Skip to playerSkip to main content
Shadow of Shirk in Makkah _ Madinah_ A Major Sign of Qiyamat_ _ Noor TV
In this compelling video, Noor TV explores the alarming possibility of shirk (polytheism) spreading to Makkah and Madinah, the two holiest cities in Islam. This occurrence, foretold as a major sign of Qiyamat (Judgment Day), raises significant concerns about the spiritual state of the Ummah. Could the shadow of shirk in these sacred places indicate the fulfillment of an End Times prophecy?
Key points discussed include:
The Sanctity of Makkah and Madinah: Why these cities are central to Islamic faith and their protection from evil.
Shirk and Its Definition: Understanding what constitutes shirk and its grave consequences in Islam.
Prophecies About Shirk in the End Times: Quranic verses and Hadiths highlighting the role of shirk as a sign of Qiyamat.
Current Global Trends: Reflections on how modern actions and ideologies could lead to shirk in sacred places.
Lessons for Muslims: The importance of guarding one’s faith and working collectively to prevent shirk from taking root.
Noor TV provides a balanced and thought-provoking discussion, encouraging viewers to reflect on their role in preserving the purity of Islam’s teachings and ensuring the sanctity of Makkah and Madinah.
Watch this video to understand the shadow of shirk over Makkah and Madinah, its implications for the Muslim Ummah, and the steps needed to safeguard our faith.
#MakkahAurMadinah #ShirkKaSaya #QiyamatKiNishani #NoorTV #SignsOfJudgmentDay #IslamicTeachings #EndTimesInIslam #PreserveFaith #QuranAurHadith #MakkahMadinahAurIslam

Category

📚
Learning
Transcript
00:28BADSHAYA
00:33یہ کہانی کسی افسانے کی نہیں
00:35بلکہ تاریخ کے اس باپ کی ہے
00:37جو انسانیت کو صدیوں سے ایک ہی سچ یاد دلاتا آیا ہے
00:41کہ تکبر کی ہر امارت خواہ وہ کتنی بلند کیوں نہ ہو
00:45بلاخر ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے
00:47آج ہم آپ کو سناتے ہیں
00:49دنیا کے پہلے اور سب سے بڑے مغرور بادشاہ کی داستان
00:53جس نے زمین پر حکمرانی کرتے کرتے آسمان والوں کو چیلنج کر دیا
00:56یہ کہانی ہے نمرود کی
00:58اور اس کے مقابل کھڑے ہونے والے
01:00اس عظیم پیغمبر کی جس کا ایمان آگ کے شولوں سے بھی زیادہ روشن ثابت ہوا
01:05یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی
01:08اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک انسان کا غرور
01:10اسے کس انجام تک پہنچا سکتا ہے
01:13اور کس طرح ایک سچے دل کا یقین
01:16سب سے بڑی طاقتوں کو بھی زیر کر دیتا ہے
01:18تو اس ویڈیو کو آخر تک دیکھیں
01:20کیونکہ اس کے آخری حصے میں وہ راز بھی کھلے گا
01:23جو آج بھی ہمارے ارد گرد موجود ہے
01:25بات اس وقت کی ہے جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی
01:28جودی پہاڑ پر ٹھہری
01:29اور توفان کی ہولناک تباہی کے بعد
01:32انسانیت نے دوبارہ سانس لینا شروع کیا
01:34زمین ویران تھی لوگ کم تھے
01:36اور ہر طرف خوف اور بے یقینی کا راج تھا
01:39حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے
01:41سام، ہام اور یافس
01:43انہی سے دنیا کی نئی نسلیں پھیلی
01:45نمرود کا تعلق ہام کی اولاد سے تھا
01:47وہ کنان کا بیٹا
01:49اور حضرت نوح علیہ السلام کا پڑھ پوتا تھا
01:51اس دور میں سرزمین شنار
01:53جو آج کے عراق کے علاقے میں واقع تھی
01:55انسانی تہذیب کی ابتدائی منزلوں میں سے تھی
01:58نہ باقاعدہ شہر تھے
01:59نہ تحریری قوانین
02:00لوگ قبالی طرز زندگی گزارتے
02:03مویشی پالتے اور دریاؤں کے کنارے بستیاں بناتے
02:05ایسے میں ایک بچہ پیدا ہوا
02:07جو باقی بچوں سے یکسر مختلف تھا
02:10روایات بتاتی ہیں کہ نمرود
02:18مگر اس کے اندر ایک ایسی بھوک تھی
02:19جو کبھی سیڈ نہ ہوئی
02:20یہ بھوک شکار کی نہیں تھی
02:22یہ بھوک اقتدار کی تھی
02:24لوگوں پر حکم رانی کی اور بالاخر خود کو
02:27دنیا کا مالک سمجھنے کی
02:29نمرود کی اصل قوت تلوار نہیں
02:31بلکہ اس کا ذہن تھا
02:32اس نے دیکھا کہ لوگ بھوک اور خوف کے بارے بکھرے ہوئے ہیں
02:35کوئی مرکزی نظام نہیں
02:36کوئی ایک قوت نہیں جو سب کو اپنے زیر اثر لاسکے
02:39چنانچہ اس نے تاریخ میں پہلی بار
02:41ایک مرکزی اقتدار کا تصور پیش کیا
02:43اس نے بڑے بڑے شہر تعمیر کروائے
02:45جن میں بابل اوروک
02:47اکد اور کلناہ جیسے
02:49مشہور مراکس شامل تھے
02:50یہ محض اینٹوں اور مٹی کے ڈھانچے نہیں تھے
02:52بلکہ اس کی سلطنت کے ستون تھے
02:54اس نے نہایت مکاری سے اناش پر بھی
02:56اپنی گرفت مضبوط کی
02:57بڑے بڑے غلے کے گودام بنائے
02:59اور یہ قانون نافذ کیا گیا
03:01کہ کوئی کسان یہ چروہا
03:02براہ راست اپنی پیدوار فروخت نہیں کر سکتا
03:05بلکہ سب کچھ نمرود کے خزانوں میں جمع ہوگا
03:08جب لوگ بھوک سے بے قرار ہوتے
03:10تو مجبوراً اس کے دربار میں حاضر ہوتے
03:12اور یہی سے اس نے محصول
03:13اور خراج کا ایسا نظام قائم کیا
03:16جس کے ذریعے وہ لوگوں سے ان کی آزادی
03:18ان کی جانے اور ان کی نسلیں تک
03:20اپنی ملکیت قرار دینے لگا
03:22وہ کہتا ہے میں تمہیں روزی دیتا ہوں
03:24میں تمہیں دشمنوں سے بچاتا ہوں
03:26لہذا تمہارا مال تمہاری اولاد
03:28اور تمہاری جان میری ملکیت ہے
03:30یہ دنیا کی وہ واحد حکومت تھی
03:31جہاں انسان انسان کا غلام بن چکا تھا
03:34مگر یہ تو صرف ابتدا تھی
03:36اصل کہانی تو ابھی شروع ہونے والی تھی
03:38اور جو منظر آگے آنے والا تھا
03:39اس نے پوری انسانی تاریخ کا رخ ہی بدل دیا تھا
03:42جب طاقت کا نشہ حد سے بڑھتا ہے
03:44تو انسان اپنی اصل طاقت بھول جاتا ہے
03:46نمرود نے جب دیکھا
03:56اس نے کہا کہ زمین پر رزق میں دیتا ہوں
03:58موت اور زندگی کا فیصلہ میں کرتا ہوں
04:01تو پھر مجھ سے اوپر کون سا خدا ہے
04:03اس نے اپنے لیے بڑے بڑے محلات
04:05اور بدخانے تعمیر کروائے
04:06لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ اس کے نام کا ذکر کریں
04:09اور اسے سجدہ کریں
04:10اس نے اپنے ذہن میں ایک ایسی خیالی جنت بنا لی تھی
04:13جہاں وہ تنہا مالک اور معبود تھا
04:15مگر اس کے دل کے گہرائیوں میں
04:17ایک خوف بھی چپا ہوا تھا
04:18آسمانوں کا خوف
04:20اسے ڈر تھا کہ کہیں دوبارہ توفان نوح
04:22جیسی کوئی آفت نہ آ جائے
04:23جو اس کی ساری سلطنت کو نیست و نابود کرتے
04:26اسی خوف اور غرور کے امتزاج
04:28نے اس کے ذہن میں کجیب خیال پیدا کیا
04:30اس نے اپنے وزیروں اور درباریوں کو بلایا
04:33اور حکم دیا کہ ایک ایسا بلند مینار تعمیر کرو
04:35جو بادلوں کو چیر کر آسمانوں تک پہنچ جائے
04:38میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آسمان کا خدا کہاں ہے
04:41یہ ذرا سوچیں کہ ایک انسان کا تقبر
04:43کس حد تک بلند ہو سکتا ہے
04:44سرزمین شنار پر ایک ایسا دھانچہ تعمیر ہونے لگا
04:47جو فطرت کے اصولوں کو چیلنج کر رہا تھا
04:49یہ مینار بابل تھا
04:51ایک ایسی امارہ جو صرف
04:52مٹی اور پتھروں سے نہیں بلکہ نمرود کے خوف
04:55اور غرور سے تعمیر ہوئی تھی
04:56تاریخ دانوں اور اسلامی علماء کے مطابق
04:59مینار بابل اپنے دور کا ایک علمی
05:02اور تعمیراتی حیرت انگیز نمونہ تھا
05:11تھا کہ آگ میں پکی ہوئی ایٹوں کا
05:12بڑے پیمانے پر استعمال ہوا
05:14اس نے کہا آگ کو اور تیز کرو
05:16یہ ایٹیں پہاڑ سے بھی زیادہ سخت ہونی چاہیے
05:19ان ایٹوں کو جوڑنے کے لیے
05:21مٹی کے بجے قیر یعنی سیاہ
05:23چپکنے والا مادہ استعمال کیا گیا
05:25تاکہ یہ امارت توفان اور پانی کا
05:27مقابلہ کر سکے
05:28اس مینار کی بلندی کے بارے میں
05:29مختلف روایات ملتی ہیں
05:31مگر کہا جاتا ہے کہ یہ ہزاروں ہاتھ تک بلند تھا
05:34اتنا بلند کہ بادل اور موسم کے مناظر
05:36اس کے درمیان نظر آتے تھے
05:38مگر سوال یہ ہے کہ جو مینار انسان کو
05:40اپنے رب کو چیلنج دینے کے لیے بنایا تھا
05:43کیا وہ واقعی آسمانوں تک پہنچ سکا
05:45اور جب اس کی تکمیل ہوئی
05:47تو نمرود نے آگے کیا کیا
05:48یہ جان کر آپ کے رونگ ٹکھڑے ہو جائیں گے
05:50نمرود کا مقصد واضح تھا
05:52کہ اگر آسمانوں میں کوئی عذاب آئے
05:54تو اس سے بھی اونچا کھڑا ہو
05:55یہ گویا الہی فیصلے کا مزاق اڑا نہ تھا
05:58اس نے ہزاروں مزدوروں کو اسی کام میں لگا دیا
06:00جو گرتا وہ مر جاتا
06:02مگر کام رکنے نہ دیا گیا
06:03جب مینار مکمل ہوا
06:05تو نمرود کے اندر کا انسانیت سے خالی غرور
06:08اپنے عروض پر پہنچ گیا
06:09اس نے دربار سجایا
06:11اور اعلان کیا کہ میں نے زمین کو فتح کر دیا ہے
06:13اب آسمان کی باری ہے
06:15روایات میں آتا ہے
06:16کہ اس نے آسمان کی طرف تیر چلایا
06:18اور اللہ کے حکم سے وہ تیر خون آلود ہو کر واپس آیا
06:22نمرود نے لوگوں کو دکھا کر کہا
06:24دیکھو میں نے آسمان کے رب کو زخمی کر دیا ہے
06:26ماذا اللہ
06:27یہی وہ لمحہ تھا
06:28جب شرک اور بت پرستی کو نئی زندگی ملی
06:31اس نے اپنے نام کے بت بنوائے
06:33اور حکم دیا کہ ہر شخص اسے سجدہ کرے
06:35جو مانتا اسے رسک ملتا
06:37اور جو انکار کرتا وہ بھوکا رہتا
06:39پوری سلطنت میں نمرود کا نام گونج رہا تھا
06:42مگر زمین کے گہرائیوں میں
06:43ایک نئی تبدیلی جنم لے چکی تھی
06:45اس کی خدائی کے دعوے کو پہلا زبردست جھٹکا
06:48اس وقت لگا جب اس نے ایک خوفنا خواب دیکھا
06:50اس نے دیکھا کہ آسمان سے
06:52ایک ستارہ نکلا جس کی روشنی نے
06:54سورج اور چاند کو ماند کر دیا
06:56جب اس نے اپنے نجومیوں اور جادوگروں کو بلائیا
06:58تو وہ خوف سے کانپ گئے
07:00اور بولے
07:00اے بادشاہ یہ ستارہ تیری سلطنت کے زوال کا پیغام لائیا ہے
07:04اور اس سال ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا
07:06جو تیری جھوٹی خدائی کو مٹا دے گا
07:08نمرود خوف سے بے قابو ہو گیا
07:10اس نے وہی فیصلہ کیا
07:11جو بعد میں فیرون نے بھی کیا
07:13اس نے حکم دیا کہ اس سال پیدا ہونے والے
07:15ہر لڑکی کو قتل کر دیا جائے
07:17کوئی بھی بچ کر نہ نکل سکے
07:18ماں کی چیخیں بابل کی گھلیوں میں گونجنے لگیں
07:21نمرود نے یہ سمجھا
07:22کہ اس نے موت کو شکر دے دی ہے
07:24مگر وہ اس حقیقت کو بھول گیا
07:26کہ جسے اللہ بچانا چاہے
07:27اسے پوری دنیا مل کر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی
07:30اس کے سپاہی گلی گلی قتل و غارت میں مشغول تھے
07:33مگر ایک ماں نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے
07:35شہر سے دور ایک غار کا رخ کیا
07:37اور وہیں اس عظیم نبی کی ولادت ہوئی
07:40جسے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے جانتے ہیں
07:43وہ بچہ جو نمرود کے تکبر کو خاک میں ملانے والا تھا
07:46نمرود کو خبر ہی نہ تھی
07:48کہ جس بچے کو مٹانے کے لیے
07:49اس نے ہزاروں ماسوم جانے قربان کر دی تھی
07:51وہی بچہ ایک دن اس کے پورے تخت و تاج کو خاک میں ملا دے گا
07:55وقت گزرنے کے ساتھ
07:57جب حضرت ابراہیم علیہ السلام جوان ہوئے
07:59تو انہوں نے ستاروں کو دیکھا
08:00چاند کو دیکھا
08:01سورج کو دیکھا
08:02اور ہر بار یہی کہا کہ یہ میرا رب نہیں ہو سکتا
08:05کیونکہ یہ سب غروب ہو جاتے ہیں
08:06اور جو غروب ہو جائے
08:07وہ کیسے رب ہو سکتا ہے
08:09یہاں تک کہ انہوں نے
08:10اس واحد اللہ شریک اللہ کو پہچان دیا
08:12جس کا نمرود انکار کرتا تھا
08:14اب وہ وقت آ گیا تھا
08:16جب دنیا کا سب سے بڑا ظالم
08:17اور سب سے بڑا مومن
08:19آمنے سامنے ہونے والے تھے
08:20منظر بابل کے شاہی دربار کا تھا
08:22جہاں سونے چاندی کی چمک
08:24اور طاقت کے نشے میں ڈوبے ہوئے
08:26وزیر و مشیر بیٹھے تھے
08:27ایک طرف نمرود کا غرور تھا
08:29اور دوسری طرف
08:30حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سچائی
08:32دربار میں سناٹہ تھا
08:34نمرود نے تکبر میں پوچھا
08:36تم کس کے رب کی بات کرتے ہو
08:38میرے سوا تمہارا رب کون ہے
08:39حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
08:41پرسکون لہجے میں جواب دیا
08:42کہ میرا رب وہ ہے
08:43جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے
08:45نمرود نے مزاک اڑاتے ہوئے
08:47دو قیدی بلوائے
08:48ایک کو قتل کر دیا
08:49اور دوسرے کو آزاد کر دیا
08:51اور کہا دیکھو
08:52میں بھی زندگی دیتا ہوں
08:54اور موت دیتا ہوں
08:55وہ سمجھ گیا کہ وہ جیت گیا ہے
08:57مگر اسے یہ اندازہ نہ تھا
08:59کہ ابھی جو سوال
09:00حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے نکلنے والا ہے
09:02وہ اس کے پورے دربار کو ساکت کر دے گا
09:04اور اس کے پاس کوئی جواب باقی نہیں رہے گا
09:07مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وہ سوال کیا
09:09جس نے پورے دربار کو سناٹے میں ڈال دیا
09:12انہوں نے فرمایا کہ
09:13اگر میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے
09:15تو تم اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ
09:17بے شک
09:18اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے
09:20اگر تو سچا معبود ہے
09:21تو اسے مغرب سے نکال کر دکھا
09:23دربار میں ایسی خاموشی چھا گئی
09:25کہ پرندوں کی پرواز کی آواز بھی سنائے دینے لگی
09:29نمرود گونگا ہو کر رہ گیا
09:30اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا
09:32مشرق سے مغرب
09:34یہ اس کے اختیار میں نہ تھا
09:35وہ جو خود کو آسمانوں کا رب کہتا تھا
09:37آج ایک معمولی سے سوال کے سامنے بے بس ہو چکا تھا
09:40مگر اس زلط نے اس کے اندر کے
09:42درندے کو مزید بھڑکا دیا
09:44اس نے غصے میں حکم دیا
09:46کہ اسے جلا دو
09:46اور اس کے رب کو دکھاؤ
09:48کہ بیری آگ کی شدت کیا ہے
09:49نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
09:51سزا دینے کے لیے
09:52دنیا کی سب سے بڑی آگ تیار کرنے کا حکم دیا
09:55اسے جہانم بنا دو
09:57بادشاہ کا حکم تھا
09:58مگر جو کچھ اس آگ کے شولوں میں ہونے والا تھا
10:01اس نے پوری دنیا کے
10:02سائنسی اور فطری اصولوں کو
10:04ہمیشہ کے لیے چیلنج کر دیا تھا
10:06مہینوں تک پورے ملک سے لکڑیاں جمع کی گئیں
10:08لوگ اس حد تک جوش میں آ گئے
10:10کہ بیمار عورت نے نظر مانتی تھی
10:12کہ اگر وہ ٹھیک ہو گئیں
10:13تو وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
10:14جلانے کے لیے
10:15مزید لکڑیاں لائیں گی
10:16جب آگ بھڑک گئی
10:17تو منظر ہولناک تھا
10:19روایات کے مطابق
10:20اس آگ کی تپیش ایسی تھی
10:21کہ پرندہ بھی اس کے قریب سے گزرتا
10:23تو جل جاتا
10:24کوئی انسان اس کے قریب جانے کی
10:26جررت نہیں کر سکتا تھا
10:27حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
10:29آگ میں پھینکنے کے لیے
10:30ایک بڑی منجنیق تیار کی گئی
10:32جب آپ کو اس میں رکھا گیا
10:33تو فرشتے بے قرار ہو گئے
10:35مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دل
10:37مکمل اتمنان میں تھا
10:38آپ نے صرف یہ کہا
10:40اللہ میرے لیے کافی ہے
10:41اور وہ بہترین کارساز ہے
10:43جیسے آپ اس عظیم شولوں کے درمیان گرے
10:46تو آسمان سے حکم نازل ہوا
10:48اللہ نے فرمایا
10:49اے آگ
10:49تو ابراہیم پر تھنڈی اور سلامتی والی بن جا
10:52فطرت کے تمام قوانین بدل دئیے گئے
10:54آگ جو ہر چیز کو جلا دیتی ہے
10:56وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے
10:58گلے گلزار بن گئی
11:00زنجیریں جل گئیں
11:01مگر جسم اور لباس محفوظ رہے
11:03نمرود اپنے محل سے یہ منظر دیکھ رہا تھا
11:05اس نے دیکھا کہ آگ کے بیچ
11:07حضرت ابراہیم علیہ السلام سکون سے موجود ہیں
11:09اور ان کے ارد گد روشنی اور تھنڈک ہے
11:12نمرود کی آنکھیں یقین سے خالی ہو گئیں
11:14وہ سمجھتا تھا کہ وہ
11:15حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مٹا دے گا
11:18مگر آگ نے اس کے جھوٹے دعوے کو راک کر دیا
11:20یہ جادو ہے یہ موجزہ
11:22یہ آگ میں زندہ کیسے ہیں
11:24حضرت ابراہیم علیہ السلام صحیح سلامت بہار آ گئے
11:27یہ تاریخ کا وظیم موجزہ تھا
11:28جس نے ہزاروں دلوں کو جھنجوڑ دیا
11:30اصل رب وہ نہیں جو تخت پر بیٹھا ہو
11:32بلکہ وہ ہے جو آگ کو باغ بنا دے
11:34مگر اس سب کے باوجود
11:36نمرود کا تکبر ختم نہ ہوا
11:38بلکہ اس کا غرور اب ایک جنون بن چکا تھا
11:41اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب کسی نبی سے نہیں
11:43بلکہ براہ راست رب سے جنگ کرے گا
11:45اور جو لشکر وہ جنگ کے لیے لے کر آیا
11:48اس کا سامنا جس مخلوق سے ہونے والا تھا
11:50وہ اتنی چھوٹی تھی کہ نمرود نے سوچا بھی نہ ہوگا
11:53کہ اسی سے اس کی موت لکھی جا چکی ہے
11:55نمرود نے ایک عظیم لشکر جمع کی
11:57اور آسمان کے رب کو چیلنج دے دیا
11:58اے ابراہیم کے رب اگر تو ہے
12:00تو آ اور مجھ سے مقابلہ کر
12:02مگر نمرود کو کیا معلوم تھا
12:04کہ اللہ اسے شکر دینے کے لیے
12:06کوئی فوج نہیں بھیجے گا
12:07بلکہ دنیا کی سب سے کمزور مخلوق بھیج دے گا
12:10جب اللہ کسی ظالم کی رسی دراز کرتا ہے
12:12تو وہ اسے ڈھیل دیتا ہے
12:13تاکہ وہ اپنے گناہوں کا بوجھ خود بھڑ لے
12:15نمرود نے سمجھ لیا تھا
12:17کہ اس نے آگ کو بھی شکست دے دی ہے
12:19اس نے ایک لاکھ سے زیادہ سپاہیوں پر مجتمل
12:21عظیم لشکر جمع کیا
12:23اور بابل کے میدان میں اتر آیا
12:24اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر چیلنج کیا
12:27اے ابراہیم کے رب
12:28اگر تو ہے تو آ مجھ سے مقابلہ کر
12:30دیکھ میری طاقت
12:32میری فوج اور میری سلطنت
12:33وہ گرور میں پاگل ہو چکا تھا
12:35وہ سمجھتا تھا
12:35کہ جنگ تلواروں اور نیزوں سے جیتی جاتی ہیں
12:38مگر جب آسمانوں کا مالک
12:39کسی کو زلیل کرنا چاہے
12:41تو وہ توفان
12:41یا زلزلہ نہیں بھیجتا
12:43بلکہ اپنی سب سے کمزور مخلوق کو بھیج دیتا ہے
12:46اچانک میدان میں ہوا کا رخ بدل گیا
12:48آسمان پر ایک سیاہ سایا چھا گیا
12:50سپاہیوں نے سمجھا شاید توفان آنے والا ہے
12:53مگر یہ مچھروں کا ایک عظیم لشکر تھا
12:55اتنے مچھر کے سورج کے روشنی بھی چھپ گئی
12:58جب وہ مچھر نمرود کی فوج پر ٹوٹ پڑے
13:00تو منظر انتہائی ہالناک تھا
13:02وہ عام مچھر نہیں تھے
13:03بلکہ اللہ کے حکم سے آنے والے
13:05عذاب کے سپاہی تھے
13:06انہوں نے فوجوں کا گوشت کھا لیا
13:08اور ان کا خون چوس لیا
13:09چند ہی لمحوں میں
13:10نمرود کی وزیم فوج
13:12جس پر اسے ناس تھا
13:13ہڈیوں کے ڈھیر میں بدل گئی
13:14سونے کی ڈھالیں اور لوہے کی
13:16ذرہیں بھی انہیں نہ بچا سکیں
13:18نمرود نے جب اپنی فوج کی بربادی دیکھی
13:20تو اس کا غرور خوف میں بدل گیا
13:22وہ جان بچا کر قلعے میں داخل ہوا
13:24اور تمام دروازے بند کر دیئے
13:25وہ سمجھا کہ اب وہ محفوظ ہے
13:27مگر اللہ کا فیصلہ نافذ ہو چکا تھا
13:29اور جو عذاب اس کے قلعے کی دیواروں کو پار کرنے والا تھا
13:32وہ نہ کسی تلوار سے آیا
13:34نہ کسی فوج سے
13:35بلکہ ایک ایسی راہ سے آیا
13:36جس کا تصور کوئی بھی نہیں کر سکتا
13:38اللہ کے حکم سے ایک لنگڑا مچھر بھیجا گیا
13:41جس کا ایک پر ٹوٹا ہوا تھا
13:42وہ مچھر قلعے کی درار سے اندر داخل ہوا
13:45اور نمرود کی ناک کے راستے
13:47اس کے دماغ تک پہنچ گیا
13:49وہاں اس نے دماغ کی جللی کو کاٹنا شروع کیا
13:51نمرود کے سر میں ایسی شدید تکلیف پیدا ہوئی
13:54کہ وہ پاگل ہونے لگا
13:55اس سے سکون صرف تب ملتا
13:57جب کوئی اس کے سر پر زور سے ضرب لگاتا
13:59وہ اپنے خادموں کو حکم دے تھا
14:00کہ اس کے سر پر ہتوڑے مارے
14:02یوں وہ ظالم بادشاہ
14:03جو خود کو رب کہتا تھا
14:05ایک کمزور مچھر کے عذاب میں مبتلا ہو کر
14:08برسوں چیختا اور تڑپتا رہا
14:09بلاخر اسی زلطناک انجام تک پہنچا
14:12جس نے دنیا کو یہ سبق دیا
14:14کہ تکبر کا انجام ہمیشہ ہلاکت ہوتا ہے
14:16ہتوڑوں اور جوتوں سے اس کے سر پر بار کیے جاتے
14:19تاکہ اس مچھر کی گونج
14:20چند لمحوں کے لئے کم ہو جائے
14:22وہ بادشاہ جو لوگوں سے سجدہ کرواتا تھا
14:24آج انہی لوگوں سے اپنے سر پر
14:26جوتے مارنے کی فریاد کر رہا تھا
14:29تاریخ کے بیان کے مطابق
14:30نمرود برسوں اسی عذاب میں مبتلا رہا
14:32اتنے ہی سال جتنے سال اس نے تکبر کے ساتھ
14:35حکومت کی تھی
14:35ایک دن اس کی تکلیف
14:37اس حد تک بڑی کہ اس نے اپنے سب سے قابل اعتماد
14:39ملازم کو اشارہ کیا
14:40اور زور سے مارے
14:41ملازم خوف اور مجبوری میں
14:43اتنی شدت سے وار کرنے لگا
14:45کہ نمرود کی کھوپڑی زخمی ہو گئی
14:47وہ شخص جس نے آسمانوں تک مینار کھڑا کیا تھا
14:49جس نے آگ کو بھی معمولی سمجھا تھا
14:51آج ایک کمزور مخلوق کی ذریعے
14:53زلط کے ساتھ موت کے قریب پہنچ گیا
14:55جب اس کی موت واقع ہوئی
14:57تو وہ کوئی معبود نہیں تھا
14:58بلکہ عبرت کا نشان بن چکا تھا
15:00نہ اس کی فوج کا آمائی
15:02نہ اس کا بابل کا مینار
15:11آج بابل کی گلیاں خاموش ہیں
15:13اس کا مینار مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے
15:15نمرود کا نام صرف نصیحت کے طور پر
15:17باقی رہ گیا ہے
15:18اس نے دولت جمع کی طاقت بنائی
15:20مگر شکر بھول گیا
15:21یہ قصہ صرف نمرود کا نہیں
15:23بلکہ ہر اس شخص کا ہے
15:24جو اللہ کی نعمتوں پر غرور کرتا ہے
15:26سوچو اگر اللہ ایک مچھر سے
15:28سلطنتیں ختم کر سکتا ہے
15:30تو ہماری کیا حیثیت
15:31نمرود مٹ گیا
15:32مگر اس کی کہانی آج بھی پکارتی ہے
15:34کہ غرور سے نہیں
15:35بلکہ شکر سے جیو
15:36کیونکہ موت کا وقت
15:37کسی بھی لمحے آ سکتا ہے
15:39آج اس کی عظیم سلطنت کہاں ہے
15:40عراق کی گرم ریت کے نیچے
15:42دبے کھنڈر گواہی دیتے ہیں
15:43کہ کبھی وہاں ایک عظیم تہذیب
15:45اور بلند مینار ہوا کرتا تھا
15:47تاریخ کے مطابق
15:48جب عذاب آیا
15:49تو نہ صرف نمرود ہلاک ہوا
15:51بلکہ اس کی پوری تہذیب بکھر گئی
15:52اور لوگ ایک دوسری کی زبان تک
15:54سمجھنے سے محروم ہو گئے
15:55اسی سے مختلف زبانوں کا آغاز ہوا
15:57اللہ نے ان کے اس اتحاد کو
15:59جو ظلم پر قائم تھا
16:01انتشار میں بدل دیا
16:02اور اللہ کا عدل
16:03ہمیشہ قائم رہتا ہے
16:05ہم نمرود کا قصہ سنتے ہیں
16:06اور حیران ہوتے ہیں
16:07مگر اصل سوال یہ ہے
16:09کہ کیا ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں
16:11آج کے بابل ایٹوں سے نہیں
16:12بلکہ ٹکنالوجی
16:13دولت اور طاقت سے بنے ہوئے ہیں
16:15آج کا انسان پھر یہ سمجھنے لگا ہے
16:17کہ وہ فطرت کو قابو کر لے گا
16:19وہ یہ گمان کرتا ہے
16:20کہ اس کی ہتھیار
16:20اس کی سائنس
16:21اسے ہر عذاب سے بچا لے گی
16:22مگر یاد رکھئے
16:24نمرود کے پاس بھی
16:25اپنے دور کی
16:25بہترین طاقت اور نظام تھا
16:27مگر جب اللہ کا حکوم آیا
16:28تو سب کچھ بے اثر ہو گیا
16:30نمرود کا واقعہ
16:31ہمارے لئے ایک آئینہ ہے
16:32جو یہ سوال کرتا ہے
16:33کہ کیا تم
16:34اپنی روزی کو
16:35اپنی محنت سمجھتے ہو
16:36کہ تم بھی
16:37اپنی طاقت پر غرور کرتے ہو
16:38یاد رکھو
16:39ہر نمرود کیلئے
16:40ایک مچھر کافی ہے
16:41اگر ہم غور کریں
16:42تو نمرود کی کہانی محض
16:43ماضی کا ایک قصہ نہیں
16:44بلکہ انسانی نفس کی
16:46وہ کمزوری ہے
16:47جو ہر دور میں
16:47نئے روپ میں سامنے آتی رہی ہے
16:49جب بھی کسی قوم
16:50یا کسی فرد کو
16:51غیر معمولی وسائل
16:52طاقت یا اختیار ملتا ہے
16:54تو اکثر یہی خطر لاکھ ہوتا ہے
16:56کہ وہ اپنی کامیابی کو
16:57اللہ کی عطا کے بجائے
16:58اپنی ذاتی صلاحیت کا
17:00نتیجہ سمجھ بیٹھے
17:01نمرود کے پاس جی
17:02وہ سب کچھ تھا
17:03جو اس دور میں ممکن تھا
17:04بسائل افرادی قوت
17:06ذہانت و اختیار
17:07مگر اس نے یہ سب
17:08اپنے غرور کی نظر کر دیا
17:09اسی طرح تاریخ میں
17:10کئی اور مثالے بھی ملتی ہیں
17:11جہاں طاقت پر حکمرانوں نے
17:13اپنی سلطنتوں کو
17:14عبدی سمجھ لیا
17:15مگر وقت نے ثابت کیا
17:17کہ کوئی بھی سلطنت
17:18کوئی بھی نظام
17:18اور کوئی بھی طاقت
17:19اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتی
17:21جب تک وہ
17:22اپنے خالق کے سامنے
17:24جھکنے کو تیار نہ ہو
17:25آج بھی دنیا میں
17:27ایسے نمرود موجود ہیں
17:28جو اپنی کامیابیوں کو
17:29اپنی ذات کا کمال سمجھ بیٹھتے ہیں
17:30مگر وقت کا پہیہ
17:32خاموشی سے گھوم رہا ہوتا ہے
17:33اور ہر غرور کرنے والے کے لیے
17:35ایک لمحہ آزمائش
17:36ضرور آتا ہے
17:37حضرت ابراہیم علیہ السلام
17:38کا صبر اور یقین
17:39ہمیں یہ سکھاتا ہے
17:40کہ سچائی
17:40چاہے کتنی کمزور کیوں نہ لگے
17:42وہ آخر کار غالب آتی ہے
17:44اور باطل چاہے
17:45کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو
17:46وہ مٹ جاتا ہے
17:47اور یہی اللہ کا قانون ہے
17:49جو کبھی نہیں بدلتا
17:50یہ تھی نمرود کی عبرتناک داستان
17:52جو صرف ایک بادشاہ کی کہانی نہیں
17:54بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے
17:55کائنہ ہے
17:56اگر آپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہو
17:58تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں
17:59تاکہ عبرت کا یہ پیغام
18:01لوگوں تک پہنچ سکے
18:02اور ہم اپنے دلوں کو
18:03غرور سے بچا کر
18:04شکر اور آجزی کی طرف لوٹ آئیں
18:06اللہ ہم سب کو حق سمجھنے
18:08اس پر عمل کرنے
18:09اور ہمیشہ آجزی اختیار کرنے کی
18:11توفیق عطا فرمائے
18:12آمین
18:13اللہ حافظ
Comments

Recommended