00:01قرآن کریم میں
00:02اللہ جل جلالہو
00:04دو لوگوں کا قصہ ذکر کرتا ہے
00:08سورة القحف میں
00:09ذرب اللہ مثل الرجلی
00:11اللہ تبارک و تعالی
00:13تمہیں دو لوگوں کا قصہ سناتا ہے
00:16تمہارے سامنے مثال بیان کرتا ہے
00:18ان میں سے ایک وہ شخص تھا
00:20جسے اللہ تبارک و تعالی نے
00:22روزگار سے نوازا تھا
00:24اس کی معیشت مضبوط تھی
00:26اللہ نے اسے دو باغ عطا کیے تھے
00:29اور وہ باغ ایسے تھے
00:31کہ انہیں چاروں طرف سے
00:33خجور کے درختوں نے گھیرا ہوا تھا
00:35اور ان دونوں باغوں کے درمیان
00:38بھی اللہ نے اسے کھیتی عطا کی تھی
00:40اور دونوں باغوں کے درمیان
00:42نہر پہتی تھی
00:43اب آپ تصور کیجئے
00:45یہ ایک آئیڈی ایک سیچویشن ہے
00:47یہ انتہائی پسندیدہ صورتحال ہے
00:49کہ ایک آدمی کا باغ ہو
00:51باغ کے اندر سے تو پھل ملتا ہی ہے
00:53جو باغ کے کنارے پر باغ لگتی ہے
00:56باغ کی حفاظت کے لیے
00:58تو وہ باغ بھی جھاڑ جھنکار کی نہیں تھی
01:01خجور کے درختوں کی تھی
01:02چاروں طرف سے باغات کو
01:05خجور کے درختوں نے گھیرا ہوا تھا
01:07گویا کہ اسے باغ کے
01:09ہر چپے سے
01:11رزق مل رہا تھا
01:12اس کے باغ کا ہر چپا
01:14اس کے لیے پھلوں کا سبب تھا
01:17دو باغ تھے
01:18اور دونوں باغوں کے درمیان
01:20تھوڑی سی جگہ خالی تھی
01:21اب عام طور پر اگر دو باغوں کے درمیان
01:24تھوڑی سی جگہ خالی ہو
01:25تو وہ گزرگاہ ہوتی ہے
01:27یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہوتی ہے
01:30مالک کو عموماً وہاں سے رزق نہیں ملتا
01:33لیکن اس شخص پر
01:34اللہ نے ایسی نعمتیں کی تھی
01:36کہ دونوں باغوں کا جو درمیانی حصہ تھا
01:39وہاں اللہ نے اسے کھیتی نصیب کی تھی
01:41وہاں وہ کھیتی باڑی کرتا تھا
01:43اور باغات کو سیراب کرنے کے لیے
01:46پانی لانے کی بھی ضرورت نہیں تھی
01:48دونوں باغوں کے درمیان
01:50اللہ نے ایک نہر جاری کی ہوئی تھی
01:52اب اس سے بڑھ کر
01:54کسی پر کیا نعمتیں دنیا میں ہوں گی
01:56کہ اس طریقے سے
01:57اللہ تبارک و تعالی
01:59اسے ہر طرف سے نعمتوں کی فراوانی میں
02:02ڈبو دے
02:03نعمتوں میں غرط ہو جائے
02:05تو اس کا تقاضی کیا تھا
02:06اس کا تقاضی یہ تھا
02:08کہ وہ شکر اداک ہے
02:09لیکن اس نے کیا کیا
02:11اسے دوسرا شخص ملتا ہے
02:12یہ دو لوگوں کا قصہ ہے
02:14تو دوسرے شخص
02:15کوئی ساتھ اس کا مقالمہ ہوتا ہے
02:17اور وہ مقالمے میں
02:19تکبرانہ جملے کہتا ہے
02:21متکبرانہ انداز اختیار کرتا ہے
02:23کہ یہ تو میرا باغ ہے
02:25یہ تو میری کھیتی ہے
02:27یہ تو میری نہر ہے
02:29یہ تو میری محنت کا نتیجہ ہے
02:31بجائے اس کے
02:32کہ وہ ان نعمتوں کو
02:34اللہ کی طرف منصوب کرے
02:35اور روزگار اور امن
02:37کے ان نعمتوں پر
02:38اللہ کا شکر ادا کرے
02:40وہ ناشکری کی طرف جاتا ہے
02:42اور یہ سمجھتا ہے
02:43کہ یہ تو میری چیزیں ہیں
02:45اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے
02:47کہ میرا نہیں خیال
02:48کہ یہ نعمتیں کبھی زائل بھی ہوں گی
02:50یہ تو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہوں گی
02:52یہ تو میرے قوت بازو کا نتیجہ ہے
02:54اور یہ نعمتیں ہمیشہ کیلئے
02:56مجھے مجسر ہوں گی
02:57دوسرا اسے سمجھاتا ہے
02:59کہ ایسے نہ کرو
03:00میں تم سے مال میں کم ہوں
03:02لیکن بہرحال
03:03اللہ کی مشیعت سے کیا بائید ہے
03:06کہ وہ مجھے بھی مال سے نواز دے
03:08لیکن تم تکبر کا یہ انداز چھوڑ دو
03:11اس نے نہ چھوڑا
03:13تو نتیجہ کیا ہوا
03:14کہ ایک دن جب وہ صبح کو آتا ہے
03:17تو اس کے باغات کا نام و نشان ہی مٹ چکا تھا
03:20کوئی اللہ کی جانب سے ایسی آسمانی آفت آگئی تھی
03:23کہ وہ باغ
03:24اپنی چھتیوں کے بل گر پڑا تھا
03:27یعنی اس کا باغ جو تھا وہ ملیمیٹ تھا
03:30نہ وہاں کوئی درخت سالم تھا
03:32نہ وہاں وہ خوشنماں نہر تھی
03:34نہ وہاں وہ خوشنماں کھیتی تھی
03:36اب وہ بیٹھ کر کفے افسوس ملتا ہے
03:39کہ ہائے کاش
03:40میں نہ شکری نہ کرتا