Skip to playerSkip to main content
#doctorbahu #kubrakhan #shujaasad

Doctor Bahu Episode 11 | 26th April 2026 | Kubra Khan | Shuja Asad | ENG SUB | HP Entertainment


Dr. Bahu explores the theme of quiet control hidden behind progressive appearances. In a respected family of doctors, their youngest non-doctor son is married to a doctor—adding another accomplished daughter-in-law to a household where women are not allowed to work.

When the youngest daughter-in-law enters this world, she begins to challenge the unspoken rules, subtly shifting power and exposing buried hypocrisies.

Cast:
Kubra Gohar Khan,
Shuja Asad,
Shahzad Nawaz,
Saba Hamid,
Hajra Yamin,
Mira Sethi,
Adeel Hussain,
Atiqa Odho,
Mahnoor Khan ,
Syed Mohammed Ahmed,
Marina khan,
Usman Mazhar,
Humza Sabzwari
Bakhtawar Mazhar & others.

Writer: Sanam Mehdi Zaryab.
Directed by: Mehreen Jabbar.

#doctorbahu #kubrakhan #shujaasad #shahzadnawaz
@ARYDigitalasia ​

Category

😹
Fun
Transcript
00:00ڈاکٹر بہو ڈرامے کی اگلی قسمیں آپ دیکھیں گے کہ سلمان فنکشن ختم ہونے کے بعد لفٹ میں سانیا اور
00:06اپنی مام کے ساتھ واپس جا رہا تھا جب اسی لفٹ میں سلمان کی ایکس ان لوگوں کے ساتھ آ
00:12کر کھڑی ہو جاتی ہے
00:13اسے دیکھر سلمان تو مو پھیر لیتا ہے اور وہ بھی غصے سے سلمان کو سانیا کے ساتھ دے کر
00:19پلٹ جاتی ہے
00:20اس میں فرہین بیگم اس لڑکی کو اپنی بہو کے ساتھ کمپیئر کرتی ہے تو انہیں اپنا فیصلہ بلکل ٹھیک
00:26لگتا ہے
00:26فرہین بیگم کو ہوتل چھوڑنے کے بعد سلمان سانیا کے ساتھ باہر آتا ہے آج اس سے اپنے دل کی
00:32بات کرنی ہے
00:33تم نے مجھے مکمل کر دیا مجھے لگتا تھا شاید جب میں مر جاؤں گا تو کسی کو کوئی اتنا
00:38زیادہ فرق نہیں پڑے گا
00:40بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہہ دوں لیکن ویٹ کر رہا تھا کہ شدت والی محبت ہے کہ نہیں
00:46وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے اگر محبت میں شدت نہ ہو تو پھر ایسی محبت کا کیا
00:51فائدہ
00:52اس کی بات پر سانیا حیران ہوتی ہے محبت جس پر سلمان کہتا ہے کہ ہاں سانیا مجھے تم سے
00:58محبت ہو گئی ہے
00:59یہ چیز تو ڈاکٹر فرہین بھی نوٹ کرتی ہے اور سانیا سے کہہ ہی ریتی ہے کہ سلمان تمہارے ساتھ
01:04بہت خوش ہے
01:05اور یہ خوشی اس کی آنکھوں سے جھلگتی ہے وہ خوش رہ سکتا ہے آگے بھی
01:10اگر یہ دونوں میاں بیوی ان کی زندگیوں میں انٹرفیر کرنا چھوڑ دیں
01:14کیونکہ شاہ نواز نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ اپنی بہو کو کسی صورت ڈاکٹر روبینہ کی ہسپٹل میں
01:20کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے
01:22اسی سلسلے میں وہ ڈاکٹر روبینہ سے بھی بات کرتے ہیں اور کل کے رویو میں میں نے بتایا تھا
01:27کہ ان دونوں کا بھی کوئی ماضی میں چکر رہا ہے
01:30تو اس اپیسوٹ میں یہ بات تو کلیر ہو کہ یہ واقعی ڈاکٹر شاہ نواز کے تکبر کی وجہ سے
01:35ڈاکٹر روبینہ نے انہیں چھوڑ دیا تھا
01:37ڈاکٹر روبینہ شاہ نواز کی بات کبھی نہیں مانیں گی بلکہ جان بوجھ کر
01:42سانیہ کو اپنے ہسپٹل میں پوائنٹ کریں گی
01:44ادھر آپ دیکھیں گے کہ منہا جس نے اپنے شہر کو خود ڈاکٹر امبر سے بات کرتے ہوئے سنا تھا
01:50جو اسے منہا کو چھوڑنے پر اسے طلاق دینے پر اکسا رہی تھی
01:54اس بات پر منہا فیزان کو گھر آتے ہی آڑے ہاتھوں لیتی ہے
01:57اور یہاں پر شاہ نواز ان دونوں کے بیچ میں پڑھ کر
02:00مسئلہ سولف کرنے کی کوشش کرتے ہیں
02:03جس پر فیزان کو بھی غصہ آ جاتا ہے
02:04کہ آپ ہم میہ بیوی کے بیچ میں مت پڑھیں
02:08کیونکہ آپ ہمارے بیچ کو معاملات کو مزید خراب کر رہے ہیں
02:12دوسری طرف سلمان جس کے دوست نے اسے دھوکہ دیا
02:15فروڈ کیا اور سلمان نے اس کے خلاف کیس کر دیا
02:18اسے نہ صرف ہر جانا لیا
02:20بلکہ اس کی ماں کو بھی جا کر سب کچھ بتا دیا
02:22اور اس بات پر وہ سلمان سے بدلہ لینے اس کے آفیس آ جاتا ہے
02:26اسے بری طرح سے مارتا بیٹتا ہے
02:29زخمی کرتا ہے اور شاید گولی بھی مار دیتا ہے
02:32اور یہاں سلمان کے ورکرز فوراں اس کے موبائل سے
02:35سانیہ کو فون کرتے ہیں اور اسے ہاسپٹل لے کر بھاگتے ہیں
02:42کل جاتی ہے سٹریچر پر ڈالے وہ سلمان کو لے کر بھاگتی ہے
02:45آپریشن ٹھیٹر کی طرف ادھر شاہ نواز اور ان کی بیگم بھی
02:49فوری طور پر ڈاکٹر روبینہ کے ہاسپٹل پہن جاتے ہیں
02:52شاہ نواز کو غصہ ہے کہ سانیہ اپنے ہاسپٹل میں لانے کی بجائے
02:56اسے اس تھرڈ کلاس ہاسپٹل میں لے آئی
02:58اپنا ہاسپٹل چھوڑ کر اپنے بیٹے کا علاج
03:00وہ ڈاکٹر روبینہ کے ہاسپٹل میں کیسے ہونے دے سکتے ہیں
03:04لیکن مجبور ہیں
03:05اس وقت سلمان کی زندگی کا سوال ہے
03:07ڈاکٹر فرہین الہیدہ پریشان منہ انہیں تسلیہ دے رہی ہے
03:11ایسے میں فیضان کو بھی آخر کار اطلاع مل جاتی ہے
03:14وہ بھی پہنچتا ہے ہاسپٹل
03:15ماں اپنے بیٹے کو دیکھ کر روتے ہوئے اس کے گلے لگتی ہیں
03:18میرے بھی سلمان کو کچھ ہوگا تو نہیں
03:20تم خود جا کر دیکھو مجھ میں ہمت نہیں ہے
03:23ادھر ڈاکٹر شاہ نواز اس موقع پر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے
03:27وہ بحث کرتے ہیں ڈاکٹر روبینہ سے
03:29کہ میں نہیں چاہتا کہ میرے گھر کی بہو اس گھٹیا ہاسپٹل میں کام کرے
03:34حالت دیکھی ہے اس ہاسپٹل کی
03:36ڈاکٹر فرہین بھی اس وقت وہی موجود تھی
03:39اور اپنے شہر کی باتیں سن کر سر پکڑ لیتی ہیں
03:42ڈاکٹر روبینہ جواب دیتی ہے
03:44شاہ نواز کو کیا ہوا ہے
03:45اس کی حالت بالکل ٹھیک ہے
03:47کیونکہ یہ ہاسپٹل ہے ہوتیل نہیں
03:50ادھر سلمان کی حالت پر
03:52سانیہ کی جان نکل رہی ہے
03:53اس کے لیے اتنی پریشان ہے
03:55رو رہی ہے اور اس موقع پر اس کی ماں
03:57اسے باتیں سناتی ہیں
03:58بہت شوق تھا نا تمہیں اس ہاسپٹل میں کام کرنے کا
04:02اس کے لیے تم اپنے سسرال والوں سے
04:04لڑائیاں کر رہی تھی
04:05بتتمیزیاں کر رہی تھی
04:07سانیہ کو اپنی ماں کی باتوں پر یقین نہیں آتا
04:09آپ اس وقت مجھ سے ایسی باتیں کیوں کر رہی ہیں
04:12لیکن اسے اندازہ نہیں تھا
04:14کہ شاہ نواز نے ان کے گھر جا کر
04:16اس کی ماں کو بھڑکایا ہے
04:18کہ ان کی بیٹی سسرال میں کیا کرتی پھر رہی ہے
Comments

Recommended