00:00نبی علیہ السلام نے ایک صحابی کو بلائیا صحیح بخاری کے الفاظ ہے
00:04اس نے آنے میں دیر کر دی
00:06تھوڑی دیر بعد آیا تو نبی علیہ السلام نے فرمایا جب میں نے تمہیں بلائیا تھا تم نے دیر کیوں
00:11کی
00:12تو اس نے کہا یا رسول اللہ میں نماز پڑھ رہا تھا
00:14تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا تم نے قرآن میں اللہ کا یہ حکم نہیں سنا
00:18کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بلائوا آئے تو فوراً حاضر ہو جاؤ
00:23یعنی نبی علیہ السلام وحد ہستی ہیں
00:26کہ اگر وہ بلائیں
00:30آپ فرض نماز بھی پڑھ رہے ہیں
00:31تو آپ نماز توڑ کر نہیں
00:34نماز چھوڑ کر ان کے پاس آئیں گے
00:36وہی سے نماز دوبارہ شروع کریں گے
00:38نماز آپ کی ٹوٹی نہیں
00:38کیونکہ نماز پڑھنا بھی اللہ کا حکم ہے
00:41اور قرآن میں نبی کی آواز پر لبائی کہنا بھی اللہ کا حکم ہے
00:44جب آپ اللہ کے ایک حکم سے دوسرے حکم کی طرف جا رہے ہیں
00:47تو آپ کی نماز نہیں ٹوٹے گی
00:48اچھا
00:49تو نبی علیہ السلام نے مہد انہیں قرآن میں یہ سنا نہیں
00:52اچھا اب
00:53کیونکہ نبی علیہ السلام نے اس کو ڈانٹ پلائی تھی
00:56اب علیہ السلام نے پھر
00:58اس کی دل جوئی کے لیے فرمایا
00:59کہ میں مسجد سے باہر نکلنے سے پہلے پہلے
01:03تمہیں قرآن کی سب سے عظیم صورت بتاؤں گا
01:06کہ کون سی ہے
01:09تھوڑی دیر بعد نبی علیہ السلام مسجد سے نکلے
01:11تو اس صحابی نے ہاتھ پکڑ لیا
01:12ان کا یارسل اللہ آپ نے وعدہ کیا تھا
01:14تو مجھے بتائیں قرآن کی سب سے عظیم صورت کون سی ہے
01:17تو آپ نے فرمایا
01:18الحمدللہ رب العالمين
Comments