وہ سختیاں
21:16پہاڑوں پر پڑتی
21:17تو ریزہ ریزہ
21:18ہو جاتی
21:18آج ہمیں
21:19طلب علم کے
21:20راستے پر
21:21وہ مشکلات نہیں ہے
21:22زندگی
21:23ہماری
21:24کمفرٹ زون میں ہے
21:25علم کا راستہ
21:27ہدایت کا راستہ
21:28وہ کمفرٹ زون
21:30تک پہنچتے
21:30پہنچتے
21:31بڑی پرخار
21:32راستوں سے گزرتا ہے
21:34حضرت شیخ
21:35عبدالقادر جلانی
21:35ان راستوں سے گزرے
21:36فاقے کاٹ لیے
21:38لیکن حرام کی طرف نہیں گئے
21:40کسی مشتبے چیز
21:41کی طرف نہیں گئے
21:42بلکہ ایک موقع پر
21:44فرماتے ہیں
21:44کہ میں ایک جگہ رکا
21:45اور
21:46رک کے
21:47تو میں نے ایک جگہ میں
21:49پناہ لے لی
21:49بھوک نے شدید ستایا
21:51اچانک ایک شخص آیا
21:53تو اس کے پاس
21:54اس کے
21:55توشدان کے اندر
21:56کھانا موجود تھا
21:57اس نے اپنا کھانا کھولا
21:59اور کھولنے کے بعد
22:00مجھے آواز دی
22:01اور کہنے لگا
22:01اگر آپ کھانا کھانا چاہتے ہیں
22:03تو میرے ساتھ آ جائیے
22:04فرماتے ہیں
22:05کہ میں
22:05اس کے ساتھ آکے بیٹھ گیا
22:07اور وہ
22:08کیفیات جو اندر تھی
22:09ساری کی ساری
22:10ایک فاقہ کشی کی
22:11طویل مشکتیں
22:12کاٹنے کے بعد
22:13اب جب میں
22:14اس کے ساتھ بیٹھا
22:15تو دل میں
22:15کیفیات کیا ہے
22:16کہ میں نے تو
22:17کبھی
22:18کسی کے سامنے
22:19سوال بھی دراز نہیں کی
22:20دست سوال کو
22:21دراز نہیں کیا
22:22میں نے تو کبھی
22:24اس فاقہ کشی پہ
22:25کوئی کمپرومائز
22:26نہیں کیا
22:27اور آج
22:28میری طبیعت
22:29اس طرف کیوں
22:29مائل ہو گئی ہے
22:30اب جب دل میں
22:31کیفیات یہ ہوں
22:32تقوی اور
22:33عامال
22:34اچھے ہوں
22:35نیتیں اچھی ہوں
22:36تو رب تعالیٰ
22:37اسباب کیسے پیدا
22:38فرماتا ہے
22:38اسی دوران میں
22:39آپ نے نوالہ لیا
22:40اور اس سے
22:41بات چیز شروع ہو گئی
22:42گفتگو میں پوچھا
22:43جوان یہ کھانا
22:44کہاں سے لائے ہو
22:45اس نے کہا
22:46کہ کھانے کا
22:47بعد میں بتاؤں گا
22:48پہلے مجھے بتاؤ
22:49کیا تم کسی
22:50عبدالقادر نامی
22:51شخص کو جانتے ہو
22:52آپ نے فرمایا
23:00کہاں کیا مطلب
23:01کہاں مجھے آپ کی
23:02والدہ ماجدہ نے
23:03آپ کی خدمت کے لئے
23:05کچھ دینار دے کر
23:06بیجا تھا
23:06آپ کو تلاش کرتے
23:08کرتے میری پونجی
23:09ختم ہو گئی
23:10اور میرے پاس
23:11کھانے کو بھی کچھ نہ رہا
23:12سوائے آپ کے دیناروں کے
23:14میری طبیعت اس بات کی
23:16متعقاضی نہیں تھی
23:17کہ میں
23:17اس کو بغیر اجازت
23:19کے آپ کے
23:20کھانا کھالوں
23:21تو آپ
23:23بلاخر اللہ تعالیٰ نے
23:24مجھے آپ تک پہنچا دیا
23:26کھانا بھی میں لے چکا تھا
23:27لیکن
23:28کلب کے اندر
23:28وہ ایک
23:29ابھی جو
23:30طبیعت کا میلان
23:31اس کی طرف نہیں ہوتا تھا
23:32وہ مجھے پریشان کرتا تھا
23:34اللہ کا شکر ہے
23:35کہ رب تعالیٰ نے
23:36آپ سے میلا بھی دیا ہے
23:37اور اس کھانے کی
23:39ہلت کا ذریعہ
23:40اور سبب بھی
23:40آپ کو بنا دیا ہے
23:41تو دیکھئے
23:42حضرت شیخ عبدالقادر
23:44جلانی علی رحمہ
23:45جب آپ
23:46عملی زندگی میں آتے ہیں
23:47تو عملی زندگی کے اندر
23:49تقوی اور
23:50عقل حلال
23:51کو جب پریفر کرتے ہیں
23:52تو نتیجہ یہ نکلتا ہے
23:53جو آپ کی صحبت میں آتا ہے
23:56اللہ تعالیٰ
23:56اسے بھی شبوحات سے
23:57محفوظ فرما لیتا ہے
23:59اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے
24:01کہ اگر
24:02ہم اپنی اولاد کو
24:04نیکس جنریشن کو
24:05اپنے معاشرے کو
24:06سوسائٹی کو
24:07حرام سے بچانا چاہتے ہیں
24:09شبوحات سے
24:10محفوظ رکھنا چاہتے ہیں
24:11تو شانِ شیخ عبدالقادر
24:13جلانی علی رحمہ
24:14مجھ اور آپ سے
24:15اس بات کی متعقاضی ہے
24:17کہ ہمیں پہلے خود
24:18حرام سے بچنا ہوگا
24:19شبوحات سے بچنا ہوگا
24:21غیر واضح چیزوں سے
24:23بچنا ہوگا
24:24جب ہم خود بچیں گے
24:25تو جو ہماری صحبت میں ہوگا
24:27یا جن پر ہمارا
24:28اثر ہوتا ہے
24:29اللہ تعالیٰ
24:30ان کو بھی ان شبوحات سے
24:32محفوظ فرمائے گا
24:33اب ذرا تیسرا فیز دیکھئے
24:35پہلا فیز تو تربیت کا ہے
24:37دوسرا فیز
24:38عمالی زندگی کا وہ ہے
24:39کہ جس کے اندر
24:40خود فنینشلی سٹرونگ نہیں ہے
24:42مقام اور مرتبہ
24:44علیہ معاشرے میں
24:45فنینشلی اعتبار سے نہیں ملا
24:47اور تیسرا فیز وہ ہے
24:49کہ جب اللہ تعالیٰ
24:50فنینشلی اعتبار سے
24:51بہت مضبوط کر دیتا ہے
24:53اور آپ کی مقام
24:54اور شان علیہ
24:55اس کو سب جانتے
24:57مانتے ہیں
24:58تو اس موقع پر
24:59جس کا ظہور ہوتا ہے
25:01وہ ہے شان استغناہ
25:03شان بینعازی
25:04اس شان بینعازی پر
25:07ذرا آئیے
25:07اس واقعے کی طرف چلتے ہیں
25:09کہ حضرت شیخ خود فرماتے ہیں
25:12ایک موقع پر
25:13یا قومی
25:14اللکمت الحرام
25:16تظلم القلب
25:18واللکمت الحلال
25:20تنورہو
25:21اے میری قوم
25:22حرام کا ایک لکمہ
25:25وہ دل کو سیاہ کر دیتا ہے
25:27اور حلال کا ایک لکمہ
25:30وہ دل کو سفید کر دیتا ہے
25:32معزیز سامعین
25:33حضرت شیخ عبدالقادر
25:35جیلانی علی رحمہ کی
25:36زندگی کا یہ تیسرا
25:38فیض
25:38کہ جس میں شان استغناہ
25:41کا ظہور ہوتا ہے
25:42کہ آپ
25:44لکمہ حلال
25:45کو اپنی زندگی کے لیے
25:47تنویر قرار دیتے ہیں
25:48اور لکمہ حرام
25:49کو نہ صرف اپنے لیے
25:50بلکہ دوسروں کے لیے بھی
25:52قلب کی سیاہی قرار دیتے ہیں
25:55جب انسان
25:56اپنی پرسنیلٹی
25:59گرومنگ کے بعد
26:00اس مقام اور مرتبے پر پہنچ جائے
26:02کہ حسب و نصب بھی آلہ ہو
26:04والدین کی تربیت بھی اچھی ہو
26:06اور اپنی عملی زندگی کے
26:08فیزز میں
26:09وہ اس پر پورا
26:10اترتا ہوا نظر آئے
26:12تو پھر یہ وہ مقام ہوتا ہے
26:13کہ وہ اس شان پر فائز ہوتا ہے
26:16کہ وہ پروردگار عالم
26:17کا بندہ بند کر
26:19اللہ تعالیٰ کی طرف سے
26:20یہ عزاز پاتا ہے
26:22کہ ایکسٹر آرڈینری ایکٹ
26:24کا ظہور
26:25اس سے ہوتا ہے
26:26جسے جو
26:28نیچر آف لاہ ہیں
26:29فطرت کے جو قوانین ہیں
26:31پروردگار عالم
26:33اسے ایسی صلاحیت
26:34ایسی قدرت
26:35اور ایسی شان
26:36اتا فرماتا ہے
26:37کہ وہ اپنے
26:38پروردگار عالم
26:39کی شانوں کا
26:40ظہور بند کے
26:42لوگوں کے سامنے آتا ہے
26:43اور یہی شان
26:44حضرت شیخ عبدالقادر
26:45جلانی علی رحمہ کو
26:46ان کے پروردگار
26:48نے اتا فرمائی
26:48اب ذرا
26:49ابن حجر اسکلانی کو دیکھئے
26:51وہ آپ کی شان میں
26:53کیسے لکھتے ہیں
26:54فرمایا
26:57کہ حضرت شیخ عبدالقادر
27:00جلانی علی رحمہ
27:01شریعت کے ترازو پر
27:03پورا اترتے تھے
27:04اور شریعت کے دامن
27:05کو کبھی بھی
27:06اپنے ہاتھ سے
27:07نہیں جانے دیتے تھے
27:08اور فرمایا
27:08یدو
27:09اللہ
27:10بالبصیرہ
27:11وہ اللہ تعالی کی طرف
27:12جب کسی کو دعوت دیتے
27:13تو دعوت زہری بھی دیتے
27:15دعوت باطنی بھی دیتے
27:17اور اس کے لیے
27:19جس قسم کے
27:20ظہور کی ضرورت ہوتی
27:21حضرت شیخ عبدالقادر
27:23جلانی علی رحمہ
27:24اس مقام پر فائز ہو گئے
27:25وہ اقلی دلائل ہوتے
27:27وہ نقلی دلائل ہوتے
27:28وہ کسی چیز کی
27:31فیزیکلی کسی چیز
27:32کو ثابت کرنا ہوتا
27:34تو حضرت شیخ عبدالقادر
27:35جلانی اسے بھی ثابت
27:36فرما دیتے
27:37وَقَانَ مُسْتَجَابُ الدَّعْوَاتِ
27:40اور فرمایا
27:40کہ وہ مُسْتَجَابُ الدَّعْوَاتِ
27:42تھے
27:42وَلَهُ قَرَامَاتٌ زَاهِرَةٌ
27:45اور ان کے لیے
27:46کراماتِ زاہرہ
27:47کا ظہور
27:48اس تواتر کے ساتھ
27:49ہوا ہے
27:50کہ جس میں بھی
27:51آپ کی شان
27:52انفرادی ہے
27:53اور حیران کن بات
27:54یہ ہے
27:55کہ اپنے کیا
27:56پرائے
27:57وہ بھی آپ کی
27:58اس شانِ
27:59علوو کے قائل
28:00نظر آتے ہیں
28:01ابن تیمیہ
28:02جیسی شخصیت بھی
28:03آپ کی کرامات
28:05کے تواتر
28:06کو بیان کرتی ہیں
28:07اور جا بجا
28:08آپ کو
28:09مختلف انداز میں
28:10آپ کی شانوں
28:12کو بیان کرتی ہے
28:12آپ کو
28:13سلوٹ پیش کرتی ہوئی
28:15نظر آتی ہے
28:15اس تیسرے فیز میں
28:17جب ان سے
28:18ایکسٹرا آرڈینری ایکٹ
28:20کا ظہور ہوتا ہے
28:21ذرا دیکھئے
28:22اس ظہور کو
28:22حضرت شیخ عبدالقادر
28:24جلانی علی رحمہ
28:25آپ تشریف فرما ہے
28:27اور
28:28اس شان پر
28:29فائز ہو چکے ہیں
28:29اور جب
28:30اس شان پر
28:31فائز ہوتے ہیں
28:31تو وہ
28:32تعلیماتِ
28:33نبویہ کا
28:34مشہدہ بھی کرتے ہیں
28:35اور کرواتے بھی ہیں
28:37اور آخرت کے
28:38جو مشہدات ہیں
28:39ان کا ظہور بھی
28:40ان کے ہاتھ سے ہوتا ہے
28:41اور
28:42قدرتِ الٰہی کا
28:43نمونہ اور
28:44موڈل بن جاتے ہیں
28:45آپ تشریف فرما ہے
28:46کہ
28:47مستنجد باللہ
28:48خلیفہ
28:49مستنجد باللہ
28:50وہ نظرانوں کی
28:51تھیلیاں لے کر آیا
28:52جب وہ تھیلیاں لے کر آیا
28:54تو آپ نے
28:55اس سے
28:55نظرانہ کو
28:57قبول کرنے سے
28:58انکار کر دیا
29:00وہ حیران رہ گیا
29:01اس نے
29:02اسرار کیا
29:03آپ نے پھر انکار کیا
29:04اس نے پھر اسرار کیا
29:06جب اسرار کیا
29:08تو آپ نے
29:08اس تھیلی کو ہاتھ میں پکڑا
29:09اور ہاتھ میں پکڑنے کے بعد
29:11کیا فرمایا
29:12اَتُقَدِّمُ اِلَيَّ دِمَاءَ الْمَظْلُومِينَ وَأَمْوَالَهُمْ
29:17اِتَّقِ اللَّهُ وَلَا تَظْلِمِ الْعِبَادَةِ
29:20کیا تو ہمارے سامنے
29:22وہ پیش کر رہا ہے
29:23جو مظلوموں کا خون ہے
29:25ان کے مال
29:26لوٹا ہوا مال ہے
29:27وہ خدا کا خوف کر
29:29اللہ کے بندوں پر ظلم نہ کر
29:31اور اسی جلال میں
29:33اب یہ دیکھئے
29:34جب اس شان پر بندہ فائز ہوتا ہے
29:36تو اس سے ایکسٹرا آرڈینری
29:38ایکٹ کا ظہور کیسے ہوتا ہے
29:40وہ بھی یہ الفاظ سنی رہا ہے
29:42کہ عملی صورت میں آپ
29:43اپنے دست مبارک سے
29:45اس تھیلی کو
29:46جب پیستے ہیں
29:49تو اس سے خون جاری ہونا شروع ہو جاتا ہے
29:51اور ساتھ ہی فرماتے ہیں
29:53مستنجد باللہ
29:54اگر شریعت کی لگامیں
29:56میرے سامنے نہ ہوتی
29:58تو یہ خون تیرے محلات تک چلا جاتا
30:01اب دیکھئے ذرا
30:02کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ
30:05آپ نے
30:06وہ جو کرپٹ شخص کا مال تھا
30:09اس کو ریجیکٹ کیا
30:10اور یہ بتا دیا
30:12یہ میسج دیا
30:13کہ ریجیکٹنگ کرپٹ منی
30:15اس گریٹ
30:16دین پرفارمنگ ایکسٹرا آرڈینری ایکٹ
30:19کہ یہ جو
30:21حرام کا مال ہے
30:22کرپشن کا مال ہے
30:24اور جس کے اندر شبوحات پائے جاتے ہیں
30:27مظلوموں کے خون جو لوٹے ہوئے ہیں
30:29یہ واپس کرنا میرے نزدیک
30:32کرامت دکھانے سے بھی زیادہ اللہ ہے
30:34اگرچہ یہاں کرامت کا ظہور بھی ہو گیا
30:37ایکسٹرا آرڈینری ایکٹ بھی دکھا دیا
30:39سبق کیا دیا
30:40کہ سبق وہ جو دینے والا تھا
30:43اس کو بتا دیا
30:44اور آنے والے جتنے سبق لینے والے تھے
30:47ان کو بتا دیا
30:47اگر اللہ کے راستے میں
30:49اللہ والوں کو دینا چاہتے ہو
30:51تو ستھرا مال دو
30:52لوٹا ہوا مال نہ دو
30:54اور ساتھ ہی ساتھ
30:56لینے والوں کو کیا سبق دے دیا
30:58کہ تھیلیوں
30:59نظرانوں کی طرف نہ دیکھو
31:00یہ بھی دیکھو
31:01مال آیا کیسے ہے
31:02ایسا مال ہرگز قبول نہ کرو
31:04یہ خون ہے
31:05کہیں ایسا نہ ہو
31:07کہ مظلوموں کا یہ لوٹا ہوا مال
31:09اپنے خون کے ساتھ
31:11تمہیں بھی بہا کے نہ لے جائے
31:12جو شیخ
31:15مستنجد باللہ سے
31:17فیزیکل حرام
31:18مال کو قبول نہیں کرتے
31:20اپنے سامنے
31:21آج حضرت شیخ
31:23عبدالقادر جیلانی
31:23علیہ الرحمہ سے
31:24محبت کرنے والے
31:25اور آپ کی عقیدت میں
31:27اپنے آپ کو
31:28نچھاور کرنے والے
31:29اپنے آپ کو
31:30پیش کرنے والے
31:31ان کے لیے
31:32کتنا اہم سبق ہے
31:33کہ جو شیخ
31:36مستنجد باللہ سے
31:37فیزیکلی طور پر
31:38سامنے موجود ہو کر
31:39حرام مال
31:40قبول نہیں کرتے
31:41اگر کوئی حرام دیگ
31:43ان کے راستے میں دے
31:45تو کیا وہ اسے
31:45قبول کریں گے
31:46کیا وہ اس سے
31:47راضی ہوں گے
31:48ہرگز ایسا نہیں ہوگا
31:49جو فیزیکلی
31:51قبول نہیں فرما رہا
31:52وہ سپیڑچلی
31:53یا ویڑچلی
31:53کیسے قبول فرمائیں گے
31:55ان کی بارگاہ میں
31:56اگر کچھ بیجنا چاہتے ہیں
31:58تو حکم خدا
31:59اور رسول پر
31:59عمل پیرا ہو کر
32:00رزق حلال کمائے
32:02پھر اسے لائے
32:04پھر بچائیے
32:05حقوق کو
32:06ادا کیجئے
32:07اور پھر سجا کر
32:08ان کی بارگاہ میں
32:10پیش کیجئے
32:10یہی گیارمی
32:12کا مقصد ہے
32:12یہی شانِ غوثِ آزم
32:14کو حقیقی
32:15معنوں میں
32:15قبول کرنا ہے
32:16کہ پیکٹیکل
32:17انٹیگریٹی
32:18اور لیڈرش
32:19ایتھیکل لیڈرشپ
32:21سماج میں
32:22ایسی دکھائی جائے
32:23کہ جو
32:23نبی پاک
32:24صلی اللہ علیہ وسلم
32:25کے پروفٹکل
32:27موڈل کے
32:28بالکل این
32:29مطابق ہو
32:30اور یہی کام
32:31اولیاء کا تھا
32:32اور یہی کام
32:33اولیاء کے سرخیل
32:34حضرت شیخ
32:35عبدالقادر
32:36جلانی علیہ رحمہ
32:37نے دکھایا
32:37یہاں
32:38ایک پہلو پر
32:39میں ضرور
32:39بات کرنا چاہوں گا
32:40یہ جو آپ نے
32:41ارشاد فرمایا
32:43اَتُقَدِّمُ
32:44اِلَيَّ
32:44دِمَاءَ
32:45الْمَظْلُومِينَ
32:46کہ اس سے جو
32:47مظلوموں کا
32:48مال لکھ رہا تھا
32:49یہ صرف
32:50مجازی جملہ نہیں ہے
32:51بلکہ یہ
32:52اخروی مشاہدہ ہے
32:54آپ نے ارز کیا تھا
32:55کہ جب
32:56تقوی سے
32:57اقل حلال
32:58اور حرام سے
32:59بچاؤ کے بعد
33:00کسی شخصیت
33:02کی ڈیویلپمنٹ
33:03ہو جاتی ہے
33:03تو اللہ تعالی کے ہاں
33:04اس کا وہ مقام
33:06اور مرتبہ
33:06ہو جاتا ہے
33:07کہ وہ
33:08اللہ تعالی کی
33:09قدرتوں کا
33:10نمونہ بن جاتا ہے
33:12رب تعالی کی
33:13قدرتوں کا
33:14ظہور
33:14اس کے ہاتھوں سے
33:15ہوتا ہے
33:16یہی اصلِ
33:17کرامت ہے
33:17کہ رب تعالی
33:18اپنے اس بندے
33:20کے ذریعے
33:21اپنی قدرتوں
33:22کا ظہور
33:22فرماتا ہے
33:23حضرت شیخ عبدالقادر
33:24جلانی علیہ رحمہ
33:25کا یہ جملہ
33:26فرمانا
33:26کہ
33:27یہ صرف
33:30مجازی جملہ
33:31نہیں ہے
33:32بلکہ یہ
33:32اخروی
33:33مشاہدہ ہے
33:33کہ جس مال
33:35کو لوٹ
33:35مار کے
33:36ذریعے حاصل
33:36کیا ہو
33:37وہ قل قیامت
33:38میں
33:39اینی صورت
33:40اختیار کر لے گا
33:41مجسم شکل
33:42اختیار کرے گا
33:43اور یہ عملی
33:44تصویر ہے
33:44قرآن مجید
33:45فرقان امید کی
33:46اس آئے مبارکہ کی
33:47رب تعالی ارشاد
33:48فرماتا ہے
33:48بسم اللہ الرحمن الرحیم
33:58اپنی آنکھوں سے
33:59دیکھو گے
34:00یہ نبوی
34:01اصول کی
34:02ایکسٹینشن ہے
34:03یہ
34:04پروف
34:04اور
34:04اف کونسپٹ
34:05ہے
34:06کہ
34:06کب
34:07کہ
34:07کہ
34:08اگر
34:08دنیا میں
34:09اللہ تعالی کی
34:10طاقت سے
34:11دی ہوئی طاقت سے
34:13یہ ساری چیزیں
34:14اپنی
34:15فیزیکل
34:15اصلی فارم میں
34:16آ جائیں
34:17تو پھر دیکھئے
34:18رب تعالی آخرت
34:19میں اس کا نظارہ
34:20کیسے دکھائے گا
34:21اور جو صرف
34:22لفظ غوث میں
34:24الچ گیا
34:24وہ اتنا
34:25ویجنری کیسے ہوگا
34:27کہ آج کا
34:28سپیکٹیکل
34:28مائنڈ
34:29اس کا جواب
34:30وہ کیسے دے سکے گا
34:31ان کا یہ کہنا ہے
34:32کہ عمال
34:33مجسم نہیں ہوتے
34:34تو جس نے
34:35ان کی
34:35قرامت کو نہ مانا
34:36وہ قیامت کے دن
34:37عمال کی
34:38مجسم شکل
34:39کو کیسے مان لے گا
34:40اور جس نے مانا
34:41تو ایمان
34:42مضبوط ہوا
34:43کیونکہ وہ
34:43جس دنیا میں
34:44جی رہا ہے
34:45اسے معلوم ہے
34:46کہ یہ
34:46ڈیجیٹل ورڈ ہے
34:47اس میں
34:48ڈیٹا انویجیبل
34:49ہوتا ہے
34:49لیکن ایک
34:50کلک پر
34:51ویڈیو
34:52اور وہ
34:53ایمیج
34:53اور اینیمیشن
34:55میں ظاہر ہو جاتا ہے
34:56تو جو ہمارا
34:56خالق ہے
34:57وہ تو
34:58عمال کو
34:59جب چاہے گا
35:00جیسے چاہے گا
35:01مجسم شکل میں
35:03ظاہر فرمائے گا
35:04اور قیامت کا دن
35:05اس کے ظہور کا دن ہے
35:06جو یہ کہتا ہے
35:07کہ غوث
35:08اور بابا
35:08کوئی شیئے نہیں
35:09اس کو پیغام ہے
35:10کہ قرامت
35:11اس حقیقت کی
35:12جس کا ظہور
35:13قیامت کے دن ہونا ہے
35:15اس کی
35:15اس کا
35:16ڈیمو ورشن ہے
35:17اپنے ایمان کو
35:18مضبوط کیجئے
35:19اِنَّ اللَّهَ عَلَى
35:20قُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٍ
35:22ایمان کو
35:22مضبوط کیجئے
35:23کہ کل قیامت
35:24کا دن آنے والا ہے
35:25اولیاء کی
35:26قرامت
35:27اور خصوصاً
35:28شیخ عبدالقادر
35:28جیلانی علی رحمہ کی
35:29شان
35:30اس بات کی
35:31متعقاضی ہے
35:32کہ آج
35:33اللہ تعالیٰ کا
35:34خوف کیجئے
35:35اور کسی ایسے
35:36کام کا ارتقاب
35:38نہ کیجئے
35:38کہ جو کل
35:39عملی صورت میں آ کر
35:40مجھے اور آپ کو
35:41بہا کر لے جائے
35:42اس پر
35:43میں آخر پہ
35:44چند پیغامات
35:45آپ کے سامنے
35:46ارز کرنا چاہوں گا
35:46سب سے پہلا
35:47کہ اپنی زندگی کو
35:50انٹیگلیٹی
35:50حلال
35:51لائف سٹائل
35:52پر مرتب کیجئے
35:53اگر میں اور آپ
35:54یہ چاہتے ہیں
35:55کہ ہماری نسلوں میں
35:56عبدالقادر جیلانی
35:57پیدا ہوں
35:57تو اپنی زندگیوں میں
35:59حلال کو لازم پکڑے
36:00کوئی چیز
36:01مشکوک بھی کیوں نہ ہو
36:02اس کے قریب بھی نہ جائیں
36:04جب آپ اس کے قریب
36:05نہیں جائیں گے
36:06تو پھر آپ کی نسل کو
36:07اللہ سبحانہ وتعالی
36:09عبدالقادر جیلانی
36:11رحم اللہ کے کردار
36:12جیسے
36:13بچے ادا فرمائے گا
36:14اور دوسرا
36:15کہ
36:15بائیون کمفرٹ زون
36:18سچائی اور دیانت داری
36:20ہمیشہ آسان نہیں ہوتی
36:21لیکن یہی
36:22ریال سکسس ہوتی ہے
36:24آج
36:25اگر ہم کرپشن
36:26یا حرام کی کمائی کے لیے
36:28وقتی سکون تو حاصل کر سکتے ہیں
36:30لیکن یہ دائمی عظام میں
36:32مبتلا کر دے گی
36:33اور ادھر
36:34حلال کے حصول میں
36:35اگر وقتی طور پر
36:37تھوڑی سی پریشانی آ بھی گئی
36:38تو نسلوں کا سکون
36:40اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا
36:41اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے
36:43شانِ سیدنا غوثِ پاک
36:45علی رحمہ کے تفیل سے
36:46پروردیگارِ عالم
36:48مجھے اور آپ کو
36:49زندگی اور آخرت کا حقیقی
36:51حسن نصیب فرمائے
36:52وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَا
36:53شَاہِ جِلَا بَمَنِ
36:59زَارُو پَرِشَاہَ
37:05مَدَدِ
37:07نُورِ اَنِ
37:12نِبِي
37:13سَيَدُ وَسُلْتَا
37:17زَارُو پَرِشَاہَ
Comments

Recommended