Skip to playerSkip to main content
Hazrat Ibrahim (A.S.) Aur Namrood Ki Beti Ka Waqia_ Ek Sabak Amoz Kahani _ Noor TV
In this spiritually enriching video, Noor TV narrates the remarkable story of Namrood’s daughter and her encounter with Prophet Ibrahim (A.S.). This incident is not just a historical tale but also a lesson of faith, belief, and divine wisdom. It showcases the unwavering faith of Prophet Ibrahim (A.S.) and the contrasting arrogance of Namrood.
Key Highlights of the Video:
Who Was Namrood?: A brief background on King Namrood, his kingdom, and his defiance against Allah.
Namrood’s Daughter: An insight into her character and her significant role in this historical event.
Prophet Ibrahim (A.S.)’s Test of Faith: How he confronted Namrood’s arrogance and stood firm in his trust in Allah.
The Encounter: The powerful conversation between Namrood’s daughter and Prophet Ibrahim (A.S.) that revealed deep spiritual wisdom.
Lessons for Believers: Key takeaways from the story about faith, arrogance, and humility before Allah (SWT).
This video dives deep into the historical context, combining authentic Islamic references from Quran and Hadith to offer an inspiring story filled with moral and spiritual lessons.
Noor TV highlights the importance of unwavering faith, humility, and trust in Allah’s divine wisdom, which Prophet Ibrahim (A.S.) exemplified.
Watch this video to uncover the story of Namrood’s daughter, her interaction with Prophet Ibrahim (A.S.), and the profound lessons this event offers for every believer.
#NamroodKiBeti #ProphetIbrahimAS #NoorTV #StoryOfFaith #IslamicHistory #Qurani

Category

📚
Learning
Transcript
00:01witness the power
00:30وہ پہلا شخص تھا جس نے اپنے سر پر
00:31تاج رکھا تھا اور کھلم کھلا
00:33خدائی کا دعویٰ کیا تھا
00:35نمرود کے دور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام
00:37مابوس باریسالت ہوئے اور
00:39حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہی
00:41نمرود کے بتوں کو توڑا جس کی وجہ
00:44سے نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام
00:46کو آگ میں پھینکا جب آگ
00:48بحکم خدا حضرت ابراہیم علیہ السلام
00:50کے لئے گلزار بن گئی تو اس وقت
00:51چند گنے چونے لوگوں میں سے نمرود
00:53کی بیٹی بھی آپ پر ایمان لے آئی
00:55جب نمرود کو اس کی خبر ملی تو
00:57اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ کیا کیا اور
00:59نمرود کی آگ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام
01:02کے ساتھ کون سے باقیات پیش آئے
01:04یہ آگ کتنے عرصے میں تیار
01:05کی گئی خداوندہ متعال نے
01:07چھپکلی کو مارنے کا حکم کیوں دیا
01:09اور مینک کو مارنے سے
01:11منع کیوں فرمایا اس کے ساتھ ساتھ
01:13آپ کو نمرود کا انجام بھی بتائیں گے
01:16ویڈیو میں آگے چلنے سے پہلے
01:23سب سے پہلے ہمارے چینل کو سبسکرائب
01:26کر لیں ناظرین نمرود
01:27بڑے تن تنے کا بادشاہ تھا
01:29سب سے پہلے اس نے اپنے سر پر
01:32تاج شاہی رکھا اور خدای
01:33کا دعویٰ کیا یہ
01:35ولد الزنا تھا اور اس کی ماں نے
01:37زنا کرا لیا تھا جسے نمرود
01:39پیدا ہوا تھا سلطنت کا کوئی
01:41وارث پیدا نہ ہوگا تو بادشاہت
01:43ختم ہو جائے گی لیکن یہ لڑکا بڑا ہو کر
01:46بہت اقبال مند ہوا
01:47اور بہت بڑا بادشاہ بن گیا
01:49مشہور ہے کہ پوری دنیا کی بادشاہ
01:51ہی صرف چاری شخصوں کو ملی
01:53جن میں سے دو مومن تھے اور دو کافر
01:55حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت
01:57ذلقرنین تو صاحب ایمان تھے
01:59اور نمرود بخت نصر یہ دونوں
02:01کافر تھے نمرود نے اپنی سلطنت بھر
02:03میں یہ قانون نافذ کر دیا تھا کہ اس نے
02:05خوراک کی تمام چیزوں کو اپنی تحویل میں لے لیا
02:07تھا صرف انہی لوگوں کو خوراک کا سامان
02:09دیا کرتا تھا جو لوگ اس کی
02:11خدائی کو تسلیم کرتے تھے
02:13چنانچہ ایک مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام
02:15اس کے دربار میں غلہ لینے کے لئے تشریف لے گئے
02:17تو اس خبیش نے کہا کہ پہلے
02:19تم مجھ کو اپنا خدا تسلیم کرو
02:21تب ہی میں تم کو غلہ دوں گا
02:22حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھرے دربار میں
02:24علل اعلان فرما دیا کہ تُو جھوٹا ہے
02:27اور میں صرف اے خدا کا پرستار ہوں
02:29جو وادہو لا شریک اللہو ہے
02:31یہ سنکر نمرود اپنے آپے سے باہر ہو گیا
02:33اور آپ کو دربار سے باہر نکال دیا
02:35اور ایک دانہ بھی نہیں دیا
02:37آپ اور آپ کے چند مطابعین جو مومن تھے
02:40بھوک کی شدت سے پریشان ہو کر جہاں بلب ہو گئے
02:43اس وقت آپ ایک تھیلہ لے کر
02:44ایک ٹی لے کے پاس تشریف لے گئے
02:46اور تھیلے میں ریت بھر کر لائے
02:47اور خداوند قدوس سے دعا مانگی
02:49تو وہ ریت آٹا بن گئی
02:51اور آپ نے اس کو اپنے مطابعین کو کھلایا
02:53اور خود بکھایا
02:55پھر نمرود کی دشمنی ست تک بڑھ گئی
02:57کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈلوا دیا
02:58مگر وہ آگ آپ پر گلے گلزار بن گئی
03:01اور آپ سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر نکل آئے
03:04اور علل اعلان نمرود کو جھوٹا کہہ کر
03:06خدا وحدہ اللہ شریک کی توحید کا چرچہ کرنے لگے
03:10نمرود نے آپ کے کلمہ حق سے تنگ آ کر
03:12ایک دن آپ کو اپنے دربار میں بلایا
03:14اور مقالمہ بس صورت مناظرہ شروع کر دیا
03:17نمرود
03:18اے ابراہیم بتاؤ
03:19تمہارا رب کون ہے جس کی عبادت کی
03:21تم لوگوں کو دعوت دے رہے ہو
03:23حضرت ابراہیم
03:24اے نمرود میرا رب وہی ہے جو لوگوں کو جلاتا اور مارتا ہے
03:28نمرود یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں
03:30چنانچہ اس وقت نے دو قیدیوں کو
03:31جل خانہ سے دربار میں بلوایا
03:33ایک کو موت کے سزا ہو چکی تھی
03:35اور دوسرا رہا ہو چکا تھا
03:37نمرود نے فانسی پانے والے کو تو چھوڑ دیا
03:39اور بے قصور کو فانسی دے دی
03:41اور بولا کہ دیکھ لو جو مردہ تھا
03:43میں نے اس کو جلا دیا
03:44اور جو زندہ تھا میں نے اس کو مردہ کر دیا
03:47حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ
03:49نمرود بالکل ہی احمق اور نہائیت ہی
03:51گھامڑ آدمی ہے
03:52جو جلانے اور مارنے کا مطلب یہ سمجھ بیٹھا
03:55اس لئے آپ نے اس کے سامنے ایک دوسری بہت ہی واضح
03:58اور روشن دلیل پیش فرمائی
04:00چنانچہ آپ نے فرمایا
04:01اے نمرود میرا رب وہی ہے جو سورج کو
04:03مشرق سے نکالتا ہے
04:04اگر تو خدا ہے
04:06تو ایک دن سورج کو مغرب سے نکال دے
04:08حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دلیل سن کر
04:10نمرود مبہوت و حیران رہ گیا
04:12اور کچھ بھی نہ بول سکا
04:13اس طرح یہ مناظرہ ختم ہو گیا
04:15اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اس مناظرے میں
04:17فتح مند ہو کا دربار سے باہر تشریف لائے
04:20اور توحید الہی کا واز
04:21الال اعلان فرمانا شروع کر دیا
04:24قرآن مجید نے اس مناظرے کی روداد
04:26ان لفظوں میں بیان فرمائی
04:28کہ اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا
04:30اسے جو ابراہیم سے جھگڑا
04:32اس کے رب کے بارے میں
04:33اس پر کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی
04:35جبکہ ابراہیم نے کہا
04:37کہ میرا رب وہ ہے
04:38کہ جلاتا ہے اور مارتا ہے
04:41بولا میں جلاتا اور مارتا ہوں
04:42ابراہیم نے فرمایا
04:44تو اللہ تو سورج کو لاتا ہے پورپ سے
04:47تو پچھم سے لیا
04:48تو ہوش اڑ گئے کافر کے
04:50اور اللہ راہ نہیں دکھلاتا ظالموں کو
04:53حضرت ابراہیم علیہ السلام
04:55خداوند کی توحید کے اعلان پر پہاڑ کی طرح قائم رہے
04:58نہ کہ نمرود کی بے شمار فوجوں سے خائب ہوئے
05:00نہ اس کے ظلم و جبر سے مروح ہوئے
05:02بلکہ اس ظالم نے آپ کو آگ کے شولوں میں ڈلوا دیا
05:05اس وقت بھی آپ کے پائے عظم و استقلال میں
05:08بال برابر لغزش نہیں ہوئی
05:10اور آپ برابر نعرہ توحید بلند کرتے رہے
05:13پھر اس بے رحم نے آپ پر دانہ پانی بند کر دیا
05:15اس پر بھی آپ کے عظم و استقامت میں
05:17ذرہ برابر فرق نہیں آیا
05:19پھر اس نے آپ کو مناظرے کا چیلنج دیا
05:20اور دربار شاہی میں طلب کیا
05:22تاکہ شاہی روب و دعب دکھا کر
05:24آپ علیہ السلام کو مروح کر دے
05:25لیکن آپ نے بالکل بے خوف ہو کر
05:27مناظرے کا چیلنج قبول فرما لیا
05:29اور دربار شاہی میں پہنچ کر
05:31ایسی مضبوط اور دندان شکن دلیل پیش فرمائی
05:34کہ نمرود کے ہوش اٹھ گئے
05:35اور وہ حق کا بقہ ہو کر لا جواب اور خاموش ہو گیا
05:38اور بھرے دربار میں
05:40اس کلمہ حق کی تجلی ہو گئی
05:42بلاخر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صداقت
05:44اور حقانیت کا پرچم سر بلند ہو گیا
05:46اور نمرود ایک مچھر جیسی حقیر
05:48مخلوق سے ہلاک کر دیا گیا
05:50حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکنے کا واقع
05:53مفسرین نے اس طرح بیان کیا ہے
05:55کہ عید کے دن قوم کے لوگوں نے
05:57حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی
05:58شہر سے باہر میلے میں چلنے کی دعوت دی
06:00لیکن انہوں نے طبیعت کی خرابی کا کہہ کر
06:10ابراہیم علیہ السلام ایک کلھارہ لے کر
06:11بدخانے میں داخل ہوئے
06:12ان میں سکسر ان کے باپ آذر کے ہاتھوں سے تراشے ہوئے تھے
06:16حضرت ابراہیم علیہ السلام
06:18بڑے دیوتا کے حیکل میں چلے گئے
06:19قوم کا سب سے مقدس دیوتا
06:21باطل خداوں کا سردار مانا جاتا تھا
06:23حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا
06:25کہ وہاں موجود پتھر اور لکڑی سے
06:27بنائے گئے دیوتاؤں کے سامنے
06:29پھل، کھانوں اور مٹھائیوں کے خوان رکھے ہوئے تھے
06:32جو لوگوں نے چڑھاوے کے طور پر نظر کیے تھے
06:34حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
06:36ان مورتیوں کو مخاطب کر کے کہا
06:37یہ سب تمہارے لیے رکھا ہے
06:38تم کھاتے کیوں نہیں
06:39حضرت ابراہیم نے دوبارہ فرمایا
06:41میں تم سے مخاطب ہوں
06:42تم میری بات کیوں نہیں سنتے
06:43میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے
06:45حضرت ابراہیم علیہ السلام میں
06:47ہتوڑے سے ان کو توڑ دیا
06:48لیکن صرف ایک بت کو رہنے دیا
06:50اور اس بت کے کاندے پر کلھاڑا رکھ کر چلے گئے
06:52پھر رات گزرنے کے بعد
06:53صبح کو جب نمرودیوں کی واپسی ہوئی
06:55تو انہوں نے اپنے بت خانے میں
06:57حشر کا منظر دیکھا
06:57ان کے خداوں کی حشر نشر نے
06:59ان کے پیرو تلے زمین نکال دی
07:01اس واقعی کی قبر سب سے پہلے
07:02نمرود کو دی گئی
07:03نمرود نے کہا کہ جب کسی کو دیکھا نہیں گیا
07:05کیوں کر کسی کو سزا دی جا سکتی ہے
07:07اس پر ان لوگوں نے
07:08جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام
07:09کوئی کہتے بھی سنا تھا
07:10خدا کی قسم میں
07:11تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا
07:13نمرود سے کہا
07:14کی کام صرف ابراہیم کا ہے
07:16نمرود نے کہا
07:17کہ میں صرف تمہارے کہنے پر سزا نہ دوں گا
07:19ضرورت ہے کہ اس کو گرفتار کر کے
07:20سر عام لائے جائے
07:22چنانچہ
07:23اس نے ان کی گرفتاری کا حکم دے دیا
07:25اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گرفتار کر کے
07:27نمرود کے دربار میں حاضر کیا گیا
07:30دربار لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا
07:32حضرت ابراہیم علیہ السلام
07:34روب اور وقار کے ساتھ
07:35دربار میں داخل ہوئے
07:36اور شاہی پروٹوکول کو نظر انداز کرتے ہوئے
07:38نمرود کے سامنے جا کھڑے ہوئے
07:40قرآن کریم بھی اس حوالے سے فرمایا گیا
07:42ترجمہ
07:43کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ
07:45یہ سلوک کس نے کیا ہے
07:46بے شک
07:47وہ تو ظالموں میں سے ہے
07:49لوگوں نے کہا
07:50ہم نے ایک نوجوان کو
07:51ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے
07:53اس کا نام ابراہیم ہے
07:54وہ بولے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ
07:56تاکہ وہ گواہ رہیں
07:57جب ابراہیم علیہ السلام آئے
07:59تو ان سے کہا
07:59کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ
08:01یہ کام تو نے کیا ہے
08:02ابراہیم علیہ السلام نے کہا
08:04کہ یہ کام اس بڑے بتنے کیا ہوگا
08:05اگر یہ بولتے ہیں
08:07تو ان سے پوچھ لو
08:08وہ سر نیچہ کر کے بولے
08:09تم جانتے ہو کہ یہ بول نہیں سکتے
08:11سورہ انبیاء آیت اٹھا منتہ پینسٹھ
08:14حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ عمل
08:16جہاں صاحب اقتدار لوگوں
08:18اور خود نمرود پر بجلی بن کر گرا
08:20وہیں اس عمل سے
08:21عوام الناس کے دلوں میں
08:22حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جرت
08:23اور حوصلے کی داک بیٹھ گئی
08:26مذہب پیشواؤں نے
08:27پر روب آواز میں پوچھایا
08:28ابراہیم
08:29ہمارے بتوں کی توہین کس نے کی ہے
08:31حضرت ابراہیم نے جواب دیا
08:32ہاتھوڑا بڑے بت کے کاندے پر ہے
08:35اس سے پوچھو یہ سب کس نے کیا ہے
08:36پجارے ندامت و شرمندگی سے
08:38سر جھکا کے بولے
08:39ابراہیم تم خوب جانتے ہو
08:41کہ پتھر کی مورتیاں بولتی نہیں ہیں
08:43حضرت ابراہیم نے فرمایا
08:44جب یہ بولتے نہیں
08:45حرکت نہیں کر سکتے
08:46اپنا دفاع نہیں کر سکتے
08:47تو تم
08:48ان سے نفع پہنچانے کی امید کیوں رکھتے ہو
08:50اور نقصان ہونے کا اندیشہ کیوں کرتے ہو
08:52تم پر افسوس ہے
08:53کہ تم کائنات کے مالک
08:54اللہ کو چھوڑ کر
08:55جھوٹے معبودوں کو پوچھتے ہو
08:57کہ تم عقل و شعور نہیں رکھتے
08:59حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تقریر
09:01بت پرستوں کے عقائد پر
09:02ایسی کاری ضرب تھی
09:04کہ نمرود نے
09:05اپنی خود ساختہ خدائی کو
09:06زمین بوز ہوتے ہوئے دیکھ لیا
09:08نمرود چالا کا آدمی تھا
09:09اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا
09:11اے ابراہیم
09:11تو اپنے باپ دادا کے دین کے مخالفت کیوں کرتا ہے
09:14تُن مقدس بتوں کو
09:16معبود ماننے سے کیوں منکر ہے
09:17حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
09:20اللہ تعالی ساری کائنات کے تنہا مالک ہیں
09:22ہم سب اس کی مخلوق ہیں
09:24پتھروں لکنیوں سے بنائے ہوئے
09:26بودھ خدا نہیں
09:26یہ تو اپنی سلامتی اور حفاظت کے لیے بھی
09:28دوسروں کے محتاج ہیں
09:29پرستش کے لائق وہ ہستی ہے
09:31جو کسی قسم کی احتیاج نہیں رکھتی
09:34اور تمام مخلوق اس کی محتاج ہے
09:36یسر کر نمرود بولا
09:37اگر میرے علاوہ کوئی رب ہے
09:38تو اس کا ایسا وصف بیان کر
09:40جس کی قدرت مجمنا ہو
09:41حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
09:43میرا رب موت و حیات پر قادر ہے
09:45نمرود بولا
09:46زندگی اور موت تو میرے قبض قدرت میں بھی ہے
09:48اس نے ایک قیدی کو
09:49جس کی موت کی سزا کا حکم ہو چکا تھا
09:52جان بخشی کر دی
09:53اور دربار میں موجود ایک شخص کی
09:54گردن مارنے کا حکم صادر کر دیا
09:56حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود سے کہا
09:58کائنات کا ہر ذرہ میرے رب کا محتاج ہے
10:00سورج اس کے حکم سے ہر روز مشرق سے نکلتا ہے
10:03اور مغرب میں ڈوب جاتا ہے
10:05تو سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا
10:07مذہبی پیشوانوں اور بادشاہ کے
10:08عقائد کی تقزیب نے
10:10اہوان نمرود میں درانے ڈال دی
10:12اور باب اقتدار نے شور و غوغہ بلند کیا
10:14کہ ابراہیم ہمارے دیوتان کی توہین کا مرتقب ہوا ہے
10:16اور باب دادا کے مذہب کو جھٹلاتا ہے
10:18اس کی سزا یہ ہے کہ اسے آگ میں پھینک دیا جائے
10:21بتوں کو توڑنے کا عمل نمرود سمیت
10:23پوری قوم کے لئے ناقابل معافی جرم تھا
10:25لہذا فیصلہ کیا گیا
10:26کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا جائے
10:29تاکہ آئندہ کسی کو
10:30بتوں کی بے حرمتی کرنے کی ہمت نہ ہو
10:32چنانچہ پوری قوم لکڑیاں جمع کرنے کے عمل میں
10:35مصروف ہو گئی
10:36یہاں تک کہ اگر کوئی بیمار پڑ جاتا
10:38یا کسی کا کوئی کام نہ ہوتا
10:40تو وہ منت مانتا کہ اگر مجھے شفاہ ہو گئی
10:41یا میرا کام مکمل ہو گیا
10:43تو میں ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے
10:45لکڑیوں کا گٹھا دوں گا
10:46ایک مدت تک قوم لکڑیاں جمع کرتی رہی
10:49جب لکڑیوں کا پہاڑ کھڑا ہو گیا
10:51تو ایک بہت گہری خندق کھو دی گئی
10:53لکڑیوں کے اس ڈھیر کو اس میں ڈالا گیا
10:56عجائب القصائص
10:58عجائب القصائص
10:59علامہ عبدالواحد بن محمد البفتی
11:01صفحہ نمبر ست تاسی میں ہے
11:03کہ نمرود نے ان کو گرفتار کر کے
11:05کہ لوہے والے تندور میں بند کرا دیا
11:06اور اس میں بھرپور آگ جلوا دی
11:08کافی دیر کے بعد جب انہیں برامت کیا
11:10تو جیسے کہ وہ تیسے تھے
11:12یعنی ان کو کوئی گزن
11:14اس آگ سے نہ پہنچ جائی
11:15نمرود نے حکم دیا
11:16انہیں قید خانے میں بند کر دیا جائے
11:18ان کو ختم کرنے کا کوئی اور حل تلاش کیا جائے
11:20چنانچہ
11:21ایک روایت کی بنا پر چالیس دن
11:23اور ایک روایت کی بنا پر
11:24سات سال قید میں رکھا
11:26اور اس دوران انہیں نظرہاتش کرنے کا فیصلہ کیا
11:28باروایت مہاری جنبوت
11:30نمرود نے بامقام کوسہ
11:32جو کوفہ میں ہے
11:33ایک چار دیواری تیار کروائی
11:34جس کی لمبائی چار فرسخ
11:36اور چوڑائی چار فرسخ تھی
11:37اس کی بلندی سو گز تھی
11:39اور باروایت روزتالصفہ
11:41اس کی لمبائی ساٹھ گز
11:42چوڑائی چالیس گز
11:43اور بلندی بیس گز تھی
11:45جب چار دیواری مکمل ہو گئی
11:46تو اس نے حکم دیا
11:47کہ اسے اچھی جلنے والی لکڑیوں سے بھر دیا جائے
11:51چنانچہ اسے لکڑیوں سے پور کر دیا گیا
11:53ایک روایت میں
11:54کہ یہ چار دیواری
11:55ایک ماہ میں پور کی گئی
11:56اور چار طرف وہ جلنے لگی
11:57جب اس کی شولے بھڑکے
11:59تو انہوں نے میلوں یا عالم پیدا کر دیا
12:01کہ کوئی قریب نہ جا سکتا تھا
12:03کوئی پرندہ فضائے بالا تک
12:04اس پر سے گزر نہ سکتا تھا
12:06تبریم ہے کہ آگ کو بھڑکانے میں دو سال لگے تھے
12:09اس میں یہ بھی ہے
12:10کہ چار دیواری کے باہر بھی لکڑییں جمع کی گئی تھیں
12:12آگ تو روشن کر دی گئی
12:14لیکن اب کوئی راستہ ایسا نہ تھا
12:16کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا جا سکے
12:18کیونکہ قریب کوئی نہیں جا سکتا تھا
12:20لوگ اسی تردد اور مشورے میں تھے
12:22کہ شیطان نے انہیں منجنیگ بنانے کا مشورہ دیا
12:25اور بنانے کی ترقیب بتائی
12:26جب منجنیگ تیار ہو گئی
12:28تو اس نے اس میں پہلے ایک بڑا پتھر رکھ کر پھینکا
12:30جب تجربے نے بتا دے
12:32کہ منجنیگ ٹھیک بن گئی ہے
12:33اور کام ٹھیک کر رہی ہے
12:35تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہاتھ پاؤں باندے گئے
12:37اور گلے میں بھی توقع آہنڈ ڈالا گیا
12:39پھر منجنیگ میں بٹھا کر انہیں پھینکا گیا
12:41ایک روایت میں کہ جب ہاتھ پاؤں باندے گئے
12:43تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
12:44بارگہ قداوندی میں ہاتھ اٹھا کر کہا
12:47لا الہ الا انت سبحانکا
12:49رب العالمین لک الحمد و لک الملک
12:58حضرت امام بخاری رحمت اللہ علیہ
12:59حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا
13:04تو انہوں نے کہا
13:05حسب ان اللہ و نعم الوکیل
13:07ترجمہ
13:08ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے
13:10حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
13:13کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پرمایا
13:16کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا
13:18تو انہوں نے کہا
13:19اے میرے اللہ تو آسمان میں تنہا
13:21اور زمین میں تیری عبادت کرنے والا تنہا ہے
13:24ایک روایت میں کہ اسی دوران آسمان کے
13:26موزز فرشتے بارگاہ قداوندی میں حاضر ہو کر
13:29ارز کرنے لگے
13:30کہ مالک روح زمین پر
13:31ایک ابراہیم ہے جو تیری وحدانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں
13:34اب انہیں بھی نظر آتش کیا جا رہا ہے
13:37ہمارے مالک تو ان کو بچانے کیلئے ہم کو حکم دے
13:39حکم ہوا جاؤ
13:40اگر ابراہیم تمہاری مدد قبول کر لیں
13:42تو بے شک تم ان کی امداد کرو
13:44وہ فرشتے زمین پر نازل ہوئے
13:46اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں
13:48مدد کرنے کی خواہش کی
13:49حضرت ابراہیم علیہ السلام نے امداد قبول کرنے سے انکار کر دیا
13:52پھر وہ فرشتے آئے جو ہوا اور پانی پر متعین ہیں
13:55فرشتہ ہوا نے کہا کہ آپ کہیں
13:56تو ہم آندھی کے ذریعے اس آگ کو منتشر کر دیں
13:59آپ نے فرمایا میں موقع امتحان میں ہوں
14:01مجھے تمہاری امداد کی ضرورت نہیں ہے
14:03پھر پانی والا فرشتہ آگے بڑھا
14:05اور اس نے بھی کہا کہ اگر آپ کہیں
14:06تو پانی برسا کر آپ کو بجھا دوں
14:08ارشاد ہوا ضرورت نہیں ہے
14:10الغرض حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیک میں رکھ کر پھینکا گیا
14:13وہ ہوا میں الٹتے پلٹتے جا رہے تھے
14:15کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے بڑھ کر استقبال کیا
14:17اور ان سے ملاقات کر کے کہا
14:19ابراہیم تمہیں کوئی حاجت ہے
14:21فرمایا بے شک ہے لیکن تم سے نہیں
14:24پھر حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا
14:26کہ اچھا مالک ہی کی طرف رجوع کرو
14:28کہا سوال کی ضرورت نہیں
14:30ہمارے حال کا اسے علم ہونا ہی کافی ہے
14:32مختصر یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام
14:34بھڑکتے ہوئے شولوں میں پہنچے
14:35پھر نیچے کی طرف آگ کے درمیان وارد ہوئے
14:38فرمان باری طالع آگ کو پہنچ چکا تھا
14:41اے آگ سلامتی کے ساتھ ابراہیم کے لئے
14:43تھنڈی ہو جا آگ گلے گلزار بن گئی
14:46پھولوں کی کسرت ہو گئی
14:47صدیقہ بیان ہے کہ فرشتون حضرت ابراہیم علیہ السلام
14:49کو زمین پر بٹھا دیا
14:50ان کے بیٹھتے ہی ان کے قریب چشمہ جاری ہو گیا
14:53گلاب اور نرجس کے پھول کھل گئے
14:55ایک روایت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام
14:57جو ہی وہ ساتھ آگ میں پہنچے
14:58حضرت جبریل علیہ السلام نے فوراں
15:00بلول کا ایک تخت بچھا کر
15:02اس پر انہیں بٹھایا
15:03ان کے تخت پر بیٹھتے ہی چشمہ آب جاری ہوا
15:05اور گرد گرد پھولوں کے درخت نمائی ہو گئے
15:08ایک روایت میں کہ جلی ہوئی لکڑیوں کے باقی حصے کو
15:10جو جلنے سے رہ گیا تھا
15:12اسے حضرت جبریل علیہ السلام نے زمین میں نصب کر دیا
15:14اور اسے ہرے بھرے درخت پیدا ہو گئے
15:16جن میں تازے پھول لگے ہوئے تھے
15:18اسی دوران میں نمرود نے اپنے مینار پر جا کر
15:20ابراہیم علیہ السلام کی طرف جو نگاہ کی
15:23تو انہیں جنت نمہ گلزاریں بیٹھا ہوا دیکھا
15:25وہ سے خیال تھا کہ وہ جل بھن کر راک ہو گئے ہوں گے
15:27جب اس نے انہیں اس حال میں دیکھا
15:29تو بہت حیران ہوا
15:30اور اس کے دل میں خیال پیدا ہو گیا
15:32کہ آپ کوئی آگ نہیں جلا سکی
15:34اور آپ صحیح و سالم برامد ہوں گے
15:36تو لازم میرے لئے اور زیادہ مذر ثابت ہوں گے
15:39یہی کچھ سوچ کر
15:40اس نے اپنے کارکونوں کو حکم دیا
15:41کہ منجنی کے ذریعے سے
15:43ابراہیم پر پتھر پھینکے جائے
15:45چنانچہ بڑے بڑے پتھر اس راک میں پھینکے گئے
15:47وہ پتھر باریوایت اجائب القصص صفحہ نمبر 88
15:51ایک مقام پر ہوا میں جمع ہو گئے
15:53اور بحکم خدا
15:54بادلوں کی صورت اختیار کر کے برسنے لگے
15:56جس کے نتیجے میں
15:57اس حصے کے علاوہ جو گلزار بنا ہوا تھا
16:00جس قدر بھی آگ استویل چار دیواری میں تھی
16:02سب بوجھ گئی
16:03علامہ مسجد تحریر فرماتے ہیں
16:06کہ دنیا میں سب سے پہلے جو منجنیگ بنائے گئی تھی
16:08وہ وہی تھی جس میں رکھ کر
16:10حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا
16:12یہ منجنیگ مقام کوسہ میں
16:14جو کوفہ کی ایک گاؤں
16:16کنزارہ میں واقعہ شیطان کے ہاتھوں بنی تھی
16:18انہوں نے حیات القلوب کے صفحہ نمبر 90 میں تحریر فرمایا ہے
16:21کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
16:23جب ہاتھ پاؤں باندھ کر منجنیگ میں رکھا
16:25تو ان کے چچا آزر جو حکومت نمرود کا وزیر تھا
16:28حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا
16:30اور ان کے رخے مبارک پر ایک تماشا مار کر کہا
16:33اب بھی اپنے حرکت سے باز آجا
16:34اور نمرود کی خدائی کو تسلیم کر لے
16:36حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
16:38جو خدا ہے خدائی اسی کی تسلیم کی جائے گی
16:40اور اسی کی تسلیم شدہ ہے
16:42یہ نہ خدا ہے نہ اس کی خدای مانی جا سکتی ہے
16:46ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ تھنڈی ہوئی
16:49تو اس کا اثر تین دن تک دنیا کی تمام آگ پر رہا
16:52اور اس میں تھنڈک آ گئی تھی
16:55علماء فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ تھنڈی کے ساتھ
16:57سلامتی والی نہ کہتا
16:59تو اس آگ کی تھنڈک
17:00حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے ناقابل برداش ہوتی
17:03بہرحال یہ ایک بڑا موضع ہے
17:05جو آسمان سے باتیں کرتی ہوئی دہکتی بڑھکتی آگ کے
17:08گلے گلزار بن جانے کی صورت میں
17:10حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے
17:11اللہ کی مشریعت سے ظاہر ہوا
17:13اور اس طرح اللہ نے اپنے نبی کو
17:15مشرقین کی شیطانی سازشوں سے محفوظ فرمایا
17:18علامہ ابن کسیر قصص الانبیاء میں تحریر کرتے ہیں
17:21کہ ابن عباس رضی اللہ عنہم
17:23اور سعید بن مصیب سے مروی ہے
17:25کہ جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
17:26آگ کے سپورت کیا جا رہا تھا
17:28اس وقت بارش برسانے والا فرشتہ سخت استراب
17:30اور پریشانی کے عالم میں کہا رہا تھا
17:33کہ کب مجھے حکم ملے
17:34کہ میں موسلدھار بارش برساؤں
17:36لیکن اللہ کا حکم اس کی سوچ سے بھی زیادہ برقرفتار تھا
17:39اور اللہ نے خود ہی آگ کو حکم فرما دیا
17:41ان نازک لمحات میں
17:42حضرت جبیل علیہ السلام ان کے ساتھ تھے
17:44اور آپ علیہ السلام کی جبین اتھر
17:46پیشانی سے پسینہ پہنچ رہے تھے
17:47اس پسینے کے علاوہ کوئی اور تکلیف آپ کو نہیں پہنچی
17:50حضرت قاب بن احبار
17:52رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں
17:53کہ جس روز حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
17:55آتش نمروت کے سپورت کیا گیا
17:57اس روز آگ سے تپیش و گرمائش ختم کر دی گئی تھی
18:00جس کی بنا پر نہ لوگوں کے چولے گرم ہو سکے
18:02اور نہ ہی آگ سے کوئی کام لیا جا سکا
18:05حضرت قاب رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا
18:07کہ اس روز آگ نے
18:08حضرت ابراہیم علیہ السلام سے
18:09بندیوی رسی کے علاوہ
18:10کچھ اور نہ جلایا
18:11حضرت سعادی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں
18:14کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ
18:15سایہ کرنے والا فرشتہ بھی تھا
18:17اور ایک میل تک سایہ تھنڈک اور سلامتی تھی
18:19اور سرسبز باغ گلو گلزار بن گیا تھا
18:22جبکہ آس پاس آگ اپنے شولوں شراروں کے ساتھ
18:25بھڑک رہی تھی
18:26اور لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف دیکھ رہے تھے
18:28سبحان اللہ
18:29حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
18:32کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کے کہہ ہوئے کلمات میں
18:35سب سچے کلمات وہ ہیں
18:37جو آزر نے اپنے بیٹے کو
18:38آگ کے اندر اس حالت میں دیکھتے ہوئے کہے
18:40جس کا ترجمہ ہے
18:41اے ابراہیم تیرا پروردگار
18:43بہترین پروردگار ہے
18:45ابن عساکر رحمت اللہ علیہ
18:46حضرت اکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں
18:49کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے
18:50جب اپنے لخت جگر کو گلو گلزار میں
18:52یوں مطمئن دیکھا تو پکارا
18:54اے میرے بیٹے میں بھی تیرے پاس آنا چاہتی ہوں
18:57اللہ سے دعا کر
18:58کہ تیرے ارد گرد کے آگ کی حرارت سے
19:00مجھے نجات دے
19:01تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ارس کیا
19:03جی اممہ پھر آپ کی والدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب چلیں
19:06اور آگ نے انہیں کچھ نہ کہا
19:08پھر بیٹے کے پاس پہنچ کر بیٹے کو گلے لگایا
19:10اور بوسہ دے کر واپس لوٹ آئیں
19:12حضرت منحال بن عمرو سے مروی ہے
19:14فرماتے ہیں کہ مجھے قبر پہنچی
19:16کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں گلو گلزار میں
19:18چالی سے پچا دن ٹھہرے
19:20انہوں نے فرمایا کہ
19:21دنوں اور راتوں میں میں نے
19:23اس سے اچھی زندگی نہیں گزاری
19:24اور میری تمنا رہی کہ میری تمام زندگی
19:26اسی طرح کی ہو جائے
19:28کفار و مشرقین حضرت ابراہیم علیہ السلام سے انتقام لینا چاہتے تھے
19:31مگر زلیل و رسوہ ہو گئے
19:33بلند ہونا چاہا لیکن پست و خار ہو گئے
19:35غالب ہونا چاہا مگر مغلوب ہو گئے
19:38قصص الانبیاء
19:39علامہ ابن کسیر
19:40صفحہ 168-179
19:43شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ
19:46حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عشق حقیقی کو
19:47بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے
19:49فرماتے ہیں
19:50بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
19:53عقل ہے مہوے تماشائے لبے بام بھی
19:57حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکے جانے کا
19:59واقعہ اور اس میں چھپکلی کا کردار
20:01جس کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں
20:03مورخین نے لکھا ہے کہ جب
20:05نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
20:06اللہ رب العزت کی وحدانیت کی دعوت دینے پر
20:09آگ میں ڈالنے کا حکم دیا تو اس وقت
20:11یہ واقعہ قرعہ عرض کا ایک کربناک
20:13سانحہ تھا جس کا ذکر انسانوں کے
20:15علاوہ چرند پر جن و ان سب کے درمیان
20:17ہوا اس موقع پر ایک روایت کے
20:19مطابق جب چونٹی اور چھپکلی کے درمیان
20:21اس واقعہ کا ذکر ہوا تو چونٹی نے
20:23حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حمایت کی جبکہ
20:25چھپکلی نے نمرود کی طرف داری کی تھی
20:27ایک اور روایت کے مطابق جب
20:29حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا گیا
20:31اس موقع پر چھوٹے پرندے بھی اپنی
20:33استطاعت کے مطابق اپنی چونچ میں پانی
20:35بھر کوئی سا آگ میں ڈال رہے تھے
20:36تاکہ یہ آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام
20:38کے لئے تھنڈی ہو سکے
20:39اسی موقع پر یہی چھپکلی تھی
20:41جس آگ کو اپنی پھونکوں سے
20:43مزید بڑھگانے کی کوشش کر رہی تھی
20:45ایک اور روایت کے مطابق ایک بار
20:47ایک صحابی فقی بن مغیرہ
20:49رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ
20:50ایک غلام عورت جب بی بی آئیشہ
20:52رضی اللہ عنہ کے گھر گئی
20:54تو انہوں نے وہاں ایک نیزہ پڑھا ہوا دیکھا
20:56انہوں نے بی بی آئیشہ رضی اللہ عنہ سے
20:58دریافت کیا کہ اس کا کیا مقصد ہے
21:00تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ چھپکلی کو
21:02ماننے کے لئے ہے
21:03کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:06نے بتایا ہے
21:07کہ جب سارے جانور ست ابراہیم علیہ السلام
21:09کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے
21:10تب یہ چھپکلی واحد جانور تھی
21:12جس نے آپ کو بھڑکانے کی کوشش کی تھی
21:15حضرت فاقیہ بن مغیرہ کے آزاد کردہ
21:17لونڈی صاحبہ سے روایت ہے
21:19کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس
21:21ایک نیزہ ہوا کرتا تھا
21:22میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس سے کیا کاب لیتی ہیں
21:25فرمایا کہ ہم اس سے چھپکلیاں مارتے ہیں
21:27کیونکہ ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:30نے بتایا ہے
21:31کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا
21:33تو زمین کے سب جانور آگ بجھانے میں مصروف تھے
21:36سوائے چھپکلی کے
21:37وہ آگ کو تیز کرنے کے لیے پھونکے مارتی تھی
21:40چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:42نے اس سے مارنے کا حکم دیا ہے
21:44سنن نبی ماجہ حدیث نمبر 3231
21:47سنن مسند احمد حدیث نمبر 6504
21:51ناظرین حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا
21:53تو آپ علیہ السلام کی عمر
21:55سولہ یا بیس سال تھی
21:57آپ علیہ السلام کتنی مدت تک آگ میں رہے
21:59اس سلسلے میں تین اقوال ہیں
22:01بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آپ سات دن تک آگ میں رہے
22:03مورخین کا بیانے کے آتش نمروت کے گلزار بننے کے واقعات
22:07اور اس کے دیگر حالات دیکھ کر
22:08حضرت لوت علیہ السلام اور جناب سارا نے ایمان ظاہر کیا
22:12اور نمروت کی بیٹی رازہ بھی ایمان لائی
22:15حضرت لوت علیہ السلام
22:16حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچزاد بھائی تھے
22:18اور جناب سارا چچزاد بہن تھی
22:20نمروت کی بیٹی کی ایمان لانے کے متعلق
22:29اس نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے کو دیکھا
22:34تو بڑے سرار سے اپنے والد کو اس بات پر راضی کیا
22:37کہ اسے اس مینار پر جانے کی اجازت دی جائے
22:39جس پر سب لوگ بیٹھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھ رہے ہیں
22:42چنانچہ نمروت نے اجازت دے دی اور وہ اس مینار پر جا پہنچی
22:45وہاں پہنچ کر اس نے حالات دیکھے
22:47اسے یہ دیکھ کر بڑا تاجب ہوا کہ آگ گلے گلزار بن گئی
22:50اور بلور کا تخت ان کے لئے لائے گیا ہے
22:52اس نے بے ساختہ آواز دی
22:54اے ابراہیم میں یہ کیا دیکھ رہی ہوں
22:56اے ابراہیم یہ حالات کیوں کر پیدا ہوئے
22:58خدا نے اس کی آواز حضرت ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا دی
23:00حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا
23:02جس کے دل میں اللہ کی معرفت ہو اسے آگ جلا نہیں سکتی
23:06اس نے کہا کہ کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آگ میں آپ تک آ جاؤں
23:09آپ نے فرمایا تو کلمہ پڑھ لے تو ہمارے پاس آ سکتی ہے
23:13اس نے کلمہ پڑھا اور چھپ کے ستر کر
23:15حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جا پہنچی
23:17جب آگ کے قریب پہنچی
23:19اسے آگ کے کسی حصے نہ نقصان نہ پہنچایا
23:21اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تک جا پہنچی
23:24وہاں پہنچ کر اس نے اپنے ایمان کی تجدید کی
23:26اور واپس اپنے گھر باپ کے پاس چلی گئی
23:29نمرود کو جب اپنی بیٹی کے ایمان لانے کا واقعہ معلوم ہوا
23:32تو وہ آگ بگولہ ہو گیا
23:33اور اپنی بیٹی سے کہنے لگا کہ توبہ کر
23:35اس نے انکار کیا
23:36پھر اس نے زد کی اور ڈرائیا
23:38مگر اس نے پروانہ کی
23:40نمرود جب اسے سمجھانے سے آجز ہو گیا
23:41تو اس نے اپنی بیٹی کو جلادوں کے حوالے کر دیا
23:44جلادوں نے اسے دھوپ میں لٹا کر
23:45اس کے ہاتھ اور پاؤں میں مخیں ٹھوک دی
23:47ادھر جلادوں نے اسے سزا دی
23:49ادھر خداوند تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا
23:52کہ میری کنیز کو وہاں سے تندرست کر کے
23:54ابراہیم تک پہنچا دو
23:55یہ واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے
23:57آگ سے نکلنے کے بعد کا ہے
23:59حضرت جبریل علیہ السلام نے نمرود کی بیٹی رازہ کو
24:01حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا دیا
24:04چنانچہ وہ انہی کے پاس رہی
24:05بلاخر انہوں نے اس کی شادی اپنے ایک فرزن
24:08مدین کے ساتھ کر دی
24:09جو کہ سارا و حاجرہ کے علاوہ
24:12قطورہ بیوی سے تھا
24:13پھر خدا نے اسے یہ زد دی
24:15کہ اس کے سلسلہ رحم میں
24:16بہت سے انبیاء کو پیدا کیا
24:17بشک یہ دین اسلام کا حسن ہے
24:19کہ جو بھی اس کی آگوش میں آ گیا
24:21اس کی دنیا اور آخرت دونوں سبر گئیں
24:23حضرت ابراہیم علیہ السلام کے
24:25اسوائے حسنہ سے علماء حق کو سبق لینا چاہیے
24:28کہ باطل پرستوں کے مقابلے میں
24:30ہر قسم کے خوف و حراس
24:32اور تکالیف سے بے نیاز ہو کر
24:34آخری دم تک ڈٹے رہنا چاہیے
24:36اور یہ ایمان و یقین رکھنا چاہیے
24:38کہ ضرور نصرت خدا مندی
24:40ہماری امداد و دستگیری فرمائے گی
24:43اور بلاخر باطل پرستوں کے
24:45مقابلے میں ہم ہی فتح مند ہوں گے
24:47اور باطل پرست یقیناً
24:48خائب و خاصر ہو کر حلاق و برباد
24:51ہو جائیں گے
24:51حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ طرز فکر و عمل
24:54آپ کا یہ اسواء تمام حق پرست
24:56عالموں کے لیے چراغراہ ہے
24:58اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کے اسوائے حسنہ پر
25:00عمل کرنے والے ضرور ضرور
25:03کامیابی سے ہم کنار ہوں گے
25:05ناظرین یہ تھی ہماری آج کی ویڈیو
25:06ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ہماری
25:08آج کی یہ ویڈیو ضرور پسند آئی ہوگی
25:10اگر آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہے
25:12تو آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ ہمارے چینل کو
25:14ضرور سبسکرائب کر لیں
25:17اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو بھی پریس کر لیں
25:19تاکہ آپ کے پاس ہماری آنے والی
25:21مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹفیکشن
25:23بروقت ملتا رہے
25:24سبسکرائب کے ساتھ ہماری ویڈیوز کو لائک بھی کریں
25:26اور اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں
25:29کمنٹس میں آپ اپنے سوالات بھی ہم تک پہنچا سکتے ہیں
25:32اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے حفظ و مان میں رکھے
25:34آمین
Comments

Recommended