Skip to playerSkip to main content
Behan Ko Bhai ne Akhir kyun Maar dia... ?? 😳😳

#YasirShami #HonorKilling #Supremecourt #Justicesystem #Faislabadincident

Category

🗞
News
Transcript
00:00ये जुलाई की तप्ती दुपहर थी वो अपनी बेहन के घर गया एहले खाना ने उसका इस्तिक्बाल किया और कहा
00:06बैठो उसने बैठते साथ अपनी भांजी से कहा एक ग्लास पानी लेकर आओ भांजी पानी लेने गई बेहन और बेहनोई
00:13उसके पास बैठे थे इसी दुरान
00:15उसने बारां बोर का पिस्तोल निकाला और बेहन के सर में गुली मार दी उसकी बेहन उसी जगा धेर हो
00:21गई बेहनोई ने उसे रोकने और मुजाहमत की कोशिश की तो उसने कहा कि अगर तुम आगे आए तो मैं
00:26तुमें भी मौत के खात उतार दूँगा और ये कहते हुए व
00:44इस शक्स से उसने शादी की थी उसके साथ वो हसी खुशी जिन्दगी गुजार रही थी और जोड़े के पांच
00:50बच्चे पैदा हो चुके थे इसी वज़ा से भाई की नाम ने हाथ गहरत बार बार जोश मार रही थी
00:55उसे किसी मौके की तलाश थी और आखिरकार 10 जुलाई
00:592013 को उसको ये मौका मिल गया उसने इस मौके का फाइदा उठाया और अपनी ही भेन को अब्दी मीन
01:06सुला दिया ये वाक्या फैसलाबाद में पेश आया डिच कोट थाने की पुलिस ने फोरण F.I.R. दर्च कर
01:12ली वाक्या साड़े बारा मजे पेश आया और इसकी F.I.R. ए
01:27केस अपनी आखरी मनजल यानी सुप्रीम कोट पहुँच किया। सुप्रीम कोट में इस केस की समाथ जस्टिस हाशम खान काकर
01:35और जस्टिस इश्टिस इश्टिस इश्टिस इश्टिस इश्टिस इश्टिस इश्टिस इश्टिस इश्टिस इश्टिस इश्टिस इश्टि
01:54They have to be a general man who want to respect the respect, the respect, the resistance and respect to
02:00a man who is a very strong man who is the best man who is active with his needs.
02:04A guy who has got his thoughts on his behalf, he has got his attention.
02:08But if he will his wife, his wife will get his attention.
02:11This is a victim of a victim of a victim to stop by the sexual assault and environmental trauma.
02:16The victim of a victim of a victim of a victim of a victim of a victim.
02:20Justice Ibrahim has got his own right to take care of his parents.
02:26And he wrote that he told me that he was just a victim of a victim.
02:29And if he had a victim of a victim, I would have got his attention.
02:38ڈیریکٹ ایف آئی آر درج کروا دی اکثر کیسز میں ایف آئی آر میں تاخیر ہوتی ہے جس سے یہ
02:44سمجھا جاتا ہے کہ مدعی نے کسی سے مشاورت کر کے کسی معصوم انسان کو ایف آئی آر میں نامزد
02:50کر دیا ہے
02:53مقتولہ کا شوہر موقع پر موجود تھا باقی گواہان بھی موقع پر موجود تھے اور وہ اچھے سے مجرم کی
02:59شناکت اور اس کے ہلیے سے واقف تھے اور انہوں نے ایک ہی ملزم کو ایف آئی آر میں نامزد
03:05کیا وہ اس کو اچھے طریقے سے جانتے تھے اس کے ساتھ ان کا اعتماد کا رشتہ تھا یہی وجہ
03:10تھی کہ انہوں نے اس کو اپنے گھر داخل ہونے دیا تھا
03:13لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ انہوں نے کسی معصوم انسان کا نام ایف آئی آر میں درج کروا دیا ہو
03:19کیس کے گواہان اسی گھر میں موجود تھے اور قتل کے وقت ان کا وہاں موجود ہونا اور مجرم کو
03:24پہچاننا فطری بات ہے
03:28جسٹس صاحب نے لکھا کہ ٹرائل کورٹ نے بلکل صحیح فیصلہ کیا اور ہائی کورٹ نے بھی اس سزا کو
03:34بلکل ٹھیک برقرار رکھا لہٰذا سپریم کورٹ بھی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے سزا پر عمل درامت کا حکم دیتی
03:41ہے
03:41یہ پاکستان کی تاریخ کا ایسا سنہری فیصلہ ہے جس کو تاریخ کے پنوں میں ہمیشہ گولڈن ورڈز میں لکھا
03:48جائے گا
03:51غیرت کے نام پر قتل پاکستان میں ایک سنگین معمہ بن چکا ہے
03:55آپ دیکھیں خاتون نے سولہ سترہ سال پہلے شادی کی اس کے پانچ بچے ہو گئے وہ ہسی خوشی زندگی
04:01گزار رہی تھی
04:02لیکن بھائی کی نام نہاد غیرت سولہ سترہ سال بعد جاگی اس نے جا کر بہن کو قتل کر دیا
04:08یہ قتل صرف ایک بہن کا نہیں بلکہ ان معصوم بچوں کا ہے جو ساری زندگی مسکینی میں اپنی زندگی
04:15کاتیں گے
04:15اس شوہر کا بھی یہ قتل ہے جس کی بیوی اس دنیا فانی سے کونچ کر گئی
04:19ان بوڑے والدین کا بھی قتل ہے جن کی جمان بیٹی چلی گئی
04:23اور ان بوڑے ساتھ سسر کا بھی قتل ہے جن کی جمان بہو منو مٹی تلے چلی گئی
04:28یہ ایک بہن کا قتل نہیں ایک رشتے کا قتل نہیں یہ بلکہ ایک پورے سماج کا قتل تھا
04:33جس پر جسٹس اشتیاک ابراہیم صاحب نے اتنا خوبصورت اور اتنا لوجیکل فیصلہ دے کر
04:39قانون کے طالب علموں سمیت پورے پاکستان کے لوگوں کا سرفخر سے بلند کر دیا ہے
04:44عام طور پر غیرت کے نام پر قتل کے کیسز میں ہم نے یہ دیکھا ہے
04:48کہ بھائی بہنوں کو قتل کر دیتے ہیں
04:50جس کے بعد بڑے والدین اپنے بیٹے کی محبت میں بیٹے کو معاف کر دیتے ہیں
04:55اور کیس ختم ہو جاتا ہے
04:56اور وہ لوگ چند مہینے یا سال جیل میں گزار کر آنے کے بعد
05:00بڑی غیرت کے ساتھ زندہ جیتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں
05:03کہ شاید انہوں نے بہت بڑا معارکہ مار لیا
05:05ہم جسٹس اشتیاک ابراہیم کے اس فیصلے کو
05:08ڈیلی پاکستان کی طرف سے سرخ سلام پیش کرتے ہیں
05:11اور ماتحد عدلیہ کے تمام مجسٹریٹس اور ججز کے لیے
05:14یہ ایک مشلے راہ بنے گا
05:16جس میں ان کو اس فیصلے کی روشنی میں بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملے گا
05:20اور بہت سی بہنوں کی عصمتیں عزتیں
05:22جن کو موت کے گھاٹ اتار کر منو مٹی تلے ان کو دفنا دیا جاتا ہے
05:27شاید وہ دوبارہ زندہ ہو سکیں
05:29اپنے مزبان یاسر شامی کو اجازت دیجئے
05:31اور دیکھتے ریڈیڈی پاکستان
05:32اللہ حافظ
Comments

Recommended