Skip to playerSkip to main content
#islamicstories #oldstories #newstories #realstories #religiousstories #storyofmylife #horrorstories #explainstories #stories #kidsstories #teenstories #biblestories #shortstories #familystories #redditstories #cowboystories #revengestories #westernstories #2englishstories #storiesforteen #bedtimestories #storiesenglish #wildweststories #bedtimestories #nigerianstories #animatedstories #calmdramastories #kidsbiblestories #storiesinenglish #minnobiblestories #fairytalesstories #bestrevengestories #familydramastories #mrbookandmestories #bestwildweststories #biblestoriesforkids
#historicalstories #historicalartstories #historicallovestories #emotionalhistoricallovestories #victorianhistoricalromancestories #historysleepstoriesscarystories #epicoriginstoriesinhistory #touchingstories #extremerevengestoriesin history, horror stories, creepyhistories #strangestories #oldweststories #englishstories #historicalsleepstory #storiesforsleep #truestories #victorianlovestories #historicalbedtimestory #sleepstories #epicoriginstories
#fyp #funnystory #romanticstory #lovefight #barbiestory #sadstory #horrorstory #crunchstory #ghoststory #newstory #oldstory #aistory #aibunkervideo #aibunker #aihouse #aifood #aithings #howtocreateaivideo#motupatlu #kitten #ai #story #crafting #food #tatto #pov #procreate #drawing #art #illustration #digitalart #whydidntmyexcomeback #animated #animatedmovies #animation #animationmovies #cartoonmovies #latestmovies #inhindimovies #hindidubbedmovies #inhindidubbed #islmicstory #islamicstories

Category

😹
Fun
Transcript
00:00:00بہت پرانے وقت کی بات ہے۔
00:00:01جب زمین پر بادشاہوں کا rates ہوا کرتا تھا
00:00:04اور انسان اپنی طاقت اور ہنر پر آج سے زیادہ ناز کیا کرتا تھا
00:00:09اس دور میں عرب کے ایک مشہور شہر کے تخت پر
00:00:12سلطان عجفر نام کا ایک حکمران rates کرتا تھا
00:00:16جس کی سلطنت کی سرحدیں دور دور تک fяли ہوئی تھی
00:00:20اور جس کے خزانے موتی اور جواہرات سے بھرے رہتے تھے
00:00:23مگر کہتے ہیں نا
00:00:25کہ انسان کی فطرت ہی ایسی ہے
00:00:27that when everyone is all about everything,
00:00:29then it is still width and викka.
00:00:31And this is the situation,
00:00:32our captain of God of Jafar would be the.
00:00:34His head of his bravery and strength
00:00:36and the staff would be the full strength of his.
00:00:38But when his ears of a strange strange,
00:00:41he would still do it.
00:00:43He would still have no choice.
00:00:46He would still have no way to do it.
00:00:48He would still have in his life,
00:00:50his name was only a bad girl.
00:00:53He would still have no way to do it.
00:00:56He would still have no way to do it.
00:00:57قدرت کا کوئی ایسا کرشمہ ہو
00:00:59جو انسانی اکرل کو دنگ کر دے
00:01:01اسی خیال میں وہاں
00:01:03اکثر اپنے محل کے بڑے حال میں
00:01:04پریشان ٹہلتا رہتا تھا
00:01:06ایک روز اس نے اپنے وزیر خاص کو طلب کیا
00:01:09جو بڑا ہی چالاک اور دنیا دار آدمی تھا
00:01:12سلطان نے اپنی بیچینی بیان کرتے ہوئے کہا
00:01:15کہا کہ
00:01:16اے وزیر
00:01:16ہماری سلطنت میں ہر چیز کی پھراوانی ہے
00:01:20دشمن ہماری تلوار کی چمک سے ڈرتے ہیں
00:01:22اور رئیت ہمارے انصاف سے خوش ہے
00:01:24مگر ہمارا دل چاہتا ہے
00:01:27کہ ہمارے دربار میں کوئی ایسا
00:01:28عجیب اور غریب توحفہ ہونا چاہیے
00:01:31جسے دیکھ کر زمانہ حیران رہ جائے
00:01:33کوئی ایسی چیز
00:01:34جو نہ آج تک کسی نے دیکھی ہو
00:01:37اور نہ سنی ہو
00:01:38وزیر نے عدب سے جھک کر ارض کیا
00:01:40جہاں پناہ آپ کی خواہش
00:01:43سر آنکھوں پر
00:01:44مگر دنیا میں اب کون سا ایسا عجوبہ بچا ہے
00:01:46جو آپ کی نظر سے گزرانہ ہو
00:01:48ہم نے دور دور کے ملکوں سے کاریگر بلوائے
00:01:51مہنگے کالین اور نایاب ہیرے منگوائے
00:01:53اب اور کیا باقی ہے
00:01:55سلطان نے گصے سے وزیر کی طرف دیکھا اور کہا
00:01:58یہی تو تمہارا کام ہے وزیر
00:02:00اگر سب کچھ عام لوگوں جیسا ہی رہا
00:02:02تو ہم میں اور معمولی سوداگروں میں
00:02:05کیا فرق رہ جائے گا
00:02:06ہمیں وحد چاہیے جو ناممکن ہو
00:02:08پورے ملک میں منادی کرا دو
00:02:10اعلان کروا دو
00:02:12کہ جو کوئی بھی شخص
00:02:13ہمیں کوئی ایسی چیز بنا کر دے گا
00:02:15جو قدرت کے اصولوں کو مات دے دے
00:02:17تو ہم اسے موہ مانگا انام دیں گے
00:02:19اسے اتنا سونا دیں گے
00:02:21کہ اس کی سات پشتیں راج کریں گی
00:02:23لیکن اگر کسی نے ہمارا وقت جایا کیا
00:02:26تو اس کا سر کلم کر دیا جائے گا
00:02:28بادشاہ کا حکم پتھر کی لکیر تھا
00:02:31بس پھر کیا تھا
00:02:32اگلے ہی روز سے شہر کے چوک اور گلیوں میں
00:02:35ڈھول بجنے لگے
00:02:35اور شاہی اعلان گونجنے لگا
00:02:38کہ سلطان کو ایک نایاب عجوبہ چاہیے
00:02:40یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح
00:02:42آس پاس کے علاقوں
00:02:44اور دوسرے ملکوں تک پھیل گئی
00:02:46کئی مہینے گزر گئے
00:02:47دور دراز سے بڑے بڑے جادوگر
00:02:50ویگیانک اور کاریگر آئے
00:02:52کسی نے سونے کا پیڑ بنایا
00:02:54جس پر چاندی کے پرندے بولتے تھے
00:02:56کسی نے پانی پر چلنے والی ناؤ بنائی
00:02:58جو بینہ چپو کے چلتی تھی
00:03:00مگر سلطان عجفر کو
00:03:02ان میں سے کسی چیز نے
00:03:04متاثر نہیں کیا
00:03:05وہ ہر بار مایوس ہو جاتا اور کہتا
00:03:07یہ تو بس کھلونے ہیں
00:03:09مجھے کچھ اور بڑا چاہیے
00:03:11آخر کار ایک دن جب سلطان
00:03:13اپنی امید لگ بھک ہو چکا تھا
00:03:15دربار میں ایک بوڑھا کمزور سا شخص حاضر ہوا
00:03:18اس کے کپڑے پھٹے پرانے تھے
00:03:20چہرے پر جھریاں تھیں
00:03:21اور کمر جھکی ہوئی تھی
00:03:23مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک
00:03:26اور اعتماد تھا
00:03:26دربار کے پہرے دار اسے روکنے لگے
00:03:29لیکن اس نے بلند آواز میں کہا
00:03:32بادشاہ سلامت تک خبر پہنچاؤ
00:03:34میں وہ چیز لایا ہوں یا بنا سکتا ہوں
00:03:36جو آج تک انسانی آنکھ نے نہیں دیکھی
00:03:38شور سن کر سلطان نے اسے اندر بلایا
00:03:41اس بوڑھے شخص نے
00:03:42جس کا نام نجیب تھا
00:03:44اور جو پیشے سے ایک معمولی بڑھائی تھا
00:03:47آگے بڑھ کر عدب سے سلام کیا اور بولا
00:03:50سلطانِ عظم
00:03:51میں کوئی جادوگر نہیں ہوں
00:03:53میں بس لکڑی کا ایک کاریگر ہوں
00:03:55لیکن میرے ہاتھوں میں
00:03:56اللہ نے وہ ہنر دیا ہے
00:03:58کہ میں بے جان لکڑی میں بھی جان ڈال سکتا ہوں
00:04:01دربار میں بیٹھے ہوئے وزیر
00:04:03اور دوسرے امیر لوگ ہنسنے لگے
00:04:05کہ بھلا ایک بڑھائی کیا عجوبہ بنائے گا
00:04:07سلطان نے بھی تنج کرتے ہوئے کہا
00:04:09بوڑھے میاں
00:04:11تمہارے ہاتھ تو کانپ رہے ہیں
00:04:13تم کیا بناوگے
00:04:14ہم نے بڑے بڑے ماہر لوگوں کو
00:04:16خالی ہاتھ لوٹایا ہے
00:04:17اپنی جان کی خیر مناؤ
00:04:19اور واپس چلے جاؤ
00:04:20نجیب نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا
00:04:24بادشاہ
00:04:24میں آپ کے لئے
00:04:25آب نوس اور ساگوان کی لکڑی سے
00:04:27ایک ایسا گھوڑا بناوں گا
00:04:29جو زمین پر دوڑے گا نہیں
00:04:30بلکہ ہوا میں اڑے گا
00:04:32وہ گھوڑا جسے نہ چارہ چاہیے نہ پانی
00:04:35بس سوار کا اشارہ سمجھے گا
00:04:37اور بادلوں سے اوپر لے جائے گا
00:04:39یہ سنتے ہی پورے دربار میں
00:04:41سنناٹا چھا گیا
00:04:42اڑنے والا گھوڑا
00:04:43وہ بھی لکڑی کا
00:04:44یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی
00:04:47سلطان کی آنکھیں
00:04:48پھٹی کی پھٹی رہ گئیں
00:04:49اس نے حیرانی سے پوچھا
00:04:51کیا واقعی
00:04:52کیا تم ہوش میں ہو
00:04:53اگر تم نے جھوٹ بولا
00:04:55تو جانتے ہو
00:04:56انجام کیا ہوگا
00:04:57نجیب نے گردن جھکا کر کہا
00:04:59جان کی بانزی لگا کر
00:05:00کہتا ہوں حکمران
00:05:01مجھے چھ مہینے کا وقت دیجئے
00:05:04اور ایک الگ کارخانہ دیجئے
00:05:06جہاں کوئی نہ آ سکے
00:05:07اگر چھ مہینے بعد
00:05:09وہ گھوڑا نہ اڑا
00:05:10تو آپ میرا سر
00:05:11اسی وقت کلم کر دیجئے
00:05:13سلطان کے اندر کا لالت جاگ اٹھا
00:05:15اڑنے والا گھوڑا مل جائے
00:05:17تو وہ پوری دنیا فتح کر سکتا تھا
00:05:19اس نے فوراں حامی بھر دی
00:05:21اور کہا
00:05:22منظور ہے
00:05:23تمہیں جتنی لکڑی
00:05:24جتنا ساج و سامان چاہیے ملے گا
00:05:27لیکن یاد رکھنا
00:05:28اگر تم ناکام ہوئے
00:05:30تو موت تمہارا مخدر ہوگی
00:05:32نجیب کو شاہی محل کے
00:05:34ایک سنسان حصے میں
00:05:36ایک بڑا کمرہ دے دیا گیا
00:05:37دروازے پر پہرہ لگا دیا گیا
00:05:40تاکہ کوئی اندر نہ جھاک سکے
00:05:42اور پھر شروع ہوا وہ کام
00:05:44جس کا چرچہ
00:05:45آنے والے وقت میں
00:05:46ہر زبان پر ہونے والا تھا
00:05:48دن گزرنے لگے
00:05:49رات اور دن اس کمرے سے
00:05:51صرف آری چلنے کی
00:05:53ہتھوڑی ٹھوکنے کی
00:05:54اور لکڑی گھسنے کی آوازیں آتی رہتی تھی
00:05:57لوگ باہر سے کان لگا کر سنتے
00:05:59مگر کسی کو کچھ دکھائی نہ دیتا
00:06:02نجیب بوڑھا ضرور تھا
00:06:04لیکن جب وہ لکڑی پر کام کرتا
00:06:06تو اس کے ہاتھوں کی رفتار
00:06:07کسی جوان سے بھی تیز ہو جاتی تھی
00:06:09وہ ہر پرزے کو بڑی باریکی سے تراشتا
00:06:12اس نے گھوڑے کے اندر
00:06:13چھوٹے چھوٹے کل پرزے
00:06:21یہ صرف لکڑی کا کھلونا نہیں ہے
00:06:24بلکہ ویگیان اور قودرت کے راجوں
00:06:26کا ایک مجموعہ ہے
00:06:27ادھر سلطان کا صبر روزانہ
00:06:30کم ہوتا جا رہا تھا
00:06:31وہ ہر روز وزیر سے پوچھتا
00:06:33کیا خبر ہے اس بڑی کی
00:06:35وزیر جو شروع سے ہی نجیب سے جل رہا تھا
00:06:37کیونکہ اگر وہ کامیاب ہو جاتا
00:06:40تو وزیر کی اہمیت کم ہو جاتی
00:06:41وہ سلطان کے کان بھرنے لگا
00:06:44جہاں اپنا
00:06:45مجھے تو لگتا ہے وہ بوڑھا پاگل ہے
00:06:48یا پھر وہ کوئی ایسی چیز بنا رہا ہے
00:06:50جو کل کو آپ کے لیے خطرہ بن جائے
00:06:53سوچئے
00:06:54اگر وہ گھوڑا لے کر بھاگ گیا تو
00:06:56یا کسی دشمن کو بیچ دیا تو
00:06:59سلطان کے ماتھے پر شکن آتی
00:07:01مگر وہ چھ مہینے پورے ہونے کا انتظار کرتا رہا
00:07:04آخر کار وہ دن آ ہی گیا جب میاد پوری ہوئی
00:07:08صبح صویر نجیب نے دروازہ کھٹ کھٹایا
00:07:10اور پہرے داروں سے کہا
00:07:12کہ بادشاہ کو خبر دو
00:07:13کہ کام مکمل ہو چکا ہے
00:07:16سلطان اپنے پورے لاب لشکر کے ساتھ
00:07:18وزیر اور شہزادے کے ساتھ وہاں پہنچا
00:07:21محل کے بڑے میدان میں
00:07:23ایک بڑی سی چیز رکھی تھی
00:07:24جسے ایک بھاری ریشمی کپڑے سے ڈھاکا گیا تھا
00:07:27ہوا چلی تو کپڑا تھوڑا سا ہلا
00:07:29اور اندر سے ایک کالی چمکدار لکڑی کی جھلک دکھائی دی
00:07:33سلطان کا دل زھور زھور سے دھڑک رہا تھا
00:07:35اس نے بے سبری سے پوچھا
00:07:37اے نجیب کیا تُو نے اپنا وعدہ پورا کیا
00:07:40یا اپنی موت کا سامان تیار کیا ہے
00:07:43نجیب جو اب پہلے سے بھی زیادہ کمزور اور تھکا ہوا لگ رہا تھا
00:07:47اس کی آنکھیں گڑھوں میں ڈھنس گئی تھی
00:07:49مگر چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا
00:07:51اس نے آگے بڑھ کر بادشاہ کے قدم چومے اور کہا
00:07:55حضور اللہ کے کرم سے میں نے وہاں چیز بنا دی ہے
00:07:59جو قیامت تک یاد رکھی جائے گی
00:08:01بس حکم دیجئے
00:08:03تاکہ میں اس پر سے پردہ ہٹا سکوں
00:08:05سلطان نے ہاتھ ہلایا
00:08:07اور نجیب نے دھیرے دھیرے
00:08:08وہاں ریشمی کپڑا کھینچنا شروع کیا
00:08:11جیسے جیسے کپڑا ہٹتا گیا
00:08:13سب کی سانسیں رکتی گئیں
00:08:15سامنے ایک بہت خوبصورت
00:08:17طاقتور اور اصلی دکھنے والا گھوڑا کھڑا تھا
00:08:20جو پوری طرح سے کالی آونوس کی لکڑی سے بنا تھا
00:08:24اس کی آنکھیں ہیرے کی تھیں
00:08:25جو دھوپ میں چمک رہی تھیں
00:08:27اور اس کے کندھوں پر دو چھوٹے سے دستے لگے ہوئے تھے
00:08:30وہاں اتنا زندہ لگ رہا تھا
00:08:32کہ لگتا تھا ابھی ہنہنا اٹھے گا
00:08:34مگر سوال ابھی بھی وہی تھا
00:08:37کیا یہ لکڑی کا دھیر واقعی
00:08:39ہوا میں اڑ سکے گا
00:08:40وہ منجر دیکھ کر سب کی سانسیں رکی ہوئی تھی
00:08:43اور دربار میں ایک سوئی گرنے کی بھی آواز سنائی دے سکتی تھی
00:08:47کیونکہ سب کی نظریں
00:08:48اس بے جان لکڑی کے گھوڑے پر جمی تھی
00:08:51جو دھوپ میں کالی چمک مار رہا تھا
00:08:54تب ہی نجیب نے ایک گہری سانس لی
00:08:56اور سلطان کی اجازت پا کر
00:08:58اس گھوڑے کی پیٹ پر سوار ہو گیا
00:09:00اس کے پیر رکابوں میں جم گئے
00:09:02اور ہاتھ ان چھوٹے دستوں پر تھے
00:09:04جو گھوڑے کی گردن کے دونوں طرف لگے ہوئے تھے
00:09:07لوگوں میں خس خس شروع ہو گئی
00:09:09کہ یہ بوڑھا اب گرے گا
00:09:11اور اپنی ہڈیاں توڑوائے گا
00:09:13لیکن نجیب نے لوگوں کی باتوں پر
00:09:15دھیان نہیں دیا
00:09:16اور اپنی کانپتی ہوئی انگلیوں سے
00:09:18گھوڑے کے داہینے کندھے پر لگا
00:09:20ایک چھوٹا سا پیج گھوما دیا
00:09:22پیج گھومتے ہی گھوڑے کے پیٹ کے اندر سے
00:09:24ایک ایسی آواز آئی
00:09:26جیسے ہزاروں چھوٹی چھوٹی گھڑیان
00:09:28ایک ساتھ ٹک ٹک کرنے لگی ہوں
00:09:30اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے
00:09:32وہ بھاری بھرکم لکڑی کا جانور
00:09:34زمین سے ایک انچ اوپر اٹھا
00:09:37پھر دو انچ
00:09:38اور پھر اچانک ایک تیز ہوا کے جھونکے کے ساتھ
00:09:41سیدھا آسمان کی طرف لپکا
00:09:43نیچے کھڑے درباریوں کی چیخیں
00:09:45نکل گئیں
00:09:46اور سلطان اجاورتو
00:09:48اپنے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا
00:09:50اس کا موں کھلا کھلا رہ گیا
00:09:52نجیب اب زمین سے اتنا اوپر جا چکا تھا
00:09:55کہ نیچے کھڑے لوگ
00:09:56اسے چھینٹی برابر دکھائی دے رہے تھے
00:09:58وہ بادلوں کے بیچ گھوم رہا تھا
00:10:01کبھی گھوڑے کو داہینے موڑتا
00:10:02تو کبھی بائیں
00:10:03وہ لکڑی کا گھوڑا
00:10:05کسی اصلی آبھی پرندے کی طرح
00:10:07ہوا میں تیر رہا تھا
00:10:08نہ کوئی پنک پھڑ پھڑانے کی آواز
00:10:10نہ دھوان
00:10:11بس ہوا کو چیرنے کی سن سناتی ہوئی آواز
00:10:14نجیب نے اوپر سے نیچے دیکھا
00:10:16تو اسے پورا شہر ایک نقشے جیسا لگا
00:10:19شاہی محل
00:10:20باگ بگیچے
00:10:21ندیام
00:10:22سب کچھ اس کے قدموں کے نیچے تھا
00:10:24اسے اپنی زندگی میں پہلی بار
00:10:27وہ احساس ہوا
00:10:27جو صرف پرندوں کو ہوتا ہے
00:10:29آجادی کا احساس
00:10:31وہ چاہتا تو وہیں سے دور اڑ جاتا
00:10:33کسی اور ملک
00:10:35کسی اور دنیا میں
00:10:37جہاں کوئی سلطان اور کوئی حکم نہ ہو
00:10:39مگر وہ ایک وعدہ خلاف انسان نہیں تھا
00:10:42اس نے وعدہ کیا تھا
00:10:43اور اسے اپنا ہنر ثابت کرنا تھا
00:10:46قریب آدھے گھنٹے تک
00:10:47ہوا میں کرتب دکھانے کے بعد
00:10:49اس نے بائیں کندھے کا پیچ گھما کر
00:10:51گھوڑے کا رکھ زمین کی طرف کیا
00:10:53گھوڑا بڑی نرمی سے نیچے اترنے لگا
00:10:56جیسے ایک پرندہ اپنے گھونسلے میں واپس آتا ہے
00:10:58بلکل ویسے ہی وہ گھوڑا سلطان کے قدموں سے
00:11:01کچھ دوری پر آ کر
00:11:02زمین پر ٹک گیا
00:11:04نجیب گھوڑے سے نیچے اترا
00:11:06اس کا چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا
00:11:08مگر آنکھوں میں جیت کی چمک تھی
00:11:10پورے میدان میں مرحبا
00:11:12مرحبا کی آوازیں گونج اٹھیں
00:11:15سلطان عجفر اپنی خوشی
00:11:17سنبھال نہیں پا رہا تھا
00:11:18وہ دوڑ کر نجیب کے پاس آیا
00:11:20اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا
00:11:23مانگ نجیب
00:11:24آج تو جو مانگے گا وہ تجھے ملے گا
00:11:27تو نے تو وہا کر دکھایا
00:11:32یہ گھوڑا میری سلطنت کی سب سے بڑی طاقت بنے گا
00:11:35بتا تجھے کیا چاہیے
00:11:37سونا چاندی جاگیر
00:11:39یا میرے برابر کا رتبہ
00:11:40نجیب نے عدب سے سر جھکایا اور بولا
00:11:43جہاں پناہ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں
00:11:46مجھے دولت کا لالچ نہیں
00:11:47بس میری بیٹی کی شادی کے لیے
00:11:50کچھ انتظام ہو جائے
00:11:51اور مجھے میرے ہنر کی عزت ملے
00:11:53یہی کافی ہے
00:11:54سلطان نے مسکراتے ہوئے کہا
00:11:56بس اتنا
00:11:57ہم تجھے اس سے کہیں زیادہ دیں گے
00:11:59لیکن تب ہی پیچھے کھڑے
00:12:01وزیر خاص کے چہرے پر
00:12:03حسد کی ایک کالی پرچھائیں اتر آئیں
00:12:06اس نے سوچا کہ اگر یہ بڑھائی
00:12:08آج اتنا عظیم بن گیا
00:12:10تو کل بادشاہ کی نظر میں
00:12:12میری کوئی عوقات نہیں رہ گی
00:12:13اور سب سے بڑی بات یہ
00:12:15کہ اگر اس نے ایسا ہی ایک اور گھوڑا
00:12:17کسی دشمن بادشاہ کے لیے بنا دیا
00:12:20تو ہمارا کیا ہوگا
00:12:21یہ خیال آتے ہی وزیر نے
00:12:23دھیرے سے سلطان کے کان میں
00:12:24جھر گھولنا شروع کیا
00:12:25بادشاہ سلامت
00:12:27خوشی کے مارے ہوش نہ کھوئیے
00:12:29ذرا سوچئے
00:12:30یہاں آدمی کتنا خطرناک ہے
00:12:32سلطان نے حیرانی سے پوچھا
00:12:34خطرناک
00:12:36یہ تو ایک معمولی کاریگر ہے
00:12:37وزیر نے مکاری سے کہا
00:12:39حضور
00:12:40یہی تو دھوکہ ہے
00:12:42آج اس نے یہ گھوڑا آپ کے لیے بنایا ہے
00:12:45کل اگر پڑوسی ملک کے بادشاہ نے
00:12:48اسے دگنا سونا دے دیا
00:12:50اور اس نے ویسا ہی ایک گھوڑا انہیں بنا دیا تو
00:12:52وہ تو ہوا سے حملہ کریں گے
00:12:55اور ہماری اونچی دیواریں
00:12:56اور فوج دھری کی دھری رہ جائیں گی
00:12:59اس گھوڑے کا راج صرف اس کے دماغ میں ہے
00:13:01اور جب تک یہ زندہ ہے اور دیکھ سکتا ہے
00:13:04یہ راج پھیل سکتا ہے
00:13:05سلطان کے چہرے سے مسکراہت گائب ہو گئی
00:13:08اور شک کے بادل چھا گئے
00:13:11بادشاہوں کی سب سے بڑی کمزوری
00:13:12ان کا ڈر ہوتا ہے
00:13:14تخت چھن جانے کا ڈر
00:13:16سلطان نے نجیب کی طرف دیکھا
00:13:18جو ابھی بھی امید بھری نظروں سے
00:13:20انعام کا انتظار کر رہا تھا
00:13:22سلطان کے دماغ میں وزیر کی بات گھر کر گئی تھی
00:13:24اس نے سوچا کہ بات تو سچ ہے
00:13:27اگر یہ ہنر آم ہو گیا
00:13:29تو میری بادشاہت کی کیا اہمیت رہ جائے گی
00:13:31یہ نایاب چیز
00:13:32صرف اور صرف میرے پاس ہونی چاہیے
00:13:34اور اس کا راج اس بڑھے کے ساتھ ہی ختم ہونا چاہیے
00:13:37ایک پل میں ماحول بدل گیا
00:13:39جو سلطان ابھی نجیب کی تعریف کر رہا تھا
00:13:42اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا
00:13:43اس نے پہرے داروں کو اشارہ کیا
00:13:46اور گرج کر بولا
00:13:47گرفتار کر لو اسے
00:13:49سپاہی فوراں آگے بڑھے
00:13:51اور نجیب کو دبوچ لیا
00:13:52نجیب چیخا
00:13:53یہ کیا ظلم ہے بادشاہ
00:13:55میں نے تو آپ کا سپنا پورا کیا ہے
00:13:58یہ کیسا انعام ہے
00:14:00سلطان نے بے رحمی سے کہا
00:14:01تیرا ہنر ہی تیرا جرم ہے نجیب
00:14:04ہم نہیں چاہتے کہ دنیا میں
00:14:06کوئی دوسرا جادوی گھوڑا بنے
00:14:07اور یہ تب ہی ممکن ہے
00:14:09جب تیرے ہاتھ اور تیری آنکھیں
00:14:11سلامت نہ رہیں
00:14:12یہ سن کر نجیب کا کلیجہ کانپ گیا
00:14:15وہ گڑ گڑ آیا
00:14:16نہیں حضور
00:14:17میں قسم کھاتا ہوں
00:14:19میں کسی اور کے لیے کام نہیں کروں گا
00:14:21مجھ پر رحم کیجئے
00:14:23میری بیٹی کا کیا ہوگا
00:14:24مگر طاقت کے نشے میں
00:14:26چور سلطان نے ایک نہ سنی
00:14:27وزیر کی طرف دیکھ کر
00:14:29اس نے ایک خوفناک حکم دیا
00:14:31اس کے ہاتھ مت کاٹو کیونکہ ہو سکتا ہے
00:14:33کبھی اس گھوڑے کی مرمت کی ضرورت پڑے
00:14:36لیکن اس کی آنکھیں نکال لو
00:14:38تاکہ یہ دوبارہ کبھی کوئی نیا نقشہ نہ بنا سکے
00:14:41اور نہ ہی کسی اور کو یہ ہنر سکھا سکے
00:14:44پورے میدان میں سناٹا چھا گیا
00:14:46لوگ سہمے ہوئے تھے
00:14:47مگر کسی میں بادشاہ کے خلاف بولنے کی حمت نہیں تھی
00:14:51جھلاد آگے بڑھے اور لوہے کی گرم سلانکھیں لے کر
00:14:54نجیب کی طرف لپکے
00:14:56نجیب کی دردناک چیخوں نے آسمان ہلا دیا
00:14:59وہ شخص جس نے کچھ دیر پہلے
00:15:02اسی آسمان کی سیر کی تھی
00:15:04اب ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں دھکیل دیا گیا تھا
00:15:07اس کی آنکھیں چھین لی گئیں
00:15:08خون سے لطپت نجیب کو محل کے دروازے پر پھینک دیا گیا
00:15:12جیسے کوئی بیکار کچرا ہوں
00:15:14اور وہ جادوی گھوڑا
00:15:16اب سلطان کی نجی ملکیت بن چکا تھا
00:15:18سلطان نے وزیر سے کہا
00:15:20اس گھوڑے کو شاہی خزانے کے سب سے محفوظ کمرے میں رکھوا دو
00:15:24آج سے صرف میں اور میرا خاندان اسے دیکھے گا
00:15:28مگر قدرت کا کھیل دیکھئے
00:15:30اسی بھیڑ میں سلطان کا ایک لوتا بیٹا
00:15:33جوان اور بہادر شہزادہ کمران بھی کھڑا تھا
00:15:36اس نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا
00:15:39اسے اپنے باپ کی اس بے رحمی پر گھن آ رہی تھی
00:15:42لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ گھوڑا
00:15:44اس کے دماغ پر سوار ہو گیا تھا
00:15:46وہ سوچ رہا تھا کہ کیسی عجیب چیز ہے
00:15:49جس کے لیے اتنا بڑا ظلم کیا گیا
00:15:51رات ہوئی تو پورا محل سو گیا
00:15:53لیکن نجیب اپنے ٹوٹے ہوئے دل
00:15:56اور بے نور آنکھوں کے ساتھ سڑک کنارے تڑپ رہا تھا
00:15:59اس نے آسمان کی طرف موہ اٹھایا
00:16:02جہاں اب وہ کچھ نہیں دیکھ سکتا تھا
00:16:04اور روتے ہوئے بددعا دی
00:16:06اے بادشاہ
00:16:07تو نے میرے ہنر کی یہ قیمت دی ہے
00:16:10یاد رکھنا
00:16:11یہی گھوڑا جسے تو نے پانے کے لیے میری دنیا اندھیری کی ہے
00:16:14ایک دن تیری سب سے پیاری چیز کو تجھ سے دور لے جائے گا
00:16:18تیرا گرور ہی تیری بربادی بنے گا
00:16:20ادھر محل کے اندر کھزانے والے کمرے میں گھوڑا رکھا ہوا تھا
00:16:24بلکل شانت
00:16:25لیکن شہزادہ کمران اپنی نیند کھو چکا تھا
00:16:29اس کے دل میں ایک کشم کش چل رہی تھی
00:16:31ایک طرف باپ کا ڈر
00:16:33اور دوسری طرف اس جادوی سواری کا نشاہ
00:16:36آخر کار آدھی رات کے وقت جب پہرے دار گافلت میں تھے
00:16:40شہزادہ چپکے سے اپنے کمرے سے نکلا
00:16:43اس نے چابی چورائی
00:16:45اور اس کمرے کی طرف بڑھا جہاں وہ کالا گھوڑا
00:16:47اس کا انتظار کر رہا تھا
00:16:49دروازہ کھلا تو اندھیرے میں گھوڑے کی ہیرے جیسی آنکھیں چمک اٹھیں
00:16:54شہزادہ دھیرے سے آگے بڑھا
00:16:56اس نے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرا
00:16:58اسے لگا جیسے گھوڑا اسے بلا رہا ہے
00:17:01اس نے سوچا
00:17:02بس ایک بار
00:17:03صرف تھوڑی دیر کے لیے
00:17:05میں بھی اس پر بیٹھ کر دیکھوں
00:17:06کہ دنیا اوپر سے کیسی لگتی ہے
00:17:09یہ سوچتے ہی وہ گھوڑے پر سوار ہو گیا
00:17:11اسے نجیب کا وہ طریقہ یاد تھا
00:17:14جو اس نے دن میں دیکھا تھا
00:17:16داہینے کندے کا پیچ گھومانا ہے
00:17:18انجانے میں اور جوش میں آ کر
00:17:20شہزادے نے وہیں پیچ گھومانا دیا
00:17:22اور اگلے ہی پل چھت کی کھڑکی سے گزرتی ہوئی
00:17:26وہ کالی بلا ہوا میں بلند ہو گئی
00:17:28لیکن مصیبت یہ تھی
00:17:30کہ شہزادے نے اڑنا تو دیکھ لیا تھا
00:17:33مگر اسے یہ نہیں پتا تھا
00:17:35کہ واپس نیچے کیسے آتے ہیں
00:17:36کیونکہ اترنے والا پیچ کون سا ہے
00:17:38یہ بات نجیب نے بھیڑ میں صاف صاف نہیں بتائی تھی
00:17:42اور اب گھوڑا تیزی سے اوپر اور اوپر جا رہا تھا
00:17:45بادلوں کو چیڑتے ہوئے
00:17:47چاند کی طرف
00:17:48اور شہزادہ کمران اب اکیلا تھا
00:17:50زمین سے ہزاروں فٹ اوپر
00:17:53ایک ایسی سواری پر جس کا نیانترن اس کے ہاتھ میں نہیں تھا
00:17:57شہزادہ کمران ہواوں کے دوش پر تھا
00:18:00اور گھوڑا بجلی کیسی تیزی کے ساتھ
00:18:02بادلوں کو چیرتا ہوا بلندیوں کی طرف بھاگا جا رہا تھا
00:18:05نیچے کی دنیا اندھیرے میں ڈوب چکی تھی
00:18:08اور اوپر صرف خاموش تارے چمک رہے تھے
00:18:11جو اس بیبس مسافر کو حیرت سے دیکھ رہے تھے
00:18:15شہزادے کے ہاتھ پاؤں تھنڈ سے سن ہونے لگے تھے
00:18:18اور خوف نے اس کے دل کو جکڑ لیا تھا
00:18:21کیونکہ وہ جتنی بار لگام کھینچتا
00:18:23گھوڑا رکھنے کے بجائے اور تیزی سے اڑنے لگتا
00:18:26اسے اپنی موت صاف دکھائی دینے لگی
00:18:29اور وہ اپنے کی پر پچھتانے لگا
00:18:31کہ کاش اس نے اپنے والد کی اجازت کے بغیر
00:18:34یہ قدم نہ اٹھایا ہوتا
00:18:36اور اس بیچارے اندھے بڑھائی کی بدعا کا اثر
00:18:39اب شروع ہو چکا تھا
00:18:41پوری رات وہ اسی اجتراب اور پریشانی کے عالم میں
00:18:44ہوا میں بھٹکتا رہا
00:18:46کبھی اسے لگتا کہ وہ سمندر کے اوپر ہے
00:18:49تو کبھی پہاڑوں کی چوٹیاں آئیں
00:18:51اسے نیچے دکھائی دیتی
00:18:52سرد ہوایں اس کے چہرے کو تھپڑ مار رہی تھی
00:18:55مگر وہ ہمت نہیں ہارا
00:18:57وہ جانتا تھا کہ یہ گھوڑا کوئی معمولی جانور نہیں
00:19:00بلکہ انسانی دماغ کی اجازت کی گئی
00:19:03ایک کل ہے
00:19:04اور ہر کل کا کوئی نہ کوئی توڑ ضرور ہوتا ہے
00:19:07اسی امید پر جب صبح کی پہلی کرن پھوٹی
00:19:11اور سورج نے اپنی سنہری چادر دنیا پر بچھائی
00:19:14تو روشنی میں شہزادے نے گوھر سے گھوڑے کے جسم کو دیکھنا شروع کیا
00:19:19اس نے سوچا
00:19:20کہ اگر داہینے کندھے پر لگے کیل سے
00:19:23یا اوپر اٹھا ہے
00:19:24تو ضرور بائیں کندھے
00:19:26یا گردن کے آس پاس کوئی دوسرا کیل ہوگا
00:19:28جو اس کی رفتار کم کرے گا
00:19:30یا اسے نیچے اتارے گا
00:19:32اس نے لڑکھڑاتے ہاتھوں سے
00:19:34گھوڑے کی گردن اور کان کے پاس
00:19:36ٹٹولنا شروع کیا
00:19:37اچانک اس کی انگلی بائیں کان کے پیچھے
00:19:40چھپے ہوئے ایک باریک سے
00:19:42اُبھار پر پڑی جو بلکل
00:19:44چھوٹے سے دانے جیسا تھا
00:19:45یا اللہ مدد کر
00:19:47کہہ کر اس نے اس اُبھار کو دبایا
00:19:50اور دھیرے سے گھوما دیا
00:19:51قدرت کا کرشمہ دیکھئے
00:19:53کہ جیسے ہی وہ پرجہ گھوما
00:19:55گھوڑے کی اڑنے کی آواز بدل گئی
00:19:58اور وہ جو اب تک تیر کی طرح
00:20:00سیدھا جا رہا تھا
00:20:01اب آہستہ آہستہ گولائی میں
00:20:03گھومتے ہوئے زمین کی طرف جھکنے لگا
00:20:06شہزادے کی جان میں جان آئی
00:20:07اس نے دیکھا کہ وہ ایک ایسے
00:20:10شہر کے اوپر اڑ رہا ہے
00:20:11جسے اس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا
00:20:14وہ شہر سفید سنگ مرمر
00:20:16کی عمارتوں سے بنا تھا
00:20:17جس کے بیچ میں ہرے بھرے باغ
00:20:19اور نہریں بہرہی تھی
00:20:21یہ جگہ اس کے اپنے وطن سے
00:20:23ہزاروں میل دور تھی
00:20:24شاید سنہ یا روم کا کوئی علاقہ تھا
00:20:28شہزادہ بڑی ہوشیاری سے
00:20:29گھوڑے کو ایک آلیشان محل کی چھت کی طرف لے گیا
00:20:32کیونکہ وہ کسی عام سڑک پر اتر کر
00:20:34لوگوں کا تماشا نہیں بننا چاہتا تھا
00:20:36گھوڑا بڑی نرمی کے ساتھ
00:20:38محل کی سب سے اونچی چھت پر اترا
00:20:40اور جھٹکے کے ساتھ رک گیا
00:20:42شہزادے نے زمین پر پاں رکھا
00:20:44تو اس کا سر چکرا گیا
00:20:46کیونکہ پچھلے کئی پہر سے وہ
00:20:48ہوا میں تھا اور بھوک پیاس
00:20:50نے اسے نڈھال کر دیا تھا
00:20:52اس نے گھوڑے کو چھت کے کونے میں
00:20:54چھپے ہوئے گمبت کے پیچھے کھڑا کر دیا
00:20:56تاکہ کوئی اسے دیکھ نہ لے
00:20:58اور خود دبے پاں
00:21:00سیڑھیوں کی طرف بڑھا
00:21:01وہ یہ جاننا چاہتا تھا
00:21:03کہ یہ کس بادشاہ کا محل ہے
00:21:05اور کیا یہاں اسے پناہ مل سکتی ہے
00:21:08یا وہ کسی دشمن کے گھر میں آگیرا ہے
00:21:10محل بلکل خاموش تھا
00:21:12کیونکہ ابھی صبح کا آگاز ہی ہوا تھا
00:21:15اور سب سو رہے تھے
00:21:17شہزادہ چھت سے اتر کر
00:21:19ایک گلیارے میں پہنچا
00:21:20جہاں بے حد نفیس پردے لٹک رہے تھے
00:21:23اور گلاب کی خوشبو آ رہی تھی
00:21:25چلتے چلتے وہ ایک بڑے دروازے کے پاس رکا
00:21:28جو آدھا کھلا تھا
00:21:30اس نے اندر جھانکا تو دنگ رہ گیا
00:21:32سامنے ایک پھولوں سے سجا ہوا بستر تھا
00:21:35جس پر ایک لڑکی گہری نیند میں سو رہی تھی
00:21:37وہ اتنی حسین تھی
00:21:39کہ شہزادے کو لگا
00:21:41شاید کوئی ہور جنت سے زمین پر آ گئی ہے
00:21:43اس کے چہرے کا نور
00:21:45سورج کی کرنوں کو بھی مات دے رہا تھا
00:21:47یہ اس ملک کی شہزادی تھی
00:21:49جس کا نام شمس اننسہ تھا
00:21:53شہزادہ کمران
00:21:54جو خود بھی بہت خوبصورت جوان تھا
00:21:56اس نظارے کو دیکھ کر
00:21:58اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھا
00:21:59وہ وہیں دروازے پر کھڑا
00:22:01اسے تکتا رہا
00:22:02لیکن تب ہی شہزادی کے پاس سوئی ہوئی
00:22:04ایک باندی کی آنکھ کھل گئی
00:22:06اس نے جب ایک اجنبی مرد کو
00:22:08شاہی کمرے کے دروازے پر دیکھا
00:22:10تو وہ چیخ پڑی
00:22:11چور چور پہرداروں دوڑو
00:22:14اس شور سے شہزادی بھی ہڑ بڑا کر اٹھ گئی
00:22:17اور اپنے سامنے اس اجنبی کو دیکھ کر گھبرا گئی
00:22:21شہزادہ کمران نے فوراً اپنے ہاتھ اٹھا دیئے
00:22:24اور بڑے عدب سے بولا
00:22:36شہزادی نے گوھر سے دیکھا
00:22:37تو اسے محسوس ہوا
00:22:38کہ اس شخص کے کپڑے شاہی ہیں
00:22:40اور اس کے چہرے پر چوروں والی مکاری نہیں
00:22:43بلکہ شرافت ہے
00:22:44اس نے باندی کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا
00:22:47اور پوچھا
00:22:48اے اجنبی
00:22:50یہ محل زمین سے اتنا اونچا ہے
00:22:52اور یہاں پرندوں کے سوا کوئی نہیں آسکتا
00:22:55تم یہاں کیسے آئے
00:22:57کیا تم کوئی جادوگر ہو
00:22:59شہزادے نے اپنی داستان سنائی
00:23:01کہ کیسے وہ ایک لکڑی کے گھوڑے پر سوار ہو کر
00:23:04یہاں پہنچا ہے
00:23:05شہزادی کو یقین نہ آیا
00:23:07تو شہزادہ اسے چھت پر لے گیا
00:23:09اور وہاں جادوی گھوڑا دکھایا
00:23:11لکڑی کے بیجان جانور کو دیکھ کر
00:23:14شہزادی حیران رہ گئی
00:23:15اس نے ایسی چیز کہانیوں میں بھی نہیں سنی تھی
00:23:19شہزادی شم سننسا جو خود بہادر اور اکل مند تھی
00:23:22اسے شہزادے کی باتوں اور اس کی شخصیت میں
00:23:26ایک کشش محسوس ہوئی
00:23:27اس نے کہا
00:23:28اے شہزادے
00:23:30تمہارے اس راج کو میں اپنے تک ہی رکھوں گی
00:23:33اگر میرے والد کو پتا چل گیا
00:23:35کہ ایک اجنبی مرد میرے محل میں گھسا ہے
00:23:38تو وہ تمہارا سر کلم کر دیں گے
00:23:40اس لئے بہتر ہے
00:23:42کہ تم دن بھر یہاں چھپے رہو
00:23:44اور رات ہوتے ہی یہاں سے نکل جانا
00:23:46ادھر دوسری طرف سلطان اجفر کے محل میں
00:23:49کوہرام مچا ہوا تھا
00:23:51جب صبح بادشاہ کی آنکھ کھلی
00:23:53اور اس نے خزانے کا کمرہ خالی پایا
00:23:56اور پہرداروں نے بتایا
00:23:58کہ شہزادہ غائب ہے
00:23:59تو سلطان پاگلوں کی طرح چیخنے لگا
00:24:02اسے اپنی دولت
00:24:03یا گھوڑے کا گم نہیں تھا
00:24:05بلکہ اپنے جوان بیٹے کی فکر کھائے جا رہی تھی
00:24:08اسے فوراں وہ اندھا بڑھائی نجیب یاد آیا
00:24:11سلطان نے حکم دیا
00:24:13جاؤ اس بڑھائی کو ڈھونڈ کر لاؤ
00:24:15وہی بتا سکتا ہے
00:24:17کہ میرا بیٹا کہاں گیا ہوگا
00:24:18سپاہی نجیب کو گھسیٹتے ہوئے دربار میں لائے
00:24:21نجیب کی آنکھوں کی جگہ
00:24:23اب صرف جھکم تھے
00:24:25اور وہ درد سے کراہ رہا تھا
00:24:27سلطان اس کے قدموں میں گر گیا
00:24:29اور بولا
00:24:29اے نجیب مجھے ماف کر دے
00:24:32میں نے لالچ میں آ کر تجھ پر ظلم کیا
00:24:34میرا بیٹا اس گھوڑے پر سوار ہو کر اڑ گیا ہے
00:24:37بتا وہ واپس کیسے آئے گا
00:24:39اسے روکنے کا طریقہ کیا ہے
00:24:41نجیب نے اپنے خالی دیدے آسمان کی طرف اٹھائے
00:24:44اور درد بھری آواز میں کہا
00:24:46بادشاہ
00:24:46اب پچتانے کا کیا فائدہ
00:24:48میں نے کہا تھا کہ یہ ہنر خطرناک ہے
00:24:51اس گھوڑے کی لگام اب ہواوں کے ہاتھ میں ہے
00:24:54اگر شہزادے نے صحیح وقت پر اتارنے کی کیل نہیں ڈھونڈی
00:24:57تو وہاں بھوک اور پیاس سے آسمان میں ہی دم توڑ دے گا
00:25:01یہ میری بددعا ہے جو رنگ لا رہی ہے
00:25:03تو نے میری آنکھیں لی
00:25:04اب خدا تجھ سے تیرا بیٹا لے رہا ہے
00:25:07سلطان یہ سن کر زمین پر بیٹھ گیا
00:25:09اور جھار و کتار رونے لگا
00:25:11پوری سلطنت میں ماتم چھا گیا
00:25:13لیکن قسمت دیکھئے کہ وہاں دور دیش میں
00:25:17شہزادہ کمران
00:25:19شہزادی شمس ان نساء کی باتوں میں ایسا کھویا
00:25:21کہ اسے وقت کا ہوش ہی نہ رہا
00:25:23وہ دونوں دن بھر چھت پر چھپے باتیں کرتے رہے
00:25:27شہزادی نے اسے کھانا کھلایا
00:25:28اور شہزادے نے اسے اپنے ملک کے قصے سنائے
00:25:31شام ہوتے ہوتے دونوں کے دلوں میں
00:25:33محبت کا بیچ پڑ چکا تھا
00:25:35لیکن مسیبت ابھی ٹلی نہیں تھی
00:25:37کیونکہ شہزادی کے باپ
00:25:39جو اس ملک کا سلطان تھا
00:25:41اس کے جاسوس ہر جگہ پھیلے ہوئے تھے
00:25:43شام کو جب اندھیرہ ہوا
00:25:45تو ایک پہرے دار نے چھت پر کچھ عجیب سایا دیکھا
00:25:48اور شک ہونے پر
00:25:49وہ چوری چھپے اوپر چڑ گیا
00:25:51وہاں اس نے دیکھا
00:25:53کہ شہزادی ایک غیر مرد کے ساتھ بیٹھی ہے
00:25:55اور پاس میں ایک عجیب سی کالی شہ رکھی ہے
00:25:58وہ فوراں بھاگا
00:26:00اور سیدھا بادشاہ کے پاس پہنچا
00:26:01اور خبر دی
00:26:02جہاں پناہ گزب ہو گیا
00:26:05شہزادی کے محل کی چھت پر
00:26:07ایک اجنبی آدمی ہے
00:26:08اور اس کے ساتھ کوئی کالا سا جانور بھی ہے
00:26:11یہ سنتے ہی وہاں کے سلطان کا خون کھول اٹھا
00:26:14وہ اپنی ننگی تلوار لے کر
00:26:16فوج کے ساتھ
00:26:17شہزادی کے محل کی طرف دوڑا
00:26:19شور سن کر شہزادی گھبرا گئی
00:26:22اور بولی
00:26:22کمران میرے والد آ رہے ہیں
00:26:25وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے
00:26:26جلدی جاؤ اور اپنی جان بچاؤ
00:26:28مگر شہزادہ کمران
00:26:30جس کے رگوں میں شاہی خون تھا
00:26:33وہ ڈر کر بھاگنے والا نہیں تھا
00:26:34اس نے کہا
00:26:35میں تمہیں یوں مسیبت میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا
00:26:38لیکن تب ہی دروازہ ٹوٹا
00:26:40اور سینک اندر گھسائے
00:26:42سلطان نے چیخ کر کہا
00:26:44پکڑ لو اس گستاخ کو
00:26:46اور کارڈ ڈالو اس کے ٹکڑے
00:26:47شہزادہ تیزی سے گھوڑے کی طرف لپکا
00:26:50لیکن اس سے پہلے کی وہ گھوڑے پر بیٹھ پاتا
00:26:53سینکوں نے اسے گھیر لیا
00:26:55اب شہزادہ اکیلا تھا
00:26:57اور سامنے پوری فوج کھڑی تھی
00:26:59اور سب سے بڑی پریشانی یہ تھی
00:27:01کہ گھوڑا تھوڑی دوری پر کھڑا تھا
00:27:03جہاں تک پہنچنا ناممکن لگ رہا تھا
00:27:06سپاہیوں کی ننگی تلواروں کے گھیرے میں کھڑا
00:27:09شہزادہ کمران
00:27:11موت کو اپنے اتنا قریب دیکھ کر بھی گھبرایا نہیں
00:27:14بلکہ اس کے چہرے پر شاہی روب اور اتمنان تھا
00:27:17اس نے غیر ملک کے سلطان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
00:27:21بلند آواز میں کہا
00:27:22اے بادشاہ
00:27:23تلوار کے زور پر کسی کی گردن جھکانا آسان ہے
00:27:27مگر کسی کے ہنر اور تقدیر کو کاتنا ناممکن ہے
00:27:31میں کوئی معمولی راہ جن یا چور نہیں ہوں
00:27:33جیسا آپ سمجھ رہے ہیں
00:27:35بلکہ میں فورس کے سلطان عزفر کا بیٹا ہوں
00:27:38اور میرے پاس جو سواری ہے
00:27:40وہ کوئی عام جانور نہیں
00:27:41بلکہ جادوگروں اور حکماؤں کی بنائی ہوئی
00:27:45ایک ایسی کل ہے
00:27:46جو انسان کی عقل سے پرے ہے
00:27:49سلطان یہ سن کر تھوڑا سہما
00:27:50اور اس نے ہاتھ کے اشارے سے سپاہیوں کو روک دیا
00:27:53اس نے گرج کر پوچھا
00:27:55اگر تُو واقعی شہزادہ ہے
00:27:57تو چوروں کی طرح میری بیٹی کے محل میں کیا کر رہا تھا
00:28:00اور یہ لکڑی کا پتلا کیا بلا ہے
00:28:02کمران نے موقع غنیمت جانا
00:28:05اور بڑی ہوشیاری سے ایک چال چلی
00:28:07اس نے کہا
00:28:08حضور
00:28:09میں یہاں صرف راستہ بھٹک کر آیا تھا
00:28:12اور رہی بات اس گھوڑے کی تو
00:28:14یہ وہی برا خیسانی ہے جو ہواوں سے باتیں کرتا ہے
00:28:17اگر آپ نے میری جان لی
00:28:19تو یہ گھوڑا یہیں ٹوٹ کر بکھر جائے گا
00:28:21اور اس کا راج
00:28:22ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا
00:28:25لیکن اگر آپ چاہیں
00:28:26تو میں آپ کو اس کا کرشمہ دکھا سکتا ہوں
00:28:28سلطان کے دل میں لالچ
00:28:30اور تجسس جاگ اٹھا
00:28:32اس نے سوچا کہ اگر یہ لڑکا
00:28:34سچ کہہ رہا ہے
00:28:36تو یہ گھوڑا میری فوج کے لیے بڑا کام آ سکتا ہے
00:28:39اس نے کہا
00:28:40ٹھیک ہے
00:28:40ہمیں دکھا
00:28:41یہ کیسے چلتا ہے
00:28:43مگر یاد رکھنا
00:28:44ہمارے تیر انداز ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں
00:28:46ذرا سی ہوشیاری کی تو
00:28:48تیروں سے چھلنی کر دیئے
00:28:50جاؤ گے
00:28:50شہزادہ کمران
00:28:52آہستہ آہستہ چلتے ہوئے
00:28:53اس گھوڑے کے پاس پہنچا
00:28:55جو اب بھی وہیں کھڑا تھا
00:28:56اس نے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرا
00:28:58اور بڑے ہی سکون سے
00:29:00اس پر سوار ہو گیا
00:29:01شہزادی شمس النسا دروازے کی
00:29:03اوٹ سے
00:29:04یہ سب دیکھ رہی تھی
00:29:05اور اس کا دل
00:29:06دھک دھک کر رہا تھا
00:29:07کہ اب کیا ہوگا
00:29:08کمران نے لگام ہاتھ میں لی
00:29:10اور سلطان کی طرف دیکھ کر
00:29:12مسکر آیا
00:29:12اس نے کہا
00:29:14دیکھئے بادشاہ سلامت
00:29:15قدرت کا تماشا
00:29:17اور اس سے پہلے کی کوئی کچھ
00:29:18سمجھ پاتا
00:29:19اس نے داہین کندے کا
00:29:21وہی مخصوص
00:29:22پیج گھوما دیا
00:29:23ایک تیز سنسنا ہٹ ہوئی
00:29:25اور گھوڑا زمین سے
00:29:26سیدھا آسمان کی طرف
00:29:27ایسے اچھلا
00:29:28جیسے کمان سے تیر نکلا ہو
00:29:30سپاہیوں نے تیر چلائے
00:29:32مگر جب تک تیر وہاں پہنچتے
00:29:34شہزادہ بادلوں کی گود میں
00:29:36جا چکا تھا
00:29:37وہ اوپر سے شہر کا چکر لگانے لگا
00:29:39اور سلطان نیچے ہاتھ ملتا رہ گیا
00:29:42شہزادے نے محل کے اوپر سے گزرتے ہوئے
00:29:44شہزادی کو ایک نظر دیکھا
00:29:46اور ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا
00:29:48کہ میں واپس آؤں گا
00:29:50اور پھر گھوڑے کا رکھ
00:29:51اپنے وطن کی طرف مور دیا
00:29:53سفر واپسی کا بھی لمبا تھا
00:29:55مگر اب شہزادے کو
00:29:57گھوڑے کو کابو کرنے کا ہنر آ گیا تھا
00:29:59وہ جانتا تھا
00:30:00کہ کون سا پرجہ
00:30:01رفتار بڑھاتا ہے
00:30:02اور کون سا نیچے اتارتا ہے
00:30:04دو پہر ہوتے ہوتے
00:30:06وہ اپنے شہر کے اوپر پہنچ گیا
00:30:08نیچے سلطان اجفر
00:30:09اپنے بیٹے کے گم میں
00:30:11نڈھال بیٹھا تھا
00:30:12جب اس نے آسمان سے
00:30:14وہ کالی شے اترتے دیکھی
00:30:15تو اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی
00:30:17لوگ چیخنے لگے
00:30:18شہزادہ واپس آ گیا
00:30:20شہزادہ واپس آ گیا
00:30:21گھوڑا سیدھا شاہی میدان میں اترا
00:30:24اور کمران نے زمین پر قدم رکھا
00:30:26باپ اور بیٹا گلے ملے
00:30:28اور دونوں کی آنکھوں سے
00:30:29خوشی کے آنسو بہنے لگے
00:30:31سلطان اجفر نے
00:30:32خدا کا شکر ادا کیا اور کہا
00:30:34بیٹا
00:30:35مجھے لگا تھا
00:30:36میں نے تجھے ہمیشہ کے لیے کھو دیا
00:30:38اس منحوس بڑھائی کی بدعا
00:30:40مجھے لے ڈوبی تھی
00:30:41کمران نے جب سنا
00:30:43کہ اس کے والد اب بھی
00:30:44اس کاریگر کو برا بھلا کہہ رہے ہیں
00:30:46جس نے یہ نایاب تحفہ بنایا تھا
00:30:48تو اسے دکھ ہوا
00:30:49مگر اس وقت وہ خاموش رہا
00:30:51جشن منایا گیا
00:30:52پورے شہر میں چراغا ہوا
00:30:54لیکن کمران کا جسم وہاں تھا
00:30:57اور روح اس اجنبی شہر کی
00:30:59شہزادی کے پاس اٹکی ہوئی تھی
00:31:01اسے نہ کھانے میں سواد آتا
00:31:03نہ محفلوں میں چین ملتا
00:31:05اس کی آنکھوں میں بس
00:31:06شمس و نسا کا چہرہ گھومتا رہتا
00:31:09آخر کار تیسرے روز
00:31:11اس سے رہا نہ گیا
00:31:12اس نے سوچا کہ ایک سچا عاشق
00:31:14اپنی معشوقہ کو دشمنوں کے بیچ
00:31:16کیسے چھوڑ سکتا ہے
00:31:17رات کے اندھیرے میں جب سب سو رہے تھے
00:31:20کمران نے پھر اسی گھوڑے کا سہارا لیا
00:31:22وہ چپکے سے سوار ہوا
00:31:24اور ہواوں کو چیرتا ہوا
00:31:25دوبارہ اسی شہر کی طرف روانہ ہو گیا
00:31:28کیونکہ اب وہ راستوں اور ہوا کے بہاو سے
00:31:31واقف ہو چکا تھا
00:31:32اس لئے یہ سفر اس نے جلدی تیہ کر لیا
00:31:34جب وہ وہاں پہنچا تو رات کا پچھلا پہر تھا
00:31:38وہ سیدھا شہزادی کے محل کی چھت پر اترا
00:31:41شہزادی جو اس کے انتظار میں گمگین بیٹھی تھی
00:31:44گھوڑے کی آواز سن کر دوڑی چلی آئی
00:31:46دونوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا
00:31:49کمران نے کہا
00:31:50میری جان جلدی کرو
00:31:52ہمیں سورج نکلنے سے پہلے
00:31:54یہاں سے نکلنا ہوگا
00:31:56اپنے زورات اور ضروری سامان لے لو
00:31:59شہزادی نے بنا کوئی سوال کیے ویسا ہی کیا
00:32:01اور وہ کمران کے پیچھے گھوڑے پر بیٹھ گئی
00:32:04اس نے کمران کی کمر کو زہر سے پکڑ لیا
00:32:06اور گھوڑا پھر سے فضا میں بلند ہو گیا
00:32:09اس بار گھوڑے پر دو دلوں کا بوجھ تھا
00:32:12مگر وہ جادوی جانور پوری طاقت سے اڑتا رہا
00:32:15صبح ہوتے ہوتے وہ لوگ فورس کی سرحد میں داخل ہو گئے
00:32:19جب وہ اپنے شہر کے قریب پہنچے
00:32:22تو کمران کے دماغ میں ایک خیال آیا
00:32:24اس نے سوچا
00:32:25اگر میں شہزادی کو سیدھا محل لے گیا
00:32:28تو دھول مٹی میں سنے ہوئے
00:32:30ہم دونوں کی حالت دیکھ کر لوگ باتیں بنائیں گے
00:32:33اور شاہی عدب کے خلاف ہوگا
00:32:35بہتر یہ ہے کہ میں انہیں شہر کے باہر والے
00:32:38اپنے نیجی باغ میں اتار دوں
00:32:39اور خود جا کر شاہی پالکی اور لشکر لے کر آؤں
00:32:42تاکہ شہزادی کا استقبال شان و شوقت سے ہو
00:32:46یہ سوچ کر اس نے گھوڑا شہر کے باہر
00:32:48ایک گھنے اور خوبصورت باق میں اتار دیا
00:32:50وہاں ایک آرام گاہ بنی ہوئی تھی
00:32:53کمران نے شہزادی کو وہاں بٹھایا اور کہا
00:32:55اے میری ملکہ
00:32:57تم یہاں آرام کرو
00:32:58اور اس گھوڑے کی حفاظت کرنا
00:33:00میں ابھی محل جاتا ہوں
00:33:02اور اپنے والد اور پوری فوج کے ساتھ
00:33:05تمہارے استقبال کے لئے آتا ہوں
00:33:06تاکہ دنیا دیکھے
00:33:07کہ سلطان عجفر کی بہو کیسے آ رہی ہے
00:33:10شہزادی نے کہا
00:33:11مجھے یہاں اکیلے ڈر لگے گا
00:33:13مگر کمران نے اسے تسلی دی اور کہا
00:33:15یہ میری سلطنت ہے
00:33:17یہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا
00:33:19اور یہ گھوڑا تمہارے پاس ہے
00:33:21یہ کہہ کر شہزادہ کمران
00:33:22پیدل ہی شہر کی طرف روانہ ہو گیا
00:33:25جو وہاں سے کچھ ہی میل دور تھا
00:33:27مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا
00:33:29اس باق کے پیچھے ویرانے میں
00:33:31وہی اندھا بڑھائی نجیب
00:33:33اپنی زندگی کے آخری دن کات رہا تھا
00:33:35سلطان نے اسے محل سے نکال دیا تھا
00:33:38اور وہ بھیق مانگ کر گزارا کرتا تھا
00:33:40وہ وہیں کسی پیڑ کے نیچے
00:33:42بھوکھا پیاسا پڑا تھا
00:33:44کہ اچانک اس کے کانوں میں
00:33:45ایک جانی پہچانی آواز آئی
00:33:47لکڑی کے گھوڑے کے اندر لگی
00:33:49ان چھوٹی کلوں کی ٹک ٹک
00:33:51جو ابھی تھنڈی نہیں ہوئی تھی
00:33:53اندھا ہونے کے باوجود
00:33:55اس کے کان بہت تیز تھے
00:33:57وہ آواز سنتے ہی چونک اٹھا
00:33:59یہ تو وہی آواز ہے
00:34:00میرا بنایا ہوا گھوڑا یہاں ہے
00:34:03وہ لڑکھڑاتا ہوا ڈنڈے کے سہارے
00:34:05اس آواز کی طرف بڑھا
00:34:08شہزادی نے جب ایک میلے کچیلے
00:34:10بوڑے کو آتے دیکھا
00:34:11تو اس نے سمجھا کوئی فقیر ہے
00:34:13لیکن نجیب سیدھے گھوڑے کے پاس پہنچا
00:34:16اور اپنے کانپتے ہاتھوں سے
00:34:18اسے ٹٹھولا
00:34:18جیسے ہی اس نے اپنی بنائی ہوئی لکڑی کو چھوا
00:34:21اس کے مردہ چہرے پر
00:34:23ایک خوفناک مسکراہٹ آ گئی
00:34:25اس نے پہچان لیا
00:34:26کہ یہ وہی اس کا شاہکار ہے
00:34:28جس کے بدلے اسے اندھا کیا گیا تھا
00:34:31اس نے من ہی من سوچا
00:34:33آہاں آج قسمت نے میرا بدلہ
00:34:35میرے ہاتھ میں دے دیا ہے
00:34:36اس نے محل کی طرف موہ کر کے
00:34:39دل ہی دل میں کہا
00:34:40سلطان
00:34:40تُو نے میری آنکھیں لی تھی
00:34:42آج میں تیرا سب سے بڑا خزانہ لے کر
00:34:45گائب ہو جاؤں گا
00:34:47نجیب نے محسوس کیا
00:34:48کہ پاس میں کوئی اور بھی ہے
00:34:49اس نے سونکر اندازہ لگایا
00:34:52کہ یہ خوشبو
00:34:53کسی عام عورت کی نہیں
00:34:54بلکہ کسی شہزادی کی ہے
00:34:57نجیب نے مکاری سے کام لیا
00:34:59اور گھوڑے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے
00:35:01ٹٹولا
00:35:01کہ وہ کیل کہاں ہیں
00:35:02کیونکہ وہ اس کا بنانے والا تھا
00:35:05اسے چلانے کے لیے آنکھوں کی ضرورت نہیں تھی
00:35:08شہزادی نے پوچھا
00:35:09کون ہو تم
00:35:10بڑے میاں
00:35:11نجیب نے کوئی جواب نہیں دیا
00:35:13اور فرتی سے گھوڑے پر چڑ گیا
00:35:16شہزادی کچھ سمجھ پاتی
00:35:17اس سے پہلے ہی نجیب نے اسے کھینچ کر
00:35:20زبردستی گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا
00:35:23شہزادی چیخی
00:35:24چھوڑو مجھے
00:35:25کون ہو تم
00:35:26لیکن نجیب نے دائیں کندھے کی کیل گھوما دی تھی
00:35:29اور اگلے ہی لمحے
00:35:30جب شہزادہ کمران
00:35:32شاہی جلوس لے کر
00:35:33باگ کے دروازے پر پہنچا
00:35:34تو اس نے صرف آسمان میں
00:35:36ایک کالا دھبا دور جاتے ہوئے دیکھا
00:35:38اور فضا میں
00:35:39شہزادی کی چیخیں گونج رہی تھی
00:35:42وہ بھاگ کر
00:35:43اس جگہ پہنچا
00:35:44جہاں گھوڑا کھڑا تھا
00:35:45وہاں اب کچھ نہیں تھا
00:35:46سوائے دھول کے
00:35:48کمران زمین پر گر گیا
00:35:49اور سر پیٹنے لگا
00:35:51کیونکہ جس گھوڑے کو پانے کے لیے
00:35:53اس کے باپ نے
00:35:53ایک ہنرمند کی زندگی برباد کی تھی
00:35:56آج وہی ہنرمند
00:35:57اس گھوڑے اور شہزادے کی محبت کو لے کر
00:36:00ہمیشہ کے لیے گائب ہو چکا تھا
00:36:02اس نے کہا
00:36:03جب تک میں شمس النساء کو ڈھونڈ نہیں لیتا
00:36:06اور اس گھوڑے کو واپس نہیں لاتا
00:36:07میرے لیے یہ تخت و تاج حرام ہے
00:36:10سلطان نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی
00:36:12وزیروں نے منتیں کی
00:36:14مگر کمران کا ارادہ
00:36:16پتھر کی طرح مضبوط تھا
00:36:18وہ اسی وقت شہر سے نکل پڑا
00:36:20نہ اس کے پاس کوئی فوج تھی
00:36:22نہ کوئی سواری
00:36:23بس دل میں محبت کی آگ
00:36:25اور دماغ میں ایک جنون تھا
00:36:27ادھر آسمان کی بلندیوں میں اندھا نجیب
00:36:30گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھا
00:36:32کھل کھلا کر ہنس رہا تھا
00:36:34اسے دکھائی تو کچھ نہیں دے رہا تھا
00:36:36مگر ہوا کے دباو سے وہ اندازہ لگا رہا تھا
00:36:39کہ وہ بہت اونچا اور تیز اڑ رہا ہے
00:36:42شہزادی شم سننے سا
00:36:43اس کے پیچھے بیٹھی
00:36:44خوف سے کانپ رہی تھی
00:36:46اس نے کئی بار نجیب کو
00:36:48دھکا دینے کی کوشش کی
00:36:49مگر اس بوڑھے کے ہاتھ
00:36:51لوہے کی طرح سخت تھے
00:36:52اور اس نے شہزادی کی کلائی کو
00:36:55بری طرح جکڑ رکھا تھا
00:36:56نجیب نے کہا
00:36:57اے لڑکی
00:36:58شور مچانا بند کر
00:37:00اب ہم وہاں جا رہے ہیں جہاں
00:37:02تیرا شہزادہ تو کیا
00:37:03اس کا سایا بھی نہیں پہنچ سکتا
00:37:05اب تو میری آنکھیں بنے گی
00:37:07اور میں تیرا مالک
00:37:08گھوڑا گھنٹوں تک اڑتا رہا
00:37:10یہاں تک کی سمندر اور پہاڑ پیچھے چھوٹ گئے
00:37:13نجیب کو بھوک اور پیاس ستانے لگی
00:37:15اور اسے ڈر تھا
00:37:17کہ اگر وہ زیادہ دیر ہوا میں رہا
00:37:19تو تھنڈ سے مر جائے گا
00:37:20اس نے اندازے سے اتارنے والی کیل گھما دی
00:37:23گھوڑا تیزی سے نیچے کی طرف آیا
00:37:25قسمت سے وہے لوگ ایک ایسے ملک میں پہنچے
00:37:28جو ہریالی اور نہروں سے بھرا تھا
00:37:30یہ سنجر کا ملک تھا
00:37:32جہاں کا بادشاہ بڑا شوقین مزاز تھا
00:37:35گھوڑا شہر کے باہر ایک گھنے جنگل کے کنارے اترا
00:37:38نجیب نے فوراں جیب سے ایک رسی نکالی
00:37:41اور گھوڑے کو ایک پیڑ سے باندھ دیا
00:37:43تاکہ وہ اڑ نہ سکے
00:37:44حالانکہ گھوڑا بے جان تھا
00:37:46مگر نجیب کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا
00:37:49شہزادی نے بھاگنے کی کوشش کی
00:37:51لیکن نجیب نے اپنی تلوار نکال لی اور دھمکایا
00:37:54اگر تُو نے بھاگنے کی کوشش کی
00:37:56یا کسی کو بتایا کہ میں کون ہوں
00:37:58تو میں تیری گردن اڑا دوں گا
00:38:00اور پھر خود بھی مر جاؤں گا
00:38:02مجبوراً شہزادی کو خاموش رہنا پڑا
00:38:04صبح ہوتے ہی گام کے لوگ لکڑی کاٹنے جنگل آئے
00:38:08تو انہوں نے یہ عجیب منجر دیکھا
00:38:10ایک حسین عورت
00:38:11ایک بھیانک شکل کا اندھا بوڑھا
00:38:14اور ایک کالا چمکدار گھوڑا
00:38:16جو لکڑی کا بنا تھا
00:38:17مگر زندہ لگتا تھا
00:38:19لوگ حیرت سے ان کے گرد جمع ہو گئے
00:38:22نجیب نے مکاری سے کام لیا
00:38:24وہ زھوڑ زھوڑ سے رونے کا ناٹک کرنے لگا اور بولا
00:38:27اے لوگوں مجھ پر رحم کرو
00:38:29میں ایک پہنچا ہوا بزرگ ہوں
00:38:31اور یہ عورت میری بیوی ہے
00:38:33اس پر جنہوں کا سایہ ہے
00:38:35اسی لیے یہ عجیب حرکتیں کرتی ہیں
00:38:38اور شور مچاتی ہیں
00:38:39اور یہ گھوڑا کوئی عام گھوڑا نہیں
00:38:41بلکہ ایک جادوی سواری ہے
00:38:43جو مجھے میرے پیرو مرشد نے دی ہے
00:38:45لوگوں نے جب یہ سنا
00:38:47تو وہے ڈر گئے
00:38:48اور انہیں لگا کہ واقعی یہ کوئی کراماتی بابا ہے
00:38:51بات اڑتے اڑتے سنجر کے بادشاہ تک پہنچ گئی
00:38:54اس نے حکم دیا
00:38:55کہ ان اجنبیوں کو دربار میں پیش کیا جائیں
00:38:58جب نجیب اور شہزادی دربار میں پہنچے
00:39:00تو بادشاہ کی نظر
00:39:02پہلے اس نایاب گھوڑے پر پڑی
00:39:04اور پھر شہزادی کے حسن پر
00:39:06اس کا دل ڈگمگا گیا
00:39:08اس نے سوچا کہ ایسی خوبصورت عورت
00:39:11ایک اندھے اور بدصورت بوڑھے کے پاس کیا کر رہی ہے
00:39:14بادشاہ نے نجیب سے کہا
00:39:16اے بزرگ
00:39:17یہ گھوڑا اور یہ عورت مجھے دے دو
00:39:19میں تمہیں موہ مانگی دولت دوں گا
00:39:21نجیب بڑا چالاک تھا
00:39:23وہ سمجھ گیا کہ یہاں دال نہیں گلے گی
00:39:25اس نے کہا
00:39:26بادشاہ سلامت
00:39:28میں اسے بیچ نہیں سکتا
00:39:30لیکن اگر آپ مجھے اپنی پناہ میں رکھیں
00:39:32تو میں اس گھوڑے کے کرش میں آپ کو دکھا سکتا ہوں
00:39:36بادشاہ نے منظور کر لیا
00:39:37لیکن شہزادی شمس ان نساء نے دیکھ لیا
00:39:40کہ وہے ایک مسئیبت سے نکل کر دوسری مسئیبت میں پھنس گئی ہے
00:39:44پہلا وہ اندھا ظالم تھا
00:39:46اور اب یہ بادشاہ اس پر بری نظر ڈال رہا تھا
00:39:49تب ہی شہزادی کے دماغش میں ایک ترقیب آئی
00:39:53اس نے فوراں زمین پر گر کر
00:39:55اپنے بال نوچنا شروع کر دیئے
00:39:57وہ عجیب و غریب آوازیں نکالنے لگی
00:40:00اور موہ سے جھاگ نکالنے کا ڈھونگ کیا
00:40:02بھچیخی
00:40:03دور رہو جو مجھے چھوے گا وہ جھل کر راکھ ہو جائے گا
00:40:07میرے اندر آگ ہے
00:40:08اس کا یہ روپ دیکھ کر بادشاہ ڈر کر پیچھے ہٹ گیا
00:40:11نجیب نے موقع سنبھالا اور کہا
00:40:14دیکھا حضور
00:40:15میں نے کہا تھا نا
00:40:16اس پر سایا ہے
00:40:17جب تک اس کا علاج نہیں ہوتا
00:40:19اس کے قریب جانا موت کو دعوت دینا ہے
00:40:22بادشاہ نے ڈر کے مارے شہزادی کو
00:40:24محل کے ایک الگ حصے میں قائد کر دیا
00:40:26اور اعلان کروا دیا
00:40:28کہ جو کوئی حکیم اس لڑکی کا علاج کرے گا
00:40:30اسے مالا مال کر دیا جائے گا
00:40:32لیکن اصل میں شہزادی بلکل ٹھیک تھی
00:40:35یہ صرف خود کو
00:40:36اس بادشاہ سے بچانے کا ایک بہانہ تھا
00:40:38وہ ہر وقت اپنے کمرے میں چیختی چلاتی رہتی
00:40:42تاکہ کوئی اس کے پاس آنے کی حمد نہ کرے
00:40:44ادھر شہزادہ کمران کئی مہینوں تک
00:40:48شہر در شہر خاک چھانتا رہا
00:40:50اس کے کپڑے پھٹ چکے تھے
00:40:52پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے
00:40:54اور چہرہ دھوپ سے جھلس گیا تھا
00:40:56مگر اس نے ہار نہیں مانی
00:40:58وہ ہر جگہ بس ایک ہی سوال پوچھتا
00:41:01کیا کسی نے اڑنے والا لکڑی کا گھوڑا دیکھا ہے
00:41:04لوگ اسے پاگل سمجھ کر ہنس دیتے
00:41:06سفر کرتے کرتے
00:41:08وہ آخر کار سنجر کے ملک میں پہنچا
00:41:10وہ ایک سرائے میں بیٹھا
00:41:12روکھی سوکھی روٹی کھا رہا تھا
00:41:14کی پاس بیٹھے کچھ سوداگروں کی باتیں
00:41:16اس کے کان میں پڑی
00:41:17ایک سوداگر کہہ رہا تھا
00:41:20بھائی ہمارے بادشاہ کے پاس ایک ایسی چیز ہے
00:41:23جو دنیا میں کہیں نہیں
00:41:24ایک لکڑی کا گھوڑا
00:41:26اور سنا ہے اس کے ساتھ ایک پاگل عورت بھی آئی ہے
00:41:34ہی کمران کے کان کھڑے ہو گئے
00:41:35اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا
00:41:37اس نے سوداگر سے پوچھا
00:41:39بھائی جان یہ کب کی بات ہے
00:41:41اور وہ عورت کیسی دیکھتی ہے
00:41:44سوداگر نے بتایا کہ کچھ مہینے پہلے
00:41:46ایک اندھا آدمی انہیں لے کر آیا تھا
00:41:47کمران سمجھ گیا کہ اس کی منزل یہی ہے
00:41:50اس نے خدا کا شکر ادا کیا
00:41:52لیکن اب سب سے بڑی مشکل یہ تھی
00:41:54کہ محل میں داخل کیسے ہوا جائے
00:41:56جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا
00:42:05اس نے اپنے بچے کچھ پیسوں سے
00:42:07ایک حکیم کا لباس خریدا
00:42:08ایک لمبا چوگہ
00:42:10سر پر امامہ اور ہاتھ میں تسبیح
00:42:12اس نے اپنی داڑھی رنگ لی
00:42:14تاکہ کوئی اسے پہچان نہ سکے
00:42:16اور خود کو ایک بڑا روحانی علاج
00:42:19کرنے والا مشہور کر دیا
00:42:20وہ شہر کے بیچ جا کر بیٹھ گیا
00:42:22اور لوگوں کو دوا درو دینے لگا
00:42:24دھیرے دھیرے اس کی شہرت محل تک پہنچ گئی
00:42:27کہ ایک پردیسی حکیم آیا ہے
00:42:29جس کے پاس ہر مرض کا علاج ہے
00:42:31سنجر کے بادشاہ نے جب یہ سنا
00:42:34تو اسے امید کی ایک کرن نظر آئی
00:42:36اس نے سوچا
00:42:37شاید یہ حکیم اس پاگل لڑکی کو ٹھیک کر دے
00:42:40تاکہ وہ اس سے شادی کر سکے
00:42:43بادشاہ نے کمران کو محل میں بلوایا
00:42:46کمران جب دربار میں داخل ہوا
00:42:47تو اس نے دیکھا کہ نجیب وہیں ایک کونے میں بیٹھا ہے
00:42:50کمران کا خون کھول اٹھا
00:42:52مگر اس نے بڑے صبر سے کام لیا
00:42:54اور اپنی آواز بدل کر بادشاہ سے کہا
00:42:57سنا ہے آپ کے پاس کوئی لا علاج مریض ہے
00:43:00بادشاہ نے کہا
00:43:01ہاں حکیم صاحب
00:43:02ایک لڑکی ہے
00:43:04جو خود کو جنہوں کے قبضے میں بتاتی ہے
00:43:06اگر آپ نے اسے ٹھیک کر دیا
00:43:08تو آپ جو مانگیں گے ملے گا
00:43:09کمران نے کہا
00:43:11مجھے پہلے اس مریض کو دیکھنا ہوگا
00:43:13لیکن میری شرط یہ ہے
00:43:15کہ میں اکیلے میں علاج کرتا ہوں
00:43:17کیونکہ روحانی طاقتیں
00:43:18بھیڑ میں کام نہیں کرتی
00:43:21بادشاہ نے اجازت دے دی
00:43:22کمران کو اس کمرے میں لے جایا گیا
00:43:24جہاں شہزادی قائد تھی
00:43:26جیسے ہی دروازہ بند ہوا
00:43:28شہزادی چیخنے لگی
00:43:29اور چیزیں پھینکنے لگی
00:43:31کمران نے دھیرے سے کہا
00:43:33شم سن نسا
00:43:34ڈرو مت
00:43:35میں ہوں کمران
00:43:36یہ آواز سنتے ہی
00:43:38شہزادی سناٹے میں آ گئی
00:43:40اس نے غور سے
00:43:41اس داڑھی والے حکیم کو دیکھا
00:43:42اور پہچان گئی
00:43:43وہ دوڑ کر اسے لپٹ گئی
00:43:45اور رونے لگی
00:43:51دشمن بہت طاقتور ہیں
00:43:52اور ہم اس کے قبضے میں ہیں
00:43:54ہمیں یہاں سے نکلنے کے لیے
00:43:56ایک بہت بڑا کھیل کھیلنا ہوگا
00:43:57شہزادی نے پوچھا
00:43:59ہم کیا کریں گے
00:44:00وہ گھوڑا تو بادشاہ نے
00:44:01کھزانے میں بند کر رکھا ہے
00:44:03اور چابی نجیب کے پاس رہتی ہے
00:44:05کمران نے مسکرا کر کہا
00:44:06تم فکر مت کرو
00:44:08بس ویسا ہی کرنا جیسا میں کہوں
00:44:10کل صبح تم بادشاہ سے کہنا
00:44:12کہ اس حکیم کے آنے سے
00:44:14مجھے تھوڑا سکون ملا ہے
00:44:15اور پھر ہم ایک ایسا تماشا کریں گے
00:44:17کہ بادشاہ خود اپنے ہاتھوں سے
00:44:20ہمیں وہ گھوڑا دے گا
00:44:21اگلے دن دربار میں
00:44:22کمران نے بادشاہ سے کہا
00:44:24بادشاہ سلامت
00:44:25مبارک ہو
00:44:26لڑکی پر سے آدھا اثر ختم ہو گیا ہے
00:44:29لیکن وہ جھن
00:44:30جس نے اس پر قبضہ کیا ہے
00:44:32وہ اس لکڑی کے گھوڑے کے اندر
00:44:33چھپا بیٹھا ہے
00:44:34جب تک اس گھوڑے کو
00:44:36کھلے میدان میں لاکر
00:44:37دھوپ اور ہوا نہیں لگائی جائے گی
00:44:39اور میں وہاں کوئی خاص عمل نہیں پڑوں گا
00:44:41تب تک یہ لڑکی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوگی
00:44:44بادشاہ خوشی سے پھولا نہ سمایا
00:44:46اس نے فوراں حکم دیا
00:44:48کہ گھوڑے کو میدان میں نکالا جائے
00:44:50اور شہزادی کو بھی وہاں لایا جائے
00:44:52نجیب جو وہاں بیٹھا
00:44:54سب سن رہا تھا
00:44:55اس کے کان کھڑے ہو گئے
00:44:57اسے کچھ شک ہوا
00:44:58کہ یہ حکیم کون ہے
00:44:59جو گھوڑے کی بات کر رہا ہے
00:45:01اس نے بادشاہ سے کہا
00:45:03حضور
00:45:03میں بھی وہاں چلوں گا
00:45:05وہاں گھوڑا میری ملکیت ہے
00:45:07کمران نے سوچا
00:45:08چلو اچھا ہے
00:45:09سارے دشمن ایک جگہ جمع ہو جائیں گے
00:45:11تو حساب برابر کرنے میں آسانی ہوگی
00:45:14میدان میں ہزاروں لوگ جمع ہو گئے
00:45:16تماشاں دیکھنے کے لیے
00:45:17گھوڑے کو بیچ میں رکھا گیا
00:45:19شہزادی کو سجدھج کر لائیا گیا
00:45:21مگر وہاں اب بھی تھوڑا
00:45:23لڑکھڑانے کا ناٹک کر رہی تھی
00:45:31اس نے دھونی جلائی
00:45:32تاکہ دھواں پھیل جائے
00:45:33اور لوگوں کو صاف دکھائی نہ دے
00:45:35دھوئے کی آڑ میں
00:45:36کمران نے تیزی سے گھوڑے کی جانچ کی
00:45:39شکر ہے گھوڑا بلکل صحیح سلامت تھا
00:45:41اس نے شہزادی کو اشارہ کیا
00:45:44شہزادی مدھوشی کا ناٹک کرتے ہوئے
00:45:46گھوڑے کے پاس آئی
00:45:48اور کمران کی مدد سے
00:45:49اس پر سوار ہو گئی
00:45:50لوگوں کو لگا یہ علاج کا کوئی حصہ ہے
00:45:52بادشاہ اور نجیب
00:45:54سب گوھر سے دیکھ رہے تھے
00:45:55تب ہی کمران نے چلا کر کہا
00:45:58اے بادشاہ
00:45:59اب وہاں گھڑی آگئی ہے
00:46:00جب جنہ نکل بھاگے گا
00:46:02اپنی فوج کو کہو
00:46:03کہ کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے
00:46:05ورنہ جنہ انہیں کھا جائے گا
00:46:07یہ سن کر سپاہی
00:46:09ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گئے
00:46:10بس یہی وہ لمحہ تھا
00:46:12جس کا کمران کو انتظار تھا
00:46:14اس نے چھلانگ لگائی
00:46:15اور شہزادی کے آگے
00:46:17گھوڑے پر بیٹھ گیا
00:46:24گھوڑے کے اندر سے
00:46:25وہی زوردار سنسناہت گونجی
00:46:27اور وہ لکڑی کا جانور
00:46:29ہوا میں تیر کی طرح بلند ہو گیا
00:46:31نجیب نے جب وہ آواز سنی
00:46:33تو وہ چیخ پڑا
00:46:34دھوکھا دھوکھا پکڑو انہیں
00:46:36یہ کوئی حکیم نہیں
00:46:38وہی شہزادہ ہے
00:46:40بادشاہ بھی غصے سے پاگل ہو گیا
00:46:42اس نے اپنے تیر اندازوں کو حکم دیا
00:46:44گرا دو انہیں
00:46:45تیروں کی بارش ہوئی
00:46:47مگر گھوڑا تب تک
00:46:49ان کی پہنچ سے بہت دور جا چکا تھا
00:46:51کمران نے اوپر سے نیچے جھانک کر دیکھا
00:46:54جہاں بادشاہ
00:46:55غصے میں اپنے ہی وزیر کو پیٹ رہا تھا
00:46:58اور اندھا نجیب زمین پر گر کر
00:47:00مٹی میں ہاتھ مار رہا تھا
00:47:01اس کا بدلہ پورا ہو چکا تھا
00:47:03مگر اس کی لالچ نے
00:47:04اسے پھر سے سڑک پر لا کھڑا کیا تھا
00:47:07کمران اور شہزادی
00:47:08اب آجات تھے
00:47:10ہوایں ان کا استقبال کر رہی تھی
00:47:12اور ان کا رخ اب سیدھا
00:47:14اپنے وطن کی طرف تھا
00:47:15جہاں ایک بوڑھا باپ
00:47:17اپنی غلطیوں پر آنسو بہا رہا تھا
00:47:18اور ان کی واپسی کی راہ تاک رہا تھا
00:47:21سنجر کے بادشاہ
00:47:22اور اس مکار اندھے نجیب کو
00:47:24دھول چٹانے کے بعد
00:47:26شہزادہ کمران
00:47:27اور شہزادی شمس النسا
00:47:29اب آجات فضاؤں میں تھے
00:47:31وہ لکڑی کا جادوی گھوڑا
00:47:33انہیں لے کر
00:47:34تیزی سے اپنے وطن فورس کی طرف
00:47:36اڑ رہا تھا
00:47:37مگر اس بار سفر میں
00:47:38وہ خوشی نہیں تھی جو پہلے تھی
00:47:40شہزادہ کمران خاموش تھا
00:47:42اور اس کے چہرے پر
00:47:43گہری سوچ کی لکی رہی تھی
00:47:45شہزادی نے پوچھا
00:47:47کمران
00:47:47ہم دشمن کی پکڑ سے نکل آئے ہیں
00:47:50اب تم پریشان کیوں ہو
00:47:52کمران نے تھنڈی سانس بھری اور کہا
00:47:54شمس
00:47:55میں سوچ رہا ہوں
00:47:56کہ یہ گھوڑا واقعی منحوس ہے
00:47:58اس ایک بے جان لکڑی کے ٹکڑے نے
00:48:00کتنی زندگیاں برباد کر دی
00:48:02پہلے اس نے نجیب کے آنکھیں لی
00:48:05پھر میرے باپ کو ظالم بنایا
00:48:07پھر ہمیں در بدر کیا
00:48:09اور آج پھر اسی لالچ نے
00:48:11سنجر کے بادشاہ کو پاگل کر دیا تھا
00:48:14مجھے ڈر ہے کہ جب ہم واپس پہنچیں گے
00:48:16تو کیا میرے باپ بدل چکے ہوں گے
00:48:18یا ان کے اندر کا سلطان اب بھی
00:48:20اس گھوڑے کا بھوکا ہوگا
00:48:22شہزادی نے اسے تسلی دی
00:48:24انسان ٹھوکر کھا کر ہی سنبھلتا ہے
00:48:26شاید تمہاری جدائی نے انہیں
00:48:28بدل دیا ہو
00:48:28خیر سفر کٹتا رہا اور شام ہوتے ہوتے
00:48:32انہیں اپنا شہر دکھائی دینے لگا
00:48:34کمران نے گھوڑے کو سیدھا شاہی
00:48:36محل کے میدان میں اتارنے کے بجائے
00:48:38شہر کی چھتوں کے اوپر سے
00:48:40گزرتے ہوئے محل کی سب سے
00:48:42اونچی مینار کے پاس اتارا
00:48:44تاکہ وہ چپکے سے حالات کا
00:48:46جائزہ لے سکے
00:48:47محل کا منظر بدل چکا تھا
00:48:49جو دربار پہلے شان و شوقت سے
00:48:56سلطان اجفر اپنے بیٹے کے گم میں
00:48:58بیمار پڑ چکا تھا اور بستر سے
00:49:00لگا ہوا تھا حکومت کے
00:49:02کام کاج وہی وزیر سنبھال رہا تھا
00:49:04جس نے نجیب کے خلاف
00:49:06بھڑکایا تھا جب کمران
00:49:08اور شہزادی محل میں داخل
00:49:10ہوئے تو نوکر چاہ کر
00:49:12انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے خبر
00:49:14بجلی کی طرح پھیلی اور
00:49:16سلطان کے کمرے تک پہنچی
00:49:17مبارک ہو حضور شہزادہ
00:49:20واپس آ گیا ہے سلطان
00:49:22اجفر جو کمزوری سے اٹھ بھی
00:49:23نہیں پا رہا تھا بیٹے کا نام
00:49:25سنتے ہی اس کے جسم میں جیسے
00:49:27نئی جان آ گئی وہ لڑکھڑاتا
00:49:30ہوا دروازے کی طرف بھاگا
00:49:31سامنے کمران کھڑا تھا پھٹے پرانے
00:49:34حکیم کے کپڑوں میں مگر اس کا
00:49:35چہرہ دمک رہا تھا باپ اور
00:49:38بیٹا گلے ملے سلطان
00:49:39پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا میرے
00:49:41بچے میں نے سوچا تھا میں
00:49:43مرنے سے پہلے تیرا چہرہ نہیں
00:49:45دیکھ پاؤں گا مجھے ماف کر دے
00:49:47وہ گھوڑا وہ ہنر سب
00:49:49جھوٹا تھا اصلی دولت تو
00:49:51تو ہے کمران کا دل بھر آیا اور
00:49:53اسے لگا کہ شاید اب سب ٹھیک ہو
00:49:55گیا ہے لیکن انسان کی فطرت
00:49:57بڑی عجیب ہوتی ہے وہ
00:49:59مسیبت میں توبہ کرتا ہے مگر
00:50:01راحت ملتے ہی پرانی عادتوں پر لوٹ آتا
00:50:03ہے اگلے دو دن تک تو
00:50:05محل میں جشن منایا گیا شہزادی
00:50:07شمس ان نسا کی خاطرداری ہوئی
00:50:09اور شادی کی تیاریاں شروع
00:50:11ہو گئیں تیسرے روز جب
00:50:13سلطان کی طبیعت سملی تو
00:50:15وہ اپنے وزیر کے ساتھ بیٹھا تھا
00:50:17وزیر نے دھیرے سے بات چھیڑی
00:50:19جہاں پناہ خدا کا شکر ہے
00:50:21شہزادہ آ گیا لیکن
00:50:23سنا ہے وہ جادوی گھوڑا بھی واپس آ گیا
00:50:25ہے میں نے نوکروں سے سنا ہے
00:50:27کہ شہزادہ اسے کسی گپت
00:50:29جگہ پر چھپا کر رکھے ہوئے ہیں
00:50:30یہ سنتے ہی سلطان کی آنکھوں میں
00:50:33وہی پرانی چمک لوٹ آئی
00:50:34وہی لالت جو کچھ دن پہلے آنسووں میں
00:50:37دھل گیا تھا پھر سے جاگ اٹھا
00:50:38اس نے سوچا اگر وہ گھوڑا
00:50:41میرے پاس آ جائے تو میں دنیا
00:50:43کا سب سے طاقتور بادشاہ بن جاؤں گا
00:50:45اور اب تو نجیب بھی نہیں رہا
00:50:47جو اس کا راج کسی کو بتائے
00:50:49اب تو وہ صرف میرا ہے
00:50:51شام کو سلطان نے
00:50:53کمران کو بلایا
00:50:54کمران عدب سے حاضر ہوا
00:50:56سلطان نے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد
00:50:59مددے کی بات کہی
00:51:00بیٹا وہ گھوڑا کہاں ہے
00:51:02اسے ہمارے خزانے میں واپس رکھوا دو
00:51:04وہ سلطنت کی امانت ہے
00:51:06کمران اپنے باپ کی نظروں کو پہچان گیا
00:51:09اور اسے وہی بھوک دکھائی دی
00:51:11جس نے نجیب کی آنکھیں نکالی تھی
00:51:13اس نے سنجیدگی سے کہا
00:51:15اببہ حضور
00:51:17وہ گھوڑا اب کبھی خزانے میں نہیں جائے گا
00:51:20میں اسے نشٹ کرنے والا ہوں
00:51:21وہ شیطانی چیز ہے
00:51:23اس نے ہر جگہ صرف تباہی مچائی ہے
00:51:26سلطان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا
00:51:28ہوش میں ہو کمران
00:51:30وہ کوئی عام لکڑی نہیں
00:51:31وہ طاقت ہے
00:51:32اور طاقت کو پھینکا نہیں جاتا
00:51:35اسے قابو میں کیا جاتا ہے
00:51:36میں حکم دیتا ہوں
00:51:38کہ وہ گھوڑا دربار میں پیش کیا جائے
00:51:39کمران نے پہلی بار
00:51:41اپنے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انکار کیا
00:51:44نہیں اببہ
00:51:45میں آپ کو دوبارہ ظالم نہیں بننے دوں گا
00:51:47میں اس گھوڑے کو جلا دوں گا
00:51:49تاکہ پھر کوئی اور نجیب اندھا نہ ہو
00:51:51اور کوئی اور بیٹا
00:51:53اپنے باپ سے دور نہ ہو
00:51:54ماحول تناو سے بھر گیا
00:51:56سلطان نے گھسے میں کہا
00:51:58تو میرا بیٹا ہے
00:51:59لیکن پہلے میں تیرا بادشاہ ہوں
00:52:01اگر تو نے میری حکم و دولی کی
00:52:03تو انجام برا ہوگا
00:52:05کمران بینا کچھ بولے وہاں سے چلا گیا
00:52:07مگر اس نے فیصلہ کر لیا تھا
00:52:09رات کے اندھیرے میں وزیر نے پھر سلطان کے کان بھرے
00:52:13دیکھا بادشاہ سلامت
00:52:15شہزادہ ابھی سے آپ کی بات نہیں مان رہا
00:52:18وہ گھوڑا لے کر پھر بھاگ جائے گا
00:52:20یا ہو سکتا ہے
00:52:21اسی گھوڑے کی مدد سے آپ کا تخت پلٹ دے
00:52:24آخر اب وہ جوان ہے
00:52:26اور اس کے پاس اڑنے والی سواری ہے
00:52:28شوق اور شک نے سلطان کو پھر سے اندھا کر دیا
00:52:31اس نے رات میں ہی حکم دیا
00:52:34کہ جس کمرے میں کمران اور شہزادی ٹھہرے ہیں
00:52:36اس کے باہر پہرہ لگا دیا جائے
00:52:38اور صبح ہوتے ہی زبردستی
00:52:41وہ گھوڑا چھین لیا جائے
00:52:42کمران کوئی سازش کی خبر نہیں تھی
00:52:45وہ اپنے کمرے میں شہزادی سے کہہ رہا تھا
00:52:47شمس ہمیں آج رات ہی فیصلہ کرنا ہوگا
00:52:50یہ گھوڑا میرے باپ اور میرے بیچ دیوار بن گیا ہے
00:52:54تب ہی دروازے پر دستک ہوئی
00:52:56کمران نے دروازہ کھولا تو دیکھا
00:52:58کہ اس کے اپنے ہی والد کے سپاہی
00:52:59ننگی تلواریں لیے کھڑے ہیں
00:53:01ان کے سردار نے کہا
00:53:03شہزادے بادشاہ کا حکم ہے
00:53:06کہ گھوڑے کی چابی اور اس کا پتہ ہمیں بتا دیں
00:53:08ورنہ آپ کو نظر بند کر دیا جائے گا
00:53:11کمران حیران رہ گیا
00:53:12اس نے نہیں سوچا تھا
00:53:14کہ لالچ خون کے رشتے کو اتنا کمزور کر دے گا
00:53:16اس نے شہزادی کی طرف دیکھا اور اشارہ کیا
00:53:19دونوں سمجھ گئے
00:53:20کہ اب باتوں کا وقت ختم ہو چکا ہے
00:53:23کمران نے کہا
00:53:24ٹھیک ہے میں صبح گھوڑا دے دوں گا
00:53:26لیکن سپاہی ہوشیار تھے
00:53:28انہوں نے کہا
00:53:29نہیں ابھی اسی وقت
00:53:32حالات بگڑ رہے تھے
00:53:33اور کمران کے پاس کوئی ہتھیار بھی نہیں تھا
00:53:36کیا وہ اپنے باپ کے سپاہیوں پر ہاتھ اٹھاتا
00:53:39یا اس منحوس گھوڑے کو دے دیتا
00:53:41جو آگے چل کر اور خون خرابہ کرتا
00:53:44کمران اور شہزادی شمسن نسا
00:53:47اس بند کمرے میں موت اور اپنوں کی گداری کے بیچ گھرے ہوئے تھے
00:53:51دروازے پر سپاہیوں کی دستک تیز ہوتی جا رہی تھی
00:53:54اور وہ کہہ رہے تھے
00:53:55شہزادے دروازہ کھولیے
00:53:57ورنہ ہمیں توڑنے کا حکم ہے
00:53:59کمران نے شہزادی کی طرف دیکھا
00:54:01جس کی آنکھوں میں خوف تھا
00:54:03اس نے دھیمی آواز میں کہا
00:54:05شمس آج فیصلہ کرنے کی گھڑی آگئی ہے
00:54:08اگر میں نے یہ گھوڑا انہیں دے دیا
00:54:10تو میرے والد کا لالچ پوری دنیا کو جلا دے گا
00:54:14اور اگر نہیں دیا
00:54:15تو ہماری جان جائے گی
00:54:17شہزادی نے بڑی بہادری سے جواب دیا
00:54:19کمران جان تو ویسے بھی آنی جانی ہے
00:54:22مگر یہ شیطانی لکڑی
00:54:24اب کسی اور گھر کو برباد نہیں کرنی چاہیے
00:54:27کمران کے دماغ میں ایک بجلی سی کون دھی
00:54:29اس کمرے کی کھڑکی
00:54:31سیدھا شاہی باغ کی طرف کھلتی تھی
00:54:33جہاں وہ گھوڑا چھپایا گیا تھا
00:54:35کمران نے فوراں کمرے میں
00:54:37رکھا ہوا تیل کا چراغہ اٹھایا
00:54:38اور کھڑکی سے نیچے چھلانگ لگا دی
00:54:41شہزادی نے بھی بینا سوچے
00:54:43اس کے پیچھے چھلانگ لگا دی
00:54:44نیچے گھنی جھاڑیاں تھیں
00:54:46جنہوں نے انہیں چوٹ لگنے سے بچا لیا
00:54:48لیکن سپاہیوں نے انہیں
00:54:50کوتتے ہوئے دیکھ لیا
00:54:51اور شور مچا دیا
00:54:53پکڑو پکڑو شہزادہ بھاگ رہا ہے
00:54:56کمران تیجی سے اس چھپے ہوئے کونے کی طرف بھاگا
00:54:59جہاں وہ کالا گھوڑا رکھا تھا
00:55:01اس نے دیکھا
00:55:02کہ اس کے والد سلطان عزفر
00:55:04اور وزیر مشالیں لیے سامنے سے آ رہے تھے
00:55:06سلطان نے جب کمران کو گھوڑے کے پاس دیکھا
00:55:09تو وہ چیخا
00:55:10رک جا نالائک
00:55:12خبردار اگر اس گھوڑے کو ہاتھ لگایا
00:55:14وہ میرا ہے
00:55:15کمران گھوڑے کے پاس پہنچ کر رک گیا
00:55:17اس کے ایک ہاتھ میں جلتا ہوا چراک تھا
00:55:20اور دوسرا ہاتھ گھوڑے کی گردن پر رکھا ہوا تھا
00:55:23پورے باگ میں سناٹا چھا گیا
00:55:25چاروں طرف سپاہی تھے
00:55:27سامنے لالچ میں اندھا باپ تھا
00:55:29اور بیچ میں وہ لکڑی کا جانور
00:55:31کمران نے بلند آواز میں کہا
00:55:33اببہ حضور
00:55:34دیکھئے اس بیجان لکڑی نے آپ کو کیا بنا دیا ہے
00:55:37آپ اپنے ہی خون کے پیاسے ہو گئے ہیں
00:55:39آج میں اس جڑ کو ہی ختم کر دوں گا
00:55:42یہ کہہ کر کمران نے وہ جلتا ہوا چراغ
00:55:44گھوڑے کے پیروں کے پاس پڑی
00:55:46سوکھی گھاس پر پھینک دیا
00:55:48آگ بھڑک اٹھی
00:55:50سلطان اجفر پاگلوں کی طرح آگے لپکا
00:55:52نہیں
00:55:53میرے خزانے کو مت جلاو
00:55:54لیکن آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے
00:55:57گھوڑے کی اگلی ٹانگوں کو
00:55:58اپنی لپیٹ میں لے لیا
00:55:59وزیر نے چلا کر سپاہیوں سے کہا
00:56:02بجھاؤ اسے پانی لاؤ
00:56:04مگر کمران تلوار لے کر آگ کے سامنے
00:56:07کھڑا ہو گیا اور بولا
00:56:07جو آگے بڑھے گا وہ مارا جائے گا
00:56:10آج یہ منحوسیت جھل کر راک ہوگی
00:56:12لیکن وہ گھوڑا آب نوس کی سخت
00:56:15لکڑی سے بنا تھا اور اس پر
00:56:16کئی طرح کے تیل اور چمکدار لیپ لگے تھے
00:56:19آگ نے اسے پکڑ تو لیا تھا
00:56:21مگر وہ پوری طرح جل نہیں رہا تھا
00:56:23اور ادھر سپاہی کمران
00:56:25کو گھیرنے لگے تھے
00:56:26کمران نے سوچا کہ اگر آگ بجھا دی گئی
00:56:28تو یہ لوگ پھر اس اجھلے گھوڑے
00:56:31کو ٹھیک کر لیں گے اور
00:56:32ظلم کا سلسلہ چلتا رہے گا
00:56:34اسے احساس ہوا کہ اسے زمین پر نہیں
00:56:36بلکہ وہیں ختم کرنا ہوگا
00:56:38جہاں سے یہ آیا تھا
00:56:40ہوا میں کمران نے آو دیکھا نتاو
00:56:42اور وہ جلتے ہوئے گھوڑے کے اوپر
00:56:44کود گیا آگ کی لپٹیں
00:56:46اس کے کپڑوں کو چھو رہی تھی
00:56:47سلطان چیخا بیٹا
00:56:50تو جل جائے گا نیچے اترا
00:56:52مگر کمران نے وہ کیل
00:56:54گھوڑے کے اندر کے پرزے
00:56:56کام کرنے لگے
00:56:58حالانکہ آگ کی وجہ سے کچھ
00:57:00کل پرزے پگھل رہے تھے اور
00:57:02عجیب سی چرچر کی آواز آ رہی تھی
00:57:04پھر بھی گھوڑا زمین سے اٹھ گیا
00:57:07شہزادی شمس ان نسا زمین
00:57:08پر کھڑی چیختی رہ گئی
00:57:10کمران نہیں
00:57:12وہ آدھا جلا ہوا گھوڑا دھویں
00:57:14اور آگ کے شولے کے ساتھ
00:57:16آسمان کی طرف اڑ گیا
00:57:17رات کے اندھیرے میں وہ ایسا لگ رہا تھا
00:57:20جیسے کوئی ٹوٹا ہوا تارہ
00:57:21واپس آسمان کی طرف جا رہا ہو
00:57:24نیچے کھڑے سب لوگ
00:57:25سلطان وزیر اور سپاہی
00:57:27گردن اٹھائے اس خوفناک منجر کو دیکھ رہے تھے
00:57:30کمران نے گھوڑے کو
00:57:32سیدھا بادلوں کی طرف موڑا
00:57:33اس کے پیروں کی خال آگ کی تپش سے
00:57:36جھلس رہی تھی
00:57:37مگر اس نے اوف تک نہ کی
00:57:39جب وہ کافی بلندی پر پہنچ گیا
00:57:41جہاں ہوا بہت تیز تھی
00:57:43تو اس نے گھوڑے کا رخ
00:57:45زمین کی طرف کیا
00:57:46اور اپنی پوری طاقت سے
00:57:48اس کے دستوں کو توڑ دیا
00:57:49تاکہ اب کوئی اسے کابو نہ کر سکے
00:57:52اور پھر خود وہاں سے
00:57:54کودنے کے لیے تیار ہوا
00:57:55لیکن کیا وہ اتنی اونچائی سے بچ پائے گا
00:57:58گھوڑا اب آگ کا گولہ بن چکا تھا
00:58:01اور تیزی سے زمین پر
00:58:03اس جھیل کی طرف گر رہا تھا
00:58:05جو محل کے پیچھے تھی
00:58:06کمران نے اللہ کا نام لیا
00:58:08اور گھوڑے سے الگ ہو کر
00:58:09پانی کی طرف چھلانگ لگا دی
00:58:11ایک طرف وہ جلتا ہوا گھوڑا
00:58:14دھماکے کے ساتھ زمین سے ٹکرایا
00:58:16اور دوسری طرف
00:58:17کمران جھیل کے گہرے پانی میں سما گیا
00:58:20سلطان اجفر دوڑتا ہوا
00:58:22جھیل کے کنارے پہنچا
00:58:23اس کا لالچ اب ڈر
00:58:25اور پچتاوے میں بدل چکا تھا
00:58:27کمران میرے بیٹے
00:58:29وہ پانی میں جھانک رہا تھا
00:58:31مگر وہاں صرف لہریں تھیں
00:58:33گھوڑا تو راک بن چکا تھا
00:58:35مگر کیا لالچ کی آگ
00:58:36نے اس کے بیٹے کو بھی نگل لیا تھا
00:58:38جھیل کا پانی شان تھا
00:58:40اور ستہ پر جلے ہوئے گھوڑے کی راک
00:58:42اور ادھ جھلی لکڑیاں تیر رہی تھی
00:58:44کنارے پر کھڑا سلطان اجفر
00:58:47جو دنیا کا سب سے طاقتور
00:58:49بادشاہ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا
00:58:51اس وقت
00:58:52ایک ٹوٹے ہوئے انسان کی طرح
00:58:54گھٹنوں کے پل بیٹھا تھا
00:58:55اس کی آنکھوں سے آنسوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی
00:58:58اور وہ بار بار پکار رہا تھا
00:59:00کمران واپس آجا میرے لال
00:59:02مجھے یہ تخت
00:59:04یہ سونا
00:59:05یہ گھوڑا کچھ نہیں چاہیے
00:59:06بس تو چاہیے
00:59:07وزیر اور سپاہی بھی سر جھکائے کھڑے تھے
00:59:10کیونکہ آج انہیں سمجھ آ گیا تھا
00:59:12کہ لالچ کی آگ سب سے پہلے
00:59:14اپنے ہی گھر کو جلاتی ہے
00:59:16شہزادی شم سننسا
00:59:18جو بے ہوش ہونے کے قریب تھی
00:59:20اچانک اٹھ کھڑی ہوئی
00:59:21اس نے پانی میں ایک ہلچل دیکھی
00:59:23جھیل کے بیچوں بیچ
00:59:25پانی کی ستح ٹوٹی
00:59:26اور ایک ہاتھ باہر نکلا
00:59:28پھر ایک سر دکھائی دیا
00:59:29جو گہری سانسیں لے رہا تھا
00:59:31یہ شہزادہ کمران تھا
00:59:33وہ تیرتا ہوا کنارے کی طرف بڑھا
00:59:35اس کے کپڑے جلے ہوئے تھے
00:59:37اور جسم پر معمولی جھم تھے
00:59:39مگر وہ زندہ تھا
00:59:41سلطان ازفر نے جب اپنے بیٹے کو زندہ دیکھا
00:59:44تو وہ پاگلوں کی طرح پانی میں گھس گیا
00:59:46اور کمران کو گلے لگا لیا
00:59:49باپ بیٹے کا وہ ملن دیکھ کر
00:59:50پتھر دل انسان بھی موم ہو جاتا
00:59:53کمران نے کنارے آ کر ہانفتے ہوئے کہا
00:59:55اببہ حضور دیکھ لیجئے
00:59:58وہ شیطانی گھوڑا راک ہو گیا
01:00:00کیا اب بھی آپ کے دل میں
01:00:01اسے پانے کی خواہش باقی ہے
01:00:04سلطان نے اپنے کان پکڑے
01:00:06اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا
01:00:08توبہ ہزار بار توبہ
01:00:10میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا
01:00:12کہ جس ہنر میں انسانیت نہ ہو
01:00:15وہ صرف تباہی لاتا ہے
01:00:17آج سے میں قسم کھاتا ہوں
01:00:19کہ کبھی کسی نایاب چیز کے پیچھے نہیں بھاگوں گا
01:00:22اور نہ کسی ہنر مند پر ظلم کروں گا
01:00:25کچھ روز بعد جب جھکم بھر گئے
01:00:27اور دلوں کا میل دھول گیا
01:00:29تو سلطان نے شہزادہ کمران
01:00:31اور شہزادی شمس النساء کی شادی
01:00:33دھوم دھام سے کرائی
01:00:35اس بار خوشی اصلی تھی دکھاوے کی نہیں
01:00:37لیکن کہانی کا ایک کردار اب بھی باقی تھا
01:00:41وہ اندھا نجیب
01:00:42سنا ہے کہ سنجر کے بادشاہ نے جب دیکھا
01:00:45کہ وہ بھیش بدلے ویدے کے روپ میں آیا
01:00:47شخص دھوکہ دے کر بھاگ گیا
01:00:50اور گھوڑا بھی چلا گیا
01:00:51تو اس نے سارا گصہ
01:00:53اس اندھے نجیب پر نکالا
01:00:55نجیب کو شہر سے دھکے مار کر نکال دیا گیا
01:00:58وہ بیچارہ دردر کی ٹھوکریں کھاتا رہا
01:01:00اور اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کی بڑائی کرتا کرتا
01:01:04ویرانوں میں کہیں گم ہو گیا
01:01:05اس کی قسمت میں یہی لکھا تھا
01:01:08کہ جس ہنر پر اسے اتنا گرور تھا
01:01:11وہی ہنر اس کی بربادی کا سبب بنا
01:01:14کمران نے بعد میں اپنے والد کے بعد
01:01:16تخت سنبھالا اور اعلان کروا دیا
01:01:19کہ ہماری سلطنت میں ہنر کی قدر ہوگی
01:01:21مگر لالچ کی نہیں
01:01:23لوگ کہتے ہیں کہ کمران کے دوار میں
01:01:25سکون اور انصاف کا ایسا بول بالا تھا
01:01:27کہ لوگ اس جادوی گھوڑے کو بھول گئے
01:01:30کیونکہ اصلی جادوی طاقت
01:01:32انسان کا صبر اور شکر ہے
01:01:34نہ کی لکڑی کا کوئی اڑنے والا کھلونا
01:01:36اور یوں یہ داستان تمام ہوئی
Comments

Recommended