00:22ڈیوی صدی حجری کا برے صغیر علم و تحقیق کا ایک ایسا مرکز جہاں ایک عظیم و شان شخصیت جلم
00:29دیتا ہے
00:30جس نے علوم اسلامیہ سے لے کر ریاضی ہنسا اور فلکیات تک علم کے دریابہ دیئے
00:37لوگوں نے انہیں فقہ کا امام جانا عشق رسول کا پاس بامانا
00:41مگر بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ علامات قیامت اسرار محشر اور کائنات کے اس آخری مور
00:51پر اس عظیم محقیق کی تحقیق کس قدر امیق علمی اور محیور اکول ہے
00:57آئیے علم و عرفہ کے اس سفر پر جہاں ہم کھولنے جا رہے ہیں کائنات کے سب سے بڑے راز
01:04اور اس پر عظیم محقیق کے علمی شہکاروں کے در پیش خدمت ہے
01:09ایک خاص علمی و تحقیقی دستاویزی فلم
01:12احمد رضا بریلوی محقق کے اسرار قیامت
01:17ندیم اس مرتبہ سید مبشر کی گئے تحقیق
01:24ندیم اس مرتبہ سید مبشر کی گئے تحقیق
01:30رضا عارفہ اسرار قیامت کے محتق ہیں
01:43اب آئیے ہم یہاں اپنی کہانی شروع کرتے ہیں
01:47انیس سو انیس عیسوی اپنے انتقال سے ٹھیک دو سال قبل
01:52وہ کچھ ایسا بتا گیا کہ لیکن ذرا یہاں رک جائیے
01:56پہلے دو سال قبل کی ہوئی کہانی کا کچھ پس منظر بیک گراؤن جانیے
02:00زمین کا ایک ایسا ٹکڑا جسے دنیا برے سغیر پا کو ہند کہتی تھی
02:05بارود کے ڈھیر پر بیٹھا تھا
02:07ہواوں میں بغاوت تھی اور مٹی میں جلیاں والا باگ کے مقتولین کے خون کی بو ابھی تازہ تھی
02:13برطانوی راج ایک طرف رولٹ ایکٹ جیسے قوانین سے عوام کی آزادی کی آواز کو جرم بنا چکا تھا
02:20تو دوسری طرف لندن میں مونٹیگیو چیمس فرڈ ریفارمز کے نام پر
02:25برے سغیر کے مستقبل کی نئی آئینی بسات بچھائی جا رہی تھی
02:29ظاہری طور پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ برے سغیر ایک سیاسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے
02:36سیاسی تناؤ صرف ہندوستان تک محدود نہ تھا
02:39اسی دور میں دنیا کے دوسرے کونے پر آئیلنڈ کی آزادی کے سہر انگیز رہنما
02:44ایمون ڈیولیرا امریکی سرزمین پر برطانوی سامراج کے خلاف عالمی حمایت اکھٹی کر رہے تھے
02:51قوم آزادی کا مفہوم تلاش کر رہی تھی
02:541919 کا یہ سال تھا پہلی عالمی جنگ ختم ہو چکی تھی
02:58کروڑوں لوگ وباؤں معاشی بہران اور سیاسی انتشار کا شکار تھے
03:04مورکین عام طور پر 1919 کو سیاست کا سال قرار دیتے ہیں
03:09ایک عالمی بیداری کا دور ایک سیاسی لاوہ جو پھٹنے کو تھا
03:14لیکن کیا اسی سال کوئی خاموش مارکہ بھی کہیں وکوپذیر ہوا تھا
03:20جی ہاں 18 اکتوبر 1919 عیسوی شاید تاریخ کی عام کتابوں میں ایک معمول کی تاریخ ہو
03:28یہ کوئی افسانہ نہیں یہ مسنوعی ذہانت اے آئی کی تخلیق کی گئی سرحی بھی نہیں
03:33بلکہ برطانوی ہندوستان کے ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی وہ خبر تھی
03:39جس نے ایک صدی پہلے قیامت کی تاریخ دنیا کی تباہی کا دن متین کیا تھا
03:45امریکی ماہر فلکیات اور ریاضیدان پروفیسر البر ایف اوٹا ایک ایسی پیشگوئی کرتے ہیں
03:51جو پوری دنیا کی سرخی بن جاتی ہے
03:54امریکہ و لندن کے اخبارات و جرائد میں ایک ہی ہیڈ لائن موضوع پہز بنی
03:59برطانوی ہندوستان بھی اس خوف سے محفوظ نہ رہ سکا
04:02ٹھیک اسی سیاسی لاوے کے دوران 18 اکتوبر 1919 اسوی کو ہندوستان کے ایک نامور انگریزی اخبار
04:10ایکسپریس پٹنا کی سرخی نے برے سگیر کے کرونوں انسانوں کی نبزے روک دی
04:16سیاسی غلامی کے خوف پر ایک کائناتی موت کا خوف غالب آ گیا
04:20دعویٰ کیا تھا؟
04:21امریکہ کے ایک مایاناز ریاضیدان اور ماہر فلکیات
04:25پروفیسر البرٹ ایف پوٹا نے ایک ایسی پیشگوئی کی جس نے پیروں تلے سے زمین نکال دی
04:31پوٹا کا دعویٰ تھا کہ دو ماہ بعد
04:33ٹھیک دو ماہ بعد یعنی 17 دسمبر 1919 اسوی کو
04:39نظام شمسی کے چھے بڑے سیارے ایک ایسی سید میں آ جائیں گے
04:43کہ ان کی مشترکہ مکناتیسی قوت سورج کے سینے میں ایک ہول ناک شغاف کر دے گی
04:49زمین زلزلوں سے کاپے گی
04:51اوفانی محب کا منظر ہوگا
04:53دنیا ختم ہو جائے گی
04:55یہاں پندیتوں نے پتھنیاں دیکھنا شروع کر دی
04:57پادریوں نے دعائیہ تقاریب شروع کر دی
05:00اور عام انسانوں نے جینا چھوڑ دیا
05:03گویا 17 دسمبر دنیا کے خاتمے کا دن
05:06اور قیامت کے برپا ہونے کا لمحہ سمجھا جانے لگا
05:09اخبارات نے اس خبر کو نمائی جگہ دی
05:12بازاروں میں غفتگو ہونے لگی
05:14گھروں میں سوال اٹھنے لگے
05:16کیا واقعی قیامت قریب ہے
05:18کیا سائنس نے دنیا کے خاتمے کی تاریخ بتا دی
05:21جب پورا ہندوستان اس کائناتی سسپینس کے آگے گھٹنے ٹیک چکا تھا
05:26برطانوی راج کے عصاب خطا تھے اور لوگ اسے قرب قیامت کی حتمی نشانی سمجھ رہے تھے
05:33تو اتر پردیش یوپی کے ایک چھوٹے سے شہر بریلی کے ایک خاموش کمرے میں
05:39ایک انٹرلیکچول ایک محقق ایک مفکر و مدبر
05:43ریاضی اور فلکیات کا وہ علم لدنی رکھنے والا
05:46ریسرچ اسکولر خاموش نہیں بیٹھا
05:49جسے دنیا احمد رزا خان بریلوی کے نام سے جانتی ہے
05:53احمد رزا بریلوی کا مقابلہ کسی عام نجومی سے نہیں تھا
05:57ان کا مقابلہ مغرب کی جدید ترین سائنس اور نیوٹرن کے قوانین کا سہارہ لینے والے
06:03پروفیسر مہندس و منجم پوٹا سے تھا
06:06یہ واقعہ ہمیں قرب قیامت کے نام پر پھیلنے والے خوف
06:11سائنسی دعویوں اور مذہبی بیانیوں کے تعلق کے بارے میں کیا سکھاتا ہے
06:15آئیے اصل دستاویزات، اصل اخبارات، اصل رسائل اور اصل تاریخی شواہد کی روشنی میں
06:21اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں
06:24کیونکہ اس عالمی خوف کا مرکز کوئی مذہبی پیشوہ یا جادوگر نہیں
06:29بلکہ مغرب کا ایک سائنس نہ تھا
06:31پروفیسر البرٹ ایف پوٹا
06:34اٹلی میں پیدا ہونے والے پوٹا ایک سیویل انجینئر تھے
06:37جنہوں نے زلزلوں سے تباہ ہونے والے پلو بریج کی تعمیر نو کی تھی
06:42لیکن جب وہ کلیفورنیا کے سانٹا کلارا کالیج پہنچے
06:45تو وہاں کی رسدگاہ نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا
06:48یہاں انہوں نے ریاضی کی بنیاد پر سورج کے دبوں
06:52سن اسپورٹ کا متعلق شروع کیا
06:54ایک ایسا انسان جس نے کبھی فلکیات کی باقاعدہ سائنسی تعلیم حاصل نہیں کی تھی
07:00وہ محض چند کتابچوں کی مدد سے کائنات کے قوانین تے کرنے نکل پڑا تھا
07:05جب کسی وہمے کو لیبورٹری یا رسدگاہ کا لبادہ اڑا دیا جائے
07:09تو وہ عوام کے لیے مقدس سچ بن جاتا ہے
07:13البرٹ ایف پوٹا کوئی فلکیات دان نہیں تھے
07:15بلکہ سانٹا کلارا کی رسدگاہ میں
07:17عارضی طور پر صرف ریاضیاتی حساب کتاب
07:21کلکیولیشنز کے لیے رکھے گئے ایک اسسسٹنٹ تھے
07:23رسدگاہ کے اصل ڈائریکٹر فادر جیروم ریکارڈ
07:27جنہیں بارشوں کے پادری بھی کہا جاتا تھا
07:29موصوف کیلیفورنیا میں موسم کی درست پیشنگوئی کی وجہ سے بہت مشہور تھے
07:34انہوں نے پوٹا کو صرف اس لیے ملازم رکھا تھا
07:37کیونکہ وہ خود بورنگ اور طویل حصہ بھی جوڑ توڑ سے بچنا چاہتے تھے
07:42پوٹا نے اسی محول کا فائدہ اٹھایا
07:44اور رسدگاہ کے نام کو اپنے ذاتی رسوخ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا
07:49ناظرین کرام یہ تھی حقائق و دلائل کی روشنی میں
07:53البٹ ایف پوٹا کی اصل حقیقت
07:55اب احمد رضا بریلوی کی بھی حیثیت کو ذرا جان لیجئے
07:59اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے ماحول میں پنپنے والے
08:03برطانوی سامراجی راج میں علم کا متلاشی
08:07نوابوں کے محلات تک شہرت رکھنے والا
08:09ابن نکی احمد رضا بریلوی پر اسرار اور کائنات کے عجیب و غریب رازوں کا بھی محقق تھا
08:16امام احمد رضا بریلوی کے علم کو دیکھ کر تاجب ہوتا ہے
08:19کہ ایک ایسا شخص جس نے کسی کالج اور یونیورسٹی کی شکل نہ دیکھی
08:24وہ ان علوم و فنون پر ایسی محارت کے ساتھ روشنی ڈالے
08:28اور جہاں غلطی نظر آئے ان کی نشاندہی کے ساتھ اصلاح بھی کرے
08:32یہاں ہمارے محقق بریلوی کی تحریروں کا متعلہ ایک دلچسپ حقیقت سامنے لاتا ہے
08:37موصوف نے صرف فقہی مسائل پر کلم نہیں اٹھایا
08:40بلکہ کائنات، فلکیات، وقت، چاند، سورج، حلال، اجرام سماوی، قرب قیامت کی علامات، تہذیبی تغیرات
08:49اور انسانی فکر جیسے موضوعات پر بھی گفتگو کی
08:52محقق بریلوی کے ہاں یہ تمام مباحث الگ الگ علوم نہیں تھے
08:56بلکہ حقیقت کی تلاش کے مختلف راستے تھے
08:59جو آخرکار ایک ہی سوال پر آ کر جمع ہوتے ہیں
09:02کہ حقیقت تک پہنچنے کا صحیح منحج کیا ہے
09:06یہی وجہ ہے کہ امام احمد رضی بریلوی کے علمی اسلوب میں ایک نمائی خصوصیت دکھائی دیتی ہے
09:12یہ بندہ کسی مسئلے کا جواب دینے سے پہلے اس کی ڈیفینیشن متین کرتا ہے
09:17پھر متعلقہ نصوص جمع کرتا ہے
09:19مختلف آرہ کا تقابل کرتا ہے
09:22اقلی و نقلی دلائل کا وزن کرتا ہے
09:24اور آخر میں ایک نتیجہ اخص کرتا ہے
09:27یہ انداز آج کی زبان میں کمپیرٹیف ریسرچ میتھولوجی سے مشابہ دکھائی دیتی ہے
09:33جہاں ہر دعوے کو اس کے شواہد کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے
09:37یوں تو احمد رضی بریلوی کی تحقیقات کے سیکڑوں گوشے اور کئی ڈائمنشنز آف تھوڈ ہیں
09:43جن پر سیر حاصل تجزیاتی مطالعہ و گفتگو کی جا سکتی ہے
09:48تاہم یہاں اس ڈوکیومنٹری کے موضوع سے متعلق
09:51محقیقے اسرار قیامت کی تحقیقات کے چند نمونے پیش کر رہے ہیں
09:56امام احمد رضا کا منحج تغریر ایسا ہے
10:09جواباتوں کے موضوع مسائل کے مطابق ہیں
10:17جواباتوں کے موضوع مسائل کے مطابق ہیں
10:22احمد رضا بریلوی محقیقے اسرار قیامت
10:26جس نے احادیث صحیحہ سے قرب قیامت کی علامات و آثار پر گفتگو فرمائی
10:31اور یوں لکھتے ہیں کہ
10:32ان کے بارے میں صحیح حدیثیں بھی آئی ہیں
10:34حسن و ضعیف و موضوع بھی
10:36مگر دجال کا خروج
10:37امام میدی رضی اللہ عنہ کا ظہور
10:40حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
10:42آفتاب کا مغرب سے طلوع یہ سب احادیث متواترہ سے ثابت ہے
10:47جس روز آفتاب مغرب سے نکلے گا
10:50وہی وقت در توبہ یعنی توبہ کا دروازہ بند ہونے کا ہوگا
10:55انہی دنوں میں دعبت الارد کعبہ معظمہ کے قرب میں
10:59زمین سے نکلے گا
11:00تو دہنے ہاتھ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا آسا ہوگا
11:04اور بائے ہاتھ میں سیدونا سلمان علیہ السلام کی انگوشتری
11:09یعنی انگوٹھی ہوگی
11:10جو علم الہی عز و جل میں مسلمان ہوگا
11:14اس کی بیشانی پر آسا سے نورانی نشان کر دے گا
11:17اور جو کافر ہوگا انگوشتری سے کالا داغ لگا دے گا
11:21قیامت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ
11:24قیامت تین قسم کی ہے
11:26قیامت سغرا یہ موت ہے جو مر گیا اس کی قیامت ہو گئی
11:30دوسری قیامت وستہ وہ یہ کہ ایک قرن
11:33یعنی ایک زمانے کے تمام لوگ فنا ہو جائیں
11:36اور دوسرے قرن کے نئے لوگ پیدا ہو جائیں
11:39تیسری قیامت قبرہ وہ یہ کہ آسمان و زمین سب فنا ہو جائیں گے
11:44احمد رضا بریلوی محقق کے اسرار قیامت
11:47جس نے اپنی تحریروں میں انہی علامات کو محض نکل نہیں کیا
11:51بلکہ ان کے فکری اور معاشرتی اثرات کی طرف بھی توجہ دلائی
11:55قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کو یوں ظاہر کیا کہ
11:58جب اس محقق سے حضور نبی کریم علیہ السلام کی شفاعت سے متعلق سوال ہوا
12:04تو لکھتے ہیں کہ
12:05سبحان اللہ ایسے سوال سن کر تاجب آتا ہے
12:08کہ مسلمان اور ایسے واضح عقائد میں تشکیق کی آفت
12:13یہ بھی قرب قیامت کی ایک علامت ہے
12:16احمد رضا بریلوی محقق کے اسرار قیامت
12:19جس نے حدیث نبی کی روشنی میں
12:21ایک خطرے کی نشاندہی کو کچھ یوں ارشاد فرمایا کہ
12:24قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے
12:28یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا
12:31تو لوگ بامر مجبوری رئیس جاہلوں کو دینی مختدہ بنائیں گے
12:37پھر ان سے دینی مسائل پوچھیں گے
12:39تو وہ بغیر علم فتوے دیں گے
12:41تو خود بھی گمراہ ہو جائیں گے
12:42اور دوسروں کو بھی گمراہ کر دیں گے
12:44احمد رضا بریلوی محقق کے اسرار قیامت
12:48جس نے خود نبی پیشگوئیوں کے آئینے میں
12:50معاشرے کو دیکھا
12:51حدیث پاک کا وہ دور جہاں سلام اور تحیت کی جگہ
12:55گالی لے لے گی امام فرماتے ہیں
12:57میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا
13:00سلام کی جگہ گالی بگتے ہوئے
13:03یہ صرف ایک مشاہدہ نہیں
13:05قیامت کی سگرہ نشانیاں پر حق ہونے کی
13:08ایک زندہ گواہی تھی
13:09احمد رضا بریلوی محقق کے اسرار قیامت
13:13جس نے اپنے رب کی طرف سے ودیت کردہ صلاحیتوں سے
13:16جہاں دیگر علوم و فرون میں مہارت حاصل کی
13:19وہیں کائنات کے ایک خفیہ ترین علم
13:22جسے زمان و مکان کے پوشیدہ رازوں کو جاننے کی چابی کہا گیا
13:26ایک مشکل ترین اور متجسس علم
13:29علم جفر کو بھی حاصل کر کے
13:31اس علم سے کشف و اسرار اور حال و مستقبل کے واقعات پر
13:35اپنی گران قدر خدمات اس امت کو دی
13:38امام سے پوچھا گیا کہ یہ جفر کیا چیز ہے
13:41ارشاد فرماتے ہیں
13:42یہ علم تمام علوم سے مشکل تر اور سکھانے والے مفقود
13:47یعنی مؤیسر نہیں
13:48اور اکابر مصنفین کو کمال اخفہ
13:52یعنی بالکل پوشیدہ رکھنا مقصود
13:54اے امام احمد رزا
13:55اس فن میں آپ کی تصانیف اور فارمولے
13:58کہاں ہیں جن سے آج ہم مستفیز ہو سکیں
14:00فرماتے ہیں
14:01مولانا سید حسین مدنی
14:03صاحب زادہ حضرت مولانا سید
14:06عبدالقادر شامی مدنی
14:07تشریف لائے اور چودہ مہینے
14:10فقیر خانے پر قیام فرمایا
14:11اور یہ علم سیکھے
14:13انہی کے لیے میں نے اپنا رسالہ
14:15اطائب الاکسیر زبان عربی میں
14:18املہ کیا
14:19میں نے جو جداول کسیرہ اس فن کی
14:22تکمیل جلیل کے لیے
14:23اپنی تبازات ایجاد کی تھی
14:26رخصت کے وقت انہیں نظر کر دی
14:28کہ خود اس فن کے
14:30ترکہ قصد کر لیا تھا
14:32جس کی وجہ سوالوں کی
14:34کسرت سے لوگوں کا پریشان کرنا تھا
14:37میری کتاب
14:37سفر السفر یعنی
14:39جفر سے جفر کو واضح کرنے کی کتاب
14:42انہی مباعث میں ہے
14:43جس میں ساٹھ سوال جواب ہیں
14:46ناظرین کرام علم جفر کے اس فن میں
14:48امام اہل سنت کی تین کتابیں
14:51مزید ملتی ہیں
15:01لیکن ان تینوں کتابوں کے مطالق
15:04امام کا ایک سخت حکم تھا
15:06اور وہ کیا تھا فرماتے ہیں
15:08یہ تینوں رسالے نہ چھاپے جائیں گے
15:10نہ ان کی نقل مل سکتی ہے
15:12جب تک اس علم کی اہلیت نہ ثابت ہو
15:15احمد رضا بریلوی
15:17محقی کے اسرار قیامت
15:19جس کی نظر میں اسرار قیامت کی خوج میں
15:22مٹے ہوئے مادی نشانات ہی نہیں
15:24بلکہ عالم ارواح اور بارگاہ اولیاء
15:27کے پوشیدہ تذکرے بھی
15:28اس محقی کی نظر میں تھے
15:30ایمہ دین کی گواہی پر
15:32امام اہل سنت ملفوزات میں رکم کرتے ہیں
15:34کہ حضور غوث عاظم شیخ عبدالقادر جیلانی
15:38رضی اللہ تعالی عنہ کو
15:39رب کائنات نے ایک ایسا دفتر
15:42یعنی رجسٹر عطا فرمایا
15:44جو منتح نظر تک وسیع تھا
15:46اس میں قیامت تک کے آنے والے
15:48ان مریدین اور غلاموں کے نام درش تھے
15:51بارگاہ الہی سے مزدہ ملا
15:53یہ سب تمہیں بخش دیے گئے ہیں
15:55احمد رضا بریلوی
15:57محقی کے اسرار قیامت
15:58جس نے علم کشف
16:00مراقبے اور حالات کے منکشف ہونے سے
16:03متعلق ایک سوال کے جواب میں
16:05امام مہدی کے منصب جلیلہ
16:07کو یوں بیان فرمایا کہ
16:09نہیں بلکہ ہر حال میں
16:10یوں ہی مثل آئینہ پیش نظر ہے
16:13ہر غوث کے دو وزیر ہوتے ہیں
16:14غوث کا لقب عبداللہ ہوتا ہے
16:16اور وزیر دست راست یعنی
16:18دائیں طرف کا وزیر عبدالرب
16:20اور وزیر دست چب یعنی بائیں طرف کا وزیر
16:23عبدالملک
16:24اس سلطنت میں وزیر دست چب
16:26وزیر راست سے آلہ ہوتا ہے
16:28بخلاف سلطنت دنیا
16:29اس لیے کہ یہ سلطنت قلب ہے
16:32اور دل جانب چب
16:33غوث اکبر و غوث ہر غوث
16:35حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
16:39صدیق اکبر
16:40حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
16:42وزیر دست چب تھے
16:44اور فاروق عاظم وزیر دست راست
16:46پھر امت میں سب سے پہلے
16:48درجہ غوثیت پر
16:50امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق
16:52ممتاز ہوئے اور
16:53وزارت امیر المومنین فاروق عاظم
16:56عثمان غنی کو عطا ہوئی
16:57اس کے بعد امیر المومنین فاروق عاظم
17:00کو غوثیت مرحمت ہوئی
17:01اور عثمان غنی و مولا علی وزیر ہوئے
17:04پھر امیر المومنین
17:05حضرت عثمان غنی کو غوثیت عنایت ہوئی
17:08اور مولا علی و امام حسن وزیر ہوئے
17:11پھر مولا علی کو
17:13اور امامین محترمین وزیر ہوئے
17:15پھر امام حسن سے درجہ بدرجہ
17:18امام حسن عسکری
17:20تک یہ سب حضرات
17:21مستقل غوث ہوئے
17:22Imam Hussan Askarie کے بعد
17:24حضور غوث عظم
17:26تک جتنے حضرات ہوئے
17:28سب ان کے نائب ہوئے
17:30ان کے بعد سیدنا غوث عظم
17:32استقل غوث حضور تنہا
17:34غوثیت کبرہ کے درجے پر
17:36فائز ہوئے
17:37حضور غوث عظم بھی ہیں
17:39اور سید الافراد بھی
17:41حضور کے بعد جتنے ہوئے
17:43جتنے اب ہوں گے
17:44حضرت امام مہدی تک
17:46سب نائب حضور غوثیت کبرہ
17:51اتا ہوگی
17:52احمد رضا بریلوی
17:53محقی کے اسرار قیامت
17:55جس نے قرب قیامت کے احوال سے متعلق
17:58آخر الزمان میں
17:59خلافت راشدہ اور خلیفہ راشد سے متعلق
18:02اپنے وسیع متعلق کی روشنی میں
18:04کچھ یوں انشاءت فرمایا کہ
18:06خلافت راشدہ وہ خلافت کے منحاج نبوت
18:09یعنی نبوی طریقے پر ہو
18:11جیسے حضرات خلفہ اربع
18:14یعنی چار خلفہ اکرام
18:16حضرت سیدنا صدیق اکبر
18:18حضرت سیدنا فاروق عظم
18:20حضرت سیدنا عثمان غنی
18:23اور حضرت مولا علی
18:24رضی اللہ تعالی عنہم
18:26و امام حسن مشتبہ
18:27و امیر المومنین
18:28عمر بن عبدالعزیز
18:30رضی اللہ تعالی عنہم نے کیے
18:32اور اب میرے خیال میں
18:33ایسی خلافت راشدہ
18:35امام میری رضی اللہ تعالی عنہم
18:37ہی قائم کریں گے
18:38محقی کے اسرار قیامت
18:40امام احمد رضا خان محقیق بریلوی
18:42حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام
18:45اور حضرت سیدنا امام مہدی کی
18:47اس امت محمدیہ کے درمیان
18:49موجودگی کی منظر کشی کرتے ہوئے
18:51فرماتے ہیں کہ
18:52جب آخری الزمان میں
18:53حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام
18:56نزول فرمائیں گے
18:58باعہ کے دستور منصب نبوت
19:01اور رسالت پر ہوں گے
19:02حضور پرنور سید المرسلین
19:05صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:07کے امتی بن کر رہیں گے
19:09حضور ہی کی شریعت ترعمل کریں گے
19:11حضور کے ایک امتی و نائب
19:13یعنی امام مہدی کے بیچے
19:15نماز پڑھیں گے حضور سید المرسلین
19:17صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
19:19کیسا حال ہوگا تمہارا
19:21جب ابن مریم تم میں اتریں گے
19:23اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا
19:26احمد رضا بریلوی
19:27محقق کے اسرار قیامت
19:29جس نے یاجوج ماجوج
19:31نسل انسانی کا وہ کثیر ترین فتنہ
19:34جو سد سکندری کے پیچھے قید ہے
19:37یاجوج ماجود کے وجود سے متعلق
19:39احادیث کریمہ پر اپنی گرہ
19:41قدر تعلقات رکم فرمائی
19:43ایک روایت کے مطابق یاجوج ماجوج
19:45حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے
19:47یافت کی نسل سے تعلق رکھنے والی
19:49دو خطرناک اور نہایت
19:51کثیر تعداد والی قومیں ہیں
19:53جو اپنے فساد قتل و غارت اور
19:54تباہکاری کے باعث مشہور ہیں
19:56روایت میں ان کی کثرت تعداد اور
19:58قوت کا ذکر ملتا ہے
20:00حضرت حزیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی
20:03روایت کے مطابق یاجوج ماجوج
20:05دو الگ الگ قومیں ہیں
20:06محقق کے اسرار قیامت
20:08امام احمد رضا خان محقق بریلوی نے
20:10وضاحت فرمائی کہ تفسیر جمل
20:13اور خازن نے اس روایت میں
20:15ان الفاظ کا اضافہ کیا
20:16کہ یہ اولاد آدم میں سے ہیں
20:19اور دنیا میں فساد ورپا کرنے
20:21کے لئے نکلیں گے
20:22امام فرماتے ہیں یہ روایت دیگر
20:24کئی مقامات پر موجود ہے
20:26جیسا کہ تفسیر ابن حاتم
20:28القامل ابن عدی تاریخ دمش وغیرہ
20:31لیکن ان میں یہ اضافی
20:33الفاظ مذکور نہیں
20:34حضرت سکندر ذلکرنین رضی اللہ عنہ نے
20:37اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے راستے میں
20:40ایک مضبوط آہنی دیوار
20:42صد تعمیر کر دی
20:43قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول
20:47دجال کے قتل اور مسلمانوں کے
20:49کوہتور میں پناہ لینے کے بعد
20:51اللہ تعالیٰ کی مشیت سے
20:53وہ اس رکاوٹ سے باہر نکلیں گے
20:55یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
20:57دعا کے نتیجے میں
20:58اللہ تعالیٰ انہیں حلاق فرما دے گا
21:01یاجوج ماجوج کا دیوار کھودنے یا توڑنے
21:04اور اگلے دن ویسی پانے کی تحقیق میں
21:07محقی کے اسرار قیامت
21:09اپنی تعلقات یوں رکم کرتے ہیں
21:11کہ حضرت حبو حریرہ کی مرفوع
21:13روایت ہے کہ یاجوج ماجوج
21:15روزانہ دیوار کھودتے ہیں
21:17اور اگلے دن پھر ویسی برابر
21:19ہو جاتی ہے امام ابن کسیر
21:21نے اس سنت کو تو بہتر کہا
21:23مگر مطن کو قرآن کی آیت
21:25کے خلاف پا کر منکر قرار دیا
21:27کیونکہ قرآن سے دیوار
21:29کا نا ٹوٹنا ثابت ہے
21:31جبکہ حدیث سے روزانہ خودنا
21:33ثابت ہوتا ہے حضرت ابو حریرہ
21:35کی روایت پر جب امام ابن کسیر
21:37جیسے جلل القدر موریخ
21:39نے جرح کی اور مطن کو
21:41قرآن کے خلاف کہہ کر منکر
21:43قرار دیا تو بیسویں صدی کے
21:45اس عظیم محدث احمد رضا
21:47کی علمی گرفت دیکھئے
21:49محقی کے اسرار قیامت
21:51امام احمد رضا بریلوی نے
21:52امام ابن کسیر کی اس چرح کو
21:55مسترد کرتے ہوئے آیت اور حدیث
21:57میں بہترین تطبیق دی
21:59آپ نے فرمایا قرآن میں
22:01دیوار کے اوپر سے چڑھنے
22:03یا اس میں نقب آرپار سراخ
22:05لگانے کی نفی ہے
22:06حدیث میں یہ ہے کہ وہ صرف
22:09بنیادیں کھوتے ہیں نقب نہیں
22:11لگاتے لہٰذا آیت
22:13اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں
22:15ہے اور محض ایک فرضی
22:17تضاد کی بنیاد پر
22:19سقہ راویوں کی حدیث کو
22:21رد نہیں کیا جا سکتا
22:22مختصر یہ کہ یہاں صرف
22:24اپنے موضوع سے متعلق امام کی
22:26تحقیقات سے پردہ اٹھایا گیا ہے
22:28تاکہ موضوع میں جامعیت
22:30ٹو دی پوئٹ کا انصر برقرار رہے
22:32ناظرین اکرام دیکھی آپ نے
22:34محقی کے اسرار قیامت
22:36احمد رضا بریلوی کی بلند فکر
22:38و حیران کن تحقیق کی جلک
22:40ہے اسرار قیامت
22:43پر بڑی
22:44گہری نظر ان کی
22:46ہے اسرار
22:48قیامت پر بڑی
22:50گہری نظر ان کی
22:53رضا روحانیت
22:55عرفان اور
22:57حکمت کے تارت
22:59ہیں
22:59رضا روحانیت
23:02عرفان اور
23:03حکمت کے تارت
23:05ہیں
23:06ناظرین اکرام اب ہم یہاں
23:08اپنی کہانی کے طرف دوبارہ لوٹتے ہیں
23:11خلیفہ محقی کے بریلوی
23:12اللامہ سید صفر الدین بیہاری
23:14نے ہندوستانی انگریزی اخبار
23:17ایکسپریس میں کی گئی اس پیشنگوئی کی سرخی کا تراشا بریلی روانہ کیا
23:21چھاسر سالہ ریسرچ اسکولر احمد رضا بریلوی اپنے کلم سے اب تک سیکڑوں تحقیقی کتوب و آرٹیکل لکھ چکے تھے
23:29جس کی ایک جلک ابھی آپ نے ملاحظہ بھی کی
23:32احمد رضا بریلوی نے علم حیت و نجوم کی روشنی میں مدلل بحث کرتے ہوئے
23:37امریکی پروفیسر محصوف کی پیشنگوئی کو سراسر بے سروپا قرار دیا
23:42سب سے پہلے یوں جواب ارشاد فرمایا کہ
23:45یہ سب اوہام باطلہ و حواسات آتلہ ہیں
23:49مسلمانوں کو ان کی طرف اصلاً التفات جائز نہیں
23:52ناظرین اکرام بظاہر یہ جواب کافی ہوتا
23:55لیکن احمد رضا بریلوی بھی تو احمد رضا بریلوی ہی ہے نا
23:59بس فکر و تدبر کے تار چھڑ گئے
24:02اور پھر 66 برس کی عمر میں کیسی تحقیق سامنے آئی
24:06ذرا ملاحظہ کیجئے
24:07پوٹا کے بتائے گئے 17 دسمبر کی تاریخ میں
24:10سیاروں کے مقام کا رد فرماتے ہوئے
24:1317 دسمبر کو کواکب کے حقیقی مقام کا یہ چارٹ تیار کیا
24:18آگے ایک مبہود کرنے والا جملہ تحریر کیا گئے
24:21کیا سب کواکب نے آپس میں صلاح کر کے آزار افتاب پر ایکہ کر لیا ہے
24:26اس کے بعد 17 دسمبر کا اوسات کواکب کا نقشہ بنایا
24:30آفتاب سے ان کی دوری اور ان کا سائز بتایا
24:32اس کے بعد چاند پر تحقیقی بحث کی
24:35اور پھر عرستو کی کتاب کا حوالہ دے کر
24:38داگ شمس سن اسپورٹ پر سیر حاصل گفتگو فرمائی
24:42جس میں روح شمس پر دو سیاہ نکتے
24:45یا داگ کی تصاویر کے ساتھ حوالے پیش کیے
24:48پوٹا کے 17 دسمبر کی 17 تاریخ کے اعتبار سے
24:5217 دلیلوں سے رت فرماتے ہوئے یوں لکھتے ہیں کہ
24:55بیان منجم پر اور مواقعزات بھی ہیں
24:58مگر 17 دسمبر کے لیے 17 پر ہی اقتفا کریں
25:01ناظرین اکرام یقوم ربی الاول
25:031338 ہجری میں احمد رضا بریلوی نے
25:06علامہ سید زفر الدین بحاری کو جواب لکھا
25:09یہی مکتوبی جواب دراصل
25:11معین مبین پہرے دور شمس و سکون زمین ہے
25:15اور یہی وہ تصنیف ہے جس کی تعلیف فوز مبین اور
25:19القلمة الملہمہ کے وجود میں آنے کی تمہید ثابت ہوئی
25:22یہ تمام فتوحات انہیں اس وقت حاصل ہوتی ہیں
25:25جبکہ وہ 45 برس پہلے ہی ان علوم و ابحاظ سے دستکش ہو گئے تھے
25:31جن دنوں وہ یہ مار کے سر کر رہے تھے
25:33ان دنوں احمد رضا بریلوی پر
25:35امراض شدیدہ اور اشغال علمیہ کسیرہ کا پنجا سخت قصہ ہوا تھا
25:40پھر بھی استہزار علم حضوری تباہ ذہن ساکب اور رفتار قلم کا یہ عالم ہے لکھتے ہیں
25:47آج 45 برس سے زائد ہوئے کہ فلسفے کی طرف رخ نہ کیا
25:51نہ اس کی کسی کتاب کو کھول کر دیکھا
25:54اب آخیر عمر میں سرکار نے اپنے کرم بے پایاں کا صدقہ
25:59بندہ آجز سے یہ خدمت لی کہ دونوں فلسفوں کو رد کرے
26:03یہاں محقی کے اسرار قیامت احمد رضا بریلوی کی پوٹا کو دی گئی جوابی کا روائی میں
26:09کلم رضا سے وجود میں آنے والی تحقیقی کتاب
26:12فوز مبین در رد حرکت زمین کا ایک سائنٹیفک اور لوجیکل منظر نامہ پیش کرتے ہیں
26:19امام نے اپنی اس تصنیف فوز مبین در رد حرکت زمین میں
26:24فیزکس، کیمیسٹری، جیوگرافی، ایسٹرونومی، ایسٹرولوجی، فلسفہ قدیمہ، توقید، ریاضی، میتھامیٹکس وغیرہ علوم سے کام لیا
26:33اور مختلف موضوعات و نظریات مثلاً سپیڈ اینڈ ویلوسٹی، نظریہ کشی سے سکل، گریویٹیشن، ماس اینڈ ویٹ، حجم و سکل
26:42اور سکل اضافی، والیوم، ڈینسٹی، اینڈ ریلیٹیف ڈینسٹی، مرکز گریز، جمود، اسرا، دباؤ، اچھال، ٹھہراؤ، فلوٹیشن، سیاروں اور ستاروں کی
26:53چال
26:53ان کی دوری، زمین کی حیئیت، ٹائٹس، مدو جذر، نظریہ اضافت، تھیوری آف ریلیٹیویٹی، دخان، بخارات، حرارت، ایٹم، لغیرسم، مساوات،
27:04ڈائنامکس، محرک، پروجیکٹائل، ٹرگنومینٹری، جیومیٹری، اسفیریکل ٹرگنومینٹری وغیرہا علوم کا استعمال کیا ہے
27:13اور ان پر بحث کی ہے
27:14احمد رضا بریلوی کے تعاقب اور رد کی یہ خوبی ہے کہ یہ بندہ مخالف کے حملے کا جواب اسی
27:20ہتھیار سے دیتا جس ہتھیار سے وہ حملہ کرتا
27:23مخالف اپنے دعوے کے ثبوت میں علم و فن کی جن کتب سے دلائل پیش کرتا یہ احمد رضا بھی
27:29اسی علم و فن کی کتب سے اس کا رد کرتا
27:32احمد رضا بریلوی اپنے طرز استدلال میں سائنٹیفک اور لوجیکل پہلو کو متنظر رکھتے
27:38یہ سب تحقیقات ذکر کرنے کا مقصد محقی کے اسرار قیامت احمد رضا بریلوی کی علمیت کو دلائل کے ساتھ
27:45پیش کرنا
27:46تاکہ نئی روشنی کے دلدادہ اور ملحدین ایتھیسٹ ولادین سیکرلیسٹ لوگوں کے لیے اس محقیق کا کردار سامنے رہے
27:54بہرکیف یہ تھی اقلی و غربی علوم میں احمد رضا بریلوی کے سمند کلم کی سرپر دوڑ
28:00جس کی ایک جھلک مرکز تحقیق زیاہ تیبہ نے آپ سامعین و ناظرین کو دکھائی
28:06جس کے ٹھیک دو سال بعد یہ محقیقے اسرار قیامت اس فانی دنیا سے کوچھ کر کے عبدی دنیا کی
28:13جانب چل دیا
28:14لیکن یہاں کہانی ابھی باقی ہے
28:17کیونکہ عام دنیا دار طبقے کی نظر میں احمد رضا بریلوی کے کلم کی حیثیت
28:22صرف ایک چھوٹے سے کمرے میں موجود ایک گوشہ نشین استاد کیسی تھی
28:27جبکہ پوٹا کے جھوٹے دعوے کی گونج ایک امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر کی ریسرچ سمجھی گئی
28:33تو کلم رضا کی سرکھی اتنی جلدی پوری دنیا کو کیسے نظر آئے
28:37اہل مغرب تو اب بھی سترہ دسمبر کے دن کے منتظر تھے
28:42اس وہم میں کہ نہ جانے اب کیا ہوگا
28:45سترہ دسمبر انیس سو انیس عیسوی
28:48تاریخ کا ایک ایسا دن جب انسانوں کی ایک بڑی تعداد یہ مان چکی تھی
28:53کہ دنیا ختم ہونے واری ہے
28:55اوکلاہوما کی ایک نوجوان لڑکی نے اپنا بہترین لباس پہنا
28:59تاکہ وہ موت کا استقبال پورے وقار سے کرے
29:01پیریس میں لوگ گرجہ گروں میں پناہ گزی ہوئے
29:04اور کینیڈا کی جزیروں پر کچھ لوگوں نے زندگی کی آخری رات سمجھ کر
29:09مدھوشی کے جشن منائے
29:11پوری دنیا تھمی ہوئی تھی
29:12آسماء کی طرف دیکھ رہی تھی
29:14ایک ایسے قیامت خیز توفان کے انتظار میں
29:17جس نے انسانی تاریخ قصب سے پڑا غیز و غزب بن کر نازل ہونا تھا
29:22اور پھر دنیا سہم کر بستنوں سے اٹھی
29:24آسماء پر سورج ہمیشہ کی طرح چمکا
29:27اور ہمیشہ کی طرح پر سکون انداز میں غروب ہو گیا
29:30کوئی توفان نہیں
29:31کوئی زلزلہ نہیں
29:32کائنات کا توازن برقرار
29:34کچھ بھی نہیں بدلا
29:35اوکلاہوما کے کانکن
29:37جو زمین دوز ہونے سے ڈڑ رہے تھے
29:39ہستے ہوئے بہار نکل آئے
29:40میڈیا جو کل تک خوف بیچ رہا تھا
29:43اب پوٹا کا مزاق اڑانے لگا
29:45مشیگن یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک محفل جمعائی
29:48اور مزاق میں کہا کہ
29:49دنیا ختم ہونے کا ایک فائدہ تو ہوا
29:52کہ ہمیں رات کو پڑھنا نہیں پڑا
29:54پوٹا مرتے دم تک اپنے نظریات کا دفاع کرتے رہے
29:57لیکن وہم کا وہ بدھ پاش پاش ہو چکا تھا
30:00تاریخ کی دیگر سیکڑوں پیشگوئیوں کی طرح
30:02البرٹ پوٹا کا کائناتی وہم بھی
30:05ملیہ میٹ ہو چکا
30:06اور بریلی کے اس محقق کے موقف کی
30:09بھرپور تصدیق دنیا کے سامنے
30:11سترہ دسمبر کے دن نے سبت کر دی
30:14پھر یہ قیامت آخر کب برپا ہوگی
30:17یہ سوال آج کا نہیں
30:19بلکہ ہمیشہ دنیا میں اس کی بازگشت سنائی دیتی رہی
30:22جب پارگاہ نبی اکرم رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم میں
30:26حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل اختیار کر کے حاضر ہوئے تو
30:29ان سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی کیا
30:33اخبرنی انساہ
30:34حضور قیامت کب آئے گی
30:36سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
30:39مَلْمَسْئُولُ عَنْهَا بِعَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ
30:42اس راز کو مجیب و سائل خوب جانتے ہیں
30:45اس کے اظہار کا ابھی وقت نہیں
30:47سیدنا جبرائیل علیہ السلام عرض گزار ہیں
30:49فَأَخْبِنِّنِ اَنْ اَمَارَاتِهَا
30:51سرکار پھر علامات قیامت ہی بتا دیجئے
30:54ارشاد ہوا
30:55لَا تَكُمُ السَّعَاتُ إِلَّا فِي يَوْمِ الجُمْعَ
30:58قیامت جمعہ کے دن قائم ہوگی
31:00دوسری جگہ فرمایا
31:02محرم الحرام کا مہینہ ہوگا
31:04البتہ سال اور صدی کا تعیون
31:06مسلحت نہ فرمایا
31:08اسی لئے اس سوال کی گونج
31:10ہر زمانے میں سنائی دیتی آ رہی ہے
31:12یہاں پہلے پہل یہ سوال
31:14اللامہ جلال الدین سیوتی سے
31:16ان کے زمانے میں بری شدت سے اٹھایا گیا
31:19کہ امت محمدیہ کی کل عمر
31:21ایک ہزار برس ہے
31:23اور جب دس صدیہ اختدام کو پہنچیں گی
31:25تو قیامت آ جائے گی
31:26اسے شہرت حاصل ہوئی
31:28یہاں تک کہ امام سیوتی جیسے
31:30مجدد اسلام کو بھی بری شد و مت سے
31:32تردید کرنی پڑی
31:33آپ نے نہایت شرحبت سے
31:35اس کے تار و پوت کو بکھرتے ہوئے
31:38یہاں تقلیق دیا
31:39کہ لوگوں میں جو یہ مشہور ہے
31:40کہ ہزار سال گزرنے پر قیامت آ جائے گی
31:43یہ بالکل غلط ہے
31:44انشاءاللہ تعالی
31:46تیرہ صدیوں تک تو قیامت قائم نہ ہوگی
31:49اس کے بعد خدا جانے
31:50یہاں اب امام سیوتی کے وسال کو
31:52پانچ سو سال گزر چکے
31:54آپ کی تحقیق کی تصدیق
31:56آپ کے بعد آنے والی ہر صدی نے کی
31:58جب آپ کے اندازے کی پیشن گوئی کا وقت پورا ہوا
32:01تو تیروی صدی کے بعد
32:03چودوی صدی کو موضوع بحث بنا لیا گیا
32:05اور یوں مشہور ہو گیا
32:07کہ چودوی صدی قیامت کی صدی ہوگی
32:09جوہلا نے اسے پلے باندھ لیا
32:11مسیح معود اور مہدی زمان کے دعوے اگلنے والوں کی کاروائی نے
32:15سونے پر سوہاگے کا کام کر دیا
32:18مگر علماء حق نے
32:19قطعاً اس جہالت کی تائید نہ کی
32:22اور چودوی صدی بھی گزر گئی
32:24اب ہم اور آپ
32:25پندھرویں صدی میں
32:26پندرہ سو سالہ جشن عید ملاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
32:30بنا رہے ہیں
32:31تو پھر آئیے جو اتنے خفیہ و تحقیق طلب آثار و اسرار کا بھی محقق ہو
32:36ہم اسی احمد رضا بریلوی کی محققانہ صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے
32:41اس محقق سے اب ہم اسرار قرب قیامت کے احوال پوچھتے ہیں
32:46اے محقق کے اسرار قیامت
32:48اے امام احمد رضا
32:49پھر قیامت آخر کب قائم ہوگی
32:51اپنے ملفوظات میں ارشاد فرماتے ہیں
32:54قیامت کب ہوگی
32:55اسے اللہ عز و جل جانتا ہے
32:57اور اس کے بتائے سے
32:58اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
33:01امام سیوتی سے پہلے
33:03بعض علماء کرام نے
33:05بملاعظہ احادیث حساب لگایا
33:07کہ یہ امت سن ہزار حجری سے آگے نہ بڑھے گی
33:10امام سیوتی نے اس کے انکار میں رسالہ لکھا
33:14اس میں ثابت کیا
33:15کہ یہ امت سن ہزار حجری سے ضرور آگے بڑھے گی
33:19امام سیوتی کی وفاد شریف
33:21سن نو سو گیارہ حجری میں ہے
33:23اور اپنے حساب سے یہ خیال فرمایا
33:25کہ سن تیرہ سو حجری میں خاتمہ ہوگا
33:27اسے بھی چھبیس برس گزر گئے
33:29اور ہنوز ابھی تک قیامت تو قیامت
33:32اشراتِ کبرا
33:33یعنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نہ آیا
33:36محقی کے اسرارِ قیامت کی خوج
33:38صرف مادتی کائنات اور اجرامِ فلکی کے حساب کتاب تک محدود نہیں تھی
33:43بلکہ امام احمد رزا خام بریلوی کی نظر
33:46زمان و مقام کے اس روحانی اور کائناتی ٹائم لائن پر بھی تھی
33:50جسے علمِ اشرات
33:52یعنی علاماتِ قیامت کہا جاتا ہے
33:54جب دنیا کے بڑے بڑے اساتذہ اور محققین
33:57کائناتی گھڑی کی سوئیوں کو سمجھنے میں الجے ہوئے تھے
34:00احمد رزا بریلوی
34:01احادیثِ مبارکہ اور علمِ جفر کے تقاضوں کو یک جا کر رہے تھے
34:06امام کی بارگاہ میں قیامت سے متعلق پھر ایک سوال ہوا
34:09حضور نے جفر سے معلوم فرمایا
34:12ارشاد فرماتے ہیں
34:13ہاں آم کھائی پیڑ نہ گنیے
34:15میں نے یہ دونوں وقت
34:17اٹھارہ سو سینٹیس ہجری میں
34:19سلطنتِ اسلامی کا ختم ہونا
34:22اور انیس سو ہجری میں
34:23امام مہدی کا ظہور فرمانا
34:26سید المکاشفین
34:27حضرت شیخ مہیدین ابن عربی کے کلام سے اغز کی ہیں
34:32اللہ ابر
34:33کیسا زبردست واضح کشف تھا
34:35کہ سلطنتِ ترکی کا بانی اول
34:38عثمان پاشا
34:39حضرت کے مدتوں بعد پیدا ہوا
34:42مگر حضرت شیخ اکبر نے
34:44اتنے زمانے پہلے
34:46عثمان پاشا سے لے کر
34:48قریب زمانہ آخر تک
34:50جتنے بادشاہ اسلامی
34:52اور ان کے وزارہ ہوں گے
34:54رموز یعنی اشاروں کنائےوں میں
34:56سب کا مختصر ذکر فرمایا
34:59ان کے زمانے کے عظیم بقائے
35:01یعنی غیر معمولی واقعات
35:03کی طرف بھی اشارے فرما دئیے
35:05کسی بادشاہ سے اپنی اس تحریر میں
35:07برنرمی خطاب فرماتے ہیں
35:09اور کسی پر حالتِ غزب کا اظہار ہوتا ہے
35:12اس میں ختمِ سلطنتِ اسلامی کی نسبت
35:15لفظ عیقز فرمایا
35:17اور صاف تصریح فرمائی کہ
35:19یعنی میں عیقزِ حجریہ کے بارے میں نہیں کہتا
35:22بلکہ میری مراد
35:24عیقزِ جفریہ ہے
35:25میں نے اس عیقزِ جفریہ کو
35:28جو حساب کیا
35:29تو اٹھارہ سو سیتیس ہجری آتے ہیں
35:32اور انہی کے دوسرے کلام سے
35:33انیس سو ہجری
35:34ظہورِ امام میدی کے آخذ کیے ہیں
35:37کلامِ شیخِ اکبر سے
35:40لی ہے انیس سو ہجری
35:43کلامِ شیخِ اکبر سے
35:46لی ہے انیس سو ہجری
35:49کہ مہدی آئے گے احمد رضا بھی
35:54اس کے ناطق ہے
35:56کہ مہدی آئے گے احمد رضا بھی
36:00اس کے ناطق ہے
36:03شیخِ اکبر کے علم و کول پر
36:05مجددِ اکبر کا بھروسہ
36:07اور مجددِ اکبر کے بھروسے پر
36:09ہم رضا کے پیروکار
36:11تو ابھی شاید کہ
36:12چار سو سال
36:14اس امت نے مزید جینا ہے
36:15لہٰذا
36:16اپنے اپنے حصے کا کام کیے جائیں
36:19کہ دلی ہنوز دور است
36:20قربِ قیامت کی گھڑیاں ابھی دور ہیں
36:23اٹھ کے اب
36:24پس میں جہاں کا اور ہی انداز ہے
36:26مشرق و مغرب میں
36:27تیرے دور کا آغاز ہے
36:29دورِ پر فتن میں
36:31ہم نے اب اور کتنا جینا ہے
36:33اس فکر میں
36:34اپنی اولاد کی تربیت
36:36اور اولاد کو
36:37ان کی اولاد کی تربیت کرنے کی تربیت کرنا
36:40یہ فتنوں سے
36:41اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کے لیے
36:43کتنا ضروری عمل ہوگا
36:45مرکزِ تحقیق زیاءِ طیبہ
36:47یہاں یہ سوال
36:48آپ کے ضمیر کے لیے
36:49چھوڑ رہا ہے
Comments