Skip to playerSkip to main content
🔹 Jannat Ke Nawjaanon Ke Sardar Ko Unki Apni Biwi Ne Zeher Diya 😭 | Imam Hasan AS Ki
Mukammal Zindagi | Noor TV 🔹
📌 Woh jo Rasool SAW ke kandhe par baithe, jin ke honthon ko Nabi SAW ne piyar se chuma,
jinhein Rasool SAW ne "Jannat ke nawjaanon ka sardar" kaha — unhe aakhirkar unki apni biwi
ne zeher de kar shaheed kara diya 💔
🕌 Is video mein aap dekhenge:
✅ Imam Hasan AS ki wiladat aur woh naam jo pehle kisi ne nahi suna tha 🌙
✅ Rasool SAW ka apne nawaase se woh pyaar jo dil ko pigha deta hai 💛
✅ 40,000 logon ki bayt aur khilafat ka aaghaz ⚔️
✅ Muslmaanon ka khoon bachane ke liye apni khilafat chor dene ka azeemtareen faisla 🕊️
✅ Ahle Kufa ke taane aur Imam Hasan AS ka sabr-aamez jawab 😢
✅ Biwi ka dhoka — zeher ki wo daastaan jo rontay khare kar deti hai 😱
✅ Aakhri lamhat mein bhi ek hi fikr: "Koi be-gunah meri wajah se taklif mein na pade" 📿
📽️ Imam Hasan AS ne saari zindagi yeh sabit kiya ke haq ke liye sirf talwar nahi — kabhi
kabhi sabr bhi uthana parta hai. Aakhir tak zaroor dekhein 🌙
🔔 LIKE | SUBSCRIBE | SHARE
✅ Agar aap Ahlebait, Islamic history aur Imam Hasan AS se mohabbat rakhte hain to:
👍 Video ko Like karein
📢 Doston mein Share karein — yeh daastaan har musalman ko sunni chahiye
🔔 Noor TV ko Subscribe karein aur Bell icon dabayein — hamaari Karbala aur
Ahlebait series ki baaki videos bhi zaroor dekhein!
📲 Aate rahein — aur paate rahein Ahlebait, Karbala aur Islamic history ke anmol waqiat!
#NoorTV #ImamHasanAS #ImamHasanHistory #AhlebaytHistory #ImamHasanShahadat
#ImamHasanAurMuawiya #SulhImamHasan #JannatKeSardar #RasoolSAWKaNawasa
#IslamicHistory #AhlulBayt #HasanBinAli #ImamHasanZeher #Karbala #IslamicWaqiat

Category

📚
Learning
Transcript
00:28
00:30That's what he said.
01:00We will see you in the end of the day and the end of the day and the end of
01:21the day.
01:28He said,
02:12He said,
02:28نہیں, اس کا نام حسین ہے
02:30پھر تیسرا بیٹا پیدا ہوا
02:32رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام محسن رکھا
02:36آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے یہ نام حضرت حارون علیہ السلام کی اولاد کے ناموں پر رکھے
02:42ہیں
02:42جن کے نام شبر شبیر اور مبشر تھے
02:45امام حسن کا خاندان وہ خاندان تھا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی
02:50ان کے نانا رسول خدا تھے جن پر وہی نازل ہوتی تھی
02:53جن کے اطاعت اللہ نے پرس کی جو خاتم النبیین تھے
02:57ان کے والد حضرت علی تھے جنہوں نے بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا
03:01جنہوں نے کبھی کوئی بت نہیں پوجا
03:02اور جنہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہر غزوے میں شرکت کی
03:07ان کی والدہ سیدہ فاطمہ تزہرہ رضی اللہ عنہ تھی
03:11جن کے بارے میں رسول علیہ السلام نے فرمایا
03:13فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے
03:15جو اسے تکلیف دے وہ مجھے تکلیف دیتا ہے
03:18اور رسول علیہ السلام نے فرمایا
03:20فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہے
03:22ایسے خاندان میں پلنے والا بچہ کیسا ہوگا
03:25وہ بچہ جسے رسول علیہ السلام کی گود میں کھیلنے کا موقع ملا
03:29جس نے اپنے والد علی رضی اللہ عنہ کی
03:32شجاعت اور اپنی والدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا تقویٰ وراست میں پایا
03:35امام حسن رضی اللہ عنہ کی پرورش
03:38اس گھر میں ہوئی جہاں صبح کا آغاز قرآن کی تلاوت سے ہوتا تھا
03:41جہاں رات کا اختتام نماز اور دعا پر ہوتا تھا
03:45جہاں محبت کا درس ملتا تھا اور حق کی تعلیم دی جاتی تھی
03:49حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو ہر کام میں
03:51اللہ کی رضا ڈھوننا سکھاتے تھے
03:53سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ انہیں بتاتی تھی
03:55کہ دنیا ایک آج ہی ٹھکانہ ہے اور اصل منزل آخرت ہے
03:59اور رسول علیہ السلام اپنے نوازوں کو اپنی محبت سے سیراب کرتے تھے
04:03ایک بار امام حسن رضی اللہ عنہ نے صدقے کی
04:05کجور اٹھا کر موں میں ڈال لی
04:07تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نکال کر واپس رکھ دیا
04:10اور فرمایا ہم آل محمد ہیں
04:13ہم آل محمد کے لیے صدقہ جائز نہیں
04:16یہ چھوٹا سا واقعہ ہے
04:17لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس گھر میں کیسی تربیت دی جاتی تھی
04:21جہاں نانا اپنے پیارے نوازے کو ایک خجور سے بھی روکتے ہیں
04:24تاکہ وہ حلال اور حرام کا فرق سیکھیں
04:26یہی وہ تربیت تھی جس نے امام حسن کو وظیم انسان بنایا
04:30جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کی رضا کے لیے وقف کر دی
04:33جنہوں نے دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت یعنی خلافت بھی
04:36اللہ کی خوشنودی کے لیے چھوڑ دی
04:38اور جنہوں نے موت کے دروازے پر بھی انصاف اور حق کا دامن نہیں چھوڑا
04:42رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امام حسن سے بے پناہ محبت تھی
04:46اور یہ محبت ہر موقع پر ظاہر ہوتی تھی
04:48ابو حریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
04:51کہ عشاء کی نماز میں جب رسول علیہ السلام سجدے میں جاتے
04:54تو امام حسن اور امام حسین ان کی پشت پر چڑ جاتے
04:57جب آپ علیہ السلام سجدے سے سر اٹھاتے
05:00تو انہیں پیار سے زمین پر بیٹھا دیتے
05:01اور جب دوبارہ سجدے میں جاتے
05:03تو وہ پھر چڑ جاتے
05:04ایک بار رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:07امام حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے تشریف لائے
05:10انہیں آگے بٹھا کر نماز شروع کر دی
05:12دورانے نماز سجدہ کیا
05:14اور اسے بہت لمبا کر دیا
05:15صحابہ نے سوچا شاید کوئی نئی وحی نازل ہو رہی ہے
05:19نماز کے بعد صحابہ نے پوچھا
05:20تو رسول علیہ السلام نے مسکرا کر فرمایا
05:23میرے بیٹھ حسن نے مجھے سواری بنا لیا تھا
05:26میں اس کی خواہش پوری ہونے تک
05:27جلدی کرنا مناسب نہ سمجھا
05:29یہ محبت کا وہ منظر ہے
05:30جو دل کو پہگلا دیتا ہے
05:32وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:34جن کے قدموں میں پوری دنیا جھکتی تھی
05:37وہ اپنے نباسے کی خوشی کیلئے
05:38سجدے کو طول دے رہے تھے
05:40رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:42امام حسن رضی اللہ عنہ کو
05:44اکثر گود میں اٹھاتے اور اپنے کاندھوں پر بٹھاتے
05:46اور پھر تمام مسلمانوں کو ان سے محبت کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا
05:49جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے
05:51وہ حسن سے بھی محبت کرے
05:52ایک اور روایت میں ہے
05:53کہ ایک فرشتہ جو پہلے کبھی نہیں اترا تھا
05:55اس نے اللہ سے خاص اجازت مانگی
05:57کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:59کو سلام کہے
06:00اور بشارت سنائے
06:01کہ سیدہ فاطمہ علیہ السلام
06:03جنتی عورتوں کی سردار ہیں
06:05اور امام حسن اور امام حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں
06:08امام حسن رضی اللہ عنہ کی شخصت کے بارے میں
06:11صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہ مجمعین
06:13نے جو کچھ بیان کیا
06:14وہ پڑھ کر دل عقیدت سے بھر جاتا ہے
06:17وہ بہت خوب روح پروکار اور حسین انسان تھے
06:20لیکن ان کا سب سے بڑا بصف یہ تھا
06:22کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے
06:24سب سے زیادہ مشابہ تھے
06:26امام زہری رحمت اللہ علیہ نے بیان کیا
06:28کہ حضرت انز رضی اللہ عنہ نے فرمایا
06:30کہ امام حسن رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے
06:33سب سے زیادہ مشابہ تھے
06:34جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد
06:37صحابہ امام حسن کو دیکھتے
06:39تو ان کے آنکھیں بھیگ جاتی
06:41دلوں پر غم کا سایہ چھا جاتا
06:42اور ان کے سامنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے
06:45ساتھ بیتے دن یاد آ جاتے
06:46حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ
06:48جب بھی امام حسن کو دیکھتے
06:49تو ان کے آنکھوں سانسو جاری ہو جاتے
06:51ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے
06:53کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
06:55وفات کے چند روز بعد
06:57حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے
06:59امام حسن رضی اللہ عنہ کو
07:01بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا
07:02تو انہوں نے اٹھا کر اپنی گردن پر بٹھا لیا
07:04اور کہا
07:05اللہ کی قسم میرے ماں باپ قربان ہو جائیں
07:07یہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہم صورت ہیں
07:10علی علیہ السلام سے مشابہ نہیں ہیں
07:12یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ مسکرہ رہے تھے
07:15امام حسن رضی اللہ عنہ کی سخاوت
07:18تاریخ کا ایک ایسا باب ہے
07:20جسے پڑھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے
07:22روایات بتاتی ہیں کہ آپ نے اپنی پوری زندگی میں
07:24دو بار اپنا سارا مال
07:26اللہ کی راہ میں تخصیم کر دیا
07:27اور تین بار اپنا آدھا مال دے دیا
07:30ایک بار آپ اعتقاف میں تھے
07:31کہ ایک سائل نے آ کر سوال کیا
07:33آپ فوراں اعتقاف کے دارے سے نکل آئے
07:35اور اس کی ضرورت پوری کی
07:37پھر اعتقاف گاہ میں داخل ہو گئے
07:38کسی نے کہا کہ آپ نے اعتقاف توڑ دیا
07:40آپ نے فرمایا
07:41میں اللہ کے کسی بندے کو محتاج دیکھ کر
07:43واپس نہیں جا سکتا
07:45امام حسن رضی اللہ عنہ کے اقوال
07:47آج بھی حکمت کے خزانے ہیں
07:49کسی نے پوچھا غنیمت کیا ہے
07:50فرمایا
07:51تقویٰ میں رغبت
07:52اور دنیا میں زہد
07:54یہی غنیمت ہے
07:55کسی نے پوچھا علم کیا ہے
07:56فرمایا غصہ روک لینا
07:58اور نفس پر کنٹرول کرنا علم ہے
08:00کسی نے پوچھا بے وقوفی کیا ہے
08:01فرمایا
08:02گھٹیا لوگوں کی پیروی کرنا
08:03اور گمراہوں کی
08:04صحبت اختیار کرنا
08:05بے وقوفی ہے
08:06کسی نے پوچھا غفلت کیا ہے
08:08فرمایا
08:08مسجد کو ترک کرنا
08:10اور کسی فسادی کی اطاعت کرنا
08:11غفلت ہے
08:12آپ نے فرمایا
08:13کہ لوگوں کی ہلاکت
08:14تین چیزوں میں ہے
08:15تکبر
08:16لالچ
08:16اور حسد
08:17تکبر میں ہلاکت ہے
08:18اور اسی تکبر کی وجہ سے
08:20شیطان ملون ٹھہرا
08:21لالچ
08:21نفس کا دشمن ہے
08:22اور حسد
08:23برائی کا جاسوس ہے
08:25اسی حسد کی وجہ سے
08:26قابل نہابل کو قتل کیا
08:28آپ نے فرمایا
08:29اللہ کی حرام کردہ
08:30چیزوں سے باز آ جاؤ
08:31تم عبادت گزار بن جاؤ گے
08:33اپنے حق میں
08:34اللہ کی تقسیم پر
08:35راضی ہو جاؤ
08:35تم خوشحال ہو جاؤ گے
08:37اپنے پڑوسی سے بھلائی کرو
08:39تم سچا مسلمان بن جاؤ گے
08:40امام حسن
08:41رضی اللہ عنہ کے اقوال
08:43کی یہ حکمت
08:43کہاں سے آئی
08:44یہ وہی گھر تھا
08:45جہاں حضرت علی
08:46رضی اللہ عنہ کا
08:47علم تھا
08:48جہاں فاطمہ
08:49رضی اللہ عنہ کی
08:50دانائی تھی
08:50اور جہاں
08:51رسول خدا
08:52صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:53کی تعلیمات
08:55براہ راست
08:55سنی اور سیکھی
08:56جاتی تھی
08:57امام حسن
08:58رضی اللہ عنہ
08:59نے بچپن سے
09:00جوانی تک
09:00رسول علیہ صلی اللہ
09:01کی صحبت میں
09:02وقت گزارا
09:03ان کے الفاظ
09:04سنے
09:04ان کے عمال دیکھے
09:05ان کے اخلاق
09:06کا مشاہدہ کیا
09:07ایک شخص نے
09:08ایک بار
09:08امام حسن
09:08رضی اللہ عنہ
09:10کو دیکھا
09:10کہ وہ اپنے
09:10رب کی بارگاہ میں
09:11خوف زدہ
09:12اور گڑ گڑاتے ہوئے
09:13دعا کر رہے ہیں
09:14اس نے کہا
09:14کہ آپ کو کیا ڈر ہے
09:15آپ تو
09:16رسول علیہ صلی اللہ
09:17کے نواسے ہیں
09:18آپ کی شفاعت تو ہوگی
09:20اللہ کی رحمت
09:21بہت ہے
09:21امام حسن
09:22رضی اللہ عنہ
09:23نے جواب دیا
09:23کہ جب سور پھوکا جائے گا
09:25تو رشتے ناتے
09:26کام نہیں آئیں گے
09:27شفاعت
09:28اللہ کی اجازت
09:28کے بغیر نہیں ہوگی
09:29اور رحمت
09:30متقی لوگوں کے لئے ہے
09:32تو پھر مجھے
09:33کیوں نہ ڈر ہو
09:33یہ تھا امام حسن
09:34رضی اللہ عنہ کا تقویہ
09:36رسول علیہ صلی اللہ
09:37کے نواسے ہونے کے
09:38باوجود
09:39اللہ کے سامنے
09:40جھکنا اور کانپنا
09:41امام حسن کی یہ
09:42خصوصیت بھی تھی
09:43کہ وہ بردباری
09:44اور درگزر کے
09:44معاملے میں
09:45بے مثال تھے
09:46جو ان پر ظلم کرتا
09:47وہ اسے معاف کر دیتے
09:48جو انہیں تکلیف پہنچاتا
09:49وہ اس سے نرمی سے پیش آتے
09:51اسی نرمی اور درگزر کی وجہ سے
09:53وہ لڑائی جھگڑے سے
09:54ہمیشہ گریز کرتے تھے
09:55یہاں رکھئے اور سوچئے
09:57وہ شخص جو ان حکمتوں کا مالک تھا
09:59جو جنت کے نوجوانوں کا سردار تھا
10:01جسے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
10:03نے کاندھوں پر اٹھائے تھا
10:05اس کے ساتھ دنیا نے کیا کیا
10:06رمضان المبارک
10:07چالیس ہجری میں
10:09حضرت علی رضی اللہ عنہ کو
10:10مسجد میں شہید کر دیا گیا
10:12لوگوں کی نگاہیں خلافت کے لئے
10:14امام حسند کی طرف اٹھیں
10:15آپ کے اخلاق
10:16آپ کی بردباری
10:17آپ کی سخاوت
10:18آپ کا علم
10:19آپ کی بہادری
10:19سب نے
10:20انہیں اس منصف کا اہل ثابت کیا
10:22آپ ہمیشہ حق پر ثابت قدم رہتے تھے
10:24سخاوت اور بہادری آپ کی شان تھی
10:26بردباری اور صبر آپ کی پہچان تھی
10:28تقریباً چالیس ہزار سے زائد لوگوں نے
10:30آپ کی بیعت کی
10:31آپ تقریباً ساحتمہ
10:33عراق
10:33خراسان
10:34حجاز
10:34اور یمن کے علاقوں میں خلیفہ رہے
10:36لیکن دوسری طرف
10:37شام محضت علی کی شہادت کے بعد
10:39معاویہ بن
10:40ابی سفیان کی بھی بیعت ہو چکی تھی
10:42دو خلیفہ ایک ساتھ
10:43جنگ کا خطرہ
10:44معاویہ جانتے تھے کہ
10:45امام حسن
10:46فتنہ و فساد کو
10:47سب سے زیادہ نا پسند کرتے ہیں
10:49چنانچہ انہوں نے
10:50خطو کتابت کے ذریعے
10:51امام حسن سے
10:51رابطہ کیا
10:52اور صلاح کی پیشکش کی
10:54ساتھی وعدہ کیا
10:55کہ اگر انہیں کوئی حادثہ پیش آیا
10:56اور امام حسن زندہ ہوئے
10:58تو وہ خلافت
10:58ان کے سفرد کر دیں گے
10:59امام حسن نے اپنے ساتھیوں سے کہا
11:01میں نے ایک رائے قائم کی ہے
11:03میں چاہتا ہوں کہ
11:03تم
11:04اس میں میری پیر بھی کرو
11:05یہ فتنہ طول پکڑ گیا
11:07خون ریزی ہو چکی ہے
11:08راستے منقطع ہو چکے ہیں
11:09میں چاہتا ہوں کہ
11:10خلافت کا معاملہ
11:11معاویہ کے لئے چھوڑ دوں
11:12تاکہ مسلمانوں کا خون نہ بہے
11:14عبداللہ بن جعفر
11:15رضی اللہ عنہ نے کہا
11:16اللہ آپ کو
11:17امت محمدیہ کی طرف سے
11:19بہترین جزا عطا فرمائے
11:20اور پھر امام حسن
11:21رضی اللہ عنہ نے
11:22وہ فیصلہ کیا
11:23جس نے انہیں تاریخ میں
11:24ان کا سب سے بڑا دائی بنا دیا
11:26انہوں نے اپنی خلافت
11:27معاویہ کے حق میں چھوڑ دی
11:28صرف اور صرف اس لیے
11:29کہ مسلمانوں کا خون نہ بہے
11:31یہ وہ لمحہ تھا
11:32جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:34نے پیجگوئی کی تھی
11:35آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا
11:37کہ بے شک
11:38یہ میرا بیٹا سردار ہے
11:39اور اللہ اس کے ذریعے
11:40مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں
11:42صلح کروائے گا
11:42اور یہ پیجگوئی پوری ہوئی
11:44وہ سال جس میں یہ صلح ہوئی
11:46مسلمانوں میں عام الجماعت کے نام سے
11:48مشہور ہوا
11:48کیونکہ مسلمانوں کا تفرق کا مٹ گیا
11:50اور وہ متحد ہو کر
11:51ایک جماعت بن گئے
11:52لیکن اہلِ کوفہ نے
11:53امام حسن کو اس فیصلے پر تانے دیے
11:55کچھ نے کہا
11:56کہ آپ نے مسلمانوں کو زلیل کیا
11:57کوفے کے کچھ لوگوں نے کہا
11:59اے مسلمانوں کو زلیل کرنے والے
12:00اے مومنوں کی گردنوں کو
12:02کافروں کے پاس گروی رکھنے والے
12:04لیکن امام حسن کے ہونٹوں پر
12:06مسکراہت تھی
12:06اور دل میں سکون
12:07انہوں نے جواب دیا
12:09میں اللہ کی خوشنودی کے لیے
12:10اور مومنوں کا خون بچانے کے لیے
12:12یہ فیصلہ کیا ہے
12:13اگر تم سمجھتے ہوگی
12:14یہ زلت ہے تو جان لو
12:15اللہ کے نزدیک
12:16زلت وہ ہے جو گناہ میں ہو
12:17اس فیصلے میں نہیں
12:18خلافت سے دسبردار ہونے کے بعد
12:20امام حسن نے لوگوں کو اکھٹا کر کے
12:22ایک بھرپور خطاب فرمایا
12:24انہوں نے کہا
12:25اے لوگو
12:26اللہ نے ہمارے پہلوں کے ذریعے
12:28تمہیں ہدایت دی
12:29اور بعد والوں کے ذریعے
12:30تمہاری خون ریزی بند کر آئی
12:31سنو
12:32دانائیوں میں سے بہتین دانائی تقویٰ ہے
12:34اور شکستوں میں سے
12:43یا یہ میرا حق ہے
12:44جو میں نے اللہ کی خوشنودی
12:46امت محمدیہ کی بہتری
12:47اور تمہارے درمیان خون ریزی بند کرنے کیلئے چھوڑا ہے
12:50یہ خدبہ سن کر لوگ رو پڑے
12:52وہ لوگ جو پہلے تعانے دے رہے تھے
12:54وہ بھی خاموش ہو گئے
12:55کیونکہ امام حسن کے الفاظ میں وہ سچائے تھی
12:57جو دلوں کو چھو لیتی ہے
12:59صلح کے بعد امام حسن
13:00رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ چلے گئے
13:03مدینہ میں آپ کی زندگی کے زیادہ تر حصہ
13:05عبادت الہی میں گزرا
13:06ایک شخص نے معاویہ کون کے حالات بتاتے ہوئے کہا
13:09کہ فجر کی نماز کے بعد
13:11طلوع آفتاب تک
13:12مسلح پر بیٹھتے ہیں
13:13پر آنے جانے والوں سے ملتے ہیں
13:15چاشت کی نماز کے بعد
13:16امہات المومنین کی خدمت میں
13:17سلام کے لئے حاضر ہوتے ہیں
13:19اور اگر مکہ مکرمہ میں ہوتے
13:21تو اثر کی نماز حرم پاک میں ادا کر کے
13:23تواف میں مشغول ہو جاتے
13:24یہ تھی امام حسن کی زندگی
13:26سادہ پاکیزہ عبادت
13:28اور خدمت سے بھرپور
13:29مدینہ میں ان کی زندگی کیسی تھی
13:31سبوٹتے تو اللہ کا شکر ادا کرتے
13:33فجر کی نماز ادا کرتے
13:35اور پھر طلوع آفتاب تک
13:36مسلح پر بیٹھ کر
13:37اللہ کا ذکر کرتے رہتے
13:38دن میں لوگوں سے ملتے
13:39ان کی ضرورتیں پوری کرتے
13:40ان کے مسائل حل کرتے
13:42کوئی سائل آتا
13:43تو خالی ہاتھ واپس نہ جاتا
13:44کوئی مسافر آتا
13:45تو اسے مہمان نوازی ملتی
13:47کوئی مشورہ مانگتا
13:48تو اسے حکمت بھرا جواب ملتا
13:50ان کے گھر کا دروازہ
13:51ہر وقت کھلا رہتا تھا
13:52اہل مدینہ جانتے تھے
13:53کہ جب بھی کوئی مشکل آئے
13:54تو امام حسن رضی اللہ عنہ
13:56کے دروازے پر جاؤ
13:57خالی ہاتھ واپس نہیں آوگے
13:58یہ وہی سیدہ فاطمہ
14:00رضی اللہ عنہ کی تربیت تھی
14:01جنہوں نے اپنے بچوں کو سکھایا
14:03کہ دوسروں کی ضرورت پوری کرنا
14:04اللہ کی عبادت ہے
14:05اور یہ وہی
14:06علی رضی اللہ عنہ کی تعلیم تھی
14:08جنہوں نے فرمایا
14:09کہ جو شخص
14:10اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے
14:12اللہ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے
14:13امام حسن نے اپنی زندگی میں
14:15پیاری سے پیاری
14:16اور مشکل سے مشکل آزمائش میں بھی
14:18اللہ کا ساتھ نہیں چھوڑا
14:19جب خلافہ چھوڑی
14:21تو اللہ کی رضا کے لئے چھوڑی
14:22جب زہر کا درد سہا
14:23تو اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے سہا
14:25اور جب آخری بقت آیا
14:26تو بھی زبان پر شکوہ نہیں
14:28بلکہ اللہ کا ذکر تھا
14:29لیکن دشمنان دین کو یہ کب گبارہ تھا
14:32کہ آل رسول علیہ السلام
14:34چین سے رہیں
14:35امام حسن رضی اللہ عنہ
14:37مدینہ میں گوشہ نشین تھے
14:38لیکن حق کا یہ مرکز
14:40اور تعلیمات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
14:43یہ سرچشمہ
14:44دشمن کو کب گبارہ ہو سکتا تھا
14:46امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی
14:48جودہ بنتِ اشعست تھی
14:49کسی نے اسے انام و اکرام کا لالج دے کر
14:52امام حسن رضی اللہ عنہ کو
14:53زہر دینے پر آمادہ کیا
14:55روایات کے مطابق یہ زہر
14:57کھجوروں میں ملا کر دیا گیا
14:58زہر کا اثر ایسا تھا
14:59کہ آنٹوں کے ٹکڑے کٹ کٹ کر
15:01خون کے ساتھ باہر آنے لگے
15:02چالیس روز تک امام حسن رضی اللہ عنہ
15:05اس شدید تکلیف میں رہے
15:07یہ چالیس روز تاریخ کے
15:08سب سے دردناک دن تھے
15:10یہاں رکیے
15:11وہ شخص جس نے امت کو
15:12خون ریزی سے بچانے کے لیے
15:13اپنا حق چھوڑ دیا
15:14جس نے سارے زندگی
15:15صبر اور بردباری کا مظاہرہ کیا
15:18جسے رسول علیہ السلام نے
15:20جنت کے نوجوانوں کا سردار کہا
15:21اسے آخر کار
15:23اس کی اپنی بیوی نے زہر دے کر
15:24شہید کروایا
15:25یہ ظلم کی انتہا تھی
15:26جب امام حسن رضی اللہ عنہ کی حالت بگڑ گئی
15:29تو ان کے بھائی امام حسن حاضر ہوئے
15:31رو رو کر عرص کیا
15:32بھائی بتاؤ آپ کو کس نے زہر دیا ہے
15:34امام حسن نے پوچھا
15:36کیا تم اسے قتل کروگے
15:37امام حسن نے کہا
15:38ہاں میں اسے ضرور قتل کروں گا
15:39جسم کر امام حسن نے کہا
15:41انہوں نے فرمایا
15:42میرا گمان جس طرف ہے
15:44اگر وہی قاتل ہے
15:45تو اللہ تعالی منتقی میں حقیقی ہے
15:47اس کا اور میرا فیصلہ
15:48کل بروز محشر ہوگا
15:50اگر وہ بے گناہ ہے
15:51تو میں نہیں چاہتا
15:52کہ میرے سبب کوئی بے گناہ تکلیف میں مبتلا ہو
15:55پھر فرمایا
15:55میرے بھائی
15:56مجھے اس سے پہلے کئی بار زہر دیا گیا
15:58لیکن اس بار کا زہر سب سے تیز ہے
16:00یہ الفاظ سوچئے
16:02زہر کے سر سے آنتیں کٹ رہی ہیں
16:04جسم جواب دے رہا ہے
16:05موت سامنے ہے
16:07اور اس حال میں بھی
16:08امام حسن رضی اللہ عنہ
16:09یہ فکر کر رہے ہیں
16:10کہ کہیں کوئی بے گناہ میری وجہ سے تکلیف نہ اٹھائے
16:13انصاف اور حلم کا
16:14یہ میار تاریخ میں کم ہی نظر آتا ہے
16:16اور یہ حیرت انگیز بات دیکھئے
16:18کہ آنتیں کٹ کٹ کر نکل رہی ہیں
16:20نظر کی حالت ہے
16:21لیکن اس حال میں بھی
16:22اپنی زبان پر
16:23کسی کا نام نہیں لیتے
16:24کہ کہیں کوئی بے گناہ مارا نہ جائے
16:26انصاف کا یہ بادشاہ
16:27اس وقت بھی اپنی عدالت و انصاف کا
16:29نہ مٹنے والا نقش
16:30تاریخ پر سبت کر رہا تھا
16:32پانچ ربیل اول کو
16:33امام حسن نے
16:34اس دنیا سے رخصت لی
16:36اور درجہ شہادت پر فائز ہوئے
16:37اس وقت آپ کی عمر پہتالیس سال
16:39چھہ ماہ چند روز تھی
16:41وفات سے پہلے آپ نے
16:42سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے درخواست کی
16:45کہ انہیں رسول علیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلوں میں
16:47دفن کرنے کی اجازت دیں
16:49سیدہ عائشہ نے اجازت دی دی
16:50لیکن مروان بن حکم
16:52اور بنو میہ کے کچھ لوگوں نے راستہ روک لیا
16:54اور انہوں نے اجازت نہیں دی
16:56امام حسن علیہ السلام نے ان کے خلاف
16:58تلوار اٹھانے کا ارادہ کیا
16:59لیکن پھر انہیں یاد آیا
17:01کہ ان کے بھائی نے وفات سے پہلے
17:02خون بھانے سے منع کیا تھا
17:04چنانچہ امام حسن نے لڑنے کے ارادہ ترک کر دیا
17:06امام حسن رضی اللہ عنہ کو
17:08جنت البقی قبرستان میں دفن کیا گیا
17:10جہاں ان کی والدہ سیدہ فاطمت الزہرہ
17:13رضی اللہ عنہ اور دیگر اہل بیعت مدفون ہیں
17:16ان کی وفات پر حضرت ابو حریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
17:19اے لوگو آج رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب وفات پا گئے ہیں
17:23امام حسن نے اپنے بھائی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
17:26اے ابو محمد اللہ آپ پر رحمت فرمائے
17:30آپ یقیناً حق کے حمایتی تھے
17:32آپ نبوت کی نسل سے ہیں
17:33اور حکمت و دانائی کا دودھ پینے والے ہیں
17:36اپنی روح کے ساتھ خوشبودار باغوں
17:38اور نعمت جنت کی طرف صدھاریں
17:40اللہ تعالی ہمارے اور آپ کے لئے
17:42عجر و سواب کو عظیم بنائے
17:49وہ سبر جو انہوں نے تانوں پر کیا
17:51وہ سبر جو انہوں نے خلافت چھوڑتے وقت کیا
17:53وہ سبر جو انہوں نے مدینے میں گوشہ نشینے کے دنوں میں کیا
17:56اور وہ سبر جو انہوں نے زہر کی شدید تکلیف میں کیا
17:59کہ اپنی زبان سے اپنے قاتل کا نام نہ لیا
18:02کہ کہیں کوئی بے گناہ مارا نہ جائے
18:04امام حسن نے اپنی زندگی میں یہ ثابت کر دیا
18:06کہ حق کے لئے صرف تلوار نہیں اٹھائی جاتی
18:08حق کے لئے کبھی کبھی صبر بھی اٹھانا پڑتا ہے
18:11کبھی کبھی اپنا حق چھوڑنا پڑتا ہے
18:12تاکہ دوسروں کا خون بچ سکے
18:14اور کبھی کبھی اتنے بڑے ظلم کو برداشت کرنا پڑتا ہے
18:17کہ اپنی بیوی نے زہر دیا
18:19اور پھر بھی زبان پر انصاف کے سوا کچھ نہ آئے
18:22اور تاریخ نے کیا فیصلہ سنایا
18:24جودہ بنتِ اشْ اس
18:26جس نے زہر دیا تھا
18:27جو انعام و اکرام کی لالچ میں آئی تھی
18:29جس نے ایک معصوم اور پاکزہ انسان کو دردناک موت دی تھی
18:32اسے دنیا نے کیا دیا
18:33جس نے اسے لالچ دیا تھا
18:35اس نے اپنا بادہ پورا نہیں کیا
18:36وہ دنیا میں بھی بے عزتی سے رہی
18:38اور آخرت کا حساب تو باقی ہے
18:40ظالم کا انجام ہمیشہ سے یہی رہا ہے
18:42لیکن امام حسن رضی اللہ عنہ
18:44وہ شہید ہو گئے
18:45لیکن مرے نہیں
18:46ان کی یاد زندہ ہے
18:48ان کا نام زندہ ہے
18:49ان کی تعلیمات زندہ ہیں
18:51چودہ سو سال گزر گئے
18:53لیکن جب بھی کوئی مسلمان
18:54بردواری کی مثال دینا چاہے
18:56تو امام حسن رضی اللہ عنہ کا نام آتا ہے
18:59جب بھی کوئی سخاوت کی بات کرے
19:01تو امام حسن رضی اللہ عنہ یاد آتے ہیں
19:04جب بھی کوئی امن اور صلح کی بات کرے
19:06تو امام حسن رضی اللہ عنہ کی
19:07یاد تازہ ہو جاتی ہے
19:09امام حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت
19:11ہمیں یہ سبق دیتی ہے
19:12کہ اس دنیا میں نیکی کا راستہ
19:14ہمیشہ آسان نہیں ہوتا
19:16کبھی کبھی نیکی پر تانے ملتے ہیں
19:17کبھی کبھی حق کا ساتھ دینے پر تکلیف ہوتی ہے
19:20اور کبھی کبھی اپنوں ہی سے دھوکہ ملتا ہے
19:22لیکن جو شخص ان تمام معذمائشوں میں صبر کرے
19:25اور اللہ کی رضا پر قائم رہے
19:27اللہ اسے وہ مقام دیتا ہے
19:29جو کسی ظالم کی دسترس میں نہیں
19:30امام حسن رضی اللہ عنہ کا وہ آخری جملہ یاد کریں
19:34جو انہوں نے زہر کی تکلیف میں امام حسین سے کہا تھا
19:37کہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب کوئی بے گناہ تکلیف میں مبتلا ہو
19:40یہ وہ عظمت ہے جو صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے
19:44یہ وہ مقام ہے جہاں خود کو فراموش کر کے دوسروں کی فکر کی جاتی ہے
19:48اللہ تعالیٰ ہمیں امام حسن رضی اللہ عنہ کی سیرت سے سبق سیکھنے
19:53اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
19:55آمین یا رب العالمین
19:57اور اگر آپ اہل بیت کی مکمل داستان
19:59امام حسین کا سفر کربلا
20:01بی بی زینب علیہ السلام کا تاریخی خطبہ
20:04اور اسلامی تاریخ کے دیگر اہم واقعات جاننا چاہتے ہیں
20:07تو ہمارے چینل سی وی کو ابھی سبسکرائب کریں
20:10گھنٹی دبائیں
20:11ہماری تمام ویڈیوز دیکھیں
20:12کیونکہ یہ داستان ابھی ختم نہیں ہوئی
Comments

Recommended