00:00تاب کو اندر یندر بے حزاد شاہ پر شک ہونے لگتا ہے کہ انہوں نے پارس کو کہیں نہ کہیں
00:04ضرور چھپا رکھا ہے دوسری طرف بے حزاد شاہ اپنی بیٹی کی خوشیوں کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہوتے
00:09ہیں وہ سوچتے ہیں کہ کہیں وہ پارس کی زندگی کا غلط فیصلہ تو نہیں کر رہے تب ہی اگلے
00:14ہی دن وہ عزاز بخت کو کال کرتے ہیں اور کہتے ہیں عزاز میں چاہتا ہوں کہ زوار کی شادی
00:18پارس سے ہو میں اپنی بیٹی کو اداس نہیں دیکھ سکتا یہ سن کر عزاز بخت بھی فورا
00:22کہتے ہیں تم بلکل ٹھیک کہہ رہے ہو اگر پارس کو زوار نہ ملا تو وہ کبھی خوش نہیں رہ
00:26پائے گی جس کے بعد دونوں مل کر حارون کو ساری حقیقت بتاتے ہیں حارون بھی ان کی بات مان
00:30لیتا ہے اور کہتا ہے میں دو محبت کرنے والوں کے درمیان کبھی نہیں آؤں گا نکاح والے دن دولہ
00:35میں نہیں زوار ہوگا جس کے بعد نکاح کا دن آ جاتا ہے پارس اداس دل کے ساتھ دولہن بن
00:39کر ہال میں آتی ہے اسے لگتا ہے کہ آج اس کی زندگی کا سب سے مشکل دن ہے لیکن
00:43جیسے ہی وہ اپنے بر
00:44جابر میں زوار کو دولہے کے لباس میں دیکھتی ہے اس کے ہوش اڑ جاتے ہیں خوشی کے آنسو اس
00:49کی آنکھوں سے بہنے لگتے ہیں اور وہ فوراں زوار کو گلے لگا لیتی ہے پورا ہال تالیوں سے گوجھ
00:54اٹھتا ہے لیکن دوسری طرف آفتاب چپکے چپکے بے ہزاد شاہ کا پیچھا کرتے کرتے زوار کے قابلی گاؤں تک
01:00پہنچ جاتا ہے وہاں جا کر جب وہ دیکھتا ہے کہ زوار اور پارس کا نکاح ہو رہا ہے تو
01:04اس کا گصہ ساتھویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے وہ فور
01:07ہال میں گھستا ہے اور چلا کر کہتا ہے مامو آپ نے ہم سب سے جھوٹ بولا آپ نے کہا
01:11تھا پارس مر چکی ہے اتنا کہتے ہی وہ اپنی گن نکال کر زوار پر گولی چلا دیتا ہے لیکن
01:16تب ہی اچانک پارس زوار کے سامنے آ جاتی ہے اور گولی اس کے بازو پر لگ جاتی ہے پارس
01:20زخمی ہو کر زمین پر گر جاتی ہے یہ دیکھ کر سب کے ہوش اڑ جاتے ہیں آفتاب فوراں مہاں
01:24سے بھاگنے لگتا ہے زوار فوراں پارس کو اٹھاتا ہے اور سیدھا ہسپٹل لے جاتا ہے
01:29ڈاکٹر فوراں آپریشن شروع کر دیتے ہیں اور کچھ ہی دیر بعد گولی نکال دیتے ہیں ڈاکٹر باہر آ کر
01:33بتاتے ہیں فکڑ کی کوئی بات نہیں پارس اب خطرے سے باہر ہیں اسی دوران بے ہزاد شاہ زوار کو
01:38بتاتے ہیں میں نے پہلے ہی آفتاب کی گاڑی پر ٹریکر لگوا دیا تھا یہ سن کر زوار فوراں پولیس
01:42کے ساتھ اس کی لوکیشن پر نکل پڑتا ہے ادھر آفتاب سی سی ٹی وی میں پولیس کو دیکھ لیتا
01:46ہے اور اپنی گاڑی تیز
01:47رفتاری سے بھگاتا ہے لیکن کچھ ہی دور جا کر اس کی گاڑی کا بہت خوفناک ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے
01:52آفتاب موقع پر ہی دم توڑ دیتا ہے جب شیرین کو اپنے بیٹے کی موت کی خبر ملتی ہے تو
01:56وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پاتی وہ ذہنی طور پر ٹوٹ جاتی ہے بے ہزاد شاہ اس کا علاج
02:01کروانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اسے منٹل کیر سینٹر میں داخل کروا دیتے ہیں تاکہ اس کا علاج ہو
02:05سکے ادھر ہسپٹل میں پارس کو ہوش آتا ہے تو زوار اس کے پاس
02:08بیٹھ کر کہتا ہے تم نے میرے لیے اپنی جان کیوں داؤں پر لگا دی پارس مسکرا کر کہتی ہے
02:12آج میں نے صرف تمہارا احسان چکایا ہے تم ہر بار میری جان بچاتے رہے ہو اگلے ہی دن بے
02:16ہزاد شاہ دوبارہ مولوی صاحب کو بلاتے ہیں اس بار صرف زوار اور پارس کا ہی نہیں بلکہ حارون اور
02:21ریشم کا بھی نکاح ایک ساتھ پڑھایا جاتا ہے دونوں جوڑے خوشی خوشی قبول ہے کہہ دیتے ہیں اور پورا
02:26گھر خوشیوں سے بھر جاتا ہے کچھ دن بعد پارس
02:28محرک کے پاس جاتی ہے اور کہتی ہے آپ بابا کا ساتھ دے دیجئے وہ بہت تنہا ہو گئے ہیں
02:32گھر والوں کی رضا مندی سے محرک اور بے ہزاد شاہ بھی نکاح کر لیتے ہیں اور گھر کی خوشیاں
02:37دوبارہ لوٹ آتی ہیں اس کے بعد بے ہزاد شاہ زوار اور پارس کو ہنیمون کے لیے امریکہ بھیج دیتے
02:42ہیں دونوں وہاں اپنی نئی زندگی کا خوبصورت آغاز کرتے ہیں کچھ دن بعد اچانک پارس کی طبیعت خراب ہو
02:47جاتی ہے زوار فوراں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا
02:49ڈاکٹر مسکر آ کر کہتے ہیں مبارک ہو پارس ماں بننے والی ہیں یہ خبر سن کر زوار فوراں بے
02:54ہزاد شاہ کو کال کرتا ہے بے ہزاد شاہ خوشی سے کہتے ہیں بیٹا فوراں کراچی واپس آ جاؤ کچھی
02:58دن بعد سب کراچی واپس آ جاتے ہیں
Comments