00:00حضرت سعید بن عبی وقاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا
00:06ایسا بیمار کا مدنہ کے قریب آگیا
00:09رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری عیادت بیمار پرسی کے لئے تشریف لائے
00:15تو میں نے عرض کیا اللہ کے رسول میرے پاس بہت سارا مال ہے
00:20اور ایک بیٹی کے علاوہ میرا کوئی وارث نہیں
00:23تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کرتوں
00:26آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا نہیں
00:29میں نے کہا آتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں
00:34میں نے کہا تو ایک تہائی کر دوں
00:37آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں ایک تہائی
00:41حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے
00:43تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا
00:47انہیں محسطات چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے
00:50کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پلاتے پھریں
00:52حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
00:56کہ لوگ اکثر وسیعت کو ایک چتہی تک کم کر دیں
01:00تو مناسب ہے
01:01کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
01:05کہ ایک تہائی بھی زیادہ یا بڑا حصہ ہے
01:08حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
01:13کہ حضرت سعید بن عبادہ انساری رضی اللہ عنہ
01:18رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک نظر سے مطلق
01:22جو ان کی ماں کے ذمہ تھی
01:24مسئلہ پوچھا
01:25اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئی تھی
01:29تو آپ نے ان سے فرمایا
01:32اسے ان کی طرف سے
01:33تم پوری کر دو
Comments