Skip to playerSkip to main content
Secrets of Qayamat as Explained by Imam Ahmed Raza Khan (Ala Hazrat) ! 4k Documentry

This documentary by Zia-e-Taiba explores the profound scholarly contributions of Imam Ahmad Raza Barelvi regarding the mysteries of Qayamat (the Day of Judgment). The film highlights his role as a brilliant researcher who applied deep Islamic knowledge, logic, and scientific inquiry to address eschatological questions.

Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan (رحمة الله عليه) Mujaddid (Reviver) of the 14th Islamic Century. !

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ — مجددِ چودہویں صدیِ ہجری

Presented by HAMEEM HAMEEM | Independent Islamic Digital Content Creator | Coorg (Kodagu), Karnataka, India.!

Note : - AQEEDA PROTECTION VERY IMPORTANT @followers @highlight

Protecting Authentic Aqeedah • Spreading the Message of Ahlus Sunnah • Reviving the Legacy of Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan

Educational Islamic Content
This content is shared for educational and religious purposes only. It encourages peaceful, respectful discussion and does not promote violence, hatred, harassment, or harmful behavior.

#AlaHazrat #ImamAhmedRazaKhan #AhlusSunnah #Sunni #SunniBarelvi #FikrERaza #ProtectAqeedah #Aqeedah #AqeedahAhleSunnat #SunniCommunity #IslamicEducation #IslamicConference #MeccaIslamicCenter #Toronto #Canada #AmeerQadri #OmarQadri #HuzoorTajulUlama #YaRasoolAllahﷺ #HameemHameem #IslamicDigitalStudio #IDS #ZiaETaiba #DawatEIslami #SunniDawatEIslami #BareillySharif #Ulama

© Video Presentation & Editing: Hameem Hameem

Category

📚
Learning
Transcript
00:22ڈیوی صدی حجری کا برے صغیر علم و تحقیق کا ایک ایسا مرکز جہاں ایک عظیم و شان شخصیت جلم
00:29دیتا ہے
00:30جس نے علوم اسلامیہ سے لے کر ریاضی ہنسا اور فلکیات تک علم کے دریابہ دیئے
00:37لوگوں نے انہیں فقہ کا امام جانا عشق رسول کا پاس بامانا
00:41مگر بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ علامات قیامت اسرار محشر اور کائنات کے اس آخری مور
00:51پر اس عظیم محقیق کی تحقیق کس قدر امیق علمی اور محیور اکول ہے
00:57آئیے علم و عرفہ کے اس سفر پر جہاں ہم کھولنے جا رہے ہیں کائنات کے سب سے بڑے راز
01:04اور اس پر عظیم محقیق کے علمی شہکاروں کے در پیش خدمت ہے
01:09ایک خاص علمی و تحقیقی دستاویزی فلم
01:12احمد رضا بریلوی محقق کے اسرار قیامت
01:17ندیم اس مرتبہ سید مبشر کی گئے تحقیق
01:24ندیم اس مرتبہ سید مبشر کی گئے تحقیق
01:30رضا عارفہ اسرار قیامت کے محتق ہیں
01:43اب آئیے ہم یہاں اپنی کہانی شروع کرتے ہیں
01:47انیس سو انیس عیسوی اپنے انتقال سے ٹھیک دو سال قبل
01:52وہ کچھ ایسا بتا گیا کہ لیکن ذرا یہاں رک جائیے
01:56پہلے دو سال قبل کی ہوئی کہانی کا کچھ پس منظر بیک گراؤن جانیے
02:00زمین کا ایک ایسا ٹکڑا جسے دنیا برے سغیر پا کو ہند کہتی تھی
02:05بارود کے ڈھیر پر بیٹھا تھا
02:07ہواوں میں بغاوت تھی اور مٹی میں جلیاں والا باگ کے مقتولین کے خون کی بو ابھی تازہ تھی
02:13برطانوی راج ایک طرف رولٹ ایکٹ جیسے قوانین سے عوام کی آزادی کی آواز کو جرم بنا چکا تھا
02:20تو دوسری طرف لندن میں مونٹیگیو چیمس فرڈ ریفارمز کے نام پر
02:25برے سغیر کے مستقبل کی نئی آئینی بسات بچھائی جا رہی تھی
02:29ظاہری طور پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ برے سغیر ایک سیاسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے
02:36سیاسی تناؤ صرف ہندوستان تک محدود نہ تھا
02:39اسی دور میں دنیا کے دوسرے کونے پر آئیلنڈ کی آزادی کے سہر انگیز رہنما
02:44ایمون ڈیولیرا امریکی سرزمین پر برطانوی سامراج کے خلاف عالمی حمایت اکھٹی کر رہے تھے
02:51قوم آزادی کا مفہوم تلاش کر رہی تھی
02:541919 کا یہ سال تھا پہلی عالمی جنگ ختم ہو چکی تھی
02:58کروڑوں لوگ وباؤں معاشی بہران اور سیاسی انتشار کا شکار تھے
03:04مورکین عام طور پر 1919 کو سیاست کا سال قرار دیتے ہیں
03:09ایک عالمی بیداری کا دور ایک سیاسی لاوہ جو پھٹنے کو تھا
03:14لیکن کیا اسی سال کوئی خاموش مارکہ بھی کہیں وکوپذیر ہوا تھا
03:20جی ہاں 18 اکتوبر 1919 عیسوی شاید تاریخ کی عام کتابوں میں ایک معمول کی تاریخ ہو
03:28یہ کوئی افسانہ نہیں یہ مسنوعی ذہانت اے آئی کی تخلیق کی گئی سرحی بھی نہیں
03:33بلکہ برطانوی ہندوستان کے ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی وہ خبر تھی
03:39جس نے ایک صدی پہلے قیامت کی تاریخ دنیا کی تباہی کا دن متین کیا تھا
03:45امریکی ماہر فلکیات اور ریاضیدان پروفیسر البر ایف اوٹا ایک ایسی پیشگوئی کرتے ہیں
03:51جو پوری دنیا کی سرخی بن جاتی ہے
03:54امریکہ و لندن کے اخبارات و جرائد میں ایک ہی ہیڈ لائن موضوع پہز بنی
03:59برطانوی ہندوستان بھی اس خوف سے محفوظ نہ رہ سکا
04:02ٹھیک اسی سیاسی لاوے کے دوران 18 اکتوبر 1919 اسوی کو ہندوستان کے ایک نامور انگریزی اخبار
04:10ایکسپریس پٹنا کی سرخی نے برے سگیر کے کرونوں انسانوں کی نبزے روک دی
04:16سیاسی غلامی کے خوف پر ایک کائناتی موت کا خوف غالب آ گیا
04:20دعویٰ کیا تھا؟
04:21امریکہ کے ایک مایاناز ریاضیدان اور ماہر فلکیات
04:25پروفیسر البرٹ ایف پوٹا نے ایک ایسی پیشگوئی کی جس نے پیروں تلے سے زمین نکال دی
04:31پوٹا کا دعویٰ تھا کہ دو ماہ بعد
04:33ٹھیک دو ماہ بعد یعنی 17 دسمبر 1919 اسوی کو
04:39نظام شمسی کے چھے بڑے سیارے ایک ایسی سید میں آ جائیں گے
04:43کہ ان کی مشترکہ مکناتیسی قوت سورج کے سینے میں ایک ہول ناک شغاف کر دے گی
04:49زمین زلزلوں سے کاپے گی
04:51اوفانی محب کا منظر ہوگا
04:53دنیا ختم ہو جائے گی
04:55یہاں پندیتوں نے پتھنیاں دیکھنا شروع کر دی
04:57پادریوں نے دعائیہ تقاریب شروع کر دی
05:00اور عام انسانوں نے جینا چھوڑ دیا
05:03گویا 17 دسمبر دنیا کے خاتمے کا دن
05:06اور قیامت کے برپا ہونے کا لمحہ سمجھا جانے لگا
05:09اخبارات نے اس خبر کو نمائی جگہ دی
05:12بازاروں میں غفتگو ہونے لگی
05:14گھروں میں سوال اٹھنے لگے
05:16کیا واقعی قیامت قریب ہے
05:18کیا سائنس نے دنیا کے خاتمے کی تاریخ بتا دی
05:21جب پورا ہندوستان اس کائناتی سسپینس کے آگے گھٹنے ٹیک چکا تھا
05:26برطانوی راج کے عصاب خطا تھے اور لوگ اسے قرب قیامت کی حتمی نشانی سمجھ رہے تھے
05:33تو اتر پردیش یوپی کے ایک چھوٹے سے شہر بریلی کے ایک خاموش کمرے میں
05:39ایک انٹرلیکچول ایک محقق ایک مفکر و مدبر
05:43ریاضی اور فلکیات کا وہ علم لدنی رکھنے والا
05:46ریسرچ اسکولر خاموش نہیں بیٹھا
05:49جسے دنیا احمد رزا خان بریلوی کے نام سے جانتی ہے
05:53احمد رزا بریلوی کا مقابلہ کسی عام نجومی سے نہیں تھا
05:57ان کا مقابلہ مغرب کی جدید ترین سائنس اور نیوٹرن کے قوانین کا سہارہ لینے والے
06:03پروفیسر مہندس و منجم پوٹا سے تھا
06:06یہ واقعہ ہمیں قرب قیامت کے نام پر پھیلنے والے خوف
06:11سائنسی دعویوں اور مذہبی بیانیوں کے تعلق کے بارے میں کیا سکھاتا ہے
06:15آئیے اصل دستاویزات، اصل اخبارات، اصل رسائل اور اصل تاریخی شواہد کی روشنی میں
06:21اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں
06:24کیونکہ اس عالمی خوف کا مرکز کوئی مذہبی پیشوہ یا جادوگر نہیں
06:29بلکہ مغرب کا ایک سائنس نہ تھا
06:31پروفیسر البرٹ ایف پوٹا
06:34اٹلی میں پیدا ہونے والے پوٹا ایک سیویل انجینئر تھے
06:37جنہوں نے زلزلوں سے تباہ ہونے والے پلو بریج کی تعمیر نو کی تھی
06:42لیکن جب وہ کلیفورنیا کے سانٹا کلارا کالیج پہنچے
06:45تو وہاں کی رسدگاہ نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا
06:48یہاں انہوں نے ریاضی کی بنیاد پر سورج کے دبوں
06:52سن اسپورٹ کا متعلق شروع کیا
06:54ایک ایسا انسان جس نے کبھی فلکیات کی باقاعدہ سائنسی تعلیم حاصل نہیں کی تھی
07:00وہ محض چند کتابچوں کی مدد سے کائنات کے قوانین تے کرنے نکل پڑا تھا
07:05جب کسی وہمے کو لیبورٹری یا رسدگاہ کا لبادہ اڑا دیا جائے
07:09تو وہ عوام کے لیے مقدس سچ بن جاتا ہے
07:13البرٹ ایف پوٹا کوئی فلکیات دان نہیں تھے
07:15بلکہ سانٹا کلارا کی رسدگاہ میں
07:17عارضی طور پر صرف ریاضیاتی حساب کتاب
07:21کلکیولیشنز کے لیے رکھے گئے ایک اسسسٹنٹ تھے
07:23رسدگاہ کے اصل ڈائریکٹر فادر جیروم ریکارڈ
07:27جنہیں بارشوں کے پادری بھی کہا جاتا تھا
07:29موصوف کیلیفورنیا میں موسم کی درست پیشنگوئی کی وجہ سے بہت مشہور تھے
07:34انہوں نے پوٹا کو صرف اس لیے ملازم رکھا تھا
07:37کیونکہ وہ خود بورنگ اور طویل حصہ بھی جوڑ توڑ سے بچنا چاہتے تھے
07:42پوٹا نے اسی محول کا فائدہ اٹھایا
07:44اور رسدگاہ کے نام کو اپنے ذاتی رسوخ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا
07:49ناظرین کرام یہ تھی حقائق و دلائل کی روشنی میں
07:53البٹ ایف پوٹا کی اصل حقیقت
07:55اب احمد رضا بریلوی کی بھی حیثیت کو ذرا جان لیجئے
07:59اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے ماحول میں پنپنے والے
08:03برطانوی سامراجی راج میں علم کا متلاشی
08:07نوابوں کے محلات تک شہرت رکھنے والا
08:09ابن نکی احمد رضا بریلوی پر اسرار اور کائنات کے عجیب و غریب رازوں کا بھی محقق تھا
08:16امام احمد رضا بریلوی کے علم کو دیکھ کر تاجب ہوتا ہے
08:19کہ ایک ایسا شخص جس نے کسی کالج اور یونیورسٹی کی شکل نہ دیکھی
08:24وہ ان علوم و فنون پر ایسی محارت کے ساتھ روشنی ڈالے
08:28اور جہاں غلطی نظر آئے ان کی نشاندہی کے ساتھ اصلاح بھی کرے
08:32یہاں ہمارے محقق بریلوی کی تحریروں کا متعلہ ایک دلچسپ حقیقت سامنے لاتا ہے
08:37موصوف نے صرف فقہی مسائل پر کلم نہیں اٹھایا
08:40بلکہ کائنات، فلکیات، وقت، چاند، سورج، حلال، اجرام سماوی، قرب قیامت کی علامات، تہذیبی تغیرات
08:49اور انسانی فکر جیسے موضوعات پر بھی گفتگو کی
08:52محقق بریلوی کے ہاں یہ تمام مباحث الگ الگ علوم نہیں تھے
08:56بلکہ حقیقت کی تلاش کے مختلف راستے تھے
08:59جو آخرکار ایک ہی سوال پر آ کر جمع ہوتے ہیں
09:02کہ حقیقت تک پہنچنے کا صحیح منحج کیا ہے
09:06یہی وجہ ہے کہ امام احمد رضی بریلوی کے علمی اسلوب میں ایک نمائی خصوصیت دکھائی دیتی ہے
09:12یہ بندہ کسی مسئلے کا جواب دینے سے پہلے اس کی ڈیفینیشن متین کرتا ہے
09:17پھر متعلقہ نصوص جمع کرتا ہے
09:19مختلف آرہ کا تقابل کرتا ہے
09:22اقلی و نقلی دلائل کا وزن کرتا ہے
09:24اور آخر میں ایک نتیجہ اخص کرتا ہے
09:27یہ انداز آج کی زبان میں کمپیرٹیف ریسرچ میتھولوجی سے مشابہ دکھائی دیتی ہے
09:33جہاں ہر دعوے کو اس کے شواہد کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے
09:37یوں تو احمد رضی بریلوی کی تحقیقات کے سیکڑوں گوشے اور کئی ڈائمنشنز آف تھوڈ ہیں
09:43جن پر سیر حاصل تجزیاتی مطالعہ و گفتگو کی جا سکتی ہے
09:48تاہم یہاں اس ڈوکیومنٹری کے موضوع سے متعلق
09:51محقیقے اسرار قیامت کی تحقیقات کے چند نمونے پیش کر رہے ہیں
09:56امام احمد رضا کا منحج تغریر ایسا ہے
10:09جواباتوں کے موضوع مسائل کے مطابق ہیں
10:17جواباتوں کے موضوع مسائل کے مطابق ہیں
10:22احمد رضا بریلوی محقیقے اسرار قیامت
10:26جس نے احادیث صحیحہ سے قرب قیامت کی علامات و آثار پر گفتگو فرمائی
10:31اور یوں لکھتے ہیں کہ
10:32ان کے بارے میں صحیح حدیثیں بھی آئی ہیں
10:34حسن و ضعیف و موضوع بھی
10:36مگر دجال کا خروج
10:37امام میدی رضی اللہ عنہ کا ظہور
10:40حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
10:42آفتاب کا مغرب سے طلوع یہ سب احادیث متواترہ سے ثابت ہے
10:47جس روز آفتاب مغرب سے نکلے گا
10:50وہی وقت در توبہ یعنی توبہ کا دروازہ بند ہونے کا ہوگا
10:55انہی دنوں میں دعبت الارد کعبہ معظمہ کے قرب میں
10:59زمین سے نکلے گا
11:00تو دہنے ہاتھ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا آسا ہوگا
11:04اور بائے ہاتھ میں سیدونا سلمان علیہ السلام کی انگوشتری
11:09یعنی انگوٹھی ہوگی
11:10جو علم الہی عز و جل میں مسلمان ہوگا
11:14اس کی بیشانی پر آسا سے نورانی نشان کر دے گا
11:17اور جو کافر ہوگا انگوشتری سے کالا داغ لگا دے گا
11:21قیامت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ
11:24قیامت تین قسم کی ہے
11:26قیامت سغرا یہ موت ہے جو مر گیا اس کی قیامت ہو گئی
11:30دوسری قیامت وستہ وہ یہ کہ ایک قرن
11:33یعنی ایک زمانے کے تمام لوگ فنا ہو جائیں
11:36اور دوسرے قرن کے نئے لوگ پیدا ہو جائیں
11:39تیسری قیامت قبرہ وہ یہ کہ آسمان و زمین سب فنا ہو جائیں گے
11:44احمد رضا بریلوی محقق کے اسرار قیامت
11:47جس نے اپنی تحریروں میں انہی علامات کو محض نکل نہیں کیا
11:51بلکہ ان کے فکری اور معاشرتی اثرات کی طرف بھی توجہ دلائی
11:55قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کو یوں ظاہر کیا کہ
11:58جب اس محقق سے حضور نبی کریم علیہ السلام کی شفاعت سے متعلق سوال ہوا
12:04تو لکھتے ہیں کہ
12:05سبحان اللہ ایسے سوال سن کر تاجب آتا ہے
12:08کہ مسلمان اور ایسے واضح عقائد میں تشکیق کی آفت
12:13یہ بھی قرب قیامت کی ایک علامت ہے
12:16احمد رضا بریلوی محقق کے اسرار قیامت
12:19جس نے حدیث نبی کی روشنی میں
12:21ایک خطرے کی نشاندہی کو کچھ یوں ارشاد فرمایا کہ
12:24قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے
12:28یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا
12:31تو لوگ بامر مجبوری رئیس جاہلوں کو دینی مختدہ بنائیں گے
12:37پھر ان سے دینی مسائل پوچھیں گے
12:39تو وہ بغیر علم فتوے دیں گے
12:41تو خود بھی گمراہ ہو جائیں گے
12:42اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیں گے
12:44احمد رضا بریلوی محقق کے اسرار قیامت
12:48جس نے خود نبی پیشگوئیوں کے آئینے میں
12:50معاشرے کو دیکھا
12:51حدیث پاک کا وہ دور جہاں سلام اور تحیت کی جگہ
12:55گالی لے لے گی امام فرماتے ہیں
12:57میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا
13:00سلام کی جگہ گالی بگتے ہوئے
13:03یہ صرف ایک مشاہدہ نہیں
13:05قیامت کی سگرہ نشانیاں پر حق ہونے کی
13:08ایک زندہ گواہی تھی
13:09احمد رضا بریلوی محقق کے اسرار قیامت
13:13جس نے اپنے رب کی طرف سے ودیت کردہ صلاحیتوں سے
13:16جہاں دیگر علوم و فرون میں مہارت حاصل کی
13:19وہیں کائنات کے ایک خفیہ ترین علم
13:22جسے زمان و مکان کے پوشیدہ رازوں کو جاننے کی چابی کہا گیا
13:26ایک مشکل ترین اور متجسس علم
13:29علم جفر کو بھی حاصل کر کے
13:31اس علم سے کشف و اسرار اور حال و مستقبل کے واقعات پر
13:35اپنی گران قدر خدمات اس امت کو دی
13:38امام سے پوچھا گیا کہ یہ جفر کیا چیز ہے
13:41ارشاد فرماتے ہیں
13:42یہ علم تمام علوم سے مشکل تر اور سکھانے والے مفقود
13:47یعنی مؤیسر نہیں
13:48اور اکابر مصنفین کو کمال اخفہ
13:52یعنی بالکل پوشیدہ رکھنا مقصود
13:54اے امام احمد رزا
13:55اس فن میں آپ کی تصانیف اور فارمولے
13:58کہاں ہیں جن سے آج ہم مستفیز ہو سکیں
14:00فرماتے ہیں
14:01مولانا سید حسین مدنی
14:03صاحب زادہ حضرت مولانا سید
14:06عبدالقادر شامی مدنی
14:07تشریف لائے اور چودہ مہینے
14:10فقیر خانے پر قیام فرمایا
14:11اور یہ علم سیکھے
14:13انہی کے لیے میں نے اپنا رسالہ
14:15اطائب الاکسیر زبان عربی میں
14:18املہ کیا
14:19میں نے جو جداول کسیرہ اس فن کی
14:22تکمیل جلیل کے لیے
14:23اپنی تبازات ایجاد کی تھی
14:26رخصت کے وقت انہیں نظر کر دی
14:28کہ خود اس فن کے
14:30ترکہ قصد کر لیا تھا
14:32جس کی وجہ سوالوں کی
14:34کسرت سے لوگوں کا پریشان کرنا تھا
14:37میری کتاب
14:37سفر السفر یعنی
14:39جفر سے جفر کو واضح کرنے کی کتاب
14:42انہی مباعث میں ہے
14:43جس میں ساٹھ سوال جواب ہیں
14:46ناظرین کرام علم جفر کے اس فن میں
14:48امام اہل سنت کی تین کتابیں
14:51مزید ملتی ہیں
15:01لیکن ان تینوں کتابوں کے مطالق
15:04امام کا ایک سخت حکم تھا
15:06اور وہ کیا تھا فرماتے ہیں
15:08یہ تینوں رسالے نہ چھاپے جائیں گے
15:10نہ ان کی نقل مل سکتی ہے
15:12جب تک اس علم کی اہلیت نہ ثابت ہو
15:15احمد رضا بریلوی
15:17محقی کے اسرار قیامت
15:19جس کی نظر میں اسرار قیامت کی خوج میں
15:22مٹے ہوئے مادی نشانات ہی نہیں
15:24بلکہ عالم ارواح اور بارگاہ اولیاء
15:27کے پوشیدہ تذکرے بھی
15:28اس محقی کی نظر میں تھے
15:30ایمہ دین کی گواہی پر
15:32امام اہل سنت ملفوزات میں رکم کرتے ہیں
15:34کہ حضور غوث عاظم شیخ عبدالقادر جیلانی
15:38رضی اللہ تعالی عنہ کو
15:39رب کائنات نے ایک ایسا دفتر
15:42یعنی رجسٹر عطا فرمایا
15:44جو منتح نظر تک وسیع تھا
15:46اس میں قیامت تک کے آنے والے
15:48ان مریدین اور غلاموں کے نام درش تھے
15:51بارگاہ الہی سے مزدہ ملا
15:53یہ سب تمہیں بخش دیے گئے ہیں
15:55احمد رضا بریلوی
15:57محقی کے اسرار قیامت
15:58جس نے علم کشف
16:00مراقبے اور حالات کے منکشف ہونے سے
16:03متعلق ایک سوال کے جواب میں
16:05امام مہدی کے منصب جلیلہ
16:07کو یوں بیان فرمایا کہ
16:09نہیں بلکہ ہر حال میں
16:10یوں ہی مثل آئینہ پیش نظر ہے
16:13ہر غوث کے دو وزیر ہوتے ہیں
16:14غوث کا لقب عبداللہ ہوتا ہے
16:16اور وزیر دست راست یعنی
16:18دائیں طرف کا وزیر عبدالرب
16:20اور وزیر دست چب یعنی بائیں طرف کا وزیر
16:23عبدالملک
16:24اس سلطنت میں وزیر دست چب
16:26وزیر راست سے آلہ ہوتا ہے
16:28بخلاف سلطنت دنیا
16:29اس لیے کہ یہ سلطنت قلب ہے
16:32اور دل جانب چب
16:33غوث اکبر و غوث ہر غوث
16:35حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
16:39صدیق اکبر
16:40حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
16:42وزیر دست چب تھے
16:44اور فاروق عاظم وزیر دست راست
16:46پھر امت میں سب سے پہلے
16:48درجہ غوثیت پر
16:50امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق
16:52ممتاز ہوئے اور
16:53وزارت امیر المومنین فاروق عاظم
16:56عثمان غنی کو عطا ہوئی
16:57اس کے بعد امیر المومنین فاروق عاظم
17:00کو غوثیت مرحمت ہوئی
17:01اور عثمان غنی و مولا علی وزیر ہوئے
17:04پھر امیر المومنین
17:05حضرت عثمان غنی کو غوثیت عنایت ہوئی
17:08اور مولا علی و امام حسن وزیر ہوئے
17:11پھر مولا علی کو
17:13اور امامین محترمین وزیر ہوئے
17:15پھر امام حسن سے درجہ بدرجہ
17:18امام حسن عسکری
17:20تک یہ سب حضرات
17:21مستقل غوث ہوئے
17:22Imam Hussan Askarie کے بعد
17:24حضور غوث عظم
17:26تک جتنے حضرات ہوئے
17:28سب ان کے نائب ہوئے
17:30ان کے بعد سیدنا غوث عظم
17:32استقل غوث حضور تنہا
17:34غوثیت کبرہ کے درجے پر
17:36فائز ہوئے
17:37حضور غوث عظم بھی ہیں
17:39اور سید الافراد بھی
17:41حضور کے بعد جتنے ہوئے
17:43جتنے اب ہوں گے
17:44حضرت امام مہدی تک
17:46سب نائب حضور غوثیت کبرہ
17:51اتا ہوگی
17:52احمد رضا بریلوی
17:53محقی کے اسرار قیامت
17:55جس نے قرب قیامت کے احوال سے متعلق
17:58آخر الزمان میں
17:59خلافت راشدہ اور خلیفہ راشد سے متعلق
18:02اپنے وسیع متعلق کی روشنی میں
18:04کچھ یوں انشاءت فرمایا کہ
18:06خلافت راشدہ وہ خلافت کے منحاج نبوت
18:09یعنی نبوی طریقے پر ہو
18:11جیسے حضرات خلفہ اربع
18:14یعنی چار خلفہ اکرام
18:16حضرت سیدنا صدیق اکبر
18:18حضرت سیدنا فاروق عظم
18:20حضرت سیدنا عثمان غنی
18:23اور حضرت مولا علی
18:24رضی اللہ تعالی عنہم
18:26و امام حسن مشتبہ
18:27و امیر المومنین
18:28عمر بن عبدالعزیز
18:30رضی اللہ تعالی عنہم نے کیے
18:32اور اب میرے خیال میں
18:33ایسی خلافت راشدہ
18:35امام میری رضی اللہ تعالی عنہم
18:37ہی قائم کریں گے
18:38محقی کے اسرار قیامت
18:40امام احمد رضا خان محقیق بریلوی
18:42حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام
18:45اور حضرت سیدنا امام مہدی کی
18:47اس امت محمدیہ کے درمیان
18:49موجودگی کی منظر کشی کرتے ہوئے
18:51فرماتے ہیں کہ
18:52جب آخری الزمان میں
18:53حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام
18:56نزول فرمائیں گے
18:58باعہ کے دستور منصب نبوت
19:01اور رسالت پر ہوں گے
19:02حضور پرنور سید المرسلین
19:05صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:07کے امتی بن کر رہیں گے
19:09حضور ہی کی شریعت ترعمل کریں گے
19:11حضور کے ایک امتی و نائب
19:13یعنی امام مہدی کے بیچے
19:15نماز پڑھیں گے حضور سید المرسلین
19:17صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
19:19کیسا حال ہوگا تمہارا
19:21جب ابن مریم تم میں اتریں گے
19:23اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا
19:26احمد رضا بریلوی
19:27محقق کے اسرار قیامت
19:29جس نے یاجوج ماجوج
19:31نسل انسانی کا وہ کثیر ترین فتنہ
19:34جو سد سکندری کے پیچھے قید ہے
19:37یاجوج ماجود کے وجود سے متعلق
19:39احادیث کریمہ پر اپنی گرہ
19:41قدر تعلقات رکم فرمائی
19:43ایک روایت کے مطابق یاجوج ماجوج
19:45حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے
19:47یافت کی نسل سے تعلق رکھنے والی
19:49دو خطرناک اور نہایت
19:51کثیر تعداد والی قومیں ہیں
19:53جو اپنے فساد قتل و غارت اور
19:54تباہکاری کے باعث مشہور ہیں
19:56روایت میں ان کی کثرت تعداد اور
19:58قوت کا ذکر ملتا ہے
20:00حضرت حزیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی
20:03روایت کے مطابق یاجوج ماجوج
20:05دو الگ الگ قومیں ہیں
20:06محقق کے اسرار قیامت
20:08امام احمد رضا خان محقق بریلوی نے
20:10وضاحت فرمائی کہ تفسیر جمل
20:13اور خازن نے اس روایت میں
20:15ان الفاظ کا اضافہ کیا
20:16کہ یہ اولاد آدم میں سے ہیں
20:19اور دنیا میں فساد ورپا کرنے
20:21کے لئے نکلیں گے
20:22امام فرماتے ہیں یہ روایت دیگر
20:24کئی مقامات پر موجود ہے
20:26جیسا کہ تفسیر ابن حاتم
20:28القامل ابن عدی تاریخ دمش وغیرہ
20:31لیکن ان میں یہ اضافی
20:33الفاظ مذکور نہیں
20:34حضرت سکندر ذلکرنین رضی اللہ عنہ نے
20:37اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے راستے میں
20:40ایک مضبوط آہنی دیوار
20:42صد تعمیر کر دی
20:43قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول
20:47دجال کے قتل اور مسلمانوں کے
20:49کوہتور میں پناہ لینے کے بعد
20:51اللہ تعالیٰ کی مشیت سے
20:53وہ اس رکاوٹ سے باہر نکلیں گے
20:55یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
20:57دعا کے نتیجے میں
20:58اللہ تعالیٰ انہیں حلاق فرما دے گا
21:01یاجوج ماجوج کا دیوار کھودنے یا توڑنے
21:04اور اگلے دن ویسی پانے کی تحقیق میں
21:07محقی کے اسرار قیامت
21:09اپنی تعلقات یوں رکم کرتے ہیں
21:11کہ حضرت حبو حریرہ کی مرفوع
21:13روایت ہے کہ یاجوج ماجوج
21:15روزانہ دیوار کھودتے ہیں
21:17اور اگلے دن پھر ویسی برابر
21:19ہو جاتی ہے امام ابن کسیر
21:21نے اس سنت کو تو بہتر کہا
21:23مگر مطن کو قرآن کی آیت
21:25کے خلاف پا کر منکر قرار دیا
21:27کیونکہ قرآن سے دیوار
21:29کا نا ٹوٹنا ثابت ہے
21:31جبکہ حدیث سے روزانہ خودنا
21:33ثابت ہوتا ہے حضرت ابو حریرہ
21:35کی روایت پر جب امام ابن کسیر
21:37جیسے جلل القدر موریخ
21:39نے جرح کی اور مطن کو
21:41قرآن کے خلاف کہہ کر منکر
21:43قرار دیا تو بیسویں صدی کے
21:45اس عظیم محدث احمد رضا
21:47کی علمی گرفت دیکھئے
21:49محقی کے اسرار قیامت
21:51امام احمد رضا بریلوی نے
21:52امام ابن کسیر کی اس چرح کو
21:55مسترد کرتے ہوئے آیت اور حدیث
21:57میں بہترین تطبیق دی
21:59آپ نے فرمایا قرآن میں
22:01دیوار کے اوپر سے چڑھنے
22:03یا اس میں نقب آرپار سراخ
22:05لگانے کی نفی ہے
22:06حدیث میں یہ ہے کہ وہ صرف
22:09بنیادیں کھوتے ہیں نقب نہیں
22:11لگاتے لہٰذا آیت
22:13اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں
22:15ہے اور محض ایک فرضی
22:17تضاد کی بنیاد پر
22:19سقہ راویوں کی حدیث کو
22:21رد نہیں کیا جا سکتا
22:22مختصر یہ کہ یہاں صرف
22:24اپنے موضوع سے متعلق امام کی
22:26تحقیقات سے پردہ اٹھایا گیا ہے
22:28تاکہ موضوع میں جامعیت
22:30ٹو دی پوئٹ کا انصر برقرار رہے
22:32ناظرین اکرام دیکھی آپ نے
22:34محقی کے اسرار قیامت
22:36احمد رضا بریلوی کی بلند فکر
22:38و حیران کن تحقیق کی جلک
22:40ہے اسرار قیامت
22:43پر بڑی
22:44گہری نظر ان کی
22:46ہے اسرار
22:48قیامت پر بڑی
22:50گہری نظر ان کی
22:53رضا روحانیت
22:55عرفان اور
22:57حکمت کے تارت
22:59ہیں
22:59رضا روحانیت
23:02عرفان اور
23:03حکمت کے تارت
23:05ہیں
23:06ناظرین اکرام اب ہم یہاں
23:08اپنی کہانی کے طرف دوبارہ لوٹتے ہیں
23:11خلیفہ محقی کے بریلوی
23:12اللامہ سید صفر الدین بیہاری
23:14نے ہندوستانی انگریزی اخبار
23:17ایکسپریس میں کی گئی اس پیشنگوئی کی سرخی کا تراشا بریلی روانہ کیا
23:21چھاسر سالہ ریسرچ اسکولر احمد رضا بریلوی اپنے کلم سے اب تک سیکڑوں تحقیقی کتوب و آرٹیکل لکھ چکے تھے
23:29جس کی ایک جلک ابھی آپ نے ملاحظہ بھی کی
23:32احمد رضا بریلوی نے علم حیت و نجوم کی روشنی میں مدلل بحث کرتے ہوئے
23:37امریکی پروفیسر محصوف کی پیشنگوئی کو سراسر بے سروپا قرار دیا
23:42سب سے پہلے یوں جواب ارشاد فرمایا کہ
23:45یہ سب اوہام باطلہ و حواسات آتلہ ہیں
23:49مسلمانوں کو ان کی طرف اصلاً التفات جائز نہیں
23:52ناظرین اکرام بظاہر یہ جواب کافی ہوتا
23:55لیکن احمد رضا بریلوی بھی تو احمد رضا بریلوی ہی ہے نا
23:59بس فکر و تدبر کے تار چھڑ گئے
24:02اور پھر 66 برس کی عمر میں کیسی تحقیق سامنے آئی
24:06ذرا ملاحظہ کیجئے
24:07پوٹا کے بتائے گئے 17 دسمبر کی تاریخ میں
24:10سیاروں کے مقام کا رد فرماتے ہوئے
24:1317 دسمبر کو کواکب کے حقیقی مقام کا یہ چارٹ تیار کیا
24:18آگے ایک مبہود کرنے والا جملہ تحریر کیا گئے
24:21کیا سب کواکب نے آپس میں صلاح کر کے آزار افتاب پر ایکہ کر لیا ہے
24:26اس کے بعد 17 دسمبر کا اوسات کواکب کا نقشہ بنایا
24:30آفتاب سے ان کی دوری اور ان کا سائز بتایا
24:32اس کے بعد چاند پر تحقیقی بحث کی
24:35اور پھر عرستو کی کتاب کا حوالہ دے کر
24:38داگ شمس سن اسپورٹ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی
24:42جس میں روح شمس پر دو سیاہ نکتے
24:45یا داگ کی تصاویر کے ساتھ حوالے پیش کیے
24:48پوٹا کے 17 دسمبر کی 17 تاریخ کے اعتبار سے
24:5217 دلیلوں سے رت فرماتے ہوئے یوں لکھتے ہیں کہ
24:55بیان منجم پر اور مواقعزات بھی ہیں
24:58مگر 17 دسمبر کے لیے 17 پر ہی اقتفا کریں
25:01ناظرین اکرام یقوم ربی الاول
25:031338 ہجری میں احمد رضا بریلوی نے
25:06علامہ سید زفر الدین بحاری کو جواب لکھا
25:09یہی مکتوبی جواب دراصل
25:11معین مبین پہرے دور شمس و سکون زمین ہے
25:15اور یہی وہ تصنیف ہے جس کی تعلیف فوز مبین اور
25:19القلمة الملہمہ کے وجود میں آنے کی تمہید ثابت ہوئی
25:22یہ تمام فتوحات انہیں اس وقت حاصل ہوتی ہیں
25:25جبکہ وہ 45 برس پہلے ہی ان علوم و ابحاظ سے دستکش ہو گئے تھے
25:31جن دنوں وہ یہ مار کے سر کر رہے تھے
25:33ان دنوں احمد رضا بریلوی پر
25:35امراض شدیدہ اور اشغال علمیہ کسیرہ کا پنجا سخت قصہ ہوا تھا
25:40پھر بھی استہزار علم حضوری تباہ ذہن ساکب اور رفتار قلم کا یہ عالم ہے لکھتے ہیں
25:47آج 45 برس سے زائد ہوئے کہ فلسفے کی طرف رخ نہ کیا
25:51نہ اس کی کسی کتاب کو کھول کر دیکھا
25:54اب آخیر عمر میں سرکار نے اپنے کرم بے پایاں کا صدقہ
25:59بندہ آجز سے یہ خدمت لی کہ دونوں فلسفوں کو رد کرے
26:03یہاں محقی کے اسرار قیامت احمد رضا بریلوی کی پوٹا کو دی گئی جوابی کا روائی میں
26:09کلم رضا سے وجود میں آنے والی تحقیقی کتاب
26:12فوز مبین در رد حرکت زمین کا ایک سائنٹیفک اور لوجیکل منظر نامہ پیش کرتے ہیں
26:19امام نے اپنی اس تصنیف فوز مبین در رد حرکت زمین میں
26:24فیزکس، کیمیسٹری، جیوگرافی، ایسٹرونومی، ایسٹرولوجی، فلسفہ قدیمہ، توقید، ریاضی، میتھامیٹکس وغیرہ علوم سے کام لیا
26:33اور مختلف موضوعات و نظریات مثلاً سپیڈ اینڈ ویلوسٹی، نظریہ کشی سے سکل، گریویٹیشن، ماس اینڈ ویٹ، حجم و سکل
26:42اور سکل اضافی، والیوم، ڈینسٹی، اینڈ ریلیٹیف ڈینسٹی، مرکز گریز، جمود، اسرا، دباؤ، اچھال، ٹھہراؤ، فلوٹیشن، سیاروں اور ستاروں کی
26:53چال
26:53ان کی دوری، زمین کی حیئیت، ٹائٹس، مدو جذر، نظریہ اضافت، تھیوری آف ریلیٹیویٹی، دخان، بخارات، حرارت، ایٹم، لغیرسم، مساوات،
27:04ڈائنامکس، محرک، پروجیکٹائل، ٹرگنومینٹری، جیومیٹری، اسفیریکل ٹرگنومینٹری وغیرہا علوم کا استعمال کیا ہے
27:13اور ان پر بحث کی ہے
27:14احمد رضا بریلوی کے تعاقب اور رد کی یہ خوبی ہے کہ یہ بندہ مخالف کے حملے کا جواب اسی
27:20ہتھیار سے دیتا جس ہتھیار سے وہ حملہ کرتا
27:23مخالف اپنے دعوے کے ثبوت میں علم و فن کی جن کتب سے دلائل پیش کرتا یہ احمد رضا بھی
27:29اسی علم و فن کی کتب سے اس کا رد کرتا
27:32احمد رضا بریلوی اپنے طرز استدلال میں سائنٹیفک اور لوجیکل پہلو کو متنظر رکھتے
27:38یہ سب تحقیقات ذکر کرنے کا مقصد محقی کے اسرار قیامت احمد رضا بریلوی کی علمیت کو دلائل کے ساتھ
27:45پیش کرنا
27:46تاکہ نئی روشنی کے دلدادہ اور ملحدین ایتھیسٹ ولادین سیکرلیسٹ لوگوں کے لیے اس محقیق کا کردار سامنے رہے
27:54بہرکیف یہ تھی اقلی و غربی علوم میں احمد رضا بریلوی کے سمند کلم کی سرپر دوڑ
28:00جس کی ایک جھلک مرکز تحقیق زیاہ تیبہ نے آپ سامعین و ناظرین کو دکھائی
28:06جس کے ٹھیک دو سال بعد یہ محقیقے اسرار قیامت اس فانی دنیا سے کوچھ کر کے عبدی دنیا کی
28:13جانب چل دیا
28:14لیکن یہاں کہانی ابھی باقی ہے
28:17کیونکہ عام دنیا دار طبقے کی نظر میں احمد رضا بریلوی کے کلم کی حیثیت
28:22صرف ایک چھوٹے سے کمرے میں موجود ایک گوشہ نشین استاد کیسی تھی
28:27جبکہ پوٹا کے جھوٹے دعوے کی گونج ایک امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر کی ریسرچ سمجھی گئی
28:33تو کلم رضا کی سرکھی اتنی جلدی پوری دنیا کو کیسے نظر آئے
28:37اہل مغرب تو اب بھی سترہ دسمبر کے دن کے منتظر تھے
28:42اس وہم میں کہ نہ جانے اب کیا ہوگا
28:45سترہ دسمبر انیس سو انیس عیسوی
28:48تاریخ کا ایک ایسا دن جب انسانوں کی ایک بڑی تعداد یہ مان چکی تھی
28:53کہ دنیا ختم ہونے واری ہے
28:55اوکلاہوما کی ایک نوجوان لڑکی نے اپنا بہترین لباس پہنا
28:59تاکہ وہ موت کا استقبال پورے وقار سے کرے
29:01پیریس میں لوگ گرجہ گروں میں پناہ گزی ہوئے
29:04اور کینیڈا کی جزیروں پر کچھ لوگوں نے زندگی کی آخری رات سمجھ کر
29:09مدھوشی کے جشن منائے
29:11پوری دنیا تھمی ہوئی تھی
29:12آسماء کی طرف دیکھ رہی تھی
29:14ایک ایسے قیامت خیز توفان کے انتظار میں
29:17جس نے انسانی تاریخ قصب سے پڑا غیز و غزب بن کر نازل ہونا تھا
29:22اور پھر دنیا سہم کر بستنوں سے اٹھی
29:24آسماء پر سورج ہمیشہ کی طرح چمکا
29:27اور ہمیشہ کی طرح پر سکون انداز میں غروب ہو گیا
29:30کوئی توفان نہیں
29:31کوئی زلزلہ نہیں
29:32کائنات کا توازن برقرار
29:34کچھ بھی نہیں بدلا
29:35اوکلاہوما کے کانکن
29:37جو زمین دوز ہونے سے ڈڑ رہے تھے
29:39ہستے ہوئے بہار نکل آئے
29:40میڈیا جو کل تک خوف بیچ رہا تھا
29:43اب پوٹا کا مزاق اڑانے لگا
29:45مشیگن یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک محفل جمعائی
29:48اور مزاق میں کہا کہ
29:49دنیا ختم ہونے کا ایک فائدہ تو ہوا
29:52کہ ہمیں رات کو پڑھنا نہیں پڑا
29:54پوٹا مرتے دم تک اپنے نظریات کا دفاع کرتے رہے
29:57لیکن وہم کا وہ بدھ پاش پاش ہو چکا تھا
30:00تاریخ کی دیگر سیکڑوں پیشگوئیوں کی طرح
30:02البرٹ پوٹا کا کائناتی وہم بھی
30:05ملیہ میٹ ہو چکا
30:06اور بریلی کے اس محقق کے موقف کی
30:09بھرپور تصدیق دنیا کے سامنے
30:11سترہ دسمبر کے دن نے سبت کر دی
30:14پھر یہ قیامت آخر کب برپا ہوگی
30:17یہ سوال آج کا نہیں
30:19بلکہ ہمیشہ دنیا میں اس کی بازگشت سنائی دیتی رہی
30:22جب پارگاہ نبی اکرم رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم میں
30:26حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل اختیار کر کے حاضر ہوئے تو
30:29ان سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی کیا
30:33اخبرنی انساہ
30:34حضور قیامت کب آئے گی
30:36سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
30:39مَلْمَسْئُولُ عَنْهَا بِعَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ
30:42اس راز کو مجیب و سائل خوب جانتے ہیں
30:45اس کے اظہار کا ابھی وقت نہیں
30:47سیدنا جبرائیل علیہ السلام عرض گزار ہیں
30:49فَأَخْبِنِّنِ اَنْ اَمَارَاتِهَا
30:51سرکار پھر علامات قیامت ہی بتا دیجئے
30:54ارشاد ہوا
30:55لَا تَكُمُ السَّعَاتُ إِلَّا فِي يَوْمِ الجُمْعَ
30:58قیامت جمعہ کے دن قائم ہوگی
31:00دوسری جگہ فرمایا
31:02محرم الحرام کا مہینہ ہوگا
31:04البتہ سال اور صدی کا تعیون
31:06مسلحت نہ فرمایا
31:08اسی لئے اس سوال کی گونج
31:10ہر زمانے میں سنائی دیتی آ رہی ہے
31:12یہاں پہلے پہل یہ سوال
31:14اللامہ جلال الدین سیوتی سے
31:16ان کے زمانے میں بری شدت سے اٹھایا گیا
31:19کہ امت محمدیہ کی کل عمر
31:21ایک ہزار برس ہے
31:23اور جب دس صدیہ اختدام کو پہنچیں گی
31:25تو قیامت آ جائے گی
31:26اسے شہرت حاصل ہوئی
31:28یہاں تک کہ امام سیوتی جیسے
31:30مجدد اسلام کو بھی بری شد و مت سے
31:32تردید کرنی پڑی
31:33آپ نے نہایت شرحبت سے
31:35اس کے تار و پوت کو بکھرتے ہوئے
31:38یہاں تقلیق دیا
31:39کہ لوگوں میں جو یہ مشہور ہے
31:40کہ ہزار سال گزرنے پر قیامت آ جائے گی
31:43یہ بالکل غلط ہے
31:44انشاءاللہ تعالی
31:46تیرہ صدیوں تک تو قیامت قائم نہ ہوگی
31:49اس کے بعد خدا جانے
31:50یہاں اب امام سیوتی کے وسال کو
31:52پانچ سو سال گزر چکے
31:54آپ کی تحقیق کی تصدیق
31:56آپ کے بعد آنے والی ہر صدی نے کی
31:58جب آپ کے اندازے کی پیشن گوئی کا وقت پورا ہوا
32:01تو تیروی صدی کے بعد
32:03چودوی صدی کو موضوع بحث بنا لیا گیا
32:05اور یوں مشہور ہو گیا
32:07کہ چودوی صدی قیامت کی صدی ہوگی
32:09جوہلا نے اسے پلے باندھ لیا
32:11مسیح معود اور مہدی زمان کے دعوے اگلنے والوں کی کاروائی نے
32:15سونے پر سوہاگے کا کام کر دیا
32:18مگر علماء حق نے
32:19قطعاً اس جہالت کی تائید نہ کی
32:22اور چودوی صدی بھی گزر گئی
32:24اب ہم اور آپ
32:25پندھرویں صدی میں
32:26پندرہ سو سالہ جشن عید ملاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
32:30بنا رہے ہیں
32:31تو پھر آئیے جو اتنے خفیہ و تحقیق طلب آثار و اسرار کا بھی محقق ہو
32:36ہم اسی احمد رضا بریلوی کی محققانہ صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے
32:41اس محقق سے اب ہم اسرار قرب قیامت کے احوال پوچھتے ہیں
32:46اے محقق کے اسرار قیامت
32:48اے امام احمد رضا
32:49پھر قیامت آخر کب قائم ہوگی
32:51اپنے ملفوظات میں ارشاد فرماتے ہیں
32:54قیامت کب ہوگی
32:55اسے اللہ عز و جل جانتا ہے
32:57اور اس کے بتائے سے
32:58اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
33:01امام سیوتی سے پہلے
33:03بعض علماء کرام نے
33:05بملاعظہ احادیث حساب لگایا
33:07کہ یہ امت سن ہزار حجری سے آگے نہ بڑھے گی
33:10امام سیوتی نے اس کے انکار میں رسالہ لکھا
33:14اس میں ثابت کیا
33:15کہ یہ امت سن ہزار حجری سے ضرور آگے بڑھے گی
33:19امام سیوتی کی وفاد شریف
33:21سن نو سو گیارہ حجری میں ہے
33:23اور اپنے حساب سے یہ خیال فرمایا
33:25کہ سن تیرہ سو حجری میں خاتمہ ہوگا
33:27اسے بھی چھبیس برس گزر گئے
33:29اور ہنوز ابھی تک قیامت تو قیامت
33:32اشراتِ کبرا
33:33یعنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نہ آیا
33:36محقی کے اسرارِ قیامت کی خوج
33:38صرف مادتی کائنات اور اجرامِ فلکی کے حساب کتاب تک محدود نہیں تھی
33:43بلکہ امام احمد رزا خام بریلوی کی نظر
33:46زمان و مقام کے اس روحانی اور کائناتی ٹائم لائن پر بھی تھی
33:50جسے علمِ اشرات
33:52یعنی علاماتِ قیامت کہا جاتا ہے
33:54جب دنیا کے بڑے بڑے اساتذہ اور محققین
33:57کائناتی گھڑی کی سوئیوں کو سمجھنے میں الجے ہوئے تھے
34:00احمد رزا بریلوی
34:01احادیثِ مبارکہ اور علمِ جفر کے تقاضوں کو یک جا کر رہے تھے
34:06امام کی بارگاہ میں قیامت سے متعلق پھر ایک سوال ہوا
34:09حضور نے جفر سے معلوم فرمایا
34:12ارشاد فرماتے ہیں
34:13ہاں آم کھائی پیڑ نہ گنیے
34:15میں نے یہ دونوں وقت
34:17اٹھارہ سو سینٹیس ہجری میں
34:19سلطنتِ اسلامی کا ختم ہونا
34:22اور انیس سو ہجری میں
34:23امام مہدی کا ظہور فرمانا
34:26سید المکاشفین
34:27حضرت شیخ مہیدین ابن عربی کے کلام سے اغز کی ہیں
34:32اللہ ابر
34:33کیسا زبردست واضح کشف تھا
34:35کہ سلطنتِ ترکی کا بانی اول
34:38عثمان پاشا
34:39حضرت کے مدتوں بعد پیدا ہوا
34:42مگر حضرت شیخ اکبر نے
34:44اتنے زمانے پہلے
34:46عثمان پاشا سے لے کر
34:48قریب زمانہ آخر تک
34:50جتنے بادشاہ اسلامی
34:52اور ان کے وزارہ ہوں گے
34:54رموز یعنی اشاروں کنائےوں میں
34:56سب کا مختصر ذکر فرمایا
34:59ان کے زمانے کے عظیم بقائے
35:01یعنی غیر معمولی واقعات
35:03کی طرف بھی اشارے فرما دئیے
35:05کسی بادشاہ سے اپنی اس تحریر میں
35:07برنرمی خطاب فرماتے ہیں
35:09اور کسی پر حالتِ غزب کا اظہار ہوتا ہے
35:12اس میں ختمِ سلطنتِ اسلامی کی نسبت
35:15لفظ عیقز فرمایا
35:17اور صاف تصریح فرمائی کہ
35:19یعنی میں عیقزِ حجریہ کے بارے میں نہیں کہتا
35:22بلکہ میری مراد
35:24عیقزِ جفریہ ہے
35:25میں نے اس عیقزِ جفریہ کو
35:28جو حساب کیا
35:29تو اٹھارہ سو سیتیس ہجری آتے ہیں
35:32اور انہی کے دوسرے کلام سے
35:33انیس سو ہجری
35:34ظہورِ امام میدی کے آخذ کیے ہیں
35:37کلامِ شیخِ اکبر سے
35:40لی ہے انیس سو ہجری
35:43کلامِ شیخِ اکبر سے
35:46لی ہے انیس سو ہجری
35:49کہ مہدی آئے گے احمد رضا بھی
35:54اس کے ناطق ہے
35:56کہ مہدی آئے گے احمد رضا بھی
36:00اس کے ناطق ہے
36:03شیخِ اکبر کے علم و کول پر
36:05مجددِ اکبر کا بھروسہ
36:07اور مجددِ اکبر کے بھروسے پر
36:09ہم رضا کے پیروکار
36:11تو ابھی شاید کہ
36:12چار سو سال
36:14اس امت نے مزید جینا ہے
36:15لہٰذا
36:16اپنے اپنے حصے کا کام کیے جائیں
36:19کہ دلی ہنوز دور است
36:20قربِ قیامت کی گھڑیاں ابھی دور ہیں
36:23اٹھ کے اب
36:24پس میں جہاں کا اور ہی انداز ہے
36:26مشرق و مغرب میں
36:27تیرے دور کا آغاز ہے
36:29دورِ پر فتن میں
36:31ہم نے اب اور کتنا جینا ہے
36:33اس فکر میں
36:34اپنی اولاد کی تربیت
36:36اور اولاد کو
36:37ان کی اولاد کی تربیت کرنے کی تربیت کرنا
36:40یہ فتنوں سے
36:41اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کے لیے
36:43کتنا ضروری عمل ہوگا
36:45مرکزِ تحقیق زیاءِ طیبہ
36:47یہاں یہ سوال
36:48آپ کے ضمیر کے لیے
36:49چھوڑ رہا ہے
Comments

Recommended