Skip to playerSkip to main content
Muhammad Yousuf ki Islam Qabool krnay ki kahani aur Carreer... 💕

#YasirShami #MuhammadYousaf #Cricket #InzmamUlHaq #SaeedAnwar

Category

🗞
News
Transcript
00:00Muhammad Yusuf has been in 2001 when Muhammad of Arabi was written by Islam.
00:05In 2001, he had been in Islam after all, he had been in Islam after all.
00:134 years ago, he had been in the name of Yusuf Yohana.
00:19Then 4 years later, in 2005, he had been in Islam after all.
00:26Muhammad Yusuf has been in Islam after all.
00:29He had been in a very big pressure.
00:34He had been in 2001 when he was in Islam after all.
00:384 years ago, he had been in Islam after all.
00:44He had been in Pakistan as a legend.
00:48He had been in Islam after all.
00:49Muhammad Yusuf has been in Islam after all.
00:58He had been in Islam after all.
01:05And he had been in Islam after all.
01:17He had been in Islam after all.
01:23In 2005, Muhammad Yusuf has said that he would see the Khana Kaaba.
01:29That's when Muhammad Yusuf had a Muslim.
01:33Muhammad Yusuf has said that he would say that he would want to be a Muslim.
01:39But this is a problem.
01:40There was a problem.
01:41There was a problem.
01:41But there was a problem.
01:49In this book, Muhammad Yusuf has said that Muhammad Yusuf has said that he would have been given me.
01:54The book of Muhammad Yusuf has said that Muhammad Yusuf has said that Muhammad Yusuf was given to him.
02:06The two of them were created by Muhammad Yusuf.
02:08When it entered the Khlam, Muhammad Yusuf has said that Muhammad Yusuf has said that that you can pray for
02:16God.
02:16allah ki zhaat kabool karthi hai lehazah
02:18ap dounu miaabivi apne sar jhukalhe
02:21jaisi hi ap dounu ki nazar kaba
02:22per pared jo dhil mein dhuai ai
02:24ap dounu mangli jiye ga
02:25in dounu miaabivi jinhoonne sar jhukai huoe
02:28teh onhone sar uchaya aur unki pehli
02:30nizar kabae per paredi to dounu
02:32saroh katar rohne lag gaya
02:34sahid anwar ke bakol یہ dounu miaabivi
02:36itna dhaanin mar mar kar roh rehey
02:38they, pata nahi unko khana kaba
02:40mein kiya čiz nazar ayi tti, joh hum
02:42padaişi muslimano ko aaj tak nahi
02:49ڈیو بیوی پر ایسی عجیب کیفیت چھاگئی کہ یہ رکت احمیز مناظر انظمام الحق اور ان کی اہلیہ نے جب
02:56دیکھے تو وہ بھی اللہ کے حضور ندامت کے آنسوں سے رونے لگے
03:01یہ وہ وقت تھا جب محمد یوسف شاید یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ انہوں نے جو چار سال پہلے
03:07اسلام قبول کیا ہے اب اناؤنس کر دیا جائے
03:09Therefore, Pakistan has been announced that they have been announced by Islam.
03:14They have been announced by Islam.
03:15And their name is Joseph Yohanna, Muhammad Yohanna.
03:19Now, cricket in the field, the Joseph Yohanna has been announced by Islam.
03:24Islam is accepted after, after that, he has been announced by Islam.
03:27In 2006, Muhammad Yohanna has been in the world's record record,
03:33a year ago, 1788 test prints,
03:36ڈنیا میں وہ ریکارڈ قائم کیا
03:38کہ آج 21 سال گزرنے کو ہیں
03:40کوئی مائکہ لال ان کا یہ ریکارڈ
03:42نہیں توڑ سکا
03:43انہوں نے گیارہ میچز میں 98 کی
03:45ایوریس سے 9 سنچریوں کی مدد سے
03:48یہ 1788 رنز بنائے
03:50اور ان کے 1788 رنز کے ریکارڈ
03:52کو آج موڈرن کرکٹ کا
03:54کوئی بھی بڑا پلئیر نہیں توڑ سکا
03:56وہ ریکارڈ آج بھی محمد یوسف
03:58کے نام ہے
04:01محمد یوسف جب دائرہ
04:02اسلام میں داخل ہوئے تو ان کے والدین
04:04ان سے نراز تھے لیکن بعد میں
04:05ماں باپ بھائی اور بھابی نے بھی
04:08اسلام قبول کر لیا
04:09محمد یوسف کے پانچ بچے ہیں
04:11جن میں سے دو حافظ قرآن ہیں
04:13باقائدگی سے وہ ان کو قرآن کی تبلیغ کرتے ہیں
04:18دنیا کرکٹ کے اس عظیم لیجنڈ
04:20محمد یوسف نے ایک انتہائی غریب
04:23گھرانے میں اپنی آنکھ کھولی تھی
04:25وہ ریلوے کالونی میں رہا کرتے تھے
04:27یہ جو تصویر آپ اپنی سکرین پر دیکھ رہے ہیں
04:29اس میں محمد یوسف کی سارا شخص
04:31زہیر ہے
04:31زہیر اپنے کلپ کرکٹ کا کپتان تھا
04:34وہ چاہتا تھا کہ محمد یوسف کو
04:36کلپ میں کھلایا جائے
04:37لیکن کلپ انتظامیہ محمد یوسف کو نہیں کھلاتی تھی
04:40محمد یوسف کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے
04:42کوئی ذریعہ روزگار نہیں تھا
04:43اور فیملی کی کفالت کی ذمہ داری بھی ان پر تھی
04:46لہٰذا محمد یوسف نے کرکٹ کو خیر آباد کہہ دیا
04:49اور ایک درزی کی دکان پر کام کرنے لگے
04:51وہاں چار پانچ مہینے جب کام سیکھ رہے تھے
04:54چالک پھر ایک دن ایسا ہوا
04:55زہیر بھائی کلپ انتظامیہ کو لے کر
04:57اس درزی کی دکان پر پہنچ گئے
04:59جہاں محمد یوسف کام کر رہے تھے
05:01اور ان کو کہا
05:02کہ میری جگہ محمد یوسف کو اس میچ میں کھلایا جائے
05:04محمد یوسف اب زہیر بھائی کی جگہ ٹیم میں کھلے
05:07اور اس میچ میں انہوں نے سینچری سکور کر دی
05:10محمد یوسف نے سینچری کمپلیٹ کی
05:12اور گراؤنٹ سے باہر آئے
05:13تو ایک شخص جو یوکے سے آیا تھا
05:15اور اس میچ کو دیکھ رہا تھا
05:16اس نے یوسف کو کہا
05:17کہ تم تو بڑے اچھے کھلاڑی ہو
05:19اگر تم کاؤنٹی کھیلنا چاہتے ہو
05:21تو میں تمہارا کانٹریکٹ یوکے میں کروا سکتا ہوں
05:23محمد یوسف نے عامی بھر لی
05:25وہ یوکے چلے گئے
05:26کاؤنٹی کے سیزن میں بھی انہوں نے شاندار پرفارمس دکھائی
05:29کاؤنٹی میں اس پرفارمس کی بنیاد پر
05:31پاکستان اے ٹیم نے
05:32محمد یوسف کو یوکے میں کال کی
05:34اور کہا
05:34کہ آپ پاکستان کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں
05:36محمد یوسف نے اپنی ماں کو کال کی
05:39اور کہا
05:39کہ ماں آپ کتنی خوش ہیں
05:40اب تو پیسے کی بھی ریل پیل ہو گئی ہے
05:42کیا مجھے پاکستان واپس آ کر
05:44پاکستان اے ٹیم جوائن کر لینے چاہیے
05:46جس پر یوسف کی والدہ نے کہا
05:48میں تو تیرے یوکے جانے پر بھی خوش نہیں ہوں
05:50مجھے تیرے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے
05:52میں تو چاہتی ہوں
05:53کہ تُو میرے پاس رہے
05:54میری آنکھوں کے سامنے رہے
05:56اندازہ لگائیے
05:57محمد یوسف درزی کی دکان سے
05:59اٹھ کر کاؤنٹی کھیلنے گیا
06:00لیکن ماں نے آرڈر کر دیا ہے
06:02کہ واپس آجو
06:03وہ سب کچھ چھوڑ چھار کر واپس آ گیا
06:05پھر پاکستان اے ٹیم میں
06:07اس نے اپنی کامیابی کے جھنڈے گھڑے
06:09اور پھر پاکستان نیشنل کرکٹ ٹیم میں
06:11اس کا نام آ گیا
06:14اب یوسف ایک بہت بڑا لیجنڈ پلے باز بن گیا
06:17دوبارہ سے وہ تصویر دیکھئے
06:19محمد یوسف ریلوے کالونی کے
06:21اس پرانے محلے میں دوبارہ آیا
06:22جہاں زہیر کی پان کی دکان ہے
06:24وہ زہیر کا شکریہ دا کرنے آیا تھا
06:27محمد یوسف کو جب پتا چلا
06:28کہ زہیر کینسر میں مبتلا ہو چکا ہے
06:30تو زہیر کے تمام ہسپٹلز کے
06:32اخراجات پر جو لاکھوں روپے لگے
06:34وہ بھی محمد یوسف نے لگائے
06:36کیونکہ وہ اپنے موسن کو نہیں بھولا تھا
06:38وہ اپنے موسن کے پاس دوبارہ اس لیے آیا تھا
06:40تاکہ بتا سکے کہ محمد یوسف
06:42آج بھی اس ریلوے کالونی کے پرانے
06:44محلے میں کھیلنے والا وہی یوسف ہے
06:46جو کہ لکڑی کے بیٹ سے گھیلتا تھا
06:48اور دھوبی گھاٹ کی جرابوں کو
06:50بطور گیند استعمال کرتا تھا
06:52زہیر نے اپنے کینسر کے علاج کے
06:54اخراجات برداشت کرنے کے لیے
06:56محمد یوسف کا شکریہ آدھا کیا
06:57جس پر محمد یوسف نے جواب دیا
06:59زہیر بھائی میں نے آپ کی مدد تب کی
07:01جب میرے پاس سب کچھ تھا
07:03لیکن آپ نے میری مدد تب کی جب میرے پاس
07:06کچھ نہیں تھا
07:06دنیا کرکٹ کا یہ بڑا نام جو انتہائی متوسط گھر سے نکلا
07:10اور کرکٹ کی دنیا میں اس نے
07:11ایک بڑا نام بنایا
07:13اس نے دنیا کے ساتھ ساتھ
07:14اپنی آخرت کو بھی بہترین بنایا
07:16اپنے مزمان یاسو چھامی کو اجازت دیجئے
07:19اور اللہ تعالی ہمیں بھی بہترین ہدایت نصیب فرمائے
07:22اللہ حافظ
Comments

Recommended